96.1K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

ہیر مرزا اور دائم تینوں نے کل صبح لاہور جانا تھا مرزا بیڈ پر لیٹا کسی گہری سوچ میں مبتلا تھا اسے بار بار وہ منظر یاد آرہا تھا جب فری کے نکاح میں فری کا ہاتھ تھامنے کے لیے ہیر جھکی تھی تو دائم نے اسے آگے آئے بال پیچھے کیوں کیے تھے اور وہ ہیر کے تصویر سے بات کیوں کررہا تھا کہ کاش آج وقت کچھ اور ہوتا کہیں دائم ہیر سے پیار تو نہیں کرتا اگر یہ بات ہے تو یہ تو بڑی اچھی بات ہے !”وہ ایکدم آٹھ بیٹھا ہیر جو کپڑے بدل کر کمرے میں آئی تھی اسے ایسے دیکھ کر پریشان ہوگئی تھی ” آپ کو کک۔۔کچھ چاہیے بابو ؟”اسنے اسے اپنے پاس بلایا ” ہیر تمہیں دائم اچھا لگتا ہے !”
“.جج۔۔۔جی کیا مطلب ؟ …” مطلب کیا تم اور دائم ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے تم نے یہ شادی زبردستی پر کی ہے !” ہیر پر تو جیسے کمرے کی چھت گر گئی تھی ۔
آپ ۔۔۔یہ کیا کہ رہے ہیں دائم میرا چھوٹا بھائی ہے! “
” ہاہاہا اور تمہیں لگتا ہے وہ چھوٹا بھائی تمہیں بڑی بہن سمجھتا ہے پیار کرتا ہے تم سے اور میں اس بات پر بڑا خوش ہوں !” بھری آنکھوں سے وہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی “میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں جاؤ دائم سے نکاح کرلو میں مرزا ایوب تمہیں پورے ہوش و حواس ۔۔۔۔۔۔۔” اس سے پہلے ہی وہ اسکے پیروں میں بیٹھ گئی تھی ” نہیں بابو ایسا کچھ نہیں دائم مم۔۔۔میرا چھوٹا بھائی ہے میں بری لڑکی نہیں ہوں !”اسکے ہاتھ اسکے پیروں پر تھے جو اسنے ایکدم کھینچ لیے ” میں تمہیں اسلیے طلاق نہیں دے رہا دیکھو ہم دونوں کی مرضی کے خلاف یہ شادی ہوئی ہے تو ہم لوگ ایک دوسرے پر بلاوجہ مسلط کیوں ہوں تم اور دائم ایک دوسرے سے پیار کرتے ہو تو۔۔۔
“ میں صرف آپ سے پیار کرتی ہوں !!! اسنے حیرت سے اسکی جانب دیکھا جہاں غم تھا غصہ تھا اظہار تھا گلہ بھی تھا ۔ کچھ لمحے تو وہ اسے ایسے ہی دیکھتا رہا پھر بال پکڑے اسکا چہرا اپنے قریب کرلیا ” تو جب وہ تمہارے بالوں کو ترتیب دے رہا تھا تو اسکا ہاتھ جھٹک کر کیوں نہیں کہا کہ کس حق سے کر رہے ہو یہ !!! اسکی آنکھوں میں صرف غصہ اور وحشت تھی وہ ڈر گئی ” وو۔۔وہ تو اچانک کیا ۔۔۔اس۔۔۔اسنے !” ایک جھٹکے سے اسکے بال چھوڑ کر سیدھا ہوکر لیٹ گیا ” کیا مصیبت ہے اب اسے مجھ سے محبت ہوگئی یعنی جان نہیں چھوڑے گی !٫ اسکی بڑبڑاہٹ اسنے سن لی تھی بال سہلاتے وہ اسے دیکھ رہی تھی ” سنو دادی کے سامنے مت کہنا کہ تمہیں مجھ سے محبت ہے ورنہ طلاق دے دوں گا تمہیں سمجھ آئی !”
