Rate this Novel
Episode 5
کہاں ہو دریاب ؟ وہ یونیورسٹی روڈ سے گزر رہا تھا کہ زریاب کا فون آیا۔
میں شہر آیا ہوا تھا۔ کچھ کام تھا۔۔۔کیوں خیریت۔۔۔۔ دریاب نے پوچھا ۔
ہاں سب ٹھیک ہے ۔ بس کچھ ڈسکس کرنا تھا۔۔۔۔۔۔ تم گھر آجاؤ۔۔۔۔۔۔۔ شام میں ملتے ہیں زریاب نے کہتے ہوئے فون بند کردیا۔
اوکے اللہ حافظ۔ دریاب نے فون رکھتے ہوئے کہا۔ اتنے میں ایک سفید جیپ اُسے کراس کرتے گزری اس جیپ کے پیچھے ہی ایک بائیک تھی جس پر دو لڑکے سوار تھے وہ لڑکے اس جیپ کے برابر ہونے کی مسلسل کوششوں میں تھے کہ اس نے دیکھا کہ جیپ کی سپیڈ کم ہوئی تووہ بائیک سوار اس کے برابر ہو کر اچک اچک کر جیپ کے اندر جھانکنے لگے کہ اچانک جیپ رکی چونکہ جیپ بیچ سڑک کے رکی تھی اور دریاب کی گاڑی عین اس جیپ کے پیچھے آ رہی تھی تو اس کو بھی بریک لگانا پڑا اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ گاڑی سٹارٹ کرتا سامنے والی جیپ سے ایک اٹھارہ سالہ لڑکی نکلی ۔
سفید رنگت تیکھے نین نقش متناسب قد ،لائٹ پنک کلر کی کرتی پر سفید ٹراوزر اور سفید کلر کا ہی حجاب پہنے ایک ہاتھ میں بلیک کلر کے دھاگے سے بنے ڈھیر سارے بینڈز اور دوسرے ہاتھ میں پنک کلر کی چوڑیاں پہنے آنکھوں سے گلاسز اتارتی وہ شاہانہ انداز میں ان کی طرف بڑھی
وہ دونوں لڑکے حیرانگی سے اسے اپنی طرف آتا دیکھ رہے رتھے انہوں نے ھمیشہ لڑکیوں کو ڈر کر بھاگتے دیکھا تھا پہلی لڑکی تھی جہ خود ان کی طرف آ رہی تھی۔۔۔ انکی حیرانی بجا تھی لیکن وہ نہیں جانتے تھے انہیں ابھی مزید ایسا کچھ دیکھنے کو ملے گا جس کو وہ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔
ہاں بھئی کیا مسئلہ ہے کیوں جیپ کے آگے پیچھے بائیک دوڑا رہے ہو۔۔۔۔۔ دیکھو ایسے نہیں کرتے اگر میری جیپ کی سایئڈ لگ جاتی اور گر گرا جاتے تو ایویں خواہ مخواہ میں ہڈیاں تڑوا بیٹھتے ۔۔۔۔۔۔ امثال نےان لڑکوں کے پاس آ کر کہا تو وہ لڑکےآنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگے جبکہ گاڑی میں بیٹھے دریاب اچنبھے سے اسے دیکھا
خیر کوئی بات نہیں آئندہ خیال رکھنا ۔اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور جانے کے لیے مڑی ۔
اے پھلجھڑی نمبر تو دیتی جاؤ تھوڑا سا ٹائم ہمارے ساتھ بھی گزارتی جاؤ یقین کرو بور نہیں ہونے دیں گے ۔۔۔۔۔۔۔ ان میں سے ایک نے خالص لوفرانہ انداز میں کہا
دیکھو بھائی نمبر نہیں دے سکتی وہ کیا ہے نہ بھائیوں نے منع کر رکھا ھے کہ اجنبوں کو نمبر نہیں دیتے ۔ سوری مائنڈ نہ کرنا ۔۔۔آپ کسی اور سے لے لو ۔۔ لیکن آپکو کمپنی ضرور دے سکتی ہوں اور سچی بتاؤں آپ لوگ واقعی بور نہیں ہو گے۔۔۔۔ آجاؤ۔۔۔۔ اس نے بظاہر مسکراکر ادھر اُدھر دیکھتے ہوئےدانت پیس کر کہا۔ تو وہ دونوں کنفیوز ہو گے
ارے آؤ نہ ۔۔۔۔
جیسے وہ دونوں آگے بڑھے اس نے کھینچ ایک ایک تھپڑ دونوں کو لگایا اور پھر دونوں کے سنبھلنے سے پہلے ہی ان پر مکوں اور گھونسوں کی برسات کر دی۔۔۔ سڑک پر ہجوم اکھٹا ھو گیا تھا چونکہ مارنے والی لڑکی تھی اس لیے کسی نے بھی آگے بڑھ کر چھڑوانے کی زحمت نہیں کی تھی اچھا خاصا مارلینے کے بعد وہ گویا ہوئی
ڈاکڑ صدیقی ہڈیوں کا ڈاکٹر ہے انکے پاس جانا اور کہنا امثال نے بھیجا ہے۔ فیفٹی پرسنٹ ڈسکاؤنٹ مل جائے گا آخر کو میری وجہ سے انکو مہینے میں زیادہ نہیں تو چار پانچ کیس تو مل ہی جاتے ہیں۔۔۔یہ کہہ کر وہ گاڑی کی طرف بڑھی جاتے جاتے پلٹی
امثال راسم نام ہے میرا۔۔۔ یاد رکھنا سمجھے ۔ انگلی سے وارن کرتے ہوئے گاڑی بھگا کر لے گئی
پیچھے گاڑی میں دریاب جو ابھی تک منہ کھولے بیٹھا تھا، بے اختیار جھر جھری لے کر سیدھے ہوا ۔۔
کیا لڑکی تھی ۔ زیرلب بڑبڑا کر دریاب نے گاڑی سٹارٹ کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہری بھائی یہ عدی فون کیوں نہیں اُٹھا رہا ہے۔ میں کل سے کر رہی ہوں، اسکا نمبر بند مل رہا ہے۔ پتا نہیں کیا مسئلہ ہے۔ امثال نے شہریار کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا
بزی ہو گا۔ تم پریشان مت ہو، جب فری ہوگا تو کال کر لے گا، شہریار نے اسے کہا ۔اگر جو وہ اسے بتا دیتا کہ وہ دو دن سے پاکستان میں ہے تو عدید کا تو اللہ ہی حافظ تھا ۔یہ سوچ آتے ہی وہ مسکرا دیا
کیا مطلب بزی ہوگا۔ بندہ فون تو آن کر لیتا ہے ۔ پتا نہیں وہ ٹھیک بھی ہوگا یا نہیں ۔امثال نے فکرمندی سے کہا
اوہو گڑیا وہ بلکل ٹھیک ہوگا ۔ ٹینشن کیوں لے رہی ہو۔ دل میں عدید کو کوسا
اچھا یہ بتاؤ کہ سٹڈی کیسئ جا رہی ہے شہریار نے اسکا دھیان بٹانے کو بات بدلتے ہوئے کہا
ایک دم فرسٹ کلاس۔ اپکو پتا ہے اس بار بھی میری اور بازی کی پوزیشن پکی ہے۔ امثال نے کہا
ویری گڈ ۔۔۔۔ چلو سامنے والے پارک چلتے ہیں بازل کو بھی بلا لو ۔ ایسا کرو تم چلو میں زرا ایک کال کر آتا ہوں ۔ شہریار نے کہا تو وہ سر ہلاتے ہوئے چلی گئی ۔اسکے باہر نکلتے ہی اس نے عدید کا نمبر ملایا
یار عدید تمہارا جرمنی والا نمبر بند جا رہا ہے ۔امثال پریشان ہو رہی ہے ۔اسکو کال کر اپنی خیریت بتا دو ورنہ اسکا دھیان تمہاری طرف ہی رہے گا .عدید کو کال کرنے کی تاکید کرتے ہوئے اس نے فون بند کر دیا۔ اور باہر نکل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں بھئ اور سناؤ کیا چل رہا ہے آج کل امان نے کھانا کھاتے ہوئے شہریار سے پوچھا
کچھ خاص نہیں یار بس وہی بزنس کے جھمیلے۔۔۔ تم بتاؤ۔۔۔شہریار نے جواب دیتے ہوئے کہا
کیا بتاؤں یار آج کل اماں میری شادی کے پیچھے پڑی ہوئی ہیں امان کا بےبس انداز دیکھ کر شہریار نے بے ساختہ قہقہ لگایا
آج کل کس پروجیکٹ پر کام کر رہے ہو ۔۔۔۔امان نے پوچھا
کنسٹرکشن پروجیکٹ ہے شاہ انڈسٹری کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہریار کہنے پر امان چونکا تھا پھر زیرلب مسکرا کر دوبارہ گویا ہوا
اچھا ڈیل کس کے ساتھ کی تھی۔۔۔
ذریاب شاہ کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی وہ مزید کچھ کہتا اسکا فون بجنے لگا۔ لٹل ڈول کے نام سے سیو نمبر پر کال آتی دیکھ کر اسکے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ اورچمک قابل دید تھی جو کہ امان کی نظروں سے چُھپی نہ رہ سکی ۔۔۔
ہاں سوہنے کیا ہوا خیریت ۔۔۔۔۔ اسکے لہجے میں محبت تھی
بھائی آپ نہ اس بازل کو دیکھ لیں میں نے اسے کہا ہے کہ مجھے بھوک لگی ہے اور اس نے کچھ بھی کھلانے سے صاف انکار کر دیا ہے ۔۔۔دوسری طرف سے امثال کی خفگی سے بھرپور آواز سنائی دی تو وہ بے اختیار مسکرا دیا
آہ ۔۔۔۔ میرے بچے کو بھوک لگی ہے ۔۔ ۔۔ میں اس وقت ریسٹورینٹ ہوں آپکو ایڈریس سینڈ کرتا ہوں ۔۔ آپ یہیں آجاؤ ۔۔۔ میں انتظار کر رہا ہوں۔۔ ہممم ۔۔ شہریار نے امثال کو کہا۔۔
ہاں ٹھیک ہے بھائی ۔۔۔ پر آپ نہ اس بازل کے کان بھی کھینچے گا اور میں عدی کو بھی بتاؤں گی ۔
ضرور میر بچہ!! اسکو آنے تو دو ۔۔۔۔دونوں بھائی بہن مل کہ پٹائی کریں گے اسکی۔۔ شہریار نے ہنستے ہوئے کہا
ٹھیک ہے بھائی ھم آ رہے ہیں اللہ حافظ اور کال کاٹ دی
ویسے بہن تو میری بھی ہے۔۔۔۔ خیال بھی رکھتا ہوں اسکا۔۔۔۔ لیکن یار تیرے لیول تک نہیں پہنچ سکتا۔۔۔ ان دونوں کا نام سنتے ،بات کرتے تمہارے چہرے پر عجیب سی چمک ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔ ایسا کیوں۔۔۔۔۔۔۔ امان نے مسکراتے ہوئے پوچھا تو شہریار ہنس دیا۔
پتا نہیں یار ایسا کیوں ہے لیکن جب تک دونوں کی صورت نہ دیکھ لوں مجھے چین نہیں آتا ۔۔۔۔۔۔۔ایسا لگتا ہے کہ کچھ مسنگ ہے۔ میری جان ان دونوں میں کہیں اٹکی ہے شائد۔۔ ان دونوں کی ہر بات میرے لیے حرف آخر ہوتی ہے۔ انکی ہر فرمائش سر آنکھوں پر۔جتنا بھی تھکا ہوا ہوں لیکن ان دونوں کی خاص طور پر امثال کی ایک جھلک دیکھ کر میری روح تک کو سکون مل جاتا ہے ۔ ماما کہتی ہیں میں نے ان دونوں کو بگاڑ کہ رکھ دیا ہے اور وہ ایسا کچھ غلط بھی نہیں کہتی ہیں۔ مجھ سے زیادہ تو عدید پاگل ہے ان دونوں اسپیشلی ژلے کو لے کر میں تو پھر بھی کہیں نہ کہیں برداشت کر لیتا ہوں لیکن وہ مرنے مارنے پر اُتر آتا ہے ۔ شہریار نے ہنستے ہوئے آنکھوں میں آئی نمی صاٖ ف کی۔۔ امان اسکی باتیں سن کر حیران تھا کہ کوئی کسی کو اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہے ۔اس وقت وہ کہیں سے بھی ایک سنجیدہ بزنس مین نہیں لگ رہا تھا۔ ابھی وہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ دھڑام سے دو وجود انکے ساتھ والی کرسیوں پہ آکہ گرے۔امان بے اختیار اچھل پڑا۔۔۔۔ جبکہ شہریار کو چونکہ اس سب کی عادت تھی اسلیے اسکے سکون میں زرہ برابر بھی فرق نہیں آیا تھا۔۔۔
اوہ بھائی ۔۔۔ تھک گئ میں تو۔۔۔۔۔ ژلے نے کرسی پر گرتے ہوئے کہا جیسے پہاڑ سر کر کے آئی ہو ۔ شہریار نے گلاس میں پانی ڈال کہ اسکے آگے کیا جو اس نے پکڑ کر لبوں سے لگا لیا۔۔۔
یہ میرا دوست ہے امان اور امان ان دونوں سے ملو یہ میرے ٹوئنز ہیں بازل اور امثال ۔۔۔۔ شہریار نے تعارف کرواتے ہوئے کہا۔
اسلام وعلیکم ۔۔۔ بازل نے ہاتھ ملایا اور ژلے سر کے اشارے سے سلام کیا۔ امان کو ایک بار پھراس لڑکی کو اپنے سامنے پا کر اور شہریار کی بہن ہونے کا سن کر اچھی خاصی حیرانگی ہوئی تھی
چلو گڑیا کھانا آرڈر کرو۔۔۔ شہریار نے امثال سے کہا
جی بھائی اور بازل کو آنکھوں ہی آنکھوں میں کوئی اشارہ کرتے ہوئے ڈیسنٹ طریقے سے آرڈر لکھوانے لگی
گڑیا تم دونوں کا جو جی چاہتا ہے منگواؤ جھجکنے کی ضرورت نہیں ہے امان دوست ہے میرا۔ شہریار نے ژلے کو محتاط انداز میں آرڈر کرتے دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا اور اگلے ہی لمحے امان آنکھیں پھاڑے انہیں آرڈر کرتے دیکھ رہا تھا اور شہریار اسکے تاثرات دیکھ کر قہقہ لگائے بغیر نہ رہ سکا
یونیورسٹی سے یہاں تک کا فاصلہ دس منٹ کا ہے جبکہ تم لوگ پچیس منٹ میں پہنچے ہو۔راستے میں کس کی شامت آئی تھی۔۔ شہریار نے دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جو کھانے کے ساتھ بھرپور انصاف کر رھے تھے
کچھ نہیں بھائی وہ ایک مانگنے والا مل گیا تھا تو اس سے گپ شپ لگانے کے لیے رک گئے تھے۔۔۔ امثال نے آنکھیں مٹکاتے ہوئے جواب دیا۔۔
تم دونوں سےگپ شپ لگانے کے بعد یا تو وہ مانگنے کے قابل نہیں رہا ہو گا یا پھر کم از کم اب وہ دوبارہ اس روڈ پر نظر نہیں آئے گا ۔۔ ہے نہ۔۔ شہریار نے ہنستے ہوئے کہا امثال بے اختیار کھلکھلائی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج فریحہ آئی تھی ۔ ساریہ بیگم نے ڈنر کرتے امثال اور بازل کو دیکھتے ہوئے کہا تو دونوں کے کان کھڑے ہو گئے
اچھا خیریت تھی۔ بازل نے سرسری سا لہجہ اپناتے ہوئے کہا
ہاں خیریت ہی تھی کہہ رہی تھیں کہہ انکے چھ سالہ بیٹے سے کسی نے نہ صرف چپس کا پیکٹ چھینا بلکہ اسکو دھمکایا بھی ہے کہ گھر جا کہ مت بتانا ۔ ساریہ بیگم نے دانت پیستے ہوئے کہا
چچ ۔ چچ ۔۔۔۔۔۔ کتنی بری بات ہے ۔ ویری بیڈ ۔افسوس کا مقام ہے ۔انکو ایسا نہیں کرنا چائیے تھا ۔بھلا بچوں سے کون چیز چھین کہ کھاتا ہے ۔۔ہک ہا۔۔۔۔۔ کیا زمانہ آگیا ہے ۔۔۔۔۔ امثال نے مصنوعی ہمدردی سے دائیں بائیں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔ راسم صاحب نے مسکراہٹ چھپانے کے لیے پانی کا گلاس منہ کو لگایا
تم دونوں مجھے کس کس کے سامنے زلیل کرواؤ گے ۔اب تو اس سارے ایریا کے لوگ تم لوگوں کی حرکتوں سے واقف ہو گے ہیں ۔ جہاں بھی کچھ الٹا سیدھا ہوتا ہے، فورا سب کی زبان سے تم دونوں کا نام نکلتا ہے ۔ ساریہ بیگم نے انہیں گھورتے ہوئے کہا
تو ماما آپکو انہیں بتانا چائیے نہ کہ آپکی اولاد ایسی نہیں ہے آپ بھی حد کرتی ہیں چپ چاپ ہماری برائیاں سنتی رہتی ہیں ۔کونسی مائیں ہوتی ہیں جو اپنے بچوں کی برائیاں سنتی ہیں ۔ کیوں بابا جانی ۔۔امثال نے ماں کو سمجھانے کے بعد باپ سے رائے لینی چاہی تو انہوں نے ہاں میں سر ہلا دیا
بلکل بھئی آپکو بتانا چائیے کہ جیسا آپ سمجھتے ہیں ہمارے بچے ویسے بلکل بھی نہیں ہیں ۔راسم صاحب نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا
بلکہ اس سے دو ہاتھ آگے ہیں۔ جہاں تم لوگ ہوتے ہو وہاں سکون ہوگا یہ بات تو بھول ہی جاؤ ،مگر تمہارے سکول ،کالج اور یونی سے آج تک کوئی کبھی کوئی شکایت نہیں آئی ۔ بات کچھ سمجھ نہیں آتی ۔ایسا ہو کیسے سکتا ۔ساریہ بیگم نے سوچتے ہوئے کہا
وہ ماما ہم نہ۔۔۔۔آہ ۔۔۔اس سے پہلے وہ مزید کچھ بولتا امثال نے اسکے پاؤں پر اپنا پاؤں مارا تو کراہ اُٹھا
ماما سالن ختم ہو گیا ۔۔امثال نے جلدی سے کہا
خیر چلو کہیں سے تو سکھ کی ہوا آتی ہے ۔ساریہ بیگم کہتے ہوئے کچن کی جانب چل دیں
کیوں تنگ کرتے ہو ماما کو راسم صاحب نے کہا
کم آن بابا جی ہم کہاں تنگ کرتے ہیں وہ خود ہی ہو جاتی ہیں ۔امثال نے کچن سے نکلتی ساریہ بیگم کو دیکھتے ہوئے کہا
ہاں میں تو پاگل ہوں نہ جو تنگ ہو جاتی ہوں ساریہ بیگم نے خفگی سے کہا۔
اوہو ماما یار ہم نے بھی تو ٹائم پاس کرنا ہوتا ہے نہ لوگوں کے تو کزنز ہوتے انکے ساتھ ہلا گلا کر لیتے ہیں ھمارے ننھیال میں تو چلو فاریہ خالہ ہیں لیکن ددھیال کا تو کچھ اتہ پتہ ہی نہیں۔ کہاں ہیں، کون ہیں۔ مصنوعی دکھ بھرے لہجے میں سر جھکا کر کہتی وہ راسم صاحب کے چہرے کی اڑی رنگت نہ دیکھ سکی
ارے آپ کہاں جا رہے ہیں کھانا تو کھائیں نہ آپ کو پتہ تو ہے یہ ایسے بکواس کرتی رہتی ہیں ۔ ساریہ بیگم نے ٹیبل سے اُٹھ کر جاتے راسم صاحب سے کہا۔امثال نے جھٹ سر اُٹھایا تو ماں کو گھورتے پایا۔
امثال کیا کروں میں تمہارا۔۔۔۔۔۔ کتنی بار کہا کہ بولنے سے پہلے سوچ لیا کرو ۔ ساریہ بیگم نے اسے گھورتے ہوئے کہا
سوری ماما میرا وہ مطلب نہیں تھا۔ سچ میں۔۔۔۔۔۔ امثال نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا اور اُٹھ کر چل دی
اب تم کہاں جا رہی کھانا تو کھا لو۔ ساریہ بیگم نے پیچھے سے آواز دی
میں آتی ہوں۔ یہ کہتے وہ سٹڈی کی جانب بڑھی
ماما آپ کھائیں وہ بابا کے ساتھ کھا لے گی نہیں تو میں اسکو بعد میں کھلا دوں گا شہریار نے کہا
یہ سب کیا دھرا تمہارا ہی ہے جو وہ اتنا بگڑ گئی ہے۔ساریہ بیگم نے اسے گھرکا
امثال سٹڈی میں داخل ہوئی تو راسم صاحب صوفے پر ٹیک لگائے آنکھیں موندے بیٹھے تھے۔ وہ جا کر انکے قدموں میں دوزانو ہو کر بیٹھ گئی اور انکے گھٹنوں پر سر رکھ دیا تو انہوں نے آنکھیں کھولیں
آئم سوری بابا۔۔۔ میرا وہ مطلب نہیں تھا ۔۔۔۔ سوری ۔۔آپکو پتا تو ہے میں ایسے ہی بکواس کرتی رہتی ہوں ۔ ماما ٹھیک کہتی ہیں میں پاگل ہوں۔۔۔ بے وقوف ہوں ۔۔۔ بولنے سے پہلےزرا نہیں سوچتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ سو۔۔ سوری ۔۔ دھیمی آواز میں کہتے ہوئے آخر میں اسکی آواز بھرا گئی
تم نیچے کیوں بیٹھی ہو اوپر آؤ بیٹیوں کی جگہ قدموں میں نہیں دل میں ہوتی ہے اور انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے ۔راسم صاحب نے اسے اٹھا کر اپنے ساتھ بٹھاتے ہوئے کہا
سوری بابا ۔۔۔ سچی میں ۔۔میرا وہ مطلب بلکل بھی نہیں۔۔ میں تو ایسے ہی ماما کے سامنے ایکٹینگ کر رہی تھی۔ اگر ہمارے ساتھ کوئی نہیں ہے تو کیا ہوا۔ آپ ہیں، ماما ہیں اور پھر سب سے بڑھ کر میرے بھائی ہیں ۔ میں مزاق کر رہی تھی۔ آئیندہ ایسا نہیں کہوں گی ۔امثال نے انکے سینے پر سر رکھتے ہوئے کہا۔
میں جانتا ہوں میرا بچہ مزاق کر رہا تھا ۔راسم صاحب نے اسکا ماتھا چومتے ہوئے کہا۔
دروازے پر کھڑی ساریہ بیگم نے اپنی نم آنکھیں صاف کی اور اندر داخل ہوئیں۔
اگر باپ بیٹی کا ہو گیا ہو تو کھانا کھا لیں، ٹھنڈا ہو رہا ہے انہوں نے کھانا ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا
آپ جیلس ہو رہی ہیں ۔۔راسم صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا
ہاں اور نہیں تو کیا مجھ سے تو کبھی ایسے بات نہیں کی اس نے۔ ساریہ بیگم نے کہا
اوہ کم آن ڈارلنگ، لو یو سو مچ امثال کہتے ہوئے ساریہ بیگم نے گلے لگی تو وہ ہنس دیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاٹنر چلو آج ایک ریس نہ ہوجائے ۔امثال نے آئس کریم پالر سے نکلتے ہوئے بازل سے کہا ۔ وہ دنوں اس وقت اپنی اپنی بائیکس لے کر مٹر گشت پر نکلے ہوئے تھے۔
نیکی اور پوچھ پوچھ ۔۔ بازل نے کہتے ہوئے اپنی بائیک کو سٹارٹ کی اور اگلے ہی لمحے دونوں کی بائیکس ہوا سے باتیں کر رہی تھیں۔ شہر سے نکل کر وہ دونوں میں روڈ پر پہنچ چکے تھے جیسے ہی وہ دونوں تھوڑا آگے پہنچے تو سڑک پر ناکہ لگا ہوا تھا۔پولیس کھڑی چیکنگ کر رہی تھی ان دونوں کی سپیڈ دیکھ کر چند اہلکاروں نے انہیں ہاتھ دیے کر روکا
اوہ تیری ۔۔بازی دیکھو تمہارے سسرالی تمہاری برات کے انتظار میں کھڑے ہیں ۔۔۔۔امثال نے پولیس والوں کو دیکھتے ہوئے کہا ۔ اور دونوں نے بائیکس سائیڈ پر لگا دیں۔
چلو اترو نیچے یہ کونسا طریقہ ہے بائیک چلانے کا ۔۔مصروف سڑک پر تم لوگ اتنی ہائی سپیڈ سے چلا رہے ہیں۔ڈرائیونگ لائسنس بھی ہے یا نہیں تم لوگوں کے پاس ۔ان میں سے ایک نے جو شائد انکا سنیئر تھا کرخت انداز میں کہا تو امثال نے بھنویں سکیڑیں۔
دیکھں وردی والے انکل آپ نہ ہم سے آرام سے بات کریں اتنا غصہ کیوں کر رہے ہیں ہم خاموش ہیں تو ہمیں خاموش ہی رہھنے دیں ۔۔۔ آپ چائے پانی لے لیں ۔ویسے بھی مجھے نہ بچپن سے ہی بہت شوق ہے کہ میں کسی پولیس والے کو چائے پانی دوں آج تو میں پولیس کو لائیو رشوت لیتا دیکھوں گی۔ چلو بازی ایسا کرو۔دس روپے کی پتی دس روپےکی چینی اور تیس روپے کا دودھ کےحساب سے انکو پچاس روپے دے دو اور معاملہ رفع دفع کرو ۔امثال نے پرجوش ہو کر بازل کو کہا آخر کو پولیس والوں کو رشوت دینے کا شوق پورا ہونے والا تھا ۔پولیس اہلکار حیرانگی سے آنکھیں کھولے اس آفت کو دیکھ رہے تھے جو سر عام رشوت کی نہ صرف آفر کر رہی تھی بلکہ خاصی ایکسئاٹڈ بھی نظر آ رہی تھی۔
تم ہمیں پچاس روپے رشوت دے رہی ہو ۔ بازل کو جیب میں ہاتھ ڈالتے دیکھ کر اس نے سخت لہجے میں کہا۔
آپ کو مسئلہ کس بات پہ ہے۔ رشوت لینے پہ یا پھر پچاس روپے رشوت لینے پہ ۔بازل کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکار جو انکو سرزنش کر کے چھوڑنے کا ارادہ کیے ہوئے تھا اسکی بات سن کر تپ گیا
غلام دین انکو گاڑی میں ڈالو۔۔۔۔۔۔۔انکا دماغ تھانے چل کے درست کرتے ہیں ۔ ویسے بھی کسی امیر گھر کی بگڑی ہوئی اولاد لگ رہی ہے تھوڑی سی سیوا کریں گے تو عقل ٹھکانے آ جائے گی۔ یاد رکھیں گے کس سے پالا پڑا تھا ۔ وہ پولیس اہلکار کہتے ہوئے گاڑی کی جانب بڑھا
یس سر ۔ چلو بھئی گاڑی میں بیٹھو۔۔ وہ کہتے ہوئے انکی طرف بڑھا
یاد تو واقعی ہی رکھو گے۔ امثال بڑبڑاتے ہوئے اسکے پیچھے چل دی
جاری ہے
