96.1K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

ناول # مسلط
ازقلم # بنت اسلم
قسط نمبر 13
مہتاب نہ بہت پیارا تھا مجھ سے پیار کرتا تھا کہتا جس دن پولیس والا بن گیا اس دن تجھ سے دوسرا کام نکاح کا ہی کروں گا پھر گیا تو واپس آیا نہیں وہ آجاتا تو فائق میری زندگی میں ہی نہیں آتا ! آج نوشین کو ہوسپیٹل ایڈمٹ تین دن ہوگئے تھے وہ منال کی اچھی دوست بن گئی تھی وہ دونوں ساتھ ساتھ فروٹس کھا رہی تھیں ساتھ ساتھ باتیں کررہی تھی تین دن کے آرام نے ہی نوشین کی اصلی حالت لُوٹانی شروع کردی تھی اسکا رنگ جو کملا گیا تھا پھر سے چہک اٹھا تھا اسکی موٹی موٹی آنکھیں سب مسکرانے لگی تھیں اسکا لاغر جسم صحت پکڑنے لگا تھا مہتاب ہمیشہ کی طرح ونڈو سے چوری چھپے اسے دیکھ رہا تھا منال خاموشی سے اسے سن رہی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ مہتاب اب کبھی بھی اس سے شادی نہیں کرے گا ” آپکو پتا ہے فرینڈ مہتاب کو کھیر بہت پسند ہے اور میں نے ایک دفعہ اسکے لیے کھیر بنائی تھی جانتی ہیں اسے میں چینی کی جگہ نمک مل گیا تھا ہماری چینی نمک ایک جیسا تھا باریک پِسا ہوا مگر پھر بھی مہتاب ساری کھا گیا تھا اتنا پیار کرتا تھا مجھ سے کبھی کبھی میں سوچتی ہوں اگر مہتاب نہیں لوٹا تو کہیں وہ شہید نہیں پھر ہر سوچ رد کردی ہوں پتہ نہیں کہا ہوگا !! وہ گہری سوچ میں گم ہوگئی تھی منال دروازے کی جانب دیکھا ” اگر مہتاب کبھی تمہارے سامنے اگیا تو تم کیا کرو گی؟
“ تو میں اسکے کیے پیاری سے دلہن ڈھونڈو گی آپ جیسی !!! منال جو اسکے جواب پر حیرت ہوئی تھی ” کک۔۔۔کیا مطلب تم خود اس سے شادی کرو گی ؟”
“ میں اسکے قابل کہاں رہی میں مکمل ختم ہوگئی میں کبھی اسے نہیں اپناؤ گی کبھی بھی نہیں !” نوشین کی بات پر ناجانے کو منال کو ایک امید مل گئی تھی اسے سلا کر وہ واپس آئی تو مہتاب بے چینی سے اسکے پاس آیا ” کک۔۔کیسی ہے کیا کہا اسنے میرے بارے کوئی بات کی ؟” اسکو کندھوں سے تھامے وہ بے چینی سے پوچھ رہ تھا ” ہاں کی نہ بہت اہم بات کی میں نے پوچھا اگر کبھی وہ تم سے ملا تو تم کیا کرو گی ؟”
“ اچھا تو کیا کہا اسنے ؟” وہ خوش ہوگیا تھا ” کہتی اگر کبھی آگیا تو اسکے لیے دلہن ڈھونڈے گی تمہاری شادی کروانے کی تیاریاں کر رہی ہے !” مہتاب کے ہاتھ اسکے کندھوں سے نیچے آگئے تھے وہ حیران رہ گیا تھا ” کیوں ؟
