96.1K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

ناول # مسلط
ازقلم # بنت اسلم
قسط نمبر 19
” اس پروجیکٹ میں آپکو انویسٹ کرنے کا سب سے بڑا فائیدہ آپکو یہ ہے کہ یہ پروجیکٹ پہلی بار پاکستان میں ایسٹیبلش کررہے ہیں پاکستان جتنے بھی نائٹ کلبس ہیں وہ انڈد گراؤنڈ ہیں مگر یہ پہلا ہوگا جو نائٹ کلب کے ساتھ فائیو سٹار ہوٹل بھی ہوگا جس کی پرمیشن میں لے چکا ہوں اب پولیٹکس میں ہونے کا کوئی فائیدہ تو ہو عام نظروں میں وہ ہائی پروفائل ہوٹل ہوگا جہاں حلال حرام کا خیال رکھا جائے گا مگر وہاں کی تمام ڈرنکس میں وہ لوازمات میں وہ ڈرگز استمعال کیے جائیں گے جو نا صرف مین ایمپاورمنٹ کو انکریز کرے گی بلکے انکے جسموں کی اندر نشے کی لت کا ایسا بیج بوتی ہے کہ نہ نہ کرتے بھی وہ اسکے بنا رہ ہی نہیں پاتا ! پروجیکٹر کی سکرین آن ہوگئی ” یہ ہمارے ہوٹل کا سٹکچر ہے یہ مین ہال ہے جہاں ایک طرف ڈرنکس کاوئنٹر ہے مین سٹیج سیٹنگ ایریاز اور یہ بلاسٹ ! سکرین پر ایک کولڈ سٹوریج بنا تھا بنا تھا جو انڈد گراؤنڈ تھا کیا گیا تھا ” پورشن انڈر گراؤنڈ رہے گا جسکو اوپن کرنا اتنا بھی آسان نہیں ہوگا اسکے لیے ہم نے ایک سافٹ وئیر انجنئیر سے بات کی ہے وہ اسکا ڈور لاک سسٹم اتنا ڈیجیٹل بنا سکتا ہے کہ عام تو کیا خاص بھی اسے آسانی سے نہیں کھول پائے گا تو جتنا میں اس کلب سے کماؤں گا اسے سے زیادہ آپ کمائیں گے مطلب جتنی ڈرگز کی ڈیمانڈ زیادہ ہوگی اتنی ہی آپکا پروفٹ زیادہ ہوگا مسٹر میتھیو تو آئی ہوپ کہ اب آپ انویسٹ کرنے میں کوئی دیر نہیں کریں گے کیونکہ پاکستان ان ممالک سے ہے جہاں کی عوام امیر اور حکومت غریب ہے جتنا حکومت انھیں لوٹ رہی ہے ہم بس ان سے تھوڑا زیادہ لوٹے گے ۔۔۔”میٹنگ ختم ہونے کے بعد مسٹر میتھیو مسکرا کر اسے دیکھ رہے تھے ” یقین نہیں آتا تم بھی پاکستانی ہو اپنے ہی ملک کو اپاہج اور لوٹنے کے لیے اتنا بڑا پروجیکٹ بنا لیا اسنے کیا تمہارا پاؤں توڑ دیا ۔۔۔”
“ وہ میرا پاؤں کیوں توڑے گا بس لالچ دور لے گیا اس سے اور آپ ایسے کہہ رہے ہیں جیسے میں اکیلا غدار ہوں آپ کے کہنے کے ہی مطابق بہت سارے ایسے پاکستانی ہے جو اپکے ساتھ ڈرگز ڈیلنگ میں ملوث ہیں تو کب مل رہے ہیں ہم سب مطلب کب تک اکٹھے ہونگے !!! نعمان کی بات پر مسٹر میتھیو مسکرا کر کرسی سے ٹیک لگا گیا ” اتنی جلدی کیا ہے نعمان شیرازی مل لے گے ابھی تو مجھے تمہارے پروجیکٹ پر سوچنے کے لیے وقت چاہیے آئی وِل کال یو سون !
“ تین دن سوچ لیں میں پاکستان جارہا اب الیکشن والے ہیں تو عوام سے کچھ جھوٹے وعدے کرنے ہیں انکی معصومیت کا فائدہ اٹھانا ہے کچھ بھلائی کے کام شروع کرنے اور تیسرے دن اگر آپ کا جواب نہیں آیا تو یہ پلان سیدھا مسٹر چارلس کا ہوگا اور مجھے امید ہے انھیں اپنے سے آگے نکلتے آپ دیکھ نہیں سکتے !! فائل سمیٹ کر علیم کو پکڑاتا وہ مسٹر میتھیو کو چھوڑ کر چلا گیا تھا ۔
علیم گاڑی اسکے فلیٹ کی طرف لے جارہا تھا وہ گارڈ اپنے ساتھ نہیں رکھتا تھا کیونکہ وہ سوچتا تھا محافظ وہ رکھتے ہیں جو بزدل ہوں اور نعمان شیرازی تو خود شیر ہے اکیلا لڑ سکتا ہے علیم لو ساوئنڈ میں میوزک سن رہا تھا۔
کراں میں نظارا جدو اودی تصویر دا۔۔۔
پیندا اے پُلیکھا مینوں سونی سسی ہیر دا۔۔۔۔۔
“ تمہیں یہ گانا بہت پسند ہے علیم ؟؟ علیم نے مسکرا کر شیشے میں دیکھا آئینے میں اسکے گال پر پڑنے والا گڑھا اور بھی خوبصورت لگتا تھا ” سر یہ سونگ میرا فیورٹ ہے سر رومینٹک سونگ تو بہت سنے مگر جو فیلنگ اسے سن کر آتی ہے وہ پاکیزا اور میرے ملک کے ہر سنگیت کی پاگیزگی ہے چاہے وہ وارث بیگ کا کراں میں نظارا ہو یا خان صاحب کی چرکھے کی مِٹھی مِٹھی کوک !! نعمان نے مسکرا کر اسے دیکھا اور پھر فائل پر جھک گیا جب ایک زور دار آواز آئی اور گاڑی رُک گئی فائرنگ کی تیز آواز آنے لگی تھی وہ دونوں اپنی گنز نکالتے مخالف دروازے سے اُترے تھے آدمی وہیں کہیں چھپے تھے بائیں جانب سے گولی چلی پر بروقت علیم نے سر نیچے کرلیا اور اسے وقت شوٹ کردیا وہ آدمی وہیں ساکن ہوگیا تھا ایک ایک کرکے آدمی سامنے آتے جارہے تھے جو باری باری کبھی علیم کے ہاتھوں تو کبھی نعمان کے ہاتھوں موت کی بھینٹ چڑھ رہے تھے آخر ایک طرف سے گولی چلی جو نعمان کی ٹانگ کو چیرتی ہوئی گزر گئی اس سے پہلے علیم شوٹ کرتا وہ گورا آنکھوں پر گلاسزز لگاتا گاڑی میں بیٹھا اور نکل گیا ” سر آپ ٹھیک ہیں چلیں سر !! وہ اسے سہارا دے کر گاڑی میں لیٹا چکا تھا جہاں میوزک ابھی تک چل رہا تھا ” سر ہاسپیٹل چلتے ہیں !! ہاسپیٹل کا سن کر ہی اسے فریحہ کا خیال آیا تھا اسکا معصوم چہرا نچلے ہونٹ کے نیچے تل وہ گانے کے بولوں کو زور زور سے دوہرانے لگا تھا ۔۔۔
چند اونوں پیار نال دور بیٹھا تکدا۔۔۔۔
آنکھاں وچ نینداں دا خمار پیا وسدا۔۔۔۔
تِل اودے مکھڑے دا جان میری کڈ دا۔۔۔۔
یار میرا بادشاہ اے حسن دی جاگیر دا۔۔۔
کراں میں نظارا جدو اودی تصویر دا۔۔۔
پیندا پُلیکھا مینوں سوہنی سسی ہیر دا ۔۔۔۔
علیم حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا جسکی ٹانگ خون سے لت پت تھی اور وہ گانے گا رہا تھا ۔
گاڑی ہوسپیٹل کے باہر رُکی تو علیم ایک ہاتھ سے فائل پکڑے دوسرے ہاتھ سے اسے سہارا دیے اندر لا رہا تھا جب وارڈ بوئز سٹیچرز لے کر آگئے ” کال دی ڈاکٹر جوزف !! نرس کہتی اسے آپریشن تھیٹر میں لے جا رہی تھی اور اسکی نظر فریحہ کو ڈھونڈ رہی تھی او ٹی تیار کرلی گئی تھی اسکے کپڑے بھی بدل دیے گئے تھے جب نرس اسے انجیکشن لگانے لگی ” واٹ اٹ از !
“ اٹس اینستھیزیا !!! اسنے اسکا انجیکشن والا ہاتھ پیچھے کردیا ” کال دی پاکستانی ڈاکٹر ڈاکٹر فریحہ !!!
“ بٹ شی از ناٹ سرجن !!!
“ آئی سیڈ کال دی ڈاکٹر فریحہ آدروایز ا وِل ناٹ ٹیک اٹ !! ڈاکٹر جوزف نے حیرت سے اسے پاگل انسان کو دیکھا جسکی ٹانگ سے خون رِس رہا تھا اور وہ ضد کیے بیٹھا اسنے نرس کو اشارہ کیا جو فریحہ کو کال دینے چلے گئی ” ڈاکٹر فریحہ وی نیڈ یو اِن او ٹی نمبر فائیو !! وہ جو ایک نارکوٹکس پیشنٹ کی فائل سٹڈی کررہی تھی اپنا نام سن کر حیران رہ گئی ” مجھے او ٹی میں کیوں بلا رہے ہیں ! سٹیتھو سکوپ گلے میں ڈالتی وہ اوٹی کی جانب چل دی دروازہ کھولا تو دل دھک سے رُک گیا تھا ” نن۔۔نعمان !! وہ تکلیف برداشت کرتا اسکی جانب متوجہ ہوا کرتا پجامہ سر پر حجاب اورآل گلے میں سٹیتھو سکوپ وہ مشرق کے رنگ بکھیر رہی تھی مگر فریحہ کی نظر بیڈ شیٹ پر لگے خون پر تھی ۔وہ بھاگ کر اسکے پاس ” یہ۔۔۔۔یہ۔۔۔کک۔۔کیا ہوا انھیں !!!
“ کچھ نہیں میری جان ایک چھوٹییییییییی سی گولی لگ گئی ہے یہ دیکھو یہ نرس تمہاری پرمیشن کے بنا تمہارے شوہر کو انجیکشن لگا رہی تھی بے ہوش کرنے کے لیے بے ہوش کرنے کے بعد پتا نہیں میری عزت سے کیا کرتے میں نے اسلیے تمہیں بلا لیا ” فریحہ نے حیرت سے پہلے انجیکشن پکڑی نرس کو دیکھا پھر نعمان کو جو لب دبائے مسکرا رہا تھا ” گِو اٹ ٹو می!!! نرس سے انجیکشن لیتی اسکی آستینں اوپر کرتی وہ اسکے جلد کو انجیکشن لگانے والی جگہ سے نم کر رہی تھی ” ویسے ضرورت نہیں تھی اسکی تم آگئی تھی نہ اب تو ویسے ہی ہوش نہیں رہنا تھا ! اسنے خفا نظر اٹھا کر اسے دیکھا آہستہ آہستہ فریحہ کا چہرا دھندلا ہوتا جارہا تھا اور آخر اسکا سر تکیے پر گر جاتا اگر فریحہ نہ سنبھالتی اسکو کمفرٹیبل کرکے وہ مسٹر جوزف کی سائیڈ آگئی تھی جو آپریشن سٹارٹ کر چکے تھے انھوں نے زخم کو پھیلا کر ماس میں دھنسی گولی نکالی جس سے وہ بے ہوشی میں بھی بیزار ہوگیا تھا ” بی کئیر فُل ! پلیز بی کئیر فُل ہی از مائی ہزبنڈ !!! نرس اور ڈاکٹرز نے حیرت سے دیکھا تو جوزف ہنس دیا ” دیٹ از وائی ہی واز کالنگ یو ہی لوز یو سو مچ !! وہ بس مسکرا دی تھی ۔آپریشن ہونے کے بعد اسے بے ہوشی میں ہی جنرل روم میں شفٹ کردیا گیا تھا جسے تھوڑی دیر میں ہوش آجانا تھا فریحہ وہیں بیٹھ کر انتظار کرنے لگی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ جوجو جو ہم کرنے جارہے ہیں کیا وہ سہی مطلب ہم دو لڑکیوں کو ٹریپ کرکے ارمان ماموں کو دینے والے ہیں کہیں وہ انکے ساتھ کچھ غلط نہ کردیں !!! زی زی نے وڈیو گیم بند کرکے جوجو سے کہا ۔
“ ڈونٹ وری زی زی ان کے بھائی نے ارمان ماموں کی انلسٹ کی اور ٹکا کے کی تو انکا ساتھ دینا ہمارا فرض تجھے یاد ہے نہ مام ڈیڈ کی ڈیتھ ہوئی تھی تب نعمان اور ارمان ماموں ہی تھے جنھوں نے ہمیں بچوں کی طرح پالا ہے اور آج پہلی بار ہمیں انکا احسان اتارنے کا موقع ملا ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ ارمان ماموں انکے ساتھ کچھ نہیں کریں گے وہ جانتے وہ صرف ایج وائز میچور نہیں ہیں بچیاں ہی ہیں وہ انکے ساتھ کچھ غلط نہیں کریں گے اور ہم بھی تو ہونگے سو ڈونٹ وری !! جوجو نے گیم پھر آن کردی تھی زی زی پھر گیم کی طرف متوجہ ہوگیا جب کچھ دیر بعد بولا ” لائبہ کی آنکھیں ماما جیسی ہیں بھوریں !!! زی زی کی بات پر جوجو کو بھی امبر یاد آئی تھی ” امبر کی سمائیل پاپا جیسی ہے کھنک والی وہ ہنستی تو لگتا ہے پاپا ہنس رہے ہیں !! آنکھوں کے کنارے بھر گئے تھے ۔پھر انھیں پونچ کر گیم کی جانب متوجہ ہوگئے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات ہوگئی تھی حویلی تو وہ وقت سے ہی آگئے تھے مگر دائم تب سے ہی حویلی سے نکل گیا تھا اور ابھی تک نہیں آیا تھا دادی نے بھی صرف اسکے سر پر ہاتھ ہی رکھا تھا مگر چاچی وہ لالچی ہونے کی وجہ سے امل کے آگے پیچھے پھر رہیں تھیں رات کے تقریباً گیارہ بجے پورا گاؤں اپنی آدھی نیند پوری کرچکا تھا اور وہ ابھی تک کمرے میں نہیں ایا تھا ۔پورا گاؤں ہو کا عالم پیش کررہاتھا۔جب دروازے کی چرچراہٹ نے اسے ڈرا دیا وہ کانپ گئی تھی آگ کے دریا کنارے پہنچ تو گئی تھی لیکن اب موجیں ساحل پر کھڑے ہی اسے جلانے آرہی تھیں اسلیے پہلے ہی بہت ڈر رہی تھی کھُسے میں مقید پیر بیڈ کی طرف بڑھ رہے تھے اسکا دل رفتار کی ہر حد توڑ گیا تھا ۔ اسکا روم روم کانپ رہا تھا وہ واضح لرز رہی تھی جب وہ پیر مُڑ کر الماری میں سے کپڑے نکالنے لگا رف بلیک شلوار قمیض میں آستینیں موڑیں باہر آیا وہ ابھی بھی کانپ رہی تھی ” اب بہت ڈر لگ رہا ہے !!! لہجہ بے انتہا ہیتک آمیز تھے اسکے آنسوں بھی رواں ہوگئے تھے ” دد۔۔۔دائم۔۔۔۔۔ممم۔۔میں۔۔۔۔۔۔کک۔۔۔کیا کرتی ۔۔۔۔۔اپ نے کوئی ۔۔۔آ۔۔۔۔آپشن ہی نہیں چھوڑی تھی اس ۔۔اسلیے !!! اسنے ایکدم کھینچ کر اسے بستر سے اتارا گرفت اتنی مضبوط تھی بازو پر کہ اب گوشت پھٹا اور انگلیاں ہڈیوں میں دھنس جائیں گی ” تو اسلیے تم نے مجھے ہی بد نام کردیا ! اتنی زور سے دھکیلا کہ وہ بیڈ پر گر گئی تھی گھونگھٹ تو اب وہ اٹھانے سے رہا اسلیے خود آنچل سرکا دیا ” سوری دائم ائم رئیلی کان پکڑ کر سوری میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں!” دائم نے غصے سے ہاتھ منہ پر پھیرا اور پھر کُرتے کے بٹن کھولنے لگا ” اوکے مجھ سے پیار کرتی ہو میں چاہیے ہوں ٹھیک آو اور میر جان چھوڑو !! آخری بات اسنے دھاڑ کر کہی تھی ہاتھ تیزی سے کرتے کے بٹن کھول رہے تھے اور آخر اسنے وہ اتار کر پھینک ہی دیا اسکے جسم پر سر نشان دیکھ کر اسکی آنکھیں کھولیں رہ گئی تھی ” کیا دیکھ رہی ہو یہ ارے یہ تو تمہارے پیار نے مہریں ثبت کی ہیں میرے جسم پر مگر ڈونٹ میں اتنا ظالم نہیں آہستہ سے جان نکالو گا پتہ بھی نہیں لگے گا وہ اسکے قریب ہوا تو وہ بیڈ پر پیچھے کھسک گئی ” دائم میں نے مم۔۔ ۔۔۔۔مرزا بھائی کو منع کیا تھا وہ تمہیں ماریں نہیں پر میں کیا کرتی میں نے آپ سے محبت کی آپ نے انکار کردیا مجھے ڈر لگ رہا تھا اگر میں آپکو کھو دیتی تو میں مر جاتی پھر مجھے جو سہی لگا وہ میں نے کردیا!! دائم نے اسکا پیر کھینچ کر اپنے جانب کیا اور اسکے بال پکڑ چہرا اوپر اٹھا لیا ” تو تم نے مجھ پر ریپ کا الزام لگا دیا میں تمہاری عزت بچانے گیا تھا وہاں اچھا ہوتا نہیں جاتا تمہارے عزت ڈھکنے کے لیے میں خود بے لباس ہوگیا اور تم میری خلوص کا پردہ تک نہ رکھ سکی ریپ کا الزام لگایا تھا نہ آج بتاتا ہوں کیا ہوتا ریپ !!! اسکے ہاتھ قابو میں کرتا وہ اسکے چہرے پر جھکتا جارہا تھا اچانک اس وجود سے اسے کراہت آنے لگی ” یہ گِری ہوئی ہے ہی اپنی ذات میں کیوں گرا رہا ہوں مجھ سے دوری ہی اسکی سزا ہے !! جھٹکے سے اسکے بال چھوڑے امل کا چہرا لال سرُخ ہوگیا تھا ” دفع ہوجاوں!! آنکھوں پر لینز ہونے کی وجہ سے آج وہ چشمے سے آزاد تھی اسلیے نہایت خوبصورت لگ رہی تھی مگر سامنے حسن کا پجاری نہیں تھا جو اسکے حسن سے شہ مات کھا جاتا اسے دھکیلنے کے بعد وہ بیڈ شیٹ سیدھی کرتا لیٹ گیا تھا اور وہ ٹوٹے قدموں سے چلی کھڑکی کے پاس آگئی تھی جہاں دور لہلہاتی فصلوں پر چاند چمک ۔رہا تھا تارے ٹمٹما رہے تھے پتوں کی سرسراہٹ سب اس سے خفا ہو جیسے ” ہوجاوں تم لوگ ناراض ہوجاو میں نے کام ہی ایسا کیا ہے ہونا بھی چاہیے دائم بھی سہی خفا ہیں مگر میں انھیں منا لوں گی انکی کسی بات کا کبھی برا نہیں مانو گی بی کاز آئی لو ہم !! آنسوں پونچتی وہ وہیں کھڑکی کی ساتھ نیچے بیٹھتی جارہی تھی کچھ دیر رونے کی بعد آنکھ کب لگ گئی پتا ہی نہیں چلا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیر کام ختم کرکے کمرے میں آئی ہی تھی جب سامنے بیٹھے مرزا کو دیکھ کر گھبرا گئی سارا دن تو نکل گیا اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہوئی تو اب ڈانٹے گے !! اس سے نظریں چراتے دبے پاؤں وہ الماری کی طرف جارہی تھی بستر نکالا اور بچھانے لگی ” مرزا نے حیرت سے اسے دیکھا ” نیچے کیوں بچھا رہی ہوں صوفے پر سو !!
“مم۔۔۔مجھے وہاں سونا نہیں آتا مم۔۔۔میں گر جاتی ہوں ! اسکی بات کو کچھ پل سوچتے ہوئے اسنے بیڈ کے درمیان تکیوں کی لائن لگا دی ” وہ دوسری سائیڈ پر سو جاؤ ! ہیر کو حیرت کا دھچکا لگا تھا وہ اسے اپنے ساتھ ایک ہی بیڈ پر سونے کا کہہ رہا تھا وہ بستر طے لگا کر رکھتی دوبارہ بیڈ کی جانب ائی جب وہ پھر بولا ” تمہیں کم سنائی دیتا ہے لیٹ جاؤ !! اسکا فون بجنے لگا تھا کال اٹینڈ کرتا ایک سائیڈ پر ہوگیا وہ چپ چاپ خود کو سمیٹتی لیٹ گئی
“ جی سر فائل وکیل کو دے دی ہے جی وہ کل کورٹ میں کیس فائل کردیں گے سر میں نے ساری فائل سارے ڈاکومنٹس میں نے چیک کرلی تھی ۔
ہیر پر نیند غالب آتی جارہی تھی جب اسے ایک بات یاد آئی وہ فورا اُٹھ بیٹھی ” بابو ! فون کان سے لگائے وہ پریشانی سے اسے دیکھ رہا تھا” سر ایک منٹ پلیز ! فون کی سپیکر پر ہاتھ رکھتے وہ اسکی جانب متوجہ ہوگیا ” ہاں!!
“ صبحا کریلے پکا لوں !! مرزا نے حیرت سے اسے دیکھا اسنے اپنی اتنی امپورٹنٹ کنورسیشن روک کر اسکی بات سنی اور وہ اس سے کریلے پکانے کا پوچھ رہی ہے اسکا دماغ شاٹ ہوگیا تھا۔ سو جاؤ !!! اسنے دبے ہوئے غصے میں کہا تو پھر لیٹ گئی ” کریلے ہی پکا لوں گی !!! کہتی آنکھیں میچ گئی۔کافی دیر فون پر بات کرنے کے بعد بیڈ پر آگیا تھا جہاں اسکی گہری سانسیں اسکے سونے کے گواہی دے رہی تھی وہ بھی ایک سائیڈ پر کروٹ بدل کر لیٹ گیا مگر ذہن اب تک کام میں لگا تھا نیند پلکوں پر آ ٹھری تھی۔ جب ہیر کی بڑبڑاہٹ اسے متوجہ کرگئی گہرا سانس لیکر اسکی جانب مُڑا ” چاچی مم۔۔میں نے چوری نہیں کی مجھے مت ماریں مجھے مت ماریں !! وہ نیند میں بھی سسک رہی تھی آج چاچی کا اسکے ساتھ لہجہ دیکھ کر وہ سمجھ گیا تھا اسکی چاچی اسے پسند نہیں کرتی لیکن وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ اس پر ہاتھ اٹھا سکتی ہے ” ہیر اٹھو!!مگر وہ جوں کی توں بڑبڑا رہی تھی کانپ رہی تھی وہ درمیان سے تکیے ہٹاتا اسکے قریب ہوا ” ہیر !!
“ مم۔۔۔۔میں نے چوری نہیں کی ۔۔۔۔کھانا کھانے آئی تھی چوری نہیں کرنی آئی تھی چاچی !!! اسنے حیرت سے اسے دیکھا ۔ پھر اپنے ساتھ لگا لیا اسکی پیٹ سہلاتے وہ اسے اپنے ہونے کا احساس دلا رہا تھا”کیوں مار رہی چاچی ؟”وہ محسوس کرسکتا تھا اس سے چپکی بھی وہ کانپ ہی رہی تھی ” چاچی میں مرجاؤ گی میرے سر سے خون نکل رہا آہ ہ چاچی !!
“ واٹ !!! اسنے نرمی سے اسکا چہرا اوپر اٹھایا جہاں ماتھے پر آج بھی چوٹ کا نشان تھا اسنے اسے مزید خود میں بھینچ لیا ” خاموش کچھ نہیں کہہ سکتا اب کوئی تمہیں میں ہوں نہ دائم سے بھی بدلہ لے لیا وہ بھی راستے سے ہٹ گیا تمہیں تکلیف دی تھی نہ اسکی ماں نہ آج اسکی اولادیں خود تکلیف میں ہیں میں ہوں نہ شش !!! وہ پرسکون ہورہی تھی کچھ دیر بعد جب وہ نارمل ہوگئی تو مرزا نےاس سے دور ہونے کی کوشش کی مگر اسکی گرفت زیادہ مضبوط تھی ۔وہ دور ہو ہی نہیں سکا کچھ لمحے تو ایسے ہی رہا پھر ایک احساس جو دل میں کوند پڑا پہلو میں جو ہے وہ ہمسفر ہے شریکِ حیات ہے محرم ہے حلال ہے سینے پر محسوس ہوتی گرم سانسیں دل کو منتشر کر رہی تھیں اور دوسرا اسکی معصومیت اور نرمی کچھ کرنے پر اکسا رہی تھی تھوڑا سا جھک کر چہرا اسکے چہرے کے برابر کرلیا گندمی معصوم چہرا درمیانے ہونٹ کالی آنکھیں وہ اتنی خوبصورت تو نہیں تھی مگر ایک کشش ہر کسی کو اپنی جانب کھینچتی تھی ۔بلیک بیوٹی کی مہک اسے بہکا رہی تھی اسکے چہرے کا طواف کرتے نظر پھر بیوٹی بون پر رک گئی تھی مگر آج وہ اسے چھونا چاہتا تھا اسنے انگلیوں کی پشت سے ٹریسں کیا فنگر اب صرف بیوٹی بون نہیں گال ماتھا آنکھیں ہونٹ سب کو ٹریس کررہی تھی وہ تھوڑا کسمسائی اسکے چہرے پر دلکش مسکراہٹ آگئی تھی ۔” تم جانتی ہو تم مجھے بہکا رہی ہو اور ناجانے کیوں میں بہکنا چاہتا ہوں !! مجھے تم سے محبت نہیں تو یہ غلط ہے !! وہ ایکدم سے اس دور ہوا مگر ناجانے قسمت کیا چاہتی تھی کہ اسکے بال شرٹ کے بٹن میں پھنس گئے تھے بال نکالنے کے لیے وہ دوبارہ جھکا تھا ناک اسکی ناک کو چھونے لگی وہ بال نکالنے کی کوشش کرتا اس سے رُخ پھیر گیا تھا بال نکلے تو سُکھ کا سانس لیا مگر تب تک دل بہک چکا تھا اسکے چہرے کو غور سے دیکھتا وہ اسکے ہونٹوں پر جھک گیا تھا نرم لمس محسوس ہوا تھا آنکھیں بند کرکے کھو گیا تھا کچھ دیر بعد جب سینے پر مزاحمت محسوس ہوئی تو آنکھیں کھول کر اسکی آنکھوں میں دیکھا جہاں حیرت امنڈ آئی تھی ہاتھ پیچھے کرکے تکیے کے ساتھ پِن کردیے گئے تھے ۔اور ساتھ ہی اسکی شدت میں بھی اضافہ ہوگیا تھا کافی دیر بعد جب اسکی سانس بہت مدھم محسوس ہونے لگی تو ہونٹوں سے نیچے گلے پر جھک گیا جو بیوٹی بون تک کر سفر طے کررہی تھی وہ بیوٹی بون کو چھونے ہی والا تھا جب فون کی رنگ ٹون بجی مسلسل رنگ ٹون کی آواز اسے ہوش میں لے آئی تھی اسنے فورا اسکے ہاتھ چھوڑے اور فون کی جانب متوجہ ہوگیا ” یہ کس کا نمبر ہے ! اسنے ایک نظر ہیر کے شرمائے حیرت زدہ چہرے کو دیکھا اور فون کان سے لگا لیا ” ہیلو !! ہیلو ایس پی سر! مم۔۔۔میں ایڈووکیٹ فرحت خان کا گارڈ بات کررہا ہوں سر ایڈووکیٹ کا مرڈر ہوگیا !!”
واٹ !!! وہ بیڈ سے اچھل پڑا تھا ہیر خود ڈر گئی تھی ” کک۔۔کیسے !!
“ سر میں ڈیوٹی پر تھا بلیک ماسک پہنے آیا تھا ہوئی مجھے بے ہوش کیا جب ہوش آیا تو گھر سے چیخنے کی آوازیں آئیں اندر دیکھا تو سر ڈیڈ تھے ۔
“ میں آرہا ہوں میں ابھی آرہا ہوں !! اسنے الماری میں سے یونیفارم نکالا اور واشروم چلا گیا ہیر بھی پریشانی سے اسے دیکھنے لگی تھی جب وہ باہر آیا ” بابو کہاں جارہے ہیں اتنی دیر سے !!”
“ آتا ہوں تم سو جانا !! کام آگیا ہے بہت ضروری !!
“ بابو مت جائیں مجھے ٹھیک نہیں لگ رہا اور اتنی رات بھی تو ہوگئی ہے !!! اسنے حیرت سے اسے دیکھا ” تمہارے قریب کیا آگیا تم خود کو میری مالک سمجھنے لگ گئی ہو جو حکم سنا رہی ہو ۔”
“ نن۔۔نہیں مجھے بہت ڈر لگ رہا مت جائیں نہ ایسا لگ رہا کچھ غلط ہو جائے گا !!!
“ وہی دھکیانوسی باتیں !! زبردستی ہاتھ چھڑا کر وہ دروازے کی جانب بڑھ گیا جب اسنے بےبسی امید التجا محبت سے بھرے لہجے میں پکارا” مرزا خدا کے لیے !!! پہلی بار اسکے منہ سے اپنا نام سن کر اسکے دل نے بیٹ مِس کی تھی اسنے حیرت سے پلٹ کر اسے دیکھا ” ڈر لگ رہا ہے نہ کوئی بات نہیں ایک محافظ کی بیوی کو اتنا ڈر تو رکھنا چاہیے اگر آج میں واپس نہیں آیا تھا تو چند لمحے پہلے دی گئی محبت کو کُل سرمایہ سمجھنا اور آگے بڑھ جانا ۔۔۔۔۔ دوسری نظر ڈالے بغیر وہ وہاں سے چلا گیا تھا کہ پیچھے ہیر کا دل ڈوبتا جارہا تھا ۔
وہ وکیل کے گھر پہنچا تو مہتاب پہلے ہی وہاں پہنچ گیا تھا اسے وہاں دیکھ کر اسنے اسے سلیوٹ کیا وہ آگے بڑھا تو ایڈوکیٹ ساکن فرش پر پڑے تھے اور انکی بیوی اور بچی ان سے لپٹ کر رو رہے تھے پاس ایک خون میں لت پت چاقو پڑا تھا مگر ایڈوکیٹ کے جسم پر تو کہیں زخم نہیں تھا تو کیا یہ چاقو ایڈوکیٹ نے اس آدمی کے مارا تھا اچانک مرزا کے پیچھے سے ڈاکٹر نکل کر آیا اسنے ایڈووکیٹ کی جانچ کی ” یہ زندہ ہیں انھیں ایسا انجیکشن دیا گیا ہے جس سے ہارٹ بیٹ اتنی لو ہوجاتی ہے لگتا ہے کہ بندہ مر چکا ہے شاید جو آیا تھا وہ انھیں مارنے نہیں بلکے کچھ لینے آیا تھا ! مرزا کے دماغ کی گھنٹی بج گئی تھی ” مہتاب تلاشی لو دیکھو فائل کہاں ہیں ! سپاہی پورا کمرا چھان مار رہے تھے اور وہ خود بھی چھان بین کررہا تھا اسنے ٹارچ آن کیے ونڈو سے باہر دیکھا ہے جہاں راہداری کے فرش پر خون کی بوندیں تھے وہ کھڑکی سے باہر آگیا تھا دور دور نظر دوڑائی تو میدان تھا گھاس حال میں صاف کروائی گئی تھی ٹارچ سے نشانوں کو دیکھتا وہ اسی راہ پر گامزن ہوگیا تھا سڑک پر آتے ہی اسنے انکے پیچھے بھاگنا شروع کردیا جب وہ نشان ایک باغ میں جاکر ختم ہوگئے وہ اندر خاموشی سے گیا جب اچانک اسے کسی نے پیچھے سے دبوچا اور انجیکشن اسکی گردن میں انجیکٹ کردیا ” سوری ایس پی مرزا تمہارا لیپ ٹاپ ہیک کرنے کے بعد مجھے یہ فائل چاہیے تھی اور اب تمہارا فون بھی توڑ دیا جائے گا !!! گردن پر ہاتھ رکھے اسکا چہرا دھندلا نظر آرہا تھا نقاب کے پیچھے موجود ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی جس سے گال کا گڑھا اور بھی زیادہ گہرا ہوگیا تھا اسنے گرتے ہوئے مرزا کے ہاتھ سے فون لیا اور اسے گن سے شوٹ کرکے ٹکڑے ٹکڑے کردیے ۔مرزا کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا تھا ۔اور وہ آدمی اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھتا مشکل سے ہمت مجمع کرتا وہاں سے نکل گیا تھا۔
“ اللہ جی بابو کی حفاظت کرنا انھیں کچھ مت ہونے دینا بی بی کہتی ہیں آپ نے عورت کے اندر ایک حس زیادہ رکھی اور جب وہ کچھ غلط ہونے والا ہوتا ہے اسے پتا چل جاتا میرا دل بھی بابو لیکر بہت پریشان ہے انکی حفاظت کرنا.”
“ مرزا سر !! مرزا !!! پولیس فورس اچانک اسکے غائب ہونے کے بعد اس سائیڈ تلاشی کے لیے آئی تھی مہتاب اسے آوازیں دے رہا تھا آخر اسے وہ ایک جگہ گِرا ہوا مل گیا ” مرزا !مرزا ! وہ ہوش میں نہیں آرہا تھا جیپ میں ڈال کر اسے ہاسپیٹل لیجایا جارہا تھا ۔
جاری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔✨…….