Musalat By Binte Aslam Readelle50190 Episode 31
No Download Link
Rate this Novel
Episode 31
ناول # مسلط
ازقلم # بنت اسلم
قسط نمبر # 31
دانیال کی پوری فیملی ائی سی یو کے سامنے موجود تھی کسی کو مکمل کچھ بھی نہیں پتا تھا اندر امبر کا علاج چل۔رہا تھا جوجو ذی ذی بھی ان سب سے دور ڈاکٹر کے منتظر تھے ابھی انھیں انجام سے زیادہ ان دونوں کی فکر تھی ان کی آنکھوں کے سامنے اکیڈمی کی ہر شرارت ہر منظر چل رہا تھا لائبہ کو ہوش آگیا تھا وہ بلکل ہی خاموش ہوگئی تھی ایسے جیسے اسنے اپنی بولنے کی حس ہی کھو دی تھی رو بھی نہیں رہی تھی فری اسکی ماں دانیال اس سے پوچھ پوچھ کر تھک گئے تھے دانیال اور اسکے والد نے اسے گلے سے لگا کر حوصلہ بھی دیا تھا مگر وہ کوئی ردِ عمل ہی نہیں دے رہی تھی اس سے تھک کر وہ لوگ دوبارہ آئی سی یو کے سامنے آگئے تھے لائبہ کے پاس فری کو چھوڑا گیا تھا لیکن امبر کی ڈاکٹر کو دیکھ کر وہ اسے کمرے میں اکیلا چھوڑ کر چلی گئی تھی منہ پر ماسک چڑھائے ذی ذی کمرے میں آیا وہ سر جھکائے بیٹھی تھی ” لائبہ !!” اسنے انجان نظروں سے اسے دیکھا ذی ذی کو دیکھ کر اسکا تنفس تیز ہوگیا تھا ” تت۔۔۔۔۔تم یہاں کیا کر رہے ہوں !!” وہ اسکی طرف بڑھا تو وہ ہڑبڑا کر اٹھتی نیچے گر گئی گلوکوز بوٹل کا سٹینڈ اس پر گر جاتا اگر وہ نہیں پکڑتا تو وہ لائبہ کے لگ جاتا ” ائم سوری لائبہ میں نے جوجو سے کہا تھا وہ یہ سب نہ کرے مگر اسنے میری نہیں سنی یار دیکھو ۔۔۔۔۔۔۔۔” اس پہلے ہی وہ چیخنے لگی تھی ” نکل جاؤ دفع ہوجاو تم مر کیوں نہیں جاتے جاؤ تم پھر اغوا کرلو گے ہمیں ام۔۔۔امبر بھی نہیں ہے کون بچائے گا مجھے امبر !! امبر !! وہ پاگلوں کی طرح اسے آوازیں دے رہی تھی ڈر رہی تھی اور ذی ذی اسکی حالت دیکھ کر حیران رہ گیا تھا جب نرس آئی ” باہر جائیں آپکو نظر نہیں آرہا مریض کی حالت آپکو دیکھ کر بگڑ رہی ہے جائیں یہاں سے !! نرس نے ذی ذی کو باہر نکال دیا تھا دوسری طرف ڈاکٹر کا جواب دانیال اور اسکی فیملی پر پہاڑ بن کر ٹوٹا تھا ” ائم سوری ہم نے بہت کوشش کی انکا خون بہت بہہ گیا تھا مگر شی از اِن کومہ وہ کومہ میں چلیں گئی ہیں اور شاید ہی وہ کومہ سے جاگ پائیں !!! ان سب کی سانس ایک دم تھم سی گئی تھی جو جو خود دیوار سے لگ کر رہ گیا تھا اسکے کانوں میں امبر کی آواز گونج رہی تھی ” اگر میں چپ ہوگئی نہ تو روتے رہ جاؤ گے مسٹر جبار !!! ” دانیال سر ہاتھوں میں گرائے بیٹھا تھا فری اسے سنبھال رہی تھی اور آفتاب صاحب اپنی بیگم کو مہتاب اور مرزا بھی وہاں پہنچ چکے تھے انکی حالت انھیں کچھ غلط ہونے کا ثبوت دے رہی تھی ” دانیال امبر !!!” دانیال نے اسے کوئی جواب نہیں دیا تھا ” پیشنٹ کومہ میں جاچکی ہیں !!! یہ انھیں نرس سے پتا چلا ہے وہ بھی پریشانی سے وہیں بیٹھ گئے تھے انھیں کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کیا کہیں ” یہ سارا کچھ نعمان شیرازی کا کیا دھرا ہے اسی کے بھائی کا وہ دانیال سے بدلہ لینا چاہتا تھا اپنی انسلٹ کا اتنا گر ہوا تھا بچوں کو انوالو کر لیا ” مہتاب کی بات سن کر فری کے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے یہ سب ارمان شیرازی نے کیا ہے ” ار۔۔ارمان شش۔۔شیرازی وہی ہے نہ وہ جانور ہے …” اسنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تھا دانیال نے پریشانی سے اسے دیکھا ” مم۔۔۔میری وجہ سے ہوا ہے یہ ۔۔۔یہ سب سب میری وجہ سے ہوا کوپ کی دشمنی ارمان شیرازی سے میری وجہ سے تھی اسنے کوپ سے میری وجہ سے بدلہ لیا اور امبر لائبہ کو اس حالت میں پہنچا دیا میری وجہ سے میں ذمہ دار ہوں ان سب کی !!! ان سب نے حیرت سے اسے دیکھا جو دانیال کو چھوڑ کر کھڑی ہوگئی تھی ” میں ذمہ دار ہوں ان سب کی جب سے میں انکی زندگی میں آئی ہوں یہ مصیبتوں میں پھنس گئے ہیں مجھے چلے جانا چاہیے مجھے چلے جانا چاہیے سچ کہتے ہیں سب ہم منحوس ہوتی ہیں ہمارا سایہ سب تباہ کردیتا مجھے چلیں جانا چاہیے !! وہ وہاں سے چلی گئی تھی دانیال خاموشی سے سر جھکا گیا تھا ” فری یہ !! مرزا اسکے پیچھے جانے لگا جب دانیال نے اسے روک لیا ” جانے دو اسے بھی تکلیف دینے دو لینے دو اسے بھی بدلہ !!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہیں دوپہر کو جاکر امل کو ہوش آیا تھا ہوش کے نام پرانکھیں ہی کھولیں تھیں اسنے اسے دائم سے اس حرکت کی بلکل بھی امید نہیں تھی کہ وہ اسے سزا دینے کے لیے اس حد تک جاسکتا ہے دوازہ کھلنے کی آواز سے اسنے دروازے کی جانب دیکھا جہاں دائم اسے دیکھ رہا تھا آج اسے دائم سے نہ محبت محسوس ہورہی تھی نہ نفرت اسے بس اس سے گلہ تھا کہ اس ظلم کی مستحق تھی اتنی معافیاں مانگنے کے بعد بھی وہ اس سے رُخ پھیر گئی تھی دائم نے آہستہ آہستہ قدم اسکی جانب اٹھائے ” امل ائم سوری !
“ میں نے بھی کہا تھا ! روہانسی آواز میں اسنے جواب دیا ” میں جانتا ہوں میں نے غلط کیا !! ہر قدم کے ساتھ وہ ایک جملہ بول رہا تھا ” میں بھی جانتی تھی !!”
“ میں نے تکلیف دینے میں ہر حد پار کردی !!” آج پہلی بار دائم امل کی طرف اپنی مرضی سے بڑھ رہا تھا ” میں نے بھی کی تھی !”
“ میں نے تمہیں سزائیں بھی دی تھیں !! ” اسنے مسکرا کر اسے دیکھا ” مجھے گلہ نہیں تھا میں مستحق تھی میں شرمسار تھی !”
