96.1K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

ناول # مسلط
ازقلم # بنت اسلم
قسط نمبر # 22
فری اور دانیال رات کو گھر واپس آگئے تھے مرزا کو کل صبح ہوسپیٹل سے ڈسچارج ملنا تھا اسکے ساتھ ہیر تھی ۔فری نے آج ہوسپیٹل میں ایک ریپ وکٹم دیکھ لیا تھا اسکی حالت دیکھ کر وہ پھر سے ڈر گئی تھی اسکی طبعیت خراب ہونے لگی تھی اسلیے دانیال اسے گھر لے آیا تھا آج امبر اور لائبہ پاپا سے کچھ کہیں جانے کی بات کر رہیں جو اسنے بے خیالی میں سنی تھی اسے فری کی فکر تھی آفتاب صاحب کے پوچھنے پر اسنے یہ کہہ دیا ” جیسا آپکو ٹھیک لگے حلانکہ امبر اور لائبہ کی پوری بات اسنے سنی بھی نہیں تھی وہ کمرے میں آیا فری دوائی کی زیرِ اثر سو رہی تھی وہ بھی سونا چاہتا تھا مگر نیند روٹھ بیٹھی وہ اسکے پیروں جانب بیٹھ گیا اور دیکھنے لگا جب اچانک وہ بے چین ہوگئی ” نن۔۔۔نہیں کاپ میں نے کچھ نہیں کیا ممم۔۔۔بے بے قصور ہوں مجھے مت چھوڑ کر جائیں پلیز مت جائیں میرا ریپ ہوجائے ۔۔۔پلیز مجھے جانے دو پلیز مجھے چھوڑ دو!”
فرحین !! اسنے اسے دونوں کندھوں سے پکڑ کو جھنجھوڑا اور ایکدم اسے اپنے سینے سے لگا لیا گرفت بھی مضبوط کرلی ” ائم سوری ائم سو سوری میری وجہ سے تم اس حالت میں اپنے آپ کو کبھی کروں نہیں کروں گا پلیز مجھے معاف کردو ائم سوری !! ہر لفظ کے ساتھ وہ اسے اپنے اندر بھینچے جارہا تھا ۔ جب وہ زخمی سا مسکرا دی
نہ کرنے یقین ان دلنشین چہروں کا ۔۔۔۔
گھونپ دیتے ہیں خنجر سینے سے لگا کر ۔۔۔۔اسنے اپنا آپ اس سے الگ کیا اور کمبل کھینچتی لیٹنے لگی جب اسنے دوبارہ کھینچ کر اسے اپنے سامنے کیا ” مجھے مارو تھپڑ مارو سلیپ می سارا غصہ نکال دو تاکہ صبح میں اپنا غصہ ارمان شیرازی پر نکال سکوں !”فری نے حیرت سے دیکھا ” ہاں مارو مجھے صبحا اسے اس کے گھر سے کیوں نہ اٹھانا پڑا میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا !!” اسکی جنونیت دیکھ کر فری ڈر گئی تھی ” اوکے ابھی دیکھتے ہیں ابھی اسکو زمین میں گاڑ کر آتا ہوں !! وہ اٹھا جب فری نے بوکھلا کر اسکا ہاتھ پکڑا ” نن۔نہیں کوپ مت جائیں وہ بہت خطرناک جانور ہے وہ ۔۔وہ آپکو کچھ کردے گا پلیز !!! اسکے بازو کو کھینچتی اسکے کندھے پر سر رکھ کر رو دی تھی اور کھسکتی کھسکتی سر اسکی گود میں رکھ دیا اسکی گود میں فری کے آنسو گر رہے تھے اور دانیال کے آنسو اسکے بالوں میں جذب ہورہے تھے اسکا دماغ صبح کے ارادے بن رہاتھا اور شاید کل صبح دانیال اتنی بڑی غلطی کرنے والا تھا جسکا خمیازہ امبر لائبہ نے بھگتنا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کا دوسرا پہر تھا جب اسکا گلہ خشک ہونے لگا اسنے آنکھیں کھولیں تو پانی کا گلاس ڈھکا ملا تھا پانی پیتے شیشے کے پیندے سے سامنے نظر ہیر پر پڑی جو صوفے پر سر پیچھے گرائے سو رہی تھی وہ کتنی مشکل سے سو رہی تھی وہ اسے جگانا چاہتا تھا ” ہیر !!! مگر وہ گہری نیند میں تھی اسکے ماتھے پر بل آگئے تھے اسنے شیشے کا گلاس فرش پر پھینکا کانچ ٹوٹنے کی آواز سے وہ ڈر کر اٹھی ” کیا ہوا کونسی گائے کھل گئی !! مرزا نے پہلے اسے حیرت سے دیکھا مرزا کو دیکھ کر وہ شرمندہ ہوگئی تھی مرزا نے چند لمحے اسے غور سے دیکھا پھر ہنس دیا ” تم ۔۔۔۔تم ایسے کیوں سو رہی تم میری تیمارداری کرنے آئے ہو یا سونے !!”
“ وو۔۔وہ آنکھ لگ گئی تھی !! اسنے دیکھا تھا وہ چادر اتارا اسکی جانب ہی آرہا تھا ” بابو نہیں اتریں ڈاکٹر نے کہا آرام کریں ۔” مگر وہ صوفے پر اسکے ساتھ آکر بیٹھ چکا تھا ” تم نے مجھے آج زبردستی وہ میٹھا سفید سفید موٹے دانوں والا ساگودانہ کھلایا کس سے پوچھ کر !! آخری جملہ اس نے چیخ کر کہا تو ڈر گئی ” ڈڈ۔۔ڈاکٹر نے کہا تھا !”
“ ڈاکٹر تمہارا زیادہ سگا ہے میں نہیں ہوں مجھے اچھا نہیں لگتا تم تو خوش ہوگی اچھا ہوا جان چھوٹ جائے گی !!” ہیر نے حیرت سے اسے دیکھا پھر آنسو بہنے لگی ” میں بھی آپکے ساتھ ہی مر جاتی !” پہلی بار اسکا رونا مرزا کو برا لگا تھا ” اچھا اچھا ٹھیک رو مت اچھا مجھے یہ بتاؤ تمہیں بلکل بھی پڑھنا نہیں آتا اے بی سی بھی نہیں آتی !!
“ آتی ہے اے ب۔۔۔۔بی ۔۔۔۔۔۔۔سی ڈی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ای جی۔۔۔۔۔
ای کے بعد ایف آتا ہے
“ الف بے پوری آتی ہے وہ سناؤ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ز ر ڑ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق ک گ ل م ن و ہ ء ی ے۔۔۔” اسنے دانت نکال کر دیکھا ۔
واہ واہ !!!مرزا زور زور سے تالیاں بجا رہا تھا ” اچھا مجھے یہ ہمیشہ بھول جاتی تھی یہ د ڈ ز سے ہمیشہ اڑ جاتا تھا میں اردو میں نمبر بھی کم ہی آتے تھے مگر انگلش پر عبور ہے میرا ۔۔۔۔۔۔۔
“ پر بابو اردو تو بی بی کہتی تھیں ہماری قق۔۔۔قامی۔۔۔
قومی !! مرزا نے اسکا لفظ درست کیا تھا ” ہاں قومی زبان ہے وہ سہی سے کیوں نہیں آتی پہلے وہ سیکھنی چاہیے تھی انگریزی تو ہماری زبان ہے بھی نہیں وہ زیادہ آتی ہے !!اس بات پر وہ کچھ شرمندہ ہوگیا تھا کہ کتنے فخر سے بتایا تھا اسنے انگش پر عبور ہے مگر اپنی قومی زبان پر نہیں ہیر نے تو اسے شرمندہ ہی کردیا ” ہاں ٹھیک ہوتا لیکچر نہ دوں اچھا خواب کیا گائیں دیکھ رہی تھی جو کھل کر بھاگ گئی ۔” ہیر نے پہلے حیرت سے اسے دیکھا اور پھر ہنس دی ہنستے ہنستے وہ تھوڑا جھکی تو اسکا دوپٹہ سرک گیا گول گلے کی قمیص سے کندھے کے پیچھے ایک کالا نشان مرزا کو نظر آیا تھا اسنے ایک دم اسکا بازو پکڑا اور اپنے قریب کرنا شروع کردیا ہیر حیرت سے اسے دیکھنے لگی وہ اسکی گردن پر جھکتا جارہا تھا اسنے کندھے سے اسکی قمیض نیچے کرنی چاہی جس پر وہ پیچھے ہٹ گئی ” بب۔۔بابو کیا کر رہے ہیں !!
“ وہاں کوئی نشان وہ دیکھ رہا تھا !! ہیر نے فورا اپنا دوپٹہ درست کیا ” کہ کوئی نشان نہیں ہے وہ تو مجھے شرم آرہی تھی .”
“ شرم میں شوہر تمہارا مجھ سے کیسے پردہ دکھاؤ کیا ہوا ہے اس دن چوٹ لگی تھی جس دن صوفے سے گری تھی ۔”
“ نن۔۔۔نہیں کوئی چوٹ نہیں لگی آپکو کچھ چاہیے !!! وہ اٹھ کر فوڈ باسکٹ کھنگالنے لگی اور وہ حیرت سے اسے دیکھتا رہ گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دائم رات گئے حویلی واپس آیا تھا جہاں امل ہاتھ پر پٹی کیے اسکا انتظار کر رہی تھی اسے دیکھ اسکے چہرے پر ڈر اور خوشی ایک ساتھ آگیا تھا اسنے چادر کندھوں سے اتار کر ڈرائنگ روم پر صوفے پر رکھ دی اور بیٹھ کر کف کھولنے لگا قمیض کے دو تین بٹن کھول کر سر صوفے پر گر لیا دونوں ہاتھ بھی پھیلا لیے تھے وہ آج سارا دن فصلوں کے چکر شہر کے چکر لگاتا رہا تھا اور اب بھی تھک گیا تھا جب امل اسکے لیے پانی لائی ” دد۔۔دائم پانی!! اسنے ایک نظر اسے دیکھا پھر اسکے ہاتھ کو دیکھا جس پر پٹی لگی تھی پھر اٹھ کر کمرے کی جانب چلا گیا وہ اداس وہیں کھڑی تھی جب فاطمہ بی آگئی ” کیا ہوا امل بیٹی ؟”
“ کک۔۔۔کچھ نہیں وہ تھک گے ہیں آرام کرنا چاہتے ہیں !!” فاطمہ بی کے چہرے پر ہنسی آگئی تھی ” وہ تھک گیا ہے تو اتار دے اسکی تھکن بیوی ہے تو اسکی جا !! اسنے حیرت سے فاطمہ بی کو دیکھا جن کے چہرے پر شرارت تھی ” مطلب ؟؟”
انھوں نے اسے کان قریب کرنے کا کہا ” جا پیار کر اس سے !”
“ ہو دادی آپ یہ !! امل کا ہاتھ منہ پر اگیا تھا اسے معلوم نہیں تھا فاطمہ بی اس قدر شرارتی بھی ہونگی وہ تو ضعیف تھیں ۔
“ لے تو بیوی اگر محبت بھری نظر شوہر پر ڈال دے تو اسکی ساری تھکن سارا غصہ سب ختم ہوجاتا ہے ! دادی کی بات پر اسنے سیڑھیوں کی جانب دیکھا فاطمہ بی جاچکی تھیں وہ اپنے آپ کو کمپوز کرتی کمرے میں چلی گئی جہاں وہ ٹراوز شرٹ پہنے واش روم سے باہر نکل رہا تھا اسنے ہاتھوں کی انگلیاں چٹکائیں گردن دائیں سے بائیں موڑی وہ بس بیڈ پر گر کر سو جانا چاہتا اسے دیکھ کر وہ کچھ لمحے سٹیٹک ہوگیا کیوں کو وہ اسے دیکھ کر مسکرائے جارہی تھی ۔” کیا ؟” اسنے آئی برو اٹھا کر اس سے پوچھا جب وہ اسکے اور قریب آئی اور دوسرے ہی لمحے اسکے ہونٹوں پر اپنے نازک ہونٹ رکھ دیے باہیں اسکے گردن میں ڈالیں پاؤں تھوڑا اوپر کیے وہ اسکے برابر ہوگئی تھی اسکے بالوں میں نرمی سے ہاتھ چلا کر اسکی تھکن خود میں سمیٹ رہی تھی ادھر دائم کی تو آنکھیں پھٹی رہ گئی چند لمحے تو وہ شاک ہی رہا پھر ایکدم دور پھینک دیا وہ سنبھلتی اسکے منہ پر ایک تھپڑ پڑ چکا تھا بالوں سے پکڑ کر چہرا اپنی جانب کیا جہاں گال سُرخ ہوگیا تھا ” کس قدر واہیات لڑکی ہو تم یہ کیا حرکت تھی ۔”
“ محبت ۔۔۔محبت تھی یہ جو آپ سے کرتی ہوں دائم بولا نہ سوری میں آپکے بغیر نہیں رہ سکتی پلیز مجھے معاف کردیں آئی لو یو سو مچ !! ” وہ پھر سے اسکا چہرا چھونا چاہ رہی تھی مگر وہ دور ہوگیا ۔” محبت یہ کیسی محبت تھی تمہاری امل ۔جس پر تم نے میری عزت داؤ پر لگائے مجھے بدنام کردیا میں صرف تمہاری ضد تھا جو تم نے پوری کرلی اب اپنا حسن اپنی محبت مجھے مت دکھاؤ دل پھینک مرد نہیں ہوں !
“ دائم سوری پلیز ائم سوری بھول جاتے ہیں نہ سب ایک نئی زندگی شروع کرتے پیار کرتے ہیں ایک دوسرے کی کئیر کرتے ہیں !!” مگر وہ انسنا کرکے لیٹ گیا وہ مایوسی سے صوفے کی جانب بڑھ گئی اور وہاں جاکر اسکی چیخ نکل آہہہ!!! دائم نے کمبل ہٹا کر اسے دیکھا جو صوفے کو گھورتی کانپ رہی تھی .”
“ کیا تکلیف ہے ؟” اسنے دائم کی جانب دیکھا چچچ۔۔۔چھپکلی مجھے فوبیا ہے !”دائم کمبل ہٹا کر ننگے پیر کی اسکی جانب آگیا تھا چھپکلی اور اسکی حالت دیکھ وہ لطف اندوز ہوا تھا اسکے زہن ایک شیطانی خیال آیا اسنے خاموشی سے ہاتھ آگے بڑھایا اور دم سے چھپکلی اٹھا لی ” او سو کیوٹ اٹ از !!! اور سیدھی امل کی جانب کردی جو چیختی پیچھے ہوگئی ” دد۔۔۔دائم پلیز اسے دد۔۔۔دور رکھیں میں نے بے ہوش ہو جانا ہے مجھے فوبیا ہے مگر دائم نے اسکا ہاتھ کھینچ کر اپنے ساتھ لگا لیا اسکے کمر میں مضبوطی سے ہاتھ ڈالے وہ اسے نکلنے نہیں دے رہا تھا ۔ اور چھپکلی اسکے چہرے کی جانب کردی ” دیکھو کتنا مشکل ہوتا ہے جن چیزوں سے نفرت ہو وہ قریب ہو تو کتنی برا لگتا سوچو میں تمہیں کیسے برداشت کرتا ہوں !!! اسکے سینے میں منہ چھپائے وہ کانپ رہی تھی جب اسے اپنے کندھے پر کچھ رینگتا ہوا محسوس ہوا وہ چھپکلی اسکے کندھے سے اوپر بالوں میں گھسنے کی کوشش کی اسنے جھٹکنی چاہی مگر اسکے دونوں ہاتھ دائم کے ہاتھ میں تھے ” دائم پلیز !!! وہ بے تحاشہ روتی اس سے اپنے ہاتھ چھڑا رہی تھی مگر دائم کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا چند لمحوں بعد وہ وجود اسکی باہوں میں ہی ساکن ہوگیا تھا اسنے چھپکلی اٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینکی اور اسے صوفے پر ایک نظر اسے دیکھا اور جاکر سو گیا ۔یہی ہوتا ہے جب بلاوجہ لوگ ایک دوسرے پر مسلط کردیے جاتے دائم کی زندگی میں امل۔ مسلط تھی جسے اسے ہیر کے لیے اپنانا تھا ساتھ رکھنا تھا مگر اب وہ کیسے رکھتا اسکی مرضی ہیر مرزا پر مسلط ہوئی تھی صرف ایک وعدہ نبھانے کی غرض میں مرزا اسے تکلیف دے رہا تھا دانیال فری کی زندگی میں مسلط ہوا تھا آہنی غلطی کی وجہ سے اسکی عزت بچانے کے خاطر مگر فری اسے اپنا مجرم سمجھ کر اسکی اچھائی نہیں دیکھ پا رہی تھی ۔ایک سال پہلے پر فریحہ کو لگتا تھا نعمان اور منان دونوں اسکی زندگی پر مسلط ہوئیں نہ وہ نعمان سے نکاح کرنا چاہتی تھی نا منان کو دنیا میں لانا چاہتی تھی مگر آج وہ تڑپ رہی تھی ان دونوں کے لیے یہ اسکی سزا تھی نوشین فائق شیرازی کی زندگی میں اس پر مسلط ہوئی تو جو اس دنیا سے جا چکا تھا مگر مرنے کے بعد بھی اسکا خوف نوشین اور مہتاب کی زندگی میں مسلط ہو جانا تھا علیم نے اپنے کام سے وفا کے لیے منال کو دھوکا دیا تھا منال ہرٹ ہوگئی تھی انکی زندگی میں بدلہ مسلط ہونے والا تھا جوجو اور زی زی بچے تھے مگر شیطانی سوچ ان پر غالب آگئی وہ دو معصوم جانوں کو روندنے والے تھے جسکے بدلے میں صرف لمبا ہجر ان دونوں پر مسلط ہونا تھا مسلط کی یہ کہانیاں درد اور تکالیف کا گہوارا بنے والی تھیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ تھینک یو سو مچ مسٹر میتھیو فار دس کانٹریکٹ مجھے پورا یقین تھا آپ ہمارے پروجیکٹ میں انویسٹ کرنے کے لیے تیار ہونگے تو اب آپ مجھے ملائیں گے اپنے ان پاکستانی فرینڈز سے جو آپکے ساتھ ڈرگ ڈیلنگ کرتے ہوں !
“ یس آئی ول کال یو فار دیٹ ! مسٹر میتھیو نے فون بند کردیا تھا ” 50 کروڑ مسٹر میتھیو ہمارے پروجیکٹ میں پچاس کروڑ انویسٹ کررہے ہیں ترقی پذیر ملک کو بلکل ہی ڈبونے کے لیے پچاس کروڑ لگا رہا اب بنے گا دی ڈریم ولا وہاں شراب کے ساتھ شباب بھی ہوگا اور ہوگا اس ملک کا فیوچر اور تب ٹوٹی گی اسکی ریڑھ کسی ٹک کرکے بس ایک دفعہ وہ تمام ڈیلرز مل جائیں تو مسٹر میتھیو کے ساتھ ڈیلنگ کرتے ہیں ۔”
“ سر تو کل پھر ایریا وزٹ کے لیے پاکستان چلیں !”
فلائٹس اوپن ہوگئی پھر تو میری بیوی بھی پاکستان جارہی ہوگئی چلو ہم بھی چلتے ہیں !” آہستہ آہستہ پیر رکھتا وہ کمرے میں چلا گیا تھا اور علیم پیچھے ٹکٹس بک کرنے کام سے فارغ ہوکر وہ ایکدم صوفے پر بیٹھا تھا جب پیٹ میں درد ہوا تو زخم کا خیال آیا اور ساتھ ہی کسی اور کا ” سوری کائنڈ اینجل تم بہت اچھی تھی آج اگر زندہ ہوں تو آپ کی وجہ سے مگر آئی نو میں نے آپکو چیٹ کیا بٹ کوئی بات نہیں وہ سارے مسائل حل کرلو کیونکہ اب بے نقاب سامنے جاؤں گا ۔۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔
ارمان فون پر بات کرتا گھر سے نکلا تھا وہ دوسرے شہر بذریعہ اپنی گاڑی کے جا رہا تھا مگر یہ جانے بغیر کی سفر پولیس سٹیشن جاکرختم ہوجانا تھا کوئی تھا جو اپنا کام کرہا تھا وہ چیک پوائنٹ سے گزر رہا تھا جہاں دانیال گاڑیاں چیک کررہا تھا اسے دیکھ کر ارمان کی آنکھوں میں لہو اتر آیا تھا اسنے حولدار کو بلایا ” یہ سب کیا ڈرامہ ہے !”
“ سر انسپیکٹر دانیال کو خبر ملی ہے کہ یہاں سے سمگلنگ کا سامان گزرنے والا ہے اسلیے گاڑیاں چیک کررہے ہیں !”
“ ٹھیک کرتے رہنا لیکن پہلے میری گاڑی گزرنے دو! تب تک دانیال بھی اس تک پہنچ گیا تھا ” شاہد گاڑی چیک کرو !”
“ واٹ ہو دی ہیل آر یو بلڈی انسپیکٹر تم میری ایم این اے نعمان شیرازی کے بھائی کی گاڑی چیک کرو گے ۔”
“ تم چاہے ایم این اے کے بھائی کا صدر کے قانون سب کے لیے یکساں ہیں نکلو گاڑی سے !!! مگر ارمان بضد تھا حالانکہ وہ عکر دانیال سے چھوٹا صرف بائیس تئیس سال کا لڑکا تھا ” لائسنس !!
اسنے گھور کر دانیال کو دیکھا اور ڈیش بورڈ کھنگالا تو لائسنس نہیں تھا اسکے ماتھے پر شکنیں آگئی تھیں ” لائسنس نہیں ہے !” دانیال کے چہرے پر پر اسرار مسکراہٹ آگئی تھی ” واہ ملک کے حکمران کا بھائی جو قانون بنانے والے ہیں انکی اپنی فیملی اس قدر وائلنٹ ہیں ۔اتریں گاڑی سے شاہد گاڑی چیک کرو !!
وہ خاموشی سے باہر آگیا شاہد اسکی گاڑی چیک کررہا تھا وہ تو عجیب طریقے سے چیک رہا تھا جب اسنے گاڑی کی پچھلی سیٹ کھولی تو ایک پیکٹ نکل آیا ” سر !! شاہد پیک لیکر آرہا تھا دانیال کے آنکھوں کے سامنے کل رات کا منظر چل رہا تھا۔
گزشتہ رات ۔۔۔
فری اسکی گود میں ہی سر رکھے سوگئی تھی مگر اسکا روم روم جل رہا تھا غصے میں وہ ارمان شیرازی کو تکلیف دینا چاہتا تھا اسکی مردانگی نکالنا چاہتا تھا ۔اسنے فری کا سر تکیے پر رکھا اسکے ماتھے پر ہونٹ رکھ کر چند لمحے وہیں رہنے دیے پھر کمرے باہر آکر فون نکالا ” ہیلو مہتاب !”
“ کیا بات دانیال سب ٹھیک !!!
“ مجھے تھوڑی دیر تھانے میں مل !!!” مہتاب کو اس بات پر حیرت ہوئی تھی مگر اسنے کوئی سوال نہیں کیا کچھ دیر بعد وہ دونوں تھانے کے سٹورروم میں تھے جہاں دانیال نے ایک پیکٹ پکڑ رکھا تھا ” یہ کیا ہے ؟” مہتاب نے پیکٹ کو دیکھ کر کہا ” چرس کچھ دنوں پہلے چھاپہ مارا تھا وہاں ملی تھی آج اسے استمعال کرنے کا وقت آگیا ہے !
“ چل !! وہ آگے بڑھ گیا مگر مہتاب ابھی بھی کنفیوز تھا ” تو کیا کرنا چاہتا ہے ؟” آگے بڑھتے اسنے اسے کھینچ کر پوچھا ” گیم ارمان شیرازی کے ساتھ گیم اسے دھونا ہے مجھے یہ چرس ہمیں کسی طرح اس تک پہنچانی ہیں ۔ ” گاڑی میں بیٹھ کر وہ سارے راستے حل سوچتے آئے تھے وہ لوگ شیرازی مینشن پہنچ چکے تھے جہاں ہر طرف گارڈز کی گارڈز تھے ” دانی یار بہت سکیورٹی ہے !” دانیال بھی چھپ کر انھیں ہی دیکھ رہا تھا ۔ ” ہمم گیٹ پر دو مین ڈور پر دو چھت پر ایک اور بیک سائیڈ میں بھی دو ہیں ہمیں مین گیٹ کے گارڈز کا کچھ کرنا ہے !! وہ لوگ چھپتے چھپاتے گیٹ قریب پہنچے انھیں بس گیٹ کے کیمراز میں نہیں آنا تھا ۔انھیں گارڈز کو گیٹ سے دور لانا تھا اسلیے انھوں نے اسکا بھی انتظام کیا تھا دانیال نے اپنی جیب میں سے کچھ نکالا جسے دیکھ کر مہتاب دنگ رہ گیا ” پٹاخہ !!! دانیال نے اسے آنکھ ونک کی پٹاخہ جلا کر اسنے گیٹ سے دور پھینک دیا تھا دھماکے کی آواز سن کر وہ دونوں گارڈ گیٹ سے انکی جانب آنے لگی تھی وہ کچھ پاس ہی آئے تھے جب وہ ان پر جھپٹ پڑے تھے انھیں بے ہوش کرنے کے بعد انکے کپڑے پہنے اور بلیک ماسک چہرے پر چڑھا لیے بندوقیں تھامیں وہ گیٹ پر چند لمحوں کے لیے کھڑے ہوگئے تھے جب ایک گاڑی آئی انھوں نے گیٹ کھولا تو وہ اندر آگیا بلیو جینز وائٹ ٹی شرٹ پر بلیو جیکٹ دانیال اور مہتاب اسکے ساتھ ہی اندر آئے تھے وہ نشے میں دھت تھا اسلیے گاڑی کی چابی گارڈ کو اچھال دی جو مہتاب نے پکڑ لی ان دونوں کی آنکھیں چمک اٹھی تھی ” یس!!” وہ اندر کی جانب بڑھ گیا تھا ۔اب انھیں گاڑی میں پیکٹ رکھنا تھا مگر گیراج میں تو پہلے ہی دو گاڑیاں کھڑی تھی تیسری یہی پارک ہونی تھی مگر سامنے تو کیمرا لگا تھا ۔ مہتاب ڈرتا ڈرتا ایک گارڈ کے پاس گیا ” ارے یار مجھے لگتا گیٹ کے کیمراز کام نہیں کررہے کنٹرول روم کہاں میں چیک کرلوں !”
“ کنٹرول روم باہر کے گارڈز آلاو نہیں ہے تم یہی رکو میں دیکھتا ہوں !” وہ جانے لگا تو مہتاب پھر بول پڑا ” یار مجھے بھی دکھا کنٹرول روم میں نے کبھی سی سی ٹی وی کنکشن نہیں دیکھا نیا نیا گارڈ بھارتی ہوا ہوں پلیز !
“ ٹھیک مینشن کے اندر گراونڈ فلور پر دائیں طرف کچن ہے اسکے ساتھ جو کمرا لاکڈ ہے وہ کنٹرول روم ہے یہ اسکی چابیاں ہیں !! چابیاں لیکر دانیال کو اشارہ کرکے وہ اندر بڑھ گیا مینش کیا پیلس تھا نعمان شیرازی کے کالے پیسے سے بنا سفید محل تھا وہ مطلوب کمرے میں چلا گیا جہاں سکرین جگمگا رہی تھی گھر کے بیک سائیڈ کی فرنٹ کی سائیڈ کی مینشن کے حال ویز کی کمروں کی جہاں ایک کمرے میں ارمان بیڈ پر گرا پڑا تھا اور ایک کمرے میں دو جڑواں لڑکے گیم کھیل رہے تھے ایک کمرے میں کوئی عورت کتاب پڑھ رہی تھی وہ شاید نعمان کی بہن تھی ۔ اسنے لان سائیڈ کی کوریج دیکھی جہاں گاڑی کے پاس دانیال ننھا سا ہلا رہا تھا اسنے ادھر ادھر دیکھ کر وہ کیمرا آف کردیا سکرین سیاہ ہوگئی کمرا لاکڈ کرکے وہ باہر آیا چابیاں گھمائے اور دانیال کے پاس آگیا گارڈز ان سے کچھ دور تھے اسلیے انھوں نے گاڑی کھولی سیٹ کھول کر پیکٹ رکھا جاتے جاتے مہتاب کی نظر ڈیش بورڈ پر لائسنس پر پڑی جو اسنے اٹھا لیا باہر آنے کے بعد انھوں نے ان بے ہوش گارڈ جو کچھ کچھ ہوش میں آرہے تھے انکی مخصوص نبض دبا کر بے ہوش کیا اپنے کپڑے پہنے اور نکل آئے راستے میں مہتاب نے اسکا لائسنس بھی جلا کر راکھ کردیا تھا ۔
موجودہ دن ۔۔
یو آر انڈر اریسٹ مسٹر نعمان شیرازی ان کیس وہ ڈرگز !”
“ واٹ یہ۔۔۔۔یہ میرا نہیں ہے میں نے نہیں رکھا !! مگر دانیال اسکی سن کہا تھا اسے ہتھکڑی لگا کر وہ پولیس سٹیشن لیجا رہا تھا ۔
جاری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨………
پھر مجھے ترس ہی اجاتا ہے