Musalat By Binte Aslam Readelle50190 Episode 16
No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
ناول # مسلط
ازقلم # بنت اسلم
قسط نمبر 16
آج کی قسط میں غلطی سے ایک سین رپیٹ ہوگیا ہے جسے میں کٹ نہیں کرسکتی ورنہ قسطوں کی ترتیب خراب ہو جائے گی اسلیے انتظار کریے گا ایک قسط اور آئے گی آج شام تک ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماضی ۔۔۔
نکاح کے بعد اسے پھر سے اسی روم میں بیٹھا دیا گیا تھا وہ دل سے دعا کررہی تھی کہ یا اللہ یہ سب ایک خواب ہو میں پلک جھپکوں اور نیند ٹوٹ جائے مگر نیند تو نہیں ٹوٹی سوچ ٹوٹ گئی تھی جب دروازہ کُھلنے کی آواز آئی وہ مسکراتا ہوا اندر آیا تھا آج وہ بہت خوش تھا اسکی زندگی میں ایک ایسے انسان کی شمولیت ہوگئی تھی جسکی جان اس میں بسنے لگی تھی وہ پرجوش انداز سے بیڈ پر بیٹھا ” سوری وہ نہ آپکے لیے منہ دکھائی کا گفٹ لانا تھا ! ” اسنے جیولری سیٹ اسکے سامنے رکھا جسے دیکھ کر فریحہ کا کوئی ردِ عمل نہیں تھا نعمان کے ہونٹ سُکڑ گئے تھے اسنے نرمی سے ہاتھ اسکے چہرے پر رکھا جسے اسنے جھٹکنے کی کوشش کی ” آ۔۔آ۔۔۔۔۔۔یہ غلطی تو مت ہی کرنا مجھے خود سے دور کرنے کی غلطی میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا اور پھر میری سزائیں آپکو ناگزیر گزریں گی !”
“ پلیز مجھے جانے میں ہوسٹل سے غائب وارڈن کو پتا چلا تو بہت ڈانٹے گی میں انڈر ٹرینگ ہوں ابھی پلیز !” نعمان نے پیار سے اسکا چشمہ اتارا جسے اسنے روک دیا ” مجھے نظر آتا سہی سے چشمے کے بغیر ! اسنے پھر بھی چشمہ اتار ہی دیا اسکی کمر میں ہاتھ ڈالے اسے قریب کرلیا اسکے کان کے قریب جھک گیا ” میں ہوں نہ آپکی آنکھیں ! اسکی کان کی لو پر لب رکھتا وہ اسے اور ڈرا گیا تھا جب اسنے اسے دور کرنے کی کوشش کی نعمان نے گہرا سانس لیا اور اس دور ہوگیا ” دیکھو فریحہ میں مانتا ہوں جن حالات میں آپ یہاں آئیں وہ سہی نہیں تھے مگر یہ نکاح تو سچ ہے سوچیں اگر میں بُرا ہوتا تو اب تک جو چاہتا تھا وہ کر چکا ہوتا اس طرح آپکو صفائیاں نہیں دے رہا ہوتا پہلی نظر کی محبت میں یقین ہے آپکو ؟” اسنے معصومیت سے نفی میں سر ہلایا جس پر وہ ہنس دیا ” مجھے بھی نہیں میں بھی سوچتا کہ کیسے کوئی کسی سے پہلی نظر محبت کرسکتا ہے نہ آسکا جانا نہ پہچانا کیسے یوگیا مگر آج میں یقین آگیا کہ جب کوئی اہسا انسان آپکے سامنے آئے جسے دیکھ دل دھک رک جائے سانس تیز ہوجائے ہر چیز دھندلی ہوکر صرف وہ نظر آئے اسکی معصومیت دل کو بھا جائے تو ہاں پہلی نظر میں محبت ہوجاتی ہے آپکو پتہ ہے آپ کتنی معصوم ہیں اتنی کہ اگر شیطان بھی آپکو دیکھ لے تو مومن بنے کا ضرور سوچے گا یس فریحہ آئی لو یو میں تم سے محبت کرنے لگا ہوں ورنہ نکاح جیسا پاک رشتہ کو باندھتا پلیز ایک بار مجھ پر یقین تو کر کے دیکھو پلیز !!! اسنے اسکے ہاتھوں کو نرمی دبایا اسے کچھ سکون ملا تھا سہی تو کہہ رہا تھا کچھ بھی غلط نہیں کیا کچھ بھی کہنے کرنے سے پہلے نکاح کیا اورکیا ثبوت چاہیے مجھے اسکی محبت کا نکاح ہی تو ہے سب سے بڑا ثبوت اور وہ اسنے سب سے پہلے کیا ہے ” آپ مجھے دھوکا تو نہیں دیں گے چھوڑ تو نہیں دیں گے ! وہ حسرت بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اسنے نفی میں سر ہلا دیا اسنے جیولری باکس اٹھایا کھولا تواس میں نہایت خوبصورت نیکلس تھا فریحہ نے اس پر ہاتھ پھیرا ” بہت خوبصورت ہے! پہنا دیں ! نعمان نے حیرت سے اسے دیکھا اور بے ساختہ اسکے ماتھے پر لب رکھ دیے ” تھینک تھینک سو مچ مجھ پر یقین کرنے کے لیے میں اسے کبھی نہیں ٹوٹنے دوں گا !! چہرا اسکے نہایت قریب کے وہ نیکلس پہنا رہا تھا اور وہ حیا سے نظریں جھکائے بیٹھی تھی ۔وہ اسکے ایک ایک نقش پر اپنا لمس چھوڑ رہا تھا اسکے ہونٹوں کو قید کیے وہ اسے اپنا اسیر کرتا جارہا تھا گزرتی رات کا ہر لمحہ فریحہ نعمان شیرازی محبت میں ڈوبتی جارہی تھی یہ جانے بغیر کے کل صبح کا سورج ہجر کی سوغات لانے والا تھا مگر اس وقت وہ محبت اپنے تکمیل پر تھی ۔
اگلی صبح جب اسکی انکھ کھُلی تو اسکے پہلو میں وہ سمٹی سو رہی تھی اسنے ایک نظر اسکے معصوم پرسکون چہرے کو دیکھا جس پر محبت کے اثار نمایاں تھے ۔اسنے نرمی سے اسکا سر تکیے پر رکھا اور اسکے ماتھے کو چھو کر واش روم میں چلا گیا۔ تیار ہونے کے بعد وہ جیسے ہی نیچے سٹڈی میں گیا علیم نے اسکےسامنے ایک فائل رکھی ” بوووم !!!! نعمان نے حیرت اسے دیکھا ” کیا دھماکے دار خبر ہے !”
“ بھابھی بہن ! نعمان نے مسکرا کر اسے دیکھا ” تمہاری میں جانتا ہوں !
” ایس پی مرزا ایوب کی بھابھی مرزا ایوب کی بہن ہیں فریحہ ایوب !!! اسکی بات سن کر نعمان کے چہرے کا رنگ اڑ گیا وہ ایکدم چئیر سے اٹھا واٹ!!!!
“ یس سر مرزا کے علاوہ اسکی پوری فیملی امریکہ نیویارک میں سیٹل ہیں میم انکی بہن ڈاکٹر ایک سال کے کنڑیکٹ پر افریقہ کے ہوسپیٹل میں جاب کرتی ہیں کلب میں بھی الکوحل نارکوٹیکس ڈرگز پر سرچ کررہی ہے اسلیے وہاں تھیں ہیں نہ بوم نیوز اب وہ انسپیکڑ ہمارے کچھ نہیں کرسکتا یہ سمجھے اسکی دکھتی رگ ہاتھ اگئی ۔
“ شٹ اپ علیم یہ۔۔۔یہ ٹھیک نہیں ہوا فریحہ مرزا کی بہن ہے اسے پتا چلا تو وہ یہی سوچے گی کہ میں نے اسکے بھائی کو بلیک میل کرنے کے لیے اس سے نکاح کیا ہے میں صرف مرزا سے بدلہ لینا چاہتا اس سے محبت نہیں کرتا اور …….” وہ ابھی بات کر ہی رہا تھا جب فریحہ پر نظر پڑی وہ سب سن چکی تھی اسکی انکھیں آنسوں سے بھری ہوئیں ” فریحہ مم۔۔۔۔۔۔” مگر اس سے پہلے وہ الٹے قدم لیتی بھاگ گئی تھی وہ بھی اسکے پیچھے ہی بھاگا تھا کمرے میں جاتے وہ دروازہ بند کررہی تھی جو وہ نہیں کررہا تھا ” فریحہ ائی کین ایکسپلین !!!
