Rate this Novel
Episode 31
عدی کچھ پتہ چلا کون لوگ تھے؟ امثال نے بازل کو اشارہ کیا تو اس نے عدید سے پوچھا
ہاں۔ عدید کی بات سن کر امثال کا رنگ اڑا تھا جسے عدید نے خاص طور پر نوٹ کیا تھا
تمہاری یہ اڑی رنگت بتا رہی ہے کہ تم جانتی ہو، لیکن مجھےسمجھ نہیں آ رہی بتا کیوں نہیں رہی ہو۔عدید جھنجھلاتے ہوئے اٹھ کر اس کے پاس آیا
مم ۔۔۔۔۔۔ مجھے کیا پتہ عدی ۔ سب کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونے والی امثال اسکے سامنے لڑکھڑا رہی تھی
اوکے ۔۔۔۔ اوکے ، ریلیکس مت بتاؤ۔ امثال جلدی سے باہر نکل گئی
عدی کیا واقعی پتہ چل گیا۔ بازل نے عدید سے پوچھا
یہی تو پرابلم ہے ،ابھی تک کچھ پتہ نہیں چل پایا سب جگہ سے پتہ کروا چکا ہوں ۔مگر ہر جگہ سے یہی جواب ملتا ہے کہ اس دن شہر میں کسی بھی جگہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا ۔میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کیا کروں ؟
چلو تم پریشان نہ ہوں پتہ چل جائےگا۔بات کرتے کرتے اچانک عدید چونکا
یار بازی تم سے تو وہ ہر بات شئیر کرتی ہے ۔ پوچھو ژلے سے ،تمہیں بتا دے گی ۔۔مجھے چین نہیں آتا کہ میری بہن کا مجرم ابھی تک یوں سر عام دندناتا پھر رہا ہے
اچھا ٹھیک ہے میں پوچھتا ہوں تم خود کو یوں ہلکان مت کرو۔ بازل نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائے کزن کیا کر رہی ہو۔۔ فرہاد نے ثریا شاہ کی گود میں سر رکھ کر لیٹی امثال سے کہا زخم کی وجہ سے وہ تین چار دن بعد جمال حویلی آئی تھی ۔فرہاد سے البتہ اسکی کافی بار ملاقات ہو چکی تھی
ٹھیک ہوں تم کیسے ہو ۔۔ پاکستان میں دل لگا یا نہیں؟
دل تو لگتا ہے کچھ زیادہ ہی لگ گیا میرا۔ فرہاد نے مسکاتے لہجے میں کہا
کیوں آتے ہی کوئی پسند کر لی ہے کیا؟ امثال نے رازداری سے پوچھا
شرم کرو۔۔ لڑکیاں یوں منہ پھاڑ کر ایسی باتیں نہیں کرتیں ۔ثریا شاہ نے اسے ٹوکا
ہاں تو وہ اور لڑکیاں ہوتی ہوں گی نہ۔۔۔۔ میں تو امثال شاہ ہوں ۔۔۔۔ اور امثال شاہ سب کچھ کر سکتی ہے ۔۔۔۔ وہ دونوں ہی اسکا شاہانہ انداز دیکھ کر رہ گئے
صحیح کہہ رہی ہو پتر تو واقعی ہی سب کچھ اور بہت کچھ کر سکتی ہے ۔ثریا شاہ نے گہری سانس لی اور اٹھ گئیں
ہاں تم کچھ کہہ رہے تھے فرہاد
میں کہہ رہا تھا دل تو لگ گیا ہے لیکن تھوڑا لیٹ ہو گیا ہوں
اچھا وہ کیسے۔ امثال نے دلچسپی سے پوچھا
اسکا نکاح ہو چکا ہے ۔
اوہ ہ ہ۔۔۔۔ چلو کوئی نہیں تم کوئی اور دیکھ لو کونسا وہ آخری تھی اور اگر پھر بھی وہی چایئے تو ہماری یعنی میری اور بازی کی خدمات لے سکتے ہو ۔یقین کرو مایوس نہیں لوٹو گے
ارے نہیں۔۔۔۔۔۔۔ ضروری تو نہیں جو پسند ہو ،مل بھی جائے وہ خوش رہے ۔کافی ہے میرے لیے ۔ فرہاد کی بات سن کر امثال مسکرائی
