32.9K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

سانی یہ تائی جان کہاں ہے؟امثال نے سانیہ سے پوچھا
اپنے میکے گئیں ہیں
اچھا کب ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تو دو دن سے گئی ہوئیں ہیں ۔تم نے شائد اب نوٹ کیا ۔بہت بزی رہنے لگی ہو نہ۔ سانیہ نے طنز کیا
کیا ہوا ہے تم ایسے بات کیوں کر رہی ہو ؟؟
تو اور کیسے بات کروں سچ ہی تو کہہ رہی ہوں تمہیں اب کہاں فرصت ۔سارا دن تو نانو لوگوں کے ہاں پائی جاتی ہو۔
تم جیلس ہو رہی ہو؟ امثال نے شرارت سے کہا
مجھے کیا ضرورت ہے جیلس ہونے کی تمہاری مرضی ہے جس کے ساتھ مرضی رہو۔ سانیہ کہتی اٹھ گئی
میں مذاق کر رہی تھی ۔ سنو تو۔ امثال اکو آوازیں دیتی رہ گئی مگر وہ ان سنی کرتی لان میں چلی گئی
ہیں اسے کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سانی کیا ہوا ہے۔ امثال اسکے پیچھے آئی
کچھ نہیں ہوا ہے تم جاؤ جہاں سارا دن ہوتی ہو ۔میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں۔پتہ بھی ہے میں کالج سے آنے کے بعد تمہارا انتظار کرتی ہوں اور تم وہاں دفع ہوئی ہوتی ہو۔ ۔سانیہ نے منہ بنایا
اللہ اللہ لڑکی کتنی بڑی ڈرامے باز ہو۔ سارا دن کہاں ہوتی ہوں اور ویسے بھی تمہیں اب میرا نہیں بلکہ دریاب بھائی کا انتظار کرنا چائیے آخر کو سیاں جی ہیں تمہارے ۔۔۔ لو وہ آگئے دریاب بھائی ۔۔۔ دریاب بھائی بات سنیں ۔امثال نے دریاب کو آواز دی
ہاں امثال کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔
مجھے تو کچھ نہیں ہوا یہ آپکی منکوحہ ویٹ کر رہی تھی اور غصہ بھی کر رہی ہے کہ اتنا انتظار کون کرواتا ہے ؟ امثال سانیہ کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر اندر بھاگی تھی ہال سے نکلتے عادل سے جا ٹکرائی
ارے ارے دھیان سے کیا ہوگیا ہے ۔۔۔
اپنی بہن سے بچاؤ ۔ مجھ معصوم کے پیچھے پڑ گئی ہے
تم ۔۔۔تم کہاں سے معصوم ہو ۔تم جیسا ایک اور معصوم پیدا ہو گیا نہ تو ہم دنیا والوں کا تو اللہ ہی مالک ہے .سانیہ نے دانت پیسے
بھائی ہٹیں آگے سے۔ یہ آج میرے ہاتھوں نہیں بچتی۔ سانیہ نے عادل کو بازوسے پکڑ کر ایک سائیڈ پر کیا
تم کیا دیکھ رہے ہو۔ تمہارے سامنے تمہاری بیوی کو اتنی باتیں سنا رہی ہے۔اسکو منع کرو۔ امثال نےہونق بنے عادل کو پکڑ کر جھنجھوڑا تو وہ ہل کر رہ گیا
یہ تم دونوں نے مجھے سمجھ کیا رکھا ہے ہے؟ ایک ادھر سے دھکا دیتی ہے تو دوسری ادھر سے جھنجھوڑتی ہے ۔عادل نے دونوں کو گھورا
بھائی اب تو یہی ہوگا ساری زندگی کےلیے چڑیل اپنے پلےباندھ لی ہے
تم خود کیا ہو کالی پیلی ڈائن ۔۔۔۔ امثال نے اسکے کالےاور پیلےرنگ کےکپڑوں پرچوٹ کی ۔۔۔۔۔۔ اور دریاب بھائی اپنی بیوی کو سنبھالیں خواہ مخواہ میرے شوہر کو تنگ کر رہی ہے۔ امثال نے عادل کے پیچھے سے نکلتے ہوئے دریاب کو بھی گھسیٹتے ہوئے سانیہ کو چڑایا
تم ۔۔۔تم اللہ کر کہ مر جاؤ۔ سانیہ نے اسکو پکڑنےمیں خود کو ناکام ہوتے دیکھا تو بدعاوں پر اتر آئی تھی
ہاں ہاں تم نے تو جیسے آب حیات پی رکھا ہے نہ۔ امثال نے اسے بگاڑا
اللہ کرے تم موٹی کالی بھدی ہو جاؤ۔۔۔۔۔۔۔ پیپرز میں فیل ہو جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور تمہیں یونی سے نکال دیں۔ سانیہ کی بدعا سن کر امثال کی آنکھیں پھٹیں تھیں
تم ۔۔۔تم مجھے فیل ہونے کی بدعا دے رہی ہو۔۔ جاؤ آج سے میں بھی تمہیں بدعا دیتی ہوں اللہ کرے تمہارا شوہر کالا موٹا چھوٹا بھینگا ہوجائے۔ امثال کی بات سن کر دریاب تڑپ اٹھا
یار ژلے میری کیا غلطی ہے ۔میرا حلیہ کیوں بگاڑ رہی ہو۔ سانیہ پیر پٹختے ہوئے اندر کی طرف بڑھی
اپنی بیوی کے زبان کے جوہر دیکھے ہیں۔ آپ نے کیسے منہ پھاڑ پھاڑ کر بدعائیں دے رہی ہے۔ سنبھالیں اسے ہاتھ سے نکل گئی نہ سر پکڑ کر روئیں گے ۔امثال کی بات سن کر سانیہ نے اپنا جوتا اتار کر اسکی طرف پھینکا جو امثال کے دریاب کو اپنی طرف کھینچ کر آگے کرنے کی وجہ سے اسکے سینے پر لگا تھا امثال اور عادل نے قہقہ لگایا
واہ بھئی تم نہ سہی تمہارا جوتا ہی سہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویسے اب آپ اپنی گاڑی کے پیچھے لکھوا سکتے ہیں کہ یہ سب میری بیوی کی جوتیوں کا صدقہ ہے۔ امثال نے ہنستے ہوئے کہا اور جمال حویلی کر طرف بھاگی
اللہ رحم کرے عادل تجھ پر۔۔۔۔ تھوڑی ہی دیر میں مجھے کیا سے کیا بنا گئی ہے عادل بھی ہنستا ہوا باہرچلا گیا
سوری وہ میں نے آپکو نہیں مارا تھا ۔سانیہ نے نظریں نیچی کرتے ہوئے کہا
کوئی بات نہیں ۔۔جانتا ہوں جہاں یہ دونوں فتنے ہوں وہاں خیر نہیں ہوتی ۔تمہیں شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے
اپنا جوتا تو لیتی جاؤ۔ دریاب اسکو اندر کی طرف جاتا دیکھ کر پیچھے سے ہانک لگائی
میری بیوی کی جوتیوں کا صدقہ ۔۔۔۔۔ مطلب کچھ بھی۔ دریاب نے ہنستے ہوئے سر جھٹکا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ژلے بازی آرام سے کھاؤ یہ کون سا طریقہ ہے۔ ساریہ بیگم نے ان کو جلدی جلدی کھاتے دیکھا تو ٹوکا
ماما ہم یونی کے لیے لیٹ ہو رہے ہیں۔ بائے اپنے بیگ اٹھا کر دونوں باہر کی جانب بھاگے شہریار نے اچنبھے سے انہیں دیکھا
اچھا ہم بھی چلتے ہیں دریاب اور امان نے اٹھ کر باہر نکل گئے ۔دو منٹ بعد ہی وہ واہس آتے دکھائی دیے
کیا ہوا تم لوگ واپس آ گئے ۔ فوزیہ بیگم نے پوچھا
کچھ نہیں بس ایسے ہی اور آ کر ہال میں بیٹھ گئے پھر تو لائن ہی لگ گئی جو بھی جاتا واپس آکر بیٹھ جاتا
جو بھی جاتا ہے واپس آ جاتا ہے تم لوگ جا کیوں نہیں رہے ہو ۔مصطفی شاہ نے حیرانی سے کہا
آپکے لاڈلے سبھی گاڑیوں کے ٹائر پنکچر کر گئے ہیں سوائے عادل کی جیپ کے ۔عاصم شاہ کی بات سن کر مصطفی شاہ نے ہلکا سا قہقہ لگایا
چلو بھئی عادل اب تم ہمارا آخری سہارا ہو، اس لیے ہمیں بھی لیتے جانا ۔امان نے کہا تو اس نے سر ہلا دیا
عادل بھائی ہماری گاڑی کے ٹائر پنکچر ہیں۔ آپ مجھے کالج چھوڑ دیں گے عائشہ نے ہال میں آتے ہوئے کہا
ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
ویسے حیرت کی بات ہے گاڑی کے چاروں ٹائر اکھٹے ہی پنکچر ہیں ۔عائشہ کا پر سوچ انداز دیکھ کر سب مسکرائے
وہ اس لیے کہ اس گھر کی آفتوں نے انہیں پنکچر کیا ہے اور خود وہ جا چکی ہیں ۔امان کی بات سن کر وہ ہنسی
چلو آ جاؤ جس جس نے جانا ۔عادل نے ہال سے نکلتے ہوئے کہا تو سبھی اسکے پیچھے چل دیے
پورچ میں پہنچ کر اسنے مڑ کر دیکھا تو دریاب، زریاب،امان ،شہریار اور عائشہ کو اپنے پیچھے دیکھ کر اسنے بے ساختہ قہقہ لگایا
سیریسلی۔۔۔۔۔۔۔۔ تم سب جاؤ گے ۔دھیان سے دیکھو میرے پاس جیپ ہے بس نہیں ہے جو تم سب کے سب اٹھ کر آگئے ہو ۔عادل نے ہنستے ہوئے جیپ کے ساتھ ٹیک لگائی
بھائی میرا ٹیسٹ ہے آج میرا جانا ضروری ہے عائشہ نے جلدی سے بیک سیٹ سنھبالی
میری بھی میٹینگ ہے۔ شہریار جیپ کا فرنٹ ڈور کھولتے ہوئے کہا
چلو بھئی مزید دو لوگ آ سکتے ہیں، آجاؤ عادل نے کہا
تم پیچھے آ جاؤ میں ڈرائیو کرتا ہوں دریاب نے اس سے چابی لی امان اور عادل پیچھے بیٹھ گئے
لالہ آپ گاڑی ٹھیک کروا کر آجایئے گا۔ دریاب نے زریاب سے کہا تو ووہ سر ہلاتا ہوا پلٹ گیا
وہ لوگ گاؤں کی حدود سے باہر نکلے تو ان دونوں کو جاتے دیکھا جو اپنی بائکس کو زگ زیگ انداز چلاتے تو کبھی سڑک پر فل سپیڈ پر چھوڑ دیتے اور پھر ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسنا شروع کر دیتے امثال نے بازل کو کراس کرتے ہوئے بائیک کو گھما کر گول دائرہ بنایا
عادل انہیں روکنا ۔۔۔۔۔۔شہریار نے سنجیدگی سے کہا تو اس نے سر ہلاتے ہوئے جیپ انکے آگے لے جا کر کھڑی کی شہریار کو جیپ سے نکلتے دیکھ کر امثال نے آنکھیں میچیں
چابی دو۔۔۔۔۔۔۔شہریار نے ہتھیلی پھیلائی تو دونوں نے شرافت سے چابی نکال کر اسکے ہاتھ پر رکھی
اترو ۔۔۔ شہریار کہتا جیپ کی طرف مڑا
دریاب امان تم لوگ بائیک پر آجاؤ میں انکو لے کر گاڑی میں آتا ہوں ۔وہ دونوں چابیاں لے کر بائیکس کی طرف بڑھے
عائشہ آپ آگے آجائیں یہ پیچھے آپکو تنگ کریں گے۔ شہریار کی بات سن کر امثال نے انکھیں گھمائیں
اوہ ہ ہ آئی سی۔ بھائی ابھی سے اتنی فکر ۔۔۔۔۔۔۔ہق ہا۔۔۔۔ بھائی بھائی نہ رہا ۔۔۔۔۔آپ بیٹھیں اپنی عائشہ کے پاس میں اپنے شوہرکے ساتھ بیٹھ جاتی ہوں ۔ہاں نہیں تو ۔کہتی ہوئی وہ جیپ میں گرنے والے انداز میں بیٹھی
یہ عادل کی جیپ کیوں چھوڑ دی تھی ؟شہریار کے پوچھنے پر بازل نے امثال کو گھورا
اس محترمہ کو ہی شوہر سے ہمدردی ہو رہی تھی
ہاں تو ان سب نے تو اپنے آفسز میں جانا تھا اور عادل نے ڈیوٹی پر تو اسکا ٹائم پر پہنچنا ضروری تھا
اس شاندار سمجھداری کے مظاہرے پر یہ بندہ ناچیز آپکو سیلوٹ پیش کرتا ہے۔ عادل نے جھک کر کہا
یہ شہزادی قبول کرتی ہیں۔ امثال نےبھی اسکی انداز میں کہا
بھائی ہماری پاکٹ منی ختم ہو گئ ہے۔ امثال نے بازل کو اشارہ کیا تو اس نے بھی ہاں میں ہاں ملائی ۔شہریار دونوں کوپیسے دے کر والٹ جیب میں ڈالنے لگا تو امثال نے اسےٹوکا
بھائی کتنی بری بات ہے آپ بھابھی کو بھی دیں نہ۔ انکی بھی تو ختم ہو گئی ہو گی ۔کیوں بھابھی ۔۔امثال کا یوں سب کے سامنے بھابھی کہنے پر عائشہ سٹپٹا گئی ۔
نہ ۔۔۔نہیں میرے پاس ہیں ۔عائشہ منمنائی تھی
اوہ کم آن بھائی دیں نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ہم آنکھیں بند کر لیتے ہیں چلو عادی اپنی آنکھیں بند کرو۔ امثال نے عادل آنکھوں پر ہاتھ رکھا
خدا کا خوف کرو ژلے ایکسیڈینٹ کروانا ہے کیا۔ عادل نے اپنی آنکھوں سے اسکا ہاتھ ہٹایا
اوہو بھائی اب دے بھی دیں بھابھی کب سے ویٹ کر رہیں ہیں۔ امثال جھنجھلائی تو شہریار نے پانچ ہزار کا نوٹ نکال کر عائشہ کی طرف بڑھایا جسے عائشہ نے ہچکچاتے ہوئے پکڑ لیا پچھلی سیٹوں کی طرف گھوم کر بیٹھی مثال نے سیٹی بجائی
بازی ہمارے تھوڑے نہیں تھے۔۔۔۔۔
ہاں بلکل۔۔۔۔۔۔۔
اپنی اپنی آنکھیں کھول کر دیکھو اتنے ہی تھے۔ شہریار نے عائشہ کو ان کمفرٹ ایبل دیکھا تو دونوں کو گھورا
اچھا ویسے بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باقی کا بعد میں ۔۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے وہ دوبارہ کوئی شوشہ چھوڑتی عادل نے اسے پکڑ کر سیدھا کیا تو منہ بسور کر رہ گئی ۔عائشہ کو کالج چھوڑنے کے بعد شہریار کو ڈراپ کیا اور آخر میں ان دونوں کو یونی چھوڑا
ہمیں لینے کون آئے گا۔بازل نے اترتے ہوئے پوچھا
ڈرائیور آجائے گا اگر نہ آیا تو کال کر دینا میں پک کر لوں گا عادل نے ڈیش بورڈ پر پڑا امثال کا موبائل اٹھاتے ہوئے کہاتو وہ سر ہلا کر باہر نکل گیا امثال نے موبائل اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تواسے غائب پایا
بازی میرا موبائل تمہارے پاس ہے؟
نہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔
یہیں رکھا تھا پھر کہاں گیا؟ امثال نے پریشانی سے کہا
یار ژلے جلدی کرو ۔۔ پہلا لیکچر سر واثق کا ہے اور تمہیں پتہ ہے نہ لیٹ آنے پر کتنا ڈانٹتے ہیں
اچھا تم چلو۔۔ میں ڈھونڈ کر آتی ہوں امثال کہتی ہوئی سیٹ کے نیچے جھکی
کیا کچھ گم ہو گیا ہے؟ ۔۔۔عادل نے مسکراہٹ دبائی
ہاں موبائل رکھا تھا ڈیش بورڈ پر نہیں مل رہا ہے
اچھا کہیں یہ تو نہیں ہے۔ عادل نے موبائل اسکی آنکھوں سامنے لہرایا
اوہ تو تمہارے پاس تھا حد ہو گی میں کب سے ڈھونڈ رہی ہوں بندہ بتا ہی دیتا ہے امثال نے موبائل لینے کے لیے ہاتھ بڑھایاتو عادل نے پیچھے کیا
عادی دو نہ لیٹ ہو رہا ہے
تمہیں اسکی خاص ضرورت نہیں ہے تو آج کا دن میرےپاس رہنے دو ۔ شام میں لے لینا
کیوں تم نے کیا کرنا ہے ؟
بس چاہئیے مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے رکھ لو
اوکے بائے۔ کہتے ہوئے اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا تو عادل نے روکا
کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے کال کر دینا میں گھر چھوڑ دوں گا
صحیح۔۔۔۔ سر ہلاتے ہوئے وہ گاڑی سے نکل گئی اسے یونی کے گیٹ میں داخل ہوتے دیکھ کر اسنے گاڑی سٹارٹ کر کہ ریورس کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائے بیوٹیفل ڈول کہاں جا رہی ہو۔بہرام شاہ نے گاڑی سے نکلتے ہوئے کہا ۔جسے دیکھ امثال کا موڈ خراب ہوا
تم یہاں کیا کر رہے ہو ۔۔۔
آیا تو کام سے تھا، مگر راستے میں تم نظر آ گئیں ۔ویسے بھی کافی دن ہو گئے تھے تمہیں دیکھے ہوئے ۔۔۔ سچ بتاؤں تو جب سے تمہیں دیکھا ہے نہ کچھ اور نظر ہی نہیں آتا ۔۔۔۔ ہر جگہ تم ہی تم ہوتی ہو۔ بہرام شاہ نے اسکے ساتھ پیدل چلتے ہوئے کہا تو وہ دانت پیس کر رہ گئی
کہاں سے آ رہی ہوں۔ اسکو خاموش پا کر بہرام نے کہا
ایک ملازمہ کے بیٹی کی شادی ہے تو ان سے ملنے گئی تھی۔ امثال سڑک پر کوئی تماشا نہیں بنانا چاہتی تھی اس لیے سنجیدگی سے کہا
ہوں۔۔۔۔۔۔ ویسے ان ٹکے ٹکے کے ملازموں کو زیادہ سر پر نہیں چڑھانا چائیے
یہ آپکا مسئلہ نہیں ہے۔ مجھے لوگوں کو ہینڈل کرنا آتا ہے ۔آپ جائیں یہاں سے ۔ لوگ دیکھ رہے ہیں ۔امثال نے ارد گرد نظر دوڑائی
تو دیکھنے دو بہرام شاہ کسی سے ڈرتا نہیں ہے۔۔
آپ نہیں ڈرتے لیکن مجھے اپنی عزت بہت پیاری ہے۔ اس لیے پلیز آپ جائیں یہاں سے ۔۔اس وقت اگر ساریہ بیگم امثال کو اتنی تمیز اوردھیمی آواز میں بات کرتا دیکھ لیتیں تو یقیناً بے ہوش ہو جاتیں
بہت جلد میں اپنے گھر والوں کو بھیجوں گا۔۔
کیوں۔۔ اسکی بات سن کر امثال نے ابرو اچکائے
تمہارے رشتے کے لیے ۔۔
لگتا ہے آپ کو شائد پتہ نہیں ۔اس دن باقی سب کے ساتھ میرا بھی نکاح ہوا تھا عادل سے اور اگر نہ بھی ہوا ہوتا نہ تو بھی میں تم جیسے لوز کریکٹر کے ساتھ کبھی بھی شادی نہ کرتی یہ بات اپنے زہن میں بٹھا لو اور آئندہ میرا راستہ روکنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔امثال اسے وارن کرتے ہوئے کہا اور تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے چلی گئی
اچھا تو اب نہیں ہوگا امثال بی بی ۔میں نے پورے خلوص نیت سے رشتہ بھیجنا چاہا تھا اور اس ایس پی کو تو میں دیکھ لوں گا بڑبڑاتے ہوئے وہ گاڑی میں بیٹھا اور زور سے دروازہ بند کیا
جاری ہے