Rate this Novel
Episode 8
بابا سائیں آپ شاہ بابا کو سمجھائیں نہ کہ وہ چاچو کو واپس آنے کی اجازت دے دیں۔۔۔۔۔ آپ نے دیکھا نہیں شاہ بی بی کتنی کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔۔۔۔ دن رات انکو یاد کرتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ انکی تصویر لے کے گھنٹوں بیٹھی دیکھتی رہتی ہیں ۔۔دریاب نے نےاپنے باپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
میں جانتا ہوں یار۔۔۔۔وہ ہم سب کا اور خاص طور پر اماں جان کالاڈلہ تھا جان بستی تھی۔۔۔ انکی اس میں۔۔ لیکن میں کربھی کیا سکتا ہوں تم جانتے ہو بابا سائیں اسکا نام بھی سننا پسند نہیں کرتے۔۔۔میں نے تو اس وقت بھی بہت کوشش کی تھی لیکن بابا جان نے ایک نہیں سنی۔۔۔۔۔گو کہ وہ اپنی جگہ ٹھیک تھا۔۔۔۔ اس سب کا نتیجہ بھی دیکھ لیا ھم سب نے اور اس سب میں اگر کوئی سب سے زیادہ مشکل میں ہے تو وہ لالی ہے شادی کے پانچ سال بعد ہی اس کمینے نے اس دو ٹکے کی عورت کے پیچھے طلاق دے کررات کے اندھیرے میں لالی کو گھر سے نکال دیا ۔۔۔۔بچوں کا بھی خیال نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔ کاش اس وقت بابا جان چھوٹے کی بات سمجھ جاتے تو آج لالی اس حال میں نہ ہوتی۔۔۔۔۔۔ خیر اب کیا کیا جا سکتاہے ۔۔۔۔ قاسم شاہ نے افسوس بھرے لہجے میں کہا تو عاصم شاہ نے بھی تائید کی وہ سب اس وقت مردان خانے میں بیٹھے ہوئے تھے ،اس بات سے بے خبر کہ دروازے کے باہر کھڑے مصطفی شاہ نے انکی باتیں سن لی تھی۔
راکنگ چیر پر جھولتے ہوئے ان کے کانوں میں قاسم شاہ کہ باتیں گونج رہی تھی ۔کہیں نہ کہیں انہیں بھی پچھتاوا تھا ۔۔۔۔ بیٹےکے ساتھ ساتھ بیٹی کو بھی کھو چکے تھے۔۔۔۔۔ لالہ رخ کی حالت ان سے ڈھکی چھپی نہیں تھی ۔۔۔۔۔ کیا تھا جو وہ اگر اس وقت اپنے بیٹے کی بات مان لیتے تو آج نہ تو بیٹا دور ہوتا اور نہ ہی بیٹی دکھی ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔انہیں آج بھی وہ دن یاد تھا جب انہوں نے اپنی ضد اور غرور میں آکر بیٹی کے لیے غلط فیصلہ لیا تھا اور مخالفت کرنے پر بیٹے کو گھر چھوڑ جانے کا حکم دیا تھا۔
پچیس سال پہلے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر آپ لالی کی بات مان کیوں نہیں لیتے بابا سائیں وہ کوئی ایسی غلط بات تو نہیں کر رہی ھے۔۔۔۔۔۔ راسم شاہ پچھلے کئی دنوں سے مصطفی شاہ کو قائل کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے اس وقت بھی گھر کے تمام افراد ۔۔۔ لاونج میں جمع تھے ۔۔۔
برخوردار تم شاید ھماری روایات کو بھولتے جا رہے مت بھولو کہ شاہ خاندان سے تعلق ہے تمہارا اور مجھے سبق پڑھانے سے بہتر ہے جا کہ اپنی بہن کو سمجھاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم نے ہی اُس کو سر پہ چڑھا رکھا ہے جو اُسےھمارے طے کردہ رشتے سے اختلاف کرنے کی جرات ہوئی ہے۔۔۔ بابا سائیں نے اپنے ازلی گرجدار آواز میں کہا۔۔
اُفوہ بابا سائیں آپ جانتے ھیں جس سے آپ اُسکا رشتہ کر رھے ہیں ہر برے کام میں ملوث ہے وہ شراب،جوا،سٹہ بازی ،غرض کہ کونسی ایسی برائی ہے جو اُس میں نہیں پائی جاتی اسکے علاوہ کئی عورتوں سے اس کے تعلقات ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سب کہ باوجود آپ ہیں کہ سب جانتے ہوئے بھی لالہ رخ کو اُس دوزخ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔۔۔۔ راسم شاہ نے جنھجلاتےہوے کہا ۔
بیٹا سائیں شادی کے بعد سب ٹھیک ہو جاتے ہیں وہ بھی ہو جاۓ گا ۔۔۔ تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہیں۔
پربابا سائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس !!!! بہت ہوا۔ اب ھم مزید ایک لفظ بھی نہیں سننا چاہیں گےھم زبان دے چکے ہیں جمال شاہ کو۔ مقررہ تاریخ کو ہی شادی ہو گی اب کوئی بحث نہیں سنیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بابا سایئں نے دھاڑتے ہوے کہا۔
معذرت بابا سائیں لیکن یہ لالی پے ظلم ہو گا اور میں اس ظلم کا حصہ قطعی نہیں بنوں گا۔۔ میں یہ شادی رکوانے کی ہر ممکن کوشش کروں گا۔۔۔۔۔ چاہے مجھے اس کے لیے کسی بھی حد تک جانا پڑا۔۔۔ راسم شاہ نے اٹل لہجے میں کہا۔
اچھا کیا کرو گے ؟؟ہم بھی تو سنیں ہمارا بیٹا ہمارے ہی خلاف کہاں تک جاے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،مصطفی شاہ نے استہزایہ لہجے میں کہا
بابا سائیں میں یہ گھر چھوڑ کر چلا جاؤں گا اگر آپ نے میری بات نہ مانی تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے تو تم اس حویلی سے جا سکتے ہو ہمیں بھی تمہاری ضرورت نہیں ،آج سے ھمارے ٖصرف دو ہی بیٹے ہیں۔ مصطفی شاہ نے گرجتے ہوئے کہا تو اس نے بے یقینی سے اپنے باپ کی طرف دیکھا پھرلمبے لمبے ڈگ بھرتا لاونج سے نکل گیا
بابا سائیں کیا کہہ رہے ہیں اسکو روکیں پلیز وہ چلا جائے گا آپ جانتے ہیں نہ کہ وہ کتنا ضدی ہے
جانے دو اسے اگر وہ ضدی ہے تو ہم بھی اس کے باپ ہیں ہم بھی دیکھتے ہیں کہ کتنے دن رہے گا ھمارے بغیر۔۔ چار دن ٹھوکریں کھائے گا توعقل ٹھکانے آجائے گی۔۔ انہوں نے غرور بھرے انداز میں کہا۔۔۔۔
پر بابا سائیں وہ جائے گا کہاں وہ اکیلا نہیں ہے بھابھی اور بچہ بھی ہیں انکے ساتھ اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بسسس!!!! اب ھم ایک لفظ نہیں سنیں گے اور جس کو زیادہ ھمدردی ہو رہی ہے وہ بھی ساتھ ھی جا سکتا ہے۔۔۔۔۔
وہ دن اور آج کا دن راسم شاہ نے مڑ کر نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی انکی کوئی خیر خبر تھی۔
دروازے پر ہونے والی دستک سے وہ ماضی سے باہر آئے
آجاؤ۔۔۔۔ آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کرتے ہوئے انہوں نے اجازت دی
شاہ سائیں کھانا لگ گیا ہے۔ آپ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ ملازمہ دروازے کھول کر کہا
ہوں ٹھیک ہے ۔۔۔ ہم آتے ہیں کچھ سوچتے ہوئے وہ اُٹھ کھڑے ہوئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قاسم!! اس نالائق کا پتا کرو کہاں ہوتا ہے ۔۔۔ وہ تو شہر جا کہ بھول ہی گیا ہے کہ اس کے کوئی بوڑھے ماں باپ بھی ہیں اب ایسی بھی کیا نارضگی۔۔۔۔۔۔ رات کا کھانا کھاتے ہوئے مصطفی شاہ نے کہا
کون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کس کی بات کر ہے ہیں آپ بابا سائیں۔۔۔۔ قاسم شاہ نے حیرانگی سے پوچھا
راسم شاہ کی بات کر رہے ہیں اور کون ہو گا جوشہر جا کہ اپنے خاندان کو بھول بیٹھا ہے پتا کرو کہاں ہوتا ہے آج کل۔ جا کہ لے آئیں اسے ۔ انہوں نے نارمل لہجے میں کہا تو کھانا چھوڑ کر سب بے یقینی سے انہیں دیکھنے لگے ۔
آپ سچ کہی رہے ہیں۔۔۔۔۔ بی جان نے خوشی سے لرزتے ہوئے پوچھا تو وہ محض ہنکارہ بھر کہ رہ گے
پتا کرنے کی ضرورت نہیں شاہ بابا ۔راسم ماموں اسی شہر میں رہتے کالج میں پروفیسر ہیں ۔ تین بچے ہیں۔ ایک بڑا بیٹا شہریاراور دو جڑواں ۔بیٹی امثال اور بیٹا بازل۔ امان نے مصطفی شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
تم کیسے جانتے ہو اُسے ۔۔۔۔ قاسم شاہ نے اچنھبے سے پوچھا
انکا بڑا بیٹا شہریار میرا یونی ورسٹی کا دوست ہے ۔ پہلے میں نہیں جانتا تھا کہ وہ راسم ماموں کا بیٹا ہے ۔ کچھ دن پہلے ہی ریسٹورینٹ میں ملاقات ہوئی تھی شہری سے۔۔۔ راسم ماموں انکے ساتھ تھے تو اس نے ملوایا تھا۔ چونکہ میں نے ماموں کو تصویروں میں دیکھا ہوا تھا اس لیے انکو پہچان لیا۔ امان نے جواب دیا ۔
کیسا ہے میرا راسم اور بچے کیسے ہیں ،ساریہ کیسی ہے۔۔۔ بی بی جان کے لہجے میں بے پناہ اشتیاق تھا ۔
ماموں بلکل ٹھیک تھے ساریہ آنٹی سے میں ابھی تک نہیں ملا ہوں۔ اور جہاں تک بچوں کی بات ہے تو شہریار دس سال بڑا ہے دونوں سےاور بازل سات منٹ بڑا ہے امثال سے ۔۔ شہریار تھوڑا سنجیدہ مزاج ہے۔ بزنس کرتا ہے ۔ کنسٹرکشن کمپنی ہے اسکی ۔ زریاب لالہ آپکو یاد ہوگا، آپ نے کچھ دن پہلے ایک ڈیل سائن کی تھی ، ژلے کنسٹرکشن کمپنی کے ساتھ اسکا اونر شہریار ہی ہے۔۔۔ اور رہی بات چھوٹے دونوں کی تو دونوں ابھی پڑھ رہے۔ بلا کہ شرارتی ہیں ۔۔۔ بقول شہری کہ اگر ان دونوں کوبغیر روک ٹوکے کے ایک گھنٹے کے لیے کہیں پہ چھوڑ دیا جائے تو وہاں کہ لوگ اپنے سر کے بال نوچتے نظر آئیں۔۔ اور وہ بلکل ٹھیک کہہ رہا تھا میں مل چکا ہوں دونوں سے اور عادل تو بھگت بھی چکا ہے ۔۔۔
ٹھیک ہے کل چلیں گے ۔مصطفی شاہ نے زریاب اور عاصم شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
سوری شاہ بابا میں ضرور چلتا لیکن میری صبح دس بجے میٹنگ ہے اس لیے میں نہیں جا پاؤں گا آپ دریاب کو لے جایئے گا ۔۔زریاب نے معزرت کرتے کہا
ٹھیک ہے میں چلا جاؤں گا۔۔ دریاب نے ہامی بھری
میں بھی ساتھ جاؤں گی بی جان نے کہا تھا تو سر ہلا کر اُٹھ گئے
بی جان کو تو گویا نئی زندگی مل گی تھی انکا خوشی سے دمکتا چہرہ دیکھتے ہوئے سب بےاختیار مسکرا دیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مڈ ٹرم ایگزامز کے بعد انکو یونی سے ایک ہفتے کی چھُٹیاں تھی ۔فاریہ پاکستان آ چکی تھی اور آج کل ان دونوں کا زیادہ ٹائم یا تو انکے ہاں گزرتا یا پھر عدید کے ساتھ گھومنے پھرنے میں ،جسکی وجہ سے انکی شرارتوں میں کمی واقع ہوئی تھی جس پر ساریہ بیگم نے سکھ کا سانس لیا تھا
وہ صاحب جی یہ لوگ آپ سے ملنے آئے ہیں۔ وہ سب اس وقت لان میں اکھٹے بیٹھے شام کی چائے پی رہے تھے۔ بازل اور امثال عدید کے ساتھ آئس کریم پالر گئے ہوئے تھے ۔ جب چوکیدار نے آ کہ شہریار کو کارڈ دیا۔
انس ملک۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہریار کارڈ پڑھتے ہو زیرلب بڑبڑایا
ٹھیک ہے آپ انکو یہیں لے آئیں ۔ شہریار نے چوکیدار کو کہا تو وہ سر ہلاتا ہوا واپس پلٹ گیا ۔تھوڑی دیر بعد واپس آیا تو اسکے ساتھ دو لوگ تھے۔
اسلام و علیکم۔ انس نے سلام کیا تو شہریار اور راسم صاحب نے کھڑے ہو کر ہاتھ ملایا
ارے شہریار صاحب آپ یہاں ۔۔انس نے پوچھا
ہاں یہ میرا گھر ہے یہ میرے بابا ہیں اور یہ میری ماما۔ شہریار نے تعارف کرواتے ہوئے کہا
مجھے آپ جانتے ہی ہوں گے اور یہ میرا بھائی ہمدان ملک ہے۔۔ انس نے ہمدان کا تعارف کروایا
آپ لوگ بیٹھیں۔
دراصل ہم لوگ بازل اور امثال سے ملنے آئے ہیں آپ پلیز انہیں بلا دیں۔ ہمدان نے کہا تو شہریار نے حیرانی سے اسے دیکھا
آپ کیسے جانتے ہیں۔۔ انہیں شہریار نے پوچھا
ایکچوئیلی میں انہی کی یونی اور ڈپارٹمنٹ سے ہوں ۔ ان دونوں سے کوئی کام تھا ،کچھ دن پہلے ہماری ملاقات ہوئی ۔۔۔۔ تو انکا تھینکس کہنا تھا اور انوٹیشن بھی دینا تھا ۔ ہمدان نے کہا
کس چیز کا انویٹیشن ۔۔ساریہ بیگم نے پوچھا
وہ آنٹی میرے بھائی کی شادی ہے اسی ہفتے آپ سب انوائیٹڈ ہیں خاص طور پر بازل اور امثال ۔۔۔۔پلیز ضرور آیئے گا۔ہمدان نے کارڈ میذ پر رکھتے ہوئے کہا اس سے پہلے وہ کوئی جواب دیتی وہ دونوں عدید کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے
اوہ ہائے انس صاحب کیسے ہیں۔۔ امثال نے مسکراتے ہوئے پوچھا
میں بلکل ٹھیک گڑیا آپ کیسی ہو انس نے نرمی سے کہا
میں بھی ٹھیک ۔۔۔۔۔۔۔۔خیریت آپ لوگ یہاں ۔بازل نے کپوچھا
ہاں وہ انوٹیشن دینے آئے تھے بھائی کی شادی کا آپ لوگ ضرور آیئے گا
مینیو کیا ہے ۔۔ بازل اور امثال نے یک زبان ہو کر پوچھا تو شہریار اور عدید ہنس دیے
جو آپ دونوں کہو۔۔ ا
ہمممم۔۔۔ایسا کرنا گول گپے اور قیمے والے سموسے رکھ لینا ٹھیک ہے ۔ امثال نے چہکتے ہوئے کہا
شیور۔۔ انس نے مسکرایا شہریار تو انس کو دونوں سے بات کرتا دیکھ کر حیران تھا ،کہاں وہ مغرور مزاج بندہ جو اپنے سوا کسی کو خاطر میں نہیں لاتا تھا کیسے مسکرا کر بات کر رہا تھا
اچھا ہمدان بیٹا یہ تو بتاؤ یہ لوگ یونی میں کیسے رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم لوگوں کا تو جینا حرام کیے رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ لیکن وہاں سے کبھی بھی انکی کوئی شکایت نہیں آتی ہے ۔ ساریہ بیگم نے ہمدان سے پوچھا تو ہمدان کو بے اختیار وہ دن یاد آیا جب وہ اور انس سر راشد کے پاس گئے تھے۔جیسے ہی انہوں نے ان دونوں کا نام لے کر بات شروع کی تو وہ تو پھٹ ہی پڑے تھے ۔انہوں نے جو انکے شان میں قصیدے پڑھنے شروع کیے تو دونوں کو اپنے کانوں سے دھواں نکلتا محسوس ہوا ۔آدھے گھنٹے کے منت ترلوں کے بعد وہ جا کہ مانے تھے۔ ہمدان بے نے بے اختیار انکی طرف دیکھا تو انہون نے جھٹ سے نفی میں سر ہلا دیا جسکو عدید اور شہریار نے بخوبی نوٹ کیا تھا
وہ آنٹی یہ لوگ بہت ہی ڈیسنٹ سٹوڈنٹس کی طرح رہتے ہیں ۔۔۔۔ کبھی کسی کو کوئی شکایت نہیں ہوئی اور سب ٹیچرز کے تو فیورٹ ہیں۔۔۔۔۔۔ (استغفراللہ)۔۔۔۔ سب انکی اتنی تعریفیں کرتے ہیں۔۔۔۔( اللہ پاک مجھے معاف کرنا اتنے بڑے جھوٹ پر ) ۔۔۔ ہمدان نے دل ہی دل میں توبہ استغفار کرتے ہوئے بات مکمل کی
اچھا پتہ نہیں کیوں مجھے یقین نہیں آتا ۔ ساریہ بیگم نے سوچتے ہوئے کہا
آپ ماں ہیں نہ۔۔۔۔۔ اولاد کو بہتر طریقے سے جانتی ہیں ،شائد اسی لیے۔ ہمدان نے ڈھکے چُھپے لفظوں میں انہیں باور کروایا کہ انکی سوچ بلکل ٹھیک ہے
تھوڑی دیر ادھر اُدھر کی باتوں کے بعد وہ لوگ شادی میں شرکت کی تاکید کرتے ہوئے چلے گئے تو عدید اور شہریار نے ان دونوں کو گھیرا
ہاں بھئ شروع ہو جاؤ ۔۔ تو دونوں نے فر فر سب کچھ بتا دیا جسے سن کر دونوں نے بے ساختہ قہقہ لگایا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب لوگ تیار ہو کر شہر کے لیے نکل گئے تھے۔ بی جان نے خاص تاکی کی تھی کہ ان کے بیٹے کے استقبال میں کوئی کمی نہیں رہنی چایئے۔ان لوگوں کے کمرے وہ سیٹ کروا چکی تھیں ۔ابھی وہ راستے میں ہی تھے کہ زریاب کے کلائینٹ کا فون آیا کہ طبیعت کی خرابی کے وجہ سے میٹینگ کینسل کر دی تھی تو وہ بھی انکے ساتھ ہی ہو لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یونی ورسٹی سے چُھٹیوں کے باعث وہ گھر پر ہی تھی اور حسب معمول اپنے ارد گرد کھانے پینے کی چیزوں کا ڈھیر لگائے ٹی وی دیکھ رہی تھی۔ اور بازل بایئک کوورک شاپ لے کے گیا ہوا تھا ۔ اسی اثنا میں بیل بجی جس کو اس نے ماں کی نصیحتوں طرح نظر انداز کر دیا تھا ۔لیکن شاید بیل دینے والا بھی اس سے بڑاڈھیٹ تھا۔ چوکیدار ایک دن کی چُھٹی لے کر گھر گیا ہوا تھا۔ نا چار اس کو اُٹھنا پڑا۔ ریموٹ کو صوفے پر پھینکتے ہوئے بیل دینے والے کی طبیعت صاف کرنے کے ارادے سے آگے بڑھی اور زور سے دروازہ کھولا۔
ہاں جی فرمایئے کہاں سیلاب آ گیا ہے جو آپ اس گھر کو آخری پناہ گاہ تصور کرتے ہوئے بیل پہ ہاتھ رکھ کر اُٹھانا بھول گے ہیں ۔۔۔۔۔ بھئی جب ایک بندہ دروازہ نہیں کھول رہا ہے تو صاف مطلب ہے نا کے وہ مصروف ہے۔۔۔۔۔پر نہ جی آپ لوگوں نے تو بیل دیے جانی ہے۔۔۔ دیے جانی ہے۔۔۔۔۔۔۔ مجھے لگتا کسی دن مجھے اسکواُتار کہ پھینکنا پڑے گا۔۔۔۔۔۔ نہ ہو گی بیل، نہ بجے گی ۔۔۔۔ حد ہو گئی ۔۔۔۔۔ اس نے سامنے کھڑے پانچوں لوگوں کو جن میں ایک ادھیڑ عمر مرد دو نوجوان اور ایک بزرگ مرد اور عورت کھڑے تھے کوکاٹ کھانے والے لہجے میں کہا ۔
ایک تو ڈرامہ بیچ میں چھوڑنے کا غم اوپر سے اسکو ڈر تھا کے اگر بازل آگیا تواسکی چپس اور چاکلیٹ پکڑی جائیں گی آخر کو اسی کی تو چرائی ہوئی تھیں ۔
سامنے والوں کو شاید اتنی عزت افزائی کی اُمید نہیں تھی اس لیے وہ ہق دق کھڑے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے ۔
وہ ۔۔۔۔۔ ھم۔۔۔۔۔ وہ دریاب شاہ نے ہچکچاتے ہوئے بلا آخر ھمت کی تھی ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں اس کے دماغ نے اسے پہچان کا سگنل دیا تھاکہ یہ وہی لڑکی ہے جس نے کچھ دن پہلے دو لڑکوں کی سڑک پر پھینٹی لگائی تھی۔ سامنے کھڑی لڑکی اوپر سےاسکی قینچی کی طرح چلتی زبان دیکھ کر چکراہ کر رہ گیا تھا۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ آفت اسکی کزن ہو سکتی ہے
کیا وہ وہ لگا رکھی ہے بھئی۔۔۔۔۔۔ آپ لوگ کون ہیں۔۔۔۔۔۔ کہاں سے ہیں۔۔۔۔۔ کیوں ہیں۔۔۔۔۔۔۔ کچھ بتائیں گے بھی یا میں جاؤں ؟؟۔۔۔۔۔
اوہ اچھا تو آپ سرف صابن بیچنے والے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ہوں ۔۔۔۔ اس نےٹھوڑی پر انگلی رکھ کر اپنی دانست میں سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سر ہلایا ۔
دیکھیں بھئی ھم نے نا کچھ نہیں خریدنا ۔۔۔۔۔۔۔ میرے بابا گھر کا سودا اکھٹا لا کہ رکھ دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اماں کہتی ہیں اس سے برکت آتی ہے اوربچت بھی ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔۔ کبھی کھبارایمرجنسی میں کسی چیز کی ضرورت پڑ جائے تو بازار نہیں بھاگنا پڑتا ۔۔۔۔۔۔۔ ویسے بھی میرے خیال میں یہ جو چل پھر کر چیزیں بیچتے ہیں۔۔۔۔۔ یہ کسی کام کی نہیں ہوتی ۔۔۔ بھئی آپ خود سوچیں جس چیز کو اپکو گاہک کے پاس لیجا کر کہنا پڑے کہ یہ خرید لو، تو وہ تو دو نمبر ہوئی نہ۔۔۔۔ آپکی پروڈکٹ اگر اتنی ہی اچھی ہے تو اسکو اپنے سٹور پہ رکھیں ناجسکو ضرورت ہوگی وہ خود ہی خرید لے گا۔۔۔۔۔۔۔زبان کے ساتھ ساتھ وہ ہاتھ بھی ھلاھلا کر مشورہ دے رہی تھی۔
دیکھیں ھم سرف صابن بیچنے والے نہیں ہیں ۔۔۔۔ دریاب نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہو ئے دھیمے لہجے مہیں کہا۔
تو پتی بیچنے والے ہوں گے بھئی ھم ایسی۔۔۔۔۔۔۔
ھم پتی بیچنے والے بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اس پہلے وہ دوبارہ شروع ہوتی دریاب نے اُسے ٹوکتے ہوئے دانت پیس کر کہا ۔
مگر وہاں پرواہ کسے تھی تھوڑا سا سر مزید باہر نکال کر ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے سر کے اشارے سے اسے پاس بلایا دریاب بے اختیار ایک قدم آگے بڑھا-
تو کیا آپ چرس بیچتے ہیں۔۔۔۔۔ اسکی طرف جھکتےہوئےرازدارانہ انداز میں کہا تو وہ پانچوں بے اختیار اچھل پڑے ۔
دریاب کے منہ سے بے ساختہ استغفراللہ نکلا جبکہ مُصطفی شاہ نے اونچی آواز میں لا حولا ولا قوہ پڑھا تھا۔۔۔
دیکھو بھئی سیدھی سی بات ہے ھمارے گھر میں تو کوئی چرس نہیں پیتا اس لیے معزرت کے ساتھ ھم نہیں خرید سکتے ۔۔۔۔۔ آپ کئی اور ٹرائی کر لیں ۔۔۔۔ ارے ہاں آپ کالج اور یونیورسٹیز میں کوشش کریں نہ وہاں پہ ہو سکتا ہے آپکا کوئی چانس لگ جائے ۔۔۔۔۔۔ بھئی وہاں پہ ہم جیسے اچھے اور معصوم بچوں کے ساتھ ساتھ کچھ بگڑے بچے بھی پائے جاتے ہیں۔
ایک مشورہ دوں آپکو۔ آپ سب اکھٹے نہ نکلا کریں …….۔ چرس بیچنے کے لیے علیحدہ علیحدہ علاقے بانٹ لیں ………بالفرض اگر پولیس کے ہتھے چڑھ بھی جائیں تو پیچھےکوئی ضمانت کروانے والا بھی تو ہونا چائیے نہ۔……….. ویسے تو پولیس آپ لوگوں کی اپنی ہی ہوتی ہے لیکن پھر بھی قسمت خراب ھو تو کیا پتا چلتا ہے ۔ …..
ایک بات تو بتایئں ان کی طرف جھکتےہوئے دوبارہ گویا ہوئی ……….. یہ جو سگریٹ میں چرس یا پاؤڈر بھر کر پیتے ہیں ……….یہ کیسے بھرتے ہیں؟؟ ….. میں نے اس پر بہت سوچا ہے ,لیکن کچھ سمجھ نہیں آیا ……….
جب یہ لوگ سگریٹ سے تمباکو نکالتے ہیں تو خالی کھوکھا سلامت رہتا ھو گا بھلا ؟۔۔۔۔۔ اور چرس اور پاؤڈر بھرنے کے بعد جو سگریٹ سے نکالا گیا تمباکو ہوتا ہے پھر اُسکا کیا کرتے ہیں ؟کچھ آئیڈیا ہے آپکو ؟؟ اور میں نے تو یہ بھی سُنا ہے کہ یہ ہتھیلی پر رکھ کے مسل کر بھی پھانکتے ہیں؟؟؟ وہ گیٹ پر کھڑی ہو کر چرس اور پاؤڈر ایسے ڈسکس کر رہی تھی جیسے اس سے اہم کوئی کام نہ ہو۔۔۔۔ اس کو نان سٹاپ بولتا دیکھ کر وہ پانچوں ہونق بنے کبھی اُسکا تو کبھی ایک دوسرے کا منہ تک رہے تھے ۔جب کہ پیچھے کھڑے زریاب کا سرخ پڑتا چہرہ اس بات کا گواہ تھا کہ اس نے بڑی مشکل سے اپنا قہقہ ضبط کیا ہوا ہے۔
ہم راسم شاہ سے ملنے آئے ہیں۔۔۔ مصطفی شاہ نے بلاآخراپنا مدعا بیان کیا
کون راسم شاہ ؟؟؟ اس نے ابرو اچکاتے ہوئے سوال کیا ایک پل کو تو وہ خاموش ہو کر رہ گے
اوہ اچھا تو آپ راسم شاہ یعنی بابا سے ملنے آئے ہیں۔۔ پر بابا جانی تو گھر پر نہیں ہیں ۔۔۔۔۔وہ تو ماماکے ساتھ بازار گئےہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ویسے آپ لوگوں کی شکلیں نہ میرے بابا جانی سے بہت ملتی ہیں۔۔۔۔ میں نے سنا ہے کہ دنیا میں ایک جیسی شکل کے سات لوگ ہوتے ہیں کہیں آپ اپنے چھٹے ھم شکل کی تلاش میں تو نہیں آئے ہیں؟؟ اس نے راسم شاہ کا بتانے کے ساتھ پھر سے سوال داغا تھا۔
دیکھیں محترمہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دریاب نے کچھ کہنے کے لیے لب وا کیے ہی تھے کہ اس نے ٹوک دیا۔
امثال ۔۔۔ امثال راسم شاہ نام ہے میرا۔۔۔۔ ٹیچر امثال شاہ کہتے ہیں جبکہ بابا اور بھائی لوگ ژلےاور ژلی شاہ کہتے ہیں
اور اماں کیا کہتی ہیں ؟؟ زریاب نے بے ساختہ پوچھا
اماں؟؟ ہاں وہ کہتی ہیں اس کو جو بھی کہ لو اس نے کونسا سننا ہے کملی ہے یہ تو۔ اب بھلا بتاؤ میں کہاں سے کملی ہوں ۔۔۔۔۔۔ وہ کھلکھلا ئی
ویسے اگر آپ مجھے اپنا تعارف دیں کہ آپ لو گ کون ہو تو ہو سکتا ہے میں آپکی کوئی مدد کر دوں ۔۔۔۔۔ ویسے بھی کافی دیر سے آپ لوگ دروازے پہ کھڑے ہیں۔۔اس طرح دروازے پر کھڑا ہونا اچھا تھوڑی نہ لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھے خاصے سمجھدار اور شریف لوگ لگ رہے ہیں آپ۔۔۔۔۔ نام اور کام دونوں بتائیں ۔۔۔ سارا ملبہ ان پر گراتے ہوئے اب کی بار اس نے سنجیدگی سے پوچھا تو دریاب دانت پیس کر رہ گیا۔
مصطفی شاہ نام ہے ہمارا اور حویلی سے آئے ہیں ھم ۔راسم شاہ سے ملنا ہے
ان کا نام سن وہ اُچھل ہی تو پڑی تھی آنکھیں پھاڑ کر انھیں دیکھنے لگی
ہائے اللہ سچی آپ۔۔۔۔ آپ شاہ بابا ہیں؟؟ آپ میرے۔۔۔ میرے دادا جان ہیں۔ بابا آپ کے بارے میں بتاتے رہتے ہیں ہمیں ۔۔آپ کو پتا ہے میں نے آپکو کتنا مس کیا جب بھی بابا سے بولا ہمیں آپ لوگوں سے ملنا ہیں تو منع کر دیتے ہیں۔۔ کہتے ہیں کہ آپ ان سے سخت والے ناراض ہیں ۔۔۔اسکی آواز سے جوش اور خوشی چھلک رہی تھی۔ وہ بے اختیار انکے سینے سے لگی تو وہ حیران رہ گے ۔۔
اگر پتا ہوتا کہ ہماری بیٹی ہمیں اتنا یاد کرتی ہے تو ہم پہلے ھی آجاتے۔۔ مصطفی شاہ نے اُس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے پیار دیا
اب اگر اپنے دادا جان سے مل لیا ہو تو ہم سے بھی مل لو۔۔۔ شاہ بی بی نے اپنے اور عاصم شاہ کی طرف اشارہ کیا تو ہنستے ہوئے ان سے ملنے لگی
ماشاءاللہ سے کتنی پیاری ہو۔۔۔۔ اور ہو بھی کیوں نہ ہو میرے راسم کی بیٹی ہو تم۔۔ شاہ بی بی نے محبت سے گلے لگایا
جیتی رہو عاصم شاہ نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا
آپ لوگ اندر آئیں نہ ۔ بلا آخر اسے اندر بلانے کا خیال آہی گیا تھا دریاب نے شکر کا کلمہ ادا کیا
کشن صوفوں کی بجائے زمین پر پڑے اپنی ناقدری کو رو رہے تھے چپس اور بسکٹس کے خالی ریپرجگہ جگہ اُڑتے پھر رہے تھے جوس کے ڈبےڈسٹ بن کے ارد گرد بکھرے پڑے تھے کیوں کے ان لوگوں کے آنے سے پھلے وہ خالی ڈبوں کو دور سے نشانہ لے کر ڈسٹ بن میں پھینکنے کی کوششوں میں تھی اجتجاجی طور ایک بھی ڈبے نے ڈسٹ بن میں جانے سے انکار کر دیا تھا لاونج کی ابتر حالت اور ان لوگوں چہروں پر ہلکی سی مسکان دیکھ کر وہ خجل ہو کر رہ گی
آپ لوگ بیٹھیں میں امی بابا کو کال کرتی ہوں۔ اس نے اپنا موبائل اُٹھاتےہوئے کہا اسکی شرمندگی کی میعاد تھوڑی دیر تک کے لیے ہی ہوتی تھی
ہیلو بابا امی مان گئی یا نہیں ؟ چلیں جتنا مانی ہیں اتنا ہی لے کر آجائیں۔۔ باقی کا پھر منا لیجے گا ۔۔۔آپ کے بہت خاص مہمان آیئں ہیں گھر پے۔۔۔۔۔ آپ دیکھیں گے تو خوش ہو جایئں گے اور ہاں میرے لیے برگر اور شوارمہ لیتے آیئے گا ۔۔۔۔۔ بس جلدی سے آ جائیں۔ اللہ حافظ ۔۔۔ اسنے ایک ہی سانس میں بات ختم کی اور مزید کچھ کہے کال کاٹ دی اور باذل کا نمبر ملایا اتنے میں ملازمہ چائے کے ساتھ دیگر لوازمات لے آئی تھی اس نے ملازمہ کو جانے کا اشارہ کیا
ہیلو!! بازی کہاں ہو جلدی سے گھر آجاؤ۔۔۔۔ میرے پاس تمھارے لیے ایک بہت اچھی خبر ہے۔۔۔۔۔ اس نے پر جوش ہوتے ہوئےکہااور ساتھ ہی فون سپیکر پر ڈال کر سائیڈ پر رکھا اور خود ٹیبل کے پاس بیٹھ کر چانے بنانے لگی اسکا انداز دیکھ کر سب مسکرادیے
اوہ تو تم نے دنیا چھوڑنے کا فیصلہ کر ہی لیا۔۔۔۔ گڈ ۔۔۔ ویری گڈ میں تو کئی دنوں سے کہہ رہا تھا کہ بہت جی لیا تم نے اب مر جاؤ ۔۔۔۔تم ہی نہیں مان رہی تھی ۔۔۔ خیر دیر آئے درست آئے ۔۔۔۔۔ میں تمہارے اس فیصلے کو دل جان کی گہرائیوں سے سراہوں گا ۔۔۔۔ ڈونٹ وری میں تمہیں بہت مس کروں گا ۔۔۔۔۔۔۔ ہر جمعرات کو تمہاری قبر پر فاتحہ پڑھنے بھی آجایاکروں گا ۔۔۔ نیاز بھی بانٹا کروں گا اور کچھ پیسے تمھارے ایصال ثواب کے لیے مسجد اور یتیم خانے بھی دے دیا کروں گا ۔۔۔۔۔۔۔ تم ایسا کرو کہ اپنا فون اور لیپ ٹاپ مجھے ڈونیٹ کر جانا اور جو میری واچز،پرفیومز شرٹس اور باقی چیزٰ چراتی رہی ہو اس کےلیے میں تمھہیں معاف کیا ۔۔۔۔۔۔ جاؤ میری بہن میں نے تمھیں اللہ کی پناہ میں دیا ۔۔۔۔۔ دوسری طرف سے بازل کا شرارت سے بھرپورجواب آیا جس نے امثال کو اچھا خاصا تپایا تھا۔۔
تو ھماری نافرمانی کی صیح سزا ملی ہے تمہیں راسم سائیں، بہت خوب ۔۔۔ پہلے اسکی پٹ پٹ چلتی زبان اور اب بازل کی باتیں سن کر مصطفی شاہ بڑبڑائے تھے
دیکھو بازی میرے منہ مت لگو ورنہ ۔۔۔۔ اس نے غصے کی شدت سے اپنی بات ادھوری چھوڑی ۔اتنے لوگوں کے سامنے اپنی بے عزتی اسکو ہضم نہیں ہو پا رہی تھی
ورنہ ۔۔۔۔ ورنہ کیا کرو گی تم اپنا سر دیوار میں مارو گی یا چھت سے چھلانگ لگا کر خود کشی کر لو گی؟؟ ہک ہا ۔۔۔۔۔ اپنے ایسے نصیب کہاں ۔۔۔۔۔اس نے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے اسے مزید چڑایا تھا
ہاں صیح کہہ رہے ہو واقعی میں کیا کروں گی ۔ میں شہری بھائی کو بلکل بھی نہیں بتاوں گی کہ یہ جو بائیک تم بنوانے کے چکروں میں ہو یہ لڑکوں کے ساتھ ریس لگاتے ہوئے تیز رفتاری کے باعث الٹی تھی ۔۔۔۔۔۔ اور یہ بھی نہیں بتاوں گی کہ پچھلی اسائنمنٹ میں تمھارے زیرو مارکس آئے تھے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ تو بلکل بھی نہیں بتاوں گی کہ تم نے کچھ دن پہلے ایک لڑکی کو چھیڑا تھا ۔۔۔۔ اس وقت وہ اپنے سامنے اتنے سارے لوگوں کی موجودگی کو بھی بھول چکی تھی ۔
ایک منٹ ۔۔ایک منٹ۔۔ میں نے کب کسی لڑکی کو چھیڑا ہے ۔۔۔۔۔۔ خدا کا خوف کرو ژلے ۔۔۔۔۔ اللہ اللہ لڑکی کتنی بڑی جھوٹی ہو تم ۔۔۔۔ دوسری طرف سے بازل تڑپ ہی تو اُٹھا اس الزام پر ۔
ہاں تو یہ میں اور تم جانتے ہیں نہ کہ تم نے نہیں چھیڑا۔۔ شہری بھائی نہیں ۔۔۔۔انکو تو میں بتاؤں گی نہ، اور تمہیں پتا ہے وہ میری بات مانتے بھی ہیں۔ ژلے نے ہنستے ہوئے کہا ۔
اوکےاوکے ۔۔۔۔۔ میری ماں میں آ رہا ہوں۔۔ دوسری طرف سے بازل نے بوکھلاتے ہو ئے اس کی بات کاٹی ۔
ہاں ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔ راستے سے میرے لیے گول گپے لیتے آئیے گا۔ اس نے حکمیہ انداز میں کہا اور کھٹاک سے فون کاٹ دیا ۔۔
امان ٹھیک کہہ رہا تھا یہ دونوں واقعی بندے کو پاگل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔۔۔۔ زریاب نے دریاب کے کان سرگوشی کی
جاری ہے
