Musalat By Binte Aslam Readelle50190 Episode 37
No Download Link
Rate this Novel
Episode 37
دو سال بعد ……….
ہم بہت شکر گزار ہیں ایس پی مرزا کے جنہوں نے اس ملک سے اس حد تک کرپشن اور غداروں کو مٹانے کی کوشش کی اور نشے سے اس ملک کو پاک کرنے میں اہم کر دار ادا کیا دو سال.پہلے لاہور جس آگ میں جل رہا تھا اس آگ سے ہمیں بچانے والی ہماری پولیس تھی ہم بہت شکر گزار ہیں ہماری پولیس کے میں چاہوں گی کہ ایس پی مرزا سٹیج پر.آئیں اور نوجوان نسل کو کوئی پیغام دیں ! پر وقار انداز سے وہ سٹیج پر آیا جہاں تمام.بچے اسے فلاینگ کس دے رہے تھے ” اسلام علیکم !! مرزا کی آواز پر ٹی وی دیکھتی ہیر کی روح تک کھل گئی ” میرا جوان نسل کو صرف ایک ہی مشورہ ہے کہ اس ملک کو سنبھال کر رکھیں قائد اعظم محمد علی جناح نے یہ ملک ہمیں نہیں اپنے بچوں کو سونپ کر گئے تھے اور اچھے بچے اپنا گھر گندا نہیں کرتے اسلیے بہت سارا پڑھیں لکھیں اور اس ملک کی ترقی کے لیے کام کریں اگر ہم ہی اسے چھوڑ دیں گے تو اسے کون سنبھالے گا ہمارے بزرگ جو خود لاٹھی کے سہارے چلتے ہیں نہیں ہمیں اس ملک کو بچانا ہر طرح کے شر گندگی سے ایسے عوامل اور ایسے مسائل سے جو ہمارے معاشرے پر مسلط ہوئے بیٹھیں لڑکیوں کی تعلیم اتنی ہی ضروری ہے جتنی لڑکوں کی یتیم بے سہارا نہیں ہوتے انکے ساتھ زہادتی کرنے والے کو خدا نہیں بخشتا ( ہیر کی چاچی کو بھی انکے کیے کی سزا ملی تھی اور وہ بھی گیس سلنڈر پھٹنے سے جل کر مری تھیں ) انکو انکے کیے کی سزا ملتی ہے لڑکیوں کے ساتھ بدتمیزی انکا ریپ یہ غلط ہے اس میں صرف عورت نہیں مرد کی عزت بھی جاتی ہے ہمیں ایسی لڑکیوں کا معاشرےمیں آگے بڑھنے میں ساتھ دینا چاہیے انھیں سمبھالنا چاہیے اور ضروری نہیں کہ وہ ایک اسکا ہمسفر ہی ہو وہ کوئی بھی ہو سکتا اسکا دوست اسکی فیملی اسکا ہمسایہ وہ آپ بھی ہوسکتے بس انھیں ہمت دلائیں کہ انکے مجرموں کو اللہ سزا دے گا اور انھیں زندگی جینے کا موقع ( فری نے اردو ادب میں ماسٹرز شروع کردیا تھا دانیال کے ساتھ نے اسے اتنا مضبوط بنا دیا تھا کہ آج اگر اسے کوئی ریپ وکٹم کہتا تو ان سے کہتی تھی میں گہنگار نہیں تھی جو تھے انکو سزا مل چکی ہے وہ جہنم ریسد ہوگئے ہیں ) گھریلو تشدد اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھانا چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر سزا دینا یہ سہی نہیں ہے اور اس بات کو مجھ سے بہتر کوئی نہیں سمجھتا مرد وہ نہیں ہوتا جو عورت پر ہاتھ اٹھا کر اپنا رعب جما کر اسے ڈرا کر رکھے مرد وہ ہوتا ہے جسکے ہوتے عورت کو کسی سے ڈر نہ لگیں وہ کھل کر سانس لے سکے ( نوشین آج اپنے محلے کے مدرسے میں قرآن پڑھاتی تھی مہتاب کی محبت اسکے سہارے نے اسے بہت آگے بڑھا دیا تھا وہ سب سے بے خوف بات کرتی تھی ) لڑکپن وہ عمر ہوتی ہے جہاں آپ غلطیوں کو نہیں غلطیاں آپکو ڈھونڈتی ہیں کبھی کبھی کچی عمر میں کیے گناہ پکی عمر میں بھی معاف نہیں ہوتے صرف پشیمانی ہوتی ہے ( جوجو ذی ذی نے مینشن چھوڑ دیا تھا وہ لوگ اپنے ماں باپ کے گھر شفٹ ہوگئے تھے اپنے اکاؤنٹس۔میں موجود پیسوں سے انھوں نے ایک کیفے کھولا تھا ان دونوں کو آج بھی اپنی غلطی کا احساس تھا اور آج بھی وہ دونوں امبر لائبہ کا انتظار کرتے تھے )
کبھی کبھی کچھ لوگ کچھ چیزیں ہمیں گناہ پر اکساتی ہیں اور انھیں پانے کے لیے ہم گنا ہ بھی کرتے ہیں ہمیں سزائیں بھی ملتی ہے لوگوں سے اللہ سےگر جو ثابت قدم رہ کر اپنے گناہ کی سچے سے دل۔سے معافی مانگتا ہے اسے بخشش مل جاتی ہے ( امل کو دائم نے معاف کردیا تھا کیونکہ اگر امل نے اسے پانے کے لیے گناہ کیا تو دائم نے بھی اسے سزائیں دیتے ہر حد توڑ دی تھی اسنے اپنے گناہ کی معافی خدا سے بھی رو رو کر مانگی تھی اور آخر اسے اسکے گناہ کی سزا ملی دو سال پہلے اسکے بال کٹے تھے پھر اسکے بعد میڈیسن کی وجہ سے وہ دوبارہ پہلے جیسے نہیں ہوسکے اسلیے وہ ہمیشہ حجاب میں رہتی تھی دائم ہاؤز جاب کرتے تھا اور وہ حویلی سنبھالتی تھی ) لیکن بعض اوقات ہدایت آنے میں اتنا وقت لگ جاتا ہے کہ سانس ختم ہوجاتی ہے اور پھر صرف افسوس رہ جاتا ہے ( علیم منال اور نعمان شیرازی انھیں میں سے تھے علیم نے وفاداری نبھاتے سانس چھوٹی منال کو شرمندگی مار گئی اور نعمان کو جب عقل آئی تب اسکے ہی جیسے بھیڑیوں نے اسے نقصان پہنچایا )تو مجھے امید ہے آپ سب ایسے غلطیاں کرنے سے گریز کریں گے نشے کی لت سے دور رہیں وہ صرف زہر ہے جو لذت سے بھر پور ہے تو وعدے کریں مجھ سے نشے سے پاک پاکستان صاف پاکستان شکریہ !!”وہ سٹیج سے نیچے آگیا تھا جہاں دانیال اسکا انتظار کررہا تھا ” مہتاب بیچ میں کہاں چلا گیا ؟”اسکے سوال پر مسکرا دانیال دیا ” ہوسپیٹل !!”
مہتاب پریشانی سے لیبر روم کے باہر گھوم رہا تھا جب دروازہ کھلا نرس نے اسے ایک پیاری سی بیٹی تھمائی جو روئی کی طرح ملائم تھی تھوڑی دیر بعد ایک اور نرس آئی جسنے اسے ایک اور بچہ تھمایا ” یہ بیٹا ہے !! مہتاب کی خوشی کا تو ٹھکانہ نہیں تھا خدا نے اسے جڑواں بچے دیے تھے ایک بیٹا اور بیٹی اسکی ماں نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا ” مبارک میرا مہتاب !!
“ امی انکا نام ہم شمس اور شمسا رکھیں گے !! جس پر انھوں نے اثبات میں سر ہلا دیا ” ڈاکٹر میری وائف ؟”
“ وہ ٹھیک ہیں انھیں کچھ دیر بعد روم میں شفٹ کردیا جائے گا ۔مہتاب کی زندگی خوشیوں سے بھر گئی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دانیال گھر واپس آیا تھا مگر ڈرائنگ روم میں کوئی بھی نہیں تھا اسلیے وہ سیدھا اوپر ہی چلا گیا سامنے لائبہ موجود تھی ” امی کہاں ہیں ؟”
“ بھابھی کے کمرے میں انکی طبعیت کچھ ٹھیک نہیں ہے !!” کیپ اسے پکڑا کر وہ کمرے میں آیا جہاں اسکی ماں فری کو دلاسے دے رہی تھیں ” آنٹی اُلٹیاں آئی جارہی ہیں کچھ کھایا نہیں جاتا !!”دانیال نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر اسکے ممتا بھرے وجود کو جب سے انھیں یہ خبر ملی تھی تب سے اسکی طبعیت ایسی رہتی تھی ” آجائیں یہ سارا کچھ آپکی وجہ سے ہورہا ہے !!”اسکی بات پر دانیال کا منہ کھلا رہ گیا تھا اسکی ماں سر جھکا کر ہنس دی تھی شرمندہ سا ہوکر دانیال باہر آگیا تھا کچھ دیر بعد اسکے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا اسکی ماں اب بھی ہنس رہی تھی امبر کے بعد فری اور دانیال کی چھوٹی چھوٹی لڑائیوں نے سکون لایا تھا ” ہنس لیں کہا تھا ابھی نہیں مگر آپکو ہی پڑی تھی فیملی سٹارٹ کرلو !! اسنے منہ بنا کر کہا تو انکی ہنسی اور بھی تیز ہوگئی وہ بھی ہنس دیا تھا جب لائبہ کی آواز آئی ” تم لوگ آج پھر آگئے ہو!! وہ دونوں نیچے دروازے کی جانب گئے جہاں جوجو ذی ذی سرجھکائے ہاتھ جوڑے کھڑے تھے ” دیکھو لائبہ مجھے نہیں زوار کو تو معاف کردو اسکی کوئی غلطی نہیں تھی اسنے مجھے بہت روکا ہمیں پتہ نہیں تھا ماموں ایسا کرے گے پلیز ائم سوری !! جوجو لائبہ کی مِنتیں کررہا تھا اور ذی ذی ہمیشہ کی طرح سر جھکائے کھڑا تھا دانیال نے گہرا سانس لیا تھا دو سال سے یہ دونوں ایسے ہی روز آتے تھے اور لائبہ روز انکی انسلٹ کرکے دفع کردیتی تھی ” لائبہ بیٹا ریلیکس !!
“ کیسے بھائی کیسے ریلیکس امبر دو سال سے کوما میں ہے ان دونوں کی وجہ سے !!”
“ بچہ وہ امبر کی قسمت تھی دو سال سے ہر روز معافی مانگ رہے ہیں شیرازی مینشن چھوڑ چکے ہیں !!”
“ شیرازی مینشن چھوڑ چکے ہیں شیرازیز سب مر چکے ہیں انھیں بھی مر جانا چاہیے تھے !! ذی ذی نے اسے نظر اٹھا کر دیکھا ” تم یہ چاہتی ہو ہم مر جائیں تو ٹھیک !! اسنے گن نکال کر اپنی کنپٹی پر لگائی لائبہ کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی تھی اسنے ٹریگر دبانے کی کوشش کی ” اگر امبر اُٹھ کر جوجو کو معاف کردے گی تو میں بھی کردوں گی پھر چاہے ایک دن لگے یا ایک صدی !!! ” ذی ذی سی رُخ پھیر کر اوپر چلی گئی تھی وہ اسکی پشت کو گھور رہا تھا جب جوجو اسے کھینچ کر لے گیا ۔دانیال نے گہرا سانس لیا ۔ ذی ذی ٹوٹے قدموں سے چل رہا تھا جوجو بائیک پر بیٹھ گیا ذی ذی وہیں کھڑا تھا ” ذی ذی !!”
“ میں مرجاؤ گا جوجو میں مر جاؤ گا لائبہ کے بغیر میں مرجاؤ گا !! وہ روتا اسکے گلے سے لگا تھا اپنے بہن بھائی کی تکلیف کہاں برداشت ہوتی تھی اسکے کیے کی سزا ذی ذی کو بھی مل رہی تھی ! اسنے اسے خود سے دور کیا چل ” اسے بائیک پر بیٹھا کر خود وہ ہینڈل سنبھال کر بیٹھ گیا کیفے کی بجائے اسنے بائیک ہاسپٹل کی طرف گھوما دی وہاں پہنچ کر وہ تیز قدموں کے ساتھ اندر گیا امبر کے کمرے کے باہر گارڈ بیٹھا تھا جسے دھکیلتا وہ اندر آیا اسکے ساکن وجود کو کندھوں سے پکڑ کر اوپر اٹھایا اسکے جسم کو جھنجوڑنے لگا تھا ” امبر اٹھو بہت ہوگیا بہت وقت گزر گیا دو سال گزر گئے میری امبر تو اتنی خاموش نہیں رہ سکتی !!! وہ اسے مسلسل کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ رہا تھا ” اٹھو جاؤ نہ یار ہم پھر سے عاطف اسلم کے کنسرٹ میں جائیں گے تم مجھے ڈم ڈم ڈگا ڈگا کہنا تولو مولو جو مرضی کہہ لینا پلیز اٹھ جاؤ لائبہ بھی ذی ذی کو معاف نہیں کررہی اٹھ جاؤ دو سال سے ہر روز آتا ہوں ترس نہیں آتا مجھ پر اٹھ جاؤ نہ تمہارے بغیر زندگی ادھوری ہے پلیز پلیز !!! وہ تڑپ رہا تھا اسکے بے جان وجود کو جھنجھوڑ رہا تھا گارڈ اسے گھسیٹتا ہوا باہر لے گیا امبر کا وجود پھر سے ساکن ہوکر بیڈ پر گر گیا تھا اسکی بند آنکھوں سے ایک آنسو نکل کر بستر میں جذب ہوگیا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔
مرزا واپس آیا تو سفید فرش پر ننھے ننھے پیر اسکی طرف بھاگے آرہے تھے اور انکے پیچھے چوڑیوں کی آواز مرزا نے اس ننھی سی پری کو ہوا میں اچھا دیا تھا ” پریشے بابا کی جان !!! ہیر ان دونوں کا پیار دیکھ کر وہیں رُک گئی تھی پریشے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں مرزا کا چہرا تھامے بیٹھی تھی ” بابا ۔۔۔۔۔اوا ۔۔۔۔۔! اسنے ہونٹ گول کرکے اسے دیکھا تو مرزا نے اپنے گال آگے کردیا اسنے چوم چوم کر اسکا گال گیلا کردیا تھاجب ہیر اسکے قریب آئی تو لڑکھڑا کر گرنے لگی ” ہیر !! اسنے برقت اسے پکڑا لیا ” جب ایک بار کہا ہے اس حالت میں مت بھاگا کرو اسکے پیچھے !!اسنے گلے امیز نظروں سے اسے دیکھا ” یہ بہت تنگ کرتی ہے !! مرزا اسکے کان کے قریب جھکا ” یہ اتنا کرتی ہے تو دوسرا کتنا کرے گا !! ہیر اور بھی پریشان ہوگئی تھی مرزا نے اسکی معصوم چہرے پر محبت کی مہر ثبت کی تو وہ ہنس دی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ موسیٰ کہا ہے !! دائم آج حویلی واپس آیا تھا اور سب سے ملنے کے بعد وہ اپنے بیٹے کا پوچھ رہا تھا جب اچانک اسکے کان پر کسی نے کاٹی کی ” آہ !!! اسنے پلٹ کر دیکھا تو موسیٰ اسکے کان کو کھانے کی تیاری کررہ تھا دائم نے اسے اٹھا کر گود میں بیٹھایا ! جی کا کررہے ہو !!”
“ بوٹی کھا لا ہوں !! دائم نے حیرت سے امل کو دیکھا ” اسنے کل چکن پیس کھایا ہے کل سے جو بھی چیز منہ میں ڈال رہا ہے وہ بوٹی کھا رہا ہے ! دائم کھلکھلا کر ہنس دیا امل حجاب میں رہنے لگی تھی بیماری کے بعد اسکے بال بعمشکل کندھوں تک آتے تھے اسلیے دائم کو دیکھ کر اسے ہمیشہ اپنی غلطی یاد آتی تھی جسکی سزا وہ بھگت چکی تھی موسیٰ کو فہد کو پکڑانے کے بعد وہ کچن میں آیا تو وہ اپنے آنسو پونچھ رہی تھی ” امل کیا ہوا ؟”
“ دائم مجھے معاف کردیا نہ آپ نے ؟ وہ پھر سے رونے لگی تھی دائم نے اسے گلے سے لگایا ” تم سزا بھگت چکی ہوں امل خدا نے بھی تمہیں معاف کردیا ہے تو میں کیوں نہ کرتا ہاں تم نے میری کردار کشی کی تھی مگر پیشیمان تھی ندامت کے آنسو بہاتی تھی اسلیے تمہاری بخشش بنتی تھی اور اب کونسی تم اتنی بے واقوف ہو اس کلاٹ کی وجہ سے ہی تھی اب سب ٹھیک ہے !!”
بابا !! موسیٰ اپنا بھاری جسم سنبھالتا کچن میں آگیا تھا امل نے اسے اٹھایا انکی فیملی پوری تھی ” اسے سلا دینا امی کی قبر پر جانا ہے !” اسے کہتا وہ کچن سے چلا گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرزا بیڈ پر لیٹا تھا اور ہیر اسکے سینے پر سر رکھ لیٹی تھی ” فریحہ سے بات ہوئی !” فریحہ کا نام سن کر مرزا کے مکسراتے ہونٹ سکڑ گئے تھے ” ہمم!!
“ منان کیسا ہے دو سال ہوگئے اس حادثے کو ایسی امریکہ گئی واپس ہی نہیں آئی!!” ہیر کا دل بھی اداس تھا ۔
“ ہاں منان کی شوگر نارمل ہے اسکا پورا علاج ہورہا ہے پھر ہوٹل کے کام بھی ہوتے ہیں اسلیے واپس نہیں آئی دو سال پہلے جو ہوا اسنے شیرازیز کا وجود ختم کردیا !!
“ انکے ساتھ جو ہوا وہ انکے گناہوں کی سزا تھی شکر ہے عفت کی شادی فریحہ نے اپنے ہاتھوں سے کی !! پریشے کی رونے کی آوز سن کر ہیر آٹھ گئی تھی اچانک مرزا کا فون بجا مرزا نے گہرا سانس لیکر فون اٹھایا ” ہاں جی !!
“ تھینک یو ایس پی مرزا !!! مخالف کی آواز سن کر مرزا کے ماتھے پر بل آگئے تھے ” دو سال کے سترا ہزار پانچ سو بیس گھنٹے جو تونے مجھے فون کر کر کے تھینک یو بولا ہے نہ مجھے افسوس ہوتا ہے کہ میں نے اس دن تجھے کیوں بچایا !! مرزا کی بات سن کر مخالف کے باریک ہونٹ مسکرا دیے تھے
دو سال پہلے ۔۔۔۔۔۔
نعمان فائل لیکر گاڑی میں بیٹھا تھا جب اسکا فون بجا اسنے فون اٹھایا نعمان کہاں ہے
گاڑی میں !!
” نعمان گاڑی سے نکل !!!
“ کیا ہوا مرزا ؟؟ فون مرزا کا تھا ” تجھے مارنے کا پلین ہورہا ہے !! ادھر دانیال انور گیلانی کے خبری کی گردن دبوچے کھڑا تھا ۔” نکل گاڑی سے مینشن سے دور چلا جا کوئی ٹکرائے تو ٹکرانے مت دینا ناجانے کیا پلین ہو !! وہ اسی وقت گاڑی سے نکل گیا تھا جب جھاڑیوں میں چھپے آدمی پر اسکی نظر پڑی اس سے پہلے وہ بھاگتا نعمان نے اسکے پیر پر اینٹ ماری تھی ” کون ہو ؟
“ مم۔۔۔کوئی نہیں بس یہاں سے گزر رہا تھا !! نعمان نے اسکی گردن دبوچی ” بتا ورنہ جان نکال لو گا !!
انور گیلانی صاحب نے بھیجا آپکی کی گاڑی میں بم لگانے کے لیے !! نعمان کو پھر اپنے آپ پر شرم آئی وہ انکا ساتھی تھا اسنے اسے کھینچا ” چل بیٹھ گاڑی میں !!
“ نہیں پانچ منٹ رہ گئے ہیں گاڑی پھٹ جائے گی !! نعمان نے اسکا فون نکالا اور تیزی سے اسے گاڑی میں بیٹھا دیا گاڑی سے گن نکالی ” چلا گاڑی !!
نن۔نہیں مر جاؤں گا !!! وہ ہاتھ جوڑ رہا تھا ” مرے گا تو ویسے بھی گولی کھائے گا تو جان بلک بلک کر نکلے گی جل کر مرے گا تو جان جلدی نکل جائے چلا گاڑی !!! وہ چاہ و ناچار کیا کرتا اسنے گاڑی چلا دی گاڑی تھوڑی دور ہی گئی تھی کہ بوووم !!!! نعمان نے کانوں پر ہاتھ رکھ لیا تھا کچھ دیر بعد اسنے اسکا فون دیکھا جو لاکڈ تھا ” شِٹ !! دبے قدموں سے مینشن میں آیا کمرے میں سے رومال نکالا سارا منہ لپیٹا اپنے فون میں سے انور گیلانی کے پی اے کا نمبر نکالا ایک راہگیر سے فون لیا اور ملا دیا ” سر کام ہوگیا!! نعمان شیرازی نے اپنے مرنے کی خبر خود ان تک پہنچائی تھی ۔پھر۔مرزا کو کال کی فریحہ زار و قطار رو رہی تھی مرزا کو خود نہیں پتا تھا نعمان بچ گیا یا نہیں ” ہیلو مرزا نعمان بات کررہا ہوں !! مرزا کو سکون آگیا تھا ” فریحہ نعمان زندہ ہے فریحہ لو بات کرو !!
“ ہہ۔۔ہیلو نعمان شکر۔ہے آپ ٹھیک ہی مجھے لگا خدا نے آپکو موت کی سزا سنا دی !! اسنے آسمان کی جانب دیکھا ” وہ خدا چاہتا ہے اس ملک کے غدار اپنے انجام کو پہنچے شاید اسلیے آج دنیا کے نظر میں شیرازیز ختم نعمان شیرازی مر گیا جو ہے وہ صرف نعمان ہے جو اس ملک کو بچا کر رہے گا !!!مرزا اور دانیال سے پوشیدگی میں مل کر اسنے وہ تمام کاغذات مرزا کو سونپ دیے تھے اور اپنے ہاتھ بھی آگے کردیے تھے ” کرلو گرفتار !! دانیال اور مرزا نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر منان فریحہ کو جو حسرت سے انھیں دیکھ رہی تھی” چل دانیال نعمان شیرازی کی باڈی کا پوسٹ مارٹم بھی کروانا ہے سارا جل گیا ہے وہ !! وہ کاغذات لیکر چلے گئے تھے نعمان کو اسکی فیملی کے ساتھ چھوڑ کر تب نعمان سب سے رو پوش ہوکر نام بدل کر امریکہ میں سیٹل تھا اسکا نیا نام فرحان تھا لیکن اصل میں نعمان شیرازی تھا اسنے کلین شیو کروا لی تھی چشمہ لگانے لگا تھا تاکہ۔کوئی پہچان نہ سکے مرزا نے انور گیلانی سمیت کمشنر فیصل اکرم جیسے کئی غداروں اور انکے کالے پیسے کو پکڑا تھا لاہور کو ڈرگ سے پاک کیا تھا اور عزم کیا تھا کہ ایک دن پورا پاکستان نشے سے پاک ہوگا مرزا نے میڈیا پر بیان دیا تھا جو کچھ یوں تھا (جیسے کے آپ لوگ جانتے ہیں کہ نعمان شیرازی جو ہیں وہ بم بلاسٹ میں مارے جاچکے ہیں اور ان پر پہلے کرپشن اور انتشار پھیلانے کے الزامات تھے اور انکے گھر پر انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی ریڈ کی وجہ سے پولیس کو بھی جو ہے سرچ وارنٹ ملے تھے مینشن میں اور انکے سویمنگ پول سے ہمیں ایک باکس مل اتھا جس میں یہ پیپرز تھے اور ان میں نعمان شیرازی سمیت کئی ایسے عہدے داروں کے نام ہیں جو اس ملک کو کھوکھلا کرنے کی کوشش کررہے ہیں یہ ثبوت جوہیں وہ آج کورٹ میں پیس کیے جائیں گے ہوپ فار دی بیسٹ !!! ) نعمان نے اپنے سیکڑیٹ پلیس سے سارا کچھ دیکھا تھا دنیا کی نظر میں دو سال پہلے نعمان شیرازی مر گیا تھا شیرازیز کو پولیس نے کُتوں کی طرح مار دیا تھا .
جاری ہے