“ میں نے تمہیں ۔۔۔۔۔!!! اس سے آگے بس وہ کچھ نہیں بول پایا تھا ” بسس یہاں آپ مجھ سے آگے نکل گئے اتنا غصہ اتنی نفرت کہ اپنا معیار بھی گرا دیا یہ تو نہیں سوچا تھا میں نے پر کوئی بات نہیں میں نے آپکو اس بار بھی معاف کیا اور ایک فیصلہ بھی کرلیا اب اور نہیں میں آپکی زندگی پر اب اور مسلط نہیں رہوں گی میں چلی جاؤ گی آپکی زندگی سے دور سوچ لوں گی شاید میری غلطی میری محبت سے بہت بڑی تھی بے واقوف ہوں سوچتی تھی محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے مگر یہ نہیں سوچ پائی کی آپ کے ساتھ کیا کرنے جارہی ہوں آپ نے بلکل ٹھیک کیا میری جیسی بے واقوف اور ایٹیٹیوڈ رکھنے والی لڑکیوں کے ساتھ یہی ہونا چاہیے جو یہ سوچتی ہیں تھوڑی سے ضد اور جھوٹ سے کا م بن جاتا ہے میرا الزام سچ کردیا اسلیے اب اس رشتے کا کوئی وجود نہیں رہا مجھے لگتا تھا لڑکی ہونا ہی سب سے اہم بات ہوتی اچھی صورت تعلیم یافتہ ہونا شوہر کو بہت سارا پیار کرنا کافی ہوتا ہے میں منا لوں گی آپکو مگر میں غلط تھی ایک لڑکی کسی مرد کی نظروں میں سہی مقام تب پاتی ہے جب اسے اسکی سیرت بھاتی ہے جو مجھ میں نہیں تھی میں بہت کم عقل ہوں میں اپکے قابل نہیں ہوں اسلیے آپ فکر نہ کریں ہوسپیٹل سے حویلی جاتے ہی میں پاپا کو کہہ دوں گی کہ مجھے لیجائیں مجھے دائم سے طلاق چاہیے آپ کہہ دینا اچھی نہیں تھی بلکل بھی اچھی نہیں تھی اچھی لڑکی نہیں ہے بس پھر سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ ” آنسو پونچھ کر کروٹ بدل کررونے لگی دائم شوک تھا کب سے کب سے جانتی تھی وہ کہ وہ غلط ہے کب سے اسے اپنی غلطی کا احساس تھا کب سے وہ سب کچھ برداشت کررہی تھی اور آج بھی اسے اپنی ہی غلطی لگ رہی تھی ۔اج دائم امل کے سامنے شرمندہ تھا آج امل نے اسے خاموش کردیا تھا اسلیے وہ کمرے سے باہر چلا گیا ۔
……………..✨…………..
فری ہوسپیٹل کے لان میں بیٹھی رونے کا شغل فرما رہی تھی جب مرزا اسکے پاس آیا ” ہیر سے بات کرو !! اسنے اسکے سامنے فون کیا جسے اسنے خاموشی سے پکڑ لیا ” فری یہ کیا کہہ رہے ہیں تم دانیال بھائی کو اس میں حالت چھوڑکر جارہی ہو ؟”
“ آپا لیکن انکے ساتھ جو کچھ بھی ہورہا ہے میری وجہ سے ہو رہا ہے اگر میں انکی زندگی میں نہ آتی تو ارمان شیرازی سے انکی دشمنی نہ ہوتی اور نہ آج امبر لائبہ اس حالت میں ہوتی !!”
“ فری تم غلط سوچ رہی ہو تمہں اپنی زندگی میں شامل کرنا دانیال بھائی کا اپنا فیصلہ تھا تمہاری غلطی نہیں ہے انھوں نے کہا تم سے کچھ نہیں نہ تو کیوں یاد ہے فری انھوں نے تمہیں اس حالت میں اپنایا جب سب امید چھوڑ چکے تھے تجھے سنبھالا اور آج جب انھیں تمہاری ضرورت ہے تم انھیں چھوڑ کر جارہی ہو کیا یہ سہی ہے نہیں یہ سہی نہیں ہے تمہں انکے پاس جانا ہوگا سمجھی تم !””” پہلے بار وہ بڑی بہن ہونے کا حق جتا رہی تھی ۔
“ لیکن آپا میں !!! مگر ہیر کا لہجہ اسے چپ کروا گیا تھا ” کہا نہ جاؤ انکے پاس !!!
“ جی آپا!!! اسنے فون مرزا کو واپس کردیا تھا اور خود اندر کی جانب چلی گئی تھی مرزا جب ہوسپیٹل کے اندر آیا تو نیوز بلیٹن چل رہا تھا ” تیز ترین میں آپکو بتاتے چلیں ایم این اے نعمان شیرازی کے چھوٹے بھائی ارمان شیرازی کو پولیس نے گولی ماردی ہے جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے تھے پولیس نے انکے فارم ہاؤس سے دو لڑکیوں کو برآمد کیا جسکی وجہ سے ارمان شیرازی اپنے ہی فارم ہاوس سے فرار ہونے کی کوشش کی مگر پولیس نے تعاقب کرکے انھیں روکنے کی کوشش کی اور آخر انھیں گولی مار دی گئی ارمان شیرازی کی موت پر نعمان شیرازی کے سپورٹرز کا کہنا ہے کہ پولیس نے نعمان شیرازی سے اپنی ذاتی کھندک نکالی ہے اگر وہ مجرم پائے بھی گئے تھے تو انکو پکڑنے کے لیے انکی ٹانگ پر بھی گولی ماری جاسکتی تھی مگر انکی پشت پر لگی گولیاں یہ ثابت کرتا ہے کہ پولیس کا ارادہ انھیں مارنے کا ہی تھا اب دیکھتے ہیں شیرازی بمقابل پولیس کی یہ لڑائی کیا نیا رُخ لیتی ہے ۔” مرزا نے افسوس سے سر جھٹکا اور پولیس سٹیشن لے لیے نکل گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ بھائی امی ابو کے بعد میں کیسے رہوں گا !!! نعمان نے اپنے ہاتھوں میں اسکے چہرے بھرا..” میں ہوں نہ تمہارا بابا ابو کہتے تھے بڑا بھائی باپ ہی ہوتا ہے میں ہوں نہ اپنے ارمان کا بابا عفت کا بابا !” نعمان ہاسپٹل میں سرد خانے کی طرف بڑھ رہا تھا ارمان کا بچپن جوانی اسکے سامنے چل رہی تھی ” بڑے تیز ہیں بھائی جان آپ چوری شادی کرلی ایک عدد بچہ بھی لے آئے اور مجھے کہہ رہے ہیں میں انجوئے بھی نہ کروں !!”
“ دیکھ ارمان تیری شادی عفت کے بعد ہوگی تو تو ابھی انجوئے کر مگر ئد میں رہ کر کہیں کچھ غلط نہ کرنا !!!”
“ او ڈونٹ وری بھائی ایسا غلط تو کچھ نہیں کروں گا کہ مار دیا جاؤ !!” اسنے کپکپاتے ہاتھ سے سرد خانے کا دروازہ کھولا تھا علیم بھی اسکے پیچھے ہی کھڑا تھا سامنے ارمان کا جوانی بھرا وجود ساکن پڑا تھا اسکا رنگ لٹھے کی طرح سفید پڑ گیا تھا وہ چہرا جو ہر وقت شرارت سے چمکتا رہتا تھا آج خاموش تھا ” ارمان ارمان بیٹا اٹھو بھائی جان آئے ہیں !! وہ اسکا چہرا ہلا رہا تھا ” اٹھو نہ ایسا نہیں کرتے !!! علیم پہلی بار نعمان کو ایسے حواس سے بیگانہ دیکھ رہا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ٹوٹ گیا تھا ” ارمان !! وہ روتا نیچے ہی بیٹھ گیا تھا علیم نے اسے کندھوں سے پکڑا ” سر !!!
“ ارمان میرا بھائی میرا چھوٹا بھائی بچوں کی طرح کی پالا تھا مار دیا اس پولیس نے ماردیا اسے !!”
“ سر انھوں فارم ہاؤس پر لڑکیوں کو کڈنیپ کیا تھا اور وہ لڑکیاں انسپیکٹر دانیال کی بہنیں ہیں وہ وہاں آگئے اور ارمان سر فارم سے بھاگ گئے انھیں موقع مل گیا اسلیے شوٹ کردیا !!” نعمان نے حیرت سے علیم کو دیکھا ” انسپیکٹر دانیال کی بہنیں وہ وہاں کیا کر رہی تھیں ؟؟ وہ علیم پر غصہ نکال رہا تھا ۔” سر ریپ انسیڈنس کے بعد ارمان سر انسپیکٹر دانیال سے بدلہ لینا چاہتے تھے اسلیے انکی بہنوں کو ٹریپ کیا گیا اور فارم ہاؤس پر بلایا گیا جبار اور زوار کے زریعے !!
“ کیا جوجو ذی ذی لائے تھے انھیں فارم ہاؤس پر ؟نعمان کو اب ان دونوں کی فکر پڑ گئ تھی علیم نے اثبات میں سر ہلایا تو علیم کو ارمان کی باڈی وصول کرنے کا کہہ کر باہر نکل گیا تھا ۔
جبار !!! زوار!!!! شیرازی مینشن میں نعمان کی آواز دھاڑ کی طرح گونج رہی تھی وہ جو اپنے کمرے میں ڈر کر بیٹھے تھے نعمان کی آواز سن کر باہر چلے گئے عفت روتے ہوئے نعمان کے گلے سے لگی تھی بھائی جان ارمان بھائی ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں پولیس نے مار دیا انھیں !! اسنے عفت کو خود سے الگ کیا اور جبار زوار کی طرف بڑھ گیا جو ڈر سے سر جھکائے کانپ رہے تھے ” جبار زوار وہ دونوں لڑکیاں فارم ہاؤس پر کیا کررہی تھیں ؟”
“ مم۔۔۔ماموں وہ !!! چٹاک !!! دونوں کی گال پر ایک ایک تھپڑ پڑ چکا تھا نعمان نے آج پہلی بار ان پر ہاتھ اٹھایا تھا وہ تو کسی پر ہاتھ تو دور خود غصہ بھی نہیں کرتا تھا بڑا بھائی ہوتے ہوئے باپ بن کر دکھایا تھا انھیں انھیں کے لیے تو وہ سب کچھ کر رہا تھا لیکن آج اسکا ہاتھ کاٹ دیا گیا تھا اسلیے وہ غصے میں تھا ” سوری ماموں ہم نے ماموں کے کہنے پر ہی کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔وہ انسپیکٹر دانیال سے اپنی انسلٹ کا بدلہ لینا چاہتے تھے انکی بہنیں ہمارے ساتھ اکیڈمی میں پڑھتی تھیں ہم ان کی ہیلپ کرنے کا وعدہ کیا تھا اسلیے امبر اور لائبہ کو ٹریپ کرکے فارم ہاؤس لے گئے تھے ماموں صرف انھی کچھ دیر اپنے پاس رکھ واپس بھیج دیتے مگر وہ ڈر گئیں اور ایک نے کھڑکی سے چھلانگ لگا دی !!”
“ آج تمہاری وجہ سے ارمان ہم سب کو چھوڑ کر گیا ہے تمہاری غلطی کی وجہ دفع ہوجاو میری نظروں کے سامنے سے !!!”انھیں کھری کھری سنا کر وہ پھر باہر چلا گیا تھا عفت وہیں بیٹھ کر رونے لگی تھی جب جوجو ذی ذی اسکے پاس آئے تھے وہ ان سے تھوڑی ہی چھوٹی ” خالہ ماموں نے ہی کہا تھا !”
“ ارمان بھائی کو کیسے پتہ چلا تھا کہ انسپیکٹر دانیال کی بہنیں تمہارے ساتھ پڑھتی ہیں ؟”اس بات پر وہ دونوں شرمندہ ہوگئے تھے ” ہم نے ہی بتایا تھا انھیں وہ انھیں اٹھا کر کوٹھے پر بیٹھانا چاہتے تھے پھر ہم نے جب انکی ہیلپ کرنے کا کہا تو انھوں نے وعدہ کیا تھا وہ ایسا کچھ نہیں کریں گے بس کسی کو شک ہوئے بغیر انھیں وہاں لے انا تو اسلیے !!”
“ بھائی جان غلط کر رہے تھے اور تم نے ان کا ساتھ دے کر اور بھی غلط کردیا آج وہ اس دنیا سے گناہوں کا بوجھ لیکر گئے ہیں اور ساتھ میں تم دونوں کو بھی گنہگار کرگئے ہیں !!!! ” وہ بھی اٹھ کر چلی گئی تھی ذی ذی نے نفرت آمیز نظر سے جوجو کو دیکھا ” تیری وجہ سے ہوا ہے سارا کچھ میں کہتا رہا غلط ہے غلط ہے مگر تجھے تو لالچ چڑھا ہوا تھا پرسنل گن چاہیے تھی شوخیاں مارنی تھی تجھے تیری وجہ سے لائبہ بھی مجھ سے ناراض ہوگئے سالے مجھے سچ میں محبت تھی اسکی آنکھوں سے تجھے بھی تو تھا نہ پیار امبر کی ہنسی سے تھا نہ کیسے لالچ اس ہنسی سے قیمتی لگنے لگ گیا تھا احسان چکانا تھا نہ تجھے امبر لائبہ ماموں سب کو کھو دیا ہم نے سب تیری وجہ سے !!! اسے دھکا دے کر وہ بھی چلا گیا تھا پیچھے وہ جوجو اپنی ذات سے شرمسار ہوگیا تھا بچپن لڑکپن جوانی سولہ برس کی بالی عمر سے لیکر بیس سال کی لڑکپن انسان سے وہ غلطیاں کروا دیتا ہے جسکا انجام بھیانک ہوتا ہے اجکل۔کے سٹوڈنٹس کا حالات کو لیکر انکا نان سیریس ایٹیٹیوڈ انھیں مشکلوں میں پھنسا دیتا ہے امبر اور لائبہ چاہے یہ نہیں جانتی تھیں کہ جوجو ذی ذی کا تعلق شیرازیز کے ساتھ تھا جو انکے بھائی کے دشمن تھے مگر وہ یہ تو جانتی تھیں کہ معاشرے کے حالات کیسے ہیں کیا ہورہا ہے لیکن لڑکیپن میں حد سے زیادہ لاپرواہی اندھا اعتماد اور یقین ہمیشہ تکلیفوں سے دوچار کرتا ہے اور یہی ہمارے معاشرے میں موجود ناجانے کتنے بچے کرتے ہیں اپنے دوستوں پر حد سے زیادہ یقین میں تمہارے لیے جان دے دوں گا اسکا الزام اپنے سر لینا انکے گناہ چھپانا انکے غلط فیصلوں میں انکا ساتھ دینا ان پر یقین کرکے ان کے ساتھ کہیں بھی چلے جانا انکی غلط باتیں مانا یہ دوستی نہیں ہے دشمنی ہے اور ایسی دوستیاں اور یقین ایسے ہی پھنساتے ہیں جیسے امبر اور لائبہ پھنس چکی تھیں ۔
…………… ✨……………
امل کو شام گئے ڈسچارج مل گیا تھا وہ حویلی واپس آئی تو فاطمہ بی فکر مندی سے اسکی منتظر تھیں آتے ہی اسے چمٹ گئیں ” امل میری بچی کیا ہوا تھا اتنی طبعیت خراب کیسے ہوگئی جو ہسپتال جانا پڑا ؟” اسنے کندھوں پر دائم کی شال اوڑھی تھی جو دائم نے ہی اسے دی تھی خود وہ شرمندہ سا سر جھکائے کھڑا تھا چاچی اسکے لیے دودھ لیکر آئی تھی ” لے پتر یہ پی لے تجھے اچھا لگے گا نازک سی تو ہے تو میں نے کتنا دفعہ کہا ہے حویلی کے لیے نوکر رکھ لے تجھے کس چیز کی کمی تو تو مانتی ہی نہیں اب میری طبیعت بھی کہاں ساتھ دیتی ہے ہمیں نہ ایک نوکرانی رکھ ہی لینی چاہیے پہلے ہیر ہوتی تھی تو مجھے فکر نہیں ہوتی تھی کیونکہ اسے تو عادت تھی مگر تجھے تو نہیں ہے نہ !! دادی اور دائم نے افسوس سے چاچی کی جانب دیکھا ” امل کیا ہوا تھا ؟”
“ کچھ نہیں دادی بس ہلکا بخار آگیا تھا یہ بہت زیادہ ہی پریشان ہوگئے اسلیے ہوسپیٹل لے گئے اور پرائیوٹ ہوسپیٹل کا تو پتہ ہے آپکو پیسے بناتے ہوتے ہیں انھوں نے چھوٹے سے مسئلے کو اتنا بڑا بنا دیتے ہیں سارا دن ہی نکال دیا اور وسیے بھی میں اداس ہوگئی ہوں پاپا سے کبھی دور نہیں گئی نہ تو اسلیے جب سے نکاح ہوا ہے ایک بار بھی نہیں ملی تو میں کچھ دنوں کے لیے لاہور چلی جاؤں ؟” دائم نے افسوس سے اسے دیکھا اور چپ چاپ اوپر چلا گیا فاطمہ بی منہ پر ہاتھ رکھے ہنس دی تھیں ” لگتا ہے تیرا گھر والا نہیں چاہتا تو جائے !!” اس پر وہ بے بسی سے مسکرا دی تھی ” انکی چاہ مجھ سے بہتر کون جان سکتا ہے انھوں نے اجازت دے دی ہے !!!”
دائم کمرے میں آکر بیڈ پر بیٹھنے لگا تھا جب ٹوٹی چوڑیوں کے ٹکڑوں پر نظر پر پڑی وہ گھٹنوں کے بل بیٹھتا انھیں اکٹھا کرنے لگا ” وہ۔۔۔وہ سوری کہنا تھا میں ڈر پوک ہو میرے ساتھ اکثر ایسا ہوتا ہے !!!!
“ بہت افسوس ہوا آپکی بہن نے ریپ کردیامیرا مطلب آپکی کی بہن کا ریپ ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ آپکی سانسوں کی وجہ سے میرے چشمے پر بھاپ بن گئی ہے صاف کرلوں!!!!…..دائم سوری میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں ۔۔۔۔۔۔میں نے فیصلہ کرلیا ہے اب اور نہیں اب اور آپکی زندگی پر مسلط نہیں رہوں گی میں حویلی جاتے ہی پاپا سے کہہ دوں گی مجھے لیجائیں مجھے دائم سے طلاق چاہیے اور آپ کہہ دینا اچھی لڑکی نہیں تھی بلکل بھی اچھی لڑکی نہیں تھی !!! “آج دائم کو اسکی باتیں یاد آرہی تھی آج دائم کو امل سے ہمدردی ہورہی تھی آج دائم کو امل سے شرمندگی ہورہی تھی آج دائم کو امل سے محبت ہورہی تھی جب وہ ان سب ک باوجود بھی اسے عزت دے رہی تھی اسے اپنی غلطی کا احساس تھا اور وہ اسے سزا دیتا رہا یہ سوچ کر کہ اسے اپنی غلطی کا احساس نہیں آج اسے اسکی معافیاں یاد آرہی تھیں اسکی برداشت یاد آرہی تھی ہاں وہ کم عقل تھی لیکن دائم نے تو بےواقفی کی حد کردی تھی !”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
