Musalat By Binte Aslam Readelle50190 Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
آخری قسط
موجودہ دن ….
نعمان فون پر بات کرتا ونڈو کے پاس آیا جہاں فریحہ نیچے لان میں منان کے پیچھے بھاگ رہی تھی اور منان بھاگ رہا تھا اریبہ کے پیچھے ہاں اریبہ اسنے اپنا وعدہ نبھایا فریحہ کے نام پر اسے گود لیا ۔ اسکے تمام اکاوئنٹس اور مینشن سرکاری خاطےمیں چلے گئے تھے جوجو اور ذی ذی جانتے تھے کہ نعمان زندہ ہے پر وہ بلکل ہی الگ زندگی گزار رہے تھے انھوں نے نعمان سے معافی بھی مانگی تھے ۔مگر واپس اسکے پاس نہیں آئے تھے دن میں یونی اور دوپہر سے رات وہ کیفے چلاتے تھے حلال کماتے تھے کسی لڑکی کے سامنے نظریں نہیں اٹھاتے تھے حالانکہ ان دو کنواروں کو دیکھنے کے لیے کیفے لڑکیوں سے بھرا رہتا مگر وہ تو کسی اور کی ہی معافی کے منتظر تھے ۔نعمان کی سیٹلمنٹ میں فریحہ کی فیملی نے سپورٹ کیا تھا جسکی بدولت انھوں نے ایک ریسٹورنٹ کھولا تھا جہاں حلال حرام کی تمیز رکھی جاتی تھی وہاں شراب کا قطرہ تک نہیں تھا وہ اپنے ملک میں جانا چاہتا تھا مگر نہیں جاسکتا تھا وہ شرمندہ تھا اس سے جسکو جلانے میں اسنے ہوئی کسر نہیں چھوڑی تھی عفت کی شادی میں بھی وہ چھپ کرایا تھا ۔بس اب سادہ سی زندگی گزار رہا تھا اپنے گھر اپنے اپنوں کو کھونے بعد وہ فریحہ منان اور اریبہ کو پوری دنیا بنا بیٹھا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے بارہ بجے تھے جب امبر کے ساکن وجود میں حرکت ہونے لگی وہ لمبے لمبے سانس لے رہی تھی اور اسی دوران اسکی آنکھیں بھی کھل گئی تھیں پلکیں اتنی بھاری لگ رہی تھیں جیسے آنکھوں پر پتھر رکھ دیا ہو!! اسنے ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی اسکے گلے میں کانٹے آگ آئے تھے وہ پانی پینا چاہتی تھی نقاہت سے اٹھتی وہ بیڈ سے اتری کہ نچے گر گئی ” آہ !! اسکی ٹانگیں بے جان ہو رہی تھی دروازہ بند تھا وہ اپنے آپ کو گھسیٹتی دروازے تک پہنچی ” کھولو اسے کھولو !!! وہ دروازہ بجا رہی تھی گارڈ جو کچھ عجیب محسوس ہوا تو اسنے دروازہ کھولنے کی کوشش سامنے وہ نیچے بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی ” مم۔۔میں کہاں ہوں !!
“ ڈاکٹر صاحب !! ڈاکٹر صاحب !!! وہ گارڈ کو بلا رہا تھا ” ڈاکٹر اذلان پیشنٹ نمبر 32 امبر آفتاب کومہ سے باہر آگئی ہیں !! اذلان کا دل دھڑک اٹھا تو جس چہرے کو وہ دو سال سے خاموش دیکھ رہا تھا آج اسے وہ حرکت کرتا دیکھے گا ” انکی فیملی کو انفارم کریں !! سٹیتھو سکوپ اٹھاتا وہ اسکے کمرے تک پہنچا جہاں نرس اسے اٹھا کر چلانے کی کوشش کررہی تھی جو ہو نہیں پارہا تھا اس سے پیر ہلایا بھی نہیں جارہا تھا ” ننن۔۔۔۔۔ہہ۔۔ہو پپ۔۔۔پارہا !! دو سال بعد اس زبان سے کوئی لفظ چاہے اٹک اٹک کر سہی نکلے تو تھے اذلان سے اسکی تکلیف دیکھی نہیں جارہی تھی اسلیے نرس کی پرواہ کیے بغیر اسے باہوں میں اٹھا کر بیٹھ پر لیٹا دیا اور خود مسکرا کر اسے دیکھنے لگا گول چہرا کلین شیو بلو آئیز وہ جوجو سے کم خوبصورت تو نہیں تھا ” ویلکم بیک ٹو لائف سلیپنگ میرا مطلب امبر آپ ؟”وہ اجنبیوں کی طرح اسکا چہرا دیکھ رہی تھی جب دروازہ کھلا ” امبر !!! دانیال فری لائبہ اسکے والدین سب باہر کھڑے تھے ” ام۔۔۔۔۔امی !!! ” اپنے ماں کے گلے لگ کر وہ زاروقطار رو رہی تھی اذلان کے دل کو کچھ ہورہا تھا ” دو سال ان آنکھوں کے کھلنے کا انتظار اسلیے تو نہیں کیا تھا کہ ان میں آنسوں دیکھ سکوں!
اسکی ماں اسکا چہرا ہاتھ گردن سب چوم رہی تھی سب اس سے پیار کررہے تھے لائبہ دروازے کے پاس خود پر قابو کیے کھڑے تھے ” لل۔۔لائبہ !!
“ تو بہت کمینی ہے کیا ضرورت تھی کھڑکی سے چھلانگ لگانے کی !!” امبر نے دانیال کی جانب دیکھا ” ار۔۔۔۔ارمان شیرازی زندہ ہے ! دانیال نے نفی میں سر ہلایا اسکے سر پر ہاتھ رکھا ” اسی دن ختم کردیا تھا اتنا بڑا فیصلہ کیوں لیا اپنے بھائی پر یقین نہیں تھی ۔”
“ یقین ہی ۔۔۔۔تو کیا تھا جو۔۔۔جوجو پر !! اذلان نے حیرت سے اسے دیکھا ” خیر جو ہوگیا سو ہوگیا وہ دونوں اور شیرازی سب جاچکے ہیں اب سب ٹھیک ہے ! دانیال آگے بڑھ کر اذلان کے گلہ لگا تھا پھر ہاتھ ملایا ” تھینک یو اذلان میری بہن کو تب ٹریٹ کرنے کے لیے جب سب ڈاکٹرز نے کہہ دیا تھا یہ کومہ سے باہر نہیں آئے گی !!
“ اب امریکہ ریٹرن کا کوئی تو فائدا ہوتا اچھا دانیال یہ جو جوجو ائی تھنک یہی نام لیا تھا اسنے کون تھے ۔”
“ تمہیں نعمان شیرازی کے بارے میں پتا ہے !!
“ یس وہ کرپٹ ایم این اے جو بم بلاسٹ میں مارا گیا تھا !
“ ہاں وہی جوجو ذی ذی اسکے بھانجے تھے اسکا بھائی ارمان شیرازی ایک ریپ کیس میں آیا تھا اسے مارا تھا میں نے اسکا بدلہ لینے کے لیے اسنے ان بچوں کو غلط گائیڈ کیا انھوں نے امبر اور لائبہ کو ٹریپ کیا تھا بدلہ لینے کے لیے انکے اکیڈمی فیلوز تھے .”
“ او سیڈ بٹ جوجو ذی ذی عجیب نام نہیں ہے ؟”اسنے ہنس کر کہا تھا
“ نہیں یہ انکے نِک نیمز ہیں انکے اصلی نام تو جبار ہمدانی اور زوار ہمدانی ہے !! نام سن کر اذلان کے ہونٹ سکڑ گئے تھے” جبار ہمدانی!!! ” اسے لگا شاید اتفاق ہو اسلیے اپنا شک دور کرنے کے لیے اسنے سوال کیا ” اچھا تو اب کہاں ہے وہ دونوں !”
” دو سال۔پہلے شیرازیز کی ڈیتھ کے بعد مینشن انکی پراپرٹی ضبط ہوگئی تھی تو وہ لوگ اپنے اولڈ ہاؤس چلے گئے تھے اور اب وہ لوگ ایک کیفے چلاتے ہیں شاہد ہمدانی کیفے !! اذلان کے کان سائیں سائیں کر رہے تھے دانیال کو وہیں چھوڑ کر وہ تیز قدم لیتا باہر گاڑی میں آیا ڈیڑھ سال پہلے کے کچھ منظر نظروں کے سامنے آئے
“ڈیڑھ سال پہلے ۔۔۔
ازالان امریکہ میں اپنے چاچا اور بیواہ ماں کے ساتھ سیٹل۔تھا بچپن میں ہی اسکے والد کی موت ہوگئی تھی اسکی تعلیمی اخراجات اسکے چاچا نے اٹھائے تھے امریکہ سے ایجوکیشن حاصل کرکے وہ پاکستان اپنے ملک کی خدمت کرنے آگیا تھا یہاں اسنے ایک پرائیوٹ ہوسپیٹل میں جاب شروع کر دی تھی اس ہوسپیٹل کی جو سب سے انٹرسٹنگ پیشنٹ اسے لگی تھی وہ تھی کومہ میں گئی امبر جسے دیکھ کر اسے دکھ ہوتا تھا اتنی چھوٹی عمر میں کیا ہوا تھا کہ یہ اس حالت میں پہنچ پائی وہ اس سے چھوٹی تھی مگر چاہ کر بھی وہ اسے بچی کی بجائے مخالف جنس سے ہی دیکھ پایا تھا جسکے پاس جاکر اسے سکون ملتا تھا ایک کشش اسے کھینچتی تھی دانیال اور ڈاکٹر کی پرمیشن لیکر اسنے امبر کا ٹریٹمنٹ خود کرنے کا کہا تھا ۔وہ کام کے بعد اکثر کیفیز میں کافی پیتا تھا مگر اسے مزا نہیں آتا تھا پھر ایک دن وہ ہمدانی کیفے گیا ” دیکھو یار میں کافی کا فین ہوں اور وہ بھی اچھی والی تو تمہارے کیفے کا جو بیسٹ کافی میکر ہے نہ اسے کہوں میرے لیے کافی بنائے لاہور کے بہت سے کیفے دیکھے مگر پلیز یہاں کچھ پلا دو !! ویٹر نے یہی بات اندر ان دونوں کو بتائی ذی ذی نے جو جو کو دیکھا ” سر کہہ رہا ہے امریکہ ریٹرن ہوں اور پاکستان سے بہت پیار کرتا ہوں اور مجھے یہاں کی بیسٹ کافی پینی ہے ! ذی ذی نے پھر جوجو کو دیکھا جو کوٹ اتار کر کف فولڈ کررہا تھا ” سامان لاو !وہ پروفیشنل طریقے سے کافی بنا رہا تھا ماتھے پر بکھرے بال اور اتنا ہینڈ سم لگ رہا تھا کہ فی میل سٹاف کام پر توجہ نہیں دے رہا تھا وہ محسوس کرپارہا تھا ” لیڈیز فوکس ان ورک !!وہ کھجل سی ہوگئی تھیں اسنے کافی بنائی اور اس پر ویلکم ٹو پاکستان لکھ کر اسے بھیج دی کافی پی کر اذالان شاک رہ گیاتھا ” بھائی لاو تمہارے ہاتھ چومو !!! ویٹر ہنس دیا تھا
” یہ اس کیفے کے مالک نے بنائی ہے جو ولڈ بیسٹ کافی بناتے ہیں !! ازالان نے لاکھ کہا مگر وہ اس سے نہیں ملا تھا جاتے وقت اذالان کی جیب سے ایک گھڑی گری تھی جسکا شیشہ نہیں تھا اسکی چین بھی پرانی تھی ۔
شام تک وہ کام میں بزی رہا تھا واپسی پر اسنے جیب کھنگالی تو گھڑی نہیں تھی ڈھونڈی مگر نہیں ملی آخری امید تھی کیفے وہ رونے والا ہوگیا تھا کیفے بند ہورہا تھا اور وہ ترلے کررہا تھا آخر سٹاف نے اسے اندر آنے دیا وہ میزوں کرسیوں کے نیچے دیکھ رہا تھا جب اسکے کانوں میں آواز آئی “
I think you are searching for this young man !!!
اسنے نظر اٹھا کر اسے دیکھا جبار کے ہاتھ میں وہ گھڑی تھی اسنء بھاگ کر اسے پکڑا اسے دیکھ کر وہ اسکے گلے لگ گیا تھا جبار حیران ہی رہ گیا تھا “تھینک یو تم نہیں جانتے تم نے مجھے میرے فادر واپس کیے ہیں ! جبار مسکرا دیا اذلان اس سے الگ ہوا ” مائی نیم ڈاکٹر اذلان محمد !!!”
“ جبار ہمدانی !! انھوں نے ہاتھ ملایا ” میرے ورکرز اسے پھینک دیتے مگر اس پر محمد لکھا تھا اسلیے سنبھال لیا میں نے !!”
“ یہ میرے محروم والد کی گھڑی ہے میں بہت چھوٹا تھا جب وہ انتقال کرگئے یہ ہر چیز سے قیمتی ہے تھینک یو !!” اثبات میں سر ہلا کر جبار اندر جانے لگا جب پھر بولا ” آج دوپہر کافی تم نے بنائی تھی !” جبار نے حیرت سے اسے دیکھا ” ایک کسٹمر کے لیے بنائی تھی !!
“ یار کیا کافی بناتی ہو امی کی یاد آگئی میرے دوست بنو گے !! اذلان کی نیچر دیکھ کر جبار کو امبر یاد آگئی تھی ” ہم دوست بھی بن سکتے ہیں !!”
“ میں دوست نہیں بناتا !!وہ جانے لگے جب وہ پھر چیخا ” تو بیسٹ فرینڈ بنا لو !! جبار نے مسکرا کر اسے دیکھا اسکے چہرے کی معصومیت کسی کو بھی قائل کرسکتی تھی آخر جبار نے اس سے ہاتھ ملا لیا وہ دونوں بیسٹ فرینڈ بن گئے تھے جبار نے کبھی کسی کے لیے کافی نہیں بنائی تھی مگر اسکے لیے بناتا تھا ” یار میرے علاوہ تم کسی کو اپنے ہاتھ کی کافی نہیں پلاتے ! وہ کپ میں کافی بیٹ کررہا تھا ” تمہارے بعد جسکو پلانی ہے وہ ابھی پی نہیں سکتی !!”
“ ہائے اللہ میری سوتن تیری گرل فرینڈ کیوں اسکے لپس جُڑے ہیں کیا !”
“ یہی سمجھ لو وہ بس مجھ سے دور ہے ابھی !! اسنے بے بسی سے کہا ” اچھا چل نام تو بتا دیا ؟”
جبار نے چند لمحے اسکے چہرے کو دیکھا پھر بولا ” ام ام !اذلان گلہ پھاڑ کر ہنس دیا تھا ” یہ کیسا نام ہے
موجودہ دن ۔۔۔
ام ام یعنی امبر ! اسنے سٹیررنگ پر مکا مارا وہ کیفے پہنچ گیا تھا ” جبار !! جبار !!!اسکی آواز سن کر جبار کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی جبار زوار ایک ساتھ باہر آئے ” آگیا بیٹھ کافی بناتا ہوں !!مگر اذالان کے تو تیور ہی کچھ اور تھے اسنے جبار کا گریبان پکڑ لیا تھا ” یہ کیا بد تمیزی ہے اذلان چھوڑو جبار کو !! ذی ذی اسے دھکیل رہا تھا اور جبار کنگ اسے دیکھ ہی رہا تھا ” جبار یا جوجو امبر کا جوجو !!! گریبان پر گرفت مضبوط کرتے اسنے جبار کے پیروں کی نیچے سے زمین کھینچ لی تھی ” ام ام یعنی امبر وہی جسکے ہونٹ جُڑے تھے جو دو سال سے کومہ میں تھی !!٫جوجو ذی ذی نے حیرت سے اسے دیکھا ” تھی مطلب”
“ ہاں میری پیشنٹ امبر آفتاب کومہ سے باہر آگئی ہے جسکو تونے اس حالت میں پہنچایا تھا تونے ڈِچ کیا تھا !!
“ میں نے اسے ڈِچ نہیں کیا تھا !! اسنے دھکیل کر اذالان کو دور پھینکا ” میں نے اسے ڈِچ نہیں کیا تھا میں محبت کرتا ہوں اس سے دو سال سے ایک دن نہیں گیا جب اسے دیکھنے نہیں گیا اسکے پیر پکڑ کر معافی نہیں مانگی اسکے بالوں میں انگلیاں نہیں پھیری اسکے چہرے کو نہیں چھوا ہاں کبھی اسکی بے ہوشی کا غلط فائدا نہیں اٹھایا “بے بسی سے انکھیں نم۔ہوگئی تھیں ” دو سال پہلے شیرازیز اور پولیس کے مابین جنگ نے قیامت برپا کی تھی صرف لاہور نہیں جلا تھا کئی رشتے اعتبار محبت یقین بہت کچھ جل کر راکھ کردیا تھا اسنے کتنے لوگ نہیں گئے پہلے ایس پی مرزا کا نعمان ماموں کو پکڑنا ارمان ماموں کا کسی لڑکی کا ریپ کرنا نعمان ماموں کا اریسٹ ہونا شہر میں دنگے فساد ہونا پھر امبر لائبہ امبر کا کومہ میں جانا ارمان ماموں کا انکاؤنٹر شہر میں انتشار بڑھنا پھر علیم بھائی کا انکاؤنٹر عفت خالہ کا کڈنیپ نعمان ماموں کا سب تباہ ہونا اور آخر میں بم بلاسٹ میں انکی موت !!! ذی ذی نے نظر اٹھا کر جوجو کو دیکھا انھیں پرمیشن نہیں تھی نعمان کی اصلیت شئیر کرنے کی ۔ان سب میں ہمارا گناہ یہ تھا کہ ہم احسان کے ملبے تلے امبر اور لائبہ کی معصومیت اور یقین دے بیٹھے ہم نہیں جانتے اس دن فارم ہاؤس کے روم میں کیا ہوا تھا جو انھوں نے اتنا بڑا قدم اٹھایا پر یقین جانو ہم نے دو سال کا ایک دن نہیں چھوڑا جب انسے معافی مانگنے نہیں گئے ہر روز لائبہ کے آگے ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہوتا ہے یہ !! اسنے ذی ذی کی طرف اشارہ کیا جو خاموش تھا ” سب چھوڑ دیا مینشن اپنا لیونگ سٹائل سٹڈی یہاں تک کے جوجو ذی ذی کہلانا بھی چھوڑ دیا ۔” وہ خاموش ہوگیا تھا اذلان پوری ہسڑی سن کر سٹیٹک ہوگیا تھا اتنا سب ہوا تھا سب ایک دوسرے سے بدلہ لینے کی آگ میں جلے تھے ” میں نہ دوست بہت کم بناتا ہوں تم وہ واحد تھے جسے میں نے بیسٹ فرینڈ بنایا تھا اسلیے کہ میں تمہارا احسان مند تھا مگر جہاں تم غلط تھے میں نے تمہارا گریبان پکڑ لیا تمہارا کیسا احسان تھا جو تم غلط کا ساتھ دیتے رہے عورت کو تو جنگ میں مارنے کی اجازت نہیں تم نے محبت کے نام سے مار دیا عورت تو سکون ہوتی ہے مرد کا لباس ہوتی ہے اسکی عزت ہوتی اپنی عزت کیسے داؤ پر لگا دی جبار تم نے او میرے خدایا بدلے کے جزبات کس قدر مسلط تھے تم لوگوں پر جو اپنی محبتیں اپنا گھر خود جلا رہے تھے میں اجنبی ملک میں رہ کر اپنے ملک کی خدمت کا عزم پالتا رہا اور تم لوگ اس ملک میں رہ کر اسکی جڑریں کاٹتے رہے !”
“ ہم شیرازیز نہیں ہیں ہم ہمدانی ہیں مگر ہم نعمان ماموں سے ہے پیار کرتے تھے لیکن جب احساس ہوا گناہوں کی بستی میں رہ رہے ہیں تو کوچ کر لیا تھا اور کفارہ کرنے لگے تھے اذلان تم بیسٹ فرینڈ ہو نہ میرے تم سمجھاؤ نہ امبر کو پلیز !! ازالان نے اسکا ہاتھ کندھے سے ہٹایا ” نہیں میں اس کہانی کا حصہ نہیں بنو گا میں کسی پر کچھ مسلط نہیں کروں گا نہ امبر پر اپنا آپ اور نہ تمہارے لیے جزبات آج اگر تم لوگ تکلیف میں ہو نہ تو اپنی وجہ سے ہو یہ اسکا فیصلہ ہوگاوہ تمہیں معاف کرے یا نہیں ورنہ ہجر قسمت ہے تمہاری !! آنسوں پونچھ کر وہ چلا گیا تھا ” اگر امبر کا ہجر میری قسمت ہے تو اسکی قربت کس کی قسمت ہے !! اذلان کے قدم جامد ہوگئے تھے اسکی ہمت نہیں ہورہی تھی کہ پلٹ سکے ” جسکے بھی ہو پر اب میرے نہیں ہوگا اور اج اس شہرِ ستم گر سے بھی چلا جاؤں گا ۔” اسکے جانے کے بعد وہ ذی ذی کے گلے لگ کر رو دیا تھا ۔
چند دن بعد۔۔۔۔۔
امبر کو وہ لوگ گھر لے آئے تھے اذلان وہ ہوا کا جھونکا بن کر آیا تھا جسنے امبر کا رُخ زندگی کی طرف موڑا تھا اور پھر بنا کچھ کہے چلا گیا جتنے دن امبر کو آئے ہوئے تھے اتنے دن سے ہی ہر روز جوجو ذی ذی اس سے ملنے کی کوشش کرتے جنہیں اسکی جھلک بھی نہیں دکھائی گئی تھی لائبہ انکی کُتوں والی کرتی تھی آج بھی وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ڈرائنگ روم میں آئی تھی اسے ابھی بھی چلنے میں مشکل ہوتی تھی اسلیے وہ زیادہ وقت فری کے ساتھ اسکے کمرے میں گزارتی تھی لائبہ ذی ذی کو نکلنے کا کہہ رہی تھی اور جوجو اسے کہہ رہا تھا ” پلیز لائبہ میری غلطی کی سزا اسے مت دو ہر روز عزتِ نفس مار کر آتے ہیں !!”
وہ سن سکتی تھی جب وہ کومہ میں تھی جوجو آتا تھا اس سے باتیں کرتا تھا روتا تھا معافی مانگتا تھا یہ بھی کہتا تھا کہ ذی ذی کا کوئی قصور نہیں ہے وہ لائبہ سے بہت محبت کرتا ہے پلیز اسے کہو اسے معاف کردے !! وہ دروازے تک پہنچی تو وہ جا رہے تھے ” بات سنیں مسٹر جبار ہمدانی !! اسنے چابی لگاتے رخ بدلہ تو وہ سامنے سادہ سی فراک میں کافی کمزور لگ رہی تھی اسکے چہرے کی رونق کہیں غائب ہوگئی تھی ” مجھے تم سے بات کرنی ہے اکیلے میں ؟”لائبہ ذی ذی کو حیرت ہوئی تھی ذی ذی سر جھکائے اس سے دور ہوگیا تھا لائبہ کے تھوڑا قریب ” کک۔۔کیسی ہو امبر !!
“ مر گئی تھی اسی دن جس دن تم نے مارنے کی کوشش کی تھی !! نشتر سیدھا دل پر لگا تھا ” تم یہ چاہتے ہو نہ کہ لائبہ ذی ذی کو معاف کردے !” اسنے اثبات میں سر ہلا دیا ” تو ٹھیک تمہیں ذی ذی سے الگ ہونا ہوگا یہ دو چہرے اب سے صرف ایک نظر آئیں گے میں لائبہ سے بات کروں گی تم مجھ سے وعدہ کرو ان دونوں کی زندگی سے دور چلے جاؤ گے !! کیا کہہ رہی تھی وہ سینے سے دل نکالنے کو ذی ذی اور وہ ایک دوسرے کا سایہ تھے وہ سایہ چھوڑنے کی بات کررہی تھی اسنے گہرا سانس لیکر ذی ذی کو دیکھا جو اس سے پوچھ رہا تھا اشاروں سے ” لائبہ ذی ذی سے نکاح کرلے گی نہ ؟”
“ وہ محبت کرتی ہے اس سے آج بھی میں منا لوں گی اسے وعدہ کرو تم ان دونوں سے ہمیشہ کے لیے دور چلے جاؤ گے !! اسنے پر نم آنکھوں سے ذی ذی کو دیکھا” میں مر جاؤں گا جوجو لائبہ کے بغیر میں مر جاؤں گا !! اسنے گہرا سانس لیا ” وعدہ جس دن لائبہ ذی ذی کو معاف کردے گی اس دن میں ان دونوں کی زندگی سے چلا جاؤں گا وعدہ !!
“اجا ذی ذی !! اسے آواز دے کر وہ بائیک پر بیٹھ گیا ” کیا کہہ رہی تھی ؟
“ ذی ذی تیرا نکاح ہوگا لائبہ سے امبر نے مجھے معاف کردیا !! ذی ذی کا منہ کھلا رہ گیا تھا ” سچی یا اللہ تیرا شکر ہے !ذی ذی خوش ہوگیا تھا ۔
سارا دن لائبہ اس سے پوچھ پوچھ کر تھک گئی تھی مگر ابھی وہ سب آئے تھے تو بات کرنا شروع ہوئی تھی ” بابا بھائی میں نے ایک فیصلہ کیا ہے جوجو اور ذی ذی کو دیکھ کر !! انھوں نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا ” کومہ میں مجھے سنائی دیتا تھا دکھائی نہیں مگر سن پاتی تھی جوجو آتا تھا معافی مانگتا تھا !!” اس بات پر بھی سب حیران ہوئے تھے کسی کو بھی علم نہیں تھا سوائے اس دن کے جس دن جوجو دن میں گیا تھا ” ذی ذی کی اس کی غلطی نہیں تھی وہ لائبہ سے سچ میں محبت کرتا ہے اسنے جوجو کو منع بھی کیا تھا مگر جوجو نے نہیں سنی اسلیے قصور وار جوجو ہے ذی ذی نہیں لائبہ ذی ذی کو معاف کردو !! لائبہ نے حیرت سے اسے دیکھا وہ اپنے باپ بھائی سے شرمندہ بھی ہوگئی تھی “میں جانتی ہوں آج بھی تم پسند کرتی ہو اسے تو کردو معاف میری خواہش سمجھ کر !! وہ ابھی بھی دانیال کو دیکھ رہی تھی جو اسے گھور رہا تھا اسے ڈر تھا کہیں اسکا جواب انھیں پسند نہ ایا تو دانیال نے گہرا سانس لیا ” لائبہ ڈو یو لو ذی ذی !! اسنے چہرا اٹھا کر دانیال کو دیکھا اور اثبات میں سر ہلا دیا ان دونوں باپ بیٹے نے ایک دوسرے کو دیکھا ” امبر جو جو؟
“ مجھے نہیں پتہ میں اسے معاف کر پاؤں گی یا نہیں !! اپنا فیصلہ سنا کر وہ اوپر چلی گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذی ذی کیفے میں بیٹھا تھا جب اسے ویٹر نے بتایا کہ ایک کسٹمر زوار سر سے ملنا چاہتی ہے ! اسے شدید حیرت ہوئی تھی جب وہ باہر آیا تھا لائبہ کیفے کو دیکھ رہی تھی ” چوٹے اچھا کیفے بنایا ہے میں تو کبھی آئی نہیں یہاں کافی بھی اچھی بناتے ہو یا بس ایویں !! اسے دیکھ کر ذی ذی کا منہ کھلا رہ گیا تھا ” ابے او میں سچ میں ہوں یہ دیکھو !! اسنے ذی ذی کی ناک کھینچی ذی ذی کو تو یقین نہیں ہورہا تھا کہ لائبہ ہے وہ یقین لانا چاہتا تھا اسلیے اسنے اسے گلے لگا لیا تھا اٹائٹ کرکے ” آئی لو یو !! مجھے یقین نہیں آرہا تم نے مجھے معاف کردیا !!!جوجو کی روح خوش ہوگئ تھی ذی ذی کو ایسے دیکھ کر لائبہ کی نظر جب سٹاف اور جوجو پر پڑی تھی وہ دانت چھپاتی پیچھے ہوگئی اور جوجو کو دیکھنے لگی ” امبر کہتی ہے وہ تمہیں معاف کردے گی پر تھوڑا وقت لگے بس اس سے کیا وعدہ نبھانا !! اسنے ایک نظر دروازے میں کھڑی امبر کو دیکھا اور پھر پیار سے ذی ذی کو اس سے دور الٹے قدم لینے لگا دل اتنا بھر گیا تھا کہ کسی وقت بھی پھٹ جاتا !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ جو جو کیا ضرورت ہے جانے کی ؟” جوجو سامان باندھ رہا تھا اسنے نعمان سے بات کی تھی اسنے اسے وہاں بلا لیا تھا ۔” دیکھ نعمان ماموں اکیلے ہیں انھیں ضرورت ہے منان چھوٹا ہے تو ہم ہی انکے بڑے بیٹے ہیں تو جانا پڑے گا ؟”
“ دو سال سے ماموں خود سنبھال رہے ہیں ہوٹل اب ایسا کیا ہوگیا !! ذی ذی رونے والا ہوگیا تھا ۔” دیکھ ذی ذی اب ہم بڑے ہوگئے ہیں اسلیے تو اس کیفے کو سنبھال لائبہ کو سنبھال میں واپس آ جاؤں گا نہ چند سالوں میں !!” ذی ذی کا رنگ اڑ گیا تھا مگر جوجو نے اسے منا ہی لیا تھا ۔
آج جوجو کی فلائٹ تھی لائبہ اور امبر آئیں تھیں لائبہ اور زی زی کی انگیجمنٹ ہوگئی تھی اور انھیں امید تھی امبر جوجو بھی ٹھیک ہو جائیں گے مگر حقیقت کچھ اور تھی وہ خاموش سنجیدہ سی وہاں کھڑی تھی جوجو ذی ذی سے مل کر جارہا تھا سامان کھینچ رہا تھا اسے امید تھی شاید امبر آواز دے مگر چلتے چلتے وہ جہاز کے اندر پہنچ رہا تھا اپنی سیٹ پر بیٹھ کر سر سیٹ سے ٹکائے آنسوں جاری ہوگئی تھی اسنے نہیں بلا یا تھا یعنی قسمت میں سچ میں ہجر تھا جہاز ٹیک آف ہونے والا تھا جب اسنے ونڈو کے باہر دیکھا جہاں امبر ایک بورڈ لیے کھڑی تھی ” انتظار کرنا میری معافی کا میں کردو گی آخر !! نم آنکھوں کے ساتھ بھی وہ ہنس دیا تھا جہاز ٹیک آف کرگیا مگر جوجو ناامید کر ہوکر نہیں گیا تھا ایک امید لیکر گیا تھا کہ امبر اسے معاف کردے گی اسکی سزا ختم ہوجائے گی پیچھے امبر لائبہ کے گلے لگ کر رو دی تھی ” میں اسے معاف کردوں گی پر تھوڑا وقت لگے گا !! “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہاں اریبہ حسن کی سیڑھیاں چڑھ رہی تھی تو وہاں رافع کی جوانی عروج پر آرہی تھی منان بھاگنے لگا تھا تو پریشے نے بغیر سہارے کی چلنا سیکھ لیا تھا موسیٰ شیطان کی ٹوٹی تھا تو شمسا شانت ندی کچھ کردار تھے کچھ آنے والے تھے
عروج پر جب انکی جوانیاں ہونگی ۔۔۔۔
ایک بار پھر سے شروع مسلط کی کہانیاں ہونگی ۔۔۔۔
ختم شدہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
