32.9K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

راسم صاحب اور ساریہ بیگم گھر میں داخل ہوئے تو لاونج میں بیٹھے نفوس کو دیکھ کر ٹھٹھک کر رک گئے
“بابا سائیں! اماں جان۔”بے اختیار انکے منہ سے نکلا ۔راسم صاحب کو دیکھ کر وہ سب بھی کھڑے ہو گے
“اماں جان !کیسی ہیں آپ؟”راسم صاحب نے بی بی جان کوگلے لگایا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیں
” اماں جان میں آپکو بہت مس کیا۔”
“مجھے معاف کر دو بیٹا ۔میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکی”بی جان نےدیوانہ وار انکا منہ چومتے ہوئے کہا
“نہ اماں جان آپ گناہ گار تو نہ کریں مجھ بدنصیب کو۔” راسم صاحب نے بی جان کے آنسو صاف کیے
“برخوردار ہم بھی کھڑے ہیں” مصطفی شاہ نے ماں بیٹا کو ایک دوسرے میں مگن دیکھ کر انکی توجہ اپنی طرف دلوائی تو راسم صاحب ان کی طرف بڑھے
“سوری بابا جان۔۔” انہوں نے مصطفیٰ شاہ کے گلے لگ کر کہا
” نہیں بیٹا تم اپنے بابا سائیں کو معاف کر دو۔ تم ٹھیک کہتے تھے وہ بدبخت ہماری بیٹی کے قابل نہیں تھا ۔کاش میں اس وقت تمہاری بات مان لیتا تو آج لالی نہ بھگت رہی ہوتی۔” مصطفی شاہ نے آہ بھرتے ہوئے کہا ۔راسم صاحب نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو انہوں نے ساری بات بتا دی۔
” بچھڑا ہوا خاندان مل رہا ہے ۔ واہ کیا فلمی سچویشن ہے ۔”
امثال نے تالی ماری تو ساریہ بیگم نے اسے گھورا
” اماں جان یہ میری بیٹی ہے امثال ۔” راسم صاحب نے امثال کی جانب اشارہ کیا ۔بازل اور شہریار بھی آ چکے تھے
“ہم مل چکے اس سے”مصطفی شاہ نے مسکراتےہوئے کہا تو امثال نے دانت نکالے۔سب ادھر اُدھر کی باتوں میں مگن ہوگئے ۔ساریہ بیگم کچن میں چلی گئیں تھیں ۔بازل اور امثال بازل کے لائے گئے گول گپوں سے انصاف کر رہے تھے
“ماشاءاللہ سے تینوں بچے بڑے ہو گئے ہیں ۔ابھی تک شادی نہیں کی کسی کی؟” بی جان نے ان تینوں کو دیکھتے ہوئے پوچھا
“نہیں اماں جان ابھی تک تو نہیں کی ہے اور میرے تین نہیں چار بچے ہیں۔ ان دونوں کے علاوہ ایک اور بیٹا بھی ہےعدید۔ وہ فاریہ آپا کے پاس ہوتا ہے ۔”راسم صاحب نے کہا
” ائے ہائے کیوں بھلا ۔”
“شادی کے پندرہ سال بعد بھی جب فاریہ آپا اورآصف بھائی کے ہاں اولاد نہ ہوئی توعدید کی پیدائش پر ان دونوں نے اسے ہم سے مانگا تو ہم انکار نہ کر سکے پھر اسکے پانچ سال بعد اللہ نے ہمیں دو جڑواں بچوں سے نوازا ۔ عدید بھی جانتا ہے کہ وہ ہمارا بیٹا ہے۔ فاریہ آپا اور آصف بھائی نے کبھی نہیں چُھپایا۔پاکستان آتا رہتا ہے اورآصف کی ڈیتھ کے بعد پاکستان شفٹ ہو چکا ہے ۔ابھی ملک سے باہر ہے ورنہ ملواتا آپکو۔”راسم صاحب نے تفصیل سے آگاہ کیا
” ماشاءاللہ ۔اللہ سلامت رکھے ۔ جرمنی جانے سے پہلے فاریہ کے ساتھ ایک بار حویلی آیا تھا “بی جان نے کہا
” راسم حویلی چلو۔اور یہ ہمارا حکم ہے “مصطفی شاہ نے ان کو کچھ کہنے کے لی منہ کھولتا دیکھ کر رعب سے کہا
” جی ضرور بابا جان کیوں نہیں ۔ ” انہوں نے آہستگی سے کہا ” “ابھی چلو ۔”
“جی بابا سائیں۔” راسم صاحب نے سر ہلا دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیس منٹ کی مسافت طے کر کہ وہ لوگ گاؤں پہنچ چکے تھے ۔راستے میں بازل اور امثال کی جو زبان چلنا شروع ہوئی تو ساریہ بیگم کی مسلسل گھوریاں بھی انکی زبان بند نہیں کروا سکی تھی۔ ساس کے سامنے اچھی خاصی سبکی محسوس کر رہی تھی ۔ وہ جانتی تھی کہ انکی ساس رکھ رکھاؤ والی عورت تھیں ۔ یوں لڑکیوں کا پٹرپٹر بولنا انہیں سخت نا پسند تھا ۔ لیکن انکی اولاد تو نہیں جانتی تھی نہ ،خیر اگر جانتی بھی ہوتی تو کونسا انہوں نے سدھر جانا تھا۔وہ سر جھٹک کہ رہ گئی ۔ گاڑیاں حویلی میں داخل ہوئی تو دونوں کی چلتی زبان کو بریک لگی ۔گاڑیوں کی آواز سن کر سب باہر نکل آئے تھے اور اب ملنے ملانے کا سلسلہ جاری تھا۔بی جان سب کا تعارف کروا رہی تھیں ساریہ بیگم سب سے مل کہ ہٹی تو بچوں کے بارے میں بتانے لگیں۔ شہریار کا بتا کر باقی دونوں کی طرف مڑی تو سر پیٹ کر رہ گئی ۔ وہ دونوں اتنے لوگوں کی موجودگی کو نظرانداز کیےالوؤں کی طرح آنکھیں پھاڑے اردگرد دیکھ رہے تھے
“واؤ کیا جگہ ہے !”بازل کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
“ہے نہ بلکل فلموں کے جیسی ۔ بس میں نے سوچ لیا ہے ۔ جب میں فلم بناؤں گی نہ تو یہیں بناؤں گی ۔بیسٹ لوکیشن ہے۔”
” ارے بازی وہ دیکھو امرود اور آم کا درخت ۔مزا آجائے گا۔”جوش میں آکے امثال کی آواز کچھ زیادہ ہی اونچی ہو گئی تھی آخر کو انکی فیورٹ چیزیں نظر آ گئی تھیں ۔ابھی وہ آگے بڑھ رہی تھی کہ ساریہ بیگم نے اسے بازو سے پکڑ کر واپس کھینچا۔
” ژلے خدا کا واسطہ ہے ۔ تھوڑی دیر کے لیے اپنا منہ بند رکھو۔ ہر جگہ مجھے زلیل کروانے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے کیا؟”
ساریہ بیگم دھیمی آواز میں غرائیں تو امثال منہ بنا کے خاموش ہو گئ
“یہ میرا چھوٹا بیٹا بازل اور بیٹی امثال ہے۔”ساریہ بیگم نے دانت پیستےہوئے ان کا تعارف کروایا۔مگر وہاں پرواہ کسے تھی
“اور بازی ژلےیہ تم لوگوں کی بڑی تائی اور یہ چھوٹی تائی ہیں اور تم لوگوں کی منجھلی خالہ بھی ہیں۔” انہوں نے فوزیہ بیگم اورخدیجہ بیگم کی طرف اشارہ کیا
“اور یہ لالہ رخ۔ تم لوگوں کی پھپو۔”
” اسلام و علیکم تائی امیوں ! میں آپکی نئی بھتیجی ہوں ۔کیا حال ہیں آپکے ؟ٹھیک ہیں آپ ؟ بال بچے راضی ہیں؟ آپکے مجازی خداؤں کے کیا حال ہیں ؟ اور سنائیں کیا چل رہا ہے آج کل ؟”امثال دوبارہ نان سٹاپ شروع ہو چکی تھی ۔ ان دونوں کو ہکا بکا چھوڑ کر بغیر ان کی سنے وہ لالہ رخ کی طرف بڑھی
” ہٹو بھی۔ مجھے بھی ملنےدو۔ تم تو چپک ہی گئے ہو۔ پھپھو کی جان لینی ہے کیا؟اوپر سے تم نہائے بھی نہیں ہو ۔برش بھی نہیں کیا ۔ بدبو سے ہی مار دو گے ۔”لالہ رخ بازل کو گلے لگا کر ماتھا چوم رہی تھی کہ امثال نے اسکی شرٹ پکڑ کر کھینچا اور خود انکے گلے لگ گئی ۔ سب کے چہرے کے ناقابلِ فہم تاثرات دیکھ کر ساریہ بیگم نے بےبسی سےراسم شاہ کی طرف دیکھا مگر وہ کندھے اچکا کہ رہ گئے تو انہوں نے آخری سہارے کے طور پر شہریارکو اشارہ کیا ۔
“ژلے گڑیا یہاں آؤ۔”ماں کی حالت دیکھ کر شہریارکہتےہوئے امثال کی طرف بڑھا اور اسےاپنے بازو کے حصار میں لیا۔
“بری بات بچے ماما کو تنگ نہیں کرتے۔”شہریار نے ایک ہاتھ سے اس کا حجاب سیٹ کرتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا۔ وہ منہ بسور کر خاموش ہو گئی۔
” چلو بھئی اندر چلو۔ یہیں کھڑے رہنا ہے کیا؟”بی جان نے کہا تو سب اندر کی طرف چل دیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ اس وقت لاونج میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے ۔ شہریار امثال کو اپنے ساتھ بٹھائے ہوئے تھا ۔جس پر ساریہ بیگم نے جہاں خدا کا شکر ادا کیا تھا ۔ وہیں پر وہ بیزاری سے ادھر اُدھر نگاہیں گھما رہی تھی بازل بھی دریاب وغیرہ کے ساتھ باتوں میں مگن تھا۔
“لالی کھانے کا کیا پروگرام ہے ؟مزید کتنی دیر ہے ؟”بی جان کے پوچھنے پرامثال کی آنکھوں میں چمک در آئی
“ہاں پھپھو ۔جلدی سے کھانے کا کچھ کریں نہ۔ بہت بھوک لگ رہی ہے ۔ سچی بھئی۔ میں نے پچھلے دوگھنٹے سے کچھ نہیں کھایا ہے ۔ مجال ہے جو راستے میں کسی نے جھوٹے منہ بھی پوچھا ہو۔ “
ویسے دادو بتا رہی تھی میری بہنیں بھی ہیں۔ مجھے تو نظر نہیں آ رہی ہیں ۔خدانخواستہ ہوائی مخلوق سے تعلق تو نہیں رکھتی یہاں کی لڑکیاں۔۔” امثال نے کہا تو سب مسکرا دیے
” نہیں بیٹا وہ سب کچن میں کھانا وغیرہ دیکھ رہی ہیں ۔ میں بلواتی ہوں ۔”خدیجہ خالہ نے کہا
” ارے رہنے دیں تائی جان میں خود چلی جاتی ہوں ۔ آپ بس مجھے یہ بتا دیں کچن ہے کہاں؟” انکے بتانے پر وہ اٹھ کہ چل دی ۔ کچن میں پہنچی تو وہاں پر چار لڑکیاں نہایت ہی مگن انداز میں کھانا بنانے میں مصروف تھیں۔
” اللہ اللہ کیا شاندار خوشبو آرہی ہے ۔ میں نے باہر بیٹھ کر ایویں اتنا ٹائم ویسٹ کیا ۔زندگی کا اصل مزہ تو یہاں ہے ۔۔ “ویسے مینو کیا ہے ؟”امثال نے دیگچیوں سے ڈھکن ہٹائے ۔ وہ سب کی سب اس کی بےتکلفی پر مارے حیرت سے پوری آنکھیں پھاڑے اس دیکھنے لگیں۔
“ارے ایسے کیا دیکھ رہی ہیں ؟میرے سر پر سینگ نکل آئے ہیں کیا ؟اوہ گاڈ اب کیا ہو گا ؟”اس نے باقاعدہ اپنے سر پر ہاتھ پھیرا
” آپ۔آپ شائد راسم چاچو کی بیٹی ہیں۔”ان میں سے ایک نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا کہ مہمان تو یہی لوگ انے والے تھے
“شائد نہیں یقینا میں انہی کی بیٹی ہوں اورآپ لوگ بھی تعارف تو کروائیں نہ ۔” اس نے سلیب پر رکھی پلیٹ سے کباب اٹھاتے ہوئے پوچھا۔
” یہ شامین آپی اور یہ اس سے چھوٹی رامین ۔قاسم ماموں کی بیٹیاں۔ یہ سانیہ ہے عاصم ماموں کی درمیان والی بیٹی۔ اس سے بڑی عائشہ اور چھوٹی زروا کالج گئی ہوئی ہے ۔ اور میں رمل لالہ رخ کی بیٹی ۔ “رمل نے فرائی پین میں کباب ڈالتے ہوئے تعارف کروایا۔
“ہوں۔ صیح۔ تو آپ کیوں نہیں گئی ؟
اوہ تو ہمیں ویلکم کرنے کے لیے رک گئی تھی ؟تھینک یو۔ تھینک یو۔” اس نے سر کو ہلکا سا خم دیا۔ انہوں نے حیرانی سے ایک دوسرے کو دیکھا
” ہمم تو آپ میں سے کوئی شادی شدہ بھی ہے یا ابھی تک ایسے ہی پھر رہی ہیں ؟”اس نے بے تکلفی کی حد کی تھی اور وہ چاروں عش عش کر اُٹھی تھیں
” ہاں میری شادی ہو چکی ہے قاسم ماموں کے بیٹے زریاب شاہ سے اور عائشہ کی انگیجمنٹ ہوئی ہے”
“اوہ ۔ صحیح ۔”اس نے دوسرا کباب اٹھایا۔ رمل دوبارہ کباب تلنے میں مصروف ہو چکی تھی
” تمہارا نام کیا ہے۔”رامین نے پوچھا
“امثال۔۔ گھر میں ژلے کہتے ہیں ۔آپ لوگ بھی کہہ سکتی ہیں ۔”اس نے ایک اور کباب اٹھایا
” اچھا کیا کرتی ہو تم؟”رامین نے پوچھا۔ ان لوگوں کو اپنی یہ بے تکلف سی کزن کچھ زیادہ ہی پسند آگی تھی
“پڑھتی ہوں ۔”اس نے بے دھیانی میں ساری پلیٹ اُٹھا لی تھی
“کس کلاس میں؟ “اب کی بار سانیہ نے اشتیاق سے پوچھا
“بی بی اے کا دوسرا سال ہے ۔ “امثال نے کباب منہ میں ڈالتے ہوئے کہا
“کیا مطلب تم یونی جاتی ہو؟”سانیہ نے حیرانگی سے پوچھا
“ہاں میں اور بازی اکھٹے جاتے ہیں ۔ ھم دونوں ایک ہی کلاس میں پڑھتے ہیں نہ ۔”باتوں ہی باتوں ہی باتوں میں وہ پلیٹ خالی کر چکی تھی
” بازل۔ میراٹوئنی۔”امثال نے انکے ناسمجھی سے دیکھنے پر وضاحت کی۔ تلے ہوئے کباب نکالنے کےلیے رمل نے پلیٹ اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو پلیٹ غائب تھی ۔ ادھر اُدھر دیکھنےپرامثال کے ہاتھ میں خالی پلیٹ اسکا منہ چڑا رہی تھی۔رمل کو اپنی طرف دیکھتا پا کر ہنس دی۔
” وہ۔۔۔ آپی قسم سے بہت مزے کے تھے۔ اس لیے پتا ہی نہیں چلا اور ختم ہو گئے ۔”اس نے ڈھٹائی دکھائی ۔شرمندہ ہونا اسنے سیکھا ہی کہاں تھا ۔
“کوئی بات نہیں۔”رمل نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا
” کیا کر رہی ہو۔؟ چلو یہاں سے۔”ساریہ بیگم اس کے پیچھے کچن میں آئی تھیں ۔
” اسلام و علیکم ممانی جان کیسی ہیں آپ ۔”رمل نے انہیں سلام کیا ۔سب کو ملنے کے بعد وہ دوبارہ امثال کی طرف متوجہ ہوئی
“تم ابھی تک یہی ہو۔ چلو باہر ۔ سوری بیٹا اس نے زیادہ تنگ تو نہیں کیا۔”ساریہ بیگم نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا
“نہیں ماما. میں نہیں کر رہی تھی نہ کچھ بھی ۔”وہ روہانسی ہوئی
“ہاں جیسے میں تو تمہیں جانتی ہی نہیں ہوں نہ ۔” انہوں نے اسے آنکھیں دکھائیں
“ارے نہیں چچی جان اس نے ہمیں بلکل بھی تنگ نہیں کیا۔۔ یہ تو بہت پیاری ہے ۔”اس کو منہ بسورتے دیکھ کر شامین نے کہا تو وہ سر جھٹک کہ رہ گئیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد رمل نے آکہ کھانا لگنے کی اطلاع دی تو وہ اچھلتی کودتی ٹیبل کی طرف بڑھی اس پہلے کہ وہ ٹیبل پر جا کہ بیٹھتی ساریہ بیگم نے اسکا بازو پکڑ کر ایک جھٹکے سے پیچھے کھینچا۔
“سنبھالو اسے۔ تم ان دونوں کو ساتھ بٹھاؤ گے ۔کھانےکے دوران انہوں نے اپنے ازلی جنگلی پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اگر میری عزت کا کباڑہ کیا ناں تو میں بتا رہی ہوں شہری، میں انکا گلا دبا دوں گی۔ اور تم سلیقے سے کھانا کھاؤ گی ۔
اب یہ دوسرا کہاں دفع ہوگیا ہے؟”انہوں بازل کی تلاش میں نظریں دوڑاتے ہوئے امثال کا بازو شہریار کے ہاتھ میں پکڑا کر وارن کیا