32.9K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 34

نانو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ آپ نے دعوت رکھی کیوں ہے۔؟؟ امثال نے ثریا شاہ کے سامنے سے چائے کا کپ اٹھایا
پتر ایک تو فرہاد اتنے سال کے بعد آیا ہے اور دوسرا تم لوگ بھی کافی عرصے بعد ملے ہو تو ہم نے سوچا سب خاندان کی دعوت کر لی جائے اور پھر میں صدام اور باقی بچوں کی شادیوں کے بارے میں بھی سوچ رہی ہوں
رشتے دیکھ لیے کیا آپ نے؟
نہیں ابھی تک تو نہیں مگر دیکھنے کی کیا ضرورت ہے رشتے گھر میں ہی ہیں بس بات ہی پکی کرنی ہے
تو کیا فاریہ خالہ نے بات نہیں کی آپ سے۔۔۔۔۔۔
نہیں ۔۔ کس بارے میں بات کرنی تھی ؟؟
سدرہ آپو کے رشتے کے بارے میں کہہ رہیں تھیں
اچھا مگر مجھ سے کوئی بات نہیں کی
چلیں مگر آپ انتظار کر لیجیے گا وہ کل ہی آپ سے بات کر لیں گی اور جہاں تک رہی صدام کی بات تو آپ اسکا صوفیہ سے کر دیں پرفیکٹ میچ ہے
کہہ تو سہی رہی ہے چلو پھر دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔۔۔۔
اوئے تمہاری دادی پٹا آئی ہوں کچھ ہی دنوں میں شادی یا نکاح متوقع ہے تمہارا۔۔۔۔۔۔ تیاری پکڑ لو۔۔ امثال نے پاس سے گزرتے صدام کو آواز لگائی تو اس نے ادھر ادھر دیکھا
یہاں وہاں کیا دیکھ رہے ہو اوپر درخت پر ہوں ۔۔۔صدام نے اوپر دیکھا تو امثال درخت کی ٹہنی پر ٹانگیں لٹکائے چپس کھا رہی تھی
یا خدا امثال کوئی انسانوں والا کام بھی کر لیا کرو وہاں کیا کر رہی ہو ؟؟
انجوائے کر رہی ہوں ۔سچ میں بہت مزہ آ رہا ہے ۔۔ درخت کی ٹہنی ہو،ساتھ میں چپس کا پیکٹ ہو،پیپسی ہو اور میں ہوں۔۔واہ کیا سین ہوگا
تمہیں پتہ اس طرح ٹہنیوں پر بیٹھ کر کون کھاتا ہے۔۔۔۔۔
آف کورس میں۔۔۔۔
نہیں بندر،لنگور،گلہری اور کوے ۔صدام نے سنجیدگی سے انگلیوں پر گنتی کی۔۔چونکہ شام کا وقت تھا تو ساری ینگ پارٹی گھر پر ہونے کی وجہ سے وہاں اکھٹی ہو گئی
بڑے ہی کوئی احسان فراموش ہو ۔آنے دو زرا میرے شوہر کو ایک ایک بات بتاؤں گی ۔
ہاں ہاں بتانا میں کوئی ڈرتا تھوڑی ہوں
ویسے تم کچھ نام اور بھول بھی رہے ہو چڑیلیں، بھوتنیاں، شہد کی مکھیاں اور چمگاڈر بھی تو درخت پر ہی رہتی ہے ۔دریاب نے لقمہ دیا
اوہ ہیلو آرام سے ہاں۔۔۔ لگتا ہے تم نے رخصتی نہیں کروانی ایک بار عادی کو منع کر دیا نہ تو ایڑی چوٹی کا بھی زور لگا لو گے تو کچھ نہیں کر پاؤ گے ۔تم ابھی مجھے ٹھیک سے جانتے نہیں ہو۔۔ امثال نے دھمکی لگائی
ہاں بھئی جان ہی تو نہیں پائے ہیں تمہیں ابھی تک ۔۔ دریاب بڑبڑایا
کیا ہو رہا ہے یہاں پر ؟ عادل پولیس سٹیشن سے واپس آیا تو ان سب کو لان میں اکھٹے کھڑے دیکھ کر اسی طرف آگیا
تمہاری معصوم بیوی کو اکیلا دیکھ کر گھیرے کھڑے ہیں اور کیا ۔۔امثال کی آواز پر اس نے سر اٹھایا
تم اوپر کیا کر رہی ہو ؟؟
بندر نچا رہی ہوں۔۔ یہ نظر نہیں آ رہے ۔۔۔ امثال نے شاخوں کے سہارے رکھی پیپسی کا کین اسکی طرف اچھالا اس نے کیچ کرتے ہوئے اسے گھورا
ژلے بدتمیزی نہیں کرو سب کہ سب بڑے ہیں تم سے
اچھا اور یہ بڑوں میں سے ایک مجھے بندریا لنگور، لگڑبھگڑ،الو ، دوسرا چڑیل بھوتنی پاگل اور چمگاڈر کہہ رہا ہے ۔۔۔ باقی دو کھڑے ہنس رہے ہیں اس کا کیا ؟؟
ہا ہاہا ہا ویسے ان میں سے آدھے ناموں کا تو ہمیں پتہ بھی نہیں تھا دریاب نے ہنستے ہوئے صدام کے ہاتھ پر ہاتھ مارا
ابھی بھی تم کہو گے کہ میں بدتمیزی کر رہی ہوں۔ امثال نے منہ بسورا
چلو تم دفع کرو انہیں نیچے آؤ ہم اندر چلتے ہیں ۔عادل نے ان چاروں کو گھورتے ہوئے اسے پچکارا
نہیں مجھے نہیں آنا۔ پہلے ان سے کہو مجھ سے سوری کریں۔۔
چلو سب کے سب سوری کرو۔۔۔۔۔
کس بات پر ۔۔۔؟؟ اس نے بھی ہمیں بندر کہہ کر حساب برابر کر لیا ہے۔
لگتا ہے تم نے رخصتی نہیں کروانی ۔عادل کی بات پر دریاب جو اکڑا کھڑا تھا ڈھیلا پڑا
دونوں میاں بیوی ایک جیسی دھمکی دیتے ہو ۔۔سوری میری بہن تمہاری شان میں جو بھی گستاخی کر بیٹھا ہوں معاف کر دو دریاب نے باقاعدہ ہاتھ جوڑے
نیکسٹ۔۔۔ عادل نے امان کو گردن سے پکڑا تو اسنے بھی سوری کی
چلو صدام
میں نہیں کر رہا کوئی زبردستی ہے کیا۔۔۔۔
ژلے تم نے نانو سے بات کر لی ہے۔۔۔۔۔ ؟؟
ہاں ابھی کر کہ آئی ہوں لیکن فکر نہ کرو میں کسی بھی طرح انہیں منع کر دوں گی۔۔۔۔۔
سوری یار تم سیرئیس ہی ہو رہی ہو مذاق کر رہا ہوں ۔صدام نے ایک منٹ لگایا تھا انکی بات ماننے میں۔۔۔
ہاں بھئی تمہارا کیا پروگرام ہے ۔۔عادل فرہاد کی طرف مڑا
بلکل بھی نہیں اور ویسے بھی میرا کوئی کام نہیں اٹکا ہوا تم لوگوں کی طرف جو میں کمزور پڑوں ۔فرہاد نے کندھے اچکائے
تو ٹھیک ہے کل بھری محفل میں ،میں چیخ چیخ کر اعلان کر دوں گی کہ فرہاد شاہ آج کل کسی شادی شدہ حسینہ کے عشق کے سمندر میں غوطے کھا رہے ہیں وہ کیا کہتے ہیں کل بھری محفل میں کوئی بدنام ہوگا ۔امثال نے درخت پر بیٹھے بیٹھے ہانک لگائی ۔فرہاد نے اس لمحے کو کوسا جب اس نے اسے بتایا تھا
اچھا ٹھیک ہے اس میں کیا بڑی بات ہے سوری ہی کرنی ہے نہ ابھی کر لیتا ہوں ۔
چلو لڑکیو جلدی سے شروع ہو جاؤ ۔تم میں سے کس کس نے میری بیوی کو تنگ کیا ہے عادل نے لڑکیوں کےٹولے کو مخاطب کیا
ہماری طرف سے تو کورا جواب ہے ۔آپکی بیوی تنگ ہونے والی شے ہے سہی ۔ہم میں سے کسی نے نہیں چھیڑا ہے اسے اور ویسے بھی ہمیں بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ شامین نے ٹکا سا جواب دیا باقیوں نے بھی انکی ہاں میں ہاں ملائی
