Musalat By Binte Aslam Readelle50190 Episode 6
No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
قسط نمبر 6
!” اسنے دیوار پر مکا مار کر کہا تو وہ سر سے پیر تک کانپ گئی ” مم۔۔۔مجھے نہی ۔۔۔۔۔نہیں پتا کیسے پتہ چلا !”اسنے پھر اسکے بال پکڑ لیے تھے ۔” تم نے اسکے سامنے ہاتھ جوڑے !!! ہر ایک لفظ کے ساتھ بالوں پر گرفت مضبوط ہوتی جارہی تھی ۔
وو۔۔وہ کہہ رہا تھا ۔۔آ۔۔۔آپکو نوکری سے نکلوا دے گا میری ۔۔۔۔وج۔۔۔وجہ سے …..لمحہ بہ لمحہ اسکی سانسیں ڈوبتی جارہی تھیں ۔
“ وہ تمہیں ہراساں کررہا تھا اور تم اسکے سامنے میری نوکری کے لیے ہاتھ جوڑ رہی تھی تمہیں لگتا ہے وہ ٹُچ سا کانسٹیبل مجھے ایس پی مرزا ایوب کو نوکری سے نکلوا سکتا ہے !! اسنے ایک جھٹکے سے اسکے بال چھوڑ دیے وہ آنسوں پونچتی بالوں کو سہلاتی اسے دیکھنے لگی ” جی۔۔۔وہ آپ ۔۔۔چچ۔۔۔چھوٹے عہدے پر تھا ؟” اسکے سوال پر مرزا سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا ” یہی مسئلہ ہے یہی نقصان ہے ان پڑھ ہونے کا کوئی کچھ بھی کہہ کر چلا جاتا ہے تم اپنے گدھے دماغ میں بیٹھا لیتی ہو تم جیسی لڑکیوں کو پڑھائی میں تو کوئی دلچسپی ہے نہیں شادی کردو بس کام کرنا ہوں دماغ نہ چلانا پڑے !!! اسنے شرمندگی سے سر جھکا لیا تھا وہ تو کوئی موقع نہیں چھوڑتا تھا شرمندہ کرنے کا ” اسے تو میں دیکھ لوں گا اگر اس سے پہلے تمہاری سزا کی باری !! اسنے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا ” آج کی ساری رات تم یہی دیوار کے ساتھ کھڑے کھڑے گزارو گی ! وہ حیرت سے اسے دیکھتے رہ گئی تھی سارا دن تو ایک منٹ بیٹھی نہیں تھی اور اب بھی پر اس سے کچھ کہنے کی ہمت تو ڈرپوک میں تھی نہیں اسکے سامنے سرجھکائے ہاتھ کو دیکھنے جہاں کانچ سے زخم ہوا تھا وہاں سے ابھی بھی خون نکل رہا تھا اسنے دوسرے ہاتھ سے اسے دبا کر خون روکنا چاہا وہ پھر سے اپنے لیپ ٹاپ پر بزی ہوگیا تھا ایک گھنٹہ گزر گیا تھا اسے کھڑے کمر میں درد کی ٹیسیں اُٹھ رہی تھیں مگر پھر بھی وہ کھڑی رہی اسنے تو دوبارہ دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا تھا ۔دو گھنٹے گزر گئے تھے جب اسکے رونے کی آواز اسکے کانوں میں پڑی اسنے حیرت سے اسے دیکھا جو سر جھکائے رو رہی تھی ” اب کیا تکلیف ہے ؟”
اسے ایک نظر دیکھ کر وہ پھر نظریں جھکا گئی ” بولو! اسنے چیخ کر کہا تھا تو کانپ گئی ” دد۔۔۔درد ہورہا ہے ؟”
“ کہاں ؟ اسنے اکتا کر پوچھا ” کک۔۔۔کمر میں کھڑا نہیں ہوا جارہا ؟” اسنے آنسو پونچھ کر جواب دیا ۔ اسکے ماتھے پر بل آگئے تھے ” کیوں !”
“ مم۔۔۔موچ آگئی تھی ! اسنے اسکے چہرے کو اب دیکھا تھا جو درد اور رو رو کر سُرخ ہوا پڑا تھا ” ٹھ۔۔ ٹھیک جاؤ سو جاؤ جاکر !!!سُنا تھا جب وہ جانے لگی تو بولا ” روکو ! اسنے پلٹ کر دیکھا تو وہ دراز سے کچھ نکال رہا تھا ” یہ لگا لینا درد ٹھیک ہو جائے گا !! وہ کبھی اسے دیکھ رہی تھی کبھی جیل کو ” پکڑو !! اسنے زور دے کر کہا تھا اسنے ہاتھ آگے بڑھایا ” یہ۔۔۔یہ تمہارے ہاتھ پر خون کیوں لگا ہے !!!
“ کک ۔کانچ کا گلاس ٹوٹ کر لگ گیا ! مرزا پھر سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا کیا کروں اسکا اٹھا فسٹ ایڈ باکس لایا ” بیٹھو ! بستر پر بیٹھائے وہ اسکے ہاتھ کی ڈریسنگ کر رہا تھا ” تم اندھی ہو اندھوں طرح کام کرتی ہو کیا دیکھانا چاہتی میں ظلم کرتا ہوں تم پر !” کریم سختی سے اسکے ہاتھ پر رگڑتے وہ پوچھ رہا تھا جس سے اسے تکلیف ہورہی تھی مگر وہ نفی میں سرہلاتی جارہی تھی اسکی پٹی کرنے کے بعد وہ اسے کمرے سے بھیج چکاتھا ابھی اسنے لیپ ٹاپ ان ہی کیا تھا کہ وہ دوبارہ آگئی چپ چاپ اسے دیکھنے لگی ” اب کیا چاہیے”
“ وہ۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔ی۔۔۔یہ رہ گئی ؟!! اسنے بیڈ پر پڑی جیل کی طرف اشارہ کیا اسنے ایک نظر غصے سے اسے دیکھا ” یہ بھی میں نے لگانی ہے ؟
“ نن۔۔نہیں میں لگا لوں گی ! جیل اٹھا کر وہاں سے نکل گئی وہ دوبارہ کام میں مصروف ہوگیا ۔کپڑے تبدیل کرکے وہ بیڈ پر لیٹے تو کمر نے بستر سے لگنے سے انکار کردیا درد اس قدر تھا کہ نہ لیٹا جارہا تھا نہ بیٹھا جارہا تھا جیل بھی اسنے بہمشکل لگا لی تھی چھت کو گھورتے ایک منظر آنکھوں میں آگیا وہ اپنی دادی کے ساتھ لیٹی تھی ” سچی دادی پھر میں کچھ نہیں کروں گی ! معصومیت سے اپنی دادی کے گالوں پر ہاتھ رکھے وہ پوچھ رہی تھی ” ہاں جب تیری شادی ہوگی تیرا دولہا رانی بنا کر رکھے تجھے اتنے سارے نوکر ہوں گے تیرے تجھے کچھ نہیں کرنا پڑے گا !!”آنکھوں میں آنسوں کے ساتھ وہ منظر بھی مِٹ گیا ” دادی ہیر صرف نوکرانی بن سکتی رانی نہیں بابو کو پڑھی لکھی میم چاہیے تھی میں نہیں !” آنسو صاف کرتی لیٹ گئی نیند کب آئی پتہ ہی نہیں چلا ۔وہ ابھی بھی بیڈ پر بیٹھا کام کررہا تھا ۔جب فون رنگ ہوا ” اسلام علیکم دادی !
“ واعلیکم السلام میرا بچہ کیسا ہے ؟
ٹھیک ہوں دادی اپ کیسی ہیں ؟” وہ لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلا رہا تھا ” مرزا ہیرا کیسی ہے اچھی ہے بہت سگھڑ ہے اور نازک اسکا دھیان رکھنا میری بات کروا اس سے !””
“ ہاں دادی ٹھیک ہے دادی وہ سو گئی ہے !” اسنے اکتا کر کہا ۔
“ ہیں ابھی تو گیارہ بجے ہیں ابھی سو گئی اسے اٹھا کر بات کر وا !!! مرزا نے حیرت سے فون کو دیکھا ” ہیلو ہیلو دادی آوازہ نہیں آرہی !
ہیلو ہیلو مرزا !! مگر وہ فون کاٹ چکا تھا ۔” اب تب تک دادی کو سکون نہیں انا جب اس سے بات نہ کرلیں ! اس کا رُخ اب اسکے کمرے کی جانب تھا وہ اندر آیا تو کمبل منہ تک لیے سو رہی تھی کمبل میں چھپا وجود کپکپا رہا تھا وہ کانپ کیوں رہی تھی اسے ٹھنڈ لگ رہی تھی ” ہیر !
“ نن۔۔۔نہیں چاچی اب نہیں کروں معاف کردیں چاچی معاف کردیں !!! وہ نیند میں بڑبڑا رہی تھی اسنے اسکے چہرے سے کمبل ہٹایا ” مم۔۔۔میں دوبارہ کتابوں کو ہاتھ بھی نہیں لگاؤ چاچی مت ماریں !!! وہ کانپتی بولے جارہی تھی اسنے ہلایا اسے مگر وہ نہیں جاگے وہ تو چاچی سے معافیاں مانگ رہی تھی اسنے اٹھا کر بیٹھایا اسے مگر وہ آنکھیں بند کیے بولے جارہی تھی ” چاچی میں بس کھانا کھانے آئی تھی معاف کردیں چچ۔۔چوری نہیں کی !!!
“ ہیر !!! ہیر!!! اسنے کندھوں سے پکڑ کر اسے جھنجھوڑا تو اسنے آنکھیں کھول دیں مگر ہوش میں اب بھی نہیں تھی ” نن۔۔۔نہین چاچی میں کسی سے کچھ نہیں کہوں گی مجھے مت ماریں ! اسنے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا ” ہیر ویک اپ ہوش میں آؤ !!! مگر مسلسل روئے جارہی تھی اچانک اسنے اسے گلے سے لگا لیا ” کوئی مار رہا تمہیں !!! اسے سینے سے لگائے وہ اسکے بالوں میں ہاتھ پھیر رہا تھا ” بی بی ! اسنے اسکے پشت پر ہاتھ باندھ لیے اسے لگ رہا تھا اسے آغوش میں اسکی دادی نے لیا ہے جو اکثر لیا کرتی تھیں ” ہیر میں ہوں مرزا ! حواس قائم ہوئے تو اسکی آواز بھی کانوں میں پڑی وہ ایکدم اسے الگ ہوئی اپنے چادر ٹھیک بلکے سر پر ہی لے لی ” آ۔۔۔اپ۔۔۔!”
اسنے ایک نظر اسے دیکھا اور جگ سے پانی ڈالا پانی ڈالتے وہ دیکھ سکتا تھا کہ وہ اپنے ماتھے پر موجود مندمل زخم کو چھو رہی تھی ” کیا ہوا تھا یہاں ؟٫” اسنے سرد لہجے میں پوچھا مگر وہ تو کچھ اور ہی سوچ رہی تھی ” تم بھی عام لڑکیوں جیسی ہو اٹریکشن پانے کے گھٹیا طریقے ڈرنا سہمنا چپکنا یہ سب کرکے میرے قریب آنے کی کوشش کرہی تھی نہ تمہیں سمجھ نہیں آتا کیا نفرت کرتا ہوں میں تم سے …”اسکے الفاظ اسکے کانوں میں گونج رہے تھے اور اب بھی وہ اسکے سینے سے لگ گئی تھی وہ گلاس تھامے بیڈ پر بیٹھا تو وہ اپنے آپ میں سِمٹ کر بیڈ کراؤن سے لگ گئی ” آ۔آپ یہاں کیوں آئے کک۔کچھ چچ۔۔چاہیے آپکو ! حلق تر کرتی وہ پوچھ رہی تھی ” پانی پیو !” وہ گلاس اسکی جانب بڑھا رہا تھا جسے اسنے چپ چاپ پکڑ لیا ایک ہی سانس میں وہ سارا گلاس پی گئی تھی وہ حیرت سے بس اسی دیکھے جارہا تھا بہت سے پہلو ہیں اس سیدھی سادی لڑکی کی زندگی میں ” تمہیں نیند میں بڑبڑانے کی عادت ہے کیوں !”
“مم۔۔۔مجھے اندھیرے سے ڈ۔۔ڈر لگتا ہے اسلیے ڈراونے خواب آتے ہیں !!! وہ نظریں جھکائے بول رہی تھی ” اور نیند میں بڑبڑاتے ماتھے پر یہ چوٹ بھی خود لگوا لی ؟” اسکی بات پر اسنے اپنے ماتھے پر لگے زخم کو چھوا ” بابو میں سو جاؤ صبحا جلدی اُٹھنا ہے کوئی کام ہے تو بتا دیں ؟” وہ اسکا سوال نظر انداز کر گئی تھی جس پر اسے تعجب ہوا ” وہ ۔۔۔دادی کا فون آیا تھا تم سے بات کرنا چاہتی تھیں !!” اسنے فون ملایا جو لگ نہیں رہا تھا دو تین بار ٹرائے کرنے کے بعد بھی نہیں ” نہیں لگ رہا کل کروا دوں گا تم سو جاؤ !! اسے کہتا وہ اٹھ گیا وہ ابھی تک بیڈ کروان سے لگی تھی اپنے ماتھے کے زخم پر ہاتھ رکھے اسنے حیرت سے پیچھے مُڑا کچھ تو عجیب ہے !!! اسکے جانے کے بعد وہ آئینے کے سامنے آئی میکسی کی زپ کھولی جہاں پیٹھ پر جلنے کا نشان موجود تھا آینے میں منظر سا بن گیا تھا ” نہیں چاچی ایسا مت کریں میں جل جاؤ گی !”
“ بتا پھر کہے گی اپنے چاچا سے مجھے سکول جانا ہے بول !! وہ گرم سریہ لیے اسکے پاس ارہی تھی ” چاچی مجھے بھی پڑھنا دائم اور فری کی طرح نہیں پڑھو گی تو سب مجھ سے نفرت کریں گے !! روتی وہ دور جارہی تھی بھاگنے کے لیے مُڑی تو وہ گرم سریہ اسکی پشت میں پیوست ہوگیا تھا اپنی بچپن کی چیخوں سے بچتی کانوں پر ہاتھ رکھتی وہ نیچے بیٹھتی جارہی تھی گھٹنوں میں سر دیے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی ” میں اپنی مرضی سے ان پڑھ نہیں بنی بابو نہیں !!! “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ ہیلو بیٹا تونے کھانا کھایا ٹھیک سے پہنچ گیا تھا نہ ! وہ ہوسٹل کے کمرے میں لیٹا فون پر بات کررہا تھا پچس چھبیس سال کا سنجیدہ سا۔لڑکا ” ہاں امی پہنچ گیا تھا اور کھانا بھی کھالیا .٫
“ تو نے ایویں ضد کرلی ہوسٹل میں رہے گا ارے لاہور میں اپنی ہیر بھی تو رہتی ہے تو اسکے گھر رہ لیتا .”چاچی نے منہ کا زاویہ بگاڑ کر کہا “نہیں امی ہیر کے گھر نہیں میں نہیں چاہتا میری وجہ سے مرزا اسے کچھ کہے اب میں ہیر کا سامنا نہیں کرنا چاہتا !”
