Rate this Novel
Episode 23
کل سے گھر میں بہت خاموشی تھی اور سب لوگ اسکی وجہ ساریہ بیگم کو ٹھہرا رہے تھے رات ڈنر بھی ان تینوں بہن بھائیوں اور راسم صاحب نے امثال کے روم میں کیا تھا ۔صبح ورزش کے لیے بھی امثال خود اٹھ کر آ گئی تھی ۔اب بھی وہ نہایت ہی سنجیدگی سے ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھی صبر کے ساتھ ویٹ کر رہی تھی خلافِ توقع بازل بھی خاموش تھا جبکہ پہلے ایک طوفان برپا ہوتا تھا ناشتے کے ٹائم پر اور ساریہ بیگم بوکھلا کر رہ جاتی تھی
بھائی آفس جاتے ہوئے مجھے اور بازی کو بھی لیتے جائیے گا۔ امثال نے اخبار پڑتے شہریار کو مخاطب کیا تو اس نے سر ہلا دیا
کیوں پتر خیریت۔ بی جان نے پوچھا انہیں لگا کہ شائد وہ کل والی بات کے بعد یہاں نہیں رہنا چاہتی
ہاں دادو وہ ہمیں شہری بھائی کے سٹاف سے ملنا ہے اس لیے
کیوں سٹاف سے کیوں ملنا ہے۔ شہریار نے حیرت سے پوچھا
وہ بھائی ایک چھوٹا سا پروجیکٹ ہے کافی دنوں سے سبمٹ کروایا ہوا تھا کل دوپہر انکی کال آئی تھی کہ وہ اپروو ہو گیا ہے تو اس کے لیے ورکرز کی ضرورت ہے تو ہم نے سوچا کہ آپ کے سٹاف سے بات کر لیتے ہیں اگر وہ اوور ٹائم لگالیں تو ہم انکو پے کر دیں گے۔ امثال نے کہا
اور پروجیکٹ کیا ہے۔ شہریار نے دلچپسی سے پوچھا
وہ سرپرائز ہے بہت جلد پتہ چل جائے گا ۔ امثال نے جواب دیا
ویسے کتنی بری بات ہے نہ پروجیکٹ کا پوچھ رہے ہیں یہ نہیں پوچھا کہ ژلے بیٹا آپکو سپانسر کی ضرورت تو نہیں۔ امثال نے انکھیں گھمائیں
اچھا بتاؤ تمہیں پیسوں کی ضرورت تو نہیں شہریار نے مسکرایا
ہاں نہ ۔۔۔ہے نہ۔۔۔۔۔۔ بہت ہے ۔۔۔اس لیے ہماری یعنی امثال شاہ کی طرف سے آپ کو حکم دیا جاتا ہے کہ کہ ایک بڑے پروجیکٹ کے اخراجات کے حساب سے رقم ہمارے اکاونٹ میں جمع کروا دی جائے۔۔ آفس پہنچ کر پہلا کام ہمارا ہونا چایئے ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ورنہ کیا ۔۔۔۔ شہریار نے ابرو اچکائے
پلیز اچھے بھائی نہیں ہیں کروا دینا نہ ۔۔۔۔ امثال نے اسکا ہاتھ پکڑا،پل میں اسکا شاہانہ پن غائب ہوتے دیکھ کر وہ ہنسا تھا اسکو اپنے پرانے موڈ میں آتا دیکھ کر سب نے سکھ کا سانس لیا
ساریہ بیگم نے ناشتہ لا کہ رکھا تو وہ جلدی جلدی کرنے لگی بی جان نے اسے یوں جلدی جلدی کھاتا دیکھا تو ٹوکا
آرام سے کھاؤ ژلے ۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے دادو اپ کو نہیں پتہ شہری بھائی چڑیا جتنا کھاتے ہیں انکا ابھی ختم ہوجائے گا اور ہم بیٹھے رہیں گے۔ اچھا دادو ،ماما ہم جا رہے ہیں اور شام میں واپس نہیں آئیں گے کام چونکہ زیادہ ہے اور بھائی کے سٹاف سے کام کروانا ہے تو لیٹ ہو جایا کرے گا ۔اس لیے ہم لوگ آٹھ دس دن تک فاریہ خالہ کے پاس رہیں گے۔بازی میرے روم سے میرا بیگ بھی لیتے آنا ۔مثال نے نیپکن سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے کہا تو ساریہ بیگم نے بی جان کی طرف دیکھا کہ ہمیشہ کی طرح وہ روک لیں گی لیکن انہیں بی جان کی بات سن کر حیرانی ہوئی
