Musalat By Binte Aslam Readelle50190 Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
وہ زمین پر خون سے لت پت اس سے معافیاں مانگ رہا تھا اور وہ بوسیدہ شلوار قمیض جو کئی جگہ سے پھٹا تھا ننگے پر پیر لمبے الجھے بال چہرے پر لگی مٹی وہ بڑا سا پتھر اٹھائے اسکی جانب آرہی تھی ” مجھے مت مارو میں معافی مانگتا ہوں تم سے پلیز مجھے مت مارو !
“ تت۔۔تم نے مجھے معاف کیا تھا میرے بچے کو معاف کیا تھا تم نے مجھے تکلیف کی ہر حد دکھائی اب تمہاری باری ہے تم اس دنیا کے سب سے زلیل مرد ہو تمہں مر جانا چاہیے جہنم کی آگ بھی تمہیں لپیٹنے کے لیے تڑپ رہی ہوگی !!! اسنے اپنی پوری ہمت مجع کر کے وہ بھاری پتھر اسکے چہرے پر مار چکی تھی اسکا چہرا پچک گیا تھا کچھ لمحے وہ تکلیف سے تڑپتا رہا پھر ساکن ہوگیا اسنے اپنے چہرے سے خون صاف کیا اسکے کپڑے ہاتھ پیر چہرا سب پر خون لگ گیا تھا اور وہ خود پاگلوں کی طرح ہسنے لگی تھی پھر حواس قائم ہوئی تو وہاں سے بھاگ گئی وہ کوئی جنگل تھا جہاں وہ تھی آج اسے آزادی مل گئی تھی وہ سرپٹ دوڑ رہی تھی لمبے لمبے سانس لیتی رکتی مُڑ کر دیکھتی پھر بھاگنے لگتی شام ہورہی تھی اسکے پیر میں کانٹے چبھ رہے تھے مگر اسے اس عذاب سے فرار چاہیے تھا ۔
“ جی امی آجاؤں گا بلکہ پہنچ رہا ہوں !” وہ گاڑی چلاتا فون پر بات کررہا تھا ” دیکھ مہتاب ٹائم سے انا یہ رشتہ اگر نہیں ہوا تو میں بات نہیں کروں گی !”انکی بات سن کر مہتاب کا دل ڈوب گیا خیر وہ اب کونسا وہ اسکی زندگی میں تھی تو کیا فرق پڑتا کون آرہی ہے ” جی امی پہنچ جاؤ گا اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” فون پر بات کرتے اچانک گاڑی کے سامنے ایک ہیولہ سا آیا تو اسنے یکدم سٹئیرنگ گھمایا وہ چکرا کر سڑک پر گر گئی تھی ۔ کچھ دور جاکر اسنے گاڑی پر بریک لگائی اور پیچھے دیکھا جہاں اوندھے منہ گری تھی ۔ایکدم گاڑی سے اترا وہ ڈ رہا تھا کہیں کو چڑیل یا بلا تو نہیں حالت بھی کافی ابتر تھی گھٹنوں کے بل بیٹھے اسنے اسکے کندھے کو چھوا ” سُنیں ! مگر وہ نہ ہلی ” آپ ٹھیک ہیں ؟ مگر بے سُدھ آخر سے کندھے سے کھینچا تو اسکا خون آلودہ چہرا اسکے سامنے آگیا اور آفتاب کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی تھی ۔
میرے دل میں بے بسی کا فشار ہے
یہ کس کے عشق کا تماشا ہے جو سرِ بازار ہے
صفوں کو چیرتا جو پہنچا پہلی قطار میں ۔۔۔۔
اڑ گئے میرے ہوش و حواس ہیں ۔۔۔۔۔۔
دکھا ایک وجود بکھری ہیں جسکی زلفیں پھٹا جسکا لباس ہے ۔۔۔
کس بے بسی کے عالم میں پھر رہا ہے عشق میرا ۔۔۔۔
میری روح جس کے ساتھ ۔۔۔۔۔
میرے دل۔میں بے بسی کا فشار ہے ۔۔۔۔۔۔
“ انکھیں کھولو پلیز آنکھیں کھولو !! اسنے اسے گاڑی میں ڈالا اور گاڑی ہوسپیٹل کی جانب بڑھا دی ۔
ڈاکٹر اسکا چیک اپ کررہی تھیں اسنے مرزا اور دانیال دونوں کو بلا لیا تھا وہ تینوں بہترین دوست تھے وہ پریشانی کے عالم میں روم کے باہر چکر کاٹ رہا تھا جب ڈاکٹر اسکے پاس آئی ” پیشنٹ کی کنڈیشن اچھی نہیں انھیں مینٹلی فزیکلی ٹارچر گیا ہے ملٹیپل ریپ ہوئے ہیں انکی باڈی ہر لاتعداد سگریٹ کے نشان ہیں اور سب خبر ہے کہ وہ اپنا بچہ کھو چکی ہیں ! مرزا اور دانیال کے ہاتھ بے ساختہ ہاتھ منہ کو آگئے تھے اور مہتاب الٹے قدم لیتا دیوار سے جا لگا تھا جب نرس آئی ” سر آپ کے فارم فِل نہیں کیا ” پیشنٹ کا نام بتا دیں ؟”
“ پیشنٹ ہمیں نہیں معلوم لاوارث ملی ۔۔۔۔
“ نوشین احمد !!! مرزا جو نرس کو بول رہا تھا مہتاب کے منہ سے نکلے نام پر اسے دیکھنے لگا نرس جاچکی تھی وہ سرہاتھوں میں