Musalat By Binte Aslam Readelle50190 Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
ناول#مسلط
ازقلم # بنت اسلم
قسط نمبر 15
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امل نے بہت ہمت کرکے آج یہ قدم اٹھایا تھا وہ دائم سے محبت کا اظہار کرنا چاہتی تھی جسکی نیچر اسکے دل میں اُتر گئی مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ آج سے امل کے لیے دائم کی نفرت کا آغاز ہونا تھا انکی زندگی سب سے بڑا موڑ لینے والی تھی اسنے دائم کو ایک ویران سی جگہ پر بلایا تھا یہ کہہ کر کے اسے مدد کی ضرورت ہے پہلے تو وہ خاموش رہا پھر اوکے کہہ کر فون بند کردیا وہ بہت خوبصورت طریقے سے تیار ہوئی تھی ریڈ کلر کہ فیری فراک جس پر بیوٹی بون سے نیک تھا لال جالی لگی تھی اسکے بازو بھی جالی کے تھے کمر سے کچھ اوپر گول کٹنگ والے بال سٹریٹ کیے گئے تھے آج تو اسنے چشمہ بھی نہیں لگایا تھا آنکھوں کے ہم رنگ لینز لگائے تھے ہاتھوں میں سُرخ گلاب لیے وہ ٹہل رہی تھی جب بائیک آکر رُکی دائم اسے دیکھ کر کچھ دیر تو اسے دیکھتا رہا حسرت سے نہیں حیرت سے ” کیا مدد چاہیے ؟” اسنے بنا کوئی لگی لپٹی کے ڈائریکٹ پوچھا تھا مگر امل آج پوری تیاری سے آئی تھی ” دائم آپکو پتہ ہے کہتے کہ ایک لڑکی ہمیشہ اپنے ہمسفر میں اپنے باپ بھائی کا عکس تلاش کرتی ایک ایسا مرد جو اسکی عزت کرے جو سہی معنوں میں مرد ہو جب کوئی لڑکی لڑکی ہوکر ایک لڑکے سے خود محبت کا اظہار کرنے میں پہل کرے تو وہ اسکی عادت اسکی شخصیت کی قائل ہوچکی ہوتی ہے ایک عورت میں خدا وہ چِھٹی حِس رکھتا ہے جس سے وہ سامنے کھڑے انسان کی نظروں کو دیکھ کر بتا سکتی ہے کہ وہ کس نیت کا مالک ہے میں نے آپ میں پاپا کو دیکھا ہے اس جیسی حفاظت محسوس کی ہے عزت دیکھی اور محبت بھی دیکھنا چاہتی ہوں !!! دائم نے حیرت سے دیکھا تو اسکے سامنے گھُٹنوں کے بل ہوگئی گلاب اسکے سامنے کردیا ” آئی لو یو دائم فہد وِل یو میری می!!! وہ سنجیدہ چہرا لیے بس اسے دیکھے جارہا تھا جو اسکے جواب کا انتظار کررہی تھی
آخر اسکے ہونٹ ہلے امل کی دل کی دھڑکن تیز ہوگئی تھی ” نو !!! یک لفظی جواب دیا اور پلٹ گیا وہ شاک کچھ دیر اِسی پوزیشن میں رہی بائیک کی آواز سے وہ اٹھی ” لیکن کیوں ؟” دائم نے محسوس کیا تھا اسکی آواز قدرے بھرائی تھی ” کیونکہ محبت صرف ایک بار ہوتی ہے اور وہ میں کر چکا ہوں اسلیے !!! اس بات نے اسکا دل چکنا چور کردیا تھا وہ ہوا کے دوش پر نکل گیا تھا وہ وہیں ساکن ہوگئی تھی
کبھی بنتی بات بگاڑے ۔۔۔۔
کبھی بگڑی بات بنائے ۔۔۔۔۔
کبھی بھر دے جھولی خالی ۔۔۔۔
رحمت ایسی برسائے۔۔۔۔۔۔۔
کبھی چھین لے ہاتھوں سے ۔۔۔
جو سب سے عزیز ہے ۔۔۔۔۔
یہ نصیباں بھی کیا چیز ہے …
“ پلیز معاز ایسا مت کرو مجھے یہاں مت چھوڑو وہ اسکے سامنے ہاتھ جوڑ رہی تھی مگر وہ پیسے لیکر جاچکا تھا اسے نعمان شیرازی کے کُتوں کو بیچ کر کچھ عرصہ پہلے بھی معاز نے اسے دھوکا دیا تھا دائم کو دیکھ دیکھ مشکل
سے اسنے دوبارہ یقین کرنے کا سوچا تھا اس سے محبت کرنے لگی تھی وہ سب کے ساتھ ہنستا باتیں کرتا تھا مگر اس سے نہیں کیا کمی تھی اس میں کیا وہ محبت کے قابل نہیں ہے ۔۔۔
کیوں نہیں خوشیاں میرے پاس آکے رُکتی ہیں ۔۔۔
کیوں میری نظر دنیا کے آگے جھکتی ہے ۔۔۔
دور ہے تو مجھ سے اور سب کے قریب ہے۔ ۔
یہ نصیباں بھی کیا چیز ہے ۔۔۔۔۔
شام کا اندھیرا پر پھیلا کر بیٹھ گیا تھا اور وہ پھول ہاتھوں میں پکڑے ننگے پیر زمین پر چل رہی تھی دُنیا کا اسے کوئی ہوش نہیں تھا وہ جانتی ہی نہیں تھی کہ وہ کہاں جارہی ہے کہ فٹ پاتھ پر پڑے نشے میں دھت آدمیوں کی نظر امل پر ضرور پر پڑ گئی تھی پری ہی تو لگ رہی تھی وہ جسے ایک مغرور شہزادے نے ٹھکرایہ تھا۔ انکے منہ میں پانی آگیا تھا انھوں نے ایک دم اسے گھیر لیا وہ چار لوگ تھے اور وحشی جانور کی طرح اسے دیکھ رہے تھے اسکا حلق خشک ہوگیا تھا اپنی بے وقوفی پر اب اسے غصہ آرہا تھا وہ بھاگنے لگی توان میں سے ایک نے اسے دبوچ لیا وہ اپنا آپ چھڑانے کی کوشش کررہی تھی جب وہ اسے اٹھائے بند فیکڑی کی جانب چل دیے وہ ہاتھ پیر چلا رہی تھی وہ جانور اسکی ایک نہیں سن رہے تھے ۔دائم بک شاپ سے نکل بائیک پر بیٹھا ہی تھا جب اسے اس منظر کی جھلک دکھائی دی کوئی کسی لڑکی کو اٹھائے فیکڑی میں گھس رہا ہے اور چلا رہی ہے جسکی شکل بھی اسنے نہیں دیکھی تھی کتابیں بائیک وہیں چھوڑتا وہ ان کے پیچھے بھاگ نکلا اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا وہ لڑکی امل ہو سکتی ہے ۔ان پوستیو نے اسے زمین پر پھینکا جس سے اسکے پیر پر کافی چوٹ آئی تھی ایک اسکے سر کی جانب کھڑا تھا جسنے اسکے بال پکڑ رکھے تھے ایک نے اسکے پیر اور تیسرا اس پر جھکتا جارہا تھا اسکا منہ دبوچے زبردستی اسے چومنے کی کوشش کررہا تھا جب مزاحمت بڑھ گئی تھی اس آدمی نے اسکے منہ پر زور دار تھپڑ مار دیا جس سے اسکا ہونٹ ایک طرف سے پھٹ گیا اس آدمی نے اسکے جالی دار بازو اور گردن سے جالی بھی پھاڑ دی تھے ۔دوسرا انسان مسلسل اسے اپنی جانب کھینچ رہا تھا ۔ اور آخر وہ بے بس ہوتی ان کی زد میں آگئی تھی آیک آدمی اسکے چہرے پر جھکتا جارہا تھا اسنے آنکھیں بند کرلیں تھیں جب کچھ وقت کوئی حرکت نہ ہوئی تو اسنے آنکھیں کھولیں دائم اسکی گردن دبوچے کھڑا جو حیرت سے امل کو دیکھ رہا تھا جسکا لباس نازیبا طریقے سے پھٹ چکا تھا امل کو دیکھ کر دائم کے طوطے اُڑ گئی تھے ۔خود کو سنبھالتی وہ اٹھی اور ہاتھوں سے خود کو کور کرنے لگی اسے ان آدمیوں سے زیادہ امل پر غصہ آرہا تھا ان آدمیوں کو جھاڑ تو وہ کررہا تھا اسنے اپنی سنگل شرٹ بھی اتار اسکی جانب بڑھا دی تھی جو اسنے پہن لی جتنی تیزی سے وہ بٹن بند کررہی تھی اتنی تیزی سے وہ انکی ہڈیاں توڑ رہا تھا شرٹ لیس وہ گھونسوں لاتوں سے پیٹ رہا تھا ” بہت شوق ہے نہ سالوں مردانگی دکھانے کا تم لوگوں کی مردانگی تو میں نکالتا ہوں !! امل اسکا ایک ایک عمل بغور دیکھ رہی تھی اور من ہی من منصوبے بنا رہی تھی ” نہیں اب نہیں آپ سے بہتر محافظ مجھے کوئی نہیں مل سکتا اب تو چاہے زمین آسمان ایک کرنا پڑے میں آپکو اپنا بنا کر رہوں گی !! وہ آدمی مار کھاتے ڈر کے بھاگ گئے تھے جب وہ اسکی جانب مُڑا وہ کانپتی کانپتی اسکے قریب ” تت۔۔تھینک یو دائم۔۔۔آ۔۔۔اگر ۔۔۔۔چٹاخ !!! وہ گال پر ہاتھ رکھے حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی جو لال چہرا لیے اسےگھور رہی تھی ” کیا کر رہی تھی اتنی دیر باہر کونسی عاشقی چڑھی تھی کیا قیامت آگئی تھی کہ نہ اپنی عزت کی پرواہ ہے نہ اپنے ماں باپ کی !!! وہ غصے سے اسکی جانب بڑھتا جارہا تھا وہ دیوار سے جالگی تھی ” وو۔۔۔مم۔۔۔۔۔میں نے آپکو پرپوز کیا تھا انکار ۔۔۔۔ککک۔۔کی وجہ سے ٹینس تھی !!!”
“ یہ مسئلہ ہے تم لڑکیوں کا زندگی ناول نہیں ہوتی اپنے آپ کو معصوم ہیروئنز بنانا بند کرو کیا ہے ایک انکار ہی تو تھا اتنا اپ سیٹ ہونے والی کیا بات تھی کیوں نہیں سمجھتی تم لڑکیاں عزتیں کتنی نازک ہیں میں نے کھوئی ہے مجھے معلوم ہے جب گھر کی عزت جاتی ہے تو کیسا فیل ہوتا ہے !” وہ اس سے دو قدم دور سمجھانے کی کوشش کررہا تھا مگر اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاتا جارہا تھا اور ایکدم وہ ہوش سے بیگانہ زمین بوس ہوگئی ” امل امل ویک اپ !!! وہ اس سے دور اسکے بال تھتھپا رہا تھا اسنے اسکا سر اٹھا کر گود میں رکھا ” امل آنکھیں کھولو !! وہ اسے آوازیں دے رہا تھا جب اسے اپنے سامنے کالے بوٹ نظر آئے اسنے نظر اٹھا کر دیکھا تو وہاں ایک سیکیورٹی گارڈ کھڑا تھا جو عجیب نظروں سے اس شرٹ لیس لڑکے کو دیکھ رہا تھا جسکی گود میں ایک بے ہوش لڑکی تھی جسکا لباس پھٹا تھا جو زخمی تھی ” کیا کیا تم نے لڑکی کے ساتھ !!! وہ گارڈ کو حیرت سے دیکھنے لگا “مم۔۔۔میں نے کچھ نہیں انفکیٹ میں نے تو انھیں بچایا ہے ان لڑکوں سے وہ بھاگ گئے ہیں !”
“ جھوٹ کیوں بول رہا ہے میں نے خود دیکھا تو اس کی طرف بڑھ رہا تھا وہ ڈرتی پیچھے جارہی تھی تو رُک ابھی پولیس آتی ہے !” وہ گارڈ پولیس کو کال کررہا تھا وہ دائم اسے نظر انداز کیے امل کو ہوش میں لانے کی کوشش کررہا تھا جب اچانک سائرن بجا تو لوگ فیکڑی کے باہر جمع ہونے لگے تھے انسپیکٹر نے اسے اریسٹ کرلیا تھا ایمبولینس امل کو لے جارہی تھی۔ ” سر میری بات سنے اسکے ساتھ میں نے کچھ نہیں کیا وہ شاک کی وجہ سے بے ہوش ہے ” انسپیکٹر اسے کھینچ رہا تھا ” تن پے تمہارے کپڑے نہیں لڑکی زخمی ہے بے ہوش ہے اور تو نے کچھ نہیں کیا !”
سر میں اسے پروٹیکٹ کررہا تھا دیکھیں اسنے میری شرٹ پہنی ہے اسکے کپڑے پھٹ گئے تھے ” مگر پولیس نے اسکی ایک نہ سُنی اور اسے لے گئی سیل میں اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا جب اسے پولیس سٹیشن میں مرزا آتا دکھائی دیا ” مرزا ! مرزا ! اپنا نام سن کر اسنے لاکپ کی جانب دیکھا ” دائم !!
“ مرزا بچائیں مجھے یہ سن ہی نہیں رہے ہیں میں نے کچھ نہیں کیا !!” مرزا نے سوالیہ نگاہوں سے انسپیکٹر کو دیکھا جو کھڑا تھا ” سر پاس والے علاقے کی بند فیکڑی میں کسی لڑکی کو ہراساں کررہا تھا گارڈ نے دیکھ لیا اور اسکے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی سر لڑکی کا نام امل ہے اور وہ بے ہوش اس وقت ہسپتال میں ہے !!”اب مرزا دائم کو حیرت سے دیکھ رہا تھا ” مرزا انھوں نے غلط سمجھا امل نے مجھے پرپوز کیا تھا میں نے اسے انکار کردیا میں وہاں سے چلا گیا تھا پھر واپسی میں کچھ نشے میں دھت آدمیوں کو لڑکی سے زبردستی کرتے دیکھا تو وہ امل تھی اسکے کپڑے پھٹ گئے تھے اسلیے مجھے شرٹ دینی پڑی میں اسے سمجھا رہا تھا غصے سے کہ اتنی رات گئے باہر کیا کررہی ہو تبھی گارڈ نے دیکھ لیا اور وہ سمجھا میں نے امل کے ساتھ کچھ کیا اسے ہوش میں آنے دو وہ سب سچ بتا دے گی !!” مرزا امل نام میں کنفیوز ہوگیا تھا کہ شاید وہ اسکی سوسائٹی کی امل کی بات کررہا ہے کونسی یونی سے ہو ؟”
“ لاہور میڈیکل یونیورسٹی!!! مرزا کو یقین ہوگیا تھا کہ وہ وہی امل ہے اسکے فادر بھی آوٹ آف کنڑری ہیں تو وہ اسکی زمہ داری تھی وہ ہسپتال کے لیے روانہ ہوگیا دائم کو تسلی ہوگئی تھی کہ مرزا امل کا بیان لیکر اسے آزاد کردے گا مگر کہتے جسکے حصے کی جتنی تکلیف ہو وہ اسے مل کررہتی ہے آج امل بھی اپنی زندگی داؤ پر لگا کر دائم کی نفرت خریدنے جارہی تھی۔
وہ ہسپتال آیا تو اسے وہاں سپاہی نظر آیا جو لڑکی کے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہے تھے ” ہوش آیا لڑکی کو !
“ جی سر !! وہ اندر کی جانب بڑھا تو وہ بیڈ پر نظریں جھکائے بیٹھی تھی اسکے کپڑے تبدیل کردیے گئے تھے اسکے ہونٹوں کے قریب زخم تھا ” اسلام علیکم سر !” سب انسپیکٹر نے اسے سلیوٹ کیا تو اسنے اثبات میں سر ہلایا اور انھیں باہر جانے کا اشارہ کردیا مرزا کو دیکھ کر بھی امل نے کوئی ردِ عمل نہیں دیا تھا وہ بیڈ پر اسکے پیروں کی پاس بیٹھ گیا ” امل دائم نے تمہارے ساتھ زبردستی کی ہے اور کچھ بھی کہنے سے پہلے سوچ لینا وہ ہیر کا کزن ہے !!” امل نے حیرت سے اسے دیکھا پھر سر جھکا دیا ” بتاؤ امل کیا دائم نے تمہاری ساتھ بدتمیزی کی ہے تمہیں ہراساں کیا ہے کیا تم اس سے بدلہ چاہتی ہو !لیکن امل دماغ میں گزرا وقت چل رہا تھا ” آئی لو یو ! وِل یو میری می !!!….نو۔۔۔۔۔۔۔محبت ایک دفعہ ہوتی ہے اور وہ میں کرچکا ہوں!!! ۔۔۔۔۔بہت شوق ہے مردانگی دیکھانے کا ۔۔۔۔۔۔تم کیوں نہیں سمجھتی کہ عزتیں نازک ہوتی ہیں !!! اسکا دل ضد پر اڑ گیا تھا دائم بس دائم چاہیے اور کوئی نہیں تو چاہے وہ ویسے ہو یا ایسے ..وہ منہ ہاتھوں میں گرائے رونے لگی تھی “ممم۔مرزا بھائی ۔۔۔۔۔دد۔۔۔دائم نے میرا ریپ کرنے کی کوشش کی تھی !!! مرزا کا منہ کُھلا رہ گیا تھا ” مم ۔۔۔۔مگر وہ تو کہہ رہا تم اسنے پرپوز کیا تھا اور اسنے انکار کیا تمہیں چند آدمی اس فیکڑی میں لیکر گئے تھے اسنے تمہیں۔ پروٹیکٹ کیا ..” اس بات پر امل نے چند لمحے مرزا کو دیکھا ” تت۔۔۔تو وہیں اسکی بھی نیت خراب ہوگئی محبت نہیں کرتا تھا مگر نیت خراب کرہی سکتا ہے میں کیا کروں بابا بھی نہیں دیکھیں میری حالت اسنے کیا کردی پھر میرے کپڑے پھاڑ دیے مجھے زبردستی کس بھی کیا تھا یہ دیکھے زخم !!! وہ اپنے ہونٹوں کے پاس انگلی لگا کر بتا رہی تھی مرزا نے غصے سے مُٹھی بھینچ لیا ہیر اور دائم کو اس طرح دیکھ کر دائم پر اسے ردی برابر بھی یقین نہیں تھا وہ غصے سے اٹھا ” کک۔۔۔۔کہاں جارہے ہیں ؟؟”
“ اسکی اوقات دیکھانے !!! امل ایک دم بیڈ سے اتر گئی تھی ” مرزا بھائی اسے ماریے گا مت پلیز پلیز اسے چوٹ لگ جائے گی !!! وہ تو بس دائم کو حاصل کرنا چاہتی تھی جسکی کے لیے اتنا نیچے گِری تھی کیسے برداشت تھا کوئی ہاتھ بھی لگائے ” تم اب بھی بچا رہی ہو جسنے تمہاری یہ حالت کردی !”
“ تو اسے مار کر کیا ملا گا کونسا قبول کرے گا اسنے یہ سب کیا ہے جھوٹ ہی بولے گا کہ میں جھوٹی ہوں۔ پلیز اسے مت ماریے گا ۔۔” اسکا روتا چہرا دیکھ کر وہ بے بس ہوگیا تھا ” تو کیا کروں !” یہ آیا تھا نہ وہ مطلب کی بات۔ پر ” اس۔۔اسنے میری عزت خراب کرنے کی کوشش کی ہے نہ مجھے اسکی عزت بنا دیں میرا نکاح کردیں اس سے !!!
“ امل !!! وہ چیخا تھا ” ہاں میں یہی انصاف چاہتی ہوں اسکی بہن داغ دار ہوئی تھی تو اسے خیال رکھنا چاہیے تھا پر اسے نہیں رہا اسکی سزا یہی ہونی چاہیے !!”
“ وہ تمہارے زندگی برباد کردے گا!!!وہ دو قدم اسکے قریب آیا ” میں محبت کرتی ہوں اس سے پھر کیا ہوا تھوڑا بہک گیا تھا میں سمجھا لوں گی پلیز میرا نکاح کردیں ورنہ بدنامی کا تمغہ میرا ساتھ نہیں چھوڑے گا !!! اسکی التجا پر وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر فون نکال کر اسکے والد کو ملاتا چلا گیا ” ائم سوری ! ائم رئیلی سوری دائم میں جانتی ہو جب آپکو یہ سب پتہ چلے گا آپ بہت غصہ ہوگے مگر ایک بار نکاح ہوگیا میں آپکو اتنا پیار دوں گے کہ آپ سب بھول جاؤ گے آج میں آپکے پیچھے پاگل ہوں تو یہ قدم اٹھا دیا اگر کھو دیتی تو آپ میری سنک ( جنونیت کی حد ) بن جاتے اور پھر سب ختم ہو جاتا نکاح کے بعد میں آپکو اپنے آپ سے عشق کرنے میں مجبور کردوں گی بٹ ناؤ آئم سوری !! وہ چہرا ہاتھوں میں گرائے رو دی تھی ۔
دائم کے والدین کو بلا کر اور امل کے والد سے بات کرکے وہ پولیس سٹیشن واپس آیا تھا جب اسے دیکھ کر دائم کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی اسنے سپاہی کو لاکپ کھولنے کا اشارہ کیا ” دیکھا اسنے سب بتا دیا نہ میں جھوٹ نہیں بول رہا تھا ” مگر مرزا کے تیور ہی کچھ اور تھے وہ کف اوپر کی جانب موڑتا اندر آیا اور آتے ہی پہلا ڈنڈا اسکی ٹانگوں پر مارا تھا ” آہ!!! مرزا کیا کر رہے ہو ؟؟
“ وہی جو تم جیسے جانوروں کے ساتھ کرنا چاہیے ! اسے گریبان سے پکڑے وہ چبا چبا کر ہرلفظ بول رہا تھا دائم حیرت سے اسکا منہ تکتا رہ گیا تھا ” کیا مطلب ؟”
“ مطلب یہ ہے تم جھوٹ بول رہے ہو امل کا ریپ ان آدمیوں نے نہیں تو نے کرنے کی کوشش کی اور پھر پولیس دیکھ کہانی بنا دی ابھی امل سے مل کر آرہا ہوں ایک ایک لفظ رو کر سنایا ہے ایسے کیسے تو نے اسے اپنی حوس کا نشانہ بنانے کی کوشش کی !!” اسکا ہاتھ دائم کی گردن پر تھا جس وہ دباؤ بڑھاتا جارہا تھا” جھوٹ بول رہی ۔۔۔ایسا کچھ نہیں ہے !! وہ اپنی گردن سے اسکا ہاتھ ہٹا رہا تھا جو ہو نہیں رہا تھا ” پتہ تھا یہی بولے گا مگر میں تیری سنے تھوڑی آیا ہوں میں تیری مردانگی نکالنے آیا ہوں ۔” وہ اس پر ڈنڈے برسانا شروع کردیا تھا اور دائم اسے سمجھانے کی کوشش کررہا تھا ” مرزا وہ جھوٹ بول رہی ہے میں نے اسکے ساتھ کچھ نہیں کیا مگر وہ اسے کہتے جارہا تھا ” بہت شوق ہے تجھے دوسروں کی بیوی کے بال سنوارنے کا انکی تصویروں سے بات کرنے تیری ساری ہیکڑی نکالتا !! اسکی اس بات پر دائم نے ایکدم ڈنڈا پکڑ لیا ” کیا کہا تم نے کس کے بال سنوارنے کا !” مرزا حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا جو ڈنڈا پکڑے اسے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا اسنے ڈنڈا واپس کھینچا مگر دائم کی گرفت اس پر زیادہ مضبوط تھی ” کس کی بات کررہے تھے !”اسنے ایکدم ڈنڈا چھوڑ دیا دائم کی گرفت بھی کم ہوئی تو ڈنڈا ٹک کرتا فرش پر جا گِرا ” ہیر کی اور کس کی تمہیں لگتا ہے میری ناک کے نیچے اپنا افئیر چلاؤ گے مجھے پتہ نہیں چلے گا بٹ ڈونٹ وری ابھی جاکر سب سے پہلا کام اسے طلاق دینے کا کروں گا تیرے پاس کھلے عام عاشقی کرنا !!! اس قدر گھٹیا سوچ پر دائم اسکا چہرا دیکھتا رہ گیا ” یہ جھوٹ ہے ہیر اور میرے درمیاں ایسا کچھ نہیں تم غلط سمجھ رہے ہو پلیز اسے کچھ مت کرنا وہ پہلے ہی بہت دُکھوں کی ماری ہے !!”
“ واہ بڑی فکر ہے تجھے اسکی اسلیے تو بولا میں اسے طلاق دے دیتا ہوں بھیجتا ہوں تیرے پاس !!”
“ بکواس بند رکھو اپنی وہ صرف میری کزن ہے اسکے علاؤہ کچھ نہیں دیکھ مرزا تجھے میرے ساتھ جو کرنا تو مجھے مارنا چاہتا ہے مار تجھے مجھے ریپ کیس میں پھنسانا ہے پھنسا مگر ہیر شامل نہ کر ان سب میں !”
“ تجھے شرم نہیں آتی میرے سامنے میری بیوی کا نام لیتے ہوئے خیر تجھ جیسے انسان سے ایسی امید کرنا ہی غلط ہے ٹھیک میں ہیر کو کچھ نہیں کروں گا مگر میری ایک شرط ہے .”
“ میں کورٹ میں بولنے کے لیے تیار ہوں کہ میں نے امل کو ہراساں کیا ہے .”
“ نہیں تو نے امل کی زندگی برباد کی ہے تجھے نکاح کرنا پڑے گا اس سے ۔۔۔”
“ نہیں یہ نہیں ہوسکتا وہ یہی چاہتی تھی مجھے حاصل کرنا میں سزا بھگتنے کے لیے تیار ہوں مگر نکاح نہیں !! “
“ سالے ایک تو اسکی زندگی برباد کی اور اب اسے اپنانے سے بھی انکار کررہا ہے تو ٹھیک میں بھی آج ہی ہیر کو گھر سے نکال دوں گا !! ” یہ کہتے اسنے فون نکالا دائم خوف سے اسکی جانب دیکھ رہا تھا ” اسلام علیکم ایڈووکیٹ شہزاد مجھے ارجینٹ طلاق کے کاغذات تیار کروانے ہیں جی مرزا ایوب اور ہی۔۔۔۔۔۔”
“ میں تیار ہوں میں امل سے نکاح کروں گا ! مرزا نے اسی وقت فون بند کردیا تھا ایک نظر اسے دیکھا اور چلا گیا پیچھے وہ دیوار سے ٹیک لگا بیٹھ گیا اسکی شرٹ لیس جسم پر جگہ جگہ سُرخ نشان بنے تھے جو کسی کی عزت بچانے کا خمیازہ تھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
