62.1K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

دونوں حویلیوں کے درمیان کی دیوار گرا دی گئی تھی یہ بھی بازل اور امثال ہی کی مرہونِ منت تھی دونوں نے شور مچایا کہ انہیں آنے جانے میں مشکل ہوتی ہے پہلے باہر جاؤ پھر گیٹ سے آؤ اس لیے یہ دیوار گرا دی جائے ۔انکے واویلے کو دیکھتے ہوئے گھر والوں نے انکی بات ماننے میں ہی عافیت جانی . ان دنوں انکی خاصی موجیں لگی ہوئیں تھیں کبھی ایک حویلی تو کبھی دوسری۔ لاڈ تو وہ اٹھوا ہی رہے تھے لیکن انکا فیورٹ کام یعنی بے وقت کی اور ہر طرح کی ڈشز مل رہی تھیں ادھر وہ منہ سے کچھ نکالتے ادھر حاضر ہو جاتا ۔ساریہ بیگم جو پہلے انکے ایک حویلی کے حمایتیوں سے تنگ تھیں اب دوسری حویلی کے لوگوں کا بھی انکا اس طرح سے لاڈ اٹھاتا دیکھ کر جھنجھلا جاتیں۔ اس وقت بھی وہ دونوں کچن میں خدیجہ بیگم اور فہمیدہ بیگم کے سر ہوئے تھے
یار فہمیدہ مامی یہ نانو کہاں ہیں ، صبح سے نظر نہیں آ رہی ہیں۔ امثال نے کباب کا ٹکڑا اٹھاتے ہوئے کہا
بیٹا وہ بڑے کمرے میں بیٹھی ہیں کچھ خواتین آئی ہوئیں ہیں نہ۔ فہمیدہ بیگم نے کباب کڑاہی میں ڈالتے ہوئے جواب دیا
ویسے مامی یہ نانو کی کتنی دیہاڑی لگ جاتی ہو گی ۔ بازل کی بات سن کر فروٹ ٹرائفل بناتی نورین بیگم نے سر اٹھا کر اسے دیکھا
کس بات کی دیہاڑی ۔۔فہمیدہ بیگم نے اچنبھے سے اسے دیکھا تھا
ارے وہی جو انکو نذر و نیاز وغیرہ ملتی ہے ۔ امثال نے کہا تو انکا منہ کھلا ۔خدیجہ بیگم نے ہنستے ہوئے سر جھٹکا
بیٹا ہماری تو کبھی جرات نہیں ہوئی تم لوگ خود جا کر پوچھ لو۔ نورین بیگم نے ہنستے ہوئے کہا۔وہ راشد شاہ کی زبانی انکے کارنامے سن چکی تھی اس لیے دونوں کی بات سن کر انہیں اتنی حیرت نہیں ہوئی تھی جتنی اس وقت فہمیدہ بیگم کو ہوئی تھی ۔وہ ابھی تک انہیں آنکھیں پھاڑے دیکھ رہیں تھیں۔
ہاں یہ صحیح رہے گا چلو بازی۔ امثال نے کہا اور اچھلتے کودتے باہر نکل گئے
بھابھی چلے گئے ہیں وہ۔ خدیجہ بیگم نے فہمیدہ بیگم کو اس پوزیشن میں کھڑے پایا تو ہنستے ہوئے بازو سے پکڑ کر انہیں ہلایا
کیا چیزیں ہیں یہ ۔۔ وہ دوبارہ فرائی پین کی طرف پلٹی جہاں انکے کباب جل چکے تھے
یہ تو کچھ بھی نہیں تھا آگے دیکھیے گا کیا ہوتا ہے ابھی تو یہ جا کہ اماں جان سے یہی سوال پوچھیں گے۔ خدیجہ بیگم کی بات سن کر انہوں نے سلنڈر بند کیا
تم یہ دیکھ لو میں زرا باہر سے ہو کر آتی ہوں کہتی ہوئیں وہ بھی انکے پیچھے نکلیں
وہ دونوں لان میں پہنچے تو دونوں فیملیز اکھٹی بیٹھی تھیں ثریا شاہ بھی آ چکیں تھیں انکے دائیں جانب صدام شاہ بیٹھا تھا اور بائیں جانب کی کرسی خالی تھی جس پر بازل بیٹھ چکا تھا
صدام اٹھو یہاں سے ہمیں نانو سے بات کرنی ہے۔ امثال نے صدام کو بازو سے پکڑ کر اٹھاتے ہوئے کہا
نانو ہمیں نہ آپ سے ایک بات پوچھنی ہے۔ امثال نے کرسی کے پاس رکھی انکی چھڑی پکڑ کر ان سے دور کرتے ہوئے کہا فہمیدہ بیگم بھی انکے پاس آ کھڑی ہوئیں
ہاں پتر پوچھ کیا پوچھنا ہے ۔۔۔امثال نے بازل کی طرف دیکھا تو اس نے اشارہ دیا کہ خود ہی پوچھ لو
آپکی دیہاڑی کتنی ہو جاتی ہے امثال کی بات سن کر انہوں نے ناسمجھی سے اسے دیکھا ۔اسکی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے سامنے چئیر پر بیٹھے راسم صاحب نے اپنی ہنسی چھپانے کے لیے اخبار اٹھا کر اپنے چہرے کے آگے کیا
کس چیز کی دیہاڑی پتر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے وہی جو آپ دم درود کرتی ہیں تو عورتیں آپکو نذر و نیاز تو دیتی ہوں گی۔چڑھاوے بھی چڑھاتی ہوں گی۔ اپ نے ابھی تک بہت کچھ اکھٹا کر لیا ہوگا نہ۔۔ تو ایک دن کی ایوریج کتنی کمائی ہو جاتی ہو گی کچھ اندازہ ہے آپکو ۔ امثال نے سمجھداری سے کہا تو وہاں بیٹھے افراد کی آنکھیں اور منہ کھلے تھے
ہاں نہ نانو بتائیں نہ ۔بلکہ ایسا کریں آپ جب اگلی بار اپنے آستانے پر بیٹھیں گی تو ہمیں ساتھ بٹھا لیجیے گا ہم ساتھ ساتھ آپکے نذرانے سنبھالتے جائیں گے ۔بازل نے کھلے دل سے آفر کی
ہاں بلکل ہم چلے جائیں گے آپکے ساتھ ۔۔مجھے اپنی سیکرٹری رکھ لیجیے گا اور بازی آپکا ملنگ بن جائے گا میں آپکا خزانہ سنبھالتی جاؤں گی اور بازی سبز چولا پہن کر آپکے نام کے نعرے لگاتا جائے گا ۔۔وہ کیا کہتے ہیں ہاں۔۔۔۔۔ حق بی بی ۔۔ہو بی بی ۔ وہاں پر ششدر بیٹھے افراد کی حالت کی پرواہ کیے بغیر وہ ہاتھ نچا نچا کر اپنی پلاننگ بتا رہی تھی جبکہ ثریا شاہ ٹھوڑی پر انگلی رکھے ہکا بکا ان دونوں کو دیکھ رہیں تھیں ۔ ساریہ بیگم دانت پیس کر رہ گئیں ۔اب انکے اتنے سارے حمائتیوں کے بیچ وہ انہیں کچھ کہہ بھی نہیں سکتی تھیں
ژلے مجھے نہیں بننا ملنگ ۔۔ تم خود بن جانا ملنگنی۔ ۔۔ بازل نے منہ بنایا
اوہو بے وقوف آدمی لڑکے زیادہ اچھے لگتے ہیں ملنگ بنے ہوئے اور پھر تم دھمال بھی تو ڈال سکو گے نہ ۔امثال نے اسے پچکارا ۔لان میں ایک دم قہقوں کی گونج سنائی دی تھی
ہاں بھئی یہ خیال ہمیں کیوں نہیں آیا ۔ بتائیں ناں اماں جان ۔ انکے بڑے بیٹے صفدر شاہ نے ہنستے ہوئے کہا
راشد بلکل ٹھیک کہتا ہے پورے فتنے ہو تم دونوں۔ یہ زرا میری چھڑی پکڑاؤ پھر بتاتی ہوں۔ ثریا شاہ نے مصنوعی غصے سے کہا
ارے یار نانو آپکی چھڑی تو میں پہلے ہی دور کر دی تھی اب آپ شرمائیں نہیں۔۔ بتا دیں ۔ہم نہیں حصہ مانگتے۔ امثال کی بات سن کر ساریہ بیگم نے اسے گھورا
ژلے بکواس نہیں کرو
ماما کیا ہو گیا ہے میں صرف انفارمیشن کے لیے پوچھ رہی ہوں اگر تو کمائی اچھی ہو جاتی ہے تومیں اور بازی بھی اپنا دربار کھول لیں گے کیوں بازی اسکی چلتی زبان کو رکتا نہ دیکھ کر ساریہ بیگم نے جوتا اتار کر اسکی طرف پھینکا جو اسکی کمر میں لگا۔انکو فارم میں آتا دیکھ کر بازل جلدی سے کھسک گیا
ہاے اللہ ماما کتنی زور سے مارا ہے ۔ایک بار میری شادی ہو لینے دیں میں اپنے شوہر کو بتاؤں گی ۔امثال نے کمر مسلتے ہوئے کہا
کیا بتاؤ گی ۔ساریہ بیگم نے حیرانی سے کہا
یہی کہ اسکی ساس مجھ پر ظلم کی چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں توڑتی رہی ہیں۔وہ خود ہی آپ سے نمٹ لے گا ۔اسکی بات سن کر ساریہ بیگم نے اپنا دوسرا جوتا بھی اسکی طرف پھینکا جو اسکے سائیڈ پر ہوجانے سے صدام کو لگا تھا
پھپھو غلطی اسکی ہے ۔۔بیٹی وہ آپکی ہے ۔ بیچ میں مجھے کیوں مار رہی ہیں۔ صدام نے اپنا بازو مسلتے ہوئے کہا اسکو وہاں سے بھاگتا دیکھ کر وہ دانت پیس کر رہ گئیں
ساریہ کیا چیزیں پیدا کی ہیں تو نے ۔ ثریا شاہ نے نفی میں سر ہلایا
ویسے بی بی آپ نے بتایا نہیں کتنا کما لیتی ہیں ۔جمال شاہ نے ہنستے ہوئے کہا تو ابکی بار ثریا شاہ بھی ہنسی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سانیہ مہمان کون ہیں ؟؟۔امثال نے روم میں بیٹھی سانیہ سے پوچھا
عاشی آپو کے سسرال والے ہیں سانیہ کی بات سن کر وہ چونکی
شادی کی تاریخ لینے آئے ہیں کیا؟
نہیں ابھی بس نکاح ہو گا رخصتی آپی کے ایگزامز کے بعد سانیہ نے جواب دیا
لڑکا بھی ساتھ آیا ہے کیا ۔اس نے نارمل انداز میں پوچھا تو سانیہ نے اثبات میں سر ہلایا وہ مزید کچھ سنے بغیر باہر نکل گئی۔ہال میں پہنچی تو عادل کواندر آتے دیکھا
سنو مجھے عاشی آپو کے منگیتر کو دیکھنا ہے ۔امثال نے عادل کو کہا
کیوں تمہیں کیوں دیکھنا ہے ۔
بس دیکھنا ہے نہ ۔تم مجھے ملوا سکتے ہو یا نہیں۔ اس نے دوٹوک کہا
ژلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں یا نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر نہیں تو میں خود بیٹھک میں چلی جاتی ہوں۔ امثال نے قدم بڑھائے
رکو میں تمہیں پکچر دکھاتا ہوں وہاں نہیں لے جا سکتا عادل نےاسکا ضدی انداز دیکھتے ہوئے کہا اور ایک تصویر اسے دکھائی جسے نہایت ہی غور سے دیکھتے ہوئے وہ واپس پلٹی ۔
بازی میں تصویر دیکھ کہ آئی ہوں لڑکے کی ۔ شکل و صورت کا تو اچھا بھلا اب آگے اللہ بہتر جانتا ہے ۔ امثال نے اسکے پاس تیسرے پورشن کے چھجے پر بیٹھتے ہوئے کہا آج کل وہ جگہ انکی میٹنگ پوائینٹ تھی
تم یہ بتاؤ کرنا کیا ہے بازل نے پوچھا
پہلے تو اسکے بارے میں تفتیش کرنی ہو گی کہ کیسا بندہ ہے ۔رشتہ ختم کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ بھی تو ہونی چایئے لیکن اسکے بارے میں کون بتائے گا ہمیں۔ کوئی ایسا ابندہ ڈھونڈو جو اس معاملے میں ہماری ہیلپ کرے امثال نے سوچتے ہوئے کہا
صدام شاہ ۔۔۔ہاں ان سے پتہ چل سکتا ہے ۔بازل نے کہا
تو چلو پھر یہاں کیوں بیٹھے ہو۔ امثال نے اسکا ہاتھ پکڑ کراٹھایا ۔اگلے دو منٹ میں وہ صدام شاہ کے پاس بیٹھے تھے
تم لوگ کیوں جاننا چاہتے ہو۔ اسکے بارے میں اسے حیرت ہوئی تھی
اوہو پہلے تم بتاؤ تو سہی۔ امثال نے جھنجھلاتے ہوئے کہا
اسکی ریپوٹیشن تو اچھی نہیں ہے اور نہ ہی اسکا اچھے لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے۔ بہت ہی کوئی مغرور اور ظالم قسم کا انسان ہے ۔ ڈرگز بھی لیتا ہے اور کئی عورتوں سے تعلقات بھی ہیں ۔ صدام شاہ نے کہا تو ان دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا
اوہ تو یہ لوگ عاشی آپو کو دوسری لالی پھپھو بنانے کی تیاری میں ہیں ۔ بازل نے افسوس سے سر ہلایا
تم لوگ کیا کہہ رہے ہو مجھے بتاؤ۔ ہو سکتا ہے میں کچھ ہیلپ کر دوں۔ صدام شاہ نے کہا
جو کچھ ہم کرنا چاہ رہے ہیں اس میں تمہاری ہیلپ کی ضرورت تو پڑے گی ایک دو دن ویٹ کرو میں سب بتاؤں گی چلو بازی امثال نے اٹھتے ہوئے کہا
پھر کیا سوچا ہے۔ امثال کو ادھر سے اُدھر چکر لگاتے دیکھ کر بازل نے پوچھا
کچھ بھی کر کہ یہ رشتہ توڑنا ہے۔ امثال نےاپنا ارادہ ظاہر کیا
اچھا تم ایک کام کرو۔ کچھ بھی کرنے سے پہلے دادو سے بات کرو پھر دیکھتے ہیں ۔کیا کر سکتے ہیں ۔لیکن پلیز جو بھی کرنا ہے جلدی کرو ٹائم نہیں ہے بازل کی بات سن وہ اٹھ گئی
دادو مجھے آپ سے بات کرنی ہے ہاجرہ شاہ کے پاس بیٹھتے ہوئے امثال نے کہا
ہاں پتر بول ۔۔
دادو میں شہریار بھائی کی شادی کرنا چاہتی ہوں
ہاں پتر کیوں نہیں ۔میں نے تو ساریہ سےبھی بات کی تھی کہ اسکے بارے میں بھی کچھ سوچے
پرمیں نے سوچ لیا ہے اور لڑکی بھی پسند کر لی ہے۔ امثال نے کہا
اچھا کون ہے لڑکی ۔۔۔۔
عاشی آپو۔۔۔
کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جانتی ہو کیا کہہ رہی ہو۔۔ بی جان نے حیرانگی سے اسے دیکھا تھا
ہاں اچھےسے جانتی ہوں دادو
پتر اسکی منگنی ہو چکی ہے بی جان نے اپنے تئیں اسے بتایا کہ شائد وہ نہ جانتی ہو
جانتی ہوں دادو منگنی ہوئی ہے نہ۔ شادی تو نہیں اور منگنی تو ٹوٹ بھی سکتی ہے امثال نے بے زاری سے کہا ۔بی جان اسے دیکھ کر رہ گئیں جو انکے سر پر بمب پھوڑ کر خود کتنی پرسکون تھی
پتر ہمارے خاندان میں منگنی نکاح کی حثیت رکھتی ہے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلیلیں مت دیں دادو بس ہاں یا نہ میں جواب دیں ۔امثال نے انکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی انہیں روک دیا
پتر۔۔۔
دادو ہاں یا نہ ۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔ بی جان کی بات سن کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی
ٹھیک ہے اب مجھے سے بھی کوئی توقع مت رکھیے گا۔ کہتی ہوئی باہر نکل گئی ۔وہ ہکا بکا دروازے کو دیکھ رہیں تھی جہاں سے امثال گئی تھی
امثال خدیجہ بیگم کے روم میں داخل ہوئی تو عادل انکے پاس بیٹھا تھا
خالہ مجھے عاشی آپو کا رشتہ چاہئیے۔؟ امثال نے انکے پاس کھڑے ہوتے ہوئے کہا امثال کی بات سن کر جہاں وہ حیران ہوئیں تھی وہیں عادل اٹھ کھڑا ہوا
کیا چاہئیے تمہیں ۔ ؟؟عادل نےاچنھبے سے پوچھا شائد اسے سننے میں غلطی ہوئی تھی
تم نے شائد سنا نہیں میں نے کہا ہے کہ مجھے عاشی آپو کا رشتہ چاہئیے شہری بھائی کے لیے ۔
تم۔۔۔تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے ہوش میں تو ہو ۔؟ جانتی بھی ہو کیا کہہ رہی ہو ۔۔؟ عادل نے سختی سے کہا
میرا دماغ ٹھیک ہےاور میں بلکل ہوش و حواس میں ہوں ۔اس لہجے میں بات مت کرو مجھ سے۔ امثال نے اس سے بھی زیادہ سختی سے کہا
یہ جانتے ہوئے بھی کہ اسکی منگنی ہو چکی ہے۔ نکاح کی ڈیٹ فکس کرنے کا سوچ رہے ہیں ۔ تم یہ بات کر رہی ہو اورپھر کہتی ہو اس لہجےمیں بات نہ کروں ۔اب کی بار عادل نرم پڑا تھا اسکے معاملے میں وہ ایسے ہی نرم پڑ جایا کرتا تھا
ڈیٹ فکس ہورہی ہے۔ نکاح تو نہیں ہوا نہ ۔امثال نے جرح کی
امثال بے وجہ ضد مت کرو۔ اسکا انجام نہیں جانتی تم ۔عادل نے سنجیدگی سے کہا
میں سب جانتی ہوں لیکن میں یہ بھی جانتی ہوں کہ میں یہ شادی نہیں ہونے دوں گی۔
عادل وہ اچھا انسان نہیں ہے تم کیوں نہیں سمجھ رہے اس بات کو
جانتاہوں میں، لیکن یہ رشتہ شاہ بابا کی مرضی سے ہو رہا ہے۔ میں کچھ نہیں کر سکتا ۔عادل کی بات سن کر امثال نے تالی ماری تھی
واہ کیا لوجک ہے ۔۔ بہن ہے وہ تمہاری ۔کل کوکوئی اونچ نیچ ہو گئی تو تکلیف اور زمہ داری تم پرہو گی ۔یہ بات تمہارے یہاں کیوں فٹ نہیں ہو رہی ہے۔ امثال نے اسکی کنپٹی پر انگلی رکھتے ہوئے کہا ۔ خدیجہ بیگم تو خاموشی سے دونوں کی بحث سن رہیں تھیں
میں نے کہا نہ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ جو ہو رہا ہے اسے ہونے دو بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی ۔عادل کی بات سن کر امثال کا دماغ خراب ہوا تھا
صحیح ۔۔۔۔ امثال نے سر ہلایا اور مڑی جب عادل نے اسکو بازو سے پکڑ کر روکا
تم کچھ نہیں کرو گی۔ کچھ بھی نہیں کرو گی امثال ۔عادل نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
میں کروں گی اور کوئی مجھےروک نہیں سکے گا۔ کوئی روک سکتا ہی نہیں ۔۔ امثال نے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور اپنے پیچھے زور سے دروازہ زور سے بند کیا تھا
یہ لڑکی واقعی ہی کسی دن مجھے ہارٹ اٹیک دلوائے گی ۔عادل نے گہری سانس لیتے ہوئے سر جھٹکا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دادو آپی کے نکاح کی ڈیٹ رکھ لی ۔امثال نےسر سری اندازمیں پوچھا
نہیں ابھی نہیں رکھی سوچ رہے ہیں۔ اسی مہینے رکھ لیتے ہیں۔ بی جان نے کہا
نہیں آپ لوگ اسی ہفتے رکھ لیں پلیز نہ اچھی دادو نہیں ہیں ؟۔میں بہت ایکسئاٹیڈ ہوں ہماری چھٹیاں بھی بہت کم رہ گئی ہیں۔ امثال نے کہا تو وہ سوچ میں پڑ گئیں
اچھا چل ٹھیک ہے جیسے تو کہے۔ بی جان نے کہا تو وہ انکے گلے لگی
تھینکیو سو مچ دادو کہتی وہ جس رفتار سے آئی تھی اس سے نکل گئی
اب۔۔۔۔۔۔۔بازل نے اسکی بات سن کر پوچھا
سنا ہے اگر گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو انگلیاں ٹیڑھی کر لو جبکہ میرا ماننا ہے انگلیاں ٹیڑھی بھی کیوں کرنی ڈبے کو ہی درمیان سے کاٹ کر آسانی سے گھی نکال لو
صحیح اور اس سب میں ہیلپ کون کرے گا ۔بازل کے پوچھنے پر امثال کی آنکھیں چمکیں
آف کورس صدام شاہ ۔۔۔
عائشہ کے ساتھ ساتھ امان اور دریاب کے نکاح کی بھی ڈیٹ رکھی جا چکی تھی ۔سب کاموں میں امثال بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی تھی ۔اسکی شاپنگ بھی عروج پر تھی ۔عادل اسکو یوں مصروف دیکھ کر کھٹک سا گیا تھا کوشش کے باوجود بھی وہ کچھ نہیں جان پایا تھا کہ اس کے دماغ میں کیا چل رہا ہے تنگ آ کر وہ صدام شاہ کےپاس کھڑی باتیں کرتی امثال کےپاس پہنچا
مجھے تم سے بات کرنی ہے
ہاں کہو میں سن رہی ہوں۔ امثال نے ہلکی سی مسکراہٹ پاس کرتے ہوئے کہا
نہیں تم ذرا سائیڈ پر آؤ۔ عادل نے کہا تو وہ کندھےاچکاتی اسکے پیچھے چل دی
کیا چل رہا ہے ۔؟ عادل کے پوچھنے پر اس نے ابرو اچکائے
ارے تمہیں نہیں پتہ۔۔۔ گھر میں تین تین شادیوں کی تیاریاں چل رہی ہیں ۔ مہمان فائنل کئیے جا رہے ہیں ۔کھانا ، لان کی سجاوٹ وغیرہ ڈیسائڈ کی جا رہی ہے ۔امثال نے آنکھیں پٹپٹائیں
میں گھر کی بات نہیں کر رہا ۔اسکی بات کر رہاں جو تمہارے یہاں چل رہا ہے ۔ عادل نے اسکی کنپٹی پرانگلی رکھی
کچھ نہیں شاپنگ کوفائنل ٹچ دینے کے بارے میں سوچ رہی ہوں بس میچنگ چوڑیاں رہتی ہیں۔ امثال نےبھولپن سے کہا
ژلے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائے۔۔۔۔ جب تم اس طرح سے نام لیتے ہو تو واری جانے کو دل کرتا ہے۔ امثال نے دل پر ہاتھ رکھا
میں سیرئیس ہوں
ہاں تو میں کب مذاق کر رہی ہوں.؟
اچھا اس دن تو بڑا کہہ رہیں تھیں کہ تم یہ نکاح نہیں ہونے دو گی اور اب یوں تیاریاں کر رہی ہو۔ اتنی جلدی ہار مان لی کیا۔ ؟ عادل نے اسے بولنے پر اکسایا امثال پراسرار سا مسکرائی
وہ تم نے منع کیا تھا نہ کہ میں کچھ بھی الٹا سیدھا نہ کروں تو میں نے تمہاری بات مان لی تم جانتے تو ہو میں کتنی جلدی بات مان جاتی ہوں ۔۔۔۔ خیر میں چلتی ہوں ۔۔صدام ویٹ کر رہا ہے تم نے بات کرنی کوئی تھی نہیں۔ فضول میں وقت ضائع کیا ۔امثال نے منہ بگاڑتے ہوئے کہا
کیوں وہ کیوں ویٹ کر رہا ہے ؟اورمیں نے منع کیا تھا ناں کہ تم اس سے نہیں ملو گی پھر؟
کزن ہے میرا جیسے تم ویسے وہ ۔۔۔ تم سے بھی تو بات کر رہی ہوں نہ ۔۔۔۔۔؟ امثال نے جتاتے ہوئے کہا تو وہ دانت کچکچا کر رہ گیا