اچھا پتر ٹھیک ہے خیر سے جاؤ اور مجھے کال کرتے رہنا ۔عادت ہو گئی ہے نہ تم لوگوں کی ۔۔مشکل تو ہوگی لیکن تم لوگوں کام ہے تو منع بھی نہیں کر سکتی ۔۔
صحیح ۔۔۔۔ اللہ حافظ ماما بابا ۔۔۔اللہ حا فظ دادو۔ وہ کہتی کھڑی ہوئی۔ ہمیشہ اسکی گال چوم کر خدا حافظ کہنے والی عادت سے چڑنے والی ساریہ بیگم نےاسکا یوں زبان سے کہنا شدت سے محسوس کیا تھا ابھی وہ دروازے تک ہی پہنچی تھی کہ راسم صاحب نے اسے پکارا
رکو ژلے یہاں آؤ۔۔۔
جی بابا ۔۔۔۔۔۔۔
گڈ بائے کہنے کا تمہارا انداز یہ تو کبھی بھی نہیں رہا
وہ ماما کو اچھا نہیں لگتا نہ اس لیے میں نے سوچا چھوڑ دیتی ہوں ۔ ویسے بھی بہت تنگ کر لیا ہے ماما کو۔ اب خود کو بدل ہی لینا چائیے امثال نے سنجیدگی سے کہا
تمہاری ماما کو اچھا نہیں لگتا لیکن تمہارے بابا کو یہ انداز اچھا نہیں لگا ۔واپس آؤ اور مجھے پرانا گڈ بائے چائیے راسم صاحب کی بات سن کر اس نے گہری سانس لی اور واپس پلٹی انکا گال چوم کر اللہ حاٖفظ کہا اور جانے کےلیے مڑی جب مصطفی شاہ نے روکا
بیٹا سائیں ہماری عادتیں خراب کر کہ اب خود کو بدل رہی ہو یہ تو کوئی اچھی بات نہ ہوئی نہ ۔۔۔۔
سوری دادا جانی کہتے ہوئے انکے گلے لگی
اوکے بائے بابا بائے ماما باہر سے ہارن کی آواز سن کر وہ جلدی جلدی کہتی باہر کی بھاگی ۔پیچھے ساریہ بیگم خاموش کھڑی تھیں ۔
آپ۔۔۔آپ نےروکاکیوں نہیں انہیں۔کیسے رہیں گے وہ اتنے دن وہاں فاریہ آپا کے پاس ۔ ساریہ بیگم نے دھیمی آواز میں کہا ۔وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ انکے بغیر وہ کیسے رہیں گئ
اچھا ہے رہنے دو۔ کچھ دن آپکو سکون مل جائے گا اور ویسے بھی آپکو تو خوش ہونا چایئے جان چھوٹ رہی ہے آپکی ۔۔اب بےفکری سے رہ سکتی ہیں آپ ۔ سرد لہجے میں کہتے ہوئے وہ اٹھ کر باہر نکل گئے
خدیجہ میری چائے تو لا اب کیایہیں کھڑی رہو گی۔ خدیجہ بیگم کو کھڑے دروازے کی طرف تکتا پایا۔ تو بی جان نے کہا
میں لا دیتی ہوں ۔ساریہ بیگم کچن کی طرف بڑھیں جب بی جان نے نہیں روکا
رہنے دو تم خدیجہ میری چائے میرے کمرے میں دے جانا کہہ کر وہ اٹھ گئیں
ساریہ تمہیں یوں ہاتھ نہیں اٹھانا چایئے تھا ۔اس نے کون سا جان بوجھ کر گرایا تھا رمل کو اور ویسے بھی اسے زیادہ چوٹ نہیں لگی تھی خدیجہ بیگم کہتی کچن کی طرف بڑھیں پیچھے وہ اکیلی کھڑی دروازے کو تک رہیں تھیں جہاں سے ابھی وہ دونوں نکلے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کو گئے آٹھ دن ہو گے تھے عدید اور شہریار کے سٹاف کے ساتھ مل کر وہ اپنا کام تقریبا نمٹا چکے تھے۔ بی جان سے بھی روز بات ہو جاتی اور ساریہ بیگم کو کال کر کہ وہ حال احوال پوچھ لیتے راسم صاحب کالج سے واپسی پر ان سے مل کر آتے شہریار بھی اکژر رات کو وہیں رک جاتا ۔فاریہ کے گھر ان دونوں کے آ جانے سے خاصی رونق لگی ہوئی تھی ،البتہ حویلی سناٹوں کی زد میں تھی سب لوگ پھر سے اپنی پرانی روٹین پرلوٹ رہے تھے کبھی کوئی کہیں تو کوئی کہیں ۔ مگر کھانے کی ٹیبل پر جب اکھٹے بیٹھتے تو انکو بہت مس کرتے انکی باتیں یاد کر کہ مسکراتے کہ اگر وہ ہوتے تو یہ کہتے یہ کرتے۔۔ بی جان بھی حویلی کی خاموشی سے بیزار ہوچکی تھیں انکی یہ بیزاری غصے کی صورت میں کبھی ملازموں پرنکلتی تو کبھی گھر کے باقی افراد پر ۔ساریہ بیگم تو انکے خاص زیرعتاب تھیں ۔ اس وقت بھی وہ ساریہ بیگم کو بے چینی سے ادھر ادھر ٹہلتا دیکھ رہیں تھیں اور وجہ بھی سمجھ رہیں تھیں۔
نہ اگر اتنے ہی یاد آ رہے ہیں تو جا کہ مل کیوں نہیں آتی ۔۔ بی جان نے اسے گھرکا تو وہ بے بسی سے انہیں دیکھ کر رہ گئیں
میری حویلی کی رونق چھین کر تم نے اچھا نہیں کیا۔ انہوں نے افسوس سے سر ہلایا
اماں جان میں نے یہ سب تو نہیں چاہا تھا۔مجھے بس غصہ آ گیا تھا۔ باقی لڑکیوں کی سنجیدگی اور روئیے کو دیکھتی تھی تو مجھے لگتا تھا میری بیٹی کو بھی ایسا ہی ہونا چائیے، لیکن اب احساس ہو رہا ہے میں غلط تھی وہ سنجیدہ ہوئی ہے تو سب کچھ خالی خالی اور ویران لگ رہا ہے ۔اسکی ہنسی سنے کتنے دن گزر گئے ہیں ۔فون بھی کرتی ہے تو حال احوال پوچھ کر بند کر دیتی ہے کتنے دن ہوگئے ہیں اسکی شکل دیکھے ۔پتا نہیں ٹھیک بھی ہو گی یا نہیں ۔۔
اپنا رویہ دیکھا تھا کبھی تو نے انکے ساتھ ہر بات پر تو انکی برائی کرتی تھی سب کے سامنے انکو باتیں سنا دیتی ڈانٹ دیتی لیکن وہ پھر بھی نظر انداز کر دیتے تھے لیکن اس بار تو تم نے حد ہی کر دی بی جان کے کہنے پر انہوں نے اپنی آنکھیں صاف کی
اچھا چل اب دل چھوٹا نہ کر کام سے گئے ہیں آ جائیں گے اگر زیاد ہی یاد آ رہی ہے تو کال کر کہ بلا لو۔ بی جان کہتی اٹھ کر چل دیں
السلام و علیکم ماما دادو کیسی ہیں آپ لوگ ۔امثال کہتی ہال میں داخل ہوئی تو ساریہ بیگم اٹھ کر جلدی سے اسکی طرف لپکیں اور اسے گلے لگایا
کیسی ہو۔۔۔ ایسی بھی کیا ناراضگی کہ ماں کو بھول ہی گئی ۔ساریہ بیگم نے شکوہ کیا
نہیں ماما ناراض نہیں ہوں میں بس مصروف تھی نہ اس لیے نہیں آ پائی۔۔۔
اچھا پہلےبھی تومصروف ہوتی تھی ۔ایسا تو کبھی نہیں کیا جانتی ہوں میرے رویے کی وجہ سے ناراض ہو ۔ہونا بھی چایئے لیکن اتنی لمبی ناراضگی۔ساریہ بیگم نے اسکا منہ چوما
کم آن ماما ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماما سے کون ناراض ہوتا ہے بھلا۔سچی میں، میں بہت بزی تھی امثال نے کہا
بھئی ہٹو بھی۔۔۔۔۔ مجھے ملنے دو اپنے پتر سے۔۔۔ بی جان نے انہیں علیحدہ کیا
میں تمہارے لیے کچھ کھانے کو لاتی ہوں اسے بٹھاتی وہ کچن کی طرف بڑھیں ۔بی جان کے پاس بیٹھ کر وہ باتیں کرنے لگی
اچھا عاشی آپو مجھے نہ آپکے ڈریسز چائیں کچھ دن کے لیے۔۔ آپ پلیز پیک کر دیں مجھے ابھی واپس جانا ہے ۔امثال نے عائشہ سے کہا تو وہ اٹھ گئی۔
کب آؤ گے ۔۔۔۔ ساریہ بیگم نے نوڈلز اسکو پکڑائے
پرسوں تک آ جائیں گے دعا کیجیے گا کامیاب ہوجائیں امثال کہتی ہوئی چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عاشی آپی کدھر ہیں آپ ۔جلدی سے آئیں ایک دھماکے دار نیوز ہے امثال اور بازل نے حویلی میں داخل ہوتے شور مچایا تھا انکی آواز سن کر سب کے چہروں پر مسکراہٹ آئی تھی
کیا ہوا ۔۔عائشہ کچن سے ہاتھ صاف کرتی نکلی امثال نے اگے بڑھ کر گول گول گھمانا شروع کر دیا
کیا ہوا امثال ۔۔۔عائشہ اسکے انداز پر ہنسی تھی
آپو گیس واٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک فنٹاسٹک قسم کی نیوز ہے سنیں گی تو ہوش اڑ جائیں گے آپکے۔ امثال نے اس پکڑ کر دوبارہ گھمایا
اچھا بتاو نہ۔ عائشہ نے ہنستے ہوئے پوچھا
آپکو پتہ آپکے ڈریسز ٹاپ پر رہے ہیں کمپیٹیشن میں ۔۔۔ چھ کے تو آرڈر بھی آ چکے ہیں امثال نے اسکا ہاتھ پکڑ کر کہا تو اسے جھٹکا لگا
میرے ڈریسز مگر میں نے کسی کمپیٹیشن میں حصہ نہیں لیا تھا
آپ نے نہیں لیا تھا لیکن ہم نے لیا تھا میں آپکو تفصیل بتاتی ہوں آپ کو پتہ ہے میں نے اور بازی نے نہ اپکے ڈیئزائنز کمپیٹیشن کے لیے دیے تھے وہاں سے اپروو ہونے کے بعد ایک فیشن شو ارینج کیا جو کہ سپر ڈوپر رہا پھر ہم نے ایک آنلائن سٹور بنایا عاشی کلیکشن کے نام سے چھ آرڈر آچکےہیں اس وقت ہر جگہ دھوم مچی ہوئی ہے آپکے ڈیزائنز کی ۔۔ میں بہت خوش ہوں امثال اسکے گلے لگتی ہوئی بولی
سچ کہہ رہی ہو۔ عائشہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا
بلکل مچ کہہ رہی ہوں۔امثال نے کہا
مگر تم نے ڈیزائنز کہاں سے لیے اور اس سب میں خرچہ بھی تو بہت آیا ہو گا اور کتنی محنت کرنا پڑی ہو گی عائشہ نے فکرمندی سے کہا
آپکی پہلی بات کا جواب ہے وہ تو آپکے روم سے لیے تھے اور لاک ہیئر پن سے کھولا تھا خرچہ بھی بہت ہوا تھا لیکن شہری بھائی اور عدی زندہ باد اور جہاں تک محنت کی بات ہے تو واقعی بہت کرنا پڑی بہت زیادہ تھک گئے اور اسکا صرف ایک ہی حل ہے کہ ایک اچھے سے ریسٹورینٹ میں ایک زبردست سی ٹریٹ ہونی چائیے امثال نے کہا تو ہنسی تھی
کیوں نہیں گڑیایہ بتاؤ ابھی کچھ کھاؤ گی ۔عائشہ نے پوچھا
نہیں کچھ نہیں آپ ادھر آئیں بازی میرے بیگ سے نکال کر آپو کو دو۔ امثال نے کہا تو بازل نے ایک لفافہ اسکی طرف بڑھایا
یہ کیا ہے ۔اس نے حیرانگی سے کہا
دو ڈریسز کی ڈلیوری ہو چکی، چار ابھی بھیج کر آئے ہیں کل تک پےمنٹ ہوجائے گی یہ ان دو کی پےمنٹ ہے گن لینا۔ آ تی ہے نہ گنتی۔ امثال نے شرارت سے کہا۔ساریہ بیگم فخر سے اپنی بیٹی کو دیکھ رہیں تھیں ۔واقعی ہی وہ اپنی بیٹی کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھییں انہوں نے صحیح کہا تھا انکی بیٹی یہاں کی لڑکیوں سے الگ ہے ۔ انکے جیسی ہو ہی نہیں سکتی ایک فخریہ مسکراہٹ تھی انکے چہرےپر۔
اچھا اب اگر ہوگیا ہو تو ماں سے بھی مل لو ساریہ بیگم اسکی طرف بڑھی
کیسی ہیں آپ ۔امثال نے سنجیدہ ہوکر کہا تو وہ بجھ کر رہ گئیں
واپس آنے کے بعد بھی اسکی سنجیدگی ہنوز برقرار تھی اب تو اسنے کچن میں ہیلپ کرنا شروع کر دی تھی بات بات پہ قہقہے نہیں لگاتی تھی اور نہ ہی کوئی شرارت کی تھی ۔ہمیشہ کی طرح بازل بھی اسکے ساتھ ہی پایا جاتا تھا ۔دونوں مل کر کبھی کچھ کھانے کو بنا رہے ہوتے تو کبھی برتن دھو رہے ہوتے۔
خدیجہ خالہ چائے میں چینی کتنی ڈالوں امثال نے پوچھا تووہ اسکی طرف پلٹی
ژلے بیٹا مجھ سے بھی ناراض ہو میں نے توتمہیں کچھ نہیں کہا۔
نہیں خالہ میں بھلا آپ سے کیون ناراض ہونے لگی۔۔۔۔۔۔
تو پھر مجھے ڈی جے خالہ کہنا کیوں چھوڑ دیا ہے۔۔۔۔۔
ماما کو برا لگتا ہے آپ کو اس طرح سے پکارنا۔۔۔
تمہاری ماں کو لگتا ہے مجھے نہیں لگتا بہت دنوں سے کسی نے مجھے ڈی جے خالہ نہیں کہا۔ بہت مس کر رہی ہوں۔۔۔۔
اورمیں بھی فوزیہ ڈارلنگ کو بہت مس کر رہی ہوں ۔ بریانی دم پر رکھتے ہوئے فوزیہ بیگم نے کہا
اوکے ڈی جے خالہ اب خوش اس نے ہنستے ہوئے کہا کچن کے باہر کھڑی ساریہ بیگم خاموشی سے واپس پلٹ گئیں تھیں
تم نے ابھی تک ماں کو معاف نہیں کیا ساریہ بیگم نے اسکے پاس بیٹھتے ہوئے کہا
نہیں ماما ایسی بات نہیں ہے آپ ایسا کیوں سوچتی ہیں۔ امثال نے انکی گود میں سر رکھا
تو پھر میری نٹ کھٹ ژلے کو کہاں چھوڑ آئی ہو ۔انہوں نے اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے کہا
آپ کو اچھی نہیں لگتی تھی نہ تو میں نےسوچا اسکو چھوڑ دیتی ہوں آپ کو شرمندگی ہوتی تھی نہ ہماری وجہ سے اس لیے۔۔۔
اس وقت شرمندگی ہوتی تھی لیکن اب تمہیں اتنی سنجیدہ دیکھ کر مجھے تکلیف ہوتی ہے پلیز بس کر دو نہ کتنے دن ہوگئےہیں تمہاری کوئی شکائت نہیں آئی میرے پاس اور میں تم لوگوں کو ڈانٹا نہیں تمہارا کوئی قہقہہ نہیں گونجا اور میں نے تمہیں ٹوکا نہیں انہوں نےاسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما
دیکھ لیں پھر اپکو ہی مسئلہ ہوگا۔ امثال نے آنکھیں مٹکائیں تو وہ مسکرائیں
بلکل بھی نہیں ہوگا۔۔۔۔۔