“ کیا کیا بتانا چاہتے ہو کہ تم نے نکاح کے دوسرے ہی دن مجھے دھوکا کیوں دیا ! وہ اندر آکر دروازہ بند کرچکا تھا پیچھے علیم کو اپنی غلطی پر افسوس ہورہا تھا ” سر سچ میں محبت کرتے تھے ان سے !
“فریحہ پلیز میری بات سنو جو تم نے سنا وہ آدھا سچ ہے !”
” اور پورا سچ کیا مسٹر نعمان شیرازی یہی نہ کہ اب کیسے روز مجھے نئی تکلیف دے کر میرے بھائی کو تڑ پانا ہے آخر ہے کون آپ ؟”
پولیٹکل لیڈر بزنس مین گینگسڑ اور سمگلر !!!اسنے پرسکون لہجے میں کہا جس پر فریحہ کا منہ کھلا رہ گیا تھا میں نے سمگلنگ کی ہے لڑکیاں بیچی ہیں ملک کا پیسہ بھی کھاتا ہوں اور جو میرے راستے میں آئے اسے تو نگل جاتا ہوں تمہارے بھائی نے پہلے تو میری فیکڑی سے لڑکیاں چھڑا لیں میرا کروڑوں کا مال پکڑوایا اور پھر میری خلاف ثبوت ڈھونڈ رہا ہے اسلیے میں اور مرزا دشمن ہیں اور قسم ہے مجھے جو میں نے کبھی اس دشمنی کو پروفیشنل سے پرسنل کرنے کوشش کی ہو مجھے سچ میں نہیں پتا تھا کہ تم مرزا کی بہن میں نے تم سے محبت کی یے مرزا کی بہن سے نہیں ائی رئیلی لو یو ! مگر وہ تو اسے سن ہی نہیں رہی تھی ” وہ۔ وہ کل جو لڑکیاں تم ۔۔۔تم لائے تھے تم انھیں بیچ دو گے اگر تمہیں یہ پتا نہ ہوتا کہ میں مرزا کی بہن تم مجھے بیچ دیتے یا میرے اللہ اگر ایسا ہوجاتا ! وہ اپنے بالوں کو بکھیرنے سمیٹنے لگی تھی “فریحہ !! وہ اسے چھونے لگی جب وہ پیچھے ہوگئی ” دد۔۔۔دور رہو پتہ نہیں کتنے بے گناہ معصوم لوگوں کا خون لگا ہوگا اس پر اور تم نے مجھے بھی چھوا مجھے بھی گندا کردیا !!! وہ کبھی اپنے ہونٹ رگڑ رہی تھی کبھی گردن تو کبھی ماتھے سے اسکا لمس مٹانے کی کوشش کر رہی تھی اور تب پہلی بار نمعان شیرازی کی آنکھ نے کھارا پانی اگلا تھا وہ کیسے اسکا لمس مٹا رہی تھی میں نے اس سے محبت کی انتہا کردی اور یہ میرا یقین تک نہیں کر پارہی تھی اسنے ایک دم بازو سے کھینچ کر اپنے سامںے کیا ” نعمان شیرازی ہر کام ایمانداری سے کرتا ہے چاہے وہ ناجائز ہو یا جائز تم سے محبت بھی جائز کی اور رشتہ بھی جائز بنایا اب بھی کہو گی دھوکے باز ہوں !!!
“ ہاں ہو تم دھوکے باز ہو ہو ہی نہیں سکتا کہ تمہں پتہ ہی نہ ہو کہ جس لڑکی کو تم اپنی زندگی میں شامل کررہے ہو وہ کون ہے کہاں سے ہے کس کی اولاد ہے تم نے میرا فائدا اٹھا مجھے اپنے اعتماد میں لیا مجھ سے محبت ناٹک کیا اور میں بے وقوف بن بھی گئی اب تم میرے بھائی کو بلیک میل۔کرو گے تم نے کل۔رات کی ویڈوز بھی بنائی ہوگی تم میرے بھائی کو تڑپاو گے اسے بلیک میل کرو گے اور میرا بھائی عزت کے لیے پیچھے ہٹ جائے نہیں یہ میں نہیں ہونے دوں میں اپنے آپ کو ہی ختم کر لوں گی ! اسنے ادھر ادھر دیکھا وہاں ایسا کچھ نہیں تھا پرفیوم کی شیشی ڈریسنگ پر ماری جو ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا تھا ایک ٹکڑا لیا اس سے پہلے وہ نبض کاٹتی ایک زور دار تھپڑ اسکے چہرے پر پڑا تھا بالوں سے پکڑ کر اسکا چہرا اپنے قریب کرلیا ” بہت بول لیا تم نے اب میری سنو تم میری یعنی نعمان شیرازی کی پہلی اور اخری محبت ہو میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑو گا چاہے مجھے جان دینی پڑے یا لینی پڑے سمجھی !!! ایک جھٹکے سے بال چھوڑتا وہ دور ہوگیا تھا وہ باہر جانے لگا ” مجھے ہوسٹل جاناہے !! اسنے حیرت سے اسے دیکھا ” فریحہ !!!
“ اگر تم مجھ سے سچ میں محبت کرتے ہو تو مجھے آبھی کہ ابھی ہوسٹل چھوڑ کر آو نعمان شیرازی !!!!
وہ واپس اسے دوپٹہ دیا اور کھینچتا ہوا باہر لاکر گاڑی میں بیٹھا دیا گاڑی تیز رفتاری سے چلاتا وہ غصہ نکال رہا تھا گاڑی ہوسٹل سے کچھ دور کھڑی کیے وہ سامنے دیکھ رہا تھا جب وہ جانے لگی اسنے ہاتھ پر کھینچا تو اسکے قریب ہوتی چلی گئی اسنے کوئی بھی لمحہ ضائع کیے بغیر اسے ہونٹوں کو اپنی دسترس میں لیا اس لمس محبت سے زیادہ غصہ بھی تھا فریحہ اپنے اپ کو چھڑانے کی کوشش کررہی تھی آخر کافی دیر بعد جب منہ میں نمکین ذائقہ آیا تو ترس کھا کر چھوڑ دیا انگوٹھے سے ہونٹ کے کنارے سے خون صاف کیا جس سے منہ سے بس سسکی نکلی ” کہا تھا نہ دور جانے کی کوشش کرو گی تو میری سزائیں ناگزیر گزریں گی ! اپنے ہاتھ چھڑاتی بھاگ گئی تھی اس سے جو سایہ بن کر اسکے ساتھ رہنا چاہتا تھا اس ہجر کو اب منان کو مٹانا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨………
دانیال گھر واپس آیا تو خالی گھر منہ چڑھا رہا تھا دماغ پر زور دیا تو یاد آیا امی بابا امبر لائبہ شادی پر گئے ہیں فری بھی انکے ساتھ ہی ہوگی اسنے سُکھ کا سانس لیا جوتے اتارے اور چہرا اوپر کیا تو پانی کا گلاس سامنے تھا اس نے رُخ موڑا وہ گلاس لیے کھڑی تھی اور ایکدم کھڑا ہوگیا ” تم گئی نہیں ؟؟”
“ نہیں آنٹی تو بہت کہہ رہی تھیں مگر میں نہیں گئی ۔۔اسنے گلاس تھام لیا تھا ” کس منہ سے سامنا کرتی دُنیا کا کسی کو منہ دکھانے لائک چھوڑا ہے آپ نے مجھے !! پانی نے خُشک ہونٹوں کو چھوا ہی تھا جو رُک گیا اسنے گلاس واپس رکھ دیا اُٹھا کمرے کی جانب جانے کے لیے مُڑا تو اچانک سامنے آگئی ” میں نوکر نہیں ہوں آپکی جو کھانے کا وزن اٹھا کر اوپر لیکر آوں کھانا کھا کر جائیں !!”
“ مجھے بھوک نہیں ہے ! ایک سائیڈ کو گزرتا وہ جانے لگا تھا جب وہ چیخی ” دانیال اپنی بیوی کے سر پر سوتن لاکر مسلط کرے گا اور اس سوتن کا نام ہوگا بریانی جسے وہ اسکے سامنے پیار سے کھائے گا !!!” اسنے حیرت سے پلٹ کر اسے دیکھا امی کو بھی یہی بات ملی تھی بتانے کے لیے ” تو بنائی ہے میں نے سوتن کھالیں آکر !! ایٹیٹیوڈ سے کہتے کچن میں گھس گئی وہ منہ ہاتھ دھو کر آیا تو پلیٹ میں گرما گرم بریانی اسکا انتظار کررہی تھی وہ اطمینان کے ساتھ اسکے ساتھ انصاف کرنے لگا جب ایک چیز دیکھ کر اسکے ہوش اُڑ گئے ” آلو اِن بریانی !!” اسنے حیرت سے فری کو دیکھا جو خود حیران تھی ” بریانی میں آلو کیوں ڈالا ہے “
“ کیا مطلب کیوں ڈالا ہوتے ہیں تو ڈالیں ہیں !اسنے اکتا کر آلو ایک طرف کردیے ” آلو نہیں ہوتے اِن رئیل بریانی !! فری نے حیرت سے اسے دیکھا اور سائیڈ پڑے آلو چاولوں میں مکس کردیے ” کسی اور کو جاکر سُنائے یہ کہانی !! اسنے پھر آلو الگ کردیے ” نہیں کھانے آلو کیا ہے پریشانی !!!
“ لو پھر تو آپ کہیں گے بھنڈی میں بھی آلو نہیں ہوتے !”
“ ہاں تو بھنڈی میں آلو سچی نہیں ہوتے آلو نے اتنی سبزیوں کے ساتھ افئیر چلایا ہے ہر ڈِش میں گھس جاتا ہے مجھے تو اچھا نہیں لگتا !!! اسنے حیرت سے اسے دیکھا کیونکہ فری کی تو جان تھے آلو وہ ایکدم کھڑی ہوگئی ” جو آلو کی بے عزتی کرتے ہیں انکا جہنم میں الگ مقام ہوگا !!! پیر پٹختی دوبارہ کچن میں گھس گئی اور وہ اپنی مسکراہٹ کنٹرول کیے پھر بریانی پر ٹوٹ پڑا تھا ۔کھانے کے چائے کے ساتھ ڈرائے کیک بھی آیا تھا جسکی حالت بتا رہی تھی کہ اسے بنانے میں کتنی محنت لگی ہے ” یہ اس وقت !! اسکے سوال پر فری نے پلیٹ اپنی جانب کھسکا لی ” نہیں کھانا تو نہ کھاؤ ویسے بھی میرے ہاتھ کی بنی چیز کیوں کھائیں گے .”
“ بریانی آپ نے پیروں سے بنائی تھی جو میں نے کھالی! ٹی وی آف کر تا وہ اسکی جانب دیکھ رہا تھا وہ رُخ موڑ گئی تھی دانیال نے دیکھا اسنے یہ بات انجوئے کی تھی وہ مسکرائی تھی ۔اسنے ڈرائے کیک اٹھایا جب نظر اس میں موجود باداموں پر پڑی اسنے پیس واپس رکھ دیا فری کو دیکھا تو وہ پریشانی سے اسے دیکھ رہی تھی ” میں یہ نہیں کھا سکتا ایکچولی مجھے !!!”
“ رہنے دیں جانتی ہوں ڈر رہے ہیں کہیں زہر ملا کر نہ دے دیا ہو جس وجود نے آپکی زندگی میں کڑواہٹ بھری ہو اسکے ہاتھ کا میٹھا بھی کہاں مٹھاس دے گا !! وہ ٹرے اٹھانے لگی جب اسنے ہاتھ پکڑ کر روک لیا پیس اٹھایا جانتا تھاکہ بادام حلق سے گزرا تو رگوں میں زہر بن کر اترے گے مگر یہاں اپنا پیار امتحان مانگ رہا تھا منہ کھولا اور بڑا سے ٹکڑا آدھا کھا لیا مسکرا کر اسے دیکھا ” اپنی زندگی میں اس سے مزیدار کیک میں نے آج تک نہیں کھایا تھینکس فار دِس ٹریٹ !!! اسنے دوسرا ٹکڑا بھی کھا لیا تھا وہ مدھم سا مسکرا کر چلی گئی ۔اسکے جانے کے فورا بعد ہی وہ اوپر کمرے کی طرف بھاگ گیا تھا کمرے میں آنے کے بعد دروازہ بند کیا اور لمبے لمبے سانس لینے لگا مگر سانس تھی کہ گلے میں اٹک گئی تھی ۔وہ ہانپ رہا تھا کھانس رہا تھا اور گڑتا پڑتا کچھ ڈھونڈ رہا تھا جو اسے مل نہیں رہی تھی آخر وہ لمبے لمبے سانس لیتا بیڈ پر گِر گیا ۔آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاتا جارہا تھا پورا جسم پسینے میں بھیگ چکا تھا سانس گن گن کر آرہا تھا۔
کیچن سمیٹ کر وہ کمرے میں آئی تو آڑھا ٹیڑھا بیڈ پر گِرا تھا ” یہ دیکھو اتنا کھالیا کہ سونے کی پوزیشن بھی نہیں دیکھی ” وہ اسکے سرہانے گئی ” مسٹر کوپ !!! او ہیلو اپنی جگہ پر جائیں !! مگر جواب ندارد اسنے غصے سے اسکا پیر جھٹکنا چاہا تو وہ تپ رہا تھا اسے حیرت کا شدید جھٹکا ” کوپ ! کوپ کیا ہوا ہے ! وہ اسکے سرہانے آگئے تھے جہاں وہ نیم بے ہوشی میں کھانس رہا تھا پسینے سے ساری شرٹ بھیگ چکی تھی ” دانیال کیا ہوا آپکو ! دانیال !!! مگر وہ جواب نہیں دے رہا تھا اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کچھ ہی پل میں کیا ہوگیا اسنے فون اٹھایا اور اسکی والدہ کو فون ملا دیا ” ہیلو ! آا۔۔۔انٹی دانیال ۔۔۔۔۔۔اسکی کانپتی آواز انھیں کچھ غلط ہونے کا احساس دلا رہی تھی ” کیا ہوا دانیال کو ؟؟
“ آنٹی وہ۔۔۔وہ انھیں سانس نہیں آرہا ہے پسینہ بہت آرہا ہے باڈی ٹیمپریچر بھی بہت ہائی ہوگیا ہے !!!
“ واٹ !!! اسنے بادام تو نہیں کھالیے اسے باداموں سے الرجی ہے !!! فری کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا ڈرائی کیک میں تو بادام تھے اب اسے اسکے الفاظ یاد آرہے تھے ” میں یہ نہیں کھا سکتا ایکچولی مجھے !!!!
“ بادام سے الرجی ہے !!! اسکا ادھورا جملہ اسنے پورا کردیا ” بات سنو فری ریلیکس میرے روم میں جاؤ وہاں میرے ڈریسنگ کے فسٹ ڈرا میں بلو کلر کہ ٹیبلٹس پڑی ہیں وہ کھلا دو اسے !!! وہ کان سے فون لگائے انکے کمرے میں گئی دراز کھولا ” مل گئی ” اسے کھلا دو آدھے گھنٹے میں سانس نارمل ہو جائے گا اور وہ سوجائے گا میں کال کروں گی مجھے تم پر یقین ہے فرحین تم میرے بیٹے کو سنبھال لو گی !!!! فون بند کیا اور بھاگتی دوبارہ کمرے میں آئی ” دانیال !! میڈیسن لے لیں !! اسنے اسکی پوزیشن ٹھیک اسکا سر بیڈ کراؤن سے لگایا ہاتھ اسے گال پر رکھا ” میڈیسن لے لیں !! وہ مدہوش نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا اسنے ٹیبلیٹ منہ میں رکھی اور پانی پلا دیا ” سو جائیں لیٹ جائیں آپ !! اسے لیٹاتی وہ دوسری سائیڈ پر آکر بیٹھ گئی وہ تکیے پر سر رکھے مسلسل کھانس رہا تھا سانس تھا کہ جان لینے میں تلا تھا اسنے اسکا سر اٹھا کر اپنی گود میں رکھا ” ایم سوری دانیال مجھے معاف کردیں مجھے آپکی بات سنی چاہیے تھی !!! وہ زور زور سے کھانس رہا تھا اور وہ اسکی پیٹ سہلا رہی تھی کتنی عجیب کہانی تھی انکی ہوش میں تھا تو اسکی قربت کر ترستا تھا آج ہوش غائب تھے تو وہ اسکا سر گود میں لیے بیٹھی تھی وہ یہ تک نہیں سن پارہا تھا کہ وہ پہلی بار اسکا نام لے رہی تھی کچھ آرام ملا تو نیند غالب آگئی اسنے مزید اسکی گود میں منہ چُھپا لیا ” امی !!” تکلیف میں اسکی منہ سے صرف یہی لفظ نکلا تھا جس پر فری کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا ابھی اسے سوئے چند لمحے ہی گزرے تھے کہ فون بجنے لگا اسنے فورا اٹھا لیا کہ اسکی آواز سے وہ بے چین نہ ہو جائے ” ہیلو فری بیٹا دانیال کیسا ہے تم نے سنبھال لیا نہ ؟؟”اسنے ایک نظر اپنی گود میں دانیال کو دیکھا جو سو چکا تھا ” جی آنٹی وہ سو گئے ہیں آپکو یاد کررہے تھے پکار رہے تھے !!”
“ ہائے میرا بچہ مل اسکا دھیان رکھنا یہ مضبوط انسپیکٹر اندر سے بچوں جیسا ہے تکلیف تو برداشت ہی نہیں بچپن سے عادت ہے اسکی جب کبھی درد تکلیف ہو بس امی امی لگا رہتا اور آج اتنے سالوں بعد اسے پھر بادام سے اٹیک ہوا تب میں گھر پر نہیں تھی اسکے کھانے پینے کا بہت دھیان رکھنا پڑتا ہے اسے بادام کی علاو گیندا پھول سے بھی الرجی ہے بارش میں بھیگنے سے نمونیہ ہوجاتا ہے بچپن میں جب بھی کبھی چوٹ لگتی روتا آجاتا تھا امی کہتا میرے گلے لگ کر چپ ہوجاتا تھا کہتا جب بھی مجھے درد یا تکلیف ہوتی ہے میں آپکا نام لیتا ہوں مجھے سکون مل جاتا ہے لیکن فری اب اسکا سکون تمہیں بنا ہے تاکہ درد میں وہ مجھے نہیں تمہیں پکارے تم اسے سنبھالوں جیسے آج سنبھالا ہے ٹھیک گُڈ نائٹ !!! وہ فون رکھ چکی تھیں ” اچھا تو آپ اپنی ہر تکلیف میں بچوں کی طرح اپنی امی کو پکارتے ہیں !!مگر وہ تو کب کا ہوش کو خیر آباد کہہ چکا تھا بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتی آنکھیں موند گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیوٹی سے مہتاب سیدھا ہسپتال آیا تھا جہاں سامنے وہ سونے میں مصروف تھے وہ ہمیشہ اسکے سونے کے بعد ہی کمرے میں آتا تھا ایک مہینہ ہونے والا تھا اور اب تک وہ اسکے سامنے نہیں گیا تھا دونوں ہاتھ گال کے نیچے لیے وہ کروٹ لیکر سو رہی تھی اسنے آہستہ سے کیپ اتار کر اسکے پیروں میں رکھی ہلکے انداز سے اسے چھوا ” ائم سوری میں جانتا ہوں بہت دیر لگادی نہ آنے میں میں تمہاری معافی کے قابل نہیں پر ہو سکے کرنے کی کوشش کرنا !!”
“ رُخ زندگی نے موڑ لیا کیسا ۔۔۔
میں نے سوچا نہیں تھا کبھی ایسا ۔۔۔۔۔
آتا نہیں یقین کیا سے کیا ہوگیا۔۔۔۔۔۔
تم سے میں بے وفا کس طرح ہوگیا۔۔۔۔
انصاف کردوں مجھے معاف کردو۔۔۔۔
اتنا ہی کردو کرم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل دے دیا ہے جان تمہیں دیں گے دغا کریں گے صنم ۔۔۔
اسکے پیروں کو ہونٹوں سے چھونے لگا تھا پیروں پر لگے زخموں کی نشان اسے اور شرمندہ کرگئے ۔اسکے چہرے کی جانب آیا مسکرا کر اسے دیکھا اسکی گال پر ہاتھ رکھا ” آئی لو یو دوبارہ مت کہنا کہ میری شادی کسی اور سے کروا دو گی تم واپس آگئی ہو نہ تو کسی اور کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا !!! اسکی گال کو ہاتھ کی پشت سے سہلانے کے بعد وہ وہیں اسکے پاس ہی بھوکا پیاسا بیٹھ گیا تھا اور یہ منظر کھڑکی سے منال نے بھی دیکھا جسکا دل ٹوٹ چکا تھا چہرا آنسوں سے تر ہوگیا تھا وہ آنسوں پو نچتی ہسپتال سے باہر نکل گئی فُٹ پاتھ پر بیٹھی رونے میں مصروف تھی کتنی قریب آکر خوشیاں دور گئیں تھیں ۔
“ سر صبحا آٹھ بجے آپکی امریکہ کی فلائٹ ہے بارہ بجے کے قریب مسٹر میتھیو کے ساتھ آپکی میٹنگ ہے !! علیم گاڑی ڈرائیو کرتا نعمان سے بات کررہا تھا جو فائل پر جھکا اثبات میں سر ہلا رہا تھا ۔وہ مسکرا کر گاڑی ڈرائیو کررہا تھا جب نظر سڑک پر دوڑنے لگی وہ مسکرا کر شاندار ہسپتال کی عمارت دیکھ رہا تھا کہ مین ڈور کے باہر سسکتا وجود اسے ساکن کرنے میں کامیاب ہوگیا گاڑی چلاتا وہ گردن موڑے اس روتے وجود کو دیکھ رہا جسکا رونا اسے حیرت زدہ کررہا تھا کہ اچانک پیچھے سے سٹئیرنگ گھمایا ” علیم !!! اسنے سامنے دیکھا تو ٹرک کو کراس کر چکے تھے ” دھیان کہاں ہے ابھی ایکسیڈنٹ ہوجاتا کیا دیکھ رہے تھے باہر ؟” وہ سخت لہجے میں پوچھ رہا تھا جس پر وہ شرمندگی سے گردن جھکا گیا ” سوری سر !! اور دوبارہ ڈرائیونگ پر فوکس ہوگیا مگر منال کا وہ سمِٹا وجود بار بار اسکی آنکھوں کے پردے پر آرہا تھا ۔
جاری ہے ۔
