Rate this Novel
Episode 29
عادل کو گئے آج پانچواں دن تھا ۔ اس دوران بہرام نے بھی دوبارہ اسکا راستہ نہیں روکا تھا جس پر امثال نے خدا کا شکر ادا کیا ۔بازل اورفینیج کے بچوں کو تین دن کے لیے گھمانے لے کر گیا ہوا تھا امثال نے ساتھ جانے سے منع کر دیا , اور اب وہ دونوں حویلیوں میں بولائی بولائی پھر رہی تھی ۔اس سے تو اچھا تھا کہ میں بازل کے ساتھ ہی چلی جاتی یہ بات وہ کوئی دس بار سوچ چکی تھی ۔ اب بھی وہ اپنے کمرے میں چکر کاٹ رہی تھی اچانک کسی خیال کے تحت وہ باہر نکلی اور عادل کے کمرے کے باہر جا رکی ادھر ادھر نظر دوڑائی تو سب کو اپنے اپنے کاموں میں مصروف پایا ،آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہو کر اس نے دروازہ اندر سے بند کیا
ہمممم کیا کروں ۔۔انگلی دانتوں تلے دباتے ہوئے اس نے سوچا
ایسا کرتی ہوں اس ایس پی کے کمرے کی تلاشی لیتی ہوں ۔پتہ تو چلے صاحب نے کتنی گرل فرینڈز رکھی ہوئی ہیں
کہاں سے شروع کروں ۔۔۔۔۔۔ الماری سے کرتی ہوں ۔سوچتے ہوئے اس نے الماری کی تلاشی لینی شروع کر دی وہاں سے کچھ نہ پا کر اس نے بیڈ کا دراز کھولا تو اس میں ریوالور پڑا تھا اس کو اٹھا کر الٹ پلٹ کر دیکھا لوڈ کر کے واس کا نشانہ باندھا
کیا کر رہی ہو ژلے اگر گولی چل گئی تو ساری حویلی نے یہاں اکھٹے ہو جانا ہے ۔اس نے جھر جھری لے کر واپس رکھا دوسرا دراز کھولا تو اسکا موبائل پڑا تھا اور ساتھ میں ایک چٹ تھی
میں جانتا تھا تم میری غیر موجودگی میں ضرور آؤ گی موبائل چیک کرنا ہے تو پاسورڈ تمہارا نام ہے…….فقط تمہارا جعلی ایس پی ۔چٹ پڑھ کر اسکے لبوں پر مسکراہٹ بکھری تھی ۔پاسورڈ لگا کر موبائل چیک کرنے لگی کانٹیکٹ لسٹ میں اپنا نمبر “آفت کے نام سے سیو دیکھ کر دانت پیس کر رہ گئی
لسٹ میں کسی بھی لڑکی کا نمبر نہ پاکر وہ گیلری چیک کرنے لگی جو کہ اس کی تصویروں سے بھری پڑی تھی ۔ نکاح کی پکچرز کے علاوہ ساری کی ساری اس کی بے خبری میں لی گئی تھیں کسی میں وہ شہریار کے پاس بیٹھی تھی تو کسی میں وہ بازل کے ساتھ ہنس رہی تھی کہیں اکیلی فٹ بال کھیل رہی تھی تو کہیں بیٹھی پڑھ رہی تھی ۔ایک تصویر میں وہ گال پر ہاتھ رکھے نہایت ہی معصوم صورت بنائے بیٹھی تھی اور تھوڑے ہی فاصلے پر شہریار لیپ ٹاپ پر جھکا کام کر رہا تھا
یہ تو اس دن کی ہے جب فوزیہ تائی کے میکے والے آئے ہوئے تھے ۔توبہ ہے یہ بندہ کتنی مہارت سےکام کرتا ہے مجال ہے جو زرا سا بھی شک ہونےدیا ہو
اوہ گاڈ اسکا مطلب ہمارا نکاح گھر والوں کی نہیں اس جعلی ایس پی کی مرضی سے ہوا ہے ۔۔۔ تبھی اس دن کہہ رہا تھا کہ یہ کھچڑی میری ہی رکھی ہوئی ہے…… تم ایک بار آؤ سہی ۔ بڑبڑاتے ہوئے اس نےموبائل رکھا اور دبے پاؤں کمرے سے نکل گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری بہنا کیا کر رہی ہے عدید نے اسکےپاس چجھے پر بیٹھتے ہوئے کہا
