Rate this Novel
Episode 22
میں بتا رہی ہوں ٹھیک تین گھنٹے بعد آپ لوگ این جی او کے باہر ہوں ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔امثال نے انگلی اٹھا کر وارن کیا۔۔
ہاں بچے آجائیں گے ہم ۔فکر مت کرو ۔شہریار نے کہا
اور تم ایس پی میری بات کان کھول کر سن لو اگر تم سانی اور زری کو نہیں لائے نہ بہت بری طرح سے پیش آؤں گی ۔ ۔وہ پچھلے کئی دنوں سے شاپنگ کا پلان بنا رہے تھے شامین اور عائشہ نے جانے سے منع کر دیا تھا ۔رامین کے ٹیسٹ ہو رہے تھے اس لیے پیچھے وہ تینوں ہی بچی تھیں بازل اور امثال کو ایک این جی او کی میٹگ پر جانا تھا تو انکو تین گھنٹے بعد کا ٹائم دیا تھا اور اپنے کہے کے مطابق ٹھیک تین گھنٹے بعد وہ چاروں این جی او کے گیٹ پر کھڑے تھے تھوڑی دیر بعد وہ دونوں بلڈنگ سےنکلتے دکھائی دیئے ۔ مین گیٹ چونکہ کھلا تھا تو گاڑی میں بیٹھے شہریار لوگوں کو وہ آتے دکھائی دیے رہے تھے۔ بازل نے کوئی بات کی تو امثال نے ہنستے ہوئے اسکے بال کھینچے جس پر بازل نے جوابا اسکو ہلکا سا پش کیا ۔اچانک بازل نے اسکے آگے اپنا پاؤں کیا تو وہ نیچے جا گری ۔بازل بجائے اسکو اٹھانے کے کھڑا ہنسنے لگا
امثال کونیچے گرتا دیکھ کر شہریار بے اختیار گاڑی کا دروازہ کھول کر نکلا تھا
یہ آج نہیں بچتا میرےہاتھوں ۔۔ شہریار بڑبڑایا ۔۔۔۔ تم لوگ یہیں رکو میں انہیں لےکر آتا ہوں ۔شہریارکہتا ہواتیز تیز قدم اٹھاتا انکی طرف چل دیا ۔
شہریار کو آتا دیکھ کر بازل سنجیدہ ہوا اور امثال کو اٹھانے لیے سامنے ہاتھ پھیلایا جسے امثال جھٹک کر پاوں کے درد کی ایکٹنگ کرنے لگی
کیا ہو رہا ہے یہ ۔
بھائی اس نے مجھے اتنی ی ی زور دھکا دیا ہے امثال نے دونوں ہاتھ پھیلائے
بازل تم باز آ جاؤ کسی دن بہت بری طرح پیٹو گے میرے ہاتھوں ۔۔ وارن کر رہا ہوں تمہیں ۔۔شہریار نے امثال کو اٹھاکر اسکے ہاتھوں سے مٹی جھاڑی
بھائی اس نے پہلے میرے بال کھینچے تھے ۔
ہاں تو کیا ہوا ۔۔امثال نے اسے چڑایا ۔ گاڑی میں بیٹھی زروا اور سانیہ بڑے اشتیاق سے انہیں دیکھ رہیں تھیں زروا تو باقاعدہ گاڑی کے دروازے سے چپکی بیٹھی تھی ۔ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے عادل کی بیک ویو مرر سے نظر پڑی تو دونوں کو اتنے شوق سے ان تینوں کی طرف دیکھتا پا کر وہ چونکا ۔انکی آنکھوں میں محرومی دیکھ کر وہ شرمندہ ہو کر رہ گیا اچانک اسے کچھ یاد آیا تو اس نے سانیہ کو مخاطب کیا
سانی تمہارا کالج فنکشن کب ہے
پرسوں ۔۔۔سانیہ نے مختصر جواب دیا
فیس کتنی ہے ۔۔عادل نے پوچھا
دو ہزار ۔۔۔۔۔۔
اچھا کل کالج جاتے ہوئے فیس لیتی جانا اور فنکشن کے لیے شاپنگ بھی کر لینا۔۔عادل نے والٹ سے کارڈ نکالکر سانیہ کی طرف بڑھایا تو سانیہ اور زروا کے منہ کے ساتھ ساتھ آنکھیں بھی کھلیں تھیں
سچی لالہ ۔۔آپ سچ کہہ رہے ہیں۔سانیہ نے خوش ہوتے ہوئے کہا
مچی ۔۔۔۔عادل نے بیک ویو مرر سے اسکا خوشی سے دمکتا چہرہ دیکھا تو اسے ایک بار پھر شرمندگی نے آن گھیرا کتنی چھوٹی چھوٹی خواہشیں تھی اسکی بہنوں کی اور اس نے ہمیشہ ان کی خواہشوں کو رد کیا تھا ۔
عادل تم چلو میں ان دونوں کی گاڑی میں آجاتا ہوں۔ شہریار نے کہا تو عادل نے گاڑی سٹارٹ کی
……………………………………………….