“ جج۔۔۔۔جی !! وہ باہر کی جانب چل دی ” کہاں جارہی ہو”
“ وو۔۔وہ بی بی نے کہا تھا آج میرے ساتھ سو جانا !”
“ شکر جاؤ جلدی جاؤ کہیں تمہاری دادی کا ارادہ نہ بدل جائے !” کروٹ بدل کر سو گیا وہ ٹوٹے قدموں کے ساتھ دادی کے کمرے کی طرف چلی گئی جہاں وہ سوچکی تھیں بیڈ پر چپ کرکے انکے ساتھ چپک گئی انکے سینے پر سر رکھے وہ رونے لگی تھی ” ہیں ہیر میری بچی کیوں رو رہی ہے اور تو یہاں کیوں آئی مرزا کے پاس کیوں نہیں سوئی !”
“ بی بی میں ادھر سونا ہے اور رونا مجھے فری کے لیے آرہا ہماری گُڑیا کے ساتھ کیا ہوگیا ۔” انھوں نے اسے کس کر گلے لگایا ” نہ میری دھی ایسے نہیں روتے فری کے ساتھ اگر برا ہوا ہے تو اچھا بھی تو ہوا مجھے تو اتنی بڑی خوشی میری دونوں بچیاں پولیس والے کے گھر گئی ہے تو بتا مرزا تجھ سے محبت کرتا ہے !”
“ نہیں ! اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا جس پر دادی اسے پریشانی دیکھا ” بب۔۔بہت محبت کرتے ہیں آنے نہیں دے رہے تھے کہ میں کیسے سو گا پھر میں انھیں دھکا دیا اور آگئی !” اسنے انکے لیے جھوٹ بولا تاکہ وہ فری کو چھوڑ میری پریشانی نہ لے لیں وہ منہ پر دوپٹہ رکھیں ہنس رہی تھیں ” جھلی کھوتی کسے تھاں دی چل سو جا !!” انکے ساتھ لگی وہ چپکے چپکے نیند کے وادیوں میں کھو گئی تھی ۔
(✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فریحہ ہوسپیٹل سے آکر کچھ دیر پہلے ہی سوئی تھی کہ اچانک اسے اپنے چہرے پر کسی کی گرم سانسیں محسوس ہوئیں اسنے دھندلی آنکھیں کھولیں کہ سامنے والے نے چشمہ اسکی آنکھوں پر لگا دیا ” آئی نو میرا بچہ اپنے گلاسزز کے بغیر نہیں دیکھ سکتا کہ اسے کون ملنے آیا ہے !” سامنے والے کی شکل دیکھ کر اسکی روح تک فنا ہوگئی تھی گہری سیاہ انکھیں کشادہ پیشانی باریک ہونٹ جو مسکرا رہے تھے وائٹ شرٹ گلے میں ڈھیلی ٹائی کلائی میں ڈیور کی گھڑی شاید وہ آفس سے سیدھا یہی آیا تھا اسکا گلہ خُشک ہوگیا تھا ” نن۔نعمان شیرازی ! جی ہاں نعمان شیرازی کوئی سنکی بُڈھا نہیں اٹھائیس کا جوان لڑکا تھا جو بزنس مین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پولیٹیکل لیڈر ڈراک ولڈ کا میمبر بھی تھا اسکی صرف دو ہی کمزوریاں تھا ایک اسکی ریپوٹیشن اور دوسری فریحہ بیڈ کے ساتھ چئیر پر بیٹھے وہ اسکے چہرے پر جھکا تھا اپنی خوبصورت لمبی انگلیاں اسکے ماتھے پر پھیر رہا تھا ” میری جان نے مجھے مس کیا میں ایک ہفتے کے لیے پاکستان گیا تھا !”
“ کک۔۔۔۔۔۔کیوں میں تمہیں کیوں مس ککک۔۔۔۔۔کروں گی ! وہ ایکدم آٹھ کر بیڈ کروان سے جالگی تھی جب نمعان کی نظر اسکے نائٹ ڈریس پر پڑی جسکے اپر بٹنز کُھلے تھے وہ اس سے نظریں پھیر گیا ” کور یور سیلف !!اسنے فورا بلینکٹ گردن تک کھینچ لی ” میں ایک ہفتے کے لیے پاکستان گیا تمہارے دیور کو پولیس پکڑ کر لے گئی تھی !!”
“ اُس۔۔۔۔اسنے ایک لڑکی کا ریپ کیا وہ گندا ہے ! اسکی بات پر اسنے اثبات میں سر ہلایا ” سہی کہہ رہی ہو پھر میرا تو بھائی ہے مجھے چھڑوانا پڑا مگر ڈونٹ وری میں نے اسے سزا دی میں نے تین تھپڑ مارے اسے !”
“ تت۔۔تم یہاں کیوں آئے ہو ؟” وہ زبردستی اسکا ہاتھ اپنے ہونٹوں کے قریب لے جارہا تھا ” میں میرے بے بی سے ملنے آیا تھا میں نے اتنا مس کیا تمہیں کال بھی کی مگر تم نے رسیو کیوں نہیں کی !” اسکے ہاتھ پر گرفت مضبوط کرتا وہ کچھ پوچھ رہا تھا “مم۔۔میرا فون ان نون نمبر نہیں شو کرتا !” اسکی بات سن کر اسنے ایک نظر اسکے فون کو دیکھا ہاتھوں میں لیا اور دیوار میں مار کر چکنا چور کردیا وہ حیرت سے اسے دیکھتی رہ گئی ” جو چیز مجھے تم سے دور کرے گی نعمان اسکی دھجیاں اڑا دے گا !!!” وہ سر سے پیر تک کانپ گئی تھی اسے اس سے ڈر لگ رہا تھا جب وہ اچانک اٹھا اور اسکے چہرے پر جھک گیا نرمی سے اسکی ہونٹوں کو چھوا اور اسے لمحے پیچھے ہوگیا ” او میں تو بھول ہی گیا کہ تم سے آج کوئی اور بھی ملنے آیا ہے !” اسنے لائٹ آن کی اور سامنے کی طرف اشارہ کیا وہاں ایک پرام کھڑی تھی اسنے پہلے پرام کو دیکھا پھر نعمان کو جو مسکرا رہا تھا “ی۔۔۔یہ ۔۔۔منان ہے !” اسنے حیرت سے پوچھا تو اسنے اثبات میں سر ہلا دیا وہ بھاگ کر پرام کے پاس گئی تو اس میں ایک بچہ بےبی کور میں لِپٹا تھا اسنے فورا اسے گود میں اٹھایا کپڑا ہٹایا تو وہ گُڈا تھا اسنے حیرت سے نعمان کو دیکھا جو افسوس سے سر جھٹک رہا تھا پھر اسکے پاس آگیا ” کیا ہوا منان نہیں ہے او ہاں مجھے یاد آیا کہ وہ تو میرے اپارٹمنٹ میں میرے بیڈ پر سکون سے سو رہا ہے !” اسنے گُڈا پرام میں رکھا اور نعمان کا چہرا اپنے ہاتھوں میں لیا پہلے ماتھے پر پھر آنکھوں پر پھر گالوں پر وہ محبت کی مہریں ثبت کررہی تھی اور وہ آنکھیں موندیں سکون محسوس کررہا تھا ” نعمان منان سے ملا دیں ایک دفعہ مجھے اسے گود میں اٹھانا ہے اسکا ہر حق دینا میں نے اسکے لیے اتنی کپڑے لیے ہیں چھوٹے چھوٹے ! اسنے لہجے میں انتہا کی بے بسی لاکر کہا تھا جس پر وہ آنکھیں موندے ہی مسکرا دیا ۔ اسکا ہاتھ پکڑے بیڈ پر بیٹھ گیا اسے اپنی گود میں بیٹھا کر موبائل کی سکرین اسکے سامنے کردی جس میں ایک چھوٹا سا گولو پولو لڈو سا بچہ کلکاریاں لگا رہا تھا اسنے بے ساختہ انگلیاں سکرین پر پھیریں ” چھے ماہ کا ہوگیا ہے جناب نیچے والے دانت نکال بیٹھا سی میری انگلی پہلا شکار تھی اسکی ! اسنے اسکے سامنے انگلی کی جس پر چھوٹے چھوٹے دانتوں کے نشان اسنے محفوظ کیے تھے وہ بھیگی آنکھوں سے مسکرا دی تھی ” مجھے کہتا با…..با !! اسے دودھ مانگنا بھی آگیا دودا دودا کہتا رہتا ہے !” وہ ہنس دی تھی ” ماما نہیں کہتا !” اسکے چہرے کی جانب رُخ موڑ کر وہ اس سے پوچھ رہی تھی ” اسنے اپنی ماں دیکھی کب”
“ نعمان میں اپکے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں مجھے ایک دفعہ منان سے ملا دیں آپ ہوسپیٹل سے ہی لے گئے تھے اسے !”
“ کیونکہ تم نے دھتکار دیا تھا نرس ایک گھنٹہ تمہارے سامنے اسے لیے کھڑی رہی تھی وہ بھوکا روتا رہا مگر تم نے نہیں دیکھا اسلیے میں اسے لیے گیا تھا مجھے اسکے لیے رضاعی ماں مل گئی تھی ۔”
“ تب مجھے غصہ تھا کہ آپ نے زبردستی کی تھی میری ساتھ !” اسنے ایک دم اسے اپنے پہلو میں گرایا اور اس پر جھک گیا ” زبردستی میں نے نکاح کیا ہے تم سے جائز اولاد ہے وہ ہماری جسے تم نے دھتکار دیا اور اب تم اس سے تب ملوں گی جب سب کے سامنے اقرار کرو گی کہ تم نعمان شیرازی کی بیوی اور منان کی ماں ہو ۔
“ اس دن قیامت آجائے گی مرزا بھائی مار دیں گے !” وہ سیدھا ہوا ” کہا نہ جس دن اپنا لو گی اس دن منان تمہاری گود میں ہوگا ۔” کہتے جیسے آیا تھا ویسے ہی چلا گیا ۔اور وہ تکیے میں منہ دے کر رونے لگی اسے آج بھی وہ منحوس دن یاد تھا جب وہ افریقہ کے نائب کلب میں گئی تھی اور اسی رات اسکی زندگی بدل گئی ۔نعمان شیرازی جو پاکستان میں بیٹھے اسکے بھائی کا حریف ہے وہ اسکا شوہر بن گیا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(✨……..✨) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فری نکاح کرکے دانیال گھر آگئی تھی جب سے آئی تھی نہ کچھ بول رہی تھی نہ کچھ کھا رہی تھی بس گم سم بیٹھی تھی لائبہ اور امبر دونوں ٹینتھ کی سٹوڈنٹس تھیں وہ بھابھی بھابھی کرتی اسے کبھی کچھ دے رہی تھیں کبھی کچھ امبر کو تو وہ اتنی اچھی لگی تھی کہ اسنے اسکی گال پر کس بھی کیا تھا جس پر وہ بس مسکرا دی تھی اسے دادی کی بات جو یاد تھی ” دانیال کے ساتھ تیرا جیسا بھی رویہ ہو اسکے گھر والوں کے ساتھ خاص کر ان بچیوں کے ساتھ بد تمیزی یا سخت تو نہیں ہوگی انکا کوئی قصور نہیں ! یہ بات تو وہ بھی جانتی تھی کہ اس فیملی نے سب جانتے ہوئے اسے اپنایا تھا۔ مسسزز آفتاب اسے پیار دے کر امبر اور لائبہ کو لے گئی۔ وہ ان دونوں کو نیگ دینے کے بعد کمرے میں آیا تھا کھڑکی کھلی تھی بارش کی وجہ سے ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں اسنے بیڈ پر دیکھا تو کوئی بھی نہیں تھا جیسے ہی نظر فرش پر پڑی اسکے پیروں تلے زمین نکل گئی تھی وہ کروٹ لیے فرش پر لیٹی تھی ” فری !!” وہ بھاگ کر اسکے پاس گیا کہ شاید وہ بے ہوش ہے مگر جیسے ہی اسنے ہاتھ لگانا چاہا ” مجھے ہاتھ مت لگائیں !” وہ ہوش میں تھی تو ایسے یہاں کو لیٹی تھی وہ انگلی سے فرش پر لکیریں کھینچ رہی تھی ” فری اٹھیں ٹھنڈ ہے آج اور آپ نے چینج کیوں نہیں کیا !” وہ ریڈ میسکی میں ہی نیچے پڑی تھی ” میرا نام فرحین ہے فری مجھے میرے اپنے کہتے ہیں آپ اپنے نہیں ہیں !! اسنے حیرت سے اسے دیکھا اسکے چہرے پر اتنی تکلیفوں کے آثار تھے کہ دانیال کا دل ڈوب گیا تھا اسی ٹھنڈے فرش پر وہ بھی اسکے ساتھ اسی پوزیشن میں لیٹ گیا انکے چہرے آمنے سامنے تھے ” جب وہ مجھے لیکر گیا تھا نہ میں بہت روئی تھی اتنا جتنا آج تک نہیں روئی اور پھر بھی مجھے اس کمرے میں لے گیا “
“ فرحین کچھ مت کہیں !” وہ یہ کیوں کہہ رہی تھی اسے تکلیف دینے کے لیے ” اسنے نے مجھے دیوار کے ساتھ لگایا میری گردن کو چھوا !!!”
فرحین بس !!! اسنے تڑپ کر کہا مگر وہ تو فرش پر لکیریں کھینچ رہی تھی ۔” میں نے اسے دھکا دیا اور بھاگنے لگی جب اسنے میری ٹانگ کھینچی اور میں منہ کے بل اسی فرش پر گر گئی !” اسنے زور سے مکا فرش پر مارا تھا ” وہ میری طرف بڑھ رہا تھا اور میں پیچھے پھر اسنے مجھے دبوچ لیا اور ……!” اسنے ایک دم اسکے منہ پر ہاتھ رکھا اور اس پر جھک گیا ” چپ بلکل چپ !!” فری کی آنکھیں پتھر ہوئیں اسے دیکھ رہی تھیں جب اسے احساس ہوا تو ہاتھ ہٹا دیا ” بلکل اسی طرح میں فرش پر گری تھی اور وہ مجھ پر جھکا ہوا تھا اسنے میرے کپڑے پھاڑے !” دانیال کو جلاتی جارہی تھی جب اسنے آہستہ سے ہاتھ اسکے کان کے پیچھے کیا مخصوص نبض دبائی تو وہ غنودگی میں چلی گئی ! وہ سیدھا ہوا ” ایم سوری مجھے کرنا پڑا !” اسنے نرمی سے اسے اٹھایا اور بیڈ پر لیٹا دیا کمبل دینے کہ بعد خود واش روم میں چلا گیا رف ٹراؤزر شرٹ پہنے وہ اسکے قریب آیا ” ابھی وقت نہیں آیا کہ خود سے آپکو چینج کروا دو تو سوری یو ہیو ٹو سلیپ ان اِٹ !”
“ میں جانتا ہوں میں آپکا مجرم ہوں آپ تکلیف میں ہیں مگر جب آپ ٹھنڈے فرش پر اس طرح لیٹی تھیں مجھے اپنی آپ بیتی سنا رہی تھیں مجھ سے برداشت نہیں ہوا مجھے آپ اچھی لگتی ہیں محبت کا پتا نہیں مگر ہمدردی نہیں مگر یہ مت سوچیے گا یہ رشتہ ہمدردی بن کر رہ جائے گا مجھے یقین ہے مجھے آپ سے محبت ہو جائے گی یا شاید ہورہی تھی یا شاید یہ صرف احساس ملکیت ہے کہ اب آپ میری ہیں ” ایک نظر اسے دیکھ کر صوفے پر لیٹ گیا اور آنکھیں موند لیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(✨……✨) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائے امبر ایف سی میڈیکل رکھ تو لی مگر مشکل نہیں ہے یار پہلے کالج اب اکیڈمی میں تھک جاتی ہوں سارا دن !! امبر اور لائبہ کا کچھ دن پہلے ہی رزلٹ آیا تھا دونوں نے سیم ایٹی پرسنٹ سکور کیے تھے میڈیکل کی سٹڈی کے لیے انھوں نے شہر کی مشہور اکیڈمی جوائن کی تھیں اب بھی وہ گراؤنڈ میں بیٹھی باتیں کررہی تھیں جب انکی نظر گیٹ پر پڑی وہاں سے بلیک کرولا آکر رُکی تھی جن میں سے اترے انسانوں کو دیکھ کر سب کا منہ کھلا رہ گیا تھا سیم وائٹ شرٹس سیم بلیک پینٹس سیم ہئیر سٹائل سیم شوز سیم واچیز حتٰی کے شکلیں بھی سیم تھی وہ بلکل ایک جیسے تھے عمر کوئی انیس بیس سال ہوگی وہ حسین بھی ایک جتنے تھے سب لڑکیاں انھیں دیکھ کر کرش کر رہی تھیں جب وہ ایڈمیشن آفیس میں گھس گئے امبر اور لائبہ نے حیرت سے پہلے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر ہنس دی وہ دونوں بھی جڑواں ہی تھیں مگر یہ تو نمونے ہی تھے وہ دونوں پھر اپنی باتوں میں لگ گئی جب انھیں کیمسٹری کے ٹیچر نے آواز دی ” امبر لائبہ انھیں اپنی کلاس میں لے جاؤ ! ان دونوں نے حیرت سے ان دونوں کو دیکھا جو کندھوں پر بیگ ڈالے انھیں دیکھ رہے تھے گہرا سانس آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ سوچا اور اٹھ گئیں ” چلیں !!!”وہ چپ چاپ انکے پیچھے چل دیے راستے میں وہ انھیں دیکھ دیکھ کر ہنس رہی تھی امبر نے بلو کلر کی سادہ فراک اور ٹراؤزر پہنا تھا ساتھ شفون کا دوپٹہ اور بالوں کی فرینچ ٹیل لائبہ کی بھی سیم تھی پر پنک کلر میں انھوں نے ایک دوسرے کو دیکھا جب وہ دونوں اچانک رُک گئی ” تم دونوں فسٹ ائیر ہو !”
“ ان دونوں نے ایک ساتھ اثبات میں سر ہلا دیا ” ہم سینئر ہے تم دونوں کا نام کیا ہے ! لائبہ نے پوچھا تھا جس پر ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ” جوجو زی زی !! دونوں نے باری باری کہا جس پر امبر اور لائبہ زور سے ہنس دی تھیں وہ پھر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے تھے ۔” تم لوگ دیکھنے میں نمونہ نہیں نام بھی نمونوں جیسے ہیں تم لوگوں کے نام جوجو زی زی نہیں ڈم ڈم ڈگا ڈگا ہونا چاہیے !” وہ پیٹ پر ہاتھ رکھے ہنستے ہوئے کہا جوجو امبر کے سامنے کھڑا تھا اور زی زی لائبہ کے وہ دونوں گہری نظروں سے انھیں دیکھ رہے تھے دل نے شاید ایک لمحے کو چھوڑا تھا شاید ڈھڑکن تھی جو وہ انھیں ابھی تک جواب نہیں دے پائے تھے پھر سر جھٹک دیا ” جوجو یعنی جبار !!! جوجو نے امبر کے قریب ہوکر کہا
“ زی زی یعنی زوار !! زی زی بھی لائبہ کے قریب ہوگیا تھا وہ دونوں ایک قدم پیچھے ہوگئی ” ٹھیک ہے ٹھیک تم دونوں جڑواں ہوں نہ مطلب سیم فیس قد سیم فیچر اور سیم لیونگ سٹائل بھی !”
“ ہم سب کچھ ساتھ ساتھ کرتے ہیں کپڑے بھی سیم کھانا بھی پڑھنا بھی سیم !” انھوں نے ایک ساتھ سنجیدگی سے کہا جس پر وہ دونوں حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگی ” واش روم میں ساتھ جاتے ہو ؟” اس بات پر انھوں نے ماتھے پر بل لاکر انھیں دیکھا ” شٹ اپ !انھوں نے ساتھ کہا تھا کیا ہارمنی تھی انکی “
ہیے یو ہم سینئرز ہیں تمہاری !! لائبہ نے زی زی کو گھور کر کہا جس پر وہ پھر ایکدم اسکے قریب ہوگیا” تم دونوں کے نام کیا ہیں ؟”اس بات پر ان دونوں نے مسکرا کر ایک دوسرے کو دیکھا ” میں ام ام یعنی امبر ہو اور میں لا لا یعنی لائبہ ہوں ہاہاہاہاہاہاہا “وہ انکے ناموں کی کِھلی اڑا رہی تھیں وہ دونوں جڑواں تھیں اس لیے انھیں سب پیار سے یہی کہتے تھے سکول میں بھی کالج میں بھی اور اکیڈمی میں بھی یہی کہلوانا چاہتے تھے مگر ان لڑکیوں نے تو انکے نِک نیم ہی مذاق بنا دیے ” امبر لائبہ بائیو کی کلاس سٹارٹ ہوگئی !” وہ کتابیں نکالتی بھاگیں جب اچانک رُکیں ” میڈیکل اور نان میڈیکل ! امبر نے ان دونوں کو دیکھتے پوچھا ” میڈیکل ! انھوں نے بیزاری سے کہا ” تو کم ان کلاس سٹارٹ ہوگئی ! وہ بھاگ گئی تھیں وہ بیزاری سے انھیں دیکھتے پیچھے چل دیے .مگر اپنے سحر میں وہ سب کو جکڑتے جارہے تھے ۔
“ امبر کم ان اٹینڈنس لو!! سر نے کہا تو وہ رجسٹر پکڑے رُسٹم پر آگئی ساری اٹینڈنس کے بعد آخر میں وہ دونوں کھڑے ہوئے ” نیو سٹوڈنٹس !! ٹیچر نے ان دونوں کو دیکھ کر کہا انھوں نے اثبات میں سر ہلایا ” امبر کلاس کے بعد انکے نام ایڈ کردو ۔کلاس ختم ہونے پر ٹیچر کے بعد وہ اپنی چئیر پر ہی کھڑی ہوگئی ” کیا نام تھا تمہارا ڈم ڈم ڈگا ڈگا نہیں چُنو مُنو تولو مولو سوری میں بھول گئی ! اسنے اتنی بلند کہا تھا کہ پوری کلاس حیرت سے انھیں دیکھتی ناموں پر ہنس دی ان دونوں نے ایکساتھ مُٹھیاں بھینچ لیں تھیں جبار نے آگے بڑھ کر امبر کے ہاتھ سے رجسٹر چھینا اپنا اور زوار کا نام لکھ کر رجسٹر ٹیبل پر پٹخ کر چلے گئے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.(✨……✨)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