96.1K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

فری کے فورتھ ائیر کے پیپرز ہورہے تھے آج اسکا آخری پیپرتھا مگر آج کا دن اسکی زندگی کا منحوس ترین دن تھا وہ پیپر کلیکٹ کرکے پرنسپل آفس دینے جارہی تھی کہ سامنے کا منظر اسکی روح کو کانپنے پر مجبور کر گیا تھا سامنے پرنسپل اوندھے منہ گِری تھی اور انکے کندھے میں خنجر لگا ہوا تھا وہ نہایت تکلیف میں تھیں “مم۔۔۔۔۔میم ! انکے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھی ” مم۔۔۔میم یہ ۔۔یہ کس نے کیا !” وہ اتنی تکلیف میں تھیں کہ ان سے بولا تک نہیں جارہا تھا فری نے ہاتھ بڑھا کر انکے کندھے سے وہ خنجر نکلا ” فری !!! وہ خنجر کو دیکھ رہی تھی کہ کسی کی آواز آئی پورا سٹاف وہاں پر موجود تھا ” مم۔۔۔میں نے کچھ نہیں کیا ؟” وہ سٹاف پرنسپل کو دیکھ رہی تھی جو بے ہوش ہوچکی تھیں ” فری تم نے پرنسپل کو مار دیا !!اسنے حیرت سے وانیہ کو دیکھا جو اسے ترچھی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ” کک۔۔۔کیا کہ رہی میں ۔۔۔۔مم۔۔میں ایسا کیوں کروں گی !”
“ میم کو ہوش نہیں آرہا مجھے لگتا وہ مر گئی ہیں یہ تم نے کیا کیا فری انھوں نے بس تم سے یہ کہا کہ وہ تمہیں کالج سے نکال دیں گی تو تو تم نے انھیں مار دیا ۔”
“ میم میں نے میم سے اس بات کے لیے معافی مانگ لی تھی ۔” وہ ابھی بات ہی کررہے تھے جب پولیس کا سائرن بجا وانیہ کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی یونیفارم زیب تن کیے ہاتھوں میں ڈنڈا سر پر کیپ لیے وہ لیڈی آفیسر کے ساتھ اندر آیا تھا ” یہاں قاتلانہ حملہ ہوا ہے کالج کی پرنسپل پر ہمیں فون آیا تھا ؟” تمام سٹاف نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا کس نے فون کیا ہے مگر دانیال کی نظر پرنسپل پر پڑ چکی تھی اسنے کسی آفیسر کو اشارہ کیا جس نے آگے بڑھ کر اسکی نبض چیک ” سر زندہ ہیں !”
ریسکیو بھی پہنچ گئی تھی انھیں لے جایا جارہا تھا ” کسی پر شک ہے ؟” اسنے سٹاف سے پوچھا اسکی نظر فری پر پڑ چکی تھی جو پوری کانپ رہی تھی ” سر شک اس لڑکی نے مارا ہے وہ دیکھیں چُھری بھی اسکے ہاتھ میں ہے !” فری نے حیرت سے وانیہ کو دیکھا اور چھری پھینک دی !
“ کوپ میں نے ۔۔۔۔مم۔۔۔میں نے نہیں کیا !” اسنے دانیال کو کوپ کہہ کر مخاطب کیا تھا اسکے دل نے ایک بیٹ مِس کی تھی ” سر کل فری چیٹنگ کرتے ہوئے پکڑی گئی تھی پرنسپل نے اسے کہا وہ اسے کالج سے نکال دیں گی مگر وہ پرنسپل تھیں کسی کی لائف تھوڑی سپائل کرسکتی ہیں اسلیے اسکی انسلٹ کرکے چھوڑ دیا مگر اسنے انسے انسلٹ کا بدلا لیا اور انھیں زخمی کردیا آپ اسے لیں جائیں ! اسنے زاروقطار رونا شروع کردیا تھا جب لیڈی آفیسر نے اسکا ہاتھ پکڑا ” نن۔۔نہیں پلیز ایسا کچھ مت کریں میرے والدین کو تو اطلاع کردیں !”
