Musalat By Binte Aslam Readelle50190 Last updated: 25 August 2025
No Download Link
Rate this Novel
Musalat
By Binte Aslam
دانیال جب سے آیا تھا کام میں ہی لگا تھا حالات بہتر ہوتے جارہے تھے کیونکہ امبر کی جگہ فری نے سنبھال لی تھی اور سائے کی طرح لائبہ کے ساتھ رہتی تھی اب بھی وہ اسے سلا کر آئی تھی اور دانیال کو دیکھ کر اسکا منہ اتر گیا تھا اسے جینا سکھانے والا کیسے آپ سیٹ ہوگیا تھا اسکی ہمت دیکھ کر یونی میں کئی لڑکیاں اسکی دوست بن گئی تھی انفکیٹ وہ سرگرمیوں میں بھی حصہ لینے لگی تھی مگر ایک جو چیز فری میں شامل ہوگئی تھی وہ تھا پردہ جو اسنے منہ چھپانے کے لیے نہیں بلکہ اللہ کے لیے شروع کیا تھا " کوپ !! اسنے نظر اٹھا کر اسے دیکھا " ہمم !! “ آپکے ناک لگا ہوا ہے چہرے پر !! دانیال نے حیرت سے چہرے پر ہاتھ پھیرا " نہیں لگا !! “ لگا ہے اتنا سارا !! وہ قدم قدم چلتی اسکے پاس آئی " نہیں لگا !! اسنے فون میں اپنا چہرا دیکھا جب فری نے اسکی ناک پکڑ لی " یہ دیکھیں اتنا بڑا لگا تو ہوا !!اسنے زور سے کھینچا تو اسے تکلیف ہوئی تھی " فری چھوڑ دو !! مگر وہ کھینچے جارہی تھی آخر جب دانیال نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر قریب کرلیا تھا وہ حیران رہ گئی ناک بھی چھوڑ دیا " کمال ہے تم نے ناک پکڑا تو میں کیا تمہیں نہیں پکڑ سکتا ۔" وہ اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کررہی تھی " چھوڑ دیں نہ !! اسنے شرم سے نظر جھکا کر کہا تھا دانیال کو اس پر رحم آگیا تھا اسلیے چھوڑ دیا فائل اٹھائی اور جانے لگا جب فری نے اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچا تو وہ اس کے اوپر ہی گر گیا تھا وہ دونوں بیڈ پر اوپر نیچے کی پوزیشن میں گرے تھے " آئی ۔۔۔۔۔۔۔۔لو ۔۔۔۔۔۔یو ۔۔۔۔دا۔۔۔۔۔دانیال !! اسکے چہرے پر انگلی پھیرتی آج فری نے دانیال سے پہلے اظہار کردیا تھا جس پر وہ اسکا چہرا دیکھتا رہ گیا تھا " سچ میں اب مسلط نہیں ہوں تم پر ؟؟" اسنے جیسے تصدیق کرنی چاہی جس پر فری نے نفی میں سر ہلا دیا " آئی لو یو ٹو !" ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہتاب کے سو جانے کے بعد وہ بھی بیڈ پر اسکی جانب کروٹ لے کر لیٹ گئی تھی " آپ جانتے ہیں آپ نے اپنی زندگی کا سب غلط فیصلہ یہ کیا ہے کہ مجھ سے نکاح کیا ہے !! وہ تھوڑی سے اسکے قریب ہوئی " آپ جانتے ہیں بچپن سے زیادہ خوبصورت ہوگئے ہیں آپ کہ اپنا آپ شرمندہ لگتا ہے مجھے میں اپکے قابل نہیں ہو ! اسنے محبت سے اسکے ماتھے پر آئے بال پیچھے کیے جب مہتاب نے آنکھیں کھول کر مسکرا کر اسے دیکھا " اچھا تو چوری چوری خود محبت کرلیتی ہو اور مجھے کرنے نہیں دیتی !! " وہ اٹھنے لگی تو اسنے روک لیا اور اس پر جھک گیا " پہلے سے زیادہ خوبصورت ہوگیا ہوں دل نہیں کرتا پیار کروں تم سے !! پر اسکا ردِ عمل نہایت سنجیدہ تھا اسنے نفی میں سر ہلا دیا " میں کسی کے پیار کے قابل نہیں ہوں !" “ ہو تم ہی تو ہو مہتاب کے عشق کی حقدار تم ہی ہو اور کون ہوسکتا ہے کتنا پیار کرتا ہوں تم سے تم سمجھتی ہی نہیں ہو !! وہ اسکی گردن پر جھکتا جارہا تھا جب اسکی گھُٹی گھُٹی آواز آئی " وہاں مت چھوئیں وہاں سگریٹ کے جلنے کے نشان ہیں کہاں کہاں سے روکو گی اس محبت کے لیے جگہ نہیں ہے !!! اسے دھکیل کر اٹھ گئی تھی اور پیچھے وہ گرجانے کی طرح تکیے پر سر گرا گیا آنکھیں بند کی تو ایک آنسو آنکھوں سے نکل کر تکیے میں جذب ہوگیا ۔ “ تڑپتے رہو جہنم کی آگ میں فائق شیرازی !!" ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
