Tum Joh Aaye Zindagi Mein By Shagufta Kanwal Readelle50238

Tum Joh Aaye Zindagi Mein By Shagufta Kanwal Readelle50238 Last updated: 15 September 2025

62.1K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum joh Aaye Zindagi Mein

By Shagufta Kanwal

 

رخصتی کا دن آن پہنچا تھا وہ سب صبح ہی شہر والے گھر میں آگے تھے گھر کا لان چونکہ کافی بڑا تھا اس لیے شہریار نے گھر میں ہی ارینجمنٹ کروایا تھا رمل اور عائشہ اسے پالر سے لے کر آگئی تھیں ڈیپ ریڈ کلر کے لہنگے میں بہت حسین لگ رہی تھی ۔ عادی میں بیٹھ بیٹھ کر تھک گئی ہوں اور مسکرا مسکرا کر میرا جبڑا بھی دکھنے لگا ہے اب اگر کسی نے تصویر بنواتے ہوئے سمائل کرنے کا کہا نے تو میں نے اٹھ کر اسکا منہ توڑ دینا ہے امثال نے دانت پیسے عادل نے اسکی طرف دیکھا جسے دلہن بنی بیٹھی کو بھی چین نہیں تھا بس تھوڑی دیر اور صبر کر لو اور پلیز کچھ مت کرنا کہتی ہو تو تمہارے آگے ہاتھ بھی جوڑ دیتا ہوں۔ عادل نے منت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا کوئی بھروسہ نہیں واقعی اٹھ کر کسی نہ کسی کی شامت لے آئے نہیں مطلب دلہنوں پر ہی لازم ہے کہ خاموش اور سنجیدہ بیٹھیں دلہے تو ایسا کچھ نہیں کرتے اور تم بھی میری بات کان کھول کر سن لو اب اگر اٹھ کر گئے نہ یہاں سے تو میں بھی تمہارے پیچھے آ جاؤں گی مجھے یہاں بٹھا کر خود گھومنے کے لیے نکل پڑتے ہو ۔ امثال کے انگلی اٹھا کر وارن کرنے پر وہ اسے دیکھ کر رہ گیا میں تمہیں صرف حوصلہ ہی دے سکتا ہوں اللہ تمہاری حفاظت کرے ۔ امان نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا وہ کب سے امثال کو عادل کو گھورتا دیکھ رہا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں رخصتی کا شور اٹھا تو امثال اپنے کپڑے سمیٹنے لگی گویا اٹھنے کی تیاری کر رہی تھی امثال خدا کا واسطہ ہے کیا کر رہی ہو سب دیکھ رہے ہیں ۔عادل نے اسکا بازو پکڑ کر واپس بٹھایا تو وہ منہ بنا کر بیٹھ گئی قرآن پاک کے سائے تلے اسے گاڑی تک لایا گیا ۔ شہریار ہاتھ میں قران پاک لیے پیچھے پیچھے آ رہا تھا جبکہ عدید نے اسکا لہنگا پکڑا ہوا تھا ۔گاڑی کے پاس رک کر وہ سب سے ملی۔ ساریہ اور راسم شاہ سے ملنے کے بعدشہریار سے ملنے لگی تو اسکا رخصتی کے وقت نہ رونے کا دعوا ٹوٹا تھا اسکے گلے لگ کر وہ جو روئی، وہاں موجود ہر شخص کی انکھیں نم ہوئیں تھی رمل نے آگے برھ کر انہیں الگ کروایا عدید سے ملنے کے بعد وہ بازل کے گلے لگی تو زندگی کے کئی مناظر دونوں کی آنکھوں کے سامنے لہرائے تھے عادل ہماری بہن کا خیال رکھنا اگر کبھی کوئی غلطی ہو جائے تو پلیز معاف کر دینا عدید نے عادل کا ہاتھ پکڑتے ہوئے التجا کی ۔وہ جو کسی کے سامنے جھک کر بات نہیں کرتا تھا اپنی بہن کی خاطر التجا کر رہا تھا عادل بھائی پلیز میری ٹوئنی کا خیال رکھیے گا بہت لاڈ اور نازوں سے پالا ہے ہم نے کوئی تکلیف نہیں ہونی چایئے ورنہ۔۔۔ بازل نے بات ادھوری چھوڑی اوہ یار سب کہہ رہے ہو اسکا خیال رکھنا مجھے کوئی نہیں کہہ رہا کہ اپنا خیال رکھنا حالاں کہ مجھے اسکی زیادہ ضرورت ہے اپنی بہن کو جانتے نہیں ہو کیا ۔عادل نے شرارت سے کہا تو امثال نے نا محسوس انداز میں اسکے پاؤں پر اپنی ہیل ماری جس پر وہ کراہ کر رہ گیا لالہ رخ اور رمل نے اسے گاڑی میں بٹھایا اور اپنی منزل کو روانہ ہو گئے جاری ہے