96.1K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29

ناول # مسلط
ازقلم # بنت اسلم
قسط نمبر # 29
تو مرزا کیا سوچا ہے تم نے کیا کرو گے اب ؟” وہ دونوں باپ بیٹا کھانے کے بعد ڈرائنگ روم میں بیٹھے باتیں کررہے تھے باقی سب تو سونے جا چکے تھے “سوچنا کیا ہے ابو اب بس اب میں نعمان شیرازی کے خلاف کچھ نہیں کروں گا میں سو ثبوت بھی لاکر دے دوں نہ تو ہمارے ہی سسٹم میں موجود کچھ غدار اسے کبھی بھی کچھ نہیں ہونے دیں کمشنر تک بکا ہوا ہے ؟”
“ لیکن مرزا کیا ایسے ہی چھوڑ دو گے جو کچھ ہورہا ہے ملک ڈوب رہا ہے !”
“ کوشش کی نہ ابو عوام ساتھ نہیں دیتی انھیں صرف اپنے حکمران سے وفاداری دکھانے کے ہمیں پریشر میں لانے کے لیے اسی ملک کو جلانا ہے جہاں ہمیں کل رہنا اپنے ہاتھوں سے اپنا ملک جلا رہے ہیں اور یہ غنڈا راج ایسے ہی چلتا رہے گا ۔” ایوب صاحب نے گہرا سانس لیا انھیں افسوس ہوا تھا ” کل ہم واپس جارہے ہیں میں نے امی اور شگفتہ نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم لوگ پاکستان واپس آجائیں گے کاروبار وائنڈ اپ کرلیں گے فریحہ یہی ہے !” اسنے اثبات میں سر ہلا اور اٹھ کھڑا ہوا ” مرزا ہار گیا !!”
اسکے والد نہ کہا
“ مرزا تھک گیا تھک گیا میں !!! افسوس سے سر جھکا وہ اوپر کمرے میں آگیا تھا جہاں وہ بیڈ کے ایک سائیڈ پر سو رہی تھی ایک نظر مسکرا کر اسے دیکھا اور اسی کے پہلو میں دراز ہوگیا اب تو اسکی قربت سکون دینے لگی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج مرزا کی فیملی کی فلائٹ تھی دادی بھی واپس جارہی تھی کہ اگر فریحہ اور وہ دونوں یہاں تک گئی تو شگفتہ اکیلی ہوجائے گی اسلیے وہ بھی ساتھ جا رہی تھی اس سے پہلے وہ مرزا سے ایک ضروری بات کرنا چاہتی تھیں اس وقت وہ دونوں گیسٹ روم میں موجود تھے جو کچن سے دس قدم دور تھا ہیر کھانا بنا کر انھیں بلانے جارہی تھی جب انکے آوازیں سن کر باہر رُک گئی ” ہاں دادی وہ بہت اچھی ہے جیسی آپ کہتی تھیں بلکل ویسی ہے مجھے اچھی بھی بہت لگتی ہے مجھے ہمدردی ہےاس سے جب سے مجھے یہ پتا چلا اسکے غیر تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ اسکی چاچی اور انکا لالچ ہے مجھے ہمدردی ہے ہیر سے اسلیے اب اسکے ساتھ روکھا رویہ نہیں ہے میرا …” دادی اسکی باتوں سے حیران رہ گئی تھی ” کیا مطلب مرزا ہمدردی ہے محبت نہیں ہے اس سے ؟”
“ دادی دیکھیں میں حقیقت میں جینے والا انسان ہوں میں اچانک محبت ہوجانے میں یا لو ایٹ فسٹ سائیڈ میں یقین نہیں رکھتا ہاں مجھے اس سے ہمدردی ہے وہ مجھے اچھی لگتی ہے اور ایک شوہر ہونے کی حثیت سے مجھے معلوم ہے اسکے کیا حقوق ہیں اسکی ضروریات ہیں ان سب کا خیال رکھنے لگا ہوں آپ فکر نہ کریں اب اسے اس بات کا احساس کبھی نہیں ہوگا کہ اسکی کوئی اہمیت نہیں ہے اسکی ضروریات بھی پوری ہونگی اسے اسکے پورے حق بھی دیے جائیں گے اسکی حصے کی محبت بھی اسی مل کر رہے گے اور مجھے اس سے محبت بھی ہوجائے گی ! مرزا کے الفاظ نے ہیر کے پیروں کے نیچے سے زمین کھینچ لی تھی مرزا کو اس سے محبت نہیں تھی انھیں مجھ سے ہمدردی تھی انھوں نے مجھ سے پیار صرف میرا حق دینے کے لیےکیا تھا مجھ پر ترس کھا کر دور کہیں اسکے کانوں میں چاچی کی آواز گونجنے لگی تھی ” یہ عورتیں تجھ سے پیار اور تجھے دیکھ کر اسلیے روتی ہیں کیونکہ انھیں تجھ پر ترس آتا ہے تو یتیم ہے نہ یتیموں سے جو بھی محبت کرتا ہے صرف ترس کھا کر کرتا ہے ” چاچی سچ ہی کہتی تھیں میں کسی کی محبت کے قابل نہیں ہوں مجھ پر صرف ترس کھایا جاسکتا ہے ” آج اسے مرزا سے نفرت ہورہی تھی وہ تو شوہر تھا اسکا حق تو نہیں بنتا تھا نہ ترس کھانے کا وہ تو کل کائنات تھی اسکی اور آج ہیر نے فیصلہ کرلیا تھا ” بس اب اور نہیں اب میں خود پر کسی کو ترس کھانے نہیں دوں گی میں بابو سے دور ہوجاو گی نہ میں قریب ہوں گی نہ انھیں مجھ پر ترس آئے گا ۔” ہیر نے مرزا سے دوری اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا اور یہی چند روز کی دوری مرزا کو مصیبتوں میں الجھانے والی تھی جسکی زد میں ان تینوں دوستوں نے آنا تھا ایک ایسی غلطی ایک ایسی سازش ایک ایسا پروپیگنڈا جو طوفان لانے والا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل سے دادی واپس آئیں تھیں اور کل ہی سے امل انسے چپکی بیٹھی تھیں ایک وہی تو تھیں جو اس سے بغیر غرض سے محبت کرتی تھیں انھیں وہ ہیر فری جیسی ہی لگتی تھی پہلے انکی لاڈلیاں وہ تھیں اب صرف امل تھی ابھی بھی وہ انکی گود میں سر رکھے دائم کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی اور دادی ناجانے کیا کچھ کہیں جارہی تھی ” بتا دیکھی گی تو گُڑ کیسے بنتا ہے؟” انھوں نے اسکا سر ہلا کر پوچھا تو وہ ہوش میں آئی ” جج۔۔۔جی دادی ؟”
“ کیا بات ہے امل میرے بعد دائم نے کچھ کہا تجھ سے ؟ دائم کی یونی سٹارٹ ہوئی دو ہفتے ہوگئے تھے اور وہ دو دن پہلے ہی یونی گیا تھا اس رات کی اگلی صبح ہی دادی کے واپس آنے کے بعد اور ویک اینڈ کی وجہ سے وہ کل واپس ایک دن کے لیے حویلی آرہا تھا ۔ ” دادی وہ مجھ سے پیار نہیں کرتے مگر میں ان سے بہت پیار کرتی ہوں جو کچھ بھی ہمارے درمیان ہوا وہ غلط تھا مگر یہ رشتہ تو غلط نہیں ہے میں نے کتنی معافی مانگی کتنی سوری کہا ہر بات مانی مگر وہ مان ہی نہیں رہے !” اسکی بات سن کر دادی کو غصہ آگیا تھا ایسا بھی کیا کردیا تھا بچی نے نادانی میں غلطی کرلی ” دیکھ امل میں تیرے ساتھ اسلیے ہوں کیونکہ تجھے پتا ہے تونے غلطی کی ہے ایک مرد کی عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچائی تھی تم نے اور تو اس بات کے لیے شرمندہ ہے اتنی بار معافی مانگی تھی تو معاف کردینا چاہیے تھا پر تو فکر نہ کر میں کچھ کرتی ہوں اور یہاں فاطمہ بی وہ غلطی کرنے جارہی تھی جسکا پچھتاوا انھیں تا عمر رہنا تھا ایک بار پھر دائم کی عزت نفس پر بات آنے والی تھی لیکن کیا اس بار بھی وہ خاموش رہ لے گا۔۔۔
اگلی شام تین چار بجے کے قریب وہ جھنگ واپس آگیا تھا اور آتے ہی سو گیا تھا دادی کی اس سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی ۔ شام کی چائے پر ملاقات ہوئی ان سب کی جسکے بعد فہد صاحب تو پانی لگانے چلے گئے تھے امل رات کا کھانا بنانے اور چاچی آرام فرمانے وہ چائے پینے کے ساتھ ساتھ کسی گہری سوچ میں مبتلا تھا جب دادی کی آواز اسکے کانوں میں پڑی ” دائم امل کے ساتھ تمہارا رویہ بلکل بھی اچھا نہیں ہے ! اسنے حیرت سے انھیں دیکھا ” اس نے کچھ کہا آپ سے ؟”