اچھا چلو مٹی ڈالو تم ان پر ۔۔ امثال نے چپس کے خالی پیکٹ میں پتے بھر کر شامین کے منہ پر پھینکے اور نیچے چھلانگ لگائی
اپنی ایمانداری سے بتاؤ اس نے بندروں والی چھلانگ لگائی ہے کہ نہیں ۔؟؟ دریاب نے امثال کو اٹھاتے عادل سے کہا تو اس نے مسکراہٹ دبائی
کچھ شرم کر لو تم دونوں اتنے سارے لوگوں کے سامنے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر کھڑے ہو ۔امان نے انہیں شرم دلانی چاہی
مجھے سمجھ نہیں آتی یہ آج کل تم اور تمہاری منکوحہ مجھے شرم دلانے پر کیوں تلے ہوئے ہو ایسا کیا کر دیا ہے میں نے؟ امثال نے انہیں چڑانے کے لیے عادل کے کندھے پر کہنی ٹکائی
رہنے دو شامین کہاں سر پھوڑ رہی ہو ۔امان کی بات پر امثال نے سیٹی بجائی
بڑی ہاں میں ملائی جا رہی ہے واہ بھی کیا انڈرسٹینڈنگ ہے ۔۔
عادی تم نے مجھے پرومس کیا تھا کہ ڈیرے پر لے کے جاؤ گے بھول گئے کیا۔۔۔
بلکل بھی نہیں مجھے یاد ہے یہ مہمانوں کو جا لینے دو پھر لے کے چلوں گا۔۔ اسکی ہامی پر سب کے منہ کھلے تھے
بھائی آپکو یاد ہے ایک بار میں نے ضد کی تھی تو آپ نے کتنا ڈانٹا تھا کہ لڑکیاں یوں منہ اٹھا کر ہر جگہ نہیں گھومتی ۔کتنی باتیں سنائی تھیں حالانکہ میں اس وقت سے صرف دس سال کی تھی اور آج کیسے فورا تیار ہو گئے۔ اب کیا ہوا ہے آپکی بیوی لڑکی نہیں ہے کیا ۔۔؟؟ زروا کو صدمہ ہی تو لگا تھا ۔
بیٹا ابھی تو شروعات ہے آگے آگے دیکھو کیا ہوتا ہے ان شاء اللہ تمہارا بھائی زن مریدی کے سارے ریکارڈ توڑے گا۔۔ صدام نے طنز کیا عادل نے بے اختیار سر پر ہاتھ پھیرا
اچھا ٹھیک ہے سب کو لے جاؤں گا اب خوش۔۔۔
ہمیں نہیں جانا آپ جائیں جس کے ساتھ جانا ہے۔۔ زروا نے منہ بسورا
اوئے تم لوگ کیا میرے شوہر کو اکیلا سمجھ کر باتیں سنا رہے ہو ۔نہیں جانا تو نہ جاؤ مگر خبردار جو کسی نے فضول کا رعب جھاڑنے کی کوشش کی ۔چلو ہم چلتے ہیں یہاں سے ۔امثال عادل کوکھینچتے ہوئے لے گئی آگے جا کر دونوں نے قہقہ لگایا
ژلے اتنا تنگ نہ کیا کرو کسی دن انکے ہاتھ لگ گئی نہ تو بہت ماریں گے تمہیں ۔ عادل نے ہنستے ہوئے کہا
ہاں جیسے میں انکے ہاتھ آ جاؤں گی نہ۔۔ امثال نے منہ بگاڑا اور پیچھے پلٹ کر ان سب کوہونق بنا دیکھ کر آنکھ ماری ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جیسے ہی بین بجنے کی آواز آئی وہ بھاگ کر عادل کے کمرے میں گئی اور اسکو ساتھ لے کر باہرلان میں آ کھڑی ہوئی ان دونوں کو یوں اپنے دونوں طرف کھڑے دیکھ کر وہ ٹھٹکا ۔ شہریار آفس گیا ہوا تھا اور عدید کو امثال نےڈریس سے میچنگ چوڑیاں لانے شہر بھیجا ہوا تھا۔کالج میں ایگزامز کی وجہ سے راسم شاہ بھی گھر پر نہیں تھے ۔ اس لیے اس وقت دونوں کی واحد پناہ گاہ عادل ہی تھا
ژلے کیا کیا ہے تم دونوں نے ؟؟ اور یہ سپیرے کیا کر رہےہیں یہاں ؟؟
اگر تم رخصتی سے پہلے بیوہ نہیں ہونا چاہتے تو خاموشی سے کھڑے رہو ۔۔امثال نے اسکا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا دونوں بھائیوں کے غیرموجودگی کی وجہ سے وہ اچھا خاصا ڈری ہوئی تھی کہ اگر ساریہ بیگم کے ہتھے لگ گئے تو انہوں نے بھری محفل میں بھی مارنے سے گریز نہیں کرنا
تم لوگ کیا کر رہے ہو یہاں ۔۔ ؟؟ مصطفی شاہ نے تین چار سپیروں کو زور و شور سے ایک عورت کے آگے پیچھے بین بجاتے دیکھ کر ٹوکا
وہ جی ہم ناگن پکڑنے آئے ہیں ۔ان میں سے ایک جو انکا بڑا تھا مودب انداز میں بولا
ہیں ۔۔۔ دماغ ٹھیک ہے تمہارا ۔کس نے کہا کہ یہاں ناگن ہے ؟؟۔مصطفی شاہ نے اسے جھڑکا
وہ جی ہمیں بلوایا گیا تو ہی یہاں آئے ہیں ورنہ ہمیں کیا پتہ
ٹرسٹ می ہادی کل بہت مزہ آنے والا ہے فرہاد کے زہن میں اچانک امثال کی بات گونجی تھی وہ جلدی سے انکی طرف آیا اس سپیرے کو آہستہ سے کچھ کہا اورپھر اس سے بلند آواز میں پوچھا
تمہیں کس نے بلایا ہے
وہ سرکارہمارے پاس دو بار ایک لڑکا اور لڑکی گئے تھے کہ حویلی میں کل آیک ناگن آئے گی تو ہم اسکو آکہ پکڑ لیں انہوں نے چہرے ڈھانپے ہوئے تھے تو ہم دیکھ نہیں سکے کون تھے ۔۔۔
اوئے کتنے بڑے جھوٹے ہو تم ۔۔۔۔۔۔ ہم کب دو بار گئے تھے ایک ہی دفعہ گئے تھے۔۔۔۔ دوسری بار تو فون کیا تھا۔۔۔۔۔ ہاں نہیں تو۔۔۔ خومخواہ میں دو بار ۔۔امثال نے اسے جھوٹا ثابت کرنا چاہا۔ اسکی بات پر جہاں باقی سب نے اسے بے یقینی سے دیکھا وہیں بازل نے سر پیٹا ۔عادل نے اسکو واپس کھینچا
پاگل ہو گئ ہو کیا۔۔۔ کیوں اتنے سارے لوگوں کے سامنے خالہ سے جوتے کھانے ہیں اگر بلوا ہی لیا ہے تو یوں بتانے کیا ضرورت ہے ؟ عادل نے ہلکی آواز میں اسکا منہ بند کرنے کی ناکام کوشش کی تھی
ہاں توتمہارےپاس سفیٹی کے لیے ہی کھڑے ہیں۔ امثال نے جواباً سرگوشی کی
ژلے فٹے منہ تمہارا۔۔۔ سب کے سامنے تو منہ بند رکھو ۔ بازل نے دانت پیسے تو اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا
پتر کیوں بلایا ہے تم نے مصطفی شاہ نے پوچھا
وہ دادا جانی یہ آنٹی ناگن ہے اس لیے ہم نے سوچا کہ ان کو انکی برادری کے پاس بجھوا دیتے ہیں ۔انکی بات سن کر سبھی ہکا بکا ہوئے تھے
پتر ۔۔۔۔تمہیں کیسے پتہ چلی اتنی اہم بات ۔۔۔۔۔۔اتنے سال ہوگے ہیں ہمیں تو بھنک بھی نہ پڑی ۔ہاجرہ شاہ نے حیرانگی سے پوچھا
وہ کل انکی ساس کہہ رہی تھیں کہ انکی بہو ناگن ہے ۔اسکا کاٹا پانی بھی نہیں مانگتا ۔امثال کے انکشاف پرجہاں اس عورت کا منہ کھلا تھا وہیں اسکی ساس بھی سٹپٹائی۔ خدیجہ بیگم اورفوزیہ بیگم نے مسکراہٹ دبائی آخر کو وہ گواہ تھیں
اے لڑکی کیا بول رہی ہو دماغ خراب ہو گیا ہے ؟؟اپنی حرکت میرےسر پر کیوں تھوپ رہی ہو میں نے ایسا کچھ نہیں بولا۔
آئے ہائے ہائے ۔۔۔ ایسا کچھ نہیں بولا ۔۔۔۔۔۔اب آپ غلط بیانی کر رہی ہیں ۔میں نے خودسنا تھا کل آپ خالہ اور تائی جان کے پاس بیٹھی کہہ رہیں تھیں کہ میری بہو ناگن ہے زہریلی ناگن ۔میرے بیٹے کے سامنے بڑی اچھی بنتی ہے لیکن جیسے ہی وہ گھر سے باہر جاتا ہے اپنا روپ بدل لیتی ہے ۔کئی روپ ہیں میری بہو کے۔ تو ہمیں لگا کہ انکا یوں سر عام پھرنا مناسب نہیں ہے کسی کو بھی ڈس سکتی ہیں اورڈراموں اورفلموں میں دکھاتے ہیں نہ کہ روپ بدلنے والی ناگن تو اچھا داری ہوتی ہے ۔ اس لیے ہم نے گاؤں کے سپیرے سے رابطہ کیا اور کہا کہ گاؤں میں اِچھا داری ناگن آنے والی ہے وہ آ کہ اسے پکڑ لیں۔۔ امثال ہاتھ نچا نچا کر انکشاف کر رہی تھی ۔دعوت پر مدعو افراد آنکھیں اور منہ کھولے اس کی گل افشانیاں سن رہے تھے لان میں ایک دم سناٹا چھا گیا
نزہت بیگم اپنی ساس کے سر پر جا کھڑی ہوئی
اچھا تو میں ناگن ہوں ۔۔۔ ؟؟یہ سوچتی ہیں آپ میرے بارےمیں۔۔۔؟؟
نہیں پتر میں نے ایسا کچھ نہیں کہا بچی کو غلط فہمی ہوئی ہے۔۔وہ گڑبڑائیں
نہ نہ آنٹی مجھے کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی میں نے خود سنا تھا آپ یہی کہہ رہیں تھیں ۔آپ چاہیں تو خدیجہ خالہ سے پوچھ سکتی ہیں ۔امثال نے گویا انکے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی تھی سب اپنی اپنی ہنسی چھپانے کی کوششوں میں تھے
نہ اماں بچی جھوٹ نہیں بول رہی ہے میں پہلے ہی جانتی ہوں کہ میں آپکی نظروں میں کھٹکتی ہوں ۔اور پھر جو دونوں طرف سےلفظی گولہ باری ہوئی تھی الامان ۔۔۔۔ ساریہ بیگم دل ہی دل میں انکی طبعیت صاف کرنے کا پکا ارادہ کر چکیں تھیں جیسے شام میں سب لوگ رخصت ہوئے وہ لاونج میں پہنچیں امثال اور بازل شہریار اور راسم شاہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے
امثال بیٹایہاں آنا بات سننا ذرا ۔۔ انکےلہجے میں بلا کی نرمی تھی وہ چونکہ گپیں ہانکنے میں مصروف تھی اس لیے دھیان دئیے بغیر اٹھ کر انکے پاس چلی گئی
جی ماما کہیں۔۔۔۔اسکی بات پوری ہونے سےپہلے ہی ساریہ بیگم اپنا جوتا اتار کر اسے دو لگا چکی تھیں
عادی بچاؤ ۔۔۔۔۔ شہریار چونکہ فاصلے پر کھڑا تھا اس لیے اس نے پاس کھڑے عادل کے پیچھے چھپنے میں ہی عافیت جانی
خالہ کیا کرتی ہیں یار ایسے کون مارتا ہے ۔۔۔؟
عادل پیچھے ہو جاو خبردار جو کوئی بیچ میں آیا
کیا ہوگیا ہے ماما ۔کتنی زور سے مارا ہے آپ نے اسے۔۔ شہریار آگے بڑھنے لگا تو ساریہ بیگم نے اسے وہیں روکا
میں نے کہا نہ وہیں کھڑے رہو کہیں ایسا نہ ہو انکا غصہ تم پر نکل جائے
ٹھیک ہے میں نہیں آتا ۔۔آپ ریلیکس ہو جائیں ۔۔۔۔۔۔۔مجھے بتائیں اتنے غصے میں کیوں ہیں؟؟
ان کے آنے سے پہلے ہی تماشا ختم ہوچکا تھا اس لیے وہ بے خبر تھے
کیا کہا ریلیکس ہو جاؤں وہ بھی ان دونوں کے ہوتے ہوئے۔۔۔۔ میں کیسے ریلیکس ہو سکتی ہوں شہری ۔اتنے لوگوں کے سامنے زلیل کر کہ رکھ دیا ہے ۔ تم کیوں نہیں سکون کا سانس لینے دیتے ہومجھے ۔زندگی حرام کر کہ رکھی ہوئی ہے ۔ یہ دیکھو میرے جڑے ہاتھ دیکھ لو، معاف کردو۔ بخش دو مجھے ۔تم دونوں کو پیدا کر کہ جو غلطی کر بیٹھی ہوں، میں چاہ کر بھی اسے نہیں سدھار سکتی۔ ساریہ بیگم نے باقاعدہ ہاتھ جوڑ دیے تھے۔
پر ہوا کیا ہے کچھ بتائیں گی ؟؟ راسم شاہ جھنجھلائے
ہوا کیا ہے؟؟؟؟؟ یہ اپنی گندی اولاد سے پوچھیں جنہوں نے مجھے ہر جگہ ذلیل کرنے کی قسم کھا رکھی ہے ۔ساریہ بیگم نے دونوں کو کھاجانے ولی نظروں سے دیکھاتو انہوں نے سوالیہ نظروں سے دونوں کو دیکھا
ہاں بھئی شروع ہو جاؤ۔
بابا ہماری کوئی غلطی نہیں ہے ۔۔باپ کی سنجیدہ نظریں دیکھتے ہوئے امثال منمنائی
ہاں بابا امثال بلکل ٹھیک کہہ رہی ہےہماری کوئی غلطی نہیں ہے وہ تو نزہت آنٹی کی ساس صغراں خالہ خود ہی کہہ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جیسے جیسے بازل بتاتا گیا انکی سنجیدگی مسکراہٹ میں ڈھلتی گئی بات کے اختتام پر لاونج قہقہوں سے گونجا تھا سب کو ہنستا دیکھ کر وہ ریلیکس ہو گئےکہ بچ گئے
سیریسلی زلے مجھے تو ابھی تک یقین نہیں ہو رہا تم لوگوں نے سپیرے کو ہی بلا لیا ۔۔۔۔۔ شہریار سر پیچھے گرا کر ہنسا ۔
دونوں میں سےآئیڈیا کس کا تھا ۔۔۔۔۔ زریاب نے پوچھا تو بازل نے امثال کی طرف اشارہ کیا
یہ کل آئی تھی میرے پاس اس نے صغراں خالہ کی باتیں سنی تھی ۔مجھے ساری بات بتانے کے بعد کہنے لگی کہ کافی دن ہو گئے ہیں ۔آؤ کچھ نیا کرتے ہیں۔۔۔۔
ویسے ڈی جے خالہ اپنی دوست کا پتہ تو کرتیں ۔ ایسا نہ ہو انکی بہو نے انہیں گھر میں گھسنے ہی نہ دیا ہو ۔امثال نے خدیجہ بیگم سے کہا
مجھے نہیں لگتا آج کے بعد وہ کبھی کسی سے اپنی بہو کی برائی کریں گی۔۔ عاصم شاہ کی بات پر لاونج ایک بار پھر ہنسی سے گونجا
ظاہر سی بات ہے ابھی بھی کوئی کسر رہتی ہے مصطفی شاہ نے ہنستے ہوئے کہا ۔خود پر سے توجہ ہٹتے دیکھ کر ساریہ بیگم پیچ و تاب کھا کر رہ گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے