Rate this Novel
Episode 10
تھوڑی دیر بعد رمل نے آ کر کھانا لگنے کی اطلاع دی تو وہ اچھلتی کودتی ٹیبل کی طرف بڑھی اس پہلے کہ وہ ٹیبل پر جا کہ بیٹھتی ساریہ بیگم نے اسکا بازو پکڑ کر ایک جھٹکے سے پیچھے کھینچا.
“سنبھالو اسے تم ان دونوں کو ساتھ بٹھاؤ گے کھانےکے دوران انہوں نے اپنے ازلی جنگلی پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اگر میری عزت کا کباڑہ کیاناں تو میں بتا رہی ہوں شہری، میں انکا گلا دبا دوں گی اور تم سلیقے سے کھانا کھاؤ گی اب یہ دوسرا کہاں دفع ہوگیا ہے”انہوں نے بازل کی تلاش میں نظریں دوڑاتے ہوئے امثال کا بازو شہریار کے ہاتھ میں پکڑا کر وارن کیا ۔پیچھے آتے امان اور دریاب نے امثال کو ٹیبل کی طرف بڑھتے دیکھ کر اورساریہ بیگم کی دھمکی سن کر اپنا قہقہ دبایا تھا ۔سب لوگ ٹیبل پر اپنی اپنی جگہ سنبھال چکے تھے ۔ایک کرسی کم پڑ رہی تھی تو بی جان نے فوزیہ تائی سے کہا کہ وہ سٹور سے نکال کر لے آئیں
“ارے کیا ضرورت ہے کرسی لانے کی ۔میں اور ژلے نیچے بیٹھ جاتے ہیں کیوں ژلے ؟”بازل نے کچن کے دروازے کے پاس ڈیرہ لگاتے ہوئے امثال کو اشارہ کیا۔ایک پل کے لیے امثال نے ماں کی طرف دیکھا اور پھر ان کی تنبیہہ کرتی نظروں کو نظر انداز کرتی بازل کے پاس جا بیٹھی۔
“تائی جان آپ کرسی کو رہنے دیں۔ بس کھانا لے آئیں “وہ بازو اوپر کرتے آلتی پالتی مار کے بیٹھ گئی۔جیسے کھانا نہ کھانا ہو بلکہ کہیں حملہ کرنا ہو
“نہیں بیٹا میں لے آتی ہوں نہ”فوزیہ بیگم نے حیرانگی سے ان نمونوں کو دیکھا
“اوہو چھوڑیں بھی ۔ آپ کھانا دے دیں ۔بلکہ رہنے دیں میں خود ہی لے لیتا ہوں”بازل اٹھ کر ٹیبل کی طرف گیا اور پلیٹیں اُٹھائیں۔ چھ روٹیاں اُٹھا کر ٹرے میں رکھیں اور بڑا باؤل لے کر قورمے کا بھر کر سائیڈ میں رکھا اور دو پلیٹوں میں بریانی ڈال کر اس کے اوپر بوٹیوں اور سلاد کا ڈھیر لگا کر دو دو کباب رکھے اور چمچ بھر بھر کر رائتےکےڈالنے لگا
“بیٹا آرام سے۔ نہ تو یہ مال غنیمت ہے اور نہ ہی سیل لگی ہوئی ہے جو اندھا دھند ڈالے جا رہے ہو۔”ساریہ بیگم نے دانت پیستے ہوئے اسے ٹوکا، جس کو اس نے ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا اور جا کر امثال کے پاس بیٹھا
“کھانا تو اچھا بنا ہے”بازل نے چمچ بھر کر منہ میں ڈالا
“ہاں ں ں۔۔ تمہیں پتا ہے میں نے پورے چھ کباب کھائے ہیں” امثال نے بھرے منہ جواب دیا
“ہیں کب؟”بازل نے ہاتھ روک کر حیرانگی سے پوچھا
” جب میں کچن میں آئی تھی تب رمل آپو بنا رہی تھیں۔ فریش فریش کھائے تھے”امثال نے پانی کا گلاس منہ لگاتے ہوئے کہا
” بے وفا لڑکی مجھے نہیں بتا سکتی تھی۔چلو اب یہ والے میرےہوئے”بازل نے اس کی پلیٹ سے دونوں کباب اُٹھائے
“اوئے منحوس آدمی رکھو واپس ۔”امثال ایک دم سے چیخی۔ اسکی چیخ سن کر بی جان دہل کر رہ گئی تھی انہوں نے بے ساختہ ساریہ بیگم کی طرف دیکھا تو وہ سر جھکا گئیں۔ راسم صاحب نے مسکراہٹ چھپانے کے کی خاطر سر جھکا کر کھانا کھانے میں مصروف ہوگے
“بیٹا آرام سے کھاؤ پلیز۔”ساریہ بیگم نے منت آمیز انداز اپنایا۔ بس ہاتھ جوڑنے کی کسر باقی تھی
” بھائی آپ ماما کو دیکھ لیں سکون سے کھانا بھی نہیں کھانے دے رہی ہیں ۔”امثال نے شہریار کو پکارا
“ماما کھانے دیں نہ کیوں ٹوک رہی ہیں۔”شہریار اور ان کی حمایت نہ کرتا ۔ممکن ہی نہیں تھا۔جواب میں ساریہ بیگم کے گھورنے پر نظریں چرا گیا۔
“بازل میں کہہ رہی ہوں واپس کرو ورنہ ۔”بازل کو دھمکایا۔
” نہیں دے رہا “اس نے پلیٹ پیچھے کی۔ اس بات سے بے نیاز کہ سب کھانا چھوڑ کر انہیں ہی دیکھ رہے ہیں، وہ دونوں چھینا جھپٹی میں مصروف تھے ۔ مصطفی شاہ دونوں ہاتھوں کی مٹھی بنا کر ٹھوڑی تلے رکھے انہیں دیکھ رہے تھے ۔بی جان بھی حیرانی سے انہیں دیکھ رہی تھیں کہاں حویلی کی لڑکیوں کو اونچی آواز میں بات کرنے کی اجازت نہیں تھی اور کہاں یہ جب سے ملی تھی طوفان کھڑا کیے ہوئے تھی۔ ساریہ بیگم کا شدت سے جی چاہ رہا تھا کہ وہ اٹھ کر جوتیوں سے انکی طبعیت صاف کر دیں
“کوئی بات نہیں امثال میں اور لا دیتی ہوں ۔”رمل ان کو لڑتے دیکھ کر پچکارا۔
“ہاں ٹھیک ہے ۔اب اگر آپ اتنا اصرار کر رہی ہیں تو لے آئیں مگر چار لائیے گا ۔”امثال نے احسان کرنے والے انداز میں کہا
“شہری۔”ان دونوں پر بس نہ چلا تو ساریہ بیگم شہریار پر چڑھائی کی۔
“بازی۔ژلے ۔سوہنے آرام سے ۔”شہریار کے اتنے پیار سے کہنے پر ساریہ بیگم دانت کچکچا کر رہ گئی۔
” افوہ بھائی بعد میں ۔”امثال نے ہاتھ کے اشارے سے منع کیا۔
“برخودار مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ ان دونوں کی ایسی حالت کےزمہ دار تم ہو۔”مصطفی شاہ نے دونوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شہریار کو کہا تو وہ کھسیا گیا۔
“ویسے تمہیں حیرانگی نہیں ہو رہی ہے شاہ خاندان کا بیٹا اور بیٹی اور حرکتیں ایسی”دریاب امان کی طرف جھکا
“ہاں بلکل میں تو حیران ہوں۔ راسم چاچو بھی خاموشی سے بیٹھے ہیں۔”زریاب نے کہا
” نہیں۔ کیونکہ میں ان دونوں کو پہلے بھی ایسے کھاتا دیکھ چکا ہوں۔اور جہاں تک رہی انکی حرکتیں تو ڈونٹ وری ابھی تو بس شروعات ہے۔ آگے آگے دیکھو کیا ہوتا ہے بہت جلد اس گھر کے افراد پاگل خانے کی شدت سے تمنا کریں گے ۔”امان نے مسکراتےہوئے کہا ۔دریاب اور زریاب مستقبل میں خود پاگل خانے میں اپنے بال نوچتے تصور کر بے اختیار جھرجھری لے کر سیدھے ہوئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” امثال تم لوگ چلو میرے ساتھ ۔”ساریہ بیگم ان دونوں کے سر پہ کھڑی تھیں۔وہ دونوں اس وقت شاہ بی بی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔فوزیہ اور خدیجہ شاہ ایک طرف صوفے پر بیٹھی ہوئی تھیں جبکہ سانیہ ،عائشہ، رامین اور زروا کالج گیئں ہوئیں تھیں ۔ کل جب راسم صاحب نے واپسی کی اجازت چاہی تو بی جان نے دو ٹوک انداز میں کہہ دیا تھا کہ وہ اب کہیں نہیں جائیں گے اور وہ مزید اس پر کوئی بات نہیں کریں گی ۔راسم صاحب نے جب اپنے اور شہریار کے کام اور بچوں کی یونی کے بارے میں بات کی تو انہوں نے کہا کہ بیس منٹ کی مسافت پر شہر ہے تو روزانہ آنے جانے میں کوئی مشکل نہیں ہوگی ۔ان کا حتمی انداز دیکھ کر وہ خاموش ہو گئے،اور ساریہ بیگم سے کہا کہ وہ گھر جا کہ اپنی ضرورت کی چیزیں لے آئیں۔وہ ان دونوں کو ساتھ لے جانا چاہ رہی تھی ،کیونکہ اگر ان دونوں کو اکیلا چھوڑ کر جاتی تو پتا نہیں کونسا طوفان کھڑا کر دیتے
“ماما میں نہیں جا رہی ۔” امثال نے کہا
“میں بھی نہیں جا رہا۔” بازل نے بھی ہاں میں ہاں ملائی
“کیوں نہیں جانا”
“موڈ نہیں یار۔”امثال نے ناک چڑھائی
“کیوں تم لوگوں نے اپنی چیزیں نہیں لینی؟”
“اوہو ماما آپ لے آیئے گا اور ابھی ہماری تین چُھٹیاں رہتی ہیں۔ ہم بعد میں دیکھ لیں گے ۔” بازل نے کہا
“ٹھیک ہےتم دونوں میں سے ایک میرے ساتھ چلے ۔”
وہ انکی جوڑی توڑنا چاہ رہی تھیں۔ شائد اس طرح انکی کچھ تسلی رہتی کہ ایک انکے ساتھ ہے تو دوسرا تھوڑا کنٹرول میں رہے گا
” میں نے نہیں جانا ۔”بازل نے کہا
” میں بھی نہیں جا رہی ۔” امثال نے بھی صاف جواب دیا
“تم لوگ کیوں نہیں مان رہے ہو میری بات ۔”ساریہ بیگم ان کی ایک ہی رٹ سے تنگ آ چکی تھیں
“بہو اگر وہ نہیں جانا چاہتے تو تم کیوں ضد کر رہی ہو؟” پاس بیٹھی ہاجرہ شاہ جو کب سے انکی بحث سن رہیں تھیں بلاآخر بول پڑیں۔
“اماں جان میں جا رہی ہوں تو یہ یہاں اکیلے کیسے رہیں گے۔”
“تمہارا دماغ ٹھکانے پہ ہے؟ اکیلے کہاں ہیں؟اپنے ددھیال میں ہیں۔یہ انکا بھی گھر ہے۔عجیب بہکی بہکی باتیں کر رہی ہو ۔”وہ حیرت اور غصے کی ملی جلی کیفیت سے بولیں
“اماں جان ٹھیک کہہ رہی ہیں غیروں والی باتیں مت کرو۔” خدیجہ بیگم نے بھی ساس کی ہاں میں ہاں ملائی۔۔
” آپ لوگ سمجھ نہیں رہے ہیں ۔”ساریہ بیگم نے بےبسی سے کہا انکی پریشانی بے جا نہ تھی مگر ان لوگوں کو کون بتاتا ؟آخر کون؟
” ٹھیک ہے پھر میں جا رہی ہوں۔ تم لوگ دادی ،آنی اور تائی کو تنگ نہیں کرو گے نہ ہی کوئی شرارت کرو گے ۔” ان کی نصیحت پر دونوں نے فرماں براداری سے سر ہلا دیا ۔وہ گہری سانس لے کر رہ گئیں۔
“جب تم لوگ ایسے فرماںبرداری سے سر ہلاتے ہو نہ ،تو پتا نہیں کیوں مشکوک لگتے ہو۔”وہ بھی ان کی ماں تھی کیسے نہ اپنی اولاد کو جانتیں
” بہنوں کو بھی تنگ نہیں کرو گے ۔کوئی بھی چھیڑ چھاڑ نہیں کرو گے۔اوکے۔”
“اوکے۔” دونوں نے شرافت سے سر ہلا دیا
“میں پھر کہہ رہی ہوں۔ کوئی مستی نہیں ،کوئی بدتمیزی نہیں اور دادی لوگوں کو تنگ نہیں کرو گے۔ میں جلدی واپس آنے کی کوشش کروں گی۔”ساریہ بیگم نے منت کرنے والے انداز میں کہا انکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ ان کے سامنے ہاتھ جوڑ دیتیں
” اف او ماما کیا ہو گیا ہے؟ آپ تو ایسے کہہ رہیں ہیں جیسے دادی اور تائی لوگ کوئی چھوٹے بچے ہیں جن کے ہم فیڈر چھین کہ بھاگ جائیں گے ۔”امثال ان کی ایک ہی بات بار بار دہرانے پر چڑی تو وہ اسے گھور کر رہ گئیں۔
” ساریہ تم جاؤ ہم لوگ ہیں یہاں۔ دیکھ لیں گے ۔تم پریشان مت ہو۔۔”خدیجہ بیگم نے اس کا پریشان چہرہ دیکھتے ہوئے تسلی دی ۔وہ التجائیہ نظروں سے دیکھتی باہر نکل گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بازل دریاب اور امان کے ساتھ ڈیرے کے لیے نکل گیا تھا۔ شہریار ساریہ بیگم کو شہر لے کر گیا ہوا تھا۔لڑکیاں بھی گھر پر نہیں تھیں اس لیے وہ بور ہوتی کچن میں چلی آئی جہاں رمل اور شامین دوپہر کے کھانے کی تیاری کر رہی تھیں
“آپو کیا کر رہی ہیں؟”
“کچھ نہیں گڑیا ۔بس دوپہر کا کھانا بنانےکا سو چ رہے ہیں۔تمہیں کچھ چایئے کیا؟”
” ہاں نہ ۔ بہت بھوک لگ رہی ہے۔ کچھ کھانے کو دے دیں گی ؟” امثال نے معصوم سی شکل بنائی تو وہ دونوں ہنس دیں۔
“کیوں نہیں۔ شامین تم اسکو فریج سے فروٹ چاٹ نکال دو۔”رمل نے شامین سے کہا تو اس نے ایک باؤل میں اسے نکال کر دیا جسے دیکھ کر وہ بے اختیارکھلکھلائی۔اس کی حرکت پر وہ دونوں ایک بار پھر ہنس دیں اور وہ باؤل لے کر باہر نکل گئی
ایسے لہرا کہ تو رو برو آ گئی
دھڑکنیں بے تحاشہ تڑپنے لگیں
وہ فروٹ چاٹ کھانے میں مگن گنگناتی ہوئی ہال میں داخل ہوتے عادل سے جا ٹکرائی۔ وہ آنکھیں پھاڑے کبھی عادل کو دیکھتی جس کی یونیفارم فروٹ چاٹ سے لت پت ہوچکی تھی تو کبھی باؤل کو جو فرش پر خالی پڑا تھا
“او اللہ! یہ لڑکی اب میرے حواسوں پر سوار ہو گئی ہے جو یہاں بھی نظر آ رہی ہے ۔”عادل بڑ بڑایا
“ہائے اللہ میری فروٹ چاٹ”امثال نے رونی صورت بناتے ہوئے بولی۔ عادل جو ابھی سکتے میں تھا اسکی کی دہائی سن کر ہوش میں آیا
” تو یہ وہم نہیں ہے۔ یہ آفت سچ میں میرے سامنے کھڑی ہے ۔یہ یہاں کر کیا رہی ہے ؟ اس نے سوچتے ہوئے اسے دیکھا ۔خدیجہ بیگم اسے بتا چکیں تھیں کہ راسم اور بچے آ چکے ہیں ۔
جس طرح یہ یہاں گھوم رہی ہے کہیں یہ راسم چاچو کی بیٹی ۔اوہ خدا ۔” ۔اس سے آگے وہ سوچنا ہی نہیں چاہتا تھا ۔وہ جھرجھری لے کر رہ گیا۔اچانک اسکی نظر اپنے یونیفارم پہ پڑی ۔ اپنے یونیفارم کا حشر دیکھ کر اسے تپ چڑھی تھی
“تم دیکھ کر نہیں چل سکتی ؟نان سینس یونیفارم کا ستیاناس کر کہ رکھ دیا ہے۔”
“ہاں. مجھےنظر نہیں آتا ۔تمہیں تو آتا ہے نہ ۔تم ہی دیکھ لیتے۔ لے دے کے سارا فروٹ چاٹ گرا دیا ۔ہائے اللہ اب میں کیا کھاؤں گی؟ “کہتے ہوئے وہ واپس اندر کی جانب بڑھی۔۔ دوسرے پورشن پر لگی تصویروں میں وہ عادل کی تصویر دیکھ چکی تھی ۔اور رامین سے پوچھنے پر پتا چلا کہ وہ عاصم تایا کا بیٹا ہے
” ایک منٹ رکو۔ تم یہاں کیا کر رہی ہو۔”عادل نے تصدیق کی خاطر پوچھا ورنہ اسے کافی حد تک اندازہ ہو چکا تھا کہ یہ آفت اس حویلی پر نازل ہوچکی ہے
” اوہ ہاں میں نے اپنا تعارف تو کروایا ہی نہیں
ہائے ایس پی صاحب ۔ میں امثال راسم شاہ ۔ ارے آپ کی نئی دریافت شدہ کزن۔ آپ کی خالہ اور چاچو کی اکلوتی بیٹی ۔ امثال نے اسے مکمل تعارف کروایا۔ اپنے خدشے پر تصدیق کی مہر ثبت ہورے دیکھ کر وہ سکتے میں آیا۔۔
لگتا ہے پہچانا نہیں۔ خیر تم سناؤ کزن کیسے ہو ؟امید ہے مجھے بھولے تو نہیں ہو گے ۔” اس کو شدید شاک زدہ دیکھ کر اس نے مسکراتے ہوئے کہا مگر وہ اس وقت جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں تھا
” لگتا ہے صدمہ کچھ ذیادہ ہی شدید لگا ہے۔چلیں کوئی نہیں پھر کبھی بات کر لیں گے۔اب تو ملاقات ہوتی ہی رہے گی۔” اسے ہکا بکا کھڑا چھوڑ کر وہ یہ جا وہ جا ہوئی
” یا اللہ ۔۔۔ یہ۔۔۔ یہ راسم چاچو کی بیٹی ہے تو اسکا مطلب جو اسکے ساتھ لڑکا تھا، اسکا بھائی وہ بھی انکا بیٹا ہے۔ یہ حویلی بہت جلد پاگل خانے میں بدلنے والی ہے اور سب سے پہلے میں پاگل ہوں گا ۔اوہ خدایا! آپ میرے ساتھ یہ نہیں کر سکتے ۔” وہ آسمان کی طرف دیکھ کر بڑبڑایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” تم اپنے چچا سے اور بچوں سے ملے ہو ۔”کچھ دیر ریسٹ کر کے وہ بی جان کے کمرے میں آیا توانہوں نے پوچھا
” جی بی جان چاچو سے ملا ہوں۔ ساریہ خالہ گھر پر نہیں ہیں تو ان سے نہیں مل سکا۔”
“ہاں وہ سامان لینے گئی ہے۔”
کیسا سامان؟”عادل نے پوچھا
اپنا اور بچوں کا ضرورت کا سامان لینے گی ہے ۔یہ لوگ اب یہیں رہیں گے ۔ بہت رہ لیا شہر میں اب زندگی کے آخری دنوں میں میں اپنے سب بچوں کو اپنی نظروں کے سامنے دیکھنا چاہتی ہوں”بی جان نے بیڈ پر ٹانگیں سیدھی کرتے ہوئے جتنے آرام سے کہا تھا عادل کو اتنی ہی زور کا جھٹکا لگا
“کیا مطلب ؟” اس نے حیرانی سے پوچھا
وہ لوگ یہاں رہیں گے تو وہ دونوں فتنے بھی یہاں رہیں گے اور اس سے اگے سوچنے کی اس کی ہمت بھی نہیں ہوئی تھی۔
” ارے بھئی وہ سب اب حویلی میں ہی رہیں گے ہمارے ساتھ”
“کیوں ؟” عادل نے بے ساختہ پوچھا
“کیا مطلب کیوں ؟ یہ انکا بھی گھر ہے اگر وہ سب نہ ہوا ہوتا تو ہم سب ساتھ ہی رہتے۔” بی جان نے سوچتے ہوئے کہا
“نہیں بی جان وہ لوگ یہاں نہیں رہ سکتے۔”بےاختیار اسکے منہ سے نکلا
“اے ہائےکیا بول رہے ہو ؟کیوں نہیں رہیں گے اور تم کون ہوتے ہو یہ فیصلہ کرنے والے ۔ خیر سے ابھی ہم لوگ سلامت ہیں”بی جان کے گھورنے پر وہ کھسیا گیا۔
” بی جان میں کب کہہ رہا ہوں کہ وہ نہ رہیں مگر وہ جڑواں فتنے یہاں نہیں رہ سکتے” اس نے جلدی سے صفائی دی
وہ کہاں جائیں گے؟
“اگر وہ یہاں رہیں گے تو ہم کہاں جائیں گے ؟”
” لو بھلا ہم نے کہاں جانا ہے؟ اور وہ کیوں نہیں رہیں گے جب راسم اور ساریہ یہاں رہیں گے تو وہ بھی تو ساتھ رہیں گے نہ ۔”
“ٹھیک ہے پھر میں یہاں نہیں رہوں گا۔”عادل نے فیصلہ کن لہجے میں کہا
” باؤلا ہو گیا ہے کیا؟کیا بولے جا رہا ہے ؟”بی جان نے اسے گھورا
” ابھی تک تو نہیں ہوا۔ لیکن اگر یہی صورت حال رہی تو بہت جلد ہو جاؤں گا۔”
” تو کبھی کچھ کہتا ہے تو کبھی کچھ۔ نہ تو مجھے یہ بتا تیری طبعیت تو ٹھیک ہے ؟مجھے لگتا ہے تجھے آرام کی ضرورت ہے۔ نیند تیرے دماغ کو چڑھ گئی ہے۔”بی جان نے سختی سے اسے گھرکا
“بی جان آپ سمجھ نہیں رہیں ہیں ۔ کچھ ہی دنوں میں اس حویلی میں سکون نام کی چیز ڈھونڈھنے سے بھی نہیں ملے گی ۔”اس کے لہجے سے بے بسی چھلک رہی تھی
” میں سب سمجھ رہی ہوں۔ تُو جا ،جا کہ سو جا ۔پھر بات کریں گے اور ہاں باہر جا کہ کسی کے سامنے مت کرنا یہ بات ۔راسم اور ساریہ کیا سوچیں گے۔”بی جان نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تو وہ گہری سانس لے کر رہ گیا۔
” چل بھئ عادل اپنا جگرا بڑا کر”اپنے آپ میں بڑبڑاتا ہوا بی جان کے کمرے سے نکل گیا۔ دروازے کے باہر ہی اسے بازل مل گیا
” ہاے ایس پی صاحب کیسے ہیں؟ میں آپکا کزن بازل شاہ۔ اس دن پولیس سٹیشن میں ہماری ملاقات ہوئی تھی ۔” بازل نے مسکراتے ہوئے کہا۔ آہ کیا یاد دلوا یا تھا بازل نے
” میں ابھی بزی ہوں پھر بات کرتے ہیں۔”وہ بولتا ہوا جلدی سے اسکے پاس سے گزر گیا۔بازل کے ہونٹوں پر جاندار مسکراہٹ آئی
ابھی وہ لاؤنج میں ہی پہنچا تھا کہ امثال سیڑھیاں اترتی دکھائی دی
” اوہ گاڈ ۔۔ناٹ اگین ۔لگتا ہے اللہ جی بڑی محبت ہے آپ کو اس نا چیز سے۔” آسمان کی طرف دیکھ کر بڑبڑایا دل میں جل تو جلال تو کا ورد کرتا اسکے پاس سے گزرنے لگا مگر ہائے یہ قسمت ۔
“ہائے کزن کہاں بھٹکی ہوئی روحوں کی طرح گھوم رہے ہو؟کوئی لفٹ ہی نہیں ۔اب تو خیر سے رشتے داری بھی نکل آئی ہے پھر بھی اجنبیوں کی طرح نگاہیں جھکا ئے پاس سے گزر رہے ہو۔”امثال نے دل جلانے والی مسکراہٹ سے کہا
“ایک تو یہ ان بہن بھائیوں کی تپا دینے والی مسکراہٹ ۔جی چاہتا ہے کہیں نوچ کر پھینک دوں” وہ صرف سوچ کر رہ گیا کہنے کی ہمت نہیں کر سکتا تھا۔فی الحال مصبیت گلے ڈالنے کے موڈ میں نہیں تھا
” نہیں ایکچولی میں ریسٹ کرنے جا رہا ہوں پھر ملتے ہیں ابھی تم جاؤ۔ “وہ زبردستی مسکرایا
“لو جی یہ کیا بات ہوئی جب بھی ملتے ہو جانے کا کہتے ہو ہائے ظالم۔”اس نے ڈرامائی انداز میں آہ بھری
“اس دن پولیس سٹیشن میں بھی جانے کا بول دیا تھا۔” دونوں بہن بھائیوں نےاسکے زخم پھر سے ہرے کر دیے تھے
” نہیں ایسی بات نہیں ہے ۔ہم پھر ملیں گے “اسے کہتا ہوا وہ جلدی جلدی سیڑھیاں چڑھنے لگا
ساڈے حوصلے بلند رکھیں مالکا
دن چنگے ماڑے زندگی اچ آوندے رہندے نہیں
سیڑھیاں چڑھتے عادل کو پیچھے اسے اس کی آواز سنائی دی تھی۔
جاری ہے