“ کچھ کہنے کی کیا ضرورت ہے دائم اسکی حالت سے پتہ چلتا تم کس قدر لاپرواہ ہو میں مانتی ہوں اس سے غلطی ہوگئی لیکن وہ اتنی شرمندہ ہے اتنی بار معافی مانگ چکی ہے تمہیں اسے معاف کردینا چاہیے بیٹا دیکھو شادی کوئی کھیل نہیں ہے ؟”
“ لیکن اس نے بنا دیا تھا !” اسنے زور سے کپ میز پر رکھا جس میں سے چائے چھلک کر نیچے گری تھی فاطمہ بی کو اس بات پر غصہ آیا تھا ” تم کس قدر بد تمیز ہوگئے ہو دائم یہ کیا طریقہ تھا بات کرنے”
“ معذرت دادی لیکن امل کو معافی کبھی نہیں مل سکتی وہ مستحق ہی نہیں ہے آپ نہیں جانتی وہ کس قدر بے وقوف ہے پوری یونی کے سامنے مجھے کہتی ہے بہت افسوس ہوا آپکی بہن کے ساتھ کبھی سنسان جگہوں پر مجھے بلاتی ہے یہ کہہ کر اسے میری مدد چاہیے پھر محبت کا اظہار کرتی کوئی انکار کردے تو نکمے عاشقوں کی طرح سڑکوں پر آوارہ پھرتی ہے مار دیتے وہ اسے اگر میں نہیں پہنچتا اور اسنے میری ہی عزت پر داغ لگا دیا تھا آدھی رات کو بارش میں چھت کی ریلنگ پر بیٹھتی ہے کبھی اپنے ہاتھ جلانے لگتی ہے تو کبھی …..” اس سے آگے وہ اسکی بے وقوفیاں کیا گنواتا ۔”
“ کیونکہ تمہارا رویہ اسے بے وقوفیاں کرنے پر مجبور کرتا ہے تمہارے علاوا اسکے دماغ میں کچھ نہیں رہتا بس دائم میری گھر میں ایک بچی کے ساتھ زیادتی میں برداشت نہیں کروں گی تمہیں امل سے اپنا رویہ ٹھیک کرنا ہوگا بس !!”
“ اور دادی ہیر آپ جانتی تھیں نہ ہیر کے لیے کیا جذبات تھے میرے پھر بھی اسے اتنی دور بھیج دیا تب یہ خیال نہیں آیا آپکے پوتے کے ساتھ بھی زیادتی ہورہی ہے .”
“ تمہاری ماں جینے دیتے اس معصوم کو وہ جسکو وہ ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی اسکی بہو بنا کر ساری زندگی کی بے سکونی اسکے مقدر میں لکھ نہیں سکتی تھی تم جانتے بھی نہیں ہو اسکو کتنا اچھا گھر ملا …”
“ اور کتنا اچھا شوہر بھی …” طنز کرکے وہ کمرے میں چلا گیا کھانے پر بھی دادی کا رویہ اس سے ٹھیک نہیں تھا وہ اس سے بات تو دور اسے دیکھ بھی نہیں رہی تھی ان تینوں کی ایک ہی تو جان تھیں اور وہ تھیں انکی دادی امل نے آج دائم سے اسکی دادی کو بد گمان کیا تھا آج صبر ٹوٹا تھا کتنی ہی دیر وہ گھر کے باہر سگریٹ سلگائے ہر پہلو پر سوچتے غلطیاں صرف امل کی تھیں اسکی محبت کی تھی اور آج اسکی محبت اسے سزا بھی دے گی ۔سگریٹ پیروں کے نیچے مسل کر وہ حویلی کے اندر آگیا تھا ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی وہ کمرے میں ایا تو وہ بیڈ پر کمبل درست کررہی تھی سج سنور کر وہ ہمیشہ ہی دائم کے لیے رہتی تھی وہ الگ بات تھی کہ وہ اسے دیکھتا نہیں تھا اسنے بازو سے کھینچ کر اسکا رخ اپنی جانب کیا ” تم نے دادی سے کہا میں تم سے پیار نہیں کرتا ؟”
“ دد۔۔۔۔دائم انھوں نے پپپ۔پوچھا تھا ! وہ اسکا مضبوط ہاتھ اپنے کندھے سے ہٹانے کی کوشش کررہی تھی ” تو تمہیں میرا پیار چاہیے یعنی تمہں پھر سزا چاہیے ! یہ کہتے وہ اسے بیڈ پر پٹخ چکا تھا ” نہیں دائم میں نے دادی سے اسلیے نہیں کہا تھا آپ مجھ بات نہیں کرتے تھے اسلیے کہا تھا ! وہ دوبارہ اٹھنے لگی مگر اسے دوبوچے وہ اس پر جھک گیا ” نہیں تو اور کیا صبح شام یہاں بیٹھ کر باتیں کرتا رہوں اور ویسے بھی تمہیں تو میں چاہیے ہوں نہ اسلیے تو اتنا بڑا کھیل کھیلا تھا میرے ساتھ ” امل کی چوڑیاں میٹریس میں دھنس دھنس کر ٹوٹتی جارہی تھیں دائم اسکے ساتھ زبردستی کررہا تھا آخر اسنے ہمت کی اسے دھکیل دیا ” دور رہیں مجھ سے میں نے آپ سے محبت اسلیے تو نہیں کی تھی ….. آج امل کو اپنی حالت پر ترس افسوس غصہ رونا سب آرہا تھا ” بچپن سے لیکر آج تک میری زندگی میں جو مرد رہا ہے وہ میرے پاپا تھے جنہوں نے مجھے مرد کی وہ تصویر دکھائی جو شفیق ہے مضبوط عزت دینے والا محبت کرنے والا ہے پھر ایک ایسا لڑکا جسنے محبت کے معنی بدل دیے محبت کا مول لگا دیا مجھے بیچ دیا اگر مرزا بھائی نہیں ہوتے تو کیا ہوتا۔میرے ساتھ وہ میری زندگی میں آنے والے تیسرے مرد تھے جن جیسا ہمسفر میں چاہتی تھی وہ آئیڈیل تھے میرے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔” اسکی بات بیچ میں کاٹی گئی تھی
“ ہاہا اور جانتی اس آئیڈیل مرزا نے ہیر کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے مجھے نکاح کرنے پر کیسے آمادہ کیا تھا ……” بدلہ اسنے بھی پورا لیا بات اسے بھی مکمل نہیں کرنے دی تھی ” وہ ان دونوں کا ذاتی مسئلہ ہے مگر میں نے آپ میں مرزا بھائی کو دیکھا تھا جو اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر بچانا جانتے ہیں لیکن آپ تو ویسے نکلے ہی نہیں میں غلط تھی کہ یونی میں سب لڑکوں سے الگ اور نیک لگے مجھے آپ ہاں میں جانتی میں نے غلطی کی ہے معافی بھی تو مانگی ہے جنتی آپکی عزت اچھالی تھی اتنی سزا آپ دے چکے ہیں مجھے لیکن آج آپ ظلم کررہے ہیں مجھ پر میں کبھی معاف نہیں کروں گی …وہ کمرے سے باہر جانے لگی مگر اسنے پھر اسے بیڈ پر پٹخ دے ” نو تم غلط ہو آج تمہیں سزا اس بات کی نہیں ملنے والی کے تم نے میرے ساتھ کیا کیا تمہاری غلطی یہ ہے تم نے میری سب پیاری شخصیت کو مجھ سے دور کیا تمہیں دادی کو انوالو نہیں کرنا چاہیے تھے وہ مجھ سے بات نہیں کررہی کہ میں تم سے پیار نہیں کرتا تو یہ گلہ آج ختم ہوگا ۔ ” شرٹ۔کے بٹن کھولتا وہ اس پر جھکتا جارہا تھا اسکی کسی بھی التجا کو خاطر میں نہ لاتے وہ اس ظلم کر بیٹھا تھا یہ جانے بغیر آج اسنے صرف امل کو نہیں اپنے آپ کو بھی روند دیا تھا ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج امبر لائبہ کی اکیڈمی کا فئیرول۔تھا پارٹی ایک ہوٹل میں رکھی گئی تھی جہاں تمام ارینجمنٹ پوری ہوچکی تھی پارٹی میں ان سب نے بہت ہلہ گلہ کیا تھا اور اب واپس جانے کی باری تھی امبر نے فئیرول۔کی تصاویر فری اور دانیال دونوں کو بھیجی تھیں وہ تصویریں بھیج رہی تھیں جب جوجو ذی ذی انکے پاس آئے ” ہیے تم لوگ گھر کیسے جارہی ہو”
“ یہاں سے گھر کا واکنگ ڈسٹنٹ ہے پیدل چلی جائیں گی !” ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ” ہم چھوڑ دیں مطلب تم لوگ اتنا ریڈی ہو سڑک پر سب گھوریں گے نہیں ؟” امبر اور لائبہ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ” نہیں کوئی بات نہیں بٹ تم لوگوں کے ساتھ اکیلے نہیں جاسکتی وی آر سوری !
