Musalat By Binte Aslam Readelle50190 Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
وہ ایک گھنٹے سے اسی پوزیشن میں بیٹھی رو رہی تھی مرزا کو فرق پڑ رہا تھا یا نہیں اس بات کا تو پتہ نہیں مگر وہ یہ رونا دھونا برداشت نہیں کر پارہا تھا دانیال نے اسے دوبارہ فون کرکے بتایا تھا کہ وہ فری سے نکاح کرنے جا رہا ہے یہ بات ہیر کو بھی اسنے بتائی تھی جس پر اسنے بس ایک نظر اسے دیکھا تھا وہ اب اُکتا گیا تھا اس سے ” او لڑکی بس کردو کہا ہے دانیال اور اسکا نکاح ہورہا ہے مگر تم ہو کہ سن ہی نہیں رہی تھی اٹھو میرے لیے چائے بناؤ !” وہ بنا کچھ کہے اُٹھ کر کچن میں چلی گئی چائے کا سامان لیا اور صحن میں چلی آئی کچھ دیر بعد ہاتھوں میں کپ پکڑے وہ کچھ سوچتی آرہی تھی جو اسنے بلکل اسکے منہ کے آگے کردیا وہ کبھی کپ کو دیکھ رہا تھا کبھی اسی ” میں خود ہی لوں گا تمہیں پلانی کی ضرورت نہیں ہے ” اسنے کپ پکڑ کر میز پر رکھا ” ا۔۔۔ایک بب۔۔بات پوچھو ؟”
“ ہمم! اسنے چائے کا سِپ لیتے ہوئے کہا وہ نیچے اسکا گُھٹنہ پکڑے بیٹھ گئی ” وہ۔۔۔دد۔دانیال بب۔بھائی فری کو ڈانٹا تو نہیں کریں گے !”
“ اسکی بیوی ہوگی جو مرضی کرسکتا ہے ہم تھوڑی نہ بیچ میں بول سکتے ہیں !” اسنے رف سے لہجے میں کہا جس پر اس کے آنسو اور رواں ہوگئے تھے ” مم۔۔۔۔۔مارے گے تو نہیں ؟”اسنے حیرت سے اسے دیکھا ” میں تمہیں مارتا ہوں ؟” جس پر ہیر نے تیزی سے نفی میں سر ہلایا ” وہ بھی نہیں مارے گا اور اگر مارا تو میں اسکے ہاتھ توڑ دوں گا !” وہ کیوں تسلیاں دے رہا تھا اسے خود نہیں جانتا تھا ” وہ فری ۔۔۔۔۔کو ۔گ۔۔۔گندی لڑکی تو نہیں کہیں گے جو اسکے ساتھ ہوا اسکے بعد !!! مرزا نے غصے سے کپ نیچے رکھا ” تم بچپن سے اتنی بےواقوف ہو یا ابھی آکر سیپڈ پکڑی ہے کیا بہودہ سوال ہے جاؤ اپنے کمرے میں ! اسنے اپنے گھٹنے سے اسکا ہاتھ ہٹایا تو وہ ڈر کر اُٹھ گئی اور کمرے میں چلی گئی۔وہ پھر سکون سے چائے پینے لگا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(✨ ۔۔۔۔۔۔۔✨) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دائم گراؤنڈ میں بیٹھا نوٹس بنا رہا تھا جب امل کی نظر پڑی وہ اسکے پاس جانے لگی تو دائم فون کان سے لگا گیا وہ فون سن رہا تھا اور امل اسکے منہ کے تاثرات دیکھ رہی تھی جسکا چہرا فک ہوگیا تھا وہ کتابیں وہیں چھوڑتا باہر کی جانب بھاگ گیا وہ حیرت سے بس اسے دیکھتی رہ گئی ۔” انھیں کیا ہوا ؟” اسکی کتابیں سمیٹ کر اسنے اپنے پاس رکھ لیں تھیں اسنے اپنا فون آن کیا تو واٹس ایپ فیسبک پر جو ایک سٹیٹس جو نیوز چل رہی تھی وہ ایک لڑکی اور انسپیکٹر کی مار دھاڑ کی تھی اس لڑکی کا چہرا چند لمحوں کے لیے دکھائی دیا تھا اسے افسوس ہوا تھا !” پھر اسے اچانک ایک خیال آیا اسنے دائم کے دوست سے اسکا نمبر لیا دھڑکتے دل۔کے ساتھ اسنے اسکا نمبر ملایا جو اسنے بے دھیانی میں اٹھا لیا ” ہاں ہیلو ابو فری کیسی ہے ؟” اسے لگا تھا شاید فہد کا فون ہے ” دائم میں امل بات کررہی ہوں ؟” آگے سے ٹو ٹو کی آوز آئی تھی یعنی وہ فون کاٹ چکا تھا ” کہیں وہ لڑکی دائم کی بہن تو نہیں تھی او نو سو سیڈ وہ کتنا اپ سیٹ ہوگا کاش میں سنبھال پاتی مگر اس سے پہلے مجھے یہ نیوز وہ وڈیوز ہٹاوانی ہوگی اسنے کسی کو فون ملایا ” ہیلو اسلام علیکم چاچو کیسے ہیں چاچو آپ نیوز سے اس لڑکی تصاویر ہٹوا سکتے ہیں یا بلر کردیں کسی کی عزت کا سوال ہے !”
“ کیوں نہیں بچے میں کوشش کرتا ہوں !” اسنے خوش ہوکر فون بند کردیا ” آپ واپس آجائیں آپکو مینٹلی سپورٹ کرنے کے لیے میں ہوں نہ !”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔📖۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے ہوش آگیا تھا وہ کسی سے ملنا نہیں چاہتی تھی سوائے اپنی دادی سے انکے گلے سے لگی وہ کتنی دیر سے رو رہی تھی ” مجھے سزا ملی ہے دادی میں نے ہیر آپا سے غلط کیا نہ اسلیے مجھے سزا ملی میں ان سے کام کرواتی تھی اپنے پیر دبواتی تھی یونیفارم دھلواتی تھی اپنے سارے کام ان سے کرواتی تھیں مجھے سزا ملی !”
“ نہیں میری جان وہ سب تو بچپنا تھا گناہ نہیں تھے جسکی سزا اتنی بڑی تمہیں ملتی وہ سب بچگانہ حرکتیں تھیں !” اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتی وہ اسے تسلیاں دے رہی تھیں ” تت۔۔۔تو میرے ساتھ ہی یہ سب کیوں ہوا میں نے اس کوپ سے کہا تھا مجھے چھوڑ کر مت جائے وہ پھر بھی چلا گیا میرا کیا قصور تھا سب اسکی وجہ سے ہوا ہے مجھے نفرت ہے اس سے میں کبھی معاف نہیں کروں گی اسے کبھی نہیں !” وہ زور زور سے نفی میں سر ہلا رہی تھی اور وہ دروازے میں کھڑا اسکے ارادے سُن رہی تھی فاطمہ بی نے اسکی جانب دیکھا تو وہ سرجھکائے ہاتھ جوڑ کر چلا گیا ۔انھوں نے اسے خود سے الگ کیا ” فری وہ جو پولیس انسپکٹر ہے نہ وہ تجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے !” اسنے حیرت سے دادی کو دیکھا ” نہیں یہ ۔۔۔یہ نہیں ہوسکتا میں نہیں کروں گی !”
“ فری میری بات سن جو تیرے ساتھ ہوچکا ہے اسکے بعد کوئی تجھے نہیں اپنائے گا میں تیرے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں خدا کا واسطہ ہے مان جا اپنی اس بوڑھی دادی کے لیے مان جا ورنہ میں مر جاؤں گی !” اسنے حیرت سے ایک نظر اپنی دادی کو دیکھا اور دروازے میں کھڑے اپنے ماں باپ کو جو بلکل ہی پتھر ہوئے کھڑے تھے ” دیکھ اسکا ظرف بہت بڑا ہے اسے اپنی غلطی کا احساس بہت کم لوگ ہوتے ہیں ایسے جو اپنی غلطی تسلیم کر اسکا کفارہ ادا کرتے ہیں وہ پولیس والا وہی کررہا ہے وہ تجھے اپنانا چاہتا ہے دیکھ اپنے ماں باپ کو اپنی دادی کو کیا جی لیں گے ساری زندگی تیرا دُکھ لیکر “
“ لیکن اس میں میرا کیا قصور تھا مجھے قربانی دینی پڑے گی کیوں ہمیشہ اس واقعہ کے بعد عورت داغ دار ہوتی مرد کیوں نہیں ہوتا اسکی عزت نہیں جاتی اسے کیوں اپنا لیتے ہمیں کیوں نہیں اپناتے وہ بھی داغ دار ہوتا ہوگا !” وہ سوالیہ نگاہوں سے دادی کو دیکھ رہی تھی ” کیونکہ وہ مرد ہے اسے ہمارے معاشرے نے لائسنس دے دیا ہے کہ وہ کچھ غلط نہیں کرسکتا مگر خدا کی نظر میں وہ اتنا ہی داغ دار ہے جتنا وہ کسی بے گناہ کو کرتا اور پھر مول اسے اپنے گھر سے دینا پڑتا خدا قرض نہیں رکھتا بچہ وہ ہر احساب برابر رکھتا اسکا بھی ہوگا مگر ابھی تمہاری زندگی کا فیصلہ ہے جو تمہیں ابھی اور اسی وقت کرنا ہے !” دائم بات کو سنبھالتا آیا تھا دانیال کو ملنے کے بعد وہ اس پر ہاتھ اٹھانا چاہتا تھا مگر جیسے ہی اسے پتا چلا کہ وہ فری سے نکاح کرنا چاہتا تو نہیں مانا تھا کہ نہیں وہ اپنی بہن کو ساری زندگی گھر بیٹھا کر کھلا سکتا کسی کی ہمدردی کی ضرورت نہیں تب آفتاب نے اسے فری کے اکیلے پن کو دور کرنے اور اسکا زخم بھرنے کے لیے منا لیا تھا وہ اندر ہی ارہا تھا جب سے فری کی باتیں سُنی وہ اسکے گلے لگی پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی ۔اسنے اسے خود سے دور کیا اسکے بکھرے بال کانوں کے پیچھے اڑیسے ” فری بچہ سے دانیال اچھا لڑکا ہے وہ تم نکاح کرنا چاہتا ہے اور یہی تمہارے لیے بہتر ہے وہ تمہاری حفاظت کرے گا .”
“ لیکن لالہ میں اسی کی وجہ سے اس حالت میں ہوں !!” اسنے ہاتھ کی پُشت سے آنسو صاف کرتے ہوئے گلہ کیا.
“ وہ فرض تھا بیٹا تم پر قتل کا الزام تھا تمہارے ہاتھ میں چھری تھی تم سی آئی ڈی دیکھتی ہو نہ وہاں ہتھیار پر جسکے انگلیوں کے نشان ہوں گے انھیں تو وہی مجرم لگے گا نہ اسے بھی یہی لگا اور سٹاف بھی تو یہی کہہ رہا تھا اسکی غلطی بس اتنی ہے کہ وہ تمہیں اکیلا چھوڑ گیا اسنے ابو کو فون بھی کیے مگر ابو کام پر تھے نہیں اٹھایا تمہاری بھی تو غلطی ہوئی جب بھی کبھی اس طرح کا واقعہ ہو تو وکٹم کے پاس نہیں جاتے اسکے جسم کو ہاتھ نہیں لگاتے اسکے پاس پڑی چیزوں کو بھی نہیں فورآ کسی کو بلاتے ہیں !” وہ آنسوں ہونچتی ہاں میں سر ہلا رہی تھی جب دانیال وہاں آیا نظریں جھکائے اسکے سامنے کھڑا ہوگیا ” مجھے آپ سے ؟”
“ لالہ اسے کہیں چلا جائے !” اسنے چیختے ہوئے کہا تھا اور دائم کے پیچھے چھپ گئی تھی ” لالہ پلیز اسے کہیں چلا جائے مجھے ان سے کوئی بات نہیں کرنی پلیز لالہ .” وہ پینک کرنے لگی تھی وہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔” یہ نہیں جارہے تو ٹھیک ہے میں جارہی ہوں ؟” وہ اپنے ہاتھوں سے برینولا کھینچ رہی تھی ” فری یہ کیا کررہی !” مگر وہ بے دردی سے کھینچے جارہی تھی جب وہ اُلٹے قدموں باہر نکل گیا منہ پر ہاتھ رکھے وہ دیوار کے ساتھ جا لگا تھا کچھ لمحے تو یونہی گزر گئی اسکی وجہ سے اسکی یہ حالت تھی ” But don’t worry you are only mine !”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(✨…….✨)………
After 3 days
تین دن بعد اسے ہوسپیٹل سے ڈسچارج مل گیا تھا اور آج ہی اسکا اور دانیال کا نکاح تھی جس پر وہ دل سے آمادہ نہیں تھی آج بھی جب وہ آئینے کے سامنے بیٹھی کسی اور ہی دنیا میں کھوئی تھی جب دروازہ کُھلا ” گُڑیا !” دروازے میں ہیر کھڑی تھی مرزا ارمان شیرازی کے کیس کو ہینڈل کرنے میں لگا تھا اسے سزا ہوئی تھی مگر اسکی بیل کروا لی گئی تھی دانیال کو ایک مہینے کے لیے سسپینڈ کردیا گیا تھا مگر اسے اس بات کا افسوس ہر گز نہیں تھا ۔ہیر کو دیکھ کر اسکے صبر کا باندھ ٹوٹ گیا تھا ” وہ ہاتھ جوڑ کر اسکے سامنے کھڑی ہوگئی تھی ” مجھے معاف کردیں آپی !” ہیر نے تڑپ کر اسے گلے لگا یا ” گڑیا تم ٹھیک ہو ؟” اسکے گال ماتھا چومنے کے بعد وہ اس سے پوچھ رہی تھی وہ فری سے چار اور دائم سے دو سال بڑی تھی اسکی آنکھوں کے سامنے ہی تو بڑی ہوئی تھی اور آج اتنی بڑی بھی ہوگئی کہ اسکی شادی ہورہی ہے ” میں اپکے ساتھ غلط کرتی تھی نہ میں نے آپ پر ظلم کیا مجھے بھی سزا مل گئی !” وہ اسکے گلے لگی زاروقطار رو رہی تھی ” نئی میری جان وہ سب تو میں اپنی مرضی سے کرتی تھی میں نہیں کرتی تو کون کرتا تیری بڑی بہن تھی نہ میرے لیے تو تو بچی ہی تھی اور آج میری فری پری لگ رہی ہے آو شیشے میں دیکھو ” وہ اسے کھینچ کر آئینے کے سامنے لے آئی تھی درمیانہ قد تیکھے نین نقوش خاکستری انکھیں وہ سچ میں پری لگ رہی تھی کہ اچانک اسے اپنی گردن پر نشان نظر آئے تو اس انسان کہ وحشت بھی یاد آگئی ” نہیں !! چہرے پر ہاتھ رکھتی وہ چیخ اٹھی تھی ” نہیں ہوں میں پری میں گندی ہو میں گندی ہوگئی ہوں “
“ فری گڑیا کیا ہوا؟” ۔۔۔” میں پری نہیں ہوں ہوتی تو تبھی پتھر ہوجاتی جب اس انسان نے مجھے گندے ہاتھ لگائے تھے پریاں تو پتھر ہوجاتی ہیں میں پری تھی تو کیوں پتھر نہیں ہوئی کیوں وہ مجھے پھول کی طرح مسل کر چلا گیا !”اسکے سوال کا ہیر کے پاس کوئی جواب نہیں تھا وہ بس اسے دلاسہ دے سکتی تھی ۔
تم پری ہو فری یاد ہے حاتم طائی کی کہانی سنتے تھے کہ ایک بادشاہ نے پری کو گندا کرنا چاہا تو وہ پتھر ہوگئی اور پھر حاتم طائی نے وہ سات سوال حل کرکے اسے دوبارہ زندہ کیا اپنے آپ کو دیکھو کیا تم پہلے جیسے ہو نہیں وہ دکھ وہ تکلیف تمہیں اندر سے پتھر کرگئی ہے تمہارے اندر لاکھوں سوال چھوڑ گئی ہے اور اسے حل کرنے لیے حاتم طائی بن کر دانیال بھائی آئے ہیں جو تمہارے ہر سوال کا جواب تلاش کر تمہیں پھر سے زندہ کردیں گے فری پھر پری بن جائے گی وہی پری جو ہیر کی گڑیا !! اسنے اسکے ماتھے پر محبت کا بوسہ دیا تھا مگر فری کے دل میں تو کچھ اور ہی چل رہا تھا ” یہ سب آپ سوچتی ہیں آپا کیونکہ آپ معصوم ہیں مگر میں نے مرد وحشت دیکھی ہے یہ صرف روندنا جانتا ہے وہ میرا جسم روند گیا یہ میری روح روندنا چاہتا جو میں نہیں ہونے دوں گی میرے گنہگار کو مجھ پر مسلط کر رہے ہیں میں اسے کبھی سکون نہیں دوں گی کبھی نہیں !” اب یہ تو وقت ہی بتا سکتا تھا کہ اسنے اسکے سکون کی وجہ بنا تھا یا دانیال اسکی سانس کی وجہ بن جانا تھا ۔
نکاح شروع ہوچکا تھا وہ گھونگھٹ میں وہ بس نظریں جھکائے بیٹھی تھی ” فرحین فہد ولد فہد مرتضی کیا آپکو یہ نکاح دانیال آفتاب ولد آفتاب کے ساتھ بعوض حق مہر بیس لاکھ سکہ رائج الوقت قبول ہے!” چاچی ہیر دادی سب اسکے ساتھ بیٹھے تھے اسنے دل پر پتھر رکھ کر اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔قاضی فری کے بعد دانیال کے پاس آیا تھا ” دانیال آفتاب ولد آفتاب کیا آپکو یہ نکاح فرحین فہد ولد فہد مرتضی سے بعوض حق مہر بیس لاکھ سکہ رائج الوقت قبول ہے ؟
“ قبول ہے
قبول ہے
قبول ہے ..مسلط کا دوسرا جوڑا بھی ایک دوسرے پر مسلط ہوگیا تھا وہ اسکے نکاح میں آچکی تھی جہاں آگے دانیال کو فرہاد کی طرح دکھوں کے پہاڑ توڑنے تھے ۔
جاری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
