Rate this Novel
Episode 37
آپا ۔آپا کہاں ہیں آپ ۔راشد شاہ ساریہ بیگم کو آوازیں دیتے ہوئے اندر آئے
کیا ہوا راشد خیر تو ہے نہ
خیر ۔۔آپا آپکے بچوں کے ہوتے خیر ہو سکتی ہے میں بتا رہا ہوں آپکے یہ فتنے کسی دن میرے ہاتھوں قتل ہو جائیں گے
چاچو یہ آپ کی ہی خواہش نہیں جو جو انکے ستائے ہوئے ہیں انکی بھی خواہش ہو گی صدام نے مسکراتے ہوئے کہا
اللہ نہ کرے کیا الٹا سیدھا بول رہے ہو۔ ثریا شاہ نے انہیں جھڑکا
کیا ہوا اب کیا کر دیا انہوں نے ۔۔۔۔ساریہ بیگم نے عام سے لہجے میں پوچھا انہیں اب شائد یہاں بھی عادت ہو گئ تھی انکی شکائیتیں وصول کرنے کی
ان فتنوں نے ساری یونی میں یہ بات پھیلا ئی ہے کہ میں انکا سگا ماموں ہوں اوروہ دونوں میرے لاڈلے بھانجے ۔راشد شاہ نے دانت پیسے
لو بھلا تو اس میں اتنا غصہ کرنے والی کیا بات ہے کیا نہیں ہو ۔ ثریا شاہ نے انہیں گھورا
اماں آپ سمجھ نہیں رہیں ہیں جس طرح کی انکی حرکتیں ہیں آج کے بعد سے میں بچوں کم پڑھایا کروں گا اور انکی شکائیتں زیادہ سننے کو ملیں گی ۔مستقبل میں میرا کیا حال ہونے والا ہے یہ سوچ سوچ کر ہی مجھے ہول اٹھ رھے ہیں اب تو لگتا ہے جاب ہی چھوڑنی پڑے گی
چھوڑو بھی راشد ان کی بات پر کسی نے کونسا یقین کر لینا ہے۔ ساریہ بیگم نے لاپرواہی سے کہا
آپا انہوں نے میرے ساتھ مختلف جگہ اور موقع پر لی گئی تصویریں اور ویڈیوز پوسٹ کیں ہے یونی کے سوشل میڈیا پر وہ بھی کیپشن کے ساتھ ۔۔۔جہاں سے بھی گزرتا ہوں ایک ہی جملہ سننے کو ملتا ہے “سر آپ ٹوئنز کے ماموں ہیں ” ڈائریکٹر اور ایچ او ڈی کے سامنے پیشی بھگت کر آ رہا ہوں ۔اور آپ اتنا نارمل ریکٹ کر رہی ہیں۔ حیرانی ان کے لہجے میں عیاں تھی
مانتی ہوں کہ وہ پہلے ہی بگڑے ہوئے تھے ،مگر یہاں آنے کے بعد سے آپ سب کے لاڈ پیار نے مزید نکھارا ہے انہیں۔۔ اس لیے خود ہی سنبھالو نہ وہ میری سنتے ہیں اور نہ ہی تم لوگ کچھ کہنے دیتے ہو تو اب بھگتو۔ کندھے اچکاتی وہ دوبارہ سے چیزوں کی لسٹ بنانے لگیں
آپا۔۔۔۔۔
نہ کونسی قیامت آگئ ہے اگر انہوں نے بتا دیا ہے تو ۔۔۔اتنا صدمہ کیوں لگا ہے تمہیں ۔۔جا جا کہ اپنا کام کر ہمیں بھی کام نمٹانے دے پہلے ہی بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں ہمارا وقت کھوٹا نہ کر۔ ثریا شاہ نے انہیں گھورا تو وہ خاموشی سے بیٹھ گئے
چاچو جب پتا تھا کہ آپ انکا مقابلہ نہیں کر سکتے تو کیا ضرورت تھی ان سے الجھنے کی ۔صدام نے انہیں پانی کا گلاس پکڑایا
یار بابا اس دن وہ دھمکی دے کر تو گئ تھی مگر آپ نے ہی سیرئیس نہیں لیا تب تو بڑا کہہ رھے تھے مجھے پروا نہیں ہے جو کرنا ہے کرو ۔۔فرہاد نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا تو وہ اسے گھورتے ہوئے اٹھ گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج مہندی کی تقریب تھی حویلی کو مکمل طور پر پھولوں سے سجایا گیا تھا طے کیا گیا تھا مہندی کی رسم حویلی میں ہی کی جائے اور رخصتی شہر والے گھر سے ۔سر شام ہی حویلی میں مہمان آنا شروع ہو چکے تھے جس سے خاصی چہل پہل ہو گئی تھی
واو آپی رنگ کتنا اچھا آیا ہے ۔زروا نے اسکے ہاتھوں اور پیروں پر مہندی کو ستائشی نظروں سے دیکھا
اور کتنا ٹائم ہے باہر بلا رھے ہیں ۔رمل نے اندر آتے پوچھا
بس دوپٹہ سیٹ کرنے والا ہے بیوٹیشن نے اسکے ہیر سٹائل کو فائنل ٹچ دیتے ہوئے کہا
ماشاءاللہ سے میم آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں بیوٹیشن نے اسکو آئینے کے سامنے کھڑا کرتے ہوئے کہا لائٹ ییلو کلر کی فراک کے ساتھ پھولوں کی جیولری پہنے مہارت سے کیے گئے میک اپ میں وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی
لکنگ گورجئیس۔ عائشہ نے اسکا ماتھا چومتے ہوئے دوپٹہ کھینچ کر تھوڑی تک کر دیا رمل اور زروا کے ساتھ مل کر اسے سٹیج پر لے گئیں یہ بھی امثال ہی کی فرمائش تھی کہ اسکی مہندی میں سب کزنز ہوں اور ہمیشہ کی طرح اسکی خاطر ہاجرہ شاہ کو اپنی ہی قائم کردہ رسومات کو توڑنا پڑا انہوں اسے لے جا کر جھولے پر بٹھایا جہاں پہلے سے سفید کرتا شلوار پہنے گلے میں ییلو کلر کا مفلر ڈالے عادل موجود تھا
کیا ہے بھئی یہ دو گز کا گھونگٹ کیوں اوڑھا ہوا ہے۔ عادل گھونگٹ کی وجہ سے دیکھ نہیں پا رہا تھا اس لیے جھنجھلا گیا
دادو کا آرڈر ہے کہ آپ میرا چہرہ نہیں دیکھ سکتے۔ امثال نے جوابا سرگوشی کی
کیوں بھئی مہندی میری ہے اور میں ہی نہیں دیکھ سکتا۔۔۔۔۔۔۔
ہی ہی ہی ۔۔امثال کھلکھلائی
یار ہٹاؤ نہ مجھے تمہارا ڈمپل دیکھنا ہے دو دن سے نہیں دیکھ پایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے شرم آ رہی ہے۔۔۔۔۔
رئیلی امثال کوئی بات کرنے والی کرو جو میں مان بھی لوں ۔۔۔
کیا کر رہے ہو تم دونوں ۔۔ چپ کر کہ بیٹھو سب لوگ دیکھ رھے ہیں ۔رمل نے آکہ انہیں ٹوکا۔سب باری باری آ کر رسم کرنے لگے
سنو نہ ۔۔جب رش تھوڑا کم ہوا تو عادل نے اسے پھر پکارا
کیا ہے ۔۔۔
یار مجھے تمہیں دیکھنا ہے۔۔۔۔۔۔
تو پہلے نہیں دیکھا ہوا وہی ہوں ۔امثال نے اسے چڑایا
نہیں نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ صیح کہہ رہی ہے تم نے کئی بار دیکھا ہوا ہے ابھی پرسوں تو تم دونوں مٹرگشت کر کہ آئے ہو اور کل رات بھی ٹیرس پر کھڑے تھے ۔انکے پیچھے کھڑے دریاب نے بیچ چوراہے بھانڈا پھوڑنے والے محاورے پر پورا پورا عمل کیا تھا
تم یہاں کیا کر رھے ہو دفع ہو جاو یہاں سے۔۔ عادل نے اپنی بھڑاس اس پر نکالنی چاہی
لو بھئ مجھ پر کیوں برس رھے ہو زیادہ مسئلہ ہو رہا ہے تو میں جا کر دادو سے کہتا ہوں کہ دوپٹہ ہٹوا دیں ایس پی صاحب اتاولے ہو رہے ہیں
تم میرے ہاتھوں پیٹو گے دریاب ۔ عادل نے اسے گھورا
بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں ہے وہ کندھے اچکاتا سٹیج سے اتر گیا
امثال دوپٹے سے پنیں اتار رہی تھی جب عادل اندر آیا
میں کوئی ہیلپ کر دوں ۔۔اسکو دوپٹے سے الجھتے دیکھ کر کہا تو اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا عادل دروازے سے ٹیک لگائے کھڑا تھا
اوہ ہاں تھینک گاڈ آپ آ گئے میں کب سے زری کا ویٹ کر رہی تھی پلیز یہ اتار دیں امثال چل کر اسکے پاس آئی اور اسکے سامنے کھڑی ہو گی عادل نے حیرت سے اسے دیکھا
کیا بات ہے تمہاری طبعیت تو ٹھیک ہے نہ۔ عادل نے اسکے سر سے پنیں اتارتے ہوئے اسکے ماتھے کو چھوا
ہاں بلکل مجھے کیا ہونا ہے بھلا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو پھر تم مجھے آپ کہہ کر کیوں بلا رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں عزت ہضم نہیں ہو رہی۔۔۔۔۔۔۔
ہا ہاہا ۔ایسا ہی کچھ سمجھ لو۔۔ عادل نے اسکے گرد بازو پھیلاتے ہوئے سیلفی لی
دادو اور ماما نے کہا ہے کہ اب آپ کو آپ کہ کر عزت سے بلایا کروں۔۔۔
اوہ ہ ۔اچھا ۔۔۔۔۔۔۔اٹس اوکے ہنی مجھے تم کہہ کر بلا سکتی ہو مجھے اچھا لگتا ہےاپنائیت کا احساس ہوتا ہے شام سے تم مجھے آپ آپ کہہ رہی ہو عجیب سا لگ رہا ہے جیسے کسی اجنبی سے بات کرتے ہیں
آپکو پتہ انہوں نے مجھے کہا ہے کہ آپ سے بدتمیزی بھی نہ کروں اور نہ ہی اونچی آواز میں بات کروں آپکے کھانے پینے اور دوسری چیزوں کا خیال رکھوں نہ ہی منہ پھاڑ کر ہنسوں ۔وہ بچوں کی طرح انگلیوں پر گنتے ہوئے انکی شکائیتیں لگا رہی تھی
بلکل بھی نہیں کوئی ضرورت نہیں ہے انکی بات ماننے کی ۔ مجھے اپنی وہی ژلے چایئے جو ہر وقت ہنستی رہتی ہے مجھ سے جھگڑتی اور گھوریاں دکھاتی ہے جیسی ہو ویسی ہی پسند ہو باتوں باتوں میں وہ اسکی جیولری بھی اتار چکا تھا
تھینک یو تم نہ بہت اچھے ہو۔ امثال نے اپنا ہمیشہ کا فقرہ دہرایا
تم بھی بہت اچھی ہو اور کیوٹ بھی ۔عادل نے مسکراتے ہوئے اسکا ماتھا چوما ۔دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا تو وہ جلدی سے پیچھے ہٹا
توبہ ہے لالہ بندہ کل تک ویٹ ہی کر لیتا ہے ۔عائشہ کا عادل کو دیکھ کر منہ کھلا تھا
ہاں تو کس نے کہا تھا کہ اتنا لمبا گھونگٹ اڑھا دو ۔۔۔۔۔۔میری بیوی ،میری مہندی اور میں ہی نہیں دیکھ سکا اس لیے مجھے یہاں آنا پڑا
واہ بھئی ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری ۔اس سے پہلےآپ کو کوئی اور دیکھے جائیں یہاں سے
ارے ایسے کیسے زری نے پورے بیس ہزار لیے وہ بھی نقد
اوہ ہ ہ اچھا تبھی میں کہوں کہ وہ ہمارے پاس کیوں جا کر بیٹھ گئی ہم نے جب کہا کہ وہ امثال کے پاس جائے تو کہنے لگی آپی چینج کر رہی ہیں حد ہے ویسے۔۔ عائشہ نے سر جھٹکا
ماشاء اللہ ماشاءاللہ یہاں پر تو رونقیں لگی ہوئیں ہیں ۔شہریار کی آواز پر تینوں پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ تینوں بھائی کھڑے تھے
وہ میں وہ ۔۔۔ ژلے کو دیکھنے آئی تھی ۔۔عائشہ عادل کی موجودگی پر گڑبڑائی
اور آپ جناب بھی یقینا ژلے ہی کو دیکھنے آئے ہوں گے ۔۔شہریار نے عادل کو طنز کیا
ہاں تو۔ عادل اکڑا
بازی زرا دادو کو تو بلا کر لاؤ۔۔۔ شہریار نے سینے پر بازو لپیٹے ہوئے بازل کو کہا تو عادل ڈھیلا پڑا
کیا ہے بھئی اپنی بیوی سے ہی ملنے آیا تھا کسی سے غیر تھوڑی
چلیں لالہ ٹائم ختم ہوا ۔میں نے شہری بھائی کو اوپر آتے دیکھا تھا اس سے پہلے وہ یہاں آئیں آپ پلیز اب جائیں اور ویسے بھی بیس ہزار میں اتنا ہی ٹائمممم۔۔۔ اندر آتی زروا نے موبائل پر انگلیاں چلاتے ہوئے سر اٹھایا تو ان سب کو وہاں موجود دیکھ کر سٹپٹائی
اوہ تو یہ معاملہ ہے ۔۔عدید نے لب سکیڑے
سریسلی زروا بس بیس ہزار اگر تمہاری جگہ ژلے ہوتی تو دو چار لاکھ سے نیچے نہیں آنا تھا اس نے۔۔ بازل نے کہا
یہ بھی بڑی مشکل سے نکلوائے ہیں ورنہ یہ تو گھوریوں سے کام نکلوانے والے تھے ۔زروا نے منہ بنایا
اور لالہ اب تو آپ جائیں ۔یہاں مزید لوگوں کو اکھٹا کرنا ہے کیا۔۔اگر دادو کو پتہ چل گیا نہ تو مہمانوں کا لحاظ کیے بغیر آپکی اور میری عزت کا حلوہ بنائیں گی۔۔ زروا اسے کھینچتے ہوئے باہر لے گئ انکے پیچھے عائشہ بھی نکل گئی
بھائی آپکی طبعیت تو ٹھیک ہے ۔امثال نے شہریار کی سرخ آنکھیں دیکھیں تو پوچھا
ہاں بچے میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ سب کھڑے کیوں ہیں بیٹھیں نہ۔۔ امثال نے ان کو کھڑا دیکھ کر کہا تو شہریار رخ موڑتا ہوا کھڑکی میں جا کھڑا ہوا
تمہیں پتہ ہے امثال میں دس سال کا تھا جب تم دونوں پیدا ہوئے ۔شروع میں ،میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لیتا تھا دونوں میں ۔ماما کبھی اگرتھوڑی دیرکےلیےاٹھانےکابول دیتی تو میں ادھرادھر ہوجاتا تھا کھیلنے کا کہتیں تو یہ کہہ کر منع کردیتا کہ یہ ابھی چھوٹے ہیں ۔ میرا تم دونوں سے ایک نارمل قسم کا تعلق تھا ۔ مجھے آج بھی وہ دن اچھے سے یاد ہے جب ایک دن کالج سے واپسی پرمیری طبعیت خراب ہوگئی ۔ ماما گھر پہ نہیں تھی شائد ہمسائیوں کےہاں گئی ہوئی تھی اور تم دونوں لاؤنج میں کھیل رہےتھے۔ میں بھی وہیں صوفے پر لیٹ گیا ۔ تھوڑی دیربعد محسوس ہواکہ کوئی مجھے زورزور سے ہلا رہا ہے آنکھیں کھولی ،توزلے اپنےچھوٹےچھوٹےہاتھوں میں پانی کا گلاس لیے کھڑی تھی ۔ بائی آپ تھیت ہیں نہ،آپ تواوئی اوئی ہولی ہے؟؟ (بھائی آپ ٹھیک ہیں آپکو اوئی ہورہی ہے ) اور میرے ہاں میں سرہلانے پر تم نے بازل سے کہا جاؤ بازی بائی تے لیے تچھ تھانے کو لاؤ اور خود صوفے پر چڑھ کر میرے گال اور آنکھیں چومنے لگی شہریار کی آواز سے پتہ چل رہا تھا کہ وہ بڑی مشکل سے ضبط کیے کھڑا ہے
میں نے جب پوچھا کہ یہ کیا کر رہی ہو تو تم نہ کہا جب ہمیں اوئی ہوتی ہے تو ماما ہمیں کشی ترتی ہیں اور بازی جو اپنی چیزیں سوائے تمہاری کسی سے شئیر نہیں کرتا تھا اس وقت میرے لیے اپنی چاکلیٹ لے آیا اور حیرت انگیز طور پر تم نے بھی کوئی واویلا نہیں مچایا تھا
میں حیران ہونےکےساتھ ساتھ شرمندہ بھی تھا کہ میری چھوٹی سی تکلیف یہ محسوس کررہےہیں۔۔ یہ اتنےچھوٹے ہو کر میرے لیے اتنا فکرمند ہیں ، تمہیں پتا ہے مجھے تم دونوں سےمحبت ہوگی تھی جب بازل کچن سے پتہ نہیں کونسی گولی اٹھا لایا تھا اسے صرف اتنا پتہ تھا کہ یہ میڈیسن ہے اور تم اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے مجھے کھلانے لگی اس دن کے بعد سے میرے لیے تم لوگ ایسے ہی لازم ہوگے جیسے زندہ رہنے کے لیے سانسیں۔ ماما کو تم لوگوں کا کچھ پتہ نہیں ہوتا تھا کہاں ہو ،کچھ چایئے یا نہیں۔۔۔۔۔ دونوں کے بال بنانا ،کھانا پینا، سکول لانا ،لے جانا سب میں ہی دیکھتا تھا ، یہاں تک کہ تم دونوں کی شاپنگ بھی میں ہی کر لیتا آہستہ آہستہ تم لوگ بھی ماما بابا سے زیادہ مجھ سے اٹیچ ہوتے گئے تمہاری ہر شرارت پر ماما سے مجھے ڈانٹ پڑتی تھی ۔ پتہ ہے ژلے ایک بارکسی بات پہ ضد کرنے پر ماما نے تمہیں تھپڑ مار دیا تمہیں روتا دیکھ کر مجھے ایسے لگا جیسے میرا دل بند ہو جائے گا۔،میں نے اس دن ماما سے پہلی بار بدتمیزی سے بات کی تھی اور تم لوگوں کو مزاق مزاق میں تنگ کرنے پر عدید کئی بار میرے ہاتھوں مار کھا چکا ہے۔ شہریار بات کرتے کرتے ہنسا
ہاں مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب میں تمہیں جان بوجھ کر تنگ کر رہا تھا اور جواب میں تم مجھ سے لڑ رہی تھی کہ بھائی گھر آگئے تم بھاگ کر انکے پاس گئی اور شکائیت لگائی جس پر بھائی نے مجھے ڈانٹا تم ہمیشہ ہی ایسے کرتی تھی پہلے خود لڑ تی تھی پھر بھائی سے بھی ڈانٹ پڑواتی ۔۔
اب دیکھو پتہ بھی نہیں چلا اور تم اتنی بڑی ہو گی کہ رخصتی کا ٹائم آن پہنچا ۔عدید نے اپنی نم آنکھیں صاف کیں امثال بھاگ کر شہریار کے گلے لگی تو اس نے بازل اور عدید کو بھی اپنے ساتھ لگایا
کیا ہو گیا شہری کیوں خود بھی رو رہے ہو اور بچی کو بھی رلا رہے ہو ۔۔۔ ہماری حویلی میں سیلاب لانا ہے کیا ۔۔ ویسے بھی وہ کونسا کہیں دور جا رہی ہے یہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے ہی تو رہنا ہے ۔۔ لالہ رخ نے انکو امثال سے علیحدہ کرتے ہوئے اسکے آنسو پونچھے ان سب کو روتا دیکھ کر زروا لالہ رخ کو بلا لائی تھی
ویسے کر تو تم بے وفائی ہی رہی ہو آج تک ہر کام ہم نے ساتھ کیا ہے اور اب تم اکیلی ہی شادی کروا رہی ہو لیکن جاؤ تمہیں معاف کیا ۔بازل نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا
تم کہو تو تمہاری بھی کروا دوں رخصتی ۔۔ امثال نےزروا کو دیکھتے ہوئے آنکھ دبائی تو وہ بے اختیار چھنیبی
ہا ۔۔۔رہنے دو تم سے نہ ہو پائے گا ۔۔بازل نے مصنوعی آہ بھری
تم میرے ٹیلنٹ سے اچھے سے واقف ہو پھر بھی کہہ رہے ۔چاہوں تو ابھی کہ ابھی نکاح اور رخصتی کروا دوں ۔۔امثال نے فخر سے کہا۔شرم سے زروا کا چہرہ سرخ ہوا جسے بازل نے دلچسپی سے دیکھا
نیکی اور پوچھ پوچھ ویسے بھی لڑکی شرما رہی ہے مطلب ہاں ہے ۔بازل شیر ہوا ۔زروا باہر کی جانب بھاگی جس پر دونوں نے قہقہ لگایا
پھر کیا خیال ہے امثال نے رازداری سے پوچھا
میں تیار ہوں بازل نے فورا ہامی بھری
اوکے ڈن۔۔۔
نہیں اوئے ایسا کچھ مت کرنا ابھی وہ بہت چھوٹی ہے۔ شہریار نے دونوں کو گھورا تو دونوں ایک ساتھ ہنسے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رخصتی کا دن آن پہنچا تھا وہ سب صبح ہی شہر والے گھر میں آگے تھے گھر کا لان چونکہ کافی بڑا تھا اس لیے شہریار نے گھر میں ہی ارینجمنٹ کروایا تھا رمل اور عائشہ اسے پالر سے لے کر آگئی تھیں ڈیپ ریڈ کلر کے لہنگے میں بہت حسین لگ رہی تھی ۔
عادی میں بیٹھ بیٹھ کر تھک گئی ہوں اور مسکرا مسکرا کر میرا جبڑا بھی دکھنے لگا ہے اب اگر کسی نے تصویر بنواتے ہوئے سمائل کرنے کا کہا نے تو میں نے اٹھ کر اسکا منہ توڑ دینا ہے امثال نے دانت پیسے عادل نے اسکی طرف دیکھا جسے دلہن بنی بیٹھی کو بھی چین نہیں تھا
بس تھوڑی دیر اور صبر کر لو اور پلیز کچھ مت کرنا کہتی ہو تو تمہارے آگے ہاتھ بھی جوڑ دیتا ہوں۔ عادل نے منت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا کوئی بھروسہ نہیں واقعی اٹھ کر کسی نہ کسی کی شامت لے آئے
نہیں مطلب دلہنوں پر ہی لازم ہے کہ خاموش اور سنجیدہ بیٹھیں دلہے تو ایسا کچھ نہیں کرتے اور تم بھی میری بات کان کھول کر سن لو اب اگر اٹھ کر گئے نہ یہاں سے تو میں بھی تمہارے پیچھے آ جاؤں گی مجھے یہاں بٹھا کر خود گھومنے کے لیے نکل پڑتے ہو ۔ امثال کے انگلی اٹھا کر وارن کرنے پر وہ اسے دیکھ کر رہ گیا
میں تمہیں صرف حوصلہ ہی دے سکتا ہوں اللہ تمہاری حفاظت کرے ۔ امان نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا وہ کب سے امثال کو عادل کو گھورتا دیکھ رہا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں رخصتی کا شور اٹھا تو امثال اپنے کپڑے سمیٹنے لگی گویا اٹھنے کی تیاری کر رہی تھی
امثال خدا کا واسطہ ہے کیا کر رہی ہو سب دیکھ رہے ہیں ۔عادل نے اسکا بازو پکڑ کر واپس بٹھایا تو وہ منہ بنا کر بیٹھ گئی
قرآن پاک کے سائے تلے اسے گاڑی تک لایا گیا ۔ شہریار ہاتھ میں قران پاک لیے پیچھے پیچھے آ رہا تھا جبکہ عدید نے اسکا لہنگا پکڑا ہوا تھا ۔گاڑی کے پاس رک کر وہ سب سے ملی۔ ساریہ اور راسم شاہ سے ملنے کے بعدشہریار سے ملنے لگی تو اسکا رخصتی کے وقت نہ رونے کا دعوا ٹوٹا تھا اسکے گلے لگ کر وہ جو روئی، وہاں موجود ہر شخص کی انکھیں نم ہوئیں تھی رمل نے آگے برھ کر انہیں الگ کروایا عدید سے ملنے کے بعد وہ بازل کے گلے لگی تو زندگی کے کئی مناظر دونوں کی آنکھوں کے سامنے لہرائے تھے
عادل ہماری بہن کا خیال رکھنا اگر کبھی کوئی غلطی ہو جائے تو پلیز معاف کر دینا عدید نے عادل کا ہاتھ پکڑتے ہوئے التجا کی ۔وہ جو کسی کے سامنے جھک کر بات نہیں کرتا تھا اپنی بہن کی خاطر التجا کر رہا تھا
عادل بھائی پلیز میری ٹوئنی کا خیال رکھیے گا بہت لاڈ اور نازوں سے پالا ہے ہم نے کوئی تکلیف نہیں ہونی چایئے ورنہ۔۔۔ بازل نے بات ادھوری چھوڑی
اوہ یار سب کہہ رہے ہو اسکا خیال رکھنا مجھے کوئی نہیں کہہ رہا کہ اپنا خیال رکھنا حالاں کہ مجھے اسکی زیادہ ضرورت ہے اپنی بہن کو جانتے نہیں ہو کیا ۔عادل نے شرارت سے کہا تو امثال نے نا محسوس انداز میں اسکے پاؤں پر اپنی ہیل ماری جس پر وہ کراہ کر رہ گیا لالہ رخ اور رمل نے اسے گاڑی میں بٹھایا اور اپنی منزل کو روانہ ہو گئے
جاری ہے