کچھ نہیں عدی ۔۔۔۔۔بور ہو رہی ہوں بازی بھی نہیں ہے ،شہری بھائی کی طبعیت ڈل ہو رہی ہے اور وہ جعلی ایس پی بھی نہیں چلو بندہ اسے ہی چڑا لیتا ہے ۔
کہیں تم اپنے شوہر کو مس تو نہیں کر رہی ۔۔عدید نے اسے چھیڑا تو وہ جھینپی
خبرادر جو اس کے بارے میں کچھ سوچا بھی ۔۔۔ہماری عزت کا سوال ہے ۔عدید نے ڈرامائی انداز میں کہا
اوہ ہیلو بریک پر پاؤں رکھو ۔۔۔۔۔۔۔ اپنی جوش مارتی غیرت کو تھپک کر سلا دو ۔۔شوہر ہے وہ میرا۔۔۔ امثال نے اسے جتایا
اوہ ہ ہ ۔۔۔آئی سی۔ عدید نے ہونٹوں کو سکیڑا
اگر ایسی بات ہے تو میری بھی شادی یا منگنی کروا دو۔۔
کوئی ہے آپکی نظر میں۔۔ امثال اسکی طرف پوری گھومی
نہیں میری نظر میں تو نہیں ہے تم خود ہی دیکھ لو
تو پھر سدرہ آپی کے بارے میں کیا خیال ہے۔ امثال نے رازداری سے کہا
کبھی اس نظر سے دیکھا نہیں ۔۔۔۔۔۔
تو اب دیکھ لیں کونسا وہ کہیں دور بیٹھی ہیں انفکیٹ وہ ابھی ادھر ہی آئی ہوئیں ہیں ۔ وہ دیکھو جا رہی ہیں۔ سدرہ آپی بات سنیں۔ امثال نے عدید کو سجیشن دیتے ہوئے ہال سے نکلتی سدرہ کو آواز دی تو ادھر ادھر دیکھنے لگی
اوپر دیکھیں ۔۔۔۔۔ امثال نے اسکو چاروں طرف دیکھتا پا کر کہا تو اس نے اوپر دیکھا تو امثال اور عدید چجھے پر پاؤں لٹکائے بیٹھے تھے
اوپر کیا کر رہے ہیں آپ لوگ ۔۔۔اس نے حیرانی سے پوچھا امثال کے بارے میں تو جانتی تھی مگر عدید کو یوں اسکے ساتھ دیکھ کر اسے اچنبھا ہوا
لڑکیاں تاڑ رہے ہیں ۔۔امثال کے یوں منہ پھاڑ کر کہنے پر عدید نے اسے کہنی ماری
ہیں ۔۔۔ سدرہ نے نا سمجھی سے اسے دیکھا
کچھ نہیں بس ایسے ہی مزاق کر رہی ہے آپ جائیں ۔عدید نے اسے ٹالا تو وہ انکی طرف دیکھتی چلی گئی
کیا کرتی ہو ژلے ۔۔۔۔۔۔۔۔
چھوڑو تم ۔۔۔چلو گاؤں میں مٹرگشت کر کہ آتے ہیں امثال نے اٹھتے ہوئے اسکا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکول سے اورفینج کے بچوں کی مسلسل شکایات مل رہی تھیں اور جب بچوں سے بات کی جاتی تو وہ کہتے کہ وہاں کے بچے انکا مزاق اڑاتے جس کی وجہ سے وہ بدتمیزی کرتے ہیں اس لیے امثال اور بازل نے فیصلہ کیا کہ وہ ان کے لیے ایک الگ چھوٹے سے سکول کا بندوبست کر لیتے ہیں۔ شہریار اور عدید کی فنانشلی ہیلیپ کرنے کی ہامی بھرنے پر انہوں جگہ کے لیے مصطفی شاہ سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ جگہ دیکھ لیں پےمنٹ وہ کر دیں گے ۔ وہ صبح سے گھر سے نکلی ہوئی تھی کچھ ٹیچرز اور پرنسپل کی ویکنسیزکے لیے انٹرویو لینے کے بعد اس نے شاہ ہاؤس کا چکر لگایا۔ دونوں نے طے کیا کہ عمارت کے بننے تک کرائے پر جگہ لے کر بچوں کی سٹڈی شروع کرواتے ہیں تاکہ انکی تعلیم کا حرج نہ ہو ، کیونکہ بعض بچوں نے سکول جانے سے صاف منع کردیا کہ دوسرے بچوں کے علاوہ کچھ ٹیچرز کا رویہ بھی انکے ساتھ ٹھیک نہیں ۔ وہ لوگ کل ٹرپ سے واپس آ رہے تھے تو انکے آنے سے پہلے امثال نےعمارت کی صفائی کروائی اور فرنیچر کی سیٹینگ کل پر چھوڑ کر کل کے شیڈول کے بارے میں سوچتے ہوئے واپس حویلی جارہی تھی کہ ایک گاڑی اسے کراس کرتے ہوئے سڑک کے درمیان میں رکی تو اسے بھی اچانک بریک لگانا پڑا ۔سامنے والی گاڑی سے بہرام شاہ کو اترتے دیکھ کر اس نے گہری سانس لی اور دروازہ کھول کر باہر نکلی
یہ کونسا طریقہ ہے اگر ایکسیڈینٹ ہوجاتا تو ۔۔۔
میں نے کچھ دن پہلے بات کی تھی تم سے۔ گھر میں بتا چکا ہوں۔ وہ لوگ آنے کے لیے تیار ہیں تم بتاؤ کب آئیں ۔ بہرام نے اسکے لہجے کو نظرانداز کیا
لگتا ہے تمہارے دماغ کا کوئی سکرو ڈھیلا ہو کر گر گیا ہے جو ایسی حرکتیں کر رہے ہو۔۔ میرا نکاح ہوچکا ہے پھر اپنے گھر والوں کو بھیجنے کا مقصد اور تمہارے گھر والوں کے سامنے ہی ہوا تھا اسکے باجود وہ آنے کو تیا ر ہیں آفرین ہے ان پر ۔ امثال نے اسے کڑے تیوروں سے گھورا
تو تم نہیں مانو گی ۔۔چلو طلاق نہ سہی بیوہ تو ہو ہی سکتی ہو۔ویسے بھی لڑکی اگر رخصتی سے پہلے بیوہ ہو جائے تو عدت کی بھی ضرورت نہیں ہوتی
مطلب ۔۔امثال نے آنکھیں پھاڑ یں
اگر میں اسے مار دوں تو۔۔۔۔۔۔اسکی کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی اسکا گریبان امثال کے ہاتھوں میں تھا
اگر ایسا کچھ سوچا بھی نہ تو ساتھ میں اپنے کفن دفن کا بندوبست بھی کر لینا ۔۔۔۔۔۔۔جوان بیٹے کی عبرت ناک موت تمہاری فیملی کے لیے بہت بڑا دھچکا ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انکو کہاں ہوش ہو گا کہ وہ تمہارے کفن دفن کا سامان خریدتے پھریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ حال کروں گی تمہارا کہ تمہاری آنے والی نسلیں بھی ایسا کچھ کرنے سے پہلے سو بار سوچیں گی ۔ اسکا گریبان ایک جھٹکے سے چھوڑتے ہوئے وہ غرائی بہرام لڑکھڑا کر پیچھے ہٹا۔اپنے گاڑدز اور ڈرائیور کی موجودگی میں ایک لڑکی کا یوں اسکا گریبان پکڑنا ،اہانت اور شرمندگی سے بہرام کا چہرہ سرخ ہو گیا
گریبان پر ہاتھ ڈال کر تم نے اچھا نہیں کیا امثال شاہ ۔۔بہرام نے اپنا کالر ٹھیک کرتے ہوئے اسے دھمکی دی
اور میرے شوہر پر بھی غلط نظر ڈال کر تم نے اچھا نہیں کیا بہرام شاہ ۔۔یہ تو کچھ بھی نہیں ہے ۔ابھی تم نے میرا صرف ایک روپ دیکھا ہے دوسرا نہ ہی دیکھو تو تمہارے لیے بہتر ہوگا ۔سرد لہجے میں کہتی ہوئی وہ پلٹی
گاڑی تک پہنچنے سے پہلے ہی اسے فائر کی آواز آئی اسنے مڑ کر دیکھا تو بہرام پسٹل کا رخ اسی کی طرف کیے کھڑا تھا ۔جسے دیکھ کر امثال کے لبوں پر مسکراہٹ پھیلی
اوہ تم مجھے اب اس کھلونے سے ڈراؤ گے۔ امثال نے استہزایہ کہا
تم نے میرے گریبان پر ہاتھ ڈالا ہے ۔کوئی بہرام شاہ کا گریبان پکڑے اور پھر سلامت رہے ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ بہرام نے شدید غصے کی حالت میں کہا
اچھا کیا کرو گے مارو گے مجھے ۔۔۔۔۔۔۔چلو مارو۔ امثال نے اپنے دونوں بازو سینے پر لیپٹتے ہوئے جیسے اسکا مذاق اڑایا
میں گولی چلا دوں گا۔۔۔۔۔۔
تو چلاؤ میں کب منع کر رہی ہوں میں بھی تو دیکھوں بہرام شاہ میں کتنی ہمت ہے۔۔۔ امثال نےاسکی طرف بڑھتے ہوئے کہا
دیکھو میں سچ کہہ رہا ہوں میں واقعی ہی مار دوں گا ۔بہرام اسکو یوں ڈٹ کر کھڑا ہوتے آنکھوں میں آںکھیں ڈال کر چیلنج کرتا دیکھ کر جھنجھلا گیا ۔اسے لگا تھا کہ اسے ڈرائے گا تو وہ اسکی بات مان جائے گی ۔
ایڈیٹ ۔۔۔۔۔۔۔بڑبڑاتی ہوئی وہ مڑ کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھی جب اسے ایک بار پھر فائر کی آوازآئی اور ساتھ میں اسے لگا جیسے گرم گرم سلاخ اسکے بازو میں دھنس گئی ہو اسکے منہ سے بے ساختہ سسکاری نکلی
اگر تم میری نہ ہو سکی تو کسی اور کے قابل بھی نہیں چھوڑوں گا۔ابھی تو صرف ٹریلر دکھایا ہے اچھے سے سوچ لو ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔ ویسے بھی سنا ہے دو حویلیوں کی لاڈلی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تکلیف تمہیں ہوئی تو درد ان دو حویلیوں میں رہنے والے بیس پچیس لوگوں کو ہوگا۔۔۔۔۔ ابھی تو میں نے ا پنے خاندان کی اس دن والی بے عزتی کا بدلہ بھی لینا ہے جو تم نے اور تمہاری فیملی نے اتنے سارے لوگوں کے سامنے کی تھی ۔۔۔۔ پسٹل کی نوک اپنے بازو پر جھکی امثال کی ٹھوڑی کے نیچے رکھ کر اسکا چہرہ اٹھایا تو اس نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا
اگلی بار مہلت نہیں دوں گا۔۔۔۔۔ اسے وارن کرتا ہوا وہ گاڑی میں جا بیٹھا اسکے جانے کے بعد امثال دوبارہ اپنے بازو کی طرف متوجہ ہوئی جہاں سے خون نکل کر اسکی سفید شرٹ کو رنگین کر رہا تھا
الو کا پٹھا سریئیس ہی ہو گیا ۔ مجھے تو لگا تھا ایویں ای بڑھکیں مار رہا ہے
کمینے سے اتنا نہیں ہوا کہ کپڑا ہی باندھ جاتا اب میں خود کیسے باندھوں گی ۔۔ اپنا حجاب اتار کر بازو پر رکھ کر بڑبڑائی ۔کسی نہ کسی طرح وہ دوپٹہ باندھنے میں کامیاب ہو چکی تھی گاڑی میں بیٹھ کر اس نے ریورس کر کہ شہر کی طرف موڑی ۔خون بہہ جانے کی وجہ سے اسے اب چکر آنا شروع ہو چکے تھے شہر میں داخل ہوتے ہی اسے جو پہلا ہوسپیٹل نظر آیا اسنے وہی گاڑی روک دی ۔ڈاکٹر نے آئیں بائیں شائیں کرنی چاہی کہ یہ پولیس کیس ہے مگر سامنے بھی امثال تھی اگلے دو سکینڈ میں وہ چکرا کر ا نیچے گری ۔مجبوراً انہیں اسے ایڈمٹ کرنا پڑا بلٹ نکال کر پٹی وغیرہ کروانے کے بعد ڈاکٹر نے اسے ریسٹ کرنے کا کہا مگر شہریار کا بار بار آتا فون دیکھ کر اس نے نرس کو کچھ پیسے دیے میڈیسن منگوائی اور چپکے سے ہوسپیٹل سے نکلی آئی
حویلی پہنچ کر اس نے اپنے خون آلود کپڑوں کو دیکھتے ہوئے دعا کی کہ ہال میں کوئی نہ مگر ہر دعا قبول نہیں ہوتی ۔ہال میں پہنچی تو تقریباً سبھی بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے ۔کچن سے نکلتی ساریہ بیگم کے ہاتھوں سے چائے کی ٹرے چھوٹی تو سبھی انکی طرف متوجہ ہوئے وہ منہ پر ہاتھ رکھے اندر آتی امثال کو دیکھ رہی تھیں انکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو سبھی شاک رہ گئے
کک ۔۔کیا ہوا امثال ۔۔۔۔ یہ خون کہاں سے آیا۔ ساریہ بیگم لڑکھڑاتی ہوئی اسکے پاس آئی
ژلے کیا ہوا ہے ۔۔۔تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم ٹھیک ہو نہ ۔۔شہریار بے اختیار اسکی طرف بڑھا
ہاں بھائی میں ٹھیک ہوں کچھ نہیں ہوا مجھے ۔امثال نے شہریار کو تسلی دی
تو یہ خون کہاں سے آیا۔۔۔ عدید نے اسکا بازو پکڑ کر اپنی طرف رخ موڑا تو وہ کراہ کر رہ گئ
آرام سے عدید کیا ہو گیا ہے ۔راسم شاہ نے عدید کو ٹوکا
ژلے کیا ہوا دکھاؤ مجھے۔ شہریار نے اسکا بازو پکڑ کرآستین اوپر کی تو بازو پر لگی پٹی جو عدید کے پکڑنے کی وجہ سے سرخ ہوگی تھی دیکھ کر ششدر رہ گیا سب اس کے اردگرد اکھٹے ہو گئے تھے
ژلے بچے بھائی کی جان کیا ہوا ہے۔کچھ بتاؤ بھی ۔۔۔۔ پٹی کیوں بندھی ہوئی ہے اور تمہارے کپڑوں پر خون کس کا ہے ۔
بھائی ریلیکس کچھ نہیں ہوا ۔۔۔۔۔۔آپ یہاں آئیں بیٹھیں ۔ سانی بھائی کے لیے پانی لاؤ امثال نے شہریار کو مضطرب دیکھ کر صوفے پر بٹھایا
ژلے کچھ بتاؤ بھی کیا ہوا ہے جان نکل رہی ہے ہماری۔ عدید نے اسکے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہا
یار عدی کچھ نہیں ہوا ۔۔ بس بازو پر گولی لگی ہے ۔باقی میں ٹھیک ہوں ۔اسکی نارمل انداز میں کئی گئی بات سن کر سب کو دھچکا لگا ۔ عدید کی ماتھے کی رگیں تنی تھی
کیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھوڑو تم۔۔۔۔۔۔ ماما کچھ کھانے کو دے دیں بھوک کی وجہ سے چکر بھی آ رہے ہیں۔۔۔ امثال نے اسے ٹالا
ہاں بہو جا کہ اس کے لیے جوس اور کھانے کو کچھ لے ۔کتنا خون نکل گیا ہے کمزوری کی وجہ سے چکر آ رہے ہوں گے ۔ بی جان ساریہ بیگم کو بھیجا
ژلے میں نے پوچھا ہے کہ کیسے گولی لگی ۔ کس کی اتنی ہمت ہوئی۔۔۔ عدید نے اسے سخت نظروں سے دیکھا
عدی یار لیو اٹ نہ۔۔۔۔۔۔۔ بھائی کو دیکھو وہ کتنے پریشان ہیں ۔شہری بھائی پلیز ۔۔۔ ادھر میری طرف دیکھیں نہ۔۔۔۔ پریشان مت ہوں ۔دیکھیں میں بلکل ٹھیک ہوں امثال نے شہریار کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا
سوہنے اپنی حالت دیکھو ۔۔۔۔۔۔کپڑے خون سے لت پت ہیں ،بازو پر پٹی بندھی ہوئی رنگت پیلی پڑ رہی ہے اور کہتی ہو میں پریشان نہ ہوں۔ پتہ نہیں تمہیں کتنی تکلیف ہوئی ہو گی اور میں یہاں بے خبر آرام سے بیٹھا تھا۔ شہریار نے اسکے ہاتھ پکڑ کر چومے ۔
بہرام تم نے میرے بھائیوں کو پریشان کر کہ اچھا نہیں کیا۔ تمہیں یہ گولی بہت مہنگی پڑے گی ۔امثال نے شہریار اور عدید کی خراب حالت دیکھتے ہوئے سوچا
اچھا بتاؤ کیسے لگی
وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہری بھائی ۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔ہاں دو لوگ تھے شائد کوئی چور تھے۔ پرس چھین کر لے گئے ہیں اور ساتھ میں دھمکی کے طور پر گولی مار دی کہ پولیس کو نہ بتاؤں ۔امثال نے گڑبڑاتے ہوئے بات مکمل کی
اچھا کمال کے چور تھے جو پرس لے گے جس میں صرف دس بیس ہزار ہوں گئے اور تمہارا یہ دو لاکھ کا موبائل چھوڑ گئے عدید نے اسکے ہاتھ سے موبائل پکڑ کر اسکے سامنے کرتے ہوئے طنز کیا
ہاہاہاہا۔۔۔۔۔ میں مذاق کر رہی تھی بس ذرا سا ماحول بنا رہی تھی ۔امثال نے اپنا جھوٹ پکڑے جانے پر بات کو مذاق کا رنگ دیا
چلو اب سیرئیس بتاؤ ۔عدید اسکو بخشنے کے موڈ میں نہیں تھا
وہ واپس آتے ہوئے میں ایک جگہ پر رکی تھی اچانک وہاں فائرنگ شروع ہو گی تو میں بھی اسکی زد میں آگئی بس اتنی سی بات ہے امثال نے کندھے اچکائے
کس جگہ پر ۔۔۔عدید کی نظریں اسے اپنے اندر تک اترتی محسوس ہو رہی تھیں
پتہ نہیں کونسی جگہ تھی میں نے نوٹ نہیں کیا بک شاپ پر گئی تھی شاہ ہاوس کے بچوں کے لیے کچھ بکس لینی تھیں ۔ اب جانے بھی دو نہ تم کیا پولیس والوں کی طرح تفتیش کرنے بیٹھ گئے ہو ۔اسکی جانچتی نظروں سے جھنجھلا کر کہا
تمہیں پتہ ہے تم جھوٹ بول رہی ہو اصل بات کیا ہے اسکا تو میں پتہ لگا ہی لوں گا عدید نے موبائل پر کوئی نمبر ملاتے کہا اور لاونج سے نکل گیا
بھائی آپ دیکھ لیں اسے، میں بلکل سچ کہہ رہی ہوں ۔امثال شہریار کی طرف مڑی
وہ ٹھیک کہہ رہا ہے تم غلط بیانی سے کام لے رہی ہو۔ شہریار کی بات سن کر وہ منہ بنا کر رہ گی
چلو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں شہریار اٹھتے ہوئے بولا
اوہ کم آن بھائی میں چیک اپ کروا کر آئی ہوں ۔میڈیسن بھی لی ہے میں کہیں نہیں جا رہی
پتہ نہیں کس ڈاکٹر کے پاس گئی ہو ٹھیک سے چیک اپ کیا بھی ہے یا نہیں میں کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تم میرے ساتھ چل رہی ہو۔ میں کچھ نہیں سنوں گا۔ اٹھو۔ شہریار نے حکمیہ انداز میں کہا تو مجبوراً اسے اٹھنا پڑا
اچھا ٹھیک ہے لیکن میں وہ نہیں پہنوں گی جو گلے اور بازو میں پلاسٹر پہنتے ہیں امثال نے اٹھتے ہوئے فرمائش کی
اچھا ٹھیک ہے چلو تو سہی ۔
میں بھی چلتی ہوں ۔ساریہ بیگم نے اٹھتے ہوئے کہا
نہیں ماما ہم بس چیک کروا کر آ جائیں گے آپ پریشان نہ ہوں شہریار نے ماں کو تسلی دی
نہیں شہری میں ساتھ جاؤں گی تم چلو بس ۔
جاری ہے