او۔ گاڈ اس گاڑی کو بھی ابھی ہی خراب ہونا تھا امثال بڑبڑائی ۔وہ فاریہ سے مل کر واپس آ رہی تھی کہ راستے میں گاڑی خراب ہو گی
شہری بھائی کہاں ہے آپ ۔۔امثال نے شہریار کو فون کرکہ پوچھا
بیٹا میں تو لاہور آیا ہوا ہوں کیوں خیریت
ہاں خیریت ہی ہے اچھا ٹھیک ہے آپ اپنا کام کریں میں پھر کال کر لوں گی
ہیلو عادل بھائی کہاں ہیں آپ امثال نے عادل کو فون کیا
پولیس سٹیشن ہوں ۔کیوں کیا ہوا ۔ عادل نے پوچھا
اچھا آپ مجھے پک کر لیں گے میری گاڑی خراب ہو گی ہے شہری بھائی لاہور گئے ہوئے ہیں اور عدی کی بھی میٹینگ ہے تو وہ نہیں آ سکتے
ایڈریس سینڈ کرو میں آتا ہوں عادل نے کہا ۔دس منٹ بعد اسے عادل کی جیپ آتی دکھائی دی
بیٹھو ۔عادل فرنٹ ڈور کھولا
ارے واہ کتنی فاسٹ سروس ہے آپکی ۔ ہوم ڈلیوری سروس شروع کیوں نہیں کر دیتے۔ امثال کی بات پر وہ مسکرایا
مائنڈ اٹ محترمہ یہ سروس خاص آپ کے لیے ہے ۔
اگر ایسی بات ہے تو ایک بڑے والا برگر تو بنتا ہے۔ امثال نے معصومیت سے کہا تو اس نے قہقہ لگایا
بڑی تیز ہو فورا اپنے مطلب پر آجاتی ہو ۔
بس کبھی غرور نہیں کیا ۔امثال نے فرضی کالر جھاڑے عادل نے جیپ کیفے کے باہر روکی
تم نے صرف ایک برگر کا کہا تھا ۔عادل نے اسے لمبا چوڑا آرڈر کرتے دیکھ کر کہا
ہاں تو۔۔۔۔۔۔۔ اگر میں کہتی کہ مجھے اتنا کچھ کھانا ہے تو کیا تم کھلاتے ۔۔نہیں نہ ۔۔۔ ویسے بھی تمہیں کیا فرق پڑے گا اچھی بھلی سیلری لیتے ہو اور اسکے علاوہ اوپر کی کمائی بھی تو ہوتی ہو گی تو خاصے پیسے جمع کر لیے ہوں گے۔ امثال ویٹر کو بھیج کر اسکی طرف متوجہ ہوئی
توبہ کر لڑکی ایسے کام کبھی نہیں کیے اللہ معاف ہی رکھے حرام سے ۔ویسے بھی اللہ کا دیا ہوا سب کچھ ہے مجھے کیا ضرورت ہے رشوت لینے کی ۔عادل نے اس گھورا
ہو کہ پولیس والے اور رشوت نہ لو یقین نہیں آتا ۔امثال نے کندھے اچکائے
سچ کہہ رہا ہوں یار کبھی بھی نہیں لی ۔عادل نا جانے کیوں اسے یقین دلانا چاہتا تھا
اچھا اچھا مذاق کر رہی تھی سیریس کیوں ہو رہے ہو
کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں ۔۔صدام شاہ نے انکے پاس آ کر کہا
تم ۔۔۔۔ تم یہاں کیا کر رہے ہو ۔۔عادل نے سنجیدگی سے کہا
وہ مجھے امثال سے بات کرنی ہے صدام شاہ کا اس طرح سے امثال کا نام لینے کا انداز ظاہر کر رہا تھا کہ وہ لوگ پہلے بھی مل چکے ہیں یہ سوچتے ہوئے عادل کی تیوریاں چڑھی
کیوں کیا بات کرنی ہے ۔ عادل نے سرد لہجے میں کہا
ریلیکس عادل بھائی اور آپ کہیں کیا بات کرنی امثال نے پہلے عادل کو اور پھر صدام کو مخاطب کیا
وہ شاہ بابا ملنا چاہتے ہیں تم سے۔
کب۔۔۔۔۔ امثال نے پوچھا
ابھی۔۔۔ وہ باہر گاڑی میں بیٹھے ہیں۔ صدام نے باہر گاڑی کی طرف اشارہ کیا
ٹھیک ہے ۔ امثال نے کہا تو سر ہلاتا باہر نکل گیا
اب بتاؤ گی کیا چل رہا ہے یہ ۔۔۔تم پہلے بھی مل چکی ہو اس سے ۔عادل نے پوچھا تو اس نے اسے بتایا کہ کیسے اس نے لفٹ دی تھی اور اپنی اور جمال شاہ کی باتوں کے بارے میں بھی بتایا
تو تمہیں کیا لگتا ہے سب ٹھیک ہو جائے گا ۔
ہوگا سب ٹھیک ہو گا اور ہونا پڑے گا اتنے سال کافی نہیں ہیں۔ ساری فیملی بکھر کر رہ گئی ہے۔ جمال شاہ دادا جانی کے سگے بھائی ہیں اور ثریا شاہ دادو کی سگی بہن، بیس سال ہو گئے ہیں انہیں ایک دوسرے سے جدا ہوئے ۔۔خون کے رشتے ہیں یار ۔ بے شک وہ ظاہر نہیں کرتے لیکن یاد تو آتے ہیں نہ انہیں اور پھر امان بھائی اور رمل آپو کا ددھیال ہے وہ ۔۔کتنے سارے خون کے رشتے ایک دوسرے سے بچھڑے ہوئے ہیں ۔۔پھپھو کے ساتھ تو جو ہوا وہ گزر گیا وہ تو بدلا نہیں جا سکتا مگر جو ہو رہا ہے اسے تو بدلا جا سکتا ہے نہ امثال نے سنجیدگی سے کہا اتنے میں انہیں جمال شاہ اور صدام شاہ آتے دکھائی دیے تو دونوں اٹھ کھڑے ہوئے
کیسے ہیں۔انکل ۔۔ امثال نے اپنا سر کرتے ہوئے انکے آگےجھکایا
میں ٹھیک ہو ہوں پتر۔ ۔جمال شاہ نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا
کیسے ہیں آپ ۔عادل نے دھیمے لہجے میں کہا
ٹھیک ہوں ۔ جمال شاہ نے گہری سانس لی تو عادل نے نظریں چرائیں
جی انکل آپ کو کیا بات کرنی تھی۔ امثال نے بات شروع کی
وہ پتر تم اس دن کہہ رہی تھی نہ کہ مجھے دونوں بچوں کو لے کر مدعاوا کرنا چایئے اور اپنی غلطی کو سدھارنی چائیے تو میں جاننا چاہتا ہوں کہ تم کس بارے میں بات کر رہی تھی ۔جمال شاہ نے کہا
دیکھیں انکل اگر تو آپ واقعی ہی سب ٹھیک کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے دادا دادی سے معافی لینی ہوگی گو کہ اس سب میں آپکا کوئی قصور نہیں تھا لیکن بعض اوقات اولاد کی ،کی گئی غلطیوں کا خمیازہ والدین کو بھگتنا پڑتا ہے آپ بار بار جائیں جب تک وہ مان نہیں جاتے ۔۔اور سب سے بڑھ کر آپ رمل آپو اور امان لالہ کا حق انکی پراپرٹی انہیں دیں اسکے باوجود کہ انہیں کسی چیز کی کوئی کمی نہیں ہے ،لیکن حق تو حق ہوتا ہے نہ۔ اپ کو یہ کام بہت پہلے کر لینا چایئے تھا امثال نے برگر کا بائٹ لیا
تو کیا وہ لے لیں گے۔ جمال شاہ نے پوچھا
کہا نہ اس سب سے پہلے معافی لیں ۔سب کچھ پہلے جیسا کریں۔دونوں حویلیوں کے درمیان جو دیوار کھڑی ہے اسے گرائیں ۔دونوں فیملیز کو ایک ہی حویلی میں شفٹ کریں ۔ایک ٹیبل پر ناشتہ، لنچ اور ڈنر کریں ۔ ایک لاونج میں بیٹھ کہ مل کر گھر کے اور ایک ہی ڈیرے میں بیٹھ کر گاؤں کے فیصلے کریں ۔یہ سب اس وقت مشکل تھا لیکن اب آسان ہے ۔گھاؤ پرانے ہو چکے ہیں جسم کے ساتھ ساتھ غصہ اور انا بھی کمزور اور بوڑھی ہو چکی ہے ۔غصہ ختم ہو چکا اب تو آس لگائی ہوئی ہے انہوں نے ،کہ کب آپ پہل کرتے ہیں ۔۔ باتوں باتوں میں امثال برگر ختم کر چکی تھی
ہوں ۔۔جمال شاہ نے پرسوچ انداز میں کہا
اپ لوگ بھی کھائیں نہ ۔۔۔یقین کریں میں نے کھانے پینے کے معاملے میں کبھی کسی کو مدعو نہیں کیا۔ آپ دونوں کو کر رہی ہوں فائدہ اٹھائیے امثال نے کوک اٹھا کر پیتے ہوئے کہا
اسکا مطلب ہے ہم لوگ پھر خوش قسمت ٹھہرے ۔صدام شاہ کی بات سن کر امثال ہنسی تھی
آف کورس۔۔۔۔۔
ہم چلتے ہیں پھر ملاقات ہوگی اور اس بار حویلی میں ملیں گے۔ جمال شاہ نے اٹھتے ہوئے کہا
ان شاءاللہ ۔امثال نے مسکرا کر کہا
ویسے مجھے یقین نہیں آ رہا کہ تم اتنی سمجھدار بھی ہو سکتی ہو زرا چٹکی کاٹنا مجھے کہیں میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا ۔ عادل نے اپنا بازو آگے کیا تو امثال نے اسکے بازو پر زور سے چٹکی کاٹی جس پر وہ کراہا
اگر بی جان اور شاہ بابا کو پتہ چلے گا تو ناراض نہیں ہوں گے ۔
میں تو بتاؤں گی نہیں ،تو کون بتائے گا ۔امثال نے ابرو اچکائے
اف کورس میں ۔۔۔عادل نے اپنی طرف اشارہ کیا
تم نہیں بتاؤ گے ۔امثال نے انگلی اٹھا کر کہا
اور کیوں نہیں بتاؤ گا میں ۔عادل نے اسکی انگلی پکڑ کر نیچے کی
ماما کہتی ہیں کہ مجھے کچھ نہیں آتا جاتا اور شہری بھائی پتہ ہے کیا کہتے ہیں۔ امثال میز پر کہنیاں رکھ کر اسکی طرف جھکی
کیا کہتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں ژلے بندہ بہت اچھا پھینٹ لیتی ہے۔ امثال کی بات سن کر عادل کا منہ کھلا
تم ۔۔۔تم مجھ پر ہاتھ اٹھاؤ گی ۔عادل کو صدمہ ہی تو لگا تھا
آف کورس ناٹ ۔۔۔۔۔۔اگر تم حویلی جا کہ نہیں بتاؤ گے ۔امثال نے احسان کرنے والے انداز میں کہا
پتہ نہیں تیرا کیا بنے گا عادل ۔۔۔۔۔ وہ بڑبڑایا تھا
کچھ کہا کیا۔ امثال نے اسے بڑبڑاتے دیکھ کر پوچھا
نہیں۔۔۔ اچھا ایک بات بتاؤ تم اس دن لفٹ دینے کے علاوہ بھی صدام شاہ سے کبھی ملی ہو۔عادل نے سرسری انداز میں کہا
کیوں میں نے کیوں ملنا تھا اس سے۔۔ میرا کونسا مامے کا پتر لگتا ہے وہ ۔امثال نے منہ بگاڑا
اچھی بات ہے ملنا بھی مت۔ عادل نے کہا تو امثال کا ماتھا ٹھنکا
ایک بات تو بتاؤ اس دن تم مجھے عدنان سے ملنے سے منع کر رہے تھے اور آج صدام سے ۔۔ وجہ جان سکتی ہوں ۔
نہیں عادل نے صفا چٹ انکار کیا تو وہ خاموشی سے کھانا کھانے لگی
وہ کیسی ہے ۔۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد امثال نے دوبارہ شروع ہو چکی تھی کہاں وہ خاموش بیٹھنے والوں میں سے تھی
کون ۔۔عادل نے حیرانی سے پوچھا
تمہاری مشعوق ۔۔۔۔۔امثال نے کہتے ہوئے پانی کا گلاس منہ لگایا
لاحولا ولا قوۃ ۔۔ اس نے سر جھٹکا ۔۔۔۔کہاں سے سیکھتی ہو ایسی لینگویج اس دن ٹانکے فٹ کرنے کا کہہ رہی تھی اور آج یہ لفظ۔۔۔۔
یہ خدا کی دین ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔رب کسی کسی پر ہی اپنی مہر کرتا ہے ایس پی صاحب ۔۔۔۔ آپکو کیا پتہ۔۔ امثال نے فخر سے کہا تو وہ اسے گھور کر رہ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا بات ہے شاہ صاحب جب سے باہر سے آئے ہیں کمرے میں بند ہیں آپکی طبعیت ٹھیک ہے ثریا شاہ نےکرسی پر آنکھیں بند کیے بیٹھے جمال شاہ کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا
مجھے کیا ہونا ہے بی بی ۔۔۔۔ مگر آپ کے بیٹے نے اچھا نہیں کیا ہمارے ساتھ جمال شاہ نے آنکھیں کھولیں تھیں
کو ن۔۔۔۔کس کی بات کر رہے ہیں
آپکو پتہ ہے جب اپنے ہی بچے اجنبیوں کی طرح سلام کریں اور لاعلمی سے حال چال پوچھیں تو دل پر کیا گزرتی ہے ۔آج میں امثال اور عادل سے ملا تھا جس طرح وہ اجنبیوں کے جیسے مجھ سے ملے ہیں یقین کرو جیسے کسی نے میرا کلیجہ نوچ لیا ہو ۔۔۔امثال تو چلو نہیں جانتی لیکن عادل توجانتا ہے نہ اور یہ بھی جانتا ہے کہ جو ہوا اس میں ہماری کوئی غلطی نہیں تھی آپکو پتہ ہے وہ مجھے انکل کہہ رہی تھی میری لاڈلی بیٹی کی بیٹی میری نواسی مجھے کسی پرائے کی طرح انکل کہہ رہی تھی آپ اندازہ نہیں لگا سکتی کتنی تکلیف ہوئی ہو گی مجھے ۔ صحیح کہتے ہیں بعض اوقات کسی ایک انسان کی غلطی پورے خاندان کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیتی ہے ۔جمال شاہ نے کھوئے کھوئے انداز میں کہا اس وقت وہ کہیں سے بھی بڑے بڑے فیصلے کرنے والا دبنگ اور طرحدار جمال شاہ نہیں لگ رہا تھا بلکہ ایک مجبور باپ کی طرح بےبس دکھائی دے رہا تھا جسکی دو بیٹیاں انکی آنکھوں کے سامنے ہوتے ہوئے بھی وہ انہیں سینے سے نہیں لگا سکتے تھے اپنے نواسے نواسیوں کو پیار نہیں کر سکتے تھے ۔ثریا شاہ اپنے آنسو پونچھتی اٹھ گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ژلے ۔۔۔۔۔ژلے کہاں ہو یار جلدی آؤ ایک بہت اچھی نیوز ہے۔ بازل نے امثال کو آواز دی
کیا ہو امثال نے سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر پوچھا
دیکھو ہمارا پروجیکٹ اپروو ہوگیا اور نیکسٹ ویک فیشن شو کے لیے بلایا ابھی انکا فون آیا تھا بازل نے کہا تو تقریبا بھاگتے ہوئے سیڑھیاں اترنے لگی اور نیچے سے آتی ہوئی رمل سے جا ٹکرائی ۔رمل ایک جھٹکے سے نیچے گری اور ریلینگ کا کونا اسکے ماتھے پر لگا اسکے تو چودہ طبق روشن ہو گئے تھے وہ وہیں سر پکڑ کر بیٹھ گئی ۔اسکی چیخ سن کر سبھی خواتین اکھٹی ہو گئی تھیں امثال منہ پر ہاتھ رکھے پھٹی آنکھوں سے رمل کو سر پکڑے بیٹھا دیکھ رہی تھی
آئم سوری آپو میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا وہ میں نے دیکھا نہیں تھا آپکو ۔۔رئیلی سوری امثال نے اسکو اٹھانے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا
ژلے تم نے کیوں میری زندگی حرام کی ہوئی ہے چین کیوں نہیں پڑتا تمہیں کسی بھی وقت ۔ساریہ بیگم نے اس کو بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑا
سوری ماما میں نے جان بوجھ کہ نہیں گرایا میں نے دیکھا نہیں تھا امثال منمنائی
بکواس بند کرو ایک تو غلطی کرتی ہو اوپر سے پھر قینچی کی طرح زبان چلتی ہے تمہاری ۔پتہ نہیں کب جان چھوٹے گی تم سے۔ تنگ آ چکی ہوں میں ۔۔ساریہ بیگم نے غصے سے کہتے ہوئے اسے تھپڑ مارا تھا جسکی گونج پوری حویلی نے سنی تھی امثال گال پر ہاتھ رکھے ششدر سی کھڑی ساریہ بیگم کو دیکھ رہی تھی ۔سب لوگ حیران تھے کہ بات اتنی بڑی تو نہیں تھی ۔حیران تو ساریہ بیگم بھی تھیں کہ کیسے انہوں نے ہاتھ اٹھا دیا ۔یہاں آنے کے بعد سے انہیں حویلی کی لڑکیوں کو سنجیدہ اور سلیقہ مند دیکھ کر اپنی بیٹی کی غیر سنجیدگی کچھ زیادہ ہی کھلنے لگی تھی اور اسی فرسٹریشن میں انہوں نے اسے تھپڑ دے مارا تھا سب سے پہلے بازل کو ہوش آیا وہ روتی ہوئی امثال کی طرف بڑھا اور اسے اپنے ساتھ لگایا۔ امثال بازل کو دھکا دیتے ہوئے وہاں سے باہر کی طرف بھاگی
ماما ۔۔۔۔ بازل نے حیرانی سے انہیں دیکھا اور اسکے پیچھے باہر کی طرف بڑھا دیکھا تو وہ حویلی کے پچھلے دروازے کے پاس بیٹھ کر گھٹنوں میں سر دیے رو رہی تھی
ژلے سوری میری وجہ سے ہوا ہے یہ سب نہ میں تمہیں ایسے بلاتا اور یہ سب ہوتا۔ بازل نے اسکے پاس بیٹھتے ہوئے کہا
اچھا میری طرف دیکھو پلیز تم رونا تو بند کرو بازل نے اسکا بازو پکڑ کر ہلایا لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئی تو وہ خاموش ہو کر وہیں بیٹھ گیا
بس کرو نہ ورنہ میں نے بھی شروع ہوجانا ہے ۔ پھر مل کر روئیں گے تمہیں پتہ ہے پھر کیا ہو گا پھر حویلی کی سارے چڑیلیں اور جن اکھٹے ہو جائیں گے کہ اس طرح تو ہم روتے ہیں یہ کون ہیں پھر وہ سوچیں گے کہ ہو سکتا ہے ہماری ہی برادری کے کوئی بچھڑے ہوئے لوگ ہوں ۔۔۔۔۔۔ اچھا میں کچھ کھانے کو لاؤں رو رو کر تمہیں بھوک لگ رہی ہو گی نہ مجھے تو تمہیں روتا دیکھ کر لگ گئی ہے بازل اسکا دھیان بٹانے کی کوشش کر رہا تھا مگر وہ ہنوز روئے جا رہی تھی
ماما نے ژلے کو تھپڑ مارا ہے وہ مسلسل رو رہی ہے مجھ سے نہیں چپ ہو رہی آپ پلیز آجائیں ۔۔جب کافی دیر بعد بھی وہ چپ نہ ہوئی تو بازل نے میسج لکھ کر شہریار اور راسم صاحب کو بھیج دیا ۔عدید اؤٹ اف کنٹری تھا ۔ٹھیک دس منٹ بعد شہریار کی گاڑی حویلی میں داخل ہوئی اور اسکے پیچھے ہی راسم صاحب کی گاڑی تھی
ژلے ژلے بازی کہاں ہو شہریار نے ہال میں داخل ہوتے ہی آوازیں دینا شروع کر دیں تھیں
خالہ کہاں ہے دونوں۔۔۔ انکی طرف سے کوئی جواب نہ پا کر شہریار نے خدیجہ بیگم سے پوچھا
پچھلے دروازے کی طرف۔۔۔۔۔۔ انکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ اس طرف بڑھا اور اسکے پیچھے راسم صاحب بھی وہاں پہنچے تو امثال گھٹنوں میں سر دیے سسکیاں لے رہی تھی اور بازل اسکے پاس بیٹھا تھا
ژلے بھائی کی جان کیا ہوا ادھر میری طرف دیکھو شہریار نے کہا تو اس نے سر اٹھایا اسکی سوجی ہوئیں آنکھیں اور آنسوؤں سے تر چہرہ دیکھ کر شہریار اور راسم صاحب دھک رہ گئے
ژلے بابا کی جان کیا ہو ا۔راسم صاحب نے اسکو ساتھ لگا کر اسکا سر چوما
بابا ۔۔۔۔۔۔ بابا ماما ۔۔۔۔ماما نے اتنی زور سے مارا ھے امثال نے زور و شور سے روتے ہوئے کہا تو انہوں نے ساریہ بیگم کو آواز دی
دماغ خراب ہو گیا ہے کیا ۔۔۔۔کیوں ہاتھ اٹھایا ہے اس پر راسم صاحب غصیلے لہجے میں کہا تو ساریہ بیگم نے انہیں ساری بات بتائی
اچھا کوئی بات نہیں ماما ہیں وہ ۔۔تو ماما تو کبھی کبھی مار لیتی ہیں نہ اس طرح روتے تو نہیں ہیں۔ شہریار اسکے آنسو صاف کیے
میں اس لیے نہیں رو رہی آپکو پتہ پتا ہے ماما نے مجھے کہا ہے کہ پتہ نہیں انکی جان کب چھوٹے گی مجھ سے ۔امثال نے ہتھیلی سے اپنا گال رگڑا تو شہریار اور راسم صاحب سن ہو کر رہ گئے
ماما اگر آپ اتنی ہی تنگ آ گئی ہیں تو بتا دیں میں اسے اپنے ساتھ لے جایا کروں گا لیکن ایسے تو مت کہیں۔ شہریار نے ماں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو اسکی انکھوں میں آنسو دیکھ کر ساریہ بیگم کی آنکھیں پھٹیں تھیں
شہری میں نے غصے میں کہہ دیا تھا میرا وہ مطلب نہیں تھا اور اسے دیکھو کیسے ہچکیاں لے لے کر رو رہی ہے جیسے میں نے تھپڑ نہیں گولی ہی مار دی ہو۔کوئی ایک بھی حرکت ہے اسکی لڑکیوں والی سارا دن جان عذاب کیے رکھتی ہے حویلی کی باقی لڑکیاں بھی تو ہیں وہ تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بسسس اب ایک اور لفظ بھی مت کہیے ۔۔۔ہاں وہ نہیں ہے حویلی کی لڑکیوں جیسی کیوں کہ وہ میری بیٹی ہے ۔آپ جانتی ہی کیا ہیں اپنی بیٹی کے بارے میں ۔۔۔۔۔ باہر نکل کر کسی بھی کچی آبادی والے علاقے میں جا کر پوچھیں وہ بتائیں گے کہ آپکی بیٹی کیا ہے ۔ان لوگوں سے جا کہ پوچھیں جن کے ہاں یہ دونوں بہن بھائی ہر مہینے اپنی پاکٹ منی سے جس کے اتنے زیادہ ہونے پر آپکو ہمیشہ اعتراض رہا ہے راشن پہنچاتے ہیں ۔ان سے پوچھیں جنکے بچوں کی فیس دیتے ہیں یہ جو آپکو شکایت رہتی ہے نہ کہ یہ دونوں آدھی آدھی رات تک انٹرنیٹ پر بیٹھے رہتے ہیں یہ فلموں اور گیموں میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتے بلکل فری لانس ویب سائٹس پر کام کرتے ہیں جسکے پیسوں سے شاہ ہاؤس کے نام سے انہوں نے اورفینج بنایا ہوا ہے ان میں رہنے والے لاوارث بچوں اور بوڑھوں سے جا کر پوچھیں کہ آپکے بچے کیا ہیں ۔ارے آپ کو تو یہ بھی نہیں پتہ ہوگا کہ ابھی حال ہی میں انہوں نے اپنی گاڑی بیچ کر ایک فیملی کی بیٹی رخصت کی ہے ۔ اپکو کچھ نہیں پتا آپ کیسے جان سکتی ہیں آپکو انکے عیب دیکھنے سے فرصت ملے تب آپ کچھ دیکھیں نہ ۔۔میں بتاتا ہوں آپکو میرے بچے اپنے باپ کا فخر اور اپنے بھائیوں کا غرور ہیں ۔آج کے بعد میری بیٹی کا کمپیرزن کسی کے ساتھ مت کیجیے گا کوئی اسکے جیسی ہو ہی نہیں سکتی ۔اور جہاں تک رہی انکی شرارتوں کی بات تو اگر کوئی انکی شکایت لے کر آئے تو اسے ہمارے پاس بھجوا دینا ہم خود دیکھ لیں گے آپ کو آئیندہ انکے کسی بھی معاملے میں بولنے کی ضرورت نہیں ۔راسم صاحب کے انکشافات پر سبھی دنگ تھے ۔ان شرارت کی پوٹلیوں سے کہاں انہوں نے اتنا کچھ ایکسپیکٹ کیا تھا ۔ساریہ بیگم آنکھیں اور منہ کھولے حیرانی سے کھڑی تھیں ۔۔شاک تو شہریار کو بھی لگا تھا ۔اسکے نٹ کھٹ سے بہن بھائی اتنے حساس اور خیال رکھنے والے تھے ۔کہاں اس نے سوچا تھا۔انکے بارے میں سب جاننے کا دعوا کرنے والا شہریار کیسے بے خبر رہ گیا تھا
بابا۔ آپکو کیسے پتہ۔ بازل نے حیرانگی سے پوچھا
باپ ہوں تم لوگوں کا بے خبر نہیں ہوتا۔ تم لوگ کب کہاں جا رہے ہو سب کی خبر ہوتی ہے مجھے ۔راسم صاحب نے جتاتے ہوئے کہا اور امثال کو اٹھا کر اپنے بازو کے حلقے میں لیے سب کو حیران چھوڑ کر حویلی کے اندر چل دیے
