96.1K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

ناول # مسلط
ازقلم # بنت اسلم
قسط نمبر # 30
دائم کی آنکھ صبا جب کھلی تو وہ اب بھی اسی آغوش میں موجود تھی کل رات دائم نے صرف امل کے ساتھ بد سلوکی نہیں کی تھی اپنی محبت بھی گنوا دی تھی اب بھی وہ اٹھ کر جانے لگا تھا اسکا بے جان ہاتھ اسکے ہٹانے پر بیڈ سے گرا اسے کچھ غلط ہونے کا اندیشہ ہوا تھا امل !! مگر وہاں ہوش ہوتا تو جواب آتا اسنے اسکا چہرا تھپتھپایا ” امل !! امل !! اسکا جسم بھٹی کی طرح تپ رہا تھا اور خود وہ بے ہوش تھی دائم ہو ڈر لاحق ہوگیا تھا اس بات کا نہیں کہ وہ مر تو نہیں گئی اس بات کا کہیں وہ گناہ تو نہیں کر بیٹھا اسکے ہاتھوں میں امل کا بے جان وجود تھا وہ غصے میں اسے پامال کر گیا دادی تو پہلے ہی بد گمان ہیں ۔۔۔اس سے آگے وہ سوچنا ہی نہیں چاہتا تھا ۔ اسنے اسے اٹھایا اور باہر کی طرف دوڑ لگا دی صد شکر اسے کسی نے دیکھا نہیں تھا اسے گاؤں سے شہر کا تک کا سفر طے کرنا تھا اس پورے دورانیے میں وہ بار بار امل کی سانس چیک کر رہا تھا ” ائم سوری ائم سوری امل !!! وہ خود ڈاکٹر تھا مگر سٹوڈنٹ وہ کوئی رِسک نہیں لینا چارہا تھا۔تقریبا بیس منٹ کی تیز سپیڈ کے بعد وہ ہوسپیٹل پہنچا جہاں اندر وہ ڈاکٹر اسکی جانب کررہے تھے کچھ دیر بعد وہ باہر آئے ” لڑکی سے زبردستی ہوئی !” دائم ڈاکٹر کا چہرا ہی دیکھتا رہ گیا ” زبردستی کیا کہہ رہیں آپ میں شوہر ہوں اسکا “ڈاکٹر نے ایک حیرت انگیز نظر سے اسے دیکھا ” شی واز ایگری اور ناٹ ؟ ” ڈاکٹر کی بات پر اسے کل رات امل کی التجا یاد آگئی تھی جب وہ اسی دور رہنے کے لیے کہہ رہی تھی وہ شرمندہ ہوگیا تھا ” دنیا میں ایسی کوئی کتاب نہیں جہاں یہ لکھا کے کوئی شوہر اپنی بیوی کے ساتھ زبردستی نہیں کرسکتا افسوس ہوا آپکو دیکھ کر مجھے بٹ کیا کہہ سکتے کونسا نئی بات ہے ڈومیسٹک وائلینس کے اور بہت کیسزز آتے ہیں انکا ٹریٹمنٹ چپ رہا ہے !” ڈاکٹر اسے اطلاع دے کر گیا تھا یا چوّلو بھر پانی میں ڈبو کر وہ زمین میں گڑھ گیا تھا ” ڈومیسٹک وائلینس وہ ڈومیسٹک وائلینس کرنے بن گیا وہ گھریلو تشدد بن گیا اسنے اپنی بیوی کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
ضد انا غصہ بے واقوفی ہوڑ متی کبھی کبھی انسان کو وہ بنا دیتی ہے جو اسنے سوچا نہیں ہوتا اسنے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ ایک ڈاکٹر سے پہلے ایک ڈومیسٹک وائلنس کرنے والا بن جائے گا اسے یوں ایک بار پھر سے ایسا شرمندہ ہونا پڑے گا مگر اس بار تو اسنے اپنی عزت خود گنوائی تھی مسلط لفظ کہنے کو صرف چار حروف کا ایک لفظ لیکن یہ طاقت اتنی رکھتا ہے کہ سننے والا اسکی وحشت سے ڈر جاتا مسلط زبردستی کسی پر تھوپے جانا قابض ہوجانا کسی کا تسلط قائم ہوجانا یعنی کوئی کیسے گوارا کرلے گا کہ کوئی آئے اور ہماری زندگی پر مسلط یعنی قابض ہوکر بیٹھ جائے لیکن کیا سچ میں ہماری زندگی میں شامل ہونے والے لوگ ہم ہر مسلط ہوتے ہیں کسی کا ہمسفر چنا اسکا شریک حیات ٹھہرانا کسی کو کسی کی ساری زندگی کا ساتھی بنا دینا کوئی عام بات نہیں ہے خدا کے فیصلے ہیں جو انسان ہماری مکمل زندگی کا ساتھی بن گیا ہے ہم اسے کہتے ہیں وہ ہم پر مسلط ہے یعنی ہم خدا کے فیصلے سے انکار کررہے ہیں زندگی میں شامل ہونے والا کوئی شخص بے وجہ نہیں ہوتا اسکا اپنا ایک کردار ہوتا ہے چاہے وہ ساتھ دے یا سبق خوش دلی سے اپنائے یہ نہ کہیں کہ وہ ہم پر مسلط ہوگیا ہے ہمارا وقت ضائع کرتا ہے دماغ خراب کرتا خدا کے فیصلوں کو نہ نکاریں جب اسکا کردار آپکی زندگی میں ختم ہوگا وہ آپکو کچھ نہ کچھ ضرور دے کر جائے گا یا تو اچھی یادیں یا سبق امل دائم کی زندگی میں ایک غلطی کرکے آئی تھی وہ تو ازل سے بیواقوف تھی مگر وہ تو نہیں تھا نہ ہر ممکن کوشش کے باوجود وہ اسکے نکاح میں آگئی وہ اس پر۔مسلط نہیں ہوئی تھی وہ اسکی قسمت تھی جسے وہ اس غلطی کی لیے بار بار تکلیف دے رہا تھا جسکی معافی پیر پکڑ کر مانگی تھی اسنے مگر وہ اسے اپنی نظروں میں گراتا گیا اور آخر آج خدا نے اسکی سزا بھی شروع کر دی وہ معاشرے کے معزز مردوں سے نکل کر ان مردوں میں شامل ہوگیا تھا جو جِنسِ نازک کو اپنا شکار بنا کر خود کو مضبوط بناتے ہیں۔مرزا کی سزا بھی شروع ہوگئی تھی اسے لگتا تھا ہیر اس پر مسلط ہوئی ہے اسے درد دیتا رہا اور پھر اسے پر ترس کھانے لگا اسے پیار بھی ترس کی صورت دینے لگا لیکن اب وہ ترس جب محبت میں بدل رہا تھا تو اسے ہیر سے دوری برداشت کرنی تھی ۔فری کو لگتا تھا دانیال اس پر مسلط ہوا ہے لیکن وہ واحد تھی جس نے سمجھنا کوشش کیا کہ وہ اسے جینا سکھا رہا ہے اسلیے وہ دانیال کے ساتھ خوش تھی اسنے اپنے اور اسکے بیچ سے مسلط لفظ نکال دیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہتاب اور دانیال ہوٹل پہنچے تو انھیں پتا چلا کے لڑکیاں نکل چکی ہیں اسنے گھر فون ملایا ” ہیلو امی امبر اور لائبہ گھر پہنچ گئی ؟”
“ نہیں وہ تو پارٹی میں ہیں ! دانیال کو پریشانی لاحق ہوگئی تھی ” امی وہ یہاں سے آدھا گھنٹہ پہلے نکل چکی ہیں فون بھی نہیں اٹھا رہیں انکی کسی دوست کا نمبر ہے آپکے پاس ؟”
“ کیا مگر وہ تو ابھی تک گھر نہیں پہنچی میرے پاس ۔۔۔ہاں عشا کا نمبر ہے میں اسے کال کرکے بتاتی ہوں تمہیں ؟” انھوں فون بند کردیا تھا ہوٹل سے بھی وہ نکل گئے تھے جب اسکی ماں کا دوبارہ فون آیا ” ہاں دانیال میری عشا سے بات ہوئی وہ کہہ رہی تھی امبر اور لائبہ ایک گروپ کے ساتھ نکلی تھیں جن میں لڑکے بھی تھے کہہ رہی تھی ان میں دو لڑکے جڑواں بھی تھے .” دانیال اور مہتاب نے پریشانی سے ایک دوسرے کو دیکھا انھوں نے گاڑی شیرازی مینشن کی طرف موڑ لی تھی مگر وہاں پہنچ کر پتہ چلا گھر میں عفت کے سوا کوئی نہیں تھی وہ پریشانی سے پلٹ آئے ” مہتاب مجھے ڈر لگ رہا ہے ؟”
‘ تو فکر نہ کر انھیں کچھ نہیں ہوگا فرینڈذ کے ساتھ ہی ہوگئی .” اچانک دانیال کو کچھ یاد آگیا تھا ” امبر اپنے فون کی لوکیشن ان رکھتی ہے ! اسنے اپنا فون نکالا اور امبر کی لوکیشن پتہ لگانے لگا ۔وہ دونوں ایک ڈبل سٹوری گھر کے اوپر والے کمرے میں بند تھیں انکے فونز کلب میں سئلنٹ پر تھے جوجو ذی ذی انکے سامنے موجود تھے انھیں پریشانی سے دیکھتے ” جوجو نہیں کرتے ہیں نہ اگر انھیں کچھ ہوگیا پولیس نے پکڑ لیا ۔۔”
تو نعمان ماموں بچا لیں گے ذی ذی مجھے بھی نہ ڈرا چل یہاں سے !!! جو جو زی زی کو کھینچ رہا تھا اور وہ بے ہوش لائبہ کو دیکھ رہا تھا ۔ مگر جو جو اسے لے گیا باہر ارمان انکا انتظار کررہا۔تھا اسکے ہاتھ میں دو بوکس تھے جو اسنے جو جو زی زی کو پکڑا دیے جوجو تو خوش ہوگیا تھا مگر ذی ذی مسکرایا بھی نہیں تھا ” ماموں آپ بس انسپیکٹر دانیال کو بلیک میل کرکے انسلٹ کا بدلہ لے کر چھوڑ دیں گے نہ انھیں آپ نے کہا تھا ؟” جوجو کے سوال پر ذی ذی نے پر امید نظروں سے ارمان کر دیکھا جو مسکرا ادیا ” ہاں بس ایک گھنٹہ اسے تنگ کروں گا پھر بحفاظت انھیں چھوڑ دوں گا !ذی ذی کو سکون ہوگیا تھا سن کر ” انھیں زیادہ ڈریے گا مت پلیز لائبہ بہت جلدی ڈر جاتی ہے !” جوجو اور ارمان نے حیرت سے ذی ذی کو دیکھا ” اور امبر کے منہ سے پٹی مت ہٹائیے گا وہ بہت بولتی ہے !” اثبات میں سر ہلا کر وہ اندر جانے لگا تو وہ دونوں بھی پیچھے چل دیے !” بوائز گنز تو دیکھ لو جاؤ صحن میں میں نے پُتلے منگوائے ہیں !” جس پر جوجو مسکرا دیا تھا اور ذی ذی کو لے گیا ۔وہ شیطانی مسکراہٹ لیے کمرے میں آیا جہاں ان دونوں کو ہوش آرہا تھا ۔
دانیال کو امبر کی جو لوکیش ملی تھی وہ شیرازیز کا فارم ہاؤس تھا ۔دانیال کا ہاتھ کانپ گیا تھا ” دانیال کیا ہوا ہے بتا مجھے ؟”
“ امبر کی لوکیشن شیرازیز کا فارم ہاؤس آرہی ہے .” مہتاب بھی حیران رہ گیا تھا اسنے دانیال۔کو کھینچ کر گاڑی میں بیٹھایا اور چلا دی ۔
ان دونوں کے سامنے ایک انجان اور عمر میں بڑا لڑکا کھڑا تھا جسے دیکھ کر وہ ڈر گئی تھیں ” جج۔۔۔جو جو ذی ذی کہاں ہیں ؟”
“.وہ دونوں تم دونوں کو مجھے دے کر چلے گئے انکا کام بس اتنا ہی تھا اسلیے تو وہ تمہارے دوست بنے تھے ! ان دونوں نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا ” دیکھو مجھے تم لوگوں کے بھائی سے بدلہ لینا اگر تم لوگ بغیر شور مچائے مجھے میرا۔کام کرنے دو ٹھیک تو پہلے بتاؤ پہلے میرے پاس کون آنا چاہے گی !” امبر کی پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی تھی اسنے لائبہ کی طرف دیکھا جو ڈر سے کانپ رہی تھی تبھی ارمان کے بڑھتے قدم اسے اور ڈرانے لگے ” نو یہ نہیں ہوسکتا تم کبھی ہمارے بھائی کو کچھ نہیں کرسکتے نو یہ نہیں ہوسکتا !!” امبر ڈرتی پیچھے قدم لیجارہی تھی لائبہ بھی اسکے ساتھ چل رہی تھی پیچھے کھڑکی تھی ارمان کا ہاتھ امبر کی طرف بڑھتا اسی وقت وہ کھڑکی سے کود گئی تھی ” امبر!!!!!!!!!! ” وہ خون میں لت پت زمین پر پڑی تھی لائبہ وہیں بے ہوش ہوکر گر گئی تھی ارمان کو اس چیز کا اندازہ بلکل بھی نہیں تھا کہ وہ لڑکی اتنا بڑا قدم اٹھا لے گے ۔جوجو اور ذی ذی لان میں ہی پریکٹس کررہے تھے جب انھیں لائبہ کی چیخ سنی تھی اور کچھ گرنے کی آواز آئی وہ دونوں ایک ساتھ فارم ہاؤس کی بیک سائیڈ پر گئے تھے جہاں امبر کا وجود خون میں لت پت آخری سانسیں لے رہا تھا اسنے بند ہوتی آنکھوں سے جوجو کو دیکھا جو خود ساکن ہوگیا تھا ذی ذی لائبہ کا نام لیتا اندر بھاگا جب گیٹ سے دانیال اور مہتاب کی جیپ آئی انھوں نے ذی ذی کو ہی پکڑ کر مارنا شروع کردیا مہتاب نے اسکے منہ پر تھپڑ مارا تھا اسکی گردن دبوچے کھڑا تھا ” بچیاں کہاں ہیں !” جس پر ذی ذی نے روتے ہوئے ساری روداد سنا دی تھی دانیال تو امبر کا سنتے ہی بیک سائیڈ کی طرف بھاگ گیا تھا جہاں جوجو اسے باہوں میں بھرے بیٹھا تھا ” امبر ویک اپ امبر پلیز ویک اپ !!!!!” دانیال اسے دھکا دے کر امبر سے دور کردیا تھا ” بب۔۔۔بھائی لائبہ ۔۔۔لائبہ !!”
“امبر میری جان کچھ نہیں ہوگا تمہیں بھائی کچھ نہیں ہونے دے گا !!! مہتاب نے ایمبولینس کو کال کردی تھی امبر کا سر بری طرح سے پھٹا تھا اسکا بہت خون بہہ چکا تھا مشکل۔ہی تھا کہ وہ بچ پاتی لائبہ کو بھی بے ہوشی میں ہی ایمبولینس میں ڈالا گیا تھا جوجو ذی ذی ساتھ جانا چاہتے تھے مگر مہتاب نے انھیں وارن کرکے دھکیل دیا۔دانیال کا دماغ چکرا رہا تھا اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی اسکی فیملی کیسے ٹوٹتی جارہی تھی کیا ہوتا جارہا تھا جب اسکی نظر بھاگتے ارمان شیرازی پر پڑی کسی کی بھی پرواہ کیے بغیر وہ اسکی پیچھے بھاگ گیا تھا مہتاب نے اسے آوازیں بھی دیں مگر کوئی فائیدہ نہیں نرس کو سمجھا کر مہتاب اسکے پیچھے چلا گیا تھا جب ان دونوں کو موقع مل گیا جوجو بھاگ کر ایمبولینس میں بیٹھ گیا تھا امبر کا ہاتھ تھامے ” سوری ایم سوری میری وجہ سے آج تم اس حالت میں ہو ایم رئیلی سوری پلیز جانا مت ورنہ کبھی خود کو معاف نہیں کرپاو گا پلیز امبر پلیز !!!! مگر وہ ہوش کی وادیوں سے کہیں دور جاچکی تھی ۔ذی ذی نے بائیک نکال لی تھی ” سوری لائبہ ائم رئیلی سوری میں جوجو سے کہا تھا مجھے سہی نہیں لگ رہا ناجانے ماموں نے تم دونوں کے ساتھ کیا کرنا چاہا جو امبر نے اتنا بڑا قدم اٹھا لیا یا ماموں نے اسے دھکا دیا بٹ ساری غلطی ہماری ہے !!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ لیکن کیوں ہیر تمہیں اچانک سے اپنے گاؤں کیوں جانا ہے !” ہیر اسکے سامنے سرجھکائے بیٹھی تھی جو اس سے گاؤں جانے کے لیے اجازت مانگ رہی تھی ۔
“ کیوں میں نہیں جاسکتی کیا میرا اتنا بھی حق نہیں کہ کچھ دن اپنی دادی کے ساتھ وقت گزار لوں میں نے پہلے کبھی کچھ نہیں مانگا آپ سے آج مانگ رہی ہوں مجھے کچھ وقت گاؤں میں میں رہنا ہے !!!” مرزا کا دل اداس ہوگیا تھا وہ اس سے کہنا چاہتا تھا کہ اسکے بغیر وہ کیسے رہے گا مگر اسکی اگلی بات اسے خاموش کر گئی تھی ” کردیں میری خواہش سمجھ کر ہی اجازت دے دیں !” اس پر اسنے خاموشی طاری کرلی تھی ” ٹھیک ہے سامان باندھ لو میں کل چھوڑ آؤں گا اور جب تمہیں واپس انا ہو بس ایک بار فون کردینا میں خود آجاؤں گا ۔” وہ اٹھ کر جانے لگی جب مرزا کے اسکا ہاتھ پکڑ کر روک لیا ” ہیر تم نے مجھے معاف کردیا ہے نہ ؟” نہ جانے کیوں اسکی کل سے خاموشی اسے کھٹک رہی تھی ۔ ” جس پر وہ اداس سا مسکرا دی ” کردیا تھا سب کچھ معاف کردیا تھا اب تو آپ پر اپنا پر حق بھی معاف کردیا ہے !” اسکا ہاتھ نرمی سے ہٹا کر وہ چلی گئی تھی اسے سوچو میں چھوڑ کر جب اسکا فون بجا مہتاب کا تھا ” اسلام علیکم! مہتاب کی بات سن کر مرزا کے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے ” کیا دانیال نے ارمان شیرازی کو گولی ماردی !”
“ ہاں اور وہ وہی مر گیا ہے !” مہتاب نے دانیال کو دیکھا جو ابھی بھی غصے سے ارمان کو دیکھ رہا تھا جو منہ کے بل سڑک پر گرا تھا اور اسکی پشت پر گولیاں لگی تھیں۔مرزا تھوڑی دیر بعد ہی وہاں نفری لیکر آگیا تھا ۔ “ یہ کیا کیا ہے دانیال تم نے؟”
“ اپنی بہن اپنی بیوی کے مجرم کو مار دیا ہے میں نے !اسکی آواز میں غصے کے ساتھ درد بھی انتہا کا تھا مرزا کی سوالیہ نگاہوں سے مہتاب کو دیکھا تو اسنے ساری کہانی سنا ڈالی ” او مائی گاڈ امبر زندہ ہے ؟؟؟ اسکا خیال تو دانیال کو اب آیا تھا ڈیڈ باڈی اور ان دونوں کو چھوڑ کر جیپ میں ہوسپیٹل کے لیے نکل گیا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دائم سر ہاتھوں میں گرائے کمرے کے باہر بیٹھا تھا اسے ابھی تک سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اسنے غلط کیا یا سہی وہ امل سے نفرت کرتا تھا کوئی بھی کرتا جو حرکت اسنے کی تھی لیکن کیا وہ ناقابل معافی حرکت تھی اتنی سزا تو دی تھی میں نے اسے اسکا ہاتھ جلایا تھپڑ مارا بال کھینچے چھپکلی اسکا سب سے بڑا ڈر اس پر چھوڑ دیا اسکا چہرا آگ کے قریب تر کیا اسے اپنی جان دینے پر مجبور کردیا اسکے سزا مانگنے پر اسے تکلیف دینا اور آج ۔۔۔اج کچھ زیادہ نہیں ہوگیا تھا۔اج اسنے روند تو نہیں دیا تھا اسے ہمت مجمع کی اور کمرے کے اندر چلا گیا جہاں وہ بے سدھ بستر پر پڑی تھی اسکا بی پی بہت لو تھا جو اسے ہوش میں نہیں آنے دے رہا تھا قدم من من کے ہو رہے تھے آج اسکی طرف جاتے نرس پاس ہی کھڑی تھی ” جی آپ کون ہیں؟”
“ انکا شوہر !!!……..” او آپ کہاں تھے جب آپکی وائف کا ریپ ہوگیا !!” اسنے حیرت سے نظر اٹھا کر دیکھا ۔” جانور ہوتے ایسے لوگ ترس نہیں آتا بس حوس پوری کرنی ہے ؟
“ حوس !!! دائم کو منہ سے اس لفظ نے نکلنے سے بھی انکار کردیا کہیں گلے میں ہی اٹک کر رہ گیا تھا ” دیکھو بیچاری کی حالت !!” یہ کہہ کر وہ چلی گئی تھی اسکی کلائیوں میں انگلیوں کے نشان تھے اسکی گردن پر بھی ہونٹ پر بھی دائم کو اج امل سے زیادہ خود سے نفرت ہونے لگی تھی اس لڑکی نے مجھے بھی اپنے جیسا بنا دیا گرا ہوا میں نے اسکی عزت بچائی تھی اور اسنے مجھ ہی پر عزت لوٹنے کا الزام لگا کر نکاح کر لیا اور آج میں نے سچ میں وہی کردیا اتنا بے وقوف۔کیسے ہوگیا میں !!” اسے شرم آرہی تھی اپنے ہونے پر آج غلطی نہیں بلکہ گناہ ہوا تھا اس سے ایک گناہ امل نے کیا تھا جسکی سزا وہ بھگت رہی تھی آج ایک گناہ دائم نے کردیا تھا آج ان دونوں میں سے کوئی مظلوم نہیں تھا دونوں ہی ایک دوسرے کے مجرم بن گئے تھے ایک ہی راستے پر ان کھڑے تھے ۔فون بجنے پر اسے ہوش ایا فہد صاحب کا فون تھا اصل امتحان تو اب تھا ” جی ابو !
“ دائم شافی کررہا تھا اسنے تجھے امل کو کہیں لیجاتے دیکھا ہے وہ بے ہوش تھی !” دائم نے چہرا پر ہاتھ پھیر کر خود کو نارمل کیا ” جی دادی اسکی تھوڑی طبعیت خراب تھی اسلیے فکر مت کریں ہم گھر آجائیں گے !”
“ تو امل سے بات کروانا میری ایسے کیسے کچھ ہوگیا رات تک تو بلکل ٹھیک تھی ۔” اس پر دائم کی آنکھوں کے سامنے ہر منظر دور گیا تھا ” بس دادی ہوگئی انسانی جسم ہے طبعیت خراب ہوتے کونسا پتہ چلتا ہے فکر نہ کریں ہم آجائیں گے !؟” اسنے فون ہی بند کردیا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ تو آپ کیا چاہتی ہیں کہ یہ رشتہ جلد سے جلد کوئی اور رخ اختیار کر جائے ! علیم اور منال دونوں کافی شاپ میں بیٹھے تھے ” دیکھیں علیم میں آپکو پہلے بھی بتا چکی ہوں بہت زیادہ بولڈ تو نہیں لیکن بہت زیادہ معصوم لڑکی بھی نہیں ہو جو اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ اظہارِ محبت صرف لڑکے کرتے ہیں میں آپکو پسند کرتی ہوں میں جانتی ہو اچانک اسے یہ کہہ دینا اس حادثے کے بعد آپکو مجھ پر یقین نہیں آرہا ہے !” وہ افسوس سے سر جھکا گئی تھی جس پر علیم کو اس پر تھوڑا سا پیار آیا تھا اسنے نرمی سے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا ” میں شکی مزاج مردوں میں سے نہیں ہوں کہ آپکے ایک بارے کہنے کے باوجود کہ آپ مجھے پولیس میں نہیں دیں گے بار بار آپ پر شک کروں ایکچولی میری نیچر کچھوے جیسی ہے میں کسی سے کھل کر بات نہیں کرتا اور یہ فیصلہ تو پوری زندگی کا ہوتا ہے میں نہیں چاہتا کہ نا انصافی ہو کسی کے ساتھ بھی اور جہاں تک رہی بات یقین کرنے کی تو مجھے آپ پر یقین ہے اور اسکا ثبوت میں آپکو کل دوں گا !!” اسنے حیرت سے اسے دیکھا ” کل ؟؟”
“ کل ہم اریبہ سے ملنے ہوسٹل جائیں گے !!!” منال نے حیرت سے اسے دیکھا ” اریبہ تمہاری چھوٹی بہن ہے !”
“ ہاں اتنی بھی چھوٹی نہیں ہے ایٹتھ میں پڑھتی ہے مگر میں نے رکھا اسے خود سے دور ہے !!”
“ واٹ لیکن کیوں ایٹتھ میں پڑھنے والی بچی بہت بڑی تو نہیں ہوتی رافع چھٹی میں ہے اور آج بھی اسکا یونیفارم اسکا بیگ تیار اسکا ناشتہ کبھی میں کرتی ہوں تو کبھی ماما اور وہ بچی مینج کیسے کرتی ہے” منال کو حیرت ہوئی تھی اتنی چھٹی عمر میں ہوسٹل !!
“ میری ذات سے جڑے بہت سے حقائق ہیں جسکا اثر میں نہیں چاہتا کہ اریبہ پر پڑے میں اسکے بارے میں کسی سے بات بھی نہیں کرتا آپ سے کی ہے کیونکہ آئی ٹرسٹ یو !! اسنے منال کا ہاتھ نرمی سے دبایا ۔اچانک علیم کا فون بجا ” واٹ !
“ جی سر فارم ہاؤس پر ہنگامہ ہوگیا ہے سر جبار اور زوار بابا دو لڑکیوں کو فارم ہاؤس پر لائے تھے ارمان صاحب بھی وہیں تھے اچانک ان میں سے ایک لڑکی نے کھڑکی سے چھلانگ لگا لی سر وہاں پولیس آگئی اور وہ ارمان صاحب کے پیچھے بھاگنے لگی انھیں پکڑنے کے لیے !!”
“ ٹھیک ہے تم فکر مت کرو میں ابھی فارم ہاؤس آرہا ہوں !!منال کو وہیں چھوڑ کر وہ نعمان کو فون ملاتا وہاں نکل گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے