32.9K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

“بیٹا تم واپس بھی جا رہے ہو ۔ابھی کل ہی تو آئے تھے۔ کم از کم آج کا دن تو رک جاتے۔” خدیجہ بیگم روم میں داخل ہوئیں تو بیٹے کو یونیفارم میں تیار کھڑا دیکھ کر کہا
“ماں آپ میری جاب تو جانتی ہیں ۔ زیادہ چھٹیاں نہیں کر سکتا۔ ابھی جو کل چھٹی کی ہے۔ اسکا کام بھی بہت زیادہ اکھٹا ہو گیا ہوگا، میں دوبارہ چکر لگاؤں گا۔”
“تو جاب کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔ اللہ کیا دیا ہوا سب کچھ ہے۔ تم اپنے بابا کے ساتھ زمینیں اور کاروبار سنبھالو۔مجھے ہر وقت دھڑکا لگا رہتا ہے کہیں کچھ ہو نہ جائے۔” خدیجہ بیگم کو پریشان دیکھ کر وہ انکی طرف بڑھا۔
“آپ فکر مت کیا کریں ماں ۔زندگی اور موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے آپ بس دعا کیا کریں۔”اس نے کہتے ہوئے ماں کو حصار میں لیا ۔
“ٹھیک ہے بیٹا اللہ کی امان ،اللہ تمہیں ہر قسم کی آفات سے محفوظ رکھے ۔” وہ آمین کہتا ہوا باہر نکل گیا ۔ لیکن اسے کون بتاتا کہ ہر دعا قبول نہیں ہوتی ۔ اگر جو اسے پتا ہوتا کہ اس پر کونسی آفت ٹوٹنے والی ہے تو کم سے کم آج کے دن پولیس سٹیشن جانے کی غلطی کبھی بھی نہ کرتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ہاں تو بازل صاحب ۔ آپکو یہاں آ کر کیسا لگ رہا ہے؟” امثال نے ہاتھ کا مائیک بنا کہ بازل کہ آگے کیا۔
وہ دونوں اس وقت انسپیکٹر کے پاس بیٹھے تھے ۔ تھانے لانے کے بعد دونوں کو جب لاک اپ میں بھیجنے لگے تو دونوں نے وہ شور مچایا کہ آخرکار انسپیکٹر کو انہیں اپنے پاس بٹھانا پڑا۔
“ہمم۔۔۔۔میں پہلی بار یہاں آیا ہوں ۔ بہت الگ سا فیل ہو رہا ہے ۔”
“کہتے ہیں تھانہ بندے کا سسرال ہوتا ہے ۔ لیکن یہاں پر ویسا ماحول نہیں ہے۔ کوئی آؤ بھگت نہ کوئی پروٹوکول ۔ نہ کوئی ٹھنڈا گرم پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی کچھ کھانے کو۔ان لوگوں کے ہاں شائد داماد کی عزت کرنے کا رواج نہیں ہے۔ ایسا بے مروت سسرال مجھے نہیں چائیے۔میں بھی آج گھر جا کہ انکی بیٹی کو چوٹی سے پکڑ کر گھر سے نکال دوں گا ۔”اس کی فراٹے بھرتی زبان دیکھ کر سارا عملہ حیران تھا ۔اصولا ان کو پریشان ہونا چایئے تھا ۔لیکن ان دونوں کے چہروں پر کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا کہ وہ تھانے میں بیٹھے ہیں۔ کچھ دیر تک ادھر اُدھر کی ہانکنے کے بعد بازل نے امثال کو اشارہ کیا جسے سمجھ کر امثال نے سر ہلا کر اچانک اونچی اونچی آواز میں ہائے ہائے کرنا شروع کر دی، جسکو دیکھ کر بازل نے اس سے بھی اونچی آواز میں شور ڈالنا شروع کر دیا
“کک ۔۔۔کیا ہوا “۔ سارا عملہ امثال کہ گرد اکھٹا ہو گیا تھا
“دراصل میری بہن بھوک کی بہت کچی ہے۔ اس سے زیادہ دیر تک بھوک برادشت نہیں ہوتی ہے طبعیت خراب ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر نے کہا ہے کہ ہم اسکو ہر گھنٹے بعد کھانا کھلاتے رہیں ورنہ اسکا بی پی خطرناک حد تک ہائی ہو جاتا ہے جس سے اس کے مرنے کے چانسز بڑھ جاتے ہیں ۔” اسکی آخری بات پر امثال نے اسکو آنکھیں دکھائی تھیں
“پلیز یونیفارم والی آنٹی۔ میری بہن کو بچا لیں ۔اسکے لیے کچھ کھانے کو لا دیں ۔ میرے پاس پیسے نہیں ہیں میں آپکا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گا۔ میری ایک ہی بہن ہے اگر یہ بھی مر گئی تو میری زندگی کون حرام کرے گا ۔اللہ آپکی دلی مرادیں پوری کرے ۔ ۔آپکومیرے جیسا۔۔ میرا مطلب ہے، ھینڈسم سا شوہر دے ۔ پلیز پلیز ۔” بازل کی دُھائیاں عروج پر تھیں۔
“امثال میری بہن تم فکر مت کرنا میں تمھیں مرنے نہیں دوں گا۔ تمہارا بھائی ہے نہ۔ تمہیں کچھ نہیں ہونے دے گا۔ تم بس اپنی آنکھیں کھلی رکھو۔ مم ۔۔میں کچھ کرتا ہوں۔” بازل نے امثال کا گال تھپتھپا کر حوصلہ دیا۔ وہ ایسے تسلیاں دے رہا تھا جیسے اسے گولی لگی ہو
“فار گاڈ سیک بازی۔ مجھے گولی نہیں لگی ہے ۔”امثال دھیمی آواز میں غرائی ۔
“ہاں ہاں ہم کچھ منگواتے ہیں۔”امثال کی حالت اور بازل کی چیخ وپکار دیکھ کر پولیس اہلکار بوکھلا کر رہ گئے ۔
“یہ ایک سیب ہے میرے پاس۔ آپ یہ کھلائیں تب تک ھم کچھ منگواتے ہیں ۔”ان میں سے ایک لیڈی اہلکار اپنے پرس سے سیب نکال کر لائی جسکو امثال نے جلدی سے جھپٹ لیا ۔
“یار جلدی سے کچھ لے کر آؤ۔ اگر کچھ اونچ نیچ ہو گئی تومفت میں مارے جائیں گے ۔” ان میں سے ایک جو تھوڑی بڑی عمر کا تھا اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا تو انہوں نے بھی تائید کی
“کیا منگوائیں ان کے لیے؟مس آپ کیا کھائیں گی ؟”ایک نے آگے بڑھ کر ہمدردی سے پوچھا۔
“دو برگر، دو شوارما، دو پلیٹ بریانی اور کوک منگوا لیں ۔”بازل نے آرڈر دیتے ہوئے کہا
“دو دو کیوں؟” غلام دین جو انکو لے کہ آیا تھا مشکوک ہوا تھا
“وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو کوئی بھی اسے کھلاتا ہے تو وہ بھی ساتھ ہی کھاتا ہے کہیں یہ نہ سمجھے کہ یہ بہت زیادہ اور بے وقت کھاتی ہے۔” بازل نے بات بناتے ہوئے کہا تو وی خاموش ہو گیا۔ان سے باتوں کے دوران امثال آدھے سے زیادہ سیب کھا چکی تھی۔
“ادھر دے بھوکی اکیلی ہی کھائے گی۔” اچانک بازل نے اسکے ہاتھ سے بچا ہوا سیب چھینا۔ اس سے پہلے وہ اٹھ کر بھاگتا امثال نے اسکے بال پکڑ کر کھینچنا شورع کر دیے امثال اسکے بال کھینچ رہی تھی اور وہ چیخے جا رہا تھا۔ سارا پولیس سٹیشن بازل کی ہولناک چیخوں سے گونج رہا تھا۔ امثال کی گرفت ڈھیلی ہوئی تو بازل اس سے اپنے بال چھڑا کر بھاگا۔اب بازل آگے آگے تھا اور امثال پیچھے پیچھے ۔ بھاگتے ہوئے اس نے چھلانگ لگائی اور ٹیبل پر چڑھ گیا اور ٹیبل پر پڑی فائلیں پاؤں کی ٹھوکر سے نیچے جا گری تھیں۔امثال بھی کرسیوں کو ہاتھ مار کر گراتی اس کے پیچھے ہی ٹیبل پر چڑھی تب تک بازل اتر کر دوسرے ٹیبل پر پہنچ چکا تھا ۔ کچھ ہی دیر میں وہ تھانے کا نقشہ بدل چکے تھے ۔ وہ پولیس سٹیشن کم اور کباڑی کی دکان زیادہ لگ رہا تھا۔جگہ جگہ فائلیں اور کرسیاں بکھری پڑی تھیں۔واٹر کولر زمین پر اوندھا پڑا تھا کانچ کا گلاس ٹوٹ کر کئی حصوں میں تقسیم ہو چکا تھا ۔اتنے میں ایک اہلکار کھانا لے کر آیا تو بازل نے جلدی سے اس سے پکڑا اور کھول کر ادھا امثال کو پکڑایا اور آدھا خود کھانا شروع کر دیا۔ سب لوگ منہ کھولے کبھی تھانے کی حالت کو دیکھتے توکبھی ان آفتوں کو جن دیکھ لگتا تھا شائد وہ نانی کے گھر آئے ہوئے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تھانے میں داخل ہوا تو تھانے کی حالت دیکھ کر چکراہ کر رہ گیا تھا ۔پہلی نظر میں اسے لگا تھا شائد وہ کسی غلط جگہ پر آگیا ہے لیکن اپنے عملے کو دیکھ کر وہ آگے بڑھا ۔
“کہیں دہشت گردوں نے تو حملہ نہیں کر دیا۔” بے اختیار یہ سوچ اسکے زہن میں آئی تھی
“کیا ہو رہا ہے یہاں پر اور تم لوگ میرے آفس کے باہر کیا کر رہے ہو؟ اندر کون ہے؟”اپنے آفس کے باہر عملے کو جمع دیکھ کر اسنے کئی سارے سوال کیے ۔
آفس میں داخل ہوتے ہی وہ ایک بار پھر گرتے گرتے بچا۔ دو لوگ اسکی ٹیبل پر کھانا رکھ کر کھا رہے تھے اسکی فائلیں چیئر پر اوندھی پڑی تھیں اور دیگر چیزیں جو اسکی ٹیبل پر ہوتی تھی وہ نیچے زمین پر آہیں بھر رہی تھیں۔ بازل ٹیبل کے اوپر جبکہ امثال اسکی چئیر پہ بیٹھی تھی۔
“یہ کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔ کون ہو تم لوگ۔ “اس نے رعب دار لہجے میں پوچھا
“صبر کریں۔” امثال نے ہاتھ سے اشارے کیا کیونکہ مزید منہ کھلنے کی گنجائش نہیں تھی
“بھائی صاحب پانی ملے گا ۔”بازل نے ڈکار لیتے ہوئے ہوئے کہا۔
“کوئی بتائے گا کہ یہاں ہو کیا رہا ہے؟” ان کی طرف سے جواب نہ پا کر وہ دھاڑتے ہوئے بولا
“اوہو بھئی آپکو نظر نہیں آ رہا ہے کہ ہم کھانا کھا رہے ہیں اور رہی بات ہمارے یہاں ہونے کی تو آپکے بندے ہمیں اریسٹ کر کہ لائے ہیں ۔سکون سے کھانا بھی نہیں کھانے دیتے ۔ پتا نہیں کہاں سے اٹھ کر آجاتے ہیں ۔”امثال نے بھرے منہ سے جواب دیا ۔دونوں کو اس طرح کھاتا دیکھ کر اور اوپر سے اسکی بات سن کر اس نے ضبط سے مٹھیاں بھینچیں
“سیریسلی مس آپ۔آپ گرفتار ہو کر آئی ہیں۔ مجھے تو لگتا ہے پھوپھی کے ولیمے پے آئی ہوئی ہیں ۔ “
“دیکھو ایس پی!”میری پھوپھی نوں مندا نہ بولیں۔ میری بھانویں جند کڈ لے”۔۔۔۔ امثال نے ایس پی کوانگلی سے وارن کیا
واٹ۔تم لوگ پاگل خانے سے آئے ہو ۔۔کہاں سے اُٹھا لائے ہو انہیں۔۔۔ ان کی چلتی زبان اور حرکتوں سے زچ ہوتے ہوئے وہ تقریبا چیخا ۔
“اففف کیا مسئلہ ہے؟ آہستہ بولیں ۔چیخ کیوں رہے ہیں؟ یقین کریں ہم بہرے نہیں ہیں۔”امثال کا دھیان ایس پی کی طرف دیکھ کر بازل نے امثال کی بریانی کی پلیٹ سے بوٹی اُٹھائی اور چمچ بھر بھر کہ بریانی اپنی پلیٹ میں ڈالنے لگا اچانک امثال کی نظر پڑی تو وہ چیخ پڑی
“بازی بے غیرت انسان میری پلیٹ سے کیوں لے رہے ہو ؟اسکی چیخ اتنی خوفناک تھی کہ کئی اہلکاروں کے ہاتھ بے اختیار اپنے سینے پر گے تھے۔۔ جبکہ ایس پی کے ہاتھ سے اسکی کیپ چھوٹی تھی
“کیا ہو گیا ہے؟ تھوڑی سی ہی تو لی ہے مر کیوں رہی ہو ؟”
“اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ابھی تھوڑی سی لی ہے یہ لو پھر۔” امثال نے پلیٹ سے بوٹی اُٹھا کر منہ میں ڈالی اور بریانی بازل کے سر پر الٹ دی۔۔۔بھئی بوٹی پھینکنے کا کیا فائدہ
“یہ لو۔” بچا ہوا کیچب بھی اس کے منہ پر ملتے ہوئے خالی ریپر بھی اس پر پھینکے۔
“کیا کر رہی ہو؟ پاگل ہو گئی ہو کیا؟” اس کو کنٹرول سے باہر ہوتا دیکھ کر بازل بوکھلا گیا تھا
“اور چاہیے ؟ امثال نے رائتے کا باؤل بھی اسکی طرف اچھالا جو اس کے بروقت سائیڈ پر ہونے کی وجہ سے اس پر تو نہیں گرا لیکن اسکے پیچھے کھڑے ایس پی کی یونیفارم پر نقش و ونگار بنا گیا ۔ اس سے بھی اسکا دل نہ بھرا تو اس نے اٹھ کر بازل کے بال نوچنا شروع کر دیے ۔بازل کی چیخ و پکار سے پولیس سٹیشن ایک بار پھر گونج اُٹھا تھا۔
“کون لے کہ آیا ہے انہیں؟ کیوں لے کہ آئے ہو ۔کس نے کہا تھا؟ میں نے کہا تھا لے کر آؤ ۔” ایس پی پوری قوت سے گرجا ۔ غصے کی شدت سے اس کے منہ سے بے ربط جملے نکل رہے تھے۔
“وہ سر یہ والے انکل لے کے آئے تھے۔ ہم نے کہا بھی تھا کہ ہم سے چائے پانی لے لو ،لیکن شائد انکو وہ پیسے تھوڑے لگ رہے تھے۔اس لیے کہا کہ تھانے چل کہ دماغ درست کرتے ہیں اور اُٹھا کر لے آئے ہیں۔ ہم آپکو بھی کہ رہے ہیں کچھ لے دے کہ بات ختم کرتے ہیں اور ۔۔۔۔۔۔۔۔” بازل کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ایس پی نے ٹوک دیا۔
بسس!!!! خبردار اگر مزید ایک لفظ بھی اور منہ سے نکالا ۔بہت بری طرح سے پیش آؤں گا۔
“عباس انکے گھر فون کرو۔ انکو بولو انہیں آکہ لے جائیں۔ ہتھکڑی لگاؤ اور دونوں کے منہ پر ٹیپ بھی لگاؤ ۔اس نے انسپیکٹر کو کہا تو اس نے ہتھکڑیاں منگوا کر دونوں کو لگائیں اور بازل کو مخاطب کیا
“ہاں بھئی نمبر بتاؤ۔” اس کے بتانے پر انسپیکٹر نمبر ملاتا باہر چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تم گھر نہیں آئے اگر ماما کو پتا چلا کہ تم پچھلے ایک ہفتے سے پاکستان میں ہو اور ہوٹل میں رہ رہے ہوپھر ملنے بھی نہیں آئے تو بہت ناراض ہوں گی اور میں بلکل بھی ہیلپ نہیں کروں گا۔” شہریار نے سامنے بیٹھے عدید ہمدانی سے کہا۔وہ دونوں اس وقت ریسٹورینٹ میں بیٹھے لنچ کر رہے تھے
“آئی نو یار بھائی لیکن کیا کروں میٹنگز میں ہی دن گزر جاتا ہے ،رات کو بھی لیٹ ہو جاتا ہے ۔میری ٹائمنگ سیٹ نہیں ہے کبھی کہاں تو کبھی کہاں، اس لیے میں تم لوگوں کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا ۔”عدید کی آخری بات پر شہریار نے اسے گھورا ۔
“اس میں ڈسٹربنس والی کیا بات ہے؟ پاگلوں جیسی باتیں مت کرو۔ میرے سامنے تو کہہ دیا ہے ژلے کے سامنے مت کہنا ،ورنہ تمہارا منہ نوچنے میں ٹائم نہیں لگائے گی ۔”
“پھر بھی یار اچھا نہیں لگتا یوں وقت بے وقت آنا جانا ، ایک دو دن تک چکر لگاؤں گا۔ مام بھی کہہ رہی تھی کہ تم لوگوں کی طرف چلا جاؤں ۔ ویسے بھی دونوں کو پرسوں روڈ پر دیکھ چکا ہوں ۔ بن بتائے آنے کی وجہ سے ان کے سامنے جانے کی ہمت نہیں ہوئی ،خاص طور پر ژلے کے سامنے جانے کی تو بلکل بھی نہیں ۔”عدید کے کہنے پر شہریار مسکرایا تھا ۔
“مجھے نہیں پتا تھا کہ تم اس سے اتنا ڈرتے ہو ۔”
“کیا کروں ! مجھے اپنے بال بہت عزیز ہیں۔” عدید نے ہنستے ہوئے کہا تو وہ بھی ہنس دیا
خالہ کب شفٹ ہو رہیں ہیں پاکستان ۔۔۔
“بس بزنس وائینڈ اپ کر رہا ہوں۔ سوچ رہا ہوں کہ سب کچھ یہاں شفٹ کر کہ ہی مام کو بلاؤں مگر یہاں پر ٓ رہائش کا مسئلہ ہو رہا ہے ۔آؤٹ آف ایریا جا کہ گھر مل رہا ہے جبکہ میں چاہ رہا تھا کہ تم لوگوں کہ ایریا میں جگہ مل جاتی تو اچھا ہوتا ۔ پہلے تو مجبوری تھی لیکن اب میں ژلے کو ہر وقت اپنی آنکھوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ۔اگر آپکی نظر میں کوئی گھر ہو تو بتائیے گا۔ “شہریار ہلکا سا مسکرا کر سوچ میں پڑ گیا ،امثال کو لے کر وہ کتنا پوزیسسو تھا اس سے بہتر کون جان سکتا تھا
میں تو نہیں جانتا لیکن ہاں بازل اور ژلے کو پتا ہو گا ۔انہیں اچھے سے خبر ہوتی ہے کہ کون کہاں جا رہا ہے اور کہاں سے آ رہا ہے میں ان سے پوچھوں گا ۔ “اس سے پہلے عدید جواب دیتا شہریار کا فون بجا تھا اس نے دیکھا تو ان نون نمبر تھا
“ہیلو۔” اس نے فون اُٹھا کر کان سے لگاتے ہوئے کہا
“آپ مسٹر شہریار بات کر رہے ہیں ؟” دوسری طرف سےپوچھا گیا
“جی بات کر رہا ہوں۔ آپ کون؟”
“مسٹر شہریارمیں انسپیکٹر عباس بات کر رہا ہوں۔ آپ کالج روڈ والے تھانے پہنچ جائیں آپ کے بھائی اور بہن اس وقت تھانے میں موجود ہیں۔” فون سے آتی آواز سن کر شہریار بے اختیار کھڑا ہوا
“وہ ٹھیک تو ہیں نہ ؟” اس نے اپنی پیشانی مسلتے ہوئے پوچھا
“جی مسٹر وہ تو بلکل ٹھیک ہیں لیکن اگر آپ اگلے دس پندرہ منٹ تک یہاں نہیں پہنچے توتاریخ میں پہلی بار ہو گا کہ تھانے کا سارا عملہ بیک وقت یا تو خودکشی کرنے پر مجبور ہو گا یا پھر پاگل ہو کر سڑکوں پر جوتیاں چٹخاتا پھرے گا۔” اس کی بات سن کر شہریار نے اطمینان بھری سانس لی کہ وہ دونوں ٹھیک ہیں
” میں آتا ہوں۔”
“پلیز زرا جلدی آ جایئے گا۔” وہ فون رکھنے لگا تو دوسری طرف سے کہا گیا
“کیا ہوا؟” عدید نے اس سے پوچھا
“بازل اور ژلے پولیس سٹیشن میں ہیں۔ وہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ آ کہ لے جاؤ۔”
“وہ دونوں ٹھیک ہیں نہ؟”عدید کے پوچھنے پر شہریار مسکرا دیا۔اسکو یوں مسکراتا دیکھ کرعدید نے تعجب سے اسے دیکھا
“وہ تو بلکل ٹھیک ہیں لیکن اگر آپ اگلے دس پندرہ منٹ تک یہاں نہیں پہنچے توتاریخ میں پہلی بار ہو گا کہ تھانے کا سارا عملہ بیک وقت یا تو خودکشی کرنے پر مجبور ہو یا پھر پاگل ہو کر سڑکوں پر جوتیاں چٹخاتا پھرے گا ۔ایسا وہ انسپیکٹر کہہ رہا تھا ۔”
“مطلب ۔ اوہ مائی گاڈ۔”عدید ہنسا
“چلو۔ پتا نہیں ان دونوں نے کیا حال کیا ہو گا۔” شہر یار بل پے کرتا چابی اُٹھا کر باہر نکل گیا عدید بھی اسکے پیچھے چل دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں تھانے پہنچے تو تھانہ ایک اجڑی ہوئی سہاگن کا مننظر پیش کر رہا تھا
“یہاں پر تو ایسا لگ رہا ہے جیسے حملہ ہوا ہے ۔” عدید نے تھانے کی حالت دیکھ کر کہا
“حملہ نہیں ہوا ۔ یہاں پر ہماری دو عدد آفتیں موجود ہیں” شہریار نے کہا اور ایک اہلکار سے پوچھنے پر ایس پی کے آفس کی طرف بڑھا۔ اس کے پیچھے پیچھےچاروں اطراف کا جائزہ لیتا عدید بھی آیا۔ایس پی کے آفس میں داخل ہئے تو وہاں کا منظر بھی کچھ مختلف نہ تھا۔کرسیاں اوندھی پڑی تھیں ۔رائتہ اور بریانی فرش پر بکھری پڑی تھی ۔ پاس ہی ایس پی کی کیپ اور چھڑی گری ہوئی تھی ۔ایس پی دیوار کے پاس ویزٹرزکے لیے رکھے گئے صوفے پر سر ہاتھوں میں گرائے بیٹھا تھا
“کیا ہوا ہے ۔۔شہریار کہ کہنے پر ایس پی نے سر اُٹھایا تو شہریار چونکا
” تم یہاں ؟” شہریار نےخوشگوار حیرت سے پوچھا۔
“ہاں میں یہاں ایس پی کی پوسٹ پر تعینات ہوں۔ کیسے ہو تم اور یہاں کیا کر رہے ہو؟ خیریت؟” عمر نے ہاتھ ملاتے ہوئے پوچھا۔ کیونکہ اس وقت وہ گلے ملنے کی پوزیشن میں جو نہیں تھا
“ہاں وہ مجھے ابھی کال آئی تھی کہ میرا بھائی اور بہن اس تھانے میں ہیں ۔کہاں ہیں ؟” اس کی نظر ابھی تک کونے میں کھڑے بازل اور امثال پر نہیں پڑی تھی ۔
“واٹ ! وہ جو ان دو آفتوں نے یہاں پر ادھم مچا رکھا ہے وہ تمہاری ہیں؟”عمر نے اچھلتے ہوئے ان دونوں کی طرف اشارہ کیا تو شہریار پلٹا ان دونوں کے ہاتھ اور منہ بندھا دیکھ کر بے اختیار انکی طرف بڑھا۔جبکہ دونوں کو اس طرح کھڑا دیکھ کر عدید نے اس کو کڑی نظروں سے گھورا
“بازی ژلے! میری جان تم لوگ ٹھیک ہو ؟” شہریار نے ان کے منہ سے ٹیپ ہٹا کر انکو اپنے ساتھ لگایا
“اوہ ہ بھائی ۔ وہ دونوں ٹھیک ہیں۔ ادھر مجھے دیکھ میں ٹھیک نہیں ہوں ۔ یہ میرا عملہ ٹھیک نہیں ہے ۔ اپنے اردگرد نظر دوڑا یہ کمرہ ، باہر پورے کے پورے پولیس سٹیشن کی حالت ٹھیک نہیں ہے ۔” عمر تو شہریار کی فکرمندی دیکھ کر سلگ ہی گیا تھا۔
“سوری یار۔ یہ دونوں تھوڑے شرارتی سے ہیں۔” شہریار نے چاروں طرف نظریں دوڑا کر کمرے حالت دیکھ کان کھجایا
“تھوڑے ۔ یہ ابھی تھوڑے ہیں۔ کوئی خدا کا خوف کر لو یار۔ پورے پورے فتنے ہیں۔ کچھ ہی دیر میں ان لوگوں میرا کیا حال کردیا ہے۔ میرا شدت سے دل چاہ رہا تھا کہ میں خود کو شوٹ کر لوں۔” اس نے جل کر کہا
“عدی آپ یہاں۔آپ کب آئے ۔” امثال نے جوش سے اسے پکارا تووہ دونوں کی طرف بڑھا
“کیسے ہو؟” دونوں کو ساتھ لگائے اس نے پوچھا ۔
“بلکل ٹھیک۔ آپ کیسے ہو؟”
“میں بھی ٹھیک۔” عدید نے امثال کی پیشانی چومتے ہوئے کہا
“اچھا انکی ہتھکڑیاں تو کھولو نہ ۔” شہریار نے کہا تو انسپیکٹر نے عمر کے اشارے پر کھول دیں۔
“ٹھیک ہو۔” شہریار نے امثال کی کلائیوں پر اپنے لب رکھے۔ دونوں کی کلائیوں پر ہتھکڑیوں کی وجہ سے سرخ نشان پڑ گئے تھے جن کو دیکھ کر شہریار کی تیوریاں چڑھی
“ایس پی عادل عمر شاہ صاحب! کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ انکو یہاں کیوں لایا گیا ہے ۔”شہریار نے چبا چبا کر کہا ۔
“ارے یار مجھے کیا پتا کیوں لایا گیا ہے ۔میرے آنے سے پہلے ہی موجود تھے ۔یہاں کی صورتحال دیکھ کر مجھے ہوش ہی کہاں رہا تھا کہ پوچھ سکوں۔” اس کے کہنے پر شہریار نے اسے گھورا
“کون لے کہ آیا ہے ؟ بلاؤ اسے میں بھی تو دیکھوں زرا، کس ماں کے لال کی ہمت ہوئی ہے، جو انہیں یہاں تک لایا ہے۔ سلامی تو بنتی ہے اسکی۔”عمر نے انسپیکٹر سے کہا تو وہ سلیوٹ کرتے ہوئے باہر نکل گیا ۔عدید کے پوچھنے پر امثال اور بازل نے اسکو ساری بات بتا دی ۔ جس کو سن کر اس نے بمشکل خود کو قہقہ لگانے سے روکا ۔عدید کرسیاں سیدھی کر کہ دونوں کو بٹھا چکا تھا ۔اتنے میں غلام دین اندر داخل ہوا۔
“وہ سر جی میں انہیں لے کے آیا تھا ۔” غلام دین نے سیلوٹ کرتے ہوئے بتایا
“ماشاء اللہ ماشاءاللہ ۔ تو تم ہو اس سب کے ذمہ دار ۔ ویسے تمہاری ہمت کی داد تو دینی پڑے گی غلام دین جو انہیں یہاں تک لائے ہو اور صیح سلامت بھی کھڑے ہو ۔اب اگر تمہاری طبعیت پر گراں نہ گزرے تو بتانا پسند کرو گے کہ کس خوشی میں انکو لائے تھے “۔اس کے پوچھنے پر غلام دین روڈ سے لے کر عمر کہ انے تک سب بتاتا گیا ۔جس کو سن کر عمر کا ایک بار پھر پارہ ہائی ہو چکا تھا جب کہ عدید کا چھت پھاڑ قہقہ بلند ہوا ۔
“میں نے سوچا بچے ہیں۔ ان کے گھر والوں بلوا کر بات کریں گے تو وہ خود سنبھال لیں گے اگر جو پتا ہوتا کہ اتنا سب کچھ ہو گا تو سر جی قسم لیں لے میں خود ہائی سپیڈ کا اجازت نامہ بنوا دیتا۔”غلام دین نے مسکینت بھرے لہجے میں کہا۔
“بھائی آپکو پتا ہے یہ آپکے دو نمبر جعلی ایس پی نے نہ ھمیں اتنا ڈانٹا تھا اور ھم پر چیخے بھی تھے ۔”امثال اپنی آنکھیں اور ہاتھ پھیلا کر اب شہریار کوعمر کی شکایت لگا رہی تھی
“ارے میرا بیٹا ۔ بھائی صدقے ۔ میں آگیا ہوں نہ ۔میں اس ایس پی کو دیکھ لوں گا ۔ اس نے میرے بچوں کو ڈانٹا ہے ۔اب میں لے جاؤں انہیں ۔” شہریار نے عمر کو گھورتے ہوئے کہا ۔اتنے میں صفائی کرنے والا کمرے میں داخل ہوا۔ وہ چونکہ آنکھیں پھاڑے کمرے کا حشر دیکھ رہا تھا تو نیچے پھیلا رائتہ اور کیچپ نہ دیکھ سکا ۔نتیجے کے طور پر پھسل کر وہ کمر کے بل نیچے گرا اور اسکے ہاتھ سے جھاڑو چھوٹ کر سامنے بیٹھے عمر کی گود میں گرا تھا ۔ کمرے میں موجود کھڑے اہلکاروں اور عدید کی دبی دبی ہنسی نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔امثال نے بھی ہنستے ہوئے دائیں جانب بیٹھے عدید کے کندھے میں اپنا منہ چھپایا
“لے جا یار انکو یہاں سے۔۔ تجھے خدا کا واسطہ ہے بھائی لے جا ۔ نہیں تو میں خود کو کچھ کر لوں گا ۔”عمر نے باقاعدہ ہاتھ جوڑ دیئے ۔ وہ اس وقت بے بسی کی انتہاؤں پرکھڑا تھا۔اسکی حالت دیکھ کر شہریار نے اٹھنے میں ہی عافیت جانی ۔ وہ ان کو لے کے اٹھ کھڑا ہوا اور ساتھ ہی عدید کو چلنے کا اشارہ کیا۔ ابھی وہ دروازے تک ہی پہنچے تھے تو عمر نے ان کو روکا۔
“تم لوگ سب ایک ساتھ رہتے ہو؟”عمر کے پوچھنے پر شہریار نے ناسمجھی سےاثبات میں سر ہلا دیا
“ہاؤ۔ کیسے ۔ کیسے رہ لیتے ہو اکھٹے اور پھراچھے خاصے نارمل بھی لگ رہے ہو ؟” عمر نے آگے کی طرف جھکتے ہوئے اشتیاق سے پوچھا ۔
“کسی دن اکیلے میں ملنا ایس پی عادل عمر شاہ ، پھر بتاؤں گا کہ کیسے رہتے ہیں۔”شہریار اسے گھورتا ہوا ان دونوں کو لے کہ باہر نکل گیا ۔
“اماں جان نے مجھے کہا تھا کہ آج گھر پر ہی رُک جاؤں ۔۔کاش میں انکی بات مان لیتا۔” وہ بڑبڑا کر رہ گیا۔
“بھائی آپ اس ایس پی کو جانتے ہیں؟” بازل نے پوچھا
” میرا یونی کا فرینڈ ہےاور اس دن ریسٹورینٹ میں ایک دوست سے ملوایا تھا نہ امان شاہ اسکا کزن بھی ہے۔ ہم تینوں دوست تھے۔ اسے شروع ہی سے پولیس میں جانے کا شوق تھا۔ بی بی اے کے بعد یہ پولیس میں چلا گیا پھر ٹریننگ کے لیے باہر جانا پڑا اور میں بھی بزنس میں مصروف ہوگیا تو ہمارا رابطہ ختم ہو گیا ۔” شہریار نے تفصیل سے جواب دیا ۔
“ویسے بچے بری بات ہے۔ ایسے کسی کو تنگ نہیں کرتے ۔ کیا حالت کر دی ہے اس بچارے کی۔ پوری یونی میں انتہای روڈ اور رعب دار پرسینلٹی رکھنے والا بندہ اس وقت بے بسی کی آخری حدوں کو چھو رہا تھا ۔” شہریار نے انتہای نرمی سے کہا جو کہ صرف ان دونوں سے بات کرتے وقت اسکے لہجے میں ہوتی تھی۔
“بھائی آپ ہمیں ڈانٹ رہے ۔ وہ بھی اس جعلی ایس پی کے لیے ۔” امثال نے گاڑی کا فرنٹ ڈور کھولتے ہوئے کہا۔
“نہیں گڑیا کہاں ڈانٹ رہا ہوں۔ میں بس سمجھا رہا ہوں ۔”
“عدی تم نے بتایا نہیں جرمنی سے کب آئے ؟ اور ہم سے ملنے کیوں نہیں آئے؟ خالہ بھی آگئی ہیں کیا؟” امثال نے ایک ساتھ کئی سوال کیے تو عدید سر پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا ۔
“نہیں مام ابھی نہیں آئیں کچھ دنوں تک آئیں گی۔” عدید نے جواب دیا۔ البتہ کب آنے کا سوال گول کر گیا جس پر شہریار نے مسکراہٹ دبائی ۔
“اچھا ! خالہ کیسی ہیں؟”امثال نے عدید کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
“ٹھیک ہیں ۔ کچھ دنوں تک وہ بھی آجائیں گیں۔ ہم لوگ یہیں شفٹ ہورے ہیں ۔”عدید نے جواب دیا
“واقعی ۔اوہ مائی گاڈ ۔اب تم یہں رہو گے ۔”
” بازی ژلے تم لوگوں کی نظر میں ھمارے ہی ایریا میں کوئی گھر ہے؟” شہریار نے دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تو خود پر سے دھیان ہٹتے دیکھ کر عدید نے شکر ادا کیا ۔
” دو گھر خالی ہیں ایک تو تھوڑا دور ہے اور دوسرا ہمارے دائیں سائیڈ والا ۔ ایک ہفتہ پہلے ہی خالی ہوا ہے۔ رحمان انکل اور فہمیدہ آنٹی نے ہمیں کہا تھا کہ اگر کسی نے خریدنا ہو تو ہمیں بتانا۔ کیوں آپ کیوں پوچھ رہے ہیں۔” امثال نے اسے تفصیل دینے کے ساتھ ساتھ وجہ پوچھی ۔
“عدید کافی دنوں سے ڈھونڈ رہا ہے اسے چائیے۔”
“لو تو پہلے بتانا تھا نہ خوامخواہ خجل خوار ہونے کی کیا ضرورت تھی۔” امثال نے منہ بناتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی رحمان صاحب کا نمبر لکھوایا۔
“اگر ہماری ضرورت پڑے تو بتائیے گا ۔”
“شہری بھائی گول گپے ۔”امثال اور بازل نے یک زبان ہو کر کہا تو شہریار نے گاڑی روک دی۔
جاری ہے