“. تو اکیلے کیوں وہ دیکھو رمشا حنا خولہ انکے گھر بھی تم لوگوں کے قریب ہیں انھیں بھی ہم ڈراپ کرنے والے ہیں تمہیں بھی کردیں گے .” ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر امبر لائبہ کے کان کے قریب ہوئی ” چلے جاتے ہیں راستے میں پتہ نہیں یہ رمشا جوجو پر ڈورے ڈالتی رہی تو اور ویسے بھی سڑک پر بھی سب گھوریں گے !” جس پر لائبہ نے کچھ دیر سوچا اور ہاں کردی ۔وہ گاڑی بڑی تھی جس میں وہ لوگ آسانی سے آگئے تھے آج جوجو اور ذی ذی کو اس کھیل سے نجات چاہیے تھی اسلیے انھوں نے بچپنے میں اتنا بڑا قدم۔اٹھا لیا تھا انھوں نے سب کو جوس۔دیے جوجو نے ذی ذی کو دیکھا تو امبر اور لائبہ کو جوسزز پکڑاتا رک گیا جن پر لال نشان لگا تھا ” ذی ذی !” اسنے آہستہ اواز میں اسے پکارہ ” جوجو اٹس ناٹ گڈ وہ بہت اچھی ہیں پتہ نہیں ارمان ماموں انکے ساتھ کیا کریں !”
“ یار ذی ذی ارمان ماموں نے اپنا اور نعمان ماموں کی انسلٹ کا بدلہ لینا ہے زیادہ سے زیادہ ایک دن رکھیں گے اور پھر چھوڑ دیں گے کچھ کریں گے نہیں .” اور وہ دونوں مست رمشا کو چڑانے میں لگی تھیں ” پھر بھی جوجو مجھے سہی نہیں لگ رہا رہنے دیتے ہیں ماموں سے کہہ دیں گے ہم فیل ہوگئے !”
“ شٹ اپ یاد ہیں کہ اگر یہ کام ہوگیا تو ہمارے پاس ہماری پرسنل گنز ہونگی سوچ کتنی دہشت ہو جائے گی فرینڈز میں پبلسٹی ہو گی تو یہ مجھے دیں !! اسنے ذی ذی سی جوسزز لیکر پیچھے انھیں پکڑا دیے تھے تمام لوگ باری باری اتر گئے تھے انھوں نے جوس ابھی تک نہیں پیا تھا اور انکا گھر آنے والا تھا مگر شاید آج قسمت کچھ اور ہی چاہتی تھی انھوں نے جوس منہ کو لگا لیا تھا چند لمحوں بعد ہی وہ دونوں غنودگی میں چلی گئیں تھیں ” یس!!! جوجو خوش ہوگیا تھا مگر ذی ذی کو ڈر لگ رہا تھا کہ وہ کچھ غلط کر رہے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیر کا رویہ صبح سے ہی مرزا کو عجیب لگا تھا اسنے اسے ناشتہ دیا تھا کھانا دیا تھا سب کچھ کیا تھا مگر آج ایک بار بھی اسنے اس سے کچھ کہا نہیں تھا بس کام پر کام کیے جارہی تھی فریحہ کسی کام سے سائنس لیب گئی تھی اسے کچھ چاہیے تھے بیچ میں ایک دو بار اسے چکر بھی آیا جسے وہ نظر انداز کرگئ تھی اسکی طبعیت آج صبح سے بلکل بھی ٹھیک نہیں تھی پھر بھی وہ مرزا سے دور رہنے کے لیے بس کام کررہی تھی ابھی بھی وہ سبزیاں کاٹ رہی تھی جب وہ کچن میں آیا ” ہیر !! اسنے بے تاثر نظر اٹھا کر اسے دیکھا اسکی آنکھوں میں آج وہ چمک نہیں تھی جو اکثر تب ہوا کرتی تھی جب مرزا اسے مخاطب کرتا تھا ” ہیر وہ۔۔۔۔۔وہ میں مارکیٹ جارہا تھا کچھ سامان لینے تمہیں کچھ چاہیے آؤ چلتے بازار چلتے ہیں !” اسکی بات سن کر ہیر کو شادی کی پہلی رات یاد آئی جب اسنے اسے پیسے دیے تھے اور اسنے یہ کہہ کر لوٹا دیے تھے کہ وہ کبھی بازار نہیں گئی اسے خریداری کرنی نہیں آتی تو آج وہ اسے خریداری سیکھانا چاہتا تھا ” نن۔۔نہیں مجھے کچھ نہیں چاہیے بس یہ گھر کا سامان ہے میں نے فریحہ سے لکھوا لیا تھا یہ لیتے آئیے گا !!” اسنے لسٹ دیکھی وہی سب راشن اپنے لیے کبھی کچھ کیوں نہیں منگواتی یہ خیر اسنے لسٹ پوکٹ میں ڈالی اور مڑ گیا جس پر وہ اسکی پشت کو تکتی رہی تھی جب وہ اچانک مڑا ” سڑیٹ فوڈ میرا مطلب بازار سے کچھ کھانے میں پسند ہے کیا لاؤ سموسے پکوڑے دہی بھلے گول گپے !”
“ نہیں کچھ نہیں کھانا !! اسنے نظر انداز کرکے وہ پھر کام میں لگ گئی تھی مرزا کو برا لگا تھا وہ فرمائشیں کیوں نہیں کرتی باقی لڑکیوں کی طرح ۔۔۔” اسکے جانے کے بعد اسنے چُھری چھوڑ دی تھی اس پہلے کہ بے دھیانی میں ہاتھ کاٹ لے اور پھر کوئی ہمدردی کے لیے ترس کھا کر مرہم رکھ دے ” بچپن سے ہر خواہش ماری دی گئی تھی سب عادت ہی نہیں رہیں کچھ مانگنے کی ۔۔۔۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دانیال نے فون اب آن کیا تھا جب وہ اور مہتاب فری ہوکر بیٹھے چائے پی رہے تھے مہتاب اسکے ساتھ ہی بیٹھا تھا وہ امبر اور لائبہ کہ بھیجی تصویریں دیکھ رہا تھا جب مہتاب کی بھی ان پر نظر پڑی ” بچیوں نے بھیجی ہیں !”
“ ہاں انکی اکیڈمی میں پارٹی تھی آج ! وہ تصویریں سلائیڈ کررہا تھا جب مہتاب نے فون پر ہاتھ رکھا ” ایک تصویر پیچھے کر دانیال نے فوراً پیچھے کی وہاں امبر اور لائبہ کے پیچھے جوجو اور ذی ذی بیٹھے تھے ” یہ دونوں لڑکے بچیوں کے ساتھ پڑھتے ہیں ؟”
“ پارٹی میں ہیں تو ساتھ ہی پڑھتے ہونگے کیوں کیا ہوا ؟”
“ ان دونوں کو میں نے دیکھا ہے کہا دیکھا ہے ہاں یاد آیا جب ہم شیرازی مینشن گئے تھے میں کنٹرول روم میں گیا تھا وہاں یہ دونوں لڑکے کمرے میں بیٹھے تھے گیم کھیل رہے تھے یہ شیرازیز کے بچے ہیں بچیاں جانتی ہیں انھیں یا شاید یہ ان دونوں کو ؟”
“ پتہ نہیں کلاس فیلو ہیں تو جانتی ہونگی پر تو ڈر کیوں رہا ہے .”
“.کیونکہ یہ شیرازیز ہیں اور انکا پل کا بھروسہ نہیں مجھے بچیوں کو فون لگا پتہ کر کہاں ہیں “ اسنے ان دونوں کو فون لگایا مگر سوئچ آف مہتاب نے اسے پوچھا جس پر اسنے نفی میں سر ہلا دیا “چل کونسے ہوٹل میں ہیں خود پک کر انھیں اور خود گھر چھوڑ کر آ۔وہ دونوں تھانے سے نکل گئے تھے ۔
جاری ہے