Rate this Novel
Episode 18
امثال پتر کیا کر رہی ہو۔ کب سے اس کھٹرپٹر پر لگی ہوئی ہو۔ لان میں بیٹھی بی جان نے لیپ ٹاپ پر لگی امثال کو کہا۔وہ کافی دیر سے لیپ ٹاپ پہ کام کرتی امثال کو دیکھ رہی تھی چونکہ وہ پوری توجہ سے کام کر رہی تھی تو اسکی زبان بند تھی انہیں ۔ اسکی مسلسل چپ سے تنگ آ کر بی جان اسے ٹوکے بغیر نہ رہ سکی
دادو تھوڑا سا رہ گیا ہے ۔بس دس منٹ ۔۔امثال نے سر اٹھائے بغیر کہا
بس کر نہ۔۔۔۔۔۔ بعد میں کر لینا ۔۔
ہاں اب بتائیں کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔ میری جانو بور ہو رہی ہیں ۔امثال نے لیپ ٹاپ آف کرتے ہوئے گال پر ہتھیلی رکھی تو بی جان مسکرا دیں
شاہ بی بی آپکا فون ہے۔ ملازمہ نے فون انہیں پکڑایا
یہ لڑکی کدھر گئی ہے ابھی تو یہیں تھی۔ بی جان نے فون سے فارغ ہوئیں تو امثال کو موجود نہ پا کر کہا
امثال۔۔۔۔امثال کدھر گئی ہو۔ بی جان نے آواز دی
دادو میں یہاں ہوں۔ امثال کی آواز آئی تھی
کدھر ۔۔۔ مجھے نظر کیوں نہیں آ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوہو جانم اوپر دیکھیں نہ درخت پر ۔
امثال اوپر کیا کر رہی ہے پتر۔ گر جائےگی ۔چل نیچے آ ۔۔بی جان نے پریشانی سے کہا
کھ نہیں ہوتا ۔۔۔میں بس یہ امرود توڑ لوں آتی ہوں۔ میں نے کونسا یہیں پہ بستر لگانا ہے۔ امثال نے لاپرواہی سے کہا
نہ پتر تجھے امرود کھانے ہیں تو میں تجھے باغ سے منگوا دیتی ہوں یا پھر کسی ملازم کو کہتی ہوں وہ اتار دے گا ابھی تو تمہاری چوٹ ٹھیک ہوئی ہے پھر لگوا لو گی ۔
ارے آپکو نہیں پتہ نہ مجھے خود اتارنے میں مزہ آتا ہے ۔ ویسے بھی میں اپنی محنت پر یقین رکھتی ہوں ۔امثال کی اپنی ہی منطق ہوتی تھی
امثال میں کہہ رہی ہوں نیچے آؤ تو آؤ۔ بی جان نے سنجیدہ لہجےمیں کہا. دیوار کے اس پار کھڑی ثریا شاہ کی ہاجرہ شاہ کی آواز سن کر آنکھیں نم ہوئیں تھی
امثال تم سن رہی ہو نہ ۔ بی جان نے اسکی طرف سے کوئی جواب نہ پا کر دوبارہ کہا۔
میں کیسے اتروں۔
جیسے چڑھی تھی ۔۔بی جان نے کہا۔
وہ دادو ایک مسئلہ ہو گیا ہے ۔۔
کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یار دادو میں نیچے آنے کا رستہ بھول گئی ہوں مجھے یاد نہیں آ رہا کہ میں کس ٹہنی کے زریعے چڑھی تھی امثال کی آواز آئی
یا میرے خدا۔۔۔۔ کیا کرتی ہو تم امثال۔ اچھا تو رک میں کسی کو بلاتی ہوں ۔ بی جان نے فکرمندی سےکہا
ارے رہنے دیں میں اس دیوار سے اترنے کی کوشش کرتی ہوں ۔امثال نے کہا اور جمپ مار کر دیوار پر جا بیٹھی
لیں جی میں سیف زون میں پہنچ گئی۔ امثال نے دیوار پر پاؤں لٹکا کر بیٹھی
امثال نیچے آؤ لڑکیاں یوں دیواروں پر نہیں چڑتیں۔
نہ دادو یہاں پر بہت مزے کی ہوا لگ رہی ہے۔ میں تو نہیں آ رہی ۔امثال نے نفی میں سر ہلایا
اس سے تو اچھا تھا تم اپنی اس کھٹر پٹر پر لگی رہتی ۔ کم از کم سکون سے تو بیٹھی تھی۔
ہاں تو آپ ہی کو شکایت ہو رہی تھی کہ میں خاموش بیٹھی ہوں۔ چلیں میں آپکو اچھا سا گانا سناتی ہوں۔
میرے محبوب قیامت ہو گی
آج رسوا تیری گلیوں میں محبت ہوگئ
امثال نے گلا پھاڑ کر گانا شروع ہو گی تو بی جان نے اسے گھورا
کیا ہوا نہیں پسند آیا ۔ چلیں کوئی نہیں میں کوئی اور ٹرائی کرتی ہوں اور دوبارہ شروع ہو گی
منگنی تاں نہیؤں ہو گی منگنی تاں نہیؤں ہو گئی
ہتھاں وچ چھلے آ
ہے گا کوئی بوائےفرینڈ یا تسی وی کلے آ
ویسے دادو منگنی سے یاد آیا کہ میری بھی تھوڑی سی منگنی کروا ہی دیں یار۔۔۔۔ میری بھی پرسنل ساس اور نندیں ہو گیں، اپنا منگیتر ہو گا ۔ منگیتر مجھ سے ملنے آیا کرے گا، فون کیا کرے گا۔ ساس اور نندیں میرے لیے گفٹس لایا کریں گی ،کھانے پینے کی اشیا ہوں گی کتنا مزہ آئے گا نہ۔ امثال نے آنکھیں میچں تو بی جان کا منہ کھلا
امثال میں کہتی ہوں منہ بند کر کہ نیچے آ ۔توآج زرا نیچے اتر میں تیری ٹانگیں توڑتی ہوں۔ بی جان نے مصنوعی غصے سے کہا
یار دادو یہ نہ کرنا اگر میری ٹانگیں توڑ دیں گی تو مجھے بیاہنے کون آئے گا لوگ کہیں گے ٹوٹی ٹانگوں والی لڑکی ہمیں نہیں چایئے۔۔ ساری زندگی کنواری بیٹھی آپکے سینے پر ہی مونگ دلنی ہے میں نے اور آپکی چوکھٹ پر ہی مروں گی ۔امثال نے دھائی دی
ہائے ۔اللہ نہ کرے میری بچی۔۔۔۔ مریں تمہارے دشمن ۔اللہ میری عمر بھی تمہیں لگا دے ۔بی جان نے دہل کر کہا
رہنے دیں دادو یہ دعا نہ دیں کیا پتہ آپکا آج آخری دن ہو اور میں ایوں ای ساتھ فری میں ٹنگی جاؤں ۔۔ امثال کی بات سن کر بی جان کا منہ کھلا تھا ۔۔منہ تو دیوار کے پار کھڑی ثریا شاہ ،انکی بہوں اور پوتیوں کا بھی کھلا تھا وہ سب امثال کی آواز سن کر باہر آ گئیں تھی اور دادی پوتی کے مذکرات اور دیوار پر بیٹھی امثال کی بی جان کے سامنے پٹرپٹر چلتی زبان سن رہی تھیں ۔وہ ملازموں کی زبانی اسکے بارے میں سن چکیں تھیں
آ ئےہائے شرم کرو لڑکی کس طرح دادی کے مرنے کی بات کر رہی ہو بی جان نے اسے شرم دلانی چاہی جو کہ ایک ناممکن سی بات تھی
لو جی اس میں شرم کی کیا بات ہے مرنا تو سب کو ہی ھے نہ اور ویسے بھی آپکے بعد میں نہ دادا جانی کی کسی اچھی سی کیوٹ سی لڑکی سے شادی کرواں گی آپ تو بڈھی ہو گئیں ہیں۔
ہاں ہاں میں تو بڈھی ہو گئی ہوں نہ اور تمہارے دادا تو ابھی خیر سے سولہ سال کے لڑکے ہیں۔ بی جان نےجل کر کہا تو امثال ہنسی
اوہ ہ ہ ۔۔۔تو ہاجرہ ڈارلنگ جیلس ہو رہی ہیں دادا جانی کی شادی کی بات سن کر۔ امثال نے لب سکیڑے
میں کیوں جیلس ہونے لگی بی جان نے کہا
ہا دادو آپکو تو انگلش آتی ہے
پتر میں نے بارہ جماعتیں پڑھی ہوئی ہیں بی جان نے کہا توامثال کی انکھیں پھیلی
نہ کریں دادو یار کیوں میرے گھٹنوں کو ہارٹ اٹیک دلوانا ہے۔
لو میں سچ کہہ رہی ہوں اپنے خاندان کی پہلی لڑکی تھی جس نے بارہ جماعیتں پاس کی تھی بی جان نے فخر سے کہا
واہ دادو پھر تو آپ پڑھی لکھی شاہ بی بی ہوئیں نہ۔
اچھا دادو ایک بات تو بتائیں آپ لوگ شاہ ہیں نہ تو پھر آپ لوگوں کو دم وغیرہ نہیں کرتے میرا مطلب ہے کہ تعویزوغیرہ ۔آپ کو پتہ مجھے کتنا شوق ہے دیکھنے کہ جب یہ شاہ لوگ پھونکیں مارتے ہیں ۔ڈراموں میں اکثر دیکھا ہے نہ کہ گھر کی بڑی بی بی لوگوں کے مسئلے سن رہیں ہوتی ہیں ۔امثال نے ٹھوڑی تلے انگلی رکھی
نہ پتر تُو تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے تم شاہ نہیں مراثن ہو۔ بی جان نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا ۔امثال کی بات لمبی ہوتے دیکھ کر بی جان نے ملازمہ کو کرسی لانے کا کہا
بتائیں نہ دادو میں نے تو ایسا کبھی نہیں دیکھا۔ امثال نے اصرار کیا
پتر خاندان کا جو بڑا بیٹا ہوتا ہے وہ گدی سنبھالتا ہے۔ بی جان نے دھیمے لہجے میں کہا تو امثال انکا لہجہ سن کر خاموش ہو گی دیوار کی دوسری طرف کھڑی دونوں کی باتیں سن کر مسکراتی ثریا شاہ کے لب سکڑے تھے اور انکے چہرے پر کئی سالوں کی تھکن اتر آئی تھی
اچھا بتائیں نہ پھر کیا پلان ہے دادا جانی کی شادی کا ۔لڑکی دیکھنا شروع کرتے ہیں۔ آپ مجھے پورے خاندان کا ٹور کروائیں۔ کوئی نہ کوئی لڑکی تو مل ہی جائے گی اور اسی بہانے میں اپنے لیے بھی کوئی لڑکا تاڑ لوں گی ۔ امثال نے بات بدلی اور آخری بات پر شرمانے کی ناکام کوشش کی تھی
پتر جی جو کام نہ آتا ہو اسے کرنے کی کوشش بھی نہیں کرنی چائیے ۔ بی جان نے اسکے شرمانے پر چوٹ کی
اچھا بہت ہوگیا۔ اب نیچے آ جا۔ ویسے بھی بندروں کی طرح اچھلنے کا تیرا آج کا کوٹہ پورا ہوگیا ہے۔
نہ دادو جان میں ایسے ہی نیچے نہیں آوں گی پہلے میری حفاظت کا کوئی معقول بندوبست کیا جائے، کیونکہ آپکی بہو کافی دیر سے مجھے بڑے قاتلانہ انداز میں گھور رہی ہیں۔ مجھے پورا پورا یقین ہے، میں نیچے آؤں گی تو سلامت نہیں رہوں گی امثال نے بی جان کے پیچھے کھڑی کافی دیر سے گھورتی ساریہ بیگم کو دیکھتے ہوئے کہا تو بی جان نے پیچھے مڑ کر دیکھا
اماں جان یہ پہلے ہی بہت بگڑی ہوئی ہے اوپر سے آپ اسکی الٹی سیدھی بکواس سن کر بھی اسکو کچھ نہیں کہتیں۔ باقی لڑکیوں پر بھی تو سختی کرتی ہیں تھوڑی سی اس پر بھی کر لیا کریں ۔ ساریہ بیگم نے خفگی سے کہا
ہا۔۔۔۔۔۔۔ ماما ۔۔۔۔کیسی ماں ہیں آپ اپنی ساس سے کہہ رہی ہیں کہ میری بیٹی پر سختی کریں ۔۔ سچ بتائیں میں آپکی ہی بیٹی ہوں نہ امثال روہانسی ہوئی
سچ بتاؤں پہلے تو مجھے صرف شک تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ مجھے یقین ہوتا جا رہا ہے کہ تم میری بیٹی نہیں ہو۔
تو پھر میں کس کی بیٹی ہوں۔۔کون ہوں میں ۔ کون ہے میری ماں۔ کہاں رہتی ہے بےچاری، دکھوں کی ماری ۔ امثال نے زمانے بھر کا درد اپنے چہرے پر لائی
تم زرا نیچے آؤ پھر بتاتی ہوں۔
ہاجرہ ڈارلنگ میں یہاں بیٹھ کر تھک گئی ہوں نیچے آنا چاہتی ہوں مجھے سیکورٹی فراہم کی جائے ۔امثال نے ماں کے تیور دیکھتے ہوئے کہا
جا ساریہ جا کہ کوئی کام دھندہ کر ۔۔۔ایسا کر ہم دونوں کے لیے کچھ کھانے کو لے آ۔۔ تُو کیا ہم دادی پوتی کی سر پر کھڑی ہے۔ بی جان نے کہا تو ساریہ بیگم پیر پٹختی اندر کی طرف بڑھی
چل آ جا بھیج دیا ہے میں نے اسے۔ بی جان نے کہا تو امثال نے دیوارپر سے چھلانگ لگائی تو دیوار کی دوسری سائیڈ پر کھڑی ثریا شاہ بھی واپس پلٹیں ۔آج کتنے مہینوں بعد انہوں نے اپنی چھوٹی بہن جو کہ انکی دیورانی بھی تھیں کی آواز سنی تھی اور وہ بھی اتنی خوش اور ہشاش بشاس۔ جو انکے بیٹے نے کیا تھا اسکے بعد تو ہاجرہ شاہ حویلی کی ہو کر رہ گئیں تھیں۔ خاندان کی کسی تقریب میں شرکت برائے نام ہی کرتیں تھیں ۔ جب بھی وہ خاندان کی کسی خوشی غمی میں جاتیں ، عورتیں انکی بیٹی کو لے کر باتیں کرتیں تو انہوں نے کہیں آنا جانا ہی چھوڑ دیا تھا ۔
شاہ بی بی آپ پریشان نہ ہو سب ٹھیک ہو جائے گا ۔صدام شاہ نے ثریا شاہ کو کندھوں سے پکڑ کر اندر لے جاتے ہوئے کہا
کب ٹھیک ہو گا صدام ۔ میں تھک گئی ہوں ۔اب نہیں برداشت ہوتا ۔مرنے سے پہلے ایک بار اپنی بہن کو گلے لگانا چاہتی ہوں۔ ثریا شاہ نے تھکے تھکے انداز میں کہا
اللہ نہ کرے شاہ بی بی آپکو کچھ ہو ویسے بھی اس صورت میں آپ نے امثال کا پلان تو سن ہی لیا ہے۔ صدام شاہ نے ہنستے ہوئے کہا تووہ بھی ہنس دیں
کتنی شرارتی ہے نہ یہ لڑکی ۔ ہاجرہ کیسے لاڈاُٹھا رہی تھی اور اٹھائے بھی کیوں ماشاءاللہ سے سوہنی بھی تو بہت ہے ۔حویلی میں رونق لگائے رکھتی ہو گی ۔ ثریا شاہ نے دیوار کی طرف دیکھتے ہوئےمسکرا کر کہا تو صدام شاہ بھی مسکرا دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رمل ،عائشہ کھانا کہاں تک پہنچا ہے مہمان آنے والے ہیں خدیجہ بیگم نے کچن میں آ کر کہا
سالن بن چکا ہے رمل کباب بنا رہی ہے اور میں چاول بنانے لگی ہون آدھے گھنٹے میں ہو جائے گا ۔ عائشہ نے کہا
تم کیا کر رہی ہو ژلے ۔انہوں ژلے کی طرف مڑتے ہوئے کہا جو فرش پر آلتی پالتی مارے بیٹھی زور و شور سے چاول چن رہی تھی
کچھ نہیں ڈی جے خالہ ان لوگوں ہیلپ کر رہی تھی ۔ کب سے کہہ رہیں کہ ہماری ہیلپ کر دو ژلے ہم سے نہیں ہو رہا ھے ۔ بہت سر کھپاتی ہیں تب جا کر کچھ سمجھ آتا ہے انکو ۔ میں نہ ہوتی تو پتہ نہیں انکا کیا ہوتا۔ نہایت ہی کوئی نکمی اور پھوہڑ لڑکیاں ہیں۔ امثال نے چاول چنتے ہوئے مصروف انداز میں کہا تو تینوں نے مسکراہٹ دبائی
ہاں بیٹا میں جانتی ہوں کسی کام کی نہیں ہیں یہ۔ ایک تم ہی تو ہو اس گھر میں سمجھ دار ۔ لوگ مثالیں دیتے ہیں. ماشاءاللہ سے بڑے چرچے ہیں تمہارے ۔دور دورسے لوگ آتے ہیں تمہاری سلیقہ شعاری دیکھنے کچن میں داخل ہوتی ساریہ بیگم نے کہا
یار ماما مجھے نہ آپکی بیٹی بننا ہی نہیں ہے ڈی جے خالہ آپ مجھے آپ اپنی بیٹی بنا لیں ۔ امثال نے خدیجہ بیگم کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے کہا
ہاں کیوں نہیں یہ تو میری خوش قسمتی ہو گی کہ تم میری بیٹی بنو۔ خدیجہ بیگم نے اسے پیار کرتے ہوئے کہا۔
دیکھا ماما۔۔آپکو میری قدر ہی نہیں ہے ۔ انکی بات کا مطلب سمجھے بغیر ہی وہ انکے ساتھ لگی پھولے نہ سما رہی تھی۔ تو وہ چاروں ہنس دیں
کتنی کیوٹ ہو تم ۔عائشہ نے ہنستے ہوئےاسکے گال کھینچے
اور سناؤ فوزیہ کیا چل رہا ہے آجکل ۔فوزیہ بیگم کے بھائی نے پوچھا
کچھ خاص نہیں بھائی صاحب بس وہی روٹین۔ فوزیہ بیگم نے کہا تو انہوں نے سر ہلا دیا
بیٹا آپ کیا کرتی ہیں فوزیہ بیگم نے کے بھائی نے کہا
میں بی بی اے کی سٹوڈنٹ ہوں انکل۔ امثال نے شائستگی کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے نظریں جھکا کر کہا ۔ساریہ بیگم تواس کے انداز پر عش عش کر اٹھی تھی اور دل میں خدا کا شکر ادا کر رہی تھی کہ وہ انسانوں کی بیہیو کر رہی تھی
اچھا ماشاءاللہ اسکے بعد کیا کرنے کا ارادہ ہے ۔۔انہوں نے مسکراتےہوئے پوچھا
بس انکل سٹڈی کمپلیٹ کرنے کے بعد بزنس کی دنیا میں تہلکہ مچانے کا ارادہ ہے۔ امثال نے جوش میں آتے ہوئے کہا
گڑیا وہ تو تم نہ بھی بتاؤ تو ہمیں پتہ ہے تم لوگوں کے بزنس ورلڈ میں قدم رکھتے ہی ایک نہ تھمنے والا طوفان آئے گا۔ ناقابلِ فراموش قسم کے واقعات رونما ہونے شروع ہو جائیں گے ۔ لوگ صدیوں یاد رکھیں گے کہ بزنس کی دنیا میں کوئی آیا تھا ۔دریاب نے ہنستےہوئے کہا
بس کبھی غرور نہیں کیا ۔امثال نے فرضی کالر جھاڑے
کسی جارہی ہے آپکی سٹڈی۔۔۔فوزیہ بیگم کے بھانجے عدنان شاہ نے پوچھا
جی بہت اچھی ۔۔امثال نے مختصر جواب دیا۔ وہ کافی دیر سے اسکی نظریں اپنے اوپر محسوس کر رہی تھی
بزنس لائن میں کس طرف آنے کا ارادہ ہے ۔۔۔
ریسٹورینٹ بزنس ۔۔ا
آپکا انٹرسٹ کس میں ہے ۔عدنان شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا ۔وہ خواہ مخواہ بات لمبی کیے جائے رہا تھا ۔کافی دیر سے تمیز کا مظاہرہ کرتی امثال کے صبر نے جواب دیا
اسلحہ ، ہیومن اور ڈرگز سمگلنگ میں ہے ۔آپکو پتہ ہے مجھے اسلحہ ، منشیات اور لوگوں کو اغواہ کر کے دوسرے ممالک میں سمگل کرنے کا بہت شوق ہے۔شروع میں سمگلنگ تک محدود رہنے کا ارادہ ہے پھر آہستہ آہستہ کاروبار کو فروغ دیتے ہوئے اغواہ برائے تعاوان ،ڈکیتی کی وارداتیں اور بھتہ خوری کو بھی شامل کر لیں گے ۔امثال نے دانت پیسے
ژلےتمہیں شہری بلا رہا ہے اٹھو جاؤ، بھائی کی بات سنو ۔ساریہ بیگم جو سکون سے بیٹھی تھیں امثال کو پٹڑی سے اترتا دیکھ کر اسے وہاں سے اُٹھانا چاہا
نہیں ماما مجھے تو کوئی آواز نہیں آئی۔ امثال نے نفی میں سر ہلایا
یہ لڑکی آج پٹے گی میرے ہاتھوں ۔ساریہ بیگم نے گلاس پٹخا
کیا ہوا خالہ کس کی بات کر رہیں۔ عائشہ نے پوچھا
ایک ہی میری جان کا روگ ۔ساریہ بیگم نے بڑبڑائیں
امثال کی بات کررہی ہیں ۔
اور کون ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں کیا کر دیا ہے اس نے ۔
کرنا کیا ہے مہمانوں کے پاس بیٹھی پٹرپٹر کر رہی ہے ۔۔کیا سوچیں گے بھابھی کے میکے والے کیسی لڑکی ہے۔
اوہو خالہ کچھ نہیں کرتی وہ آپ پریشان نہ ہوں۔آپ بھی تو ہر وقت اسکو ٹوکتی رہتی ہیں ۔
ایک تو مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ ہر بندہ اسکی حمایت میں کیوں کھڑا ہو جاتا ہے ۔وہ پہلے ہی بہت بگڑی ہوئی تھی رہتی کسر یہاں آکر پوری ہو گئی ہے ۔ساریہ بیگم زچ ہوئیں
کیا ہوا خالہ کون بگڑ گیا ہے ۔عادل نے کچن کے دروازے پر کھڑے ہو کر پوچھا
اپنی بیٹی کی بات کر رہی ہوں ۔۔۔ ساریہ بیگم نے کہا تو اس نے زیرو شیپ میں لب سکیڑے
اچھا عائشہ مجھے ایک کپ چائے بنا دو عادل نے کہتے ہوئے باہر نکل گیا اچانک لاؤنج سے امثال کا قہقہ بلند ہوا تو ساریہ بیگم کا پارہ ہائی ہوا
عائشہ بس بہت ہوا اس لڑکی کو بلواؤ وہاں سے ورنہ میں مہمانوں کا لحاظ کیے بغیر جوتیوں سے مارتی ہوئی اٹھا کر لاؤں گی ۔ساریہ بیگم نے کہا تو وہ سر ہلاتے ہوئے باہر نکل گئی
گڑیا یہاں آؤ ۔۔ بات سنو۔ عائشہ نے لاؤنج کے دروازے پر کھڑے ہو کر امثال کو آواز دی تو وہ اٹھ کر باہر آئی
جی آپو کہیں کوئی کام تھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے وہ بات پوری کرتی ساریہ بیگم نے اسے بازو سے پکڑا اور تقریبا کھینچتے ہوئےہوئے لے جا کر سٹڈی میں بیٹھے شہریار کے پاس پٹخا
پکڑو اسے یہ اب یہاں سے ہلنی نہیں چائیے ورنہ میں بتا رہی ہوں شہری بہت بری طرح سے پیش آوں گی۔ ساریہ بیگم نے وارن کیا
کیا ماما اب کیا کر دیا ہے میں نے ۔۔۔۔۔۔۔
چپ ایک دم چپ خبردار ایک لفظ بھی بولی تو کسی کے سامنے تو میری عزت رہنے دیا کرو ساریہ بیگم نے سختی سے کہا توامثال منہ بنا کر رہ گئی ۔پاس بیٹھے امان اور عادل نے مسکراہٹ دبائی
اچھا ماما کچھ نہیں کرے گی آپ جائیں۔ یہ میرے پاس بیٹھی ہے۔
ماما میرا موبائل تو بھجوا دیجیے گا میں یہاں بیٹھے بیٹھے بور ہو جاؤں گی ۔امثال نے کہا ۔ مجال تھی جو کسی بھی بات کی پروا کرتی یا سنجیدہ لیتی وہ اسے گھورتے ہوئے باہر نکل گیئں ۔شہریارچونکہ امان اور زریاب سے کام کے حوالے سے ڈسکس کر رہا تھا تو اس نے اسے ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں سمجھا۔تو وہ وہیں گھٹنوں پر کہنیاں رکھ کر گالوں پر ہتھیلیاں ٹکائے خاموشی سے بیٹھ گئی
یہ لڑکی اس طرح خاموشی سے بیٹھی اور بھی کیوٹ لگتی ہے ۔عادل نے اسے دیکھتے ہوئے سوچا۔ اسی طرح بیٹھے جب اسے آدھا گھنٹہ گزر گیا تو شہریار کی نظر اس پر پڑی تو مسکرا دیا
اچھا زریاب بھائی باقی کا ہم بعد میں کر لیں گے شہریار نے لیپ ٹاپ آف کرتے ہوئے کہا تو اس نے سر ہلا دیا
میرا سوہنا بور ہو رہا ہے ۔۔شہریار نے امثال کی طرف مڑا تو اس نے سر ہلا دیا
شہر چلیں۔۔۔
وہاں جا کر کیا کریں گے ۔۔ امثال نے منہ بنایا
اچھا پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے نہ کچھ نیا کرنا ہے۔ ا
اچھا مثلا، کیا کرنا ہے ۔شہریار نے اسکے انداز پر مسکرایا
کافی دن ہو گئے ہیں بائیک ریس نہیں لگائی ۔۔امثال نے آنکھیں گھمائیں
بلکل بھی نہیں پچھلی دفعہ بھی بازل کو چوٹ لگی تھی۔ شہریار نے کہا تو امثال کا منہ اور آنکھیں کھلیں تھیں
آپ۔۔۔۔آپ کو کیسے پتہ۔ امثال نے حیرانگی سے پوچھا
مجھے سب پتہ ہوتا ہے کہ میرے بگڑے شہزادے کب ، کہاں اور کس سلسلے میں موجود ہیں۔ شہریار نے اسکی پونی اتار کر بال سیٹ کر دوبارہ لگائی
ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھائی آپ ہماری جاسوسی کرتے ہیں ۔۔۔ نظر رکھتے ہیں ہم پر۔۔ امثال نے آنکھیں پھیلاتے ہوئے کہا
بلکل ۔۔ رکھنی پڑتی ہی ورنہ تم لوگ پتہ نہیں کب ،کیا کر جاؤ۔ شہریار نے ہلکی سی مسکراہٹ سے کہا تو وہ ہنس دی
دھیان سے برو، اسکا بھائی پاس بیٹھا ہے لگتا ہے پہلے والی ٹھکائی بھول گئے ہو جو پھر سے پٹنے کی شدید طلب ہو رہی ہے۔ عادل کو امثال کی طرف دیکھتا پا کر امان نے کہا
ویسے تم آج کل کچھ زیادہ ہی نہیں گھر میں پائے جاتے ہو خیر تو ہے ۔امان نے عادل کو کہا تو اس نے اسے گھورا
گھورو مت پہلے تو ممانی کے لاکھ بار کہنے پر آتے تھے اور وہ بھی گھنٹے دو گھنٹے کے لیے اور اب ائے روز ٹپکے ہوتے ہو۔اگر کسی نے پوچھ لیا تو امان نے کہا وہ دونوں چونکہ ہلکی آواز میں بات کر رہے تھے اس لیے سامنے بیٹھے امثال شہریار اور زریاب تک انکی آواز نہیں پہنچ رہی تھی
چلیں پھر ریس نہیں لگانے دینی تو باسکٹ بال کھیلتے ہیں ۔امثال نے بےزاری سے کہا تو وہ دونوں اٹھ گئے
تم بتاؤ عادل آج کل زیادہ تر گھر میں ہی پائے جاتے ہو خیر تو ہے۔ پولیس سٹیشن میں کام نہیں ہوتا کیا ۔ زریاب نے عادل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔ امان نے اسے جتاتی نظروں سے دیکھا تو وہ کھسیا گیا
جاری ہے