پکا نہ ۔۔۔۔۔۔۔امثال نے کنفرم کرنا چاہا
بلکل پکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور سنو تم اپنے اس سب سے بڑے حمائتی عدید کو مت بتانا ۔۔۔ تم تو آسانی سے مان گئی ہو اگر اسے پتہ چلا تو ایک لمبے عرصے کا بائیکاٹ سمجھو
ہاہاہاہا ساریہ شاہ کو اپنے بیٹے کا اتنا خوف ۔۔امثال نے ہنستے ہوئے کہا ویسے اگر میں بتا دوں تو ۔۔۔
پلیز مت بتانا اچھی بیٹی نہیں ہو ۔۔ساریہ بیگم نے امثال کے انداز میں کہا تو لاونج میں دونوں کا قہقہ گونجا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دادو مجھے آپ لوگوں سے بات کرنی ہے امثال بی جان کےروم میں داخل ہوئی تو لالہ رخ اور مصطفی شاہ بھی وہیں تھے
ہاں پتر بول بی جان نے اسے اپنے پاس بٹھایا
پہلے وعدہ کریں جب تک میری بات ختم نہیں ہو گی آپ ٹوکیں گی نہیں اور نہ ہی کوئی یہاں سے اٹھ کر جائے گا اور میری بات پر غور بھی کریں گے۔ امثال نے تمہید باندھی
ایسی کیا بات ہے ۔۔۔ بی جان کا ماتھا ٹھنکا
ہے نہ پہلے آپ پرومس کریں امثال نے انکا ہاتھ پکڑا
اچھا ٹھیک ہے وعدہ بی جان نے کہا
دادو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں جمال شاہ انکل سے ملی تھی امثال کی بات سن کر تینوں نے اسے حیرانگی سے دیکھا تھا
لیکن پتر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ نے وعدہ کیا تھا کہ آپ مجھے نہیں ٹوکیں گی ۔۔امثال نے وعدہ یاد دلایا تو وہ خاموش ہو گئیں
ہماری پہلی ملاقات اتفاقی تھی میں نہیں جانتی تھی انہیں۔ انکی گاڑی خراب ہو گئی تھی تو میں نے انہیں لفٹ دی اور دوسری بار وہ خود ملنے آئے تھے شہر میں ۔ وہ معافی مانگنا چاہتے ہیں آپ سے ۔ دادو سب کچھ پہلے جیسا کرنا چاہتے ہیں گو کہ سب کچھ نہیں ہو سکتا لیکن کچھ ٹھیک تو کر سکتے ہیں نہ۔ امثال نے ساری بات بتانے کے بعد بی جان سے کہا
تم نہیں جانتی انہوں نے ہمارے ساتھ کیا کیا ہے۔ بی جان کے لہجے میں دکھ کی آمیزش تھی
جانتی ہوں دادو سب جانتی ہوں انکی وجہ سے آپ نے بہت سفر کیا ہے لالہ پھپو سب سے زیادہ ہرٹ ہوئیں ان سب میں لیکن انکا بھی توکوئی قصور نہیں تھا انہوں نے بھی تو آپ سے اتنے عرصہ آپ لوگوں سے دوری سہی ہے خاندان کی باتیں سنیں ہیں لیکن وہ وقت اب گزر چکا ہے دادو۔ آپ اس وقت کو سامنے رکھیں ۔امان بھائی اور رمل آپو کو دیکھیں انہیں بھی تو ددھیال کی ضرورت ہے آپکو نہیں پتہ پھپو میں بتاتی ہوں بچپن سے لے کر اب تک ہم نے جب بھی ماما بابا سے ددھیال ننھیال کے بارے میں پوچھا تھا انہوں نے بس یہی بتایا کہ آپ ان سے ناراض ہیں ہم لوگ نہیں مل سکتے آپ سے اور ہم بھی آپکو نہیں جانتے تھے تو ہمارے لیے آسان تھا کہ انکی بات سن کر خاموش ہو جانا لیکن ان دونوں نے دیکھا ہوا ہے اپنا ددھیال جانتے ہیں کہ کون ہیں وہ ۔سر راہ ملاقات بھی ہو جاتی ہو گی بہت مشکل ہوتا ہوگا اپنے خونی رشتوں سے نظریں چراہ کر اجنبیوں کی طرح گزر جانا پلیز آپ ان کے لیے ہی سب بھلا دیں باپ کا نہ صحیح ددھیال کا پیارتو مل جائے گا نہ۔مانتی ہوں آپکے کے لیے بہت مشکل ہوگا لیکن اپنے بچوں کے لیے تو بھول سکتی ہیں نہ پلیز۔۔۔ اور پھر یہ بھی تو دیکھیں نہ کتنے رشتے ہیں دادو کی بہن ہے ثریا آنٹی اور جمال انکل دادا جانی کے بھائی ۔آپکے بچوں کے دادا دادی ہیں تو کیا ایک شخص کی غلطی کی سزا آپ اتنے سارے لوگوں کو دیں گی میری باتوں پر غور کیجیے گا زیادتی آپکے ساتھ ہوئی تھی تو فیصلہ بھی آپ ہی کیجئیے جن کی غلطی تھی وہ بھگت کر اس دنیا سے جا چکے ہیں تو آپ بھی بھلا دیں ۔ امثال نے لالہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا
دادا جانی پلیز بس کر دیں نہ ۔بہت ہو گیا بیس سال کا عرصہ کم نہیں ہوتا ۔عمر کا ایک حصہ ہوتا ہے معاف کر دیں انہیں اگر اب بھی نہیں کریں گے تو یہ ناراضگی نسلوں تک چلے گی ،میری باتوں کو ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچئیے ۔وہ لوگ ایک دو دن تک آئیں گے آپ لوگ پلیز کوئی مثبت فیصلہ کیجئیے گا ۔ امثال نے ایک نظر سب کی طرف دیکھا انکو سوچ میں ڈوبا دیکھ کر وہ باہر نکل گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم لوگ ۔۔۔۔۔۔۔۔ تم لوگ کیا کر رہے ہو یہاں ۔۔۔۔ مصطفی شاہ نے جمال فیملی کو ہال میں داخل ہوتے دیکھا تو پوچھا سبھی لوگ حیرت سے گنگ تھے ۔انکے آنے کا صرف ان چاروں کو ہی پتہ تھا
معافی مانگنے آئے ہیں تم سے ۔۔۔ جو ہمارے بیٹے نے کیا ہم شرمندہ ہیں اس پر ۔۔چاہ کر بھی نہیں بدل سکتے ۔۔لیکن جو ہو رہا ہے اسے تو بدل سکتے ہیں ویسے بھی جو اس سب کی وجہ بنا تھا اسکو اس دنیا سے گئے پندرہ سال گزر چکے ہیں.پلیز اب تو معاف کر دو بیس سال کی سزا کافی نہیں ہے
ارے جمال انکل آپکی سوری میں دم نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مزہ نہیں آ رہا ۔۔ایموشن۔۔۔ ایموشن پیدا کریں۔۔۔۔۔ تھوڑا فیل لائیں یار ۔۔۔فیلنگ کے ساتھ سوری کریں نہ ۔چھجے پر بیٹھی امثال نے ہانک لگائی ان کی نظریں اوپر اٹھیں تو امثال اور بازل کو فرسٹ پورشن کے چھجے پر بیٹھے دیکھ کر سب کی آنکھیں کھلیں تھیں
ژلے اگر میں اوپر آگئی نہ تو، میں بھی پوری فیلینگ کے ساتھ جوتے لگاؤں گی تمہیں ۔منہ بند کر کہ بیٹھو ۔ ساریہ بیگم نے اسے گھرکا ۔ہمیشہ یہ لڑکی غلط موقع پر زبان کھولتی تھی
سوری۔۔۔ آپ کیری آن کر لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں اب نہیں بولتی ۔امثال نے ہونٹوں پر انگلی رکھی
پلیز مصطفی ۔۔۔ میں جانتا ہوں اچھا نہیں کیا ہم نے آپکے ساتھ ۔۔۔۔مگر جو بھی ہوا اس میں ہمارا بھی تو کوئی قصور نہیں تھا ۔غلطی ہمارے بیٹے نے کی تھی ۔سزا ہم نے بھگتی اور اگر آپ مزید بھی کوئی سزا دینا چاہیں تو ہم حاضر ہیں پلیز جانتا ہوں سب بھلانا آسان نہیں لیکن تم کوشش تو کر سکتے ہو نہ۔۔۔۔۔ تمہارا بڑا بھائی ہوں اور بڑا بھائی تو باپ کی جگہ ہوتا ہے ۔اسی بات کو دیکھ کر ہی اپنا دل بڑا کر لو یار مرنے سے پہلے ایک بار گلے لگا کر کہہ دو جاؤ جمال شاہ میں نے تمہیں معاف کیا ۔ جمال شاہ نے ساکت کھڑے مصطفی شاہ کی طرف دیکھا
ہم نے آپکو معاف کیا ۔۔ سب کی نظریں لالہ رخ کی طرف اٹھیں امثال کا اٹکا ہوا سانس بحال ہوا تھا
ہاں تایا جان ہم نے معاف کیا آپکو ۔۔۔ آپ بھی ہمیں معاف کر دیجیے گا اور پلیزیہ مرنے مارنے کی باتیں دوبارہ نہیں کیجیے گا ابھی تو ہمیں آپکی بہت ضرورت ہے ہمارے بچوں کو ضرورت ہے ۔لالہ رخ کہتی انکے پاس آئی تو جمال شاہ نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا اور دوبارہ مصطفی شاہ کی طرف متوجہ ہوا بھائی کے گلے نہیں لگو گے کتنے سال بیت گئے ہیں جمال شاہ نے کہا تو وہ آگے بڑھ کر انکے گلے لگے تھے معاف کر دینایار جمال شاہ نے دوبارہ کہا ثریا شاہ ہاجرہ شاہ سے مل کر خدیجہ بیگم اور ساریہ بیگم کی طرف مڑی جو نم آنکھیں لیے انہیں ہی دیکھ رہیں تھیں
ماں سے نہیں ملو گی ثریا شاہ نے کہا وہ دونوں انکے گلے لگیں امثال بازل کی آنکھیں اور منہ بیک وقت کھلے تھے
اوہ تیری یہ کیا سین ہے بھئی ۔امثال نے بازل کو کہنی ماری تو اس نے بھی نفی میں سر ہلایا
پتر نیچے تو آؤ اپنے نانا نانی سے تو ملو ۔ثریا شاہ کی بات سن کر دونوں اچھلے توازن برقرار نہ رہنے کی وجہ سے دھڑام سے اوپر نیچے زمین پر آ گرے تھے سب ہونق بنے انہیں دیکھ رہے تھے اور سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ ہوا کیا ہے
ہٹو نہ ژلے میرا سانس بند کر کہ دم لو گی کیا۔ بازل نے اسے دھکا دیا
مرو تم مجھے بھی گرا دیا ۔ شہریار نے آگے بڑھ کر دونوں اٹھایا
پتر کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ٹھیک ہو ۔۔۔۔۔ ہاجرہ بیگم انکی طرف بڑھی
ہمیں کیا پتہ دادو کیا ہوا ہے ہم تو خود ابھی آئے ہیں امثال چھجے کے نیچے کھڑے ہو کر جائزہ لینے لگی
پتر ایسے کیا دیکھ رہی ہے ۔مصطفی شاہ کو حیرانی ہوئی
دیکھ رہی ہوں اس طرح بندہ جلدی نیچے نہیں آ جاتا ۔امثال نے گال پر انگلی ٹکاتے ہوئے کہا تو ساریہ بیگم نے نفی میں سر ہلایا کچھ بھی ہو جائےانکی اولاد نہیں سدھر سکتی
اچھا اب ادھر تو آ نہ اپنی نانی سے تو مل ثریا شاہ نے کہا
ویسے میں نے اپ سے کہا تھا نہ کہ میری لائف تھوڑی فلمی ہے رشتےدار اچانک سے نمودار ہوتے ہیں میرے۔ امثال نے کہا تو وہ مسکرائیں تھیں
جاری ہے