واہ بھئی کیا بات ہے ایسا بہت کم لوگ سوچتے ہیں ۔میری دعا ہے کہ اللہ آپکو اس سے بہتر ہمسفر عطا کرے امثال اسے صدقِ دل سے دعا دی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہری بھائی مجھے یونی جانا ہے۔ امثال نے شہریار کو کال کی
ابھی تمہارا زخم ٹھیک سے نہیں بھرا ایک دو دن میں چلی جانا
میری چار چھٹیاں ہوں گئی ہیں بھائی مڈٹرم سر پر ہیں اور میں چھٹیوں پہ چھٹیاں کر رہی ہوں۔۔۔۔ آج کوئز بھی ہے پلیز نہ جانے دیں
کیسے جاؤ گی بازی تو چلا گیا ہے
ہاں تو میں خود چلی جاتی ہوں ویسے بھی اب بازو آسانی سے موو کر سکتی ہوں
ٹھیک ہے ۔۔ گارڈزکوساتھ لے کر جانا
بلکل بھی نہیں میں گارڈز کے ساتھ نہیں جاؤں گی ۔امثال نے منہ بنایا
میں اکیلے نہیں بھیجوں گا تمہیں
بھائی میں کوئی بچی نہیں ہوں جو گارڈز کا تماشہ لے کر گھومتی پھروں۔ امثال جھنجھلائی
مگر بچے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نو اگر مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں جا رہی ہوں تو بس جا رہی ہوں بائے امثال نے کال کاٹ دی اور گاڑی کی چابی اور بیگ لےکر نیچے آئی تو ساریہ بیگم کو ہال میں بیٹھےپایا
ماما میں یونی جا رہی ہوں۔۔۔۔
بیٹا ابھی سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مام میری شہری بھائی سے بات ہوگئ ہے۔۔۔۔ بائے ۔۔۔کہتی وہ جلدی جلدی ہال سے نکل گئ اگر تھوڑی دیراور رکتی تو باری باری سب کو بتانا پڑتا کہ کہاں جا رہی ہو اور کیوں جا رہی ہو گاڑی میں بیٹھتے ہی اسکا موبائل بجا
جی بھائی ۔امثال نے کال پک کر کے کان سے لگاتے ہوئے کہا
ژلے میری بات دھیان سے سنو۔۔تمہارا بازو ٹھیک نہیں ہے ۔اوور سپیڈ نہیں کروگی آہستہ گاڑی چلاو گی ورنہ میں بات نہیں کروں گا تم سے ۔۔ شہریار کی دھمکی سن کر وہ ہنسی
اوکے بھائی نہیں کروں گی آپ پریشان نہ ہوں ۔۔ امثال نے اسے تسلی دی
میری بات یاد رکھنا ٹھیک ہے نہ ۔۔ شہریار نے اسے ایک بار پھر تاکید کی
اوکے ۔۔۔۔۔۔۔اوکے
بھائی بھی نہ وہمی ہو جاتے ہیں امثال بڑبڑاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھی ۔ابھی اس نے شہر کے داخلی راستے پر گاڑی موڑی ہی تھی کہ اچانک اسکی گاڑی لڑکھڑا کر سامنے درخت سے جا ٹکرائی۔
میں نے کہا تھا نہ کہ اگر میری نہ ہوسکی تو کسی اور کے قابل بھی نہیں چھوڑں گا ۔۔بے ہوش ہونے سے پہلے اس نے بہرام شاہ کی آواز سنی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا ہے بھائی آپ ٹھیک ہیں نہ ۔۔ عدید شہریار کے آفس میں داخل ہوا تو اسے ِادھر اُدھر ٹہلتےپایا
پتہ نہیں کیوں ایک عجیب سی بے چینی لگی ہوئی ہے۔جیسے کچھ برا ہونے والا ہے ۔ شہریار نے گردن پرہاتھ پھیرا
کیوں خیریت؟ آپکی طبعیت تو ٹھیک ہے نہ ؟عدید نے فکرمندی سے کہا
ہاں ٹھیک ہوں بس ژلے کی جانب سے فکر لگی ہوئی ہے
آپ یہاں بیٹھیں ۔عدید نے اسے چئیر گھسیٹ کر بٹھایا