‘ انھیں اطلاع کردی جائے گی آپ فلحال کسٹڈی میں رہیں اور ایک ٹیچر ہمارے ساتھ چلے !” تمام ٹیچرز نے ایک دوسرے کو دیکھا آخر وائس پرنسپل ہی آگے آئیں اسے تھانے میں لیجا کر بند کردیا گیا تھا تمام حولدار بار بار اسے گھور رہے تھے اسے عجیب لگ رہا تھا وائس پرنسپل نے بھی اپنی جان بخشی کروا لی تھی وہ بھی جاچکی تھیں اسکے گھر کال ملائی جارہی تھی مگر کوئی فائدہ نہیں تھا وہ اٹھا نہیں رہے تھے وہ فائلز پر جھکا کام کررہا تھا ” کوپ میں سچ میں کہہ رہی ہوں میں نے پرنسپل کو نہیں مارا وہ تو جب میں پیپر دینے گئی تھی وہ فرش پر پہلے سے گری ہوئیں تھی انکا اتنا سارا خون نکلا تھا انھوں نے ہی مجھ سے نائف نکالنے کو کہا تھا میں اپنی دادی کہ قسم کھاتی وہ مجھے بہت پیاری ہیں !” اسنے حیرت سے اس معصوم آنسوں سے تر چہرے کو دیکھا کیوں اسکے لفظوں میں سچائی نظر آتی ہے مگر کیا ان سب کا آنکھوں دیکھا نائف پر فنگر پرنٹ اور اسکا پرنسپل سے جھگڑا جھوٹ تھا وہ یہ سوچ ہی رہا تھا جب اسے کال آئی ” اوکےمیں ارہا ہوں !”
“ تم کتنی سچی ہو ابھی پتہ چل جائے گا پرنسپل کو ہوش آگیا وہ بیان دینے کے لیے تیار ہیں ؟” کیپ اٹھاتا وہ باہر جانے کو تیار تھا جب وہ رونے لگی ” کوپ مت جائیں مجھے ڈر لگ رہا ہے مجھے بھی ساتھ لیجائیں یہاں سب عجیب نظروں سے گھور رہے ہیں میرا ریپ ہوجائے گا میں نے ٹی وی میں دیکھا ہے ایسا ہوتا ہے !!!” اسنے حیرت سے اسکی جانب دیکھا جب لیڈی آفیسر اسکے سامنے آئی ” آپ جائیں سر میں سنبھال لوں گی اسے آپ فکر مت کریں !!” اثبات میں سر ہلا کر وہ چلا گیا تھا مگر ناجانے کیوں اسے روتا دیکھ کر اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔وہ ہسپتال پہنچا تھا پرنسپل نقاہت سے ٹیک لگائیں بیٹھی تھیں ” تو بتائیں آپ پر کس نے حملہ کیا تھا !”
“ فری نے کیا تھا نہ میم وہی کالج کی سب سے بدتمیز لڑکی ہے !” پرنسپل نے گھور کر وانیہ کو دیکھا جو اپنی ماں کے ساتھ آئی تھی ” بکواس بند کرو اس بچی نے کچھ نہیں کیا مجھ پر حملہ پیون نے کیا تھا وہ لڑکیوں کو ہراساں کرتا تھا مجھے یہ بات کا علم ہوا تو میں نے اسے نوکری سے نکالنے کی دھمکی دی تو اسنے مجھے مارنے کی کوشش کی وہ نفسیاتی مریض تھا !” پرنسپل کی بات سن کر دانیال کو ناجانے کیوں سکون سے ملا تھا وہ اُلٹے قدموں واپس آیا جہاں آگے خالی لاکپ منہ چڑا رہا تھا ” لڑکی کہاں ہے ؟” اسنے لیڈی آفیسر سے پوچھا جو تھوک نگل گئی حولداد کی بھی حالت پتلی ہوگئی تھی ” سس۔۔سر وہ بھاگ گئی !”
“ بھاگ گئی ایسے کیسے بھاگ وہ اتنی بہادر نہیں تھی کہ بھاگ جائے بتاؤ کہاں ہے !” اسنے حولدار کی گردن سے دبوچا تھا ” سس۔۔سسسر معاف کردیں مگر ہم کیا کرتے وہ سب کو مار دیتا !!!”
“ کون مار دیتا !!!!اسنے دباؤ بڑھاتے پوچھا ” نن۔۔۔نعمان شیرازی کا چھوٹا بھائی ارمان شیرازی ۔۔۔۔وہ۔۔۔وہ حاضری لگانے آیا تھا اسے ۔۔۔وہ۔۔۔وہ لڑکی پسند آگئی وہ لے گیا !دانیال کی پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی تھی ۔
“ لل۔۔۔لے گیا بچی ہے وہ !!! اسکی دھاڑ پورے تھانے میں گونجی تھی ۔
“ مم۔۔۔مجھے چھوڑ دو مجھے جانے دو پلیز پلیز جانے دو!!وہ بیڈ پر پیچھے کی جانب کھسکتی جارہی تھی اسکی قمیض جابجا پھٹ چکی تھی اسکے ہونٹ سے خون نکل رہا تھا مگر وہ درندہ شرٹ اتارتا اس پر جھکتا جارہا تھا وہ ہاتھ جوڑ رہی تھی ۔
دانیال حولدار کو گھسیٹ کر اپنے ساتھ اسکے اپارٹمنٹ لے جارہا تھا گارڈ کو مارتا وہ جیسے ہی اسکے کمرے کی قریب پہنچا وہ بند تھا اسنے لاک پر شوٹ کیا تو دروازہ کُھل گیا مگر سامنے کا منظر قیامت سے کم نہیں تھا وہ شرٹ لیس بیڈ پر بیٹھا تھا اور وہ اپنے پھٹے لباس کے ساتھ کمرے کے ایک کونے پپمیں گھٹنوں میں سر دیے رو رہی تھی وہ دونوں ہاتھ منہ پر رکھتا دیوار کے ساتھ لگ گیا تھا حوا داغ دار ہو چکی تھی اسنے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تو دل دھڑکنا بند ہوگیا تھا ہونٹوں سے نکلتا خون گالوں پر گردن پر دانتوں کے نشان اسکی درندگی کا ثبوت دے رہے تھے ” مت جائیں میرا ریپ ہوجائے گا !!! دانیال زمین میں گڑھتا جارہا تھا ” ابے او انسپیکٹر تجھے کس نے اجازت دی آنے کی !”” ارمان نے اسے دھکیلا تو اسنے خونخوار نظروں سے اسکی جانب دیکھا او دیکھا نہ تاؤ اسنے جانوروں کی طرح اسے پیٹنا شروع کردیا وہ بلکل پاگل ہوگیا تھا وہ ڈر کر دیوار سے چپک گئی تھی منہ پر ہاتھ رکھے وہ اپنی چیخیں روکنے کی کوشش کررہی تھی اپنی بیلٹ نکالے وہ اسے بیلٹوں سے مار رہا تھا ارمان خون میں نہاتا جارہا تھا مگر اسے رحم نہیں آرہا تھا کہ اچانک دروازے سے اندر میڈیا آگیا ” دیکھئیے ناظرین کس طرح یہ پولیس والا پولیٹکل لیڈر نعمان شیرازی کے بھائی کو پیٹ رہا ہے !” کیمرا فری کی طرف بھی فوکس ہوگیا تھا ” کیا یہ ہے وہ وجہ جو اس انسپیکٹر کو یہ سب کرنے پر مجبور کررہی تھی! رپوٹر کی بات سن کر وہ ارمان کو چھوڑ کر فری کی جانب متوجہ ہوگیا تھا جو اپنا چہرا چھپانے کی کوشش کررہی تھی میڈیا کو دھکیلتا وہ اسکے سامنے کھڑا ہوگیا تھا اسکی حالت سے وہ پولیس والا غنڈا ہی لگ رہا تھا بکھرے بال یونیفارم کے کھلے بٹن ہاتھوں میں بلٹ آؤٹ شرٹ ” دور رہیں حیا کریں کیسے آپ ایک مظلوم لڑکی کو نمائش بنا رہے ہیں !” وہ میڈیا کو دور دھکیل رہا تھا وہ اسکے پیچھے پتھر ہوئی کھڑی تھی آخر اسنے اسے اپنے ساتھ لگایا اور اسکا چہرا چھپاتا اسے وہاں سے لے گیا یہ منظر پورے پاکستان کی ٹی وی سکرین پر چل رہا تھا اور یہی منظر مرزا کی گھر کی سکرین پر چل رہا مرزا دانیال اور فری کو اس حالت میں دیکھ کر دنگ رہ گیا تھا ہیر کوئی کام کر رہی تھی جب اچانک ڈرائنگ روم میں آئی سامنے سکرین پر فری کی ابتر حالت دکھائی جارہی تھی ” کیا تعلق تھا اس لڑکی کا ارمان شیرازی سے کیا وہ خود اس تک پہنچی تھی !” نیوز اینکر کی باتیں اسے دنگ کرتی جارہی تھی “کیا یہ ایک بر کردار لڑکی تھی کیوں اسکی حفاظت کے لیے اس پولیس والے نے ارمان شیرازی کو اتنا مارا !
مرزا کو اپنے پیچھے رونے کی آواز آنے لگی تھی وہ منہ پر ہاتھ رکھے رو رہی تھی اسنے ایک جھٹکے سے ٹی وی بند کیا ” ہیر ! ہیر !! سنبھالو خود کو ! وہ نیچے بیٹھ گئی تھی
” بابو وہ۔۔۔۔۔۔۔وہ خبریں فف۔۔فری !!! منہ پر ایک ہاتھ رکھے وہ ٹی وی پر سامنے اشارہ کر رہی تھی ” وہ۔۔۔وہ آپکا دوست تھا نہ وہ۔۔۔میری فری میری گڑیا ۔۔۔۔۔” مرزا کو خود سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے ” وہ خبروں والی کہہ رہی تھی فری بدکردار ہے وہ میری بہن ہے میں جانتی ہوں وہ ایسی نہیں وہ بچی ہے !!! “
“ جھوٹ بول رہے ہیں سارے تم فکر مت کرو میں پتہ کرتا ہوں سب کچھ !” اسکے سینے سے لگی وہ زاروقطار رو دی تھی اس بار مرزا نے اسے نہیں دھکیلا تھا ۔ اسنے دانیال کو فون لگایا جو بند جارہا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسے گاڑی میں بیٹھا رہا تھا جب وہ بے ہوش ہو کر زمین بوس ہوگئی اسنے اٹھا کر اسے جیپ میں ڈالا سب کو ایک طرف رکھے وہ ہسپتال کے لیے نکل گیا تھا ۔ڈاکٹر اسکا چیک اپ کررہی تھیں خود وہ اسی حالت میں سر پکڑے بیٹھا تھا ” کوپ مت جائیں میرا ریپ ہوجائے گا ! کوپ میں نے کچھ نہیں ! مجھے بھی ساتھ لیجائیں !” اسکا ہر ایک جملہ اسے اپنا آپ گناہ گار ثابت کروا رہا تھا جب اسکے والدین اور فاطمہ بی ہسپتال آئے ” کک ۔۔۔۔کہاں ہے میری بچی !” اسنے نظر اٹھا کر سامنے کھڑی ضعیفہ کو دیکھا ” مجھے میری دادی کی قسم مجھے وہ بہت پیاری ہیں !!” وہ شرمندہ سے اٹھ کھڑا ہوا جب ڈاکٹر باہر آئیں ” ڈاکٹر صاحبہ میری بچی !!”ڈاکٹر نے ایک نظر دانیال کر دیکھا اور نظریں جھکا گئی ” آپکی بچی کے ساتھ۔۔۔۔۔۔زیادتی ہوئی !” فاطمہ بی کے ہاتھوں سے چھڑی گر گئی تھی اسکی ماں سر تھامے بیٹھ گئی تھی دانیال نے غصے سے مکا دیوار میں مارا تھا ” بٹ شی از آل رائٹ وہ ٹھیک ہے اب کچھ دیر میں اسے ہوش اجائے گا آپ ان سے مل سکتے ہیں !” فاطمہ بی کا پورا بدن کانپ رہا تھا فہد تو جیسے سر پتھر ہی ہوگیا تھا قیامت گزر گئی تھی دانیال نے آگے بڑھ کر سہارا دیا انھیں ” کک۔۔۔کیسے ہوا یہ !!! انھوں نے دانیال کے انکھوں میں دیکھا جہاں درد قرب شرمندگی تکلیف سب کچھ تھا اسنے پوری کہانی انھیں سنا دی تھی جو صرف اسنے نہیں دانیال کے اپنے والدین نے بھی سنی تھی ” بابا !” وہ انکی طرف بڑھا ہی تھا کہ انھوں ایک زور دار تماچہ اسکے منہ پر مار دیا ” یہ امید نہیں تھی تم سے !”وہ خاموشی سے نظریں جھکا گیا اسکی ماں فاطمہ بی کو تھامے کھڑی تھی ” بابا مجھے لگا اسنے اپنی پرنسپل پر اٹیک کیا ہے سٹاف بھی یہی کررہا تھا !”
“ آپکو لگتا وہ انیس سال کی بچی کسی پر قاتلانہ حملہ کر سکتی ہے بہت چھوٹی ہے !” فاطمہ بی کی بات انھیں اور شرمندہ کر گئی تھی ‘ تم یہ کیسے کر سکتے ہو دانیال تم جانتے ہو ہمارا سسٹم کتنا کرپٹ ہے تم پھر بھی اس بچی کو حولدار اور لیڈی آفیسر کے پاس چھوڑ گئے !” اسکی ماں اب فری کی والدہ کو چپ کروانے کی کوشش کرہی تھی ” کک۔ کون کرے گا میرے بیٹی سے شادی ہم اسے کیسے سنبھالنے گے کیسے شادی کریں گے اسکی پوری دنیا نے اسے اس حالت میں دیکھا ہے !” وہ فہد سے پوچھ رہی تھی جو بلکل ہی چپ ہوگیا تھا دانیال اپنی ماں کا گھنٹہ پکڑ کر بیٹھ گیا ” امی !”
“ نو دانیال یو ڈِس اپائنٹ می میں نے کبھی نہیں سوچا تھا میرا بیٹی کسی کی عزت داؤ پر لگا دے ایک بار سوچا کہ اسکی جگہ اگر ہماری امبر ہوتی لائبہ ہوتی !!
“ امی !!! وہ چیخ پڑا تھا ” اپنی بہنوں پر بات آئی غیرت جاگ گئی اس بچی کا خیال نہیں آیا جسے بھیڑیوں میں چھوڑ گئے تھے بتاؤ دے سکتے ہو آنکے سوالوں کا جواب کیا تم بنا سکتے ہو اپنی عزت کیا دے سکتے ہو اسے اپنا نام !! وہ حیرت سے اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا اسکا ہاتھ گھٹنے سے اتر گیا تھا اسکی ماں تنظیہ ہنس دی تھی ” کوئی نہیں اپنائے گا اسے شرم کرلو !” وہ رُخ موڑ گئی تھیں ” امی وہ بچی ہے مجھ سے سات سال چھوٹی ہے !”
بہانے مت بناؤ چلے جاؤ یہاں سے !” وہ اماں بی کی جانب بڑھ گئی تھی وہ وہاں سی الٹے قدم لیتا نکل گیا تھا حولدار نے اسے فون پکڑایا جسے اسنے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا وہ جان بچاتا چلا گیا
فون آف تھا ان کیا تو مرزا کی ڈھیروں کالز ائیں تھیں تبھی وہ پھر بجنے لگا ” بول۔مرزا !”
“ دانیال یہ سب کیا ہورہا ہے” اسنے گہرا سانس لیا آنسؤں بندھ توڑ کر بہنے لگے تھے ” گناہ ہوگیا یار میری وجہ آج ایک لڑکی نے اپنی عزت کھو دی !”
“ وہ لڑکی ہیر کی بہن ہے !” دانیال کے کان سائیں سائیں کر رہے تھے ” بب۔۔بھابھی ٹھیک ہیں ؟مرزا نے ایک نظر صوفے پر دونوں گھٹنے سینے سے لگائے روتی ہیر کو دیکھا ۔” ٹھیک نہیں ہے !” اسنے افسوس سر جھکا لیا پھر فون بند کردیا وہ اس وقت کسی سے بھی بات کرنا نہیں چاہتا تھا وہ اندر آیا آفتاب ( دانیال کے والد ) کسی سے فون پر باتیں کر رہے تھے ” جی مجھے پورے سٹاف پر انکوائری چاہیے وہ کالج بند ہوجانا چاہیے جہاں بچیاں محفوظ نہیں ایسے ادارے کی ہمیں ضرورت نہیں !”
“ بابا کیا کر رہے ہیں ؟” انھوں نے فون کان سے لگائے اسے دیکھا اور بند کردیا ” پنجاب کا وزیرِ تعلیم میرا دوست ہے اور اس کالج پر انکوائری بیٹھا رہا !” وہ آگے بڑھنے لگے جب وہ بولا ” میں اس سے نکاح کرنا چاہتا ہوں !” انھوں نے حیرت سے اسے دیکھا ” یہ بس ہمدردی ہے اور کچھ نہیں تمہیں اس سے نکاح کرنے کی ضرورت نہیں ہے اللہ مہربان ہے وہ زندگی خراب نہیں ہونے دے گامگر میں اس کا نکاح ایسا لڑکے سے بھی نہیں ہونا دوں گاجسے اس سے محبت نہیں صرف ہمدردی اور ترس ہو پھر چاہے وہ میرا بیٹا کیوں نہ ہو !”
“ آئی لائک ہر بابا شاید یہ پسندیدگی محبت میں بدل جائے مجھے کفارہ کرنا ہے بابا میں وعدہ کرتا ہوں اسے کبھی اس واقعے کی یاد نہیں آنے دوں گا ہر خوشی دینے کی کوشش کروں گا جھُک جاؤ گا مگر پلٹ کر اسے گھور کر بھی نہیں دیکھو پلیز بابا آپ اسکی فیملی سے بات کریں پلیز ورنہ میں پشیمانی سے مر جاؤں گا !”انھوں نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا ” اوکے ائم پراؤڈ آف یو
!
جاری ہے