Musalat By Binte Aslam Readelle50190 Episode 35
No Download Link
Rate this Novel
Episode 35
ناول # مسلط
ازقلم # بنت اسلم
قسط نمبر # 35
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دائم یونی سے ہوسٹل جارہا تھا جب اسکی نظر امل کے فادر پر پڑی جو اسکی جانب آرہے تھے وہ حیران تھا اب یہ کونسا الزام لگانے آرہے ہیں مگر انکا عمل اسے حیران کر گیا تھا وہ ہاتھ جوڑے کھڑے تھے ” دائم میں تمہارے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں پلیز امل کو بچا لو !! دائم لڑکھڑا گیا ” کک۔۔کیا ہوا امل کو …”
“ برین میں کلاٹ ! دائم کی ہاتھ کتابیں سے گرگئی تھیں ” دو ماہ پہلے جب تمہارا اور امل کا نکاح ہوا تھا وہ تمہارے اور اپنے رلیشن کو لیکر ڈیپریشن میں تھی پورے دو ماہ سے اسکے دماغ میں کلاٹ بن رہا جب اس دن جس دن اسنے تم پر الزام لگایا تھا ان آدمیوں کی کھینچا تانی میں اسکے سر پر چوٹ لگی تھی تب سے وہاں کلاٹ بن رہا ہے جو بہت بڑھ گیا ہے ڈیپریشن کی وجہ سے علاج ممکن ہے مگر وہ کروا نہیں رہی کہتی ہے دائم کے ساتھ زندگی گزارنی تھی جب دائم نہیں تو زندگی بھی نہیں چاہیے روز مر رہی ہے میری بچی میرا کل سرمایہ ہے اسے بچا لو دائم اسکی غلطی کی لیے میں تم سے پیر پکڑ کر معافی مانگتا ہوں ” وہ جھکنے لگے تو وہ پیچھے ہوگیا ” ک۔۔۔کہاں ہے وہ !!
“ ہوسپٹل !! انھیں وہیں چھوڑ کر اسنے بائیک نکالی اور ہوسپیٹل کی طرف دوڑا دی ۔ امل کے والد بھی اکسی سپیڈ کو گاڑی سے اور کم نہیں کرپائے تھے وارڈز میں وہ پاگلوں کی طرح گھوم رہا تھا جب مرتضٰی صاحب نے اسکا ہاتھ کھینچا وہ اسے امل کے کمرے کے سامنے لے آئے تھے اسنے کانپتے ہاتھ کے ساتھ دروازہ کھولا جہاں سامنے وہ بستر پر چِت لیٹی چھت کو گھور رہی تھی ” ا۔۔۔امل ! اسنے حیرت سے اسکی جانب دیکھا وہ کتنی کمزور ہوگئی تھی ” دائم !! اسنے اٹھنے کی کوشش کی دائم نے آگے بڑھ کر اسے سہارا دیا ” دائم !!! پاپا !! پاپا !!! وہ اپنے باپ کو بلا رہی تھی وہ اندر آئے ” آپ نے بتا دیا انھیں کیوں نہیں بتانا تھا نہ !!” وہ خاموشی سے سرجھکا گئے ۔ دائم نے غصے سے اسے دیکھا ” کیوں مجھے کیوں نہیں بتانا تھا انکل جائے یہاں سے اسے تو میں پوچھتا ہوں !” مرتضٰی صاحب کو سکون ہوگیا تھا ۔” دائم آپ پریشان ہوجاتے نہ !”
“ تمہیں پتہ ہے تم اتنی بےواقوف کیوں ہو اس کلاٹ کی وجہ سے جس دن چوٹ لگی تھی نہ اس دن سے یہ بے واقوفی کروا رہا ہے اس سے نکال دینا ہے اسے ہم نے !!”
“ ڈاکٹر کہہ رہے ہیں بڑا ہوگیا میرا خون پی پی کر اب نکالا تو جان بھی ساتھ لیجائے گا ویسے بھی اب کیا کرنا اس زندگی کا آپ تو چلے گئے میں آگئی تو آپ نے کال بھی نہیں کی !!”
“ کیونکہ میں شرمندہ تھا تم سے تمہاری غلطی سے بڑی سزا دے دی تھی تمہیں اس بات کا احساس مجھے ہیر نے دلایا اسنے تھپڑ مارا مجھے جو تمہیں مارنا چاہیے تھا ایم سوری امل ائم سوری !” اسنے اسے پہلی بار محبت سے گلے لگایا وہ بھی اس میں سمٹ گئی ” دائم ایک گڈ نیوز دوں ؟” اسنے حیرت سے اسے دیکھا امل نے اسکا ہاتھ پکڑ کر پیٹ پر رکھا ” یہاں نہ بے بی ہے ابھی بتایا ڈاکٹر نے !! اسنے رپورٹس اسکے سامنے کی دائم کا حیرت سے منہ کھلا رہ گیا پھر اس رات کی اپنی غلطی ” اسے ایسے تو نہیں انا تھا ائم سوری !!”
“ سوری کیوں میں چلی جاؤں گی تو یہ ہوگا آپ کے پاس ڈاکٹر نے کہا ہے ڈلیوری تک ٹائم ہے میرے پاس اگر ٹائم سے میڈیسن کھالوں تو نائن منتھس نکل جائیں گے ابھی آپریشن کروایا تو 20 پرسنٹ چانس ہیں کہ کامیابی سے نکل جائے گا ۔ورنہ ہم دونوں مر جائیں گے اسلیے میڈیسن کھانی ہے بے بی کے آنے بعد آپ دونوں کی زندگی سے چلی جاؤں گی !”دائم نے تڑپ کر اسے دیکھا ” جب تک کلاٹ تمہارے دماغ میں رہے گا یہ فضول بکواس تم کرتی رہو گی بس نکوا دینا ہے اسے اور کچھ نہیں ہوگا تمہیں بیس فیصد بھی بہت ہیں باقی دعائیں ہیں سب ٹھیک ہو جائے گا بس تمہیں ہمت رکھنی ہے اپنے اندر جینے کی خواہش پیدا کرنی ہے .”
“ آپ وہ زندگی میرے ساتھ جیے گے ؟ اسکے سوال پر اسنے حیرت سے اسے دیکھا ” نہیں تمہاری چاچی کے ساتھ جیوں گا پاگل تمہارے ساتھ کے لیے تو اتنا بڑا رسک لینا ہے تمہیں کچھ نہیں ہوگا کچھ نہیں ہم اسے نکال کر پھینک دیں گے اور بھول جاؤ جو کچھ اب سے بس ہم ساتھ رہیں گے ایک دوسرے سے محبت کریں گے اپنے بچے کی پرورش کریں گے ۔سمجھی تم ! اسنے مسکرا کر اسے گلے لگایا دونوں کے ہونٹ ایک ساتھ سُکڑ گئے تھے کیونکہ انکے دل ڈر گئے تھے آنے والی مصیبت سے دائم نے امل اس مقام پر پایا تھا جہاں موت پھن پھیلائے کھڑی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں مال آگیا گُڈ !! نعمان فون پر کسی سے بات کررہا تھا ” اپنی ٹیم اکٹھی کرو پھیل جاؤ ہائی سکولز کالجز یونی ورسٹیز سب جگہ اور اتار دو یہ نشہ اس جوان نسل کی رگو میں !! اس ملک کے محافظوں نے میرے ہاتھ توڑے ہیں میں انکی ریڑھ کی ہڈی توڑ دوں گا !! یہ کہہ کر اسنے فون بند کردیا تھا ” نعمان ابھی بھی آپکی ضد وہیں کی وہیں ہے !! اسنے پلٹ کر فریحہ کو دیکھا جو منان کو گود میں لیے کھڑی تھی ” فریحہ مجھے بحث نہیں کرنی !”
“ نعمان اب تو سدھر جائیں کتنے اشارے نہیں دیے خدا نے ارمان چلا گیا علیم چلا گیا جو جو ذی ذی کمرے میں بند ہوکر رہ گئے مگر آپ نہیں سدھرے !!”
“ انھیں کا تو بدلہ لینا تمہارے بھائی سے خاندان ختم کررہا ہے وہ میرا میں اسکا ملک ختم کردوں گا پھر ہم دونوں امریکہ سیٹل ہوجائیں گے ۔” اسنے اسکے سامنے منان کو کیا ” دیکھیں اس معصوم کو مجھے دیکھیں عفت کو دیکھیں آپ کو کچھ ہوگیا تو کیا ہم رہ لیں گے آپکے بغیر پلیز نعمان پلیز بدل جائیں !! نعمان نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر وہاں سے سے چلا گیا ” اے میرے اللہ اے ابو سفیان کا دل بدلنے والے اے فرعون کو غارت کرنے والے اے نمردو کا کفر مٹانے والے میرے شوہر کا دل بدل دے میں انھیں کھونا نہیں چاہتی !”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو دن ہوگئے تھے ہیر کو لاہور آئے وہ تو ایسے تھی جیسے مرزا کو جانتی ہی نہیں تھی کام والی بھی آگئی تھی کوئی جو اسے بیڈ سے ہلنے بھی نہیں دیتی تھی اگر وہ کچھ کرنے لگتی تو وہ مرزا کو فون کردیتی ” پہرا بیٹھا دیا ہے مجھ پر قید کرنے چاہتے ہیں اب تاکہ دل میں جو ترس اتار دیں مجھ پر !مرزا دانیال مہتاب سب بزی ہوگئے تھے لاہور کے حالات کو کنڑول کرنے کے لیے اور ایک نئی مصیبت جو آئی تھی وہ تھی ڈرگ وکٹمز اچانک سے کالج یونی میں لڑکے بہت زیادہ ڈرگ استعمال کرنے لگے تھے اور تو اور چند لڑکیاں بھی ملوث پائی گئی تھیں ابھی بھی وہ کام سے فارغ ہوکر واپس گھر جارہا تھا جب اچانک گولی چلی لیکن بر وقت ایک بچی کو بچاتے سٹیرئنگ اسنے اتنی تیز گھمایا تھا کہ گولی باز پر لگ گئی ” او شِٹ آئی مِسڈ اِٹ !!نعمان کا ہائر کر دا شارپ شوٹر وہاں سے نکل گیا تھا وہ درد سے کراہ رہا تھااس میں اتنی ہمت نہیں ہورہی تھی کہ ڈرائیور کرسکے مگر ہمت کرکے اسنے بریک مار دی ” ارے وہ تو ایس پی مرزا ایوب نہیں ہے انھیں تو گولی لگی ہے چلو ہوسپٹل لیکر چلتے ہیں !!! وہ دو لڑکے تھے جو میچ کھیل کر واپس آرہے تھے انھوں نے مرزا کی جیپ سنبھالی اور گاڑی ہوسپیٹل کی طرف موڑ لی گولی چھو کر گزر گئی تھی وہ سنبھل گیا تھا پٹی کروانے کے بعد اسنے لڑکوں کا شکریہ کیا ” ایسے کیوں سر آپ ہمارے محافظ ہیں یہ تو ہماری خوشبختی ہے جو ہمیں یہ موقع ملا کہ ہم آپکی جان بچا سکیں اور آپ نے جو ہمیں بچانے کے لیے کیا ہے وہ سلیوٹ کے قابل ہے ہم آپ اور آپکی ٹیم دونوں کے ساتھ ہیں اسلیے تو دیکھیں ہم ڈرگز سے نہیں بیٹ بال سے کھیلتے ہیں جوان نسل کو پڑھائی کے ساتھ کریکولر ایکٹیویٹیس میں بھی پارٹ کرنا چاہیے شاید پھر اس زہر سے دور رہیں گندگی سے دور رہیں یہی کہا تھا نہ آپ نے کانفرنس میں ہم آپ کی ساری باتیں مانتے ہیں تھینک یو سر !! اسے سلیوٹ کرکے وہ چلے گئے تھے مرزا چند گھنٹے بعد ہوسپیٹل سے ڈسچارج ملا تھا وہ گھر ایا تو ہیر کچن سے کچھ لیکر اوپر جارہی تھی ایک نظر اسے دیکھا تو بازو پر پٹی دیکھ کر جان نکل گئی ۔اسکی طرف بڑھی پھر کچھ سوچ کر اوپر چلی گئی مرزا کے گہرا سانس لیا ” تمہارا حق کہ تم تڑپاو مجھے !! وہ بھی اپنے کمرے میں چلا گیا تھا کمرے میں پہنچا تو کھانا پڑا ہوا تھا ” اچھا تو وہ ٹرے میرے لیے آرہی تھی زمہ داری ساری پوری کررہی ہو بس مجھے ہی نہیں سمجھ رہی ہو !!! کھانا کھانے کے بعد وہ بستر پر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھ گیاکمبل پیروں پر اوڑھ کر آنکھیں بند کرلیں کچھ دیر بعد اپنی بازو پر کسی کا ہاتھ محسوس ہوا وہ ہیر تھی اسنے حیرت اور خوشی سے اسے دیکھا ” ہیر !!
“ یہ درد کر رہا ہے گولی لگی ہے !! وہ فکر۔مندی سے اسکے زخم کو دیکھ رہی تھی اور وہ بچوں کی طرح سر ہلا رہا تھا ” بہت زیادہ دکھ رہا ہے دوائی کھانے کے بعد بھی !!اسنے پھر معصومیت سے سر ہلا دیا وہ اداس ہوگئی تھی ” اگر تم چاہو تو یہ درد کم ہو سکتا ہے !! اسنے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا مرزا نے اسے کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا ” اب اچھا لگ رہا ہے !!” اسے سکون مل گیا تھا اسکے قریب جاکر ” ہمم میں جانتی ہوں جب تکلیف حد سے زیادہ ہو اور کوئی بانٹنے والا نہ ہو تو درد بہت ہوتا ہے !! وہ پھر اپنے ماتھے پر موجود زخم کو چھو رہی تھی مرزا نے دیکھ لیا اسکا چہرا اوپر اٹھایا زخم پر انگوٹھا پھیرا ” آج مجھے بتاؤ سچ سچ یہاں کیا ہوا تھا ؟”ہیر نے سر پھر اسکے سینے پر رکھ لیا تھا ” جب امی ابا مر گئے تو دادی بہت بیمار ہوگئی چاچی پہلے پہلے بہت پیار کر تی تھیں پھر ایک دن دادی کو کراچی والی پھوپھو لیں گئی پھر چاچی نے اپنا اصل رنگ دکھایا کام کروانے لگی اپنے چھوٹے ہاتھوں سے اتنے بڑے بڑے برتن دھوتی میں کمبل دھول لیتی تھی نچوڑتے ہوئے ہاتھ تھک جاتے وہ بھاری اتنا ہوتا تھا سب کرنے لگ گئی گئی !!
“ ہیر ۔۔ہیر پلیز مجھے کچھ نہیں سنا مجھے نہیں جانا !! وہ اتنے سے ہی تڑپ اٹھا تھا ” پھر ایک دن بخار ہوگیا بہت تیز چاچا نے دوائی لا دی بھوکی پیٹ کھا کر سو گئی رات کو کسی پہر بھوک لگی تو باروچی خانے میں کھانا لینے چلی گئی فریج کھولی تو چاچی آگئی کہتی ” ماں باپ مرے نہیں کہ چوریاں شروع کردیں چوری کرنے آئی ہے !! میں کہتی رہی میں کھانا کھانے آئے تھی بھوک لگی ہے پر نہیں انھوں نے اتنی زور سے دھکا دیا دیوار میں لگ گئی سر پھٹ گیا ..” اسنے پھر سے چوٹ کو چھوا مرزا کی انگلیاں کو آگئی تھیں آنکھیں بھیگ گئی تھیں ” اس رات اگر چاچا نہیں آتے تو شاید مر جاتی تین ٹانکے لگے تھے یہاں ساری رات بخار میں درد میں اکیلے روتی رہی کوئی نہیں آیا کوئی نہیں آیا !!! اسکے سینے میں چہرا چھپائے وہ اس وقت کر یاد کررہی تھی مرزا تو بلکل سٹیٹک ہوگیا تھا کچھ دیر یونہی وقت گزر گیا ” میں اپنی مرضی سے ان پڑھ جاہل گنوار نہیں بنی تھی جانتے ہیں کیوں بنی تھی ” ایکدم اس سے الگ ہوکر دوپٹہ اتار کر سائیڈ رکھ دیا ” آپ ہمیشہ سے دیکھنا چاہتے تھے میرے کندھے پر کونسا نشان ہے تو کھولیں اسے !
“ نہیں ہیر پلیز مجھے کچھ نہیں دیکھنا !!
“ نہیں آج تو دیکھنا پڑے گا کھولیں ! اسکی زپ کھولتے مرزا کے ہاتھ کپکپا رہے تھے زپ نیچے کی جانب کھلتی جاری تھی اور وہ لمبا کالا نشان واضع ہوتا جارہا تھا ایک لمحے کو دیکھ کر مرزا نے فوراً زپ بند کردی تھی ” ہیر پلیز نہیں جانا یہ کیا ہوا تھا !”
“ سات سال کی بچی کے جسم میں گرم سریہ داگ کر یہ کہا جائے بتاؤ اب لو گی سکول کا نام تو بتائیں کیا وہ لے گی جسے پتہ ہو یہ کروں گی تو سوائے درد کے کچھ نہیں ملنا چاچی نے گرم سریہ لگایا میرا رشتہ تعلیم سے چھڑوا دیا تھا کہ کہیں میں پڑھ لکھ گئی مجھے حق مانگنے آگئے تو میں وراثت میں اپنے باپ کا حصہ نہ مانگ لوں امی ابا کے بعد محلے کی عورتیں آتی تھیں مجھے دیکھ کر روتی تھیں دادی سے پوچھا کہ مجھے یہ دیکھ کیوں روتی ہیں تو انھوں نے بتایا وہ تجھ سے محبت کرتی ہیں جن سے محبت ہو انھیں تکلیف میں دیکھ تکلیف ہوتی ہے نہ !! اسنے مرزا کے زخم پر ہاتھ رکھا ” مجھے بھی ہورہی ہے !! مرزا نے وہی ہاتھ پکڑ کر ہونٹوں سے لگا لیا ” پھر سچ چاچی نے بتایا کہ میں یتیم ہوں مجھ پر ترس آتا ہے انھیں یتیموں پر لوگ ترس ہی کھاتے ہیں اس دن پتہ چلا دادی عرفو چاچا گول گپے والا دوکان والا مجھے دوسرے بچوں سے زیادہ چیز کیوں دیتا تھا کیونکہ میں یتیم تھی وہ مجھ پر ترس کھاتے تھے میرے ماں باپ جو نہیں تھے جب بڑی ہوئی تو پتہ چلا ساری محبتوں میں افضل نکاح کی محبت ہوتی ہے شوہر کی محبت ہوتی جو ترس نہیں کھاتا دل سے سچی والی محبت کرتا ہے میں بھی یہی سوچنے لگی کہ آپ مجھ سے سچی محبت کریں آپ نے بھی ترس ہی کھالیا !! اسنے گلہ آمیز نظر سے مرزا کو دیکھا ” ہیر تب مجھے یہ لگتا میں تمہاری حق تلفی کررہا ہوں سب نے کی ہے میں تو تمہارے سارے حق دینا چاہتا تھا
“
“ ایک لڑکی جسنے اپنی ساری زندگی بھیک میں ملی محبت سے گزاری ہوں اسکا شوہر بھی اس پر ترس کھا کر محبت کرے تو وہ اصلی محبت کی امید کس سے رکھے مجھے دکھ اس بات کا ہوا تھا میں نے اپنا آپ دکھایا ہیر بن کر دکھایا تاکہ آپ مجھ سے محبت کریں مگر نہیں آپ نے بھی میری یتیمی سے محبت کی اسلیے میں اور میرا بچہ آپ سے دور چلے گئے تاکہ میرے بچے کو وہ سب نہ دیکھنا پڑتا جو میں نے دیکھا کوئی اسے ترس کی نگاہ سے نہ دیکھتا ہو !! اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھتی وہ جانے لگے جب مرزا نے اسے اپنی جانب کھینچا اسے پہلو میں گرائے اس پر جھک گیا ” کیا ہوا آج پھر ترس آگیا ہے !! ہیر نے بے بسی سے مسکرا کر کہا ” سب کو ملے گی سزا تمہیں تکلیف دینے والے ہر ایک فرد کو ملے گی تو چاہے وہ چاچی ہو فری دائم ہوں یا خود ایس پی مرزا !! وہ اسکے اوپر سے اٹھ گیا تھا اسکا رُخ نیچے کچن کی جانب تھا کچن میں آکر اسنے نمک اٹھایا اپنا زخم کھولا ” بابو نہیں بہت درد ہوگا !” وہ اس سے نمک والا ڈبہ چھین رہی تھی ” جتنی تکلیف تم کو دی ہے اس سے کم ہوگی جتنی تکلیف میں نے دی ہے اس سے تو کم ہوگی .” وہ نمک اپنے زخم پر لگانے لگا تھا ” بابو نہ کریں !! اسکا ہاتھ پکڑ رہی تھی مگر وہ رک ہی نہیں کررہا تھا آخر ہیر نے اسکے منہ پر تھپڑ مار دیا ” بس کریں !! کیا لگتا ہے آپکو ایسے خود کو تکلیف دے گے تو مجھے اچھا لگے گا نہیں مجھے اور تکلیف ہورہی ہے میں آپ سے دل سے محبت کی تھی آپ یہ حرکت نہ کریں گناہ کروا دیا مجھ سے ہاتھ اٹھا دیا میں نے ! اسکے سینے پر سر رکھے وہ رونے لگی تھی اسنے ہاتھ اسکے بالوں پر رکھا ” ہیر مجھے بھی تم سے محبت ہے دل سے سچی والی ترس والی نہیں اور یہی بات میں تمہیں حویلی میں بھی بتانا چاہتا تھا کہ یہ ترس کا جزبہ محبت میں بدل چکا ہے میں محبت کرتا ہوں تم سے اس بات کا احساس مجھے تب ہوا جب تم مجھ سے دور چلی گئی تمہاری عادت تھی مجھے اور وہ عادت محبت میں بدل گئی !!” اسنے چہرا اٹھا کر اسے دیکھا مرزا نے محبت سے اسکا ہاتھ تھاما اور اوپر سیڑھیاں کی طرف بڑھ گیا ” میں محبت کرتا ہوں تم سے !!….وہ عادت محبت میں بدل گئی ۔۔۔۔!!! مرزا کے الفاظ اسکے کانوں میں گونج رہے تھے کمرے میں لاکر اسے بیڈ پر بیٹھایا اور سر اسکی گود میں رکھ کر نیچے بیٹھ گیا ” چاند ستارے اسکے آنچل میں لگے گیں وہ اپسرا ہوگئی مرزا کی جو صاحبہ ہوگی وہ عام تھوڑی ہوگی سورج جلن سے جل جائے گا چاند اسکی چہرے پر ٹھہر جائے گا پہلو میں ہوگی میرے خواب تھوڑی ہوگی مرزا کی جو صاحبہ ہوگی عام تھوڑی ہوگی لیلٰی ہوئی مجنوں کی شریں فرہاد کی ہوگی رانجھے کی ہوگی ہیر سوہنی مہیوال کا پیار ہوگی میری جو کہانی ہے یوں تمام نہیں ہوگی مرزا کی جو صاحبہ ہوگی وہ عام تھوڑی ہوگی !!! اسنے نظر اٹھا کر ہیر کو دیکھا جو اسکے منہ سے نکتے ان الفاظ کو سن کر حیران تھی مرزا نے اسکے چہرے ہو چھوا ” مرزا کی جو صاحبہ ہوگی عام تھوڑی ہوگی تمہیں تو خاص ہونا ہی چاہیے تھا تم میرے سپنوں کی صاحبہ تھی مگر میں تمہارا رانجھا نہیں بن پایا ائم سوری !! اسکے آنسوں ہیر کی گود میں گر رہے تھے ہیر نے اسکا چہرا ہاتھوں میں لیا ” آپ کو رانجھا بن کے ضرورت نہیں ہے یہ ہماری کہانی تھی ہیر رانجھا یا مرزا صاحبہ کی نہیں یہ مرزا ہیر کی کہانی تھی جسنے محبت کے دو الگ کرداروں کو ایک کیا تھا مرزا صاحبہ کا تھا رانجھا ہیر کا تھا مگر آج ہیر صرف مرزا کی ہے صرف مرزا کی !!! مرزا نے اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگائے وہ اسکے ساتھ بیٹھ گیا پھر اچانک اسکے لیے بیڈ پر لیٹ گیا وہ اپنا آپ اس چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی ” خبردار جو نکلنے کی کوشش کی تو !! اسکے گرد مضبوط حصار بنائے اسکے بالوں میں چہرا گھسائے وہ آنکھیں بن کرگیا کچھ دیر بعد اچانک ہیر بولی ” بابو ہمارا بیٹا ہوگا یا بیٹی !!
“ وہ تو اللہ کو پتہ ہوگا نہ بس جو بھی ہو صحت مند ہو !!”
“ بابو جب وہ آئے گا نہ ہم نہ اسکے لیے وہ ۔۔۔۔وہ والی چیز لیں گے جس میں بچہ کر ڈال رکھتے ہیں اور اسکے نیچے ٹائر لگے ہوتے جسکو پکڑ کر چلتے ہیں !!”اسکی بات پر وہ مسکرا دیا ” پرام بولتے ہیں اسے !!
“ ہاں وہی پرام اور جب وہ چلنے لگے گا نہ تو وہ والی پرام بھی لیں گے جس میں بچہ ڈالے تو وہ اسے نیچے گرنے نہیں دیتی وہ چلنے لگتا ہے !”
“ ہاں واکر بھی لیں گے !! اسنے مزید اسے اپنے اندر بھینچا وہ اسکی گردن کو چھونا چاہ رہا تھا مگر وہ باتیں کرتی دور ہوتی جارہی تھی ” اسکے لیے جوتے بھی الگ الگ لیں گے سکول جانے کے الگ گھر پہنے کے الگ بھاگنے کے الگ جیسے دائم کے تھے !! دائم کے نام پر مرزا نے غصے سے اسے دیکھا وہ تھوڑا گھبرا گئی تھی اسنے وعدہ کیا تھا وہ دوبارہ دائم کا نام نہیں لے گی ” اسکی سزا ملے گی !! وہ اچانک اسکے ہونٹوں پر جھک گیا تھا مگر اس میں غصہ بلکہ بھی نہیں تھا صرف محبت تھی جسے ہیر نے سمجھ کر خود کو اسے سونپ دیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