اب بتائیں کیا بات ہے
یار ابھی ژلے کا فون آیا تھا وہ کہہ رہی تھی کہ اسے یونی جانا ہے ۔میرے بار بار کہنے کے باوجود بھی وہ گارڈز کو ساتھ لے کے جانے پر راضی نہیں ہوئی اور اب اکیلی آ رہی ہے ۔
تو اس میں پریشانی والی کیا بات ہے وہ پہلے بھی تو آتی جاتی
ہے نہ
پتہ نہیں کیوں میرا دل نہیں مان رہا۔اسے یوں اکیلے نہیں آنا چاہئیے تھا۔ شہریار کی بات سن کر وہ خاموش ہوا
اچھا ایک کام کرتے ہیں وہ ابھی نکلی ہے نہ گاوں سے، تو راستے میں ہوگی ہم چلتے ہیں اسکو راستے سے لے لیں گے ۔عدید نے اٹھتے ہوئے کہا
اوہ ہاں مجھے یہ خیال کیوں نہیں آیا۔ چلوشہریار نے موبائل اٹھایا اور دونوں آگے پیچھے باہر نکل گئے
کب کی نکلی ہوئی ہے اب تک تو اسے پہنچ جانا چایئے تھا راستے میں کہیں بھی نہیں ملی۔وہ تقریباً آدھے سے زیادہ راستہ طے کر چکے تھے
تم اسے کال کرو ہو سکتا ہے یونی پہنچ گئی ہو۔ شہریار نے کہا تو عدیداسکا نمبر ملانے لگا
کال نہیں اٹھا رہی ہے۔۔۔۔۔
دوبارہ ٹرائی کرو نہ ۔۔۔۔۔۔
اوہ مائی گاڈ یہ تو ژلے کی گاڑی ہے۔۔ سامنے کھڑی گاڑی کی حالت دیکھتے ہوئے انکو کو کسی انہونی کا احساس ہوا ۔
نزدیک پہنچ کر گاڑی سے نکلے اور بھاگتے ہوئےاس تک پہنچے جہاں وہ سٹیرنگ پر سر رکھے بیٹھی تھی۔ سائیڈ شیشہ ٹوٹا ہونے کی وجہ سے شہریار نے اندر کی جانب سے دروازہ کھولا اور اسے سیدھا کیا وہ ہوش و حواس سے بیگانہ پڑی تھی ،ماتھے سے خون بہہ کر اسکے چہرے کو تر کر چکا تھا ۔کانچ کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا اسکے ہاتھ اور گال پر چبھا ہوا تھا۔شہریار کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹا
ژلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھائی کی جان ہوش کرو۔ کیا ہوا ہے ؟ عدید نے اسکا گال تھپتھپایا
ہٹو اسے ہوسپیٹل لے کر جانا ہوگا ۔شہریار نے خود کو سنبھالتے ہوئے جلدی سے اسکو ہٹا کر پیچھے کیا اور امثال کو گاڑی سے نکال کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھا عدید بھی پلٹا جب اسکی نظر گاڑی کے ٹائر پر پڑی
آ جاؤ نہ منہ اٹھا کر وہاں کیوں کھڑے ہو۔۔ شہریار اسے وہیں کھڑے دیکھ دہاڑا ۔
اسنے جھک کر گولی نکالی اور جیب میں ڈال کر ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھا
بیٹا اٹھو ۔آنکھیں کھولو نہ۔ شہریار اسکا سر گود میں رکھے ایک ہی بات دہرائے جا رہا تھا
مجھے تمہاری بات نہیں ماننی چاہئیے تھی ژلے، اکیلے نہیں بھجوانا چاہئیے تھا۔ابھی تو تمہارا پہلے والا زخم بھی نہیں بھرا تھا ۔
یا اللہ پلیز اسے کچھ نہ ہو۔ شہریار نےاسکے بالوں پر لب رکھتے ہوئے دعا کی
عدید یہ آنکھیں کیوں نہیں کھول رہی ہے ۔وہ بےبسی سے کبھی امثال کو پکارتا تو کبھی عدید سے بات کرتا
پتہ نہیں میرا بچہ کب سے بے ہوش ہے ۔۔۔۔۔۔۔
تم تو گاڑی تیز چلاؤ نہ یار۔ عدید نے لب بھینچتے ہوئے گاڑی کی سپیڈ بڑھائی
دیکھیں فکر کی کوئی بات نہیں ہے سراور ہاتھ پر چوٹ لگی ہے اور انکے پہلے والے زخم پر بھی کانچ چبھا ہے ہم نے ڈریسنگ کر دی ہے آپ شام تک انہیں گھر لے جا سکتے ہیں ۔ڈاکٹر نے پروفیشنل انداز میں انہیں آگاہ کیا۔ تو دونوں نے گہری سانس خارج کی
تو وہ بے ہوش کیوں ہے ؟عدید نے بے چینی سے پوچھا
پریشان مت ہوں۔ اکثر ایسی سچویشن میں انسان شاک کی وجہ سے بے ہوش ہو جاتا ہے ۔اب وہ ٹھیک ہیں تھوڑی دیر تک ہوش میں آ جائیں گی ۔ آپ میرے ساتھ آئیں
وہ لوگ حویلی پہنچے تو ان تینوں کے کپڑوں پر خون اور امثال کے ماتھے پر بندھی پٹی دیکھ کر ساریہ بیگم کی چیخ نکلی تھی انکی چیخ سن کر آن کی آن میں دونوں حویلیوں کے افراد اکھٹے ہوئے گئے
یہ کیا …..؟ کیا ہوا ہے شہری…؟
کچھ نہیں ماما ہم سب ٹھیک ہیں۔ بس ژلے کو چوٹ لگی ہے آپ اسے بیٹھنے تو دیں نہ زیادہ دیر نہیں کھڑی رہ سکتی
کیسے۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
ایکسیڈینٹ ہوا ہے ۔۔ گاڑی کم سپیڈ سے چلا رہی تھی اس لیےاللہ کا شکر ہے زیادہ نقصان نہیں ہوا ۔۔شہریار نے ماں کو بٹھاتے ہوئے بتایا
کس سے ٹکرائی ہے گاڑی۔ راسم شاہ نے پوچھا
درخت سے شائد سنبھال نہیں پائی تھی گاڑی اس لیے
بھائی ایکسیڈینٹ ہوا نہیں کروایا گیا عدید کے انکشاف پر سب دنگ رہ گئے
کیا مطلب ۔۔شہریار بے اختیار اتھ کھڑا ہوا
یہ بلٹ گاڑی کے ٹائر میں تھی اور بونٹ پر بھی سوراخ تھا ۔عدید نے جیب سے گولی نکال کر شہریار کے سامنے کی
یا اللہ یہ کون منحوس ہاتھ دھو کر میری بچی کے پیچھے پڑ گیا ہے۔بی جان نے امثال کا سر چوما
کچھ پتہ نہیں چل رہا ہے دادو لیکن آپ فکر مت کریں ۔جلد ہی کچھ نہ کچھ ہو جائے گا
عادل کو فون کرو عاصم ، وہ جہاں کہیں بھی ہے ابھی کے ابھی واپس آئے ۔ پولیس میں ہے کچھ تو سراغ ملے گا کہ کون ہے وہ خبیث کی اولاد جو ہماری لاڈلی کی جان کا دشمن ہو رہا ہے ۔ مصطفی شاہ نے کہا تو عاصم شاہ نے عادل کا نمبر ملایا
بند جا رہا ہے بابا سائیں
دادا جان وہ اپنا موبائل یہیں چھوڑ گئے ہیں ،انکے روم میں پڑا ہے اسکی بات سن کر انہوں نے سر جھٹکا
شاہ پتر تو نے تو اس کو دیکھا تو ہو گا نہ جس نے فائرنگ کی تھی۔ ؟؟؟ مصطفی شاہ کی بات سن کر امثال نے نظریں چرائیں
نہیں دادا جانی میں نے نہیں دیکھا۔ میں تو اپنے دھیان میں جا رہی تھی کہ اچانک گاڑی ڈگمگائی اور سامنے درخت میں جا لگی اس کی بات سن کر عدید نے مٹھیاں بھینچیں جانتا تھا کہ وہ اب بھی چھپا رہی ہے لیکن اس پر سختی کر کہ پوچھنا نہیں چاہتا تھا اس لیے ضبط کر کہ رہ گیا
کیوں اپنی جان کے دشمن بن رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔اپنے قرض بڑھاتے جا رہے ہو بہرام شاہ۔ امثال نے انکھیں بند کرتے سوچا
جاری ہے