دائم دیکھ پتر جو کچھ بھی ہوا وہ قسمت تھی ہیر کا رشتہ پہلے سے مرزا سے طے تھا ہم کچھ نہیں کرسکتے تھے ۔” اسنے ایک سرد آہ بھری ” امی مجھے صرف ایک بات بتائیں کہ جب ہیر کے والدین گئے تو دادی کی دوست نے ہیر کے سر پر ہاتھ رکھ کر یہ کہا کہ یہ میری بیٹی تب آپکا ہاتھ کہاں تھا کیوں نہ کہا میری بیٹی ہے یہ گھر کہ بیٹی گھر میں رہے گی !!
“ دائم پتر تیرا اور ہیر کا کوئی جوڑ نہیں تھا کہاں وہ عام سی شکل و صورت والی ان پڑھ جاہل گنوار اور تو میراپڑھا لکھا ڈاکٹر!!!”
“ امی بس کردیں اب تو بخش دیں اسے میں نے ہیر سے بچپن سے محبت کی تھی مگر آپ میرے جذبات کو دیکھ نہیں پائی دادی سمجھتی تھی مگر آپکا روایہ ڈراتا تھا انھیں کہ آپ اسکے ساتھ کیسا سلوک کریں گی اسلیے ہم سب سے دور بھیج دیا اسے یہ گلہ سارہ زندگی رہے گا مجھے !! اسنے غصے سے فون بند کردیا تھا ۔دائم ہیر سے ایک سال بڑا تھا اور اسکا ابھی ابھی لاہور میڈیکل یونی میں ایڈمیشن ہوا تھا وہ ڈاکٹر کیوں بنا چاہتا تھا اسکے پیچھے بھی ہیر کی خواہش تھی اسنے آنکھیں بن کیں ” ڈاٹکر بابو میرا بھی علاج کڑدو !! چھے سال کی ہیر اسکے سامنے معصوم سی چہرا بنا کر بیٹھی تھی ” کیا ہوا ہے جی آپکو ؟” اسنے اپنے ابا کا چشمہ نیچے کر کے کہا ” بے میرے سر وچ درد رہتی ہے !
“ آدھر آ میں آپکا علاج کرتا ہوں !” وہ اسکا سر دبانے لگا ” لے ایسا توڑی کرتے ہیں ڈاٹکر تو دوائیاں دیتے ہیں !
“ جب میں وڈا والا ڈاٹکر بن جاؤ گا نہ تو دوائیاں دوں گا !!”
“ ہیں شچی تو جلدی جلدی وڈا والا ڈاٹکر بن جا مجھے بڑے جنگے لگدے نے ڈاٹکر !” بند آنکھوں سے ایک آنسوں گر تھا ” ہیر خدا کریں مرزا تم سے اتنی محبت کرے تم سب بھول جاؤ ہر درد ہر تکلیف تمہارا ہر زخم بھردے وہ اور جہاں تک رہی میرے درد کی دوا تو شاید ہی ہے کہ اب کوئی کر سکے۔”
اگلے دن وہ یونیورسٹی آیا تھا کلاسزز ابھی شروع نہیں ہوئی تھیں وہ یونی دیکھ رہا تھا کہ گرلز واش روم سے اسے دروازہ پیٹنے کی آواز آئی ” ہیلپ می پلیز سمباڈی ہیلپ می !! دروازے کے پیچھے التجا کررہی تھی وہ ناچاہتے ہوئے بھی وہاں آگیا دروازے کو باہر سے کُنڈی لگی تھیں اسنے کُنڈی کھولی تو وہ جن کی طرح حاضر ہوئی اور آتے ہی دائم کوتھپڑ جڑ دیا وہ منہ کھولے اسے دیکھتا رہ گیا ” تمہیں شرم نہیں آتی کسی لڑکی کو اس طرح واش روم میں بند کرتے ابھی کیا اور ابھی کھول یہ ثابت کرنا چاہتے ہو کہ تم اچھے ہو! ناک پر چشمہ درست کرتے وہ بس اسے دیکھے جارہا تھا جب دو لڑکیاں آئی ” امل تم ٹھیک ہو شکر میں نے صائم اور زرتاشہ کی باتیں سنی انھوں نے تمہیں واش روم میں لاکڈ کردیا تھا !” لڑکی کی بات سن کر اسنے دائم کی جانب دیکھا جو سنجیدہ سے نیچے دیکھ رہا تھا اور پھر واک آؤٹ کرگیا ” رُکیں میری بات سُنے !! مگر وہ چلا گیا تھا ” کیا ہوا امل یہ کیا کر رہا تھا یہاں ؟”
” اسنے ہی نکالا تھا مجھے مجھے لگا شاید خودی بند کرکے نکالا ہے اسنے مجھے ورنہ گرلز واش روم میں کیوں ہوتا ؟ بتاتے وہ شرمندہ ہوگئی تھی ” کیا ! واٹ ! ان دونوں نے ایکساتھ کہا مگر طوفان کی دھمک پڑ چکی تھی اب صرف تباہی پھیلنے والی تھی ۔
وہ کلاس میں کتابوں میں سر دیے بیٹھا تھا کسی کی جانب بھی متوجہ نہیں تھا مگر وہ اسے تو جیسے توجہ کا مرکز ہی آج ملا تھا مناسب جسامت لمبا قد ہلکی بئیرڈ سفید رنگت ہونٹ پر تل اچانک پوری کلاس کھڑی ہوگئی کیونکہ پروفیسر آگئے تھے اٹینڈنس کے دوران وہ ایک رولنمبر پر رُک گئے جس پر دائم نے ہاتھ کھڑا کیا ” یس اٹس دائم فہد ! امل نے زیرِلب اسکا نام دوہرایا ” دائم ! دل نے ایک بیٹ مس کی تھی آج پہلی بار اسکا دھیان لیکچر کی بجائے کسی اور پر تھا بھٹک کر نظر اس پر جارہی تھی کلاس کے بعد وہ الگ تھلگ بیٹھا پڑھنےمیں مصروف تھے جب اسے اپنے سامنے زنانہ پیر نظر آئے اسنے نظر اُٹھا کر دیکھا تو ماتھے پر ناگواری آگئی تھی ” جی”
“ وو۔۔وہ ۔۔۔۔مجھے آپ سے کہنا تھا کہ ائم سوری صبح کے لیے مجھے لگا۔۔۔۔شش۔۔۔شاید آپ ہی نے مجھے بند کیا ہے ؟”
“ اور آپکو ایسا کیوں لگا بات سے زیادہ ہاتھ اُٹھانے میں بلیو کرتی ہیں بنا کچھ سوچے سمجھے !” اسکا سر اور جھک گیا تھا ” میرے ساتھ اکثر سب ایسا ہی کرتے ہیں میں بہت ڈرپوک ہوں اسلیے !”
“ اوکے ٹھیک ہے ! کتابیں اٹھا کر وہاں سے چلا گیا ” تھینک یو دائم ! وہ جب بھی اسکا نام لیتی تھی دل الگ ہی طرز پر دھڑکتا تھا مگر یہ تو آغاز تھا دائم نے سوائے درد کے اسے کچھ نہیں دینا تھا جس طرح ہیر مرزا پر مسلط ہوگئی اسی طرح امل نے دائم پر ہوجانا تھا ۔لیکن کیا فری دانیال پر مسلط کی جانے والی تھی یا انکی کہانی کچھ اور تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔( ✨۔۔۔۔۔۔۔✨) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
