Rate this Novel
Episode 21
رمل ۔۔۔۔ رمل۔۔۔ میری بلیو فائل نہیں مل رہی ہے۔ سائیڈ ٹیبل پہ رکھی تھی زریاب نے جنھجھلاتے ہوئے پوچھا
وہیں کہیں ہو گی۔ کہاں جائے گی۔ آپ ٹھیک سے دیکھتے نہ ۔۔۔رمل جواب دیا۔
ہر جگہ دیکھ چکاہوں ۔۔۔۔۔ کم عقل عورت تم سے کتنی بار کہا ہے کہ میری چیزوں کو مت چھیڑا کرو،لیکن تمہیں کوئی بات سمجھ آئے تو نہ ۔زریاب نے فائل نہ ملنے کا سارا غصہ رمل پر اتارا تھا۔سب کے سامنے زریاب کے ڈانٹنے پر رمل شرمندہ ہو کر رہ گئی تھی
ہا۔۔۔۔۔ زریاب بھائی آپ آپی کو کیوں ڈانٹ رہے ہیں۔ آپکو اپنی چیزیں سنبھال کہ رکھنی چایئے نہ۔۔ خوامخواہ دوسروں کو الزام دینے کا کیا فائدہ۔ امثال نے رمل کی شرمندہ صورت دیکھی تو بولے بنا نہ رہ سکی۔
اور آپی آپ کیا چپ کر کہ سن رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ بتائیں نہ بھائی کو کہ آپ کی غلطی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ میں بتا رہی ہوں اگر میرے شوہر نے میرے ساتھ ایسا کیا نہ تو میں نے اس کے منہ پہ تکیہ رکھ کر گلہ دبا دینا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر پکڑی گئی تو کہ دوں گے نشہ کر کہ گھر آتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جوا کھیلتا تھا اور ڈومیسٹک وائلنس بھی کرتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تنگ آچکی تھی کمینے سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک دن موقع دیکھ کر پھڑکا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امثال کی بات سن کر کھانا کھاتے عادل کو پھندا لگا تھا جبکہ ساریہ بیگم سر پیٹ کر رہ گئی۔
دھیان سےایس پی صاحب بڑی غلط جگہ دل لگا بیٹھے ہو ۔ ارادے خاصے بلند اور خطرناک ہیں محترمہ کے۔۔۔۔۔ امان نے عادل کے کان میں سرگوشی کی تو وہ ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا۔
زریاب بھائی بات سنیں ۔۔۔وہ باہر جا رہا تھا کہ امثال نے اسکو آواز دے کہ روکا تھا۔
ہاں بولو۔
بھائی آپکو آپو سے ایسے بات نہیں کرنی چائیے تھی ۔کتنی شرمندگی محسوس کر ری تھی وہ آپکے یوں سب کے سامنے ڈانٹنے کی وجہ سے ۔امثال نے کہا۔
دیکھو گڑیا۔۔۔۔۔۔
نہیں بھائی آپ دیکھیں ،آپکو اگر غصہ کرنا بھی تھا تو یوں سب کے سامنے نہیں کرنا چاہیئے تھا بند کمرے میں بے شک آپ انہیں ڈانٹ لیں لیکن سب کے سامنے محبت سے نہ سہی، آپ ان سے عزت سے تو پیش آ ہی سکتے ہیں نہ ۔ سسرال میں لڑکی کی عزت شوہر کی بدولت ہوتی ہے اگر شوہر ہی عزت نہیں دیتا تو باقی لوگ کیا خاک عزت کریں گے ۔آپکو کیا لگتا ہے اگر انھیں گھر بھر کے افراد اور درجن بھر ملازموں کے سامنے بےعزت کریں گے تو ان کے دل میں آپکے لیے عزت برقرار رہے گی ۔آہستہ آہستہ وہ بھی آپ سے بدظن ہو جائیں گی اور اور انکے دل سے آپکی عزت اور محبت ختم ہوجائے گی نتیجے کے طور پر اس رشتے میں بیزاری اورچڑچڑے پن کے علاوہ کچھ نہیں بچے گا ۔ ھم عورتیں نہ بڑی عجیب ہوتی ہیں زرا سا کوئی توجہ اور محبت سے بات کر لے تو اسکی ساری اگلی پچھلی زیادتیاں بُھلا کر خوش ہوجاتی ہیں۔ خیر میری مانیں تو آپ ان سے سوری کر لیجے گا۔۔ ۔سب کے سامنے تو کریں گے نہیں آخر کو انا کو ٹھیس پہنچے گی تو اکیلے میں کر لیجے گا ۔اگر یہ بھی نہ کر سکیں تو اُنہیں کوئی گفٹ وغیرہ دے دیجیے گا ،وہ خوش ہو جائیں گی ۔۔۔۔۔ کہتے ہوئے وہ جس رفتار سے آئی تھی اسی رفتار سے واپس مڑ گئی۔ پیچھے وہ شرمندہ کھڑا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہاں سے ڈیٹ مار کر آ رہے ہیں زریاب اور رمل کو کار سے اترتا دیکھ کر لان میں کھڑی امثال نے انکے پاس آ کر کہا .
استغفراللہ۔۔۔۔ توبہ کرو لڑکی اپنی بیوی کے ساتھ گیا تھا۔
ہاں تو یوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر پینگیں ڈالنے کی کیا ضرورت ہے وہ بھی اس صورت میں جب ایک معصوم سی لڑکی آپکے پاس کھڑی ہو امثال نے رمل کا ہاتھ زریاب کے ہاتھ میں دیکھ کر کہا ۔اسکی بات سن کر رمل نے ہاتھ چھڑوانا چاہا تو زریاب نے گرفت اور مضبوط کر دی
معصوم اور تم ۔۔۔۔۔ واقعی ٹارچ لے کر بھی نکلیں گے تو تم جیسا معصوم اس دنیا میں نہیں ملے گا کوئی ہزار معصوم مرے ہوں گے تو تم دونوں بہن بھائی پیدا ہوئے ہو گے ۔
آپو آپ دیکھ رہی ہیں اپنے شوہر کو۔ امثال نے رمل کو گھیسٹا
ویسے وہ کہہ تو ٹھیک ہی رہے ہیں ۔رمل نے کہا تو امثال کی آنکھیں کھلیں
آپو۔۔۔۔۔ آپ نے یہ تھوڑی سی شاپنگ کے بدلے میں اپنی ہمدردیاں انکے ساتھ کر لیں ۔ امثال نے صدمے سے کہا اور پیر پٹختی اندر چلی گئی
اوہ گاڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لگتا ہے ناراض ہو گئی ہے رمل ہاتھ چھڑوا کر اسکے پیچھے بڑھی تو زریاب بھی اسکے پیچھے آیا
امثال کیا کر رہی ہو ۔۔رمل نے کچن میں کھڑی امثال کے پاس آئی
کچھ نہیں آپو شہری بھائی کے لیے کافی بنا رہی ہوں امثال نے کافی مگ میں چمچ ہلاتے ہوئے کہا
لاؤ میں بنا دوں ۔رمل نے مگ لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا
ارے نہیں بس بن گئی ۔امثال نے چمچ سائیڈ پر رکھا اور مگ اٹھا کر جانے لگی تو رمل نے اسے آواز دی
تم ناراض ہو مجھ سے
اور وہ کیوں بھلا ۔
وہ باہر جو میں کہا تھا اسکے لیے سوری میں بس مزاق کر رہی تھی ۔
کم آن آپو میں جانتی ہوں آپ اور بھائی مزاق کر رہے تھے ۔
اچھا اور مجھے تمہارا شکریہ بھی ادا کرنا تھا ۔زریاب نے مجھے بتایا تھا کہ کس طرح تم نے اسے سمجھایا تھا تمہیں پتہ ھے انہوں نے مجھ سے سوری بھی کی ہے اوروعدہ بھی کیا ہے کہ وہ آئندہ ایسا کچھ نہیں کریں گے جس سے وہ ہرٹ ہو اور مجھے شاپنگ بھی کروائی اور ہم نے باہر لنچ بھی کیا رمل نے خوشی سے دمکتے چہرے کے ساتھ اسے بتایا تو وہ ہنس دی
اللہ آپکو ایسے ہی خوش رکھے آپو امثال رمل کو گلے لگا کر اسکا گال چومتے ہوئے مگ لے کر باہر نکل گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امان بھائی آپ جانتے ہیں آج کل گھر میں کیا چل رہا ہے امثال نے امان کے روم میں داخل ہوتے ہوئے کہا
کیا چل رہا ہے ۔۔امان نے مصروف انداز میں کہا
فوزیہ تائی کے میکے سے شامی آپی کا رشتہ آیا ہے اور گھر میں اس پر غور کیا جا رہا ہی امثال نے دیوار سےٹیک لگائی
جانتا ہوں
حیرت ہے پھر بھی اتنے سکون سے گھوم رہے ہیں ۔
تو میں کیا کر سکتا ہوں۔ امان نے کف لنک بند کرتے ہوئے کہا
واٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ آپ کہہ رہے ہیں۔ امثال اچھلی تھی
گڑیا میں نے ماما سے بات کی تھی اور انہوں بی جان اور فوزیہ ممانی سے ۔اب اگر وہ اس کے باوجود بھی اس رشتے پر غور کر رہے ہیں تو میں کیا کر سکتا ہوں۔
یقین نہیں آتا مجھے ۔۔امثال نے افسوس سے نفی میں سر ہلایا
رہنے دو گڑیا کہاں سر پھوڑ رہی ہو موصوف کو قربانی دینے اور مظلوم بننے کا بخار ہو رہا ہے ۔اندر آتے دریاب نے کہا تو وہ دونوں گھبرا گئے
وہ بھائی۔۔۔وہ ہم ۔۔۔۔امثال اٹکی ۔جو بھی تھا شامین اسکی بہن تھی اور کوئی بھی بھائی اپنی بہن کے لیے ایسا کچھ برداشت نہیں کرتا
پریشان مت ہو ژلے میں جانتا ہوں ۔بچپن سے ساتھ ہیں ہم۔۔۔۔ کزن ہونے کے ساتھ ساتھ بیسٹ فرینڈ بھی ہیں ۔ اسکی رگ رگ سے واقف ہوں ۔اسے کیا لگتا ہے کہ میں نہیں جانتا کہ یہ شامین کو پسند کرتا ہے۔ دریاب نے جتایا
اسکا مطلب ہے کہ آپکو کوئی اعتراض نہیں امثال چہکی
کس کو کس پرکوئی اعتراض نہیں ۔عادل نے اندر آیا
یہاں پر رشتے ہو رہے ہیں آپ بھی آ جائیں۔
آپ نے بتایا نہیں کہ آپکو کوئی مسئلہ نہیں ہے امثال نے پوچھا
مسئلہ تب ہوتا جب اسکی کوئی غلط نیت ہوتی میں شروع سے جانتا ہوں کہ یہ شامین سے شادی کرنا چاہتا ہے اور میرے نہیں خیال کہ شامین کے لیے اس سے اچھا رشتہ کوئی اور ہو گا ۔دریاب نے کہا تو دونوں کی اٹکی ہوئی سانسیں بحال ہوئیں
اور اب کیا کرنا ہے جہاں تک میں نے سنا ہے فوزیہ تائی کا جھکاؤ اس عدنان کے رشتے کی طرف ہے اور سچی بتاؤں تو مجھے وہ بندہ بلکل بھی اچھا نہیں لگا تھوڑا ٹھرکی ٹائپ ہے ۔امثال کی بات پر سب کے منہ کھلے
ژلے کیا ہو گیا ہے خدا کا خوف کرو ۔سب سے شریف بچہ وہ خاندان کا ۔دریاب نے اسے گھورا
رہنے دیں بھائی شریف بچے یوں دوسروں کی بہن بیٹوں کو آنکھیں پھار پھاڑ کر نہیں دیکھتے امثال منہ بنایا
کیا مطلب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عادل نےپوچھا
چھوڑیں آپ اس بات کو دریاب بھائی آپ تائی جان سے بات کریں نہ بلکہ آپ رہنے دیں سب کچھ مجھ پر چھوڑ دیں میں خود ہی کچھ کرتی ہوں۔
ژلے انہوں رشتہ جوڑنا ہے توڑنا نہیں جو سب کچھ تم پر چھوڑ دیں
اوہ ۔۔ایس پی صاحب کسی غلط فہمی میں نہ رہئیے گا بڑے بڑے لوگوں کے ٹانکے فٹ کر چکے ہیں میں اور بازی۔ امثال نے آنکھیں بڑی کرتے ہوئے کہا تو تینوں نے استغفار پڑھا
توبہ کرو لڑکی ہمیں کوئی ٹانکا فٹ نہیں کروانا ۔۔تم رہنے دو ہم خود ہی دیکھ لیں گے
اچھا دیکھ لیں آپکا بھی تو رہتا ہے پھر نہ کہیے گا کہ بے خبری میں مارے گئے امثال نےعادل کی طرف دیکھتے ہوئے آنکھیں مٹکا کر دریاب سے کہا
اسکا کیا رہتا ہے ۔۔عادل نے نا سمجھی سےانہیں دیکھا
چھوڑیں آپ اس بات کو عادل جو ابھی عدنان والی بات پر اٹکا ہوا تھا اسکے پھر سے وہی بات دہرانے پر اسے تپ چڑھی
دماغ ٹھیک ہے جو بات بھی پوچھتا ہوں کہ دیتی ہو چھوڑو اس بات کو عادل نے اسے گھورا تو امثال نے اسکی طرف گھوم کر جوابا گھورا
نہیں میرا مطلب ہے کہ مجھے بھی تو بتاؤ نہ ۔ یہ ہر بات پر چھوڑو چھوڑو کر رہی ہو عادل گڑبڑایا اسکو یوں گڑبڑاتا دیکھ کر امان اور دریاب کا قہقہ بلند ہوا
سیریسلی عادل۔۔ امان نے ہنستے ہوئے کہا تو وہ داڑھی کھجا کر رہ گیا
یہ تم لوگ کیا اشاروں کنایوں میں بات کر رہے ہو مجھے بھی بتاؤ امثال انکو یوں ہنستا دیکھ کر اور امان کی بات سن کر پوچھے بغیر نہ رہ سکی
چھوڑو تم اس بات کو ۔۔عادل نے اسی کے انداز میں کہا تو وہ دانت کچکچا کر رہ گئی
اچھا ٹھیک ہے پھر میں دادو سے بات کروں امثال نے دریاب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
ہاں کرو اور تھوڑا جلدی کرنا اگر ایک بار وہ لوگ ڈیسائڈ کر چکے تو پھر مشکل ہو گی
اگر آپکا بھی کوئی خفیہ چکر وکر ہے تو بتا دیں ایس پی صاحب میں اکھٹی بات کر لوں گی
نہیں اپنا میں خود دیکھ لوں گا تم جاؤ۔وہ کمرے سے نکل گئی
یہ تم لوگ نہ جانے کیوں مجھے مشکوک سے لگ رہے ہو کچھ چھپا رہے ہو نہ۔ عادل نے دونوں کو جانچتی نظروں سے دیکھا
نہیں ہم نے کیا چھپانا ہے ہر وقت پولیس والوں کی طرح شک مت کیا کرو دریاب نے کہا
ویسے تم تو ابھی سے اسکی گھوریوں ڈرتے ہوآگے جا کر کیا کرو گے۔ امان نے بات بدلی تو وہ مسکرایا
ویسے میں اب بھی کہوں گا کہ خاصے مشکوک لگ رہے ہو ۔عادل دونوں کی طرف دیکھتا ہوا کہ کر باہر نکل گیا
سنو ۔ عادل نے سیڑھیاں اترتی امثال کو پکارا
جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تم اندر عدنان کے بارے میں کیا بات کر رہی تھی ۔عادل نے نہایت ہی سنجیدگی سے پوچھا اسکی سنجیدگی دیکھتے ہوئے اس نے اسے اس دن کی ملاقات کے بارے میں بتایا جسے سن کر اسکی تیوریاں چڑھی تھیں
میری بات سنو تم ۔آئندہ اگر وہ یہاں آئے تو تم اسکے سامنے نہیں جاؤ گی۔۔۔۔۔سمجھی عادل نے سختی سے کہا
اچھا اچھا نہیں جاؤں گی ڈانٹ کیوں رہے ہیں آرام سے بھی تو کہہ سکتے ہیں نہ یہی بات ۔۔ امثال نے منہ بنایا تو عادل کو اپنے لہجے کی سختی کااحساس ہوا
نہیں میں ڈانٹ نہیں رہا ہوں بس سمجھا رہا ہوں کہ اس سے دور رہنا تم ۔
ویسے دریاب کے بارے میں کیا کہہ رہی تھی ۔عادل نے اسکی طرف جھکتے ہوئے پوچھا
ہاں وہ دریاب بھائی نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بات کرتے کرتے اچانک وہ ٹھٹھکی بڑے ہی کوئی دو نمبر ایس پی ہو ۔ کیسے باتوں باتوں میں مجھ سے اگلوا رہے ہو ۔امثال نے اسے آنکھیں دکھائیں تو اس نے قہقہ لگایا
بتا دو نہ اچھی کزن نہیں ہو۔ وہ اسے گھور کر سیڑھیاں اترنے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دادو مجھے نہ آپ سے بات کرنی ہے ۔امثال نے بی جان کی گود میں سر رکھا
ہاں پتر بول تجھے کب سے اجازت کی ضرورت پڑ گئ بی جان نے اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے کہا
دادو میں نے سنا ہے کہ تائی جان شامی آپی کا رشتہ اپنے بھانجے سے کر رہی ہیں
ہاں پتر ان لوگوں نے بات کی تو تھی اور ہم نے کہا تھا کہ سوچ کر جواب دیں گے
تو آپ انہیں منع کر دیں امثال نے انکا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا
کیوں ۔۔۔۔
اوہو بی جان جب گھر میں رشتے موجود ہیں تو باہر کیوں ۔۔۔۔۔امثال اٹھ کر بیٹھتے ہوئے کہا
پتر تو کھل کر بات کر کہنا کیا چاہتی ہے
دیکھیں بی جان اگرصاف بات کروں تو آپ لوگ شامین آپی کا رشتہ امان بھائی کے ساتھ کر دیں اور سانیہ کا دریاب بھائی سے ۔اس طرح دونوں لڑکیاں ہمیشہ کے لیے اس گھر میں رہیں گی اور کیا چاہئیے ۔امثال نے سمجھداری کے سارے ریکارڈ توڑے
ہوں !!!! کہہ تو تُو ٹھیک رہی ہے۔ مجھے کیوں نہیں خیال آیا یہ۔۔ حالانکہ لالی نے مجھ سے بات کی تھی۔
بس بی جان اب تو آ گیا نہ خیال اب دیکھ لیں ۔۔ بلائیں سب کو اور فیصلہ سنا دیں۔
وہ سب تو ٹھیک ہے مگر میں سوچ رہی ہوں کہ سانیہ کا رشتہ شہریار سے کر دیتے ہیں آخر کو وہ بھی اس گھر کا بیٹا ہے اور اس طرح تعلق مزید مضبوط ہو جائے گا۔ بی جان نے ٹانگیں سیدھی کرتے ہوئے کہا
نہ۔۔۔۔ نہیں دادو سانی کتنی چھوٹی ہے شہری بھائی سے ۔وہ تو مجھ سے بھی ایک سال چھوٹی ہے اور ویسے بھی میں شہری بھائی کے لیے کچھ اور سوچ رہی ہوں بس کنفرم کر لوں پھر بتاؤں گی ۔امثال گڑبڑائی
پھر دریاب بھی تو شہری کا ہم عمر ہی ہے کوئی دو تین سال ہی فرق ہو گا۔
پھر بھی شہری بھائی زیادہ بڑے ہیں
ژلے پتر ایک بات تو بتا ۔۔ میں تجھے شکل سے بیوقوف لگتی ہوں ۔بی جان نے سنجیدگی سے پوچھا
کم آن دادو میں کیا کہہ سکتی ہوں اپ اتنی بڑی ہیں مجھ سے ۔۔۔ اب میں اپکو بیوقوف کہتی اچھی لگوں گی ۔آپ تھوڑا ویٹ کر لیں ابھی دادا جان آ جائیں تو ان سے پوچھ لیتے ہیں ۔امثال نے انکی بات مذاق میں اڑانی چاہی
بک بک نہ کر۔ چل اب سچ بتا کیا کھیچڑی پکا رہی ہو تم ان دونوں کے ساتھ مل کر۔ بی جان نے اسکا کان مروڑا
آہ۔۔۔۔۔ چھوڑیں نہ دادو۔۔۔۔۔ درد ہو رہا ہے بتاتی ہوں ۔۔۔پہلے آپ وعدہ کریں جیسا میں نے کہا ہے ویسا ہی کریں گی ۔امثال نے کان چھڑواتے ہوئے کہا
اچھا ٹھیک ہے چل اب بول ۔بی جان کے پوچھنے پر اس نے انہیں ساری بات بتا دی
ہوں تو یہ بات ہے ٹھیک ہے۔ میں آج ہی فوزیہ اور قاسم سے بات کرتی ہوں اور ان سے کہتی ہوں کہ وہ اپنے بھائی کو منع کر دیں
اچھا دادو ساتھ ہی منگنی اور نکاح کی ڈیٹ فکس کر لیجیے گا رخصتی بے شک جب مرضی رکھ لینا۔۔۔۔۔ بہت دن ہوں گئے ہیں کوئی بھی فنکشن اٹینڈ نہیں کیا اور فیملی فنکشن تو اپنی زندگی میں پہلی بار اٹینڈ کروں گی تو پلیز نہ اچھی دادو نہیں ہیں اسی منتھ میں رکھ لینا پھر ہماری یونی سٹارٹ ہو جائے گی تو مزہ نہیں آئے گا ۔۔امثال نے معصومیت سے کہا
اچھا اچھا میری ماں نہ بن ۔۔۔سب کچھ خود ہی طے کر کہ آئی ہو۔ بی جان نے کہا تو انکے گلے لگی
چل ہٹ اب مسکے نہ لگا ۔۔۔۔اور تیرا اپنے بارے میں کیا خیال ہے ۔۔۔میں سوچ رہی ہوں کہ تمہیں بھی ساتھ ہی نمٹا دوں۔ بی جان نے اسے پیچھے کرتے ہوئے کہا ویسے بھی وہ کافی دنوں سےاپنے پوتے کے رنگ ڈھنگ دیکھ رہی تھیں
کیا ہو گیا ہے دادو ابھی میری عمر ہی کیا ہے ۔۔۔گڑیوں سے کھیلنے کی عمر ہے میری اور آپ شادی کروانے چل دی ہیں میری امثال آنکھیں پٹپٹائیں
کوئی نہیں پترمیں تمہاری ساس سے کہہ دوں گی کہ وہ تمہیں فیڈر پلا دیا کرے گی۔۔ پونیاں بھی بنا دیا کرے گی تیری ۔
تم جواب نہیں دیا میری بات کا۔ بی جان شائد اسکو ایسے ہی چھوڑ دینے کےموڈ میں نہیں تھی
وہ دادو میں کیا کہوں مجھے نہ شرم آ رہی ہے۔ امثال نے دانتوں تلے انگلی دبائی
لیکن پتر تمہارے چہرے پر تو دور دور تک شرم کے آثار نظر نہیں آ رہے ہاں البتہ ڈھٹائی اور بے شرمی صاف چھلک رہی ہے ۔ بی جان ہلکی سی مسکراہٹ سے کہا تو اس نے منہ کے زاویے بگاڑے
منہ نہ بگاڑ جو پوچھا ہے وہ بتا۔
اوہو یار دادو مجھ سے کیا پوچھ رہی ہیں جیسے آپکا اور ماما بابا کا دل چاہے کریں ۔میرا
کون سا کسی کے ساتھ نین مٹکا چل رہا ہے جو میں واویلا مچاؤں گی امثال جھنجھلائی
چل ٹھیک ہے میں بات کرتی ہوں ساریہ اور راسم سے۔
اچھا میں جاؤں ابھی مجھے جا کر دریاب اور امان بھائی کو بھی تو بتانا ہے۔ امثال نے جلدی سے کہا اور جواب سنے بغیر بھاگ گئی پیچھے وہ مسکرا کر رہ گئیں
جاری ہے