“ وہ کہتی ہے وہ تمہاری قابل نہیں رہی تمہیں کبھی نہیں اپنائے گی !” مہتاب کا دل ٹوٹ گیا تھا جب منال نے اسکا ہاتھ تھاما” سہی تو کہہ رہی ہے تم اسے تھوڑی ڈیزرو کرتے ہوئے تمہیں تو کوئی ایسا ملنا چاہیے جو صرف تمہارا ہو تم سے محبت کرے جیسے میں !” وہ اسکا ہاتھ لبوں کی طرف لے جارہی تھی مہتاب حیرت سے صرف اسے دیکھے جارہا تھا جب بہت قریب سے اسکا اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور واہ آؤٹ کرگیا ۔منال پیچھے سرد آہ بھر کر رہ گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماضی ۔۔۔
نکاح کے بعد اسے پھر سے اسی روم میں بیٹھا دیا گیا تھا وہ دل سے دعا کررہی تھی کہ یا اللہ یہ سب ایک خواب ہو میں پلک جھپکوں اور نیند ٹوٹ جائے مگر نیند تو نہیں ٹوٹی سوچ ٹوٹ گئی تھی جب دروازہ کُھلنے کی آواز آئی وہ مسکراتا ہوا اندر آیا تھا آج وہ بہت خوش تھا اسکی زندگی میں ایک ایسے انسان کی شمولیت ہوگئی تھی جسکی جان اس میں بسنے لگی تھی وہ پرجوش انداز سے بیڈ پر بیٹھا ” سوری وہ نہ آپکے لیے منہ دکھائی کا گفٹ لانا تھا ! ” اسنے جیولری سیٹ اسکے سامنے رکھا جسے دیکھ کر فریحہ کا کوئی ردِ عمل نہیں تھا نعمان کے ہونٹ سُکڑ گئے تھے اسنے نرمی سے ہاتھ اسکے چہرے پر رکھا جسے اسنے جھٹکنے کی کوشش کی ” آ۔۔آ۔۔۔۔۔۔یہ غلطی تو مت ہی کرنا مجھے خود سے دور کرنے کی غلطی میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا اور پھر میری سزائیں آپکو ناگزیر گزریں گی !”
“ پلیز مجھے جانے میں ہوسٹل سے غائب وارڈن کو پتا چلا تو بہت ڈانٹے گی میں انڈر ٹرینگ ہوں ابھی پلیز !” نعمان نے پیار سے اسکا چشمہ اتارا جسے اسنے روک دیا ” مجھے نظر آتا سہی سے چشمے کے بغیر ! اسنے پھر بھی چشمہ اتار ہی دیا اسکی کمر میں ہاتھ ڈالے اسے قریب کرلیا اسکے کان کے قریب جھک گیا ” میں ہوں نہ آپکی آنکھیں ! اسکی کان کی لو پر لب رکھتا وہ اسے اور ڈرا گیا تھا جب اسنے اسے دور کرنے کی کوشش کی نعمان نے گہرا سانس لیا اور اس دور ہوگیا ” دیکھو فریحہ میں مانتا ہوں جن حالات میں آپ یہاں آئیں وہ سہی نہیں تھے مگر یہ نکاح تو سچ ہے سوچیں اگر میں بُرا ہوتا تو اب تک جو چاہتا تھا وہ کر چکا ہوتا اس طرح آپکو صفائیاں نہیں دے رہا ہوتا پہلی نظر کی محبت میں یقین ہے آپکو ؟” اسنے معصومیت سے نفی میں سر ہلایا جس پر وہ ہنس دیا ” مجھے بھی نہیں میں بھی سوچتا کہ کیسے کوئی کسی سے پہلی نظر محبت کرسکتا ہے نہ آسکا جانا نہ پہچانا کیسے یوگیا مگر آج میں یقین آگیا کہ جب کوئی اہسا انسان آپکے سامنے آئے جسے دیکھ دل دھک رک جائے سانس تیز ہوجائے ہر چیز دھندلی ہوکر صرف وہ نظر آئے اسکی معصومیت دل کو بھا جائے تو ہاں پہلی نظر میں محبت ہوجاتی ہے آپکو پتہ ہے آپ کتنی معصوم ہیں اتنی کہ اگر شیطان بھی آپکو دیکھ لے تو مومن بنے کا ضرور سوچے گا یس فریحہ آئی لو یو میں تم سے محبت کرنے لگا ہوں ورنہ نکاح جیسا پاک رشتہ کو باندھتا پلیز ایک بار مجھ پر یقین تو کر کے دیکھو پلیز !!! اسنے اسکے ہاتھوں کو نرمی دبایا اسے کچھ سکون ملا تھا سہی تو کہہ رہا تھا کچھ بھی غلط نہیں کیا کچھ بھی کہنے کرنے سے پہلے نکاح کیا اورکیا ثبوت چاہیے مجھے اسکی محبت کا نکاح ہی تو ہے سب سے بڑا ثبوت اور وہ اسنے سب سے پہلے کیا ہے ” آپ مجھے دھوکا تو نہیں دیں گے چھوڑ تو نہیں دیں گے ! وہ حسرت بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اسنے نفی میں سر ہلا دیا اسنے جیولری باکس اٹھایا کھولا تواس میں نہایت خوبصورت نیکلس تھا فریحہ نے اس پر ہاتھ پھیرا ” بہت خوبصورت ہے! پہنا دیں ! نعمان نے حیرت سے اسے دیکھا اور بے ساختہ اسکے ماتھے پر لب رکھ دیے ” تھینک تھینک سو مچ مجھ پر یقین کرنے کے لیے میں اسے کبھی نہیں ٹوٹنے دوں گا !! چہرا اسکے نہایت قریب کے وہ نیکلس پہنا رہا تھا اور وہ حیا سے نظریں جھکائے بیٹھی تھی ۔وہ اسکے ایک ایک نقش پر اپنا لمس چھوڑ رہا تھا اسکے ہونٹوں کو قید کیے وہ اسے اپنا اسیر کرتا جارہا تھا گزرتی رات کا ہر لمحہ فریحہ نعمان شیرازی محبت میں ڈوبتی جارہی تھی یہ جانے بغیر کے کل صبح کا سورج ہجر کی سوغات لانے والا تھا مگر اس وقت وہ محبت اپنے تکمیل پر تھی ۔
اگلی صبح جب اسکی انکھ کھُلی تو اسکے پہلو میں وہ سمٹی سو رہی تھی اسنے ایک نظر اسکے معصوم پرسکون چہرے کو دیکھا جس پر محبت کے اثار نمایاں تھے ۔اسنے نرمی سے اسکا سر تکیے پر رکھا اور اسکے ماتھے کو چھو کر واش روم میں چلا گیا۔ تیار ہونے کے بعد وہ جیسے ہی نیچے سٹڈی میں گیا علیم نے اسکےسامنے ایک فائل رکھی ” بوووم !!!! نعمان نے حیرت اسے دیکھا ” کیا دھماکے دار خبر ہے !”
“ بھابھی بہن ! نعمان نے مسکرا کر اسے دیکھا ” تمہاری میں جانتا ہوں !
” ایس پی مرزا ایوب کی بھابھی مرزا ایوب کی بہن ہیں فریحہ ایوب !!! اسکی بات سن کر نعمان کے چہرے کا رنگ اڑ گیا وہ ایکدم چئیر سے اٹھا واٹ!!!!
“ یس سر مرزا کے علاوہ اسکی پوری فیملی امریکہ نیویارک میں سیٹل ہیں میم انکی بہن ڈاکٹر ایک سال کے کنڑیکٹ پر افریقہ کے ہوسپیٹل میں جاب کرتی ہیں کلب میں بھی الکوحل نارکوٹیکس ڈرگز پر سرچ کررہی ہے اسلیے وہاں تھیں ہیں نہ بوم نیوز اب وہ انسپیکڑ ہمارے کچھ نہیں کرسکتا یہ سمجھے اسکی دکھتی رگ ہاتھ اگئی ۔
“ شٹ اپ علیم یہ۔۔۔یہ ٹھیک نہیں ہوا فریحہ مرزا کی بہن ہے اسے پتا چلا تو وہ یہی سوچے گی کہ میں نے اسکے بھائی کو بلیک میل کرنے کے لیے اس سے نکاح کیا ہے میں صرف مرزا سے بدلہ لینا چاہتا اس سے محبت نہیں کرتا اور …….” وہ ابھی بات کر ہی رہا تھا جب فریحہ پر نظر پڑی وہ سب سن چکی تھی اسکی انکھیں آنسوں سے بھری ہوئیں ” فریحہ مم۔۔۔۔۔۔” مگر اس سے پہلے وہ الٹے قدم لیتی بھاگ گئی تھی وہ بھی اسکے پیچھے ہی بھاگا تھا کمرے میں جاتے وہ دروازہ بند کررہی تھی جو وہ نہیں کررہا تھا ” فریحہ ائی کین ایکسپلین !!!
“ کیا کیا بتانا چاہتے ہو کہ تم نے نکاح کے دوسرے ہی دن مجھے دھوکا کیوں دیا ! وہ اندر آکر دروازہ بند کرچکا تھا پیچھے علیم کو اپنی غلطی پر افسوس ہورہا تھا ” سر سچ میں محبت کرتے تھے ان سے !
“فریحہ پلیز میری بات سنو جو تم نے سنا وہ آدھا سچ ہے !”
” اور پورا سچ کیا مسٹر نعمان شیرازی یہی نہ کہ اب کیسے روز مجھے نئی تکلیف دے کر میرے بھائی کو تڑ پانا ہے آخر ہے کون آپ ؟”
پولیٹکل لیڈر بزنس مین گینگسڑ اور سمگلر !!!اسنے پرسکون لہجے میں کہا جس پر فریحہ کا منہ کھلا رہ گیا تھا میں نے سمگلنگ کی ہے لڑکیاں بیچی ہیں ملک کا پیسہ بھی کھاتا ہوں اور جو میرے راستے میں آئے اسے تو نگل جاتا ہوں تمہارے بھائی نے پہلے تو میری فیکڑی سے لڑکیاں چھڑا لیں میرا کروڑوں کا مال پکڑوایا اور پھر میری خلاف ثبوت ڈھونڈ رہا ہے اسلیے میں اور مرزا دشمن ہیں اور قسم ہے مجھے جو میں نے کبھی اس دشمنی کو پروفیشنل سے پرسنل کرنے کوشش کی ہو مجھے سچ میں نہیں پتا تھا کہ تم مرزا کی بہن میں نے تم سے محبت کی یے مرزا کی بہن سے نہیں ائی رئیلی لو یو ! مگر وہ تو اسے سن ہی نہیں رہی تھی ” وہ۔ وہ کل جو لڑکیاں تم ۔۔۔تم لائے تھے تم انھیں بیچ دو گے اگر تمہیں یہ پتا نہ ہوتا کہ میں مرزا کی بہن تم مجھے بیچ دیتے یا میرے اللہ اگر ایسا ہوجاتا ! وہ اپنے بالوں کو بکھیرنے سمیٹنے لگی تھی “فریحہ !! وہ اسے چھونے لگی جب وہ پیچھے ہوگئی ” دد۔۔۔دور رہو پتہ نہیں کتنے بے گناہ معصوم لوگوں کا خون لگا ہوگا اس پر اور تم نے مجھے بھی چھوا مجھے بھی گندا کردیا !!! وہ کبھی اپنے ہونٹ رگڑ رہی تھی کبھی گردن تو کبھی ماتھے سے اسکا لمس مٹانے کی کوشش کر رہی تھی اور تب پہلی بار نمعان شیرازی کی آنکھ نے کھارا پانی اگلا تھا وہ کیسے اسکا لمس مٹا رہی تھی میں نے اس سے محبت کی انتہا کردی اور یہ میرا یقین تک نہیں کر پارہی تھی اسنے ایک دم بازو سے کھینچ کر اپنے سامںے کیا ” نعمان شیرازی ہر کام ایمانداری سے کرتا ہے چاہے وہ ناجائز ہو یا جائز تم سے محبت بھی جائز کی اور رشتہ بھی جائز بنایا اب بھی کہو گی دھوکے باز ہوں !!!
“ ہاں ہو تم دھوکے باز ہو ہو ہی نہیں سکتا کہ تمہں پتہ ہی نہ ہو کہ جس لڑکی کو تم اپنی زندگی میں شامل کررہے ہو وہ کون ہے کہاں سے ہے کس کی اولاد ہے تم نے میرا فائدا اٹھا مجھے اپنے اعتماد میں لیا مجھ سے محبت ناٹک کیا اور میں بے وقوف بن بھی گئی اب تم میرے بھائی کو بلیک میل۔کرو گے تم نے کل۔رات کی ویڈوز بھی بنائی ہوگی تم میرے بھائی کو تڑپاو گے اسے بلیک میل کرو گے اور میرا بھائی عزت کے لیے پیچھے ہٹ جائے نہیں یہ میں نہیں ہونے دوں میں اپنے آپ کو ہی ختم کر لوں گی ! اسنے ادھر ادھر دیکھا وہاں ایسا کچھ نہیں تھا پرفیوم کی شیشی ڈریسنگ پر ماری جو ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا تھا ایک ٹکڑا لیا اس سے پہلے وہ نبض کاٹتی ایک زور دار تھپڑ اسکے چہرے پر پڑا تھا بالوں سے پکڑ کر اسکا چہرا اپنے قریب کرلیا ” بہت بول لیا تم نے اب میری سنو تم میری یعنی نعمان شیرازی کی پہلی اور اخری محبت ہو میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑو گا چاہے مجھے جان دینی پڑے یا لینی پڑے سمجھی !!! ایک جھٹکے سے بال چھوڑتا وہ دور ہوگیا تھا وہ باہر جانے لگا ” مجھے ہوسٹل جاناہے !! اسنے حیرت سے اسے دیکھا ” فریحہ !!!
“ اگر تم مجھ سے سچ میں محبت کرتے ہو تو مجھے آبھی کہ ابھی ہوسٹل چھوڑ کر آو نعمان شیرازی !!!!
وہ واپس اسے دوپٹہ دیا اور کھینچتا ہوا باہر لاکر گاڑی میں بیٹھا دیا گاڑی تیز رفتاری سے چلاتا وہ غصہ نکال رہا تھا گاڑی ہوسٹل سے کچھ دور کھڑی کیے وہ سامنے دیکھ رہا تھا جب وہ جانے لگی اسنے ہاتھ پر کھینچا تو اسکے قریب ہوتی چلی گئی اسنے کوئی بھی لمحہ ضائع کیے بغیر اسے ہونٹوں کو اپنی دسترس میں لیا اس لمس محبت سے زیادہ غصہ بھی تھا فریحہ اپنے اپ کو چھڑانے کی کوشش کررہی تھی آخر کافی دیر بعد جب منہ میں نمکین ذائقہ آیا تو ترس کھا کر چھوڑ دیا انگوٹھے سے ہونٹ کے کنارے سے خون صاف کیا جس سے منہ سے بس سسکی نکلی ” کہا تھا نہ دور جانے کی کوشش کرو گی تو میری سزائیں ناگزیر گزریں گی ! اپنے ہاتھ چھڑاتی بھاگ گئی تھی اس سے جو سایہ بن کر اسکے ساتھ رہنا چاہتا تھا اس ہجر کو اب منان کو مٹانا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے