96.1K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

ناول # مسلط
ازقلم # بنت اسلم
قسط نمبر 20
نعمان کو چار گھنٹے بعد ہوش آیا تھا آنکھوں کے سامنے دھندلی چھت آرہی تھی اسنے نظر موڑ کر دیکھا تو صوفے پر ٹیک لگا کر سوتی فریحہ پر نظر پڑی مشکل سے کروٹ لیکر اسے دیکھنے لگا اسکے چہرے کی تھکن اسکا تھکا تھکا وجود بھی کتنا خوبصورت لگ رہا تھا جب نرس نے ایکدم دروازہ کھولا تو شور سن کر اسکی آنکھ کُھل گئی نعمان نے خفا نظر سے نرس کو دیکھا جو جا چکی تھی فریحہ نے آنکھیں ملتے بیڈ کو دیکھا تو وہ اسے ہاتھ ہلا رہا تھا ” نعمان آپکو ہوش آگیا درد تو نہیں ہو رہا زیادہ آپکا بی پی چیک کرتی ہوں ! وہ بی پی آپریٹس پکڑنے لگی جب اسنے اسے کھینچا اور وہ اسکے اوپر ہی گئی تھی ۔اتنے قریب سے وہ اسکا ایک ایک نقش دیکھ رہا تھا پھر جھک کر اسکے لبوں کو اپنے حصار میں لے لیا تھا مزاحمت کرنے کی بجائے فریحہ بھی آنکھیں موند کر بس اسے جذب کرلینا چاہتی تھی ایک سال پہلی کی غلطی کی وہ تلافی چاہتی تھی ہر گزرتے لمحے کے ساتھ شدت بڑھتی جارہی تھی کہ فریحہ کسی احساس کے تحت اس سے دور ہوگئی ” ہو۔۔۔ہوسپیٹل ہے ! وہ مسکراتا ہونٹوں پر انگوٹھا پھیرنے لگا فریحہ تھوڑا اور اسکے قریب ہوئی اسکے سینے پر انگلی سے لکیریں کھینچنے لگی ” آئی لو یو پتہ میں کتنا ڈر گئی تھی اپکو ایسے دیکھ کر اگر آپکو کچھ ہوجاتا تو منان کا کیا ہوتا ابھی بھی اکیلا ہوگا !!!! ” اچھا تو یہ بات ہے جناب کو اتنا پیار اسلیے آرہا تھا نعمان کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ آگئی تھی فریحہ نے اسکے گال پر کِس کیا ” آپ تو اتنے اچھے ہو اور آپکے ڈر کی وجہ سے سٹاف اسکا خیال رکھتا ہے مگر ابھی تو آپ یہاں ہو اسکا خیال پتا نہیں ٹھیک سے رکھ رہے ہوں گے یا نہیں !!! نعمان نے بھی مصنوعی پریشانی سے سر ہلایا فریحہ کو بات بنتی نظر آرہی تھی ” تو ایک کام کریں نہ منان کو یہی بلا لیں میں ہوں نہ یہاں اسکی ما۔۔۔۔”
“ تم اسکی ماں نہیں ہو تم نے اسے بھوکا روتا چھوڑ دیا تھا ! فریحہ کا کِھلکھلاتا چہرا اُتر گیا تھا ۔ ” نعمان معاف کردیں نہ اس بات کے لیے !”
“ فریحہ میں تمہیں معاف کرنا چاہتا ہوں مگر جب مجھے منان کی بھوک سے رونے کی آواز آتی ہے نہ مجھے ایک لمحے کے لیے تم سے نفرت ہونے لگتی ہے ۔وہ میرا بیٹا ہے تم تو اسے مارنے والی تھی تمہیں تمہارا فیوچر تمہارا گول تمہارا فِگر۔۔۔
“ یہ بات نہ کریں میں منان کو اس دنیا میں اسلیے نہیں لانا چاہتی کہ مجھے ڈر تھا کہ میں اسے کیسے اسکا مقام دلوا پاؤں گی ۔۔۔”
“ منان نعمان شیرازی یہی مقام ہے اسکا اور اسکا باپ اسکو معاشرے میں بھی اسکا مقام دلا دے گا ! وہ رُخ موڑ گیا تھا وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر اسکی گال پر جھک کر اسے چھوتی وہاں سے چلی گئی ۔” تم بہت ڈر پوک ہو جس دن اپنے دل سے اپنے بھائی کا ڈر نکال کر اپنے شوہر اور بیٹے کی محبت لے آؤ گی اس دن منان کو تمہارے حوالے کردوں گا ۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرزا کو ہوسپیٹل لے آیا گیا تھا مہتاب نے دانیال کو بھی فون کرکے بلا لیا تھا اندر اسکا چیک اپ ہو رہا تھا۔ کچھ دیر بعد ڈاکٹر باہر آیا ” انکی باڈی میں زہر انجیکٹ کیا گیا ہے اور وہ زہر بھی بہت خطرناک ہے جسکی اینٹی ٹوڈ یہاں موجود نہیں ہے !
“ کیا !!! تت۔۔۔۔۔۔تو کہاں سے ملے گا اسکا اینٹی ٹوڈ !!! دانیال نے گھبراتے ہوئے پوچھا ” کسی اور شہر سے میں نے پتہ کروایا ہے لاہور میں نہیں ہے ۔”انھوں نے اسکے حوالے ایک چِٹ کردی ” میں کراچی سے پتا کرتا ہوں میں اسلام آباد سے !! فون نکالتے وہ دونوں مخالف سمت میں چل دیے تھے ۔ہیر کو گھر میں بے چینی نے گھیر لیا تھا اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا جب اچانک دروازہ بجنے لگا ایک تو آدھی رات اوپر سے بجتا دروازہ ” کک۔۔۔۔کون ہے !”
“ حوالدار انسپکٹر دانیال نے کہا ہے آپکو ہسپتال لے آوں !!! ” اسنے ڈرتے ہوئے اس سے پوچھا ” کک۔۔۔کیوں ؟
“ مرزا سر ہسپتال میں ہیں انھیں زہر دیا گیا ہے تو کچھ ضروری کاغذات ہیں جن پر انکے گھر والوں کی دستخط چاہیے تو اسلیے انھوں نے آپکو لینے بھیجا ہے ! اسکے ہاتھ ساکن ہو کر وہیں گر گئے تھے ” زز۔۔۔زہر بابو کو زہر کس نے دیا !! دوپٹہ سر پر لیتی وہ باہر کی جانب بھاگی !!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ منال تم نوشی سے بات کرو نہ اسکا برین واش کرو کہ نہیں مہتاب جب واپس آئے گا تمہیں اس سے اپنا حق مانگنا چاہیے اس سے کہنا چاہیے نکاح کرو مجھ سے اپناؤ مجھے تم سائیکائیٹریس ہو تم تو کسی کا بھی برین واش کر سکتی ہوں اس کا کردوں اسے مجھ سے نکاح کرنے پر آمادہ کردو پلیز !!! ” وہ گاڑی چلا رہی تھی اور زہن میں مہتاب کے کل کہے گئے الفاظ گھوم رہے تھے نوشین کے آنے کے بعد تو وہ بلکل ہی بدل گیا میں تو ایسے ہوگئی ہوں جیسے ہوں ہی نہیں ہم کتنے اچھے دوست تھے اور مہتاب نے مجھ سے ہاں بھی تو کی تھی کیا میں اپنا حق نہیں مانگ سکتی شاید نہیں اس پر پہلا حق نوشین کا ہی ہے ” وہ سوچوں میں الجھی گھر واپس جارہی تھی جب راستے میں سڑک کے کنارے کوئی رکوع میں جھکا لمبے لمبے سانس لے رہا تھا سیاہ لباس میں وہ سیاہ ہیولہ ہی لگ رہا تھا سڑک پر گاڑیاں آ جا رہی تھیں مگر اس پر کوئی دھیان نہیں دے رہا تھا وہ بھی اگنور کرتی آگے بڑھ گئی لیکن ایک تجسس کے تحت اسنے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو وہ نیچے گرتا جارہا تھا اور آخر زمین بوس ہوگیا ! اسنے ایکدم گاڑی روکی پانی کی بوتل لیتی وہ اسکی جانب گئی اسے ڈر بھی لگ رہا تھا مگر فکر بھی اگر کوئی معصوم ہوا تو نقاب سے چہرا چھپائے وہ ابھی بھی لمبے لمبے سانس لے رہا تھا جب منال پر بند ہوتی نظر پڑی ہاتھ میں بوتل دیکھی تو ہاتھ بڑھا دیا ” پپ۔۔۔پانی !!! یہ سنا تھا منال گھٹنوں کے بل بیٹھی بوتل اسکے منہ سے لگا دی اسی دوران منال نے اپنے فون کی ٹارچ بھی آن کرلی تھی اس وجود پر روشنی ڈالتے نظر پیٹ پر جاکر رُک گئی جہاں چاقو کپڑے پھاڑ کر اندر تک دھنسایا گیا تھا وہ کبھی زخم کو دیکھتی تو کبھی ماسک میں چھپے انسان کو جو مشکل ماسک کے نیچے سے پانی کے گھونٹ گلے سے اتار رہا تھا ” تت۔۔۔۔تم زخمی ہو کک۔۔۔کیا ہوا ہے !” علیم نے مکمل آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے کی کوشش کی تو چند دن پہلے ہسپتال کے باہر فٹ پاتھ پر بیٹھی روتی لڑکی یاد آگئی وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا جب اسنے اسکے زخم کو چھوا ” آہ!!!
سس۔۔۔سوری یہ کیسے ہوا ہے !”
“ راہ زنی لاہور سے واپس اپنے گھر جارہا تھا تو راستے میں کچھ ڈاکو آگئے میری بائیک چھینی اور مجھے مار کر بھاگ گئے سنسان راہ سے بڑی مشکل یہاں پہنچا ہوں !”
“ چچ۔۔۔۔۔چلو میں تمہیں ہسپتال لیجاتی ہوں” اسکی بات پر اسنے نفی میں سر ہلا دیا ” نن۔۔۔نہیں وہاں پولیس آجائے گی تحقیقات کرے گی سوالات کرے گی اور میں نے انکے چہرے نہیں دیکھے اور میں اس حالت میں نہیں ہوں کہ بیان دے سکو مجھے میرے گھر جانا ہے بہت ضروری !!”
“ لیکن اس زخم کے ساتھ کیسے جاؤ گے !!!” اسے بس اسکے پیٹ پر بڑا سا گھاؤ نظر آرہا تھا ” مم۔۔۔میں چلا جاؤ گا !” وہ واپس اٹھنے لگا مگر بازو نڈھال ہوگئے تھے ٹانگیں جان چھوڑ رہی تھیں ” تمہیں ہاسپٹل نہیں جانا تو میرے گھر چلو میں تمہاری ڈریسنگ کردیتی ہوں کچھ کھا لینا !” علیم نے حیرت سے اس معصوم سے لڑکی کو دیکھا ” ڈر نہیں لگ رہا کہ میں خطرناک بھی ہوسکتا اور گھر بلا رہی ہو !”
“ اور اگر نیک ہوئے تو ساری زندگی مجھے یہ پچھتاوا مارے گے کہ نیک انسان میرے مدد نہ کرنے کی وجہ سے مر گیا !!” اسکی بات علیم کے دل تک چھو گئی تھی وہ پھر اٹھنے لگا جب منال نے اسکے سر کے نیچے ہاتھ رکھ کر اٹھنے میں مدد کی چند لمحوں کے لیے انکے چہرے بہت قریب آگئے تھے علیم نے اسکا ایک ایک نقش غور سے دیکھا تھا مگر منال کو صرف آنکھیں نظر آرہی تھی اور دائیں آنکھ کے کنارے پر چھوٹا سا تل !! اسے ہمت سے اٹھاتی وہ گاڑی میں بیٹھا کر اپنے گھر لے آئی تھی ” منال آپی یہ کون ہے !” دروازے کھولنے پر منال کے دس سال کے بھائی نے اس سے سوال کیا تھا ” رافع امی ابو کہاں ہیں ؟”
“ آپی وہ تو سرفراز انکل کی ڈیتھ پر چلے گئے آپکو فون کیا تھا مگر بند جارہا تھا ابھی تھوڑی دیر پہلے گئے انھیں ہارٹ اٹیک ہوا ہے !”
“ افسوس اچھا میری مدد کرو بھائی کو اندر لیکر جائے انھیں چوٹ لگی ہے !” رافع نے آگے بڑھ کر ہمدردی سے علیم کو ایک سائیڈ سے پکڑا جس پر اسنے نقاب میں قید ہونٹوں پر مسکان سجا لی تھی اسے صوفے پر دراز کرنے کے بعد وہ کمرے میں چلی گئی ” رافع انکی شرٹ کے بٹن کھولو !” رافع نے حیرت سے علیم کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا ” میں آپکی شرٹ کے بٹن کھول دوں !”اسنے اثبات میں سر ہلا دیا ” پھر تو آپی کے سامنے آپکی شیم شیم ہوجائے گی !” اس بات پر علیم کھل کر ہنس دیا تھا جس سے زخم میں درد اور بڑھ گیا تھا مگر وہ ہنستا رہا تھا ” نن۔۔نہیں ہوگی صرف نیچے سے کھولو !! رافع نے بٹن کھول کر اسکا زخم برہنہ کردیا تھا “۔ ہائی اتنا بڑا کس نے مارا !”
“ میری غلطی کی وجہ سے لگا ! تب تک منال بھی فسٹ ایڈ باکس لے آئی تھی ” آپی میرا سائنس کا ٹیسٹ ہے میں جارہا ہوں پڑھنے ! رافع کے جانے کے بعد وہ روئی سے اسکا زخم صاف کررہی تھی اور علیم اسکے خاموش بجھے بجھے چہرے کو دیکھ رہا تھا ” اس دن ہسپتال کے باہر کیوں روئی تھی !”منال نے حیرت سے اسے دیکھا ” جی ! جس پر وہ مسکراتا نفی میں سر ہلا گیا وہ دوبارہ سے ڈریسنگ کرنے لگی اسکی پٹی کی پھر کچن گئی اسکے لیے دودھ بنایا اور اسے دینے کے بعد مُڑی ہی تھی کہ اسکا فون بجا وہ کان سے لگاتی دوسری سائیڈ چلی گئی علیم نے اپنی پینٹ کی پاکٹ کو دیکھا تو انجیکشن دیکھا جو بھرا ہوا تھا سفید پانی سے ” او شِٹ یہ تو بے ہوشی والا انجیکشن تو یعنی ایس پی مرزا کی گردن میں زہر انجیکٹ ہوگیا او نو علیم تو اتنی بڑی غلطی کیسے کر سکتا ہے !” زخم پر ہا تھ رکھتا وہ اٹھ گیا تھا ۔
“ واٹ وہ کیسے اسکی باڈی میں زہر !!! منال کے ہوش اڑ گئے تھے مہتاب کی بات سن کر ” ہاں یار کل نعمان شیرازی کے خلاف ایڈووکیٹ فرحت خان کیس فائل کرنے والے تھے اور آج ان پر جان لیوا حملہ ہوگیا مرزا ہمارے ساتھ ہی تفشیش کررہا تھا ایڈووکیٹ کے پاس ایک چاقو ملا اور انھوں نے شاید اس آدمی کو مارا ہے اس چاقو سے !!! منال کے کان سائیں سائیں کرنے لگے تھے آدمی چاقو جب اسے گردن میں کچھ چبھا پیچھے والے نے گرفت اتنی مضبوط رکھی تھے کہ وہ زمین پر گری ہی نہیں اسکی باہوں میں ہی رہ گئی تھی وہ بے ہوش ہوگئی تھی جب علیم نے اسکے چہرے سے بال ہٹائے ” سوری کائنڈ پرنسس مگر علیم اپنے آپ پر کام کے وقت جذبات مسلط نہیں ہونے دیتا ۔ ” نرمی سے اسے صوفے پر لیٹایا پینٹ کی پاکٹ میں کاغذات چیک کیے اور وہاں سے نکل گیا اگلے لائحہ عمل کے لیے۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہسپتال کے باہر اتری تھی دل تھا کہ بس کسی وقت بھی بند ہوسکتا تھا اسنے گلہ آمیز نظر آسمان کی طرف اٹھائی ” آپکی حفاظت میں دیا تھا یہاں کیسے آگئے ؟” وہ من من کے قدم اٹھاتی ہسپتال کے اندر جارہی تھی سپاہی نے اسے وارڈ سے گزارتا آئی سی یو کے سامنے لے آیا تھا جہاں دانیال اور مہتاب دونوں ہی فون پر کچھ بات کررہے تھے جب دانیال کی نظر اس پر پڑی وہ فون بند کرتا ایک کاغذ اسکی جانب بڑھا گیا ” بھابھی اس پر دستخط کردیں تاکہ مرزا کا علاج شروع ہوسکے !” اسنے نم آنکھوں سے اسے دیکھا چپ چاپ کاغذ پکڑ لیا دانیال تبھی فون کان سے لگاتا ایک سائیڈ ہوگیا ۔ جی فرحین بولیں ؟”
“ وہ ۔۔۔آنٹی پوچھ رہی تھیں کب تک آئیں گے گھر ؟” اسنے گہرا سانس لیا مجھے دیر ہو جائے گی مرزا ہاسپیٹل میں ہے اسے زہر دیا گیا !”
“ کیا کک۔۔۔کب کیسے ہیر آپا کیسی ہیں ؟”اسنے رُخ پلٹ کر ہیر کو دیکھا جو کاغذ کو گھورے جارہی تھیں ” بہت پریشان ہیں انھیں فارم دیا گیا ہے انکی ہمت نہیں ہورہی سائن کرنے کی ..”
