62.1K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 35

مجھے تم سے بات کرنی ہے ۔امثال عادل کے کمرے میں داخل ہوئی تووہ لیپ ٹاپ پر مصروف تھا
ہاں بولو ۔عادل نے سر اٹھائے بغیر کہا
پہلےتم اسے تو بند کرو۔ امثال نے ہاتھ مار کر اسکا لیپ ٹاپ بند کیا
اوکے کہو۔۔میں ہمہ تن گوش ہوں۔۔۔۔۔۔
پرومس کرو میری بات مانو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلے کبھی کسی بات سے نہ کی ہے ۔۔۔۔لیکن پھر بھی تمہاری تسلی کے لیے پرومس ۔۔۔۔۔۔۔
زروا یونی میں ایڈمیشن لینا چاہتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو اس نے سفارش کروائی ہے تمہاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حالانکہ بھائیوں سے بات منوانے کے لیے کسی تیسرے کی سفارش کی ضرورت ہوتی تو نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خاندان میں کوئی بھی لڑکی یونی نہیں جاتی ۔۔۔ باقیوں کی طرح وہ بھی کالج میں اپنی سٹڈی کمپلیٹ کر سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں جاتی ہوں نہ ، زروا کیوں نہیں جا سکتی ۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہاری بات اور ہے امثال۔تم میں اور اس میں فرق ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں کوئی فرق نہیں ہے سوائے اسکے کہ وہ تمہاری بہن ہے اور میں شہریار کی ۔۔۔۔
دیکھو امثال تم زروا سے تو کیا خاندان کی باقی لڑکیوں سے بھی کہیں بہتر ہو مضبوط ہو،ہر قسم کے حالات کو فیس کر سکتی ہو اچھا برا سمجھ سکتی ہو جبکہ زروا یا سانی نہیں ہینڈل کر سکتی ۔باہر کی دنیا بہت ظالم ہے ۔ بھیڑیے اور گدھ ہر جگہ ملیں گے جو نوچنے کو تیار رہتے ہیں ۔ ہر روز ملتا ہوں ایسے لوگوں سے ۔ پہلےسانی کو بھی اس لیے منع نہیں کیا تھا شہر جا کر پڑھنے سے کہ خدانخواستہ مجھے اس پر بھروسہ نہیں تھا
تو انہیں مضبوط بناؤ عادی ۔۔انہیں سپورٹ کرو ،حالات سے لڑنا سکھاؤ،انہیں باور کراؤ کے چاہے کچھ بھی ہو تم ہر حال میں انکے ساتھ ہو۔ تمہیں پتہ ہے شہری بھائی ہمیشہ مجھے کہتے ہیں کہ ژلے کچھ بھی ہو جائے تم ہمیں اپنے پیچھے پاؤ گی ۔اگرکبھی کسی اس دنیا کہ کسی ظالم سے سامنا ہو جائے تو اسکو اپنے حساب سے دیکھ لینا بے شک اسکی جان لے لینا تمہارے بھائی سنبھال لیں گے ۔یہ میرے بھائوں کا دیا ہوا کونفیڈینس ہی ہے جو آج میں سر اٹھا کر چلتی ہوں۔ تمہیں پتہ ہے تمہارا ہونا نہ ہونا ان کے لیے برابر ہے تمہارے نہ ہونے سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا البتہ جب ہوتے ہو تو تمہارا سامنا کرنے سے کتراتی ہیں ،ڈرتی ہیں تم سے ۔۔۔۔میں ایڈمیشن فارم لے آئی ہوں تم خود جا کر زروا کو دو انکو اپنے ہونے کااحساس کرواو کہ دوبارہ جب انہیں کسی چیز کی ضرورت ہوبلا جھجھک تم سے شئیر کر سکیں نہ کہ کئی کئی دن سوچنے میں لگا دیں یا پھر کسی تیسرے کا سہارا لیں ۔۔۔۔۔۔۔بھائی بہنوں کا مان ہوتے ہیں انکی آس اور سایہ ہوتے ہیں ۔۔ بھائی تو ایسے ہوتے ہیں جیسے میرے ہیں۔۔ سمجھ رہے ہو نہ ۔۔ ؟امثال نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تو اس نے سر ہلایا
اوکے اٹھو پھر۔۔۔چلو میرے ساتھ میں تمہیں پراسپکٹس اور فارم دیتی ہوں اور فکر مت کرنا وہ ہمارے ہی ڈیپارٹمنٹ ایڈمیشن لے گی ابھی ہمارا ایک سمیسٹر رہتا ہے اور اگر تمہیں زیادہ ٹینشن ہوئی تو ڈگری کے بعد میں یا بازی لیکچرشپ لے لیں گے ۔تم جانتے ہو ہمارے لیے یہ کوئی مشکل نہیں ہے ۔ امثال اسے لے کر اپنے کمرے میں آئی فارم اسے دیا اور سانیہ ، زروا کے کمرے کے باہر چھوڑ کر واپس چلی گئی وہ اندر داخل ہوا تو سانیہ اسے دیکھ کر چونکی ۔وہ بہت کم انکے کمرے میں آتا تھا
لالہ آپ ۔۔۔کوئی کام تھا تو ہمیں بلوا لیتے۔۔۔۔۔۔
ہاں میں زروا کا ایڈمیشن فارم لایا تھا ۔۔۔
سچ لالہ۔۔۔؟؟ زروا نے بے یقینی سے سے پوچھا تو عادل مسکرایا
ہاں یہ دیکھو ۔عادل نے فارم اسکے سامنے کیا ۔زروا نے جلدی سے فارم پکڑا اور کھول کر دیکھنے لگی
اوہ گاڈ یہ تو واقعی ہی فارم ہے ۔۔تھینک یو تھینک یو سو مچ کہتے ہوئے وہ اسکی طرف لپکی مگر اسکے پاس جا کر رک گئ
رک کیوں گئ آؤ ۔۔ عادل نے بازو وا کیے وہ جھجھکتی ہوئی اسکے گلے لگی اس نے ہاتھ بڑھا کر سانیہ کو بھی اپنے ساتھ لگایا
آئی ایم سوری۔۔۔۔۔۔۔ سو سوری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اچھا بھائی نہیں بن پایا ۔۔۔۔اپنے بھائی کومعاف کردو ۔عادل نے باری باری دونوں کے سر چومے تو انکی آنکھیں بھیگیں
دس از ناٹ فئیر لالہ آپ مجھے بھول گئے ۔دروازے میں کھڑی عائشہ اپنی نم آنکھیں صاف کرتے انکے پاس آئی ۔سانیہ اور زروا پیچھے ہٹیں
بلکل بھی نہیں۔۔۔ عادل نے مسکراتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگایا
آپی آپکو پتہ ہے لالہ میرا یونی کا ایڈمیشن فارم لائے ہیں ۔ زروا نے چہکتے ہوئے عائشہ کو بتایا اور پراسپکیٹس کھول کر دیکھنے لگی اسکا انداز دیکھ کر وہ تینوں ہنس پڑے
یہ فل کر کے مجھے دے دینا سبمٹ کروا دوں گا
تھینک یو لالہ ۔میں آپکو کوئی شکائیت کا موقع نہیں دوں گی کبھی بھی آپکا بھروسہ نہیں توڑوں گی
جانتا ہوں اگر پہلے میں نے سانی یاعائشہ کو پرمیشن نہیں دی تو اسکامطلب یہ نہیں کہ مجھے ان پر بھروسہ نہیں تھا ۔بس باہر کی دنیا سے ڈرتا تھا کہ کہیں کچھ غلط نہ ہو جائے اور جہاں تک رہی شکایت کی بات تو جن کے ساتھ ایڈمیشن لے رہی ہو وہاں سے تمہاری شکائت نہ آئے ایسا ہو ہی نہیں سکتا ۔۔پورے پورے فتنے ہیں دونوں۔۔۔۔
لالہ آپ امثال کو ایسےمت کہیں وہ ہماری پکی والی دوست ہے ۔۔۔سانیہ کی بات پرعادل نے لب سکیڑے
اوہ میں تو بھول ہی گیا تھا یہاں پر اسکیےحمائیتی بھی موجود ہیں
بلکل ہماری سب سے اچھی والی دوست ہے زروا نے بھی ہاں میں ہاں ملائی
اور بھابھی بھی ۔ عائشہ نے مسکراتے ہوئے کہا
اور فتنہ بھی عادل کی بات پر ان چاروں کی ہنسی گونجی تھی
میں بتاوں گی آپی کو زروا نے آنکھیں گھمائیں
ہاں تو بتا دینا میں کوئی ڈرتا تھوڑی ہوں ۔عادل نے کندھے اچکائے
اوہ رئیلی لالہ ۔۔۔۔۔۔ ہم سب ،سب دیکھتے اور سمجھتے ہیں ۔انکی ایک گھوری پر آپ سیدھے ہو جاتے ہیں ۔کبھی خود کو دیکھیے گا آپ کیا تھے اور انہوں نے کیا بنا دیا ہے ۔۔ زروا نے اسے جتایا کہ وہ لوگ بے خبر نہیں وہ کان کھجاتا ادھر ادھر دیکھنے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا مجھے تم سے بات کرنی ہے ساریہ بیگم امثال کا سر اپنی گود مین رکھااتو امثال نے آنکھیں پھاڑیں
ماما آپکی طبعیت ٹھیک ہے نہ؟؟؟ ۔امثال نے انکے ماتھے پر ہاتھ رکھا تو وہ مسکرائیں
ہاں بیٹا میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
تو پھر ایسے کیوں بات کر رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کیسے ؟؟؟۔وہ انجان بنیں
پیار سے ۔۔۔۔۔لاڈ سے ۔۔۔۔
مجال ہے جو اس لڑکی کو عزت راس آجائے انہوں نے دانت پیستے سوچا
میری بیٹی ہو کیا میں اپنی بیٹی کو پیار نہیں کر سکتی؟؟ انہوں نے اسکے بالوں میں انگلیاں پھیریں
ماما آپکی آنکھوں میں پیار ہی پیار امڈ رہا ہے جو مجھے کسی خطرے کا سائرن دے رہا ہے اس سے پہلے کے مجھے ہارٹ اٹیک آئے ، آپ مدعے پر آجائیں۔امثال اٹھ کر بیٹھی
ہم لوگوں نے فیصلہ کیا ہے کہ سب کی رخصتی کر دی جائے تمہاری دادو نے پندرہ دن بعد کی ڈیٹ فائنل کی ہے انکی بات سن کر اسکی آنکھیں چمکیں
واو کتنا مزہ آئے گا نہ شہری بھائی اور عدی کی شادی ہو گی ۔۔ماما میں ڈھیر ساری شاپنگ کروں گی اور آپ مجھے ٹوکیں گی نہیں
صرف ان دونوں کی ہی نہیں بلکہ بازل کا نکاح اور تمہاری رخصتی بھی ساتھ ہی طے پائی ہے ۔انہوں اسکے سرپر بم گرایا تھا
واٹ ۔۔۔۔۔۔وہ بے اختیار اٹھ کھڑی ہوئی
ماما ابھی تو میرا ایک سمسٹر رہتا ہے آپ لوگ ایسےکیسے کر سکتے ہو۔۔۔میں کہیں بھاگی جا رہی ہوں
تو رخصتی کے بعد پڑھ لینا کونسا کوئی منع کر رہا ہے
مجھے نہیں پتہ مجھے نہیں کرنی ابھی کوئی رخصتی ۔۔آپ جا کر منع کر دیں
دماغ ٹھیک ہے تمہارا بڑوں کا فیصلہ ہے یہ اور خبردار جو کوئی الٹی حرکت کی تو ہر بات میں لاڈ اچھا نہیں ہوتا اب کی بار انہوں نے سختی سے کہا تو وہ کچھ سوچ کر خاموش ہو گئی
ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی اسکے اتنی آسانی سے مان جانے پر انہیں حیرانی ہوئی امثال انہیں وہیں چھوڑ کر سیدھی ہاجرہ شاہ کے کمرے میں گئی۔عادل پہلے سے ہی ان کے پاس بیٹھا تھا
دادو یہ کیا چل رہا ہے گھر میں ؟؟
مجھے پتا تھا تم ضرور آؤ گی
دادو اتنی بھی کیا جلدی ہے آپ باقیوں کی رخصتی کر دیں ۔میری سٹڈی کہ کچھ ماہ رہتے ہیں امثال جھنجلائی
پتر میں اپنی زندگی تم سب کو اپنے گھروں میں خوش دیکھنا چاہتی ہوں اس بڑھیا کی اتنی سی بات نہیں مان سکتی
کیا ہے یار پہلے داد جان نے ایموشنل بلیک میل کر کہ نکاح کروا دیا اور اب آپ بھی وہیں کر رہی ہیں امثال نے منہ بسورا
تم تو میری اچھی بیٹی ہو نہ ۔ہاجرہ بیگم نے اسے پچکارا
اچھا ٹھیک ہے مگر باقی سب کے ساتھ میری ڈیٹ نہیں رکھیں یا پہلے رکھ لیں یا پھر بعد میں ۔۔۔۔ آٹھ دس کا گیپ رکھ لیں مجھے شہری بھائی اور عدی کی شادی انجوائے کرنی ہے
مگر پتر ۔۔۔۔۔۔
کوئی اگر مگر نہیں آپ میری اتنی سی بھی بات نہیں مان سکتی ۔۔بس میں نے کہہ دیا ہے آپ آٹھ دن بعد کی ڈیٹ رکھ لیں ورنہ میں نے نہیں کرنی ۔
اچھا چل ٹھیک ہے تم جیسے کہو
ہرگز نہیں دادو آپ پہلے ہماری ڈیٹ رکھیں اسکا کوئی بھروسہ نہیں کل کوکوئی نئی بات اسکے دماغ میں سما جائے اور یہ پھر مکر جائے ۔۔کب سے خاموش بیٹھا عادل بول اٹھا
بلکل بھی نہیں دادو آپ بعد کی رکھیں
نہیں پہلے کی ۔۔۔۔۔عادل نےاسے گھورا
بعد کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلے کی ۔۔۔۔۔ہاجرہ شاہ کبھی اپنے پوتے کو دیکھتی تو کبھی پوتی کو
تم دونوں فیصلہ کر کہ بتا دینا۔۔ ہم اسی حساب سے رکھ لیں گے۔ہاجرہ شاہ نے تنگ آ کر کہا تو وہ دونوں خاموش ہو گئے
اسکی بات مان رہیں ہیں نہ تو میری بھی مانیں آپ بس پہلے کی رکھیں عادل نے بات ختم کی
کہہ تو وہ ٹھیک رہا ہے ۔چلو ٹھیک ہے پندرہ دن کی سب رکھی ہے تو آٹھ دن پہلے کی تمہاری رکھ دیتے ہیں میں سب کو بلا کر کہہ دیتی ہوں
دادو ۔۔۔۔۔
بس میں نے کہہ دیا ہے تو کہہ دیا ۔۔اب کوئی بحث نہیں ہو گی ۔تم لوگ بیٹھو میں وضو کر لوں ۔۔وہ اٹھ کر واش روم میں چلی گئیں
مجھے یہ پندرہ دن بھی بہت لگ رہے تھے تھینکس میرا انتظار کم کرنے کے لیے ۔عادل کی بات پر اس نے اسے گھورا
دیکھ لوں گئی تمہیں تو ۔۔ جاتے جاتے اس نے دھمکی دی
شیور ہنی میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ تم بس مجھے ہی دیکھتی رہو ۔عادل نے مسکراتے ہوئے اسکے چہرے پر آئی لٹ کھینچی وہ پیر پٹختے باہر نکل گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب کی شادیوں کی ڈیٹ رکھی جا چکی تھی امثال کی فرمائش پر اسکی رخصتی پہلے رکھی تھی ۔ساریہ بیگم نے شور ڈالا کہ سب لوگ اپنے کام کاج والے ہیں کون اتنا فری ہے جو روز روز شادیوں کا پھیلاوا سنبھالے گا تو سب نے مل کر طے کیا کہ انکے رخصتی کے دو دن بعد شہریار ،عدید،امان دریاب اور صدام کے ساتھ ساتھ فرہاد اور رامین کی تاریخ رکھ لی جائے ۔پہلے تو فرہاد نے صاف منع کر دیا کہ وہ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا جس پر صدام نے اسے سمجھایا کہ جو وہ چاہتا ہے وہ اب ہو نہیں سکتا اس لیے چپ چاپ بڑوں کی بات مان لے تو اس نے شرط رکھی کہ اسے شادی کہ بعد رامین کو لے کر باہر شفٹ ہونے دیا جائے ، تو راشد شاہ کو مانتے ہی بنی ۔ دونوں حویلیوں میں زور و شور سے تیاریاں چل رہیں تھیں ۔شہریار اور عدید نے ساریہ بیگم سے واضح کہا تھا امثال کی شاپنگ میں کوئی بھی کمی نہیں ہونی چاہئیے ۔جو وہ کہے گی جیسا کہے گی وہ ویسا ہی کریں گی ،ہال بکنگ کی باری آئی تو امثال نے نیا شوشہ چھوڑا کہ اسے اپنے شہر والے گھر سے رخصت ہونا ہے تو راسم شاہ اور شہریار کے ہامی بھرنے پر ساریہ بیگم سوائے سر پیٹنے کہ اور کیا کر سکتی تھیں ۔۔
بازل امثال کےکمرے میں آیا تو وہ آنکھیں بند کیے کانوں میں ہینڈفری لگائے کاوچ پر لیٹی ہوئی تھی وہ جو اسے بلانے آیا تھا اسکو یوں بے خبر دیکھ کر بازل نے ہاتھ موجود شاپر اس پر الٹ دیا ۔امثال نے اپنے اوپر کچھ گرتا محسوس کرکہ پٹ سے آنکھیں کھولیں ۔اپنے اوپر چھپکلیوں کا ڈھیر دیکھ کر اسکی حلق سے فلک شگاف چیخ بلند ہوئی تھی ۔عادل جو پولیس سٹیشن جانے کے لیے ریڈی ہو رہا تھا اسکی چیخیں سن کر جلدی سے امثال کے کمرے میں گیا جہاں وہ بیڈ پر چڑھے آنکھیں بند کیے مسلسل چیخ رہی تھی اور ساتھ میں بار بار اپنے کپڑے جھاڑ رہی تھی سامنے کھڑا بازل کھڑا قہقہے لگا رہا تھا
کیا ہوا امثال کیوں چیخ رہی ہو؟؟؟ عادل کی آواز سن کر امثال نے آنکھیں کھولیں اور بھاگ کر اسکے پاس پہنچی
یہ ۔۔یہ دیکھو کتنی ۔۔۔کتنی چھپکلیاں اس نے مجھ پر پھینکی ہیں۔۔۔۔۔ عادی کتنی ڈھیر ساری ۔۔ڈھیر ساری ہیں ۔۔امثال نے اٹکتے ہوئے بات مکمل کی۔کاؤچ پر چھپکلیوں کا ڈھیر دیکھ کر اسنے گہری سانس لی
ریلکیس امثال ۔۔۔دیکھو پلاسٹک کی ہیں ۔۔۔۔یہ دیکھو۔ اس نے ایک اٹھا کر اسکے سامنے کی تو اس کا اٹکا ہوا سانس بحال ہوا
ریلکیس کچھ نہیں ہوا ۔۔عادل نے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے اسکا سر تھپکا
کیا چیز ہو یار تم لوگ۔۔۔کم از کم ایک دوسرے کو تو بخش دیا کرو ۔عادل کے گھورنے پر بازل نے دانت دکھائے امثال جوتا اٹھائے اسکو مارنے ے لئیے بڑھی تو وہ چھپاک سے باہر نکل گیا
دفعہ کرو اسے آؤ تم یہاں بیٹھو اسنےاسے بیڈ پر بٹھاتے ہوئے پانی کا گلاس اسے تھمایا
ویسے مجھے یقین نہیں ہو رہا امثال شاہ چھپکلیوں سے ڈر گئ ۔عادل نے اسکا دھیان بٹانا چاہا
میں آنکھیں بند کیے بیٹھی تھی اس نے اچانک سے اتنی زیادہ پھینکیں تو میں ڈر گئی تھی ۔۔امثال نے منہ بسورا
اسے چھوڑوں گی تو میں بھی نہیں۔۔ اسکے دانت کچکچانے پر عادل نے سر جھٹکا
بی بی جی یہ برف کیا کرنی ہے آپ نے ؟؟
برف سے کیا کیا جاتا ہے ؟؟ امثال نے الٹا اس سے سوال کیا
پانی ٹھنڈا کرتے ہیں ملازمہ نے جھٹ سے جواب دیا
تو میں بھی وہی کر رہی ہوں .
پر بی بی اتنی سردی میں پانی کیوں ٹھنڈا کرنا ہے اور یہ اتنا زیادہ کیا کرنا ہے ملازمہ نے اسے بالٹی بھر پانی میں برف نکال نکال کر ڈالتے دیکھ کر حیرانی سے پوچھا
کسی سے بدلہ لینا ہے تم بس دیکھتی جاؤ۔۔اسکی بات ملازمہ نے بے اختیار جھرجھری لی ۔ امثال نے برف اچھے سے مکس کی پانی یخ ٹھنڈا ہو چکا تھا اس نے بالٹی اٹھائی اور ہال میں بیٹھے بازل کے سر پر جا کر الٹ دی دسمبر کے مہینے ٹھنڈا ٹھار پانی ۔۔۔بازل کے تو چودہ طبق روشن ہوئے ہی تھے مگر ساتھ بیٹھا زریاب بھی مکمل بھیگ چکا تھا
پاگل ہو گئ ہو کیا ؟؟ بے وقوف عورت اتنا ٹھنڈا پانی کون پھینکتا ہے ؟
اور اتنی زیادہ چھپکلیاں کون پھینکتا ہے ا؟ مثال نے جواباً گھورا
ہاں تو پانی تو نہیں پھینکا تھا نہ .
ژلے کیا بدتمیزی ہے یہ وہ بیمار پڑ جائے گا . ساریہ بیگم نے اسے گھرکا
ماما اس نے پہلے مجھ پر ڈھیر ساری چھپکلیاں پھینک کر ڈرایا تھا امثال نے منہ بگاڑا
تم باز نہیں آو گے نہ ۔۔شہریار نے بازل کو آنکھیں دکھائیں امثال ایک ہی چھلانگ میں شہریار تک پہنچی تھی
بھائی اس نے مجھے بہت ڈرایا ہے مجھے لگا تھا مجھے ہارٹ اٹیک آجانا ہے ۔۔ امثال نے انکھیں پھیلا کر اسے شکایت لگائی لاونج میں زریاب کی چھینکیں اور بازل کے دانت بجنا شروع ہو گئے تھے
بھائی یہ بازی پر تو پانی میں نے پھینکا ہے مگر زریاب بھائی کیوں اتنا بھیگے ہوئے ہیں
آپ کیا سوئمنگ کر کہ آئے ہیں۔؟؟۔ امثال نے معصومیت سے پوچھا
بیٹا وہ بھی تمہارا ہی شکار بنا ہے۔۔۔ شہریار نے ہنستے ہوئے کہا
چلو بازی جا کہ چینج کر کہ آؤ اور زریاب بیٹا تم بھی چینج کرو میں قہوہ بنا کر لاتی ہون تم لوگوں کے لیے ساریہ بیگم نے انکو کمرے میں بیجھا اور خود کچن میں چلی گئیں
بازی میں ان سب کو بالکنی کے نیچے اکٹھا کروں گی تم ساری کی ساری ان پر الٹ دینا ۔امثال بازل کو آخری ہدایات دیتی لان میں بیٹھی شاپنگ کی لسٹ بناتی سانیہ لوگوں کی طرف بڑھی بلکنی کے نیچے جا کر زور سے گری اور ہائے ہائے شروع کر دی آواز اتنی ہی رکھی کہ صرف ان تک ہی پہنچ سکے وہ سب کی سب بے اختیار اٹھ کر اسکی طرف دوڑیں جیسے ہی وہ سب عین بالکنی کے نیچے پہنچیں بازل نے چھپکلیوں کا باؤل الٹا دیا اپنے اوپر دھڑا دھڑا گرتی چھپکلیاں دیکھ کر سب کی چیخیں بلند ہوئی تھیں اور بالکنی سے نیچے جھانکتے بازل اور ان سے اٹھ کر کچھ دور جا کر کھڑی امثال کے قہقہے ۔۔۔۔۔ انکو یوں ہنستا دیکھ کر رامین نے آگے بڑھ کر دیکھا
یہ تو نقلی ہیں رامین کے بات سن کر سب دھیمی پڑیں دونوں کے قہقہے انہیں انکی شرارت سمجھانے کو کافی تھے
شامین پکڑو اسے آج یہ نہیں بچے گی .سانیہ امثال کی طرف بڑھی تھوڑی ہی دیر میں وہ آگے آگے تھی اور وہ چاروں اسکے پیچھے
عاشی آپو بچائیں نہ….. وہاں کیوں کھڑی ہیں ……….یہ چڑیلیں آپ کی نند مار دیں گی . امثال نے عائشہ کو وہیں کھڑے دیکھ کر آواز لگائی
جاری ہے