“ ہیر آپا سائن کر بھی نہیں سکتی وہ ان پڑھ انھیں پڑھنا نہیں آتا ! دانیال کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا اسلیے وہ ایسے کھڑی تھیں اسنے فون رکھا اور اسکی جانب آگیا پیپر پکڑا تھم اِنک بھی وہ لے آیا تھا ” بھابھی اس میں لکھا ہے کہ اگر علاج کے دوران مرزا کو کچھ ہوگیا تو ہسپتال زمہ دار نہیں ہے اسکی حالت بہت خراب ہے !! دانیال کو دیکھے بغیر آئی سو یو ونڈو سے اسے دیکھا جہاں مرزا ساکن مشینوں میں جکڑا تھا اسنے شیشے پر ہاتھ لگایا ” مرزا !!!”
کھو گیا ۔۔۔گم ہوگیا ۔۔۔۔
وقت سے چُرایا تھا جو ۔۔۔
اپنا بنایا تھا۔۔۔۔۔
وہ تیرا ۔۔۔۔۔وہ میرا ۔۔۔۔
ساتھ نبھایا تھا جو اپنا بنایا تھا ۔۔۔
جو دریا جینی دے جینی ۔۔۔۔۔
آنکھیں بھینی رے بھینی ۔۔۔۔۔۔
شیشے کے قریب سانس لیتی شیشے پر بھاپ سے اسکا چہرا دھندلا ہورہا تھا جسے وہ ہاتھ سے رگڑتی بار بار صاف کر رہی تھی ۔ ” بھابھی پلیز انجیکشن میرا مطلب ٹیکا مل گیا ہے پشاور سے وہ آرہا آپ اس پر دستخط کردیں تاکہ وہ مرزا کو بچانے کی کوشش کرسکیں !
“ یہ نیلے کک۔۔کیوں ہورہے ہیں !! اسنے مرزا پر نظریں مرکوز کیے کہا جسکے ہونٹ ناخن نیلے ہوگئے تھے ۔” بھابھی اسکے جسم میں زہر پھیل رہا ہے پلیز نہیں تو انگوٹھا لگا دیں !” اسنے دانیال کی طرف دیکھا جسنے اسکے سامنے تھم انک کی یہ اس پر انگوٹھا لگا دیں اور پھر اس کاغذ پر یہاں !! اسکے کہنے کے مطابق اسنے مرزا کی جان خدا کو سونپ دی تھی اور خود اپنی گردان شروع کرلی تھی ” اللہ ہو !اللہ ہو !! اللہ ہو !! اللہ ہو !!! دانیال نے ایک نظر اس معصومہ کو دیکھا اور فارم جمع کروانے چلا گیا ۔وہ سر سے پیر تک کانپ رہی تھی اسکا دل بند ہورہا تھا مرزا کا جسم جس مشین سے جوڑا گیا تھا اسے نہیں پتا تھا وہ کیا ہے وہ اڑھی ترچھی لکریں کیوں دکھا رہا جو کبھی بہت سیدھی ہوتی تو درمیان میں کہیں پہاڑ جیسے کھڑی ہو جاتی گنتی بھی تو آرہی تھی اسکی شہادت کی انگلی پر کوئی آلہ لگا تھا اسکے ہونٹ بلکل نیلے ہوگئے تھے اسنے بے ساختہ پہلے اپنے ہونٹوں کو چھوا پھر گردن کو اسکا لمس محسوس کیا ” ابھی تو پیار شروع کیا تھا ابھی۔۔۔۔ابھی کیسے جاسکتے ہیں بابو جانا نہیں ہیر نے سب کھویا ہے اپنے باپ کی شکل نہیں دیکھی جب ہوش سنبھالا وہ شہید ہوگئے اماں بھی چلی گئیں دادی کو بھی چھوڑ آئی ہوں اب جو بھی ہے آپ ہیں اور کچھ نہیں ہے کچھ نہیں دیکھیں خالی ہیں میرے ہاتھ ! وہ دونوں ہاتھ شیشے پر رکھے اسے دکھا رہی تھی جو دنیا سے بیگانہ سو رہا تھا ۔ “
تجھے میں پیار کروں ۔۔۔۔
اور اتنا پیار کروں ۔۔۔
کہ جب تلک میں جیوں تیرا انتظار کرو ۔۔۔۔۔
تجھے میں پیار کروں اور اتنا پیار کروں ۔۔۔۔۔
دو گھنٹے گزر گئے تھے وہ دیکھ رہی تھی ڈاکٹر کبھی کچھ کر رہے تھے کبھی کوئی انجیکشن دے رہے تھے مگر اب تو اسکے ہاتھ اور پاؤں بازو سب نیلا ہوتا جارہا تھا اسکی دھڑکن پل پل کم ہورہی تھی اسکی سانس ڈوب رہی تھی مرزا آنکھیں موندیں اپنی زندگی دیکھ رہا تھا وہ پارک کے جھولو پر فریحہ کو جھولا رہا تھا اسکی دادی اسکے صدقے واری جارہی تھیں اسکی ماں اسے کھانے پر مجبور کررہی تھیں اسکا باپ اسکے فسٹ آنے پر سر شار ہوگیا تھا وہ کالج جانے لگا تھا وہ جرم پڑھنے لگا اسکے باپ کے دوست جو ڈی ایس پی تھا اسکا قتل ہوگیا اسکے والد بہت پریشان تھے انھیں اس پیشے سے ڈرلگتا تھا سو سائٹی کے ایک لڑکے نے چوری کی مرزا نے پولیس کو بلایا اور اسے پولیس کے حوالے کردیا وہ پولیس والوں سے ملنے لگا ایوب کو اس بات کا پتا چلا تو اسنے اسے تھپڑ مارا تھا اسنے اپنے باپ سے کہا اسے بھی پولیس میں جانا ہے کوئی ساتھ نہیں تھا سوائے دادی کے وہ پولیس والا بن گیا جس دن اسنے وردی پہنی خود کو ملک کو سونپ دیا ! سارے منظر فلم کی طرح چل رہے تھے ہیر اسکی زندگی میں آگئی تھی وہ اسے اچھی نہیں لگتی وہ اس سے جان چھڑانا چاہتا تھا وہ اس سے گھر کے کام کرواتا اسے ڈانٹتا مگر جب وہ سوتے میں یہ سنتا کہ چاچی اسے مارا کرتی تھیں اسے برا لگتا اسلیے اسنے دائم کو تکلیف دی وہ چپ چاپ اسکی ہر بات۔ مانے لگی اسے اچھا لگنے لگا پھر وہ اسکے قریب جانے لگا اسکے لمس سے آشنا ہوگیا اسے پیار دیا اور ادھورا چھوڑ کر فرض نبھانے آگیا اسنے روکا تھا ” مرزا خدا کے لیے !”اسکے ساکن جسم کو جھٹکے لگنے لگے تھے اسکے جسم میں درد کی ٹیسیں اُٹھ رہی تھی ڈاکٹرز پریشان ہوگئے تھے اور باہر ہیر ” دد۔۔دانیال بھائی بابو کو دورے پڑھ رہے ہیں !!! دانیال مہتاب بھاگ کر ونڈو سائیڈ پر آئے تھے جب نرس باہر آئی مگر کوئی جواب دیے بغیر واپس اندر چلی گئی انجیکشن آنے میں تین گھنٹے تھے ڈاکٹر کے کچھ ٹریٹمنٹ کے بعد وہ کچھ نارمل ہوگیا تھا مگر شاید بلکل ہی نارمل اسکی ہارٹ بیٹ لو ہوتی جارہی تھی وہ سکون کی نیند سونا چاہتا تھا ہمیشہ کے لیے مگر وینٹیلیٹر اسکی سانسیں کھینچ کر طویل کررہا تھا اور اور تین گھنٹے کرنا تھا ۔وہ کپکپاتی دو گھنٹے سے کھڑکی کے ساتھ لگی تھی ۔
دلوں کی بات نہیں جانتے کہ زباں والے ۔۔۔
وفا کو جرم سمجھتے ہیں یہ سب جہاں والے ۔۔۔
اگر یہ جرم ہے تو یہ جرم بار بار کروں ۔۔۔
کہ جب تلک میں جیوں تیرا انتظار کروں ۔۔۔
تجھے میں پیار کروں ۔۔۔
اور اتنا پیار کروں ۔۔۔۔
“ بھابھی جوس پی لیں !! اسنے مہتاب کو دیکھا ” خا۔۔۔۔۔خالہ بی اور انکے ماں۔۔۔۔ماں باپ کو کچھ نہیں بتایا !”
“ انکے نمبر اسکے فون میں ہی ہیں جو خراب ہوگیا ہمارا انسے سے رابطے کا کوئی زریعے نہیں!! دانیال سر جھکا گیا تھا مہتاب بھی نظریں جھکائے جوس پکڑے کھڑا تھا ” مجھے نہیں پینا!!” وہ پھر سے ونڈو میں سے اسے دیکھنے لگی ایک گھنٹہ اور گزر گیا تھا جب اچانک اسے پیچھے سے کسی نے اپنےساتھ لگا لیا ٹھوڑی اسکے کندھے پر رکھ دی ” ہیر آپا !!
اسنے رُخ موڑ کر فری کی جانب دیکھا جو آفتاب صاحب کے ساتھ آئی تھی “ دانیال کیا حال ہے مرزا کا؟”
“ بس ایسے ہی ہے زہر پوری باڈی میں پھیل گیا ہے وینٹیلیٹر کی وجہ سے سانسیں چل رہی ہیں انجیکشن آنے میں ابھی بھی ڈیڑھ گھنٹا رہتا ہے !”
انھوں نے آگے بڑھ کر ہیر کے سر پر ہاتھ رکھا ” بیٹا اللہ سب ٹھیک کرے گا !”
“ پہلے بھی انھیں کی امان میں دیا تھا اور اب بھی انھیں سونپ دیا ہے کوئی دوائی اثر ہی نہیں کررہی بس نیلے ہوتے جارہے ہیں ڈاکٹر کہہ رہے ہیں دوسرے شہر سے ٹیکہ آرہا وہ لگائیں گے تو ٹھیک ہو جائیں گے !”
“ انشاللہ !! وہ اور دانیال دونوں باہر چلے گئے تھے اچھا ہوا فری آگئی ہے جو اسے زبردستی کھینچ کر چئیر پر بیٹھا چکی تھی ” آپا کچھ نہیں ہوگا بھائی کو وہ ٹھیک ہو جائیں گے آپ کچھ کھالیں !! جس پر اسنے نفی میں سر ہلا دیا تھا مہتاب بھی ایک نظر نوشین کو دیکھنے چلا گیا تھا وہ بھی اسی ہوسپیٹل میں تھی ۔کل اسے ڈسچارج مل جانا تھا اسے فکر تھی وہ کہاں جائے گی اسلیے اسنے منال کی مِنت کی تھی کہ اسکا برین واش کردیں اور اس سے نکاح کرلیں اور اپنے ساتھ لیجائے اسکے زخم کافی مندمل ہوگئے تھے اسکی صحت بھی اچھی ہوگئی رنگ بھی کھل گیا تھا۔ وہ چند لمحے اسے دیکھ کر مُڑنے لگا ” کک۔۔کون ہیں آپ ؟ مہتاب کی اسکی طرف پشت تھی شاید ہاسپیٹل میں ایمرجنسی کے شور کی وجہ سے اسکی نیند کچی تھی ” ڈڈ۔۔۔ڈاکٹر ہیں آپ !” مہتاب کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے چلا جائے کہ مُڑ کر اسکا جواب دے اسکا سامنا نہیں وہ اسکا سامنا نہیں کرسکتا ” آپ میرا چیک اپ کرنے آئیں میرے کمرے میں ڈاکٹر کے سوا تو کوئی نہیں آتا ! ” مہتاب کہ جان لبوں پر آگئی تھی جب اسنے کہا ” میرے ہاتھ سے ڈرپ ہل گئی ہے خون نکلنے لگ گیا ہے درد بھی ہورہا ہے سہی کردیں !! اسکے ہونٹ خشک ہوگئے تھے جب اچانک نوشین کی نظر اسکے کپڑوں پر گئی وہ تو وردی تھی ” آپ پولیس والے ہیں !! لو جی کام اور مشکل ہوگیا تھا جب نوشین نے کپکپاتی زبان سے کہا ” مم۔۔مہ۔۔۔مہتاب !!! اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا اچانک اسکی نظر نرس پر پڑی ” نرس ۔۔۔۔پیشنٹ کی ڈرپ چیک کریں !! تیز قدموں سے وہاں سے نکل گیا اور وہ سر جھٹک گئی کوئی تفشیش کرنے آیا ہوگا کوئی پولیس والا ۔۔۔۔
تہجد کی نماز کا وقت ہوگیا تھا وہ نماز پڑھنے کے بعد انگلیوں پر تسبح کررہی تھی انجیکشن آگیا تھا اسے لگا دیا گیا تھا لیکن وہ اثر کرتا یا نہیں وہ ایک گھنٹے میں پتہ چلنا تھا اللہ ہو ! اللہ ہو ! اللہ ہو !! وہ زور زور ہلتی یہی گردانی جارہی تھی ۔چار بج گئے تھے جب ڈاکٹر باہر آیا اسکے سوا سب دروازے کو لپکے تھے ڈاکٹر نے گہرا سانس لیا ” الحمدللہ!! ان سب کی اٹکی سانس ایک ساتھ خارج ہوئیں تھیں فری ہیر سے جاکر لپٹ گئی تھی زور سے اسکا گال چوما ” آج پھر تیرے اللہ نے تیری سن لی آپا جیسے ہمیشہ سنتا ہے ” اسکی بات سن کر اسنے سکون سے دعا میں ہاتھ اٹھا یا اسکا شکر ادا کیا اور سکون کا سانس لیکر مسکرا کر اسے دیکھا ” تو ہنسی نہیں آپا !”
” یاد ہے فری گاؤں میں جو مدرسے والی باجی آتی تھیں کہا کہتی غم میں بین ڈال کر رونا اور خوشی میں قہقہ لگا کر ہسنا اچھا نہیں بس اللہ کا شکر کرنا چاہیے صبر کرنا چاہیے کہ اسنے ہمیں مشکل سے نکال لیا صرف اس پر یقین رکھو .”
وہ ہلکے ہلکے قدم اٹھاتی ونڈو کے پاس آئی جہاں اب وہ نارمل سانس لے رہا تھا جسم سے نیلا رنگ بھی اتر گیا تھا ۔اسنے مسکرا کر شیشے کو چھوا ۔دانیال اور مہتاب اب پرسکون ہوکر بیٹھے تھے ” یہ کام نعمان شیرازی کا ہے ! مہتاب نے حیرت سے اسے دیکھا ” نعمان شیرازی کچھ دن سے پاکستان میں کچھ خالی جگہیں وزٹ کررہا ہے خریدنی کے لیے اسکا نیا پروجیکٹ بنانے کے لیے وہ جانتا تھا کہ اگر آج اسکے انڈر گراؤنڈ کلب کے ثبوت کورٹ میں پیش ہوگئے تھے اس پر انکوائری بیٹھ جائے گی انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ جڑیں اکھیڑ دے گا اسکے سارے کنسڑکشن پروجیکٹ رک جائیں گے سالے نے مرزا کو مارنے کی کوشش کی !!”
“ ہمم لیپ ٹاپ ہیک کرکے ڈیٹا ڈیلیٹ پیپرز چوری فون تک ڈسٹروئے کردیا اسکا پروجیکٹ شروع ہوجائے گا اور ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ہم شرمندہ کوئی اس سے نہیں پوچھے گا کہ ہے تو ایک ایم این اے کلبز بنانے کے لیے اتنا پیسا آ کہا سے رہا ہے .” ان دونوں کے سامنے اچانک چائے اور سینڈوچ آگئے تھے انھوں نے اوپر دیکھا تو فری ٹرے لیے کھڑی تھی دانیال نے ایک نظر ہیر کو دیکھا اور فری کو سوالیہ نگاہوں سے جس نے نفی میں سر ہلا دیا وہ پھر سر جھکا گیا مہتاب نے چائے اور ایک سینڈوچ اٹھایا چلا گیا دانیال نے بھی کپ پکڑ لیا وہ واپس جانے لگی تو اسنے ہاتھ پکڑ لیا ” بیٹھو!” ٹرے رکھتی وہ اسکے ساتھ بیٹھ گئی ” تمہیں میرا اس دن اس طریقے سے قریب آنا اچھا نہیں لگا ؟ فری نے ایک نظر اسکے چہرے کو دیکھا پھر نظریں جھکا گئی ” آپکا اور میرا رشتہ صرف وقت کی ضرورت تھا ہمدردی تھا کچھ گھاؤ کبھی نہیں بھرتے مجبوری کو مجبوری رہنے دیں محبت کا لباس مت پہنائے ورنہ الگ ہونا پڑا تو نہ آپ سے ہوگا نہ مجھ سے اور میں نہیں چاہتی ایک اچانک اور مجبوری کے رشتے میں ایک دوسرے پر مسلط ہوکر رہ جائے صرف جسمانی ضروریات کےلیے قریب انا ٹھیک نہیں !!! اسکی آخری بات اسے تلوار کی طرح لگی تھی وہ چلی گئی تھی کیسے وہ اسکی محبت کو اسکی جسمانی ضرورت کہہ سکتی ہے لیکن کیا وہ کرنے سے پہلے میں نے اس سے کہا تھا کہ مجھے محبت ہے ؟؟ وہ خود سوچ میں پڑ گیا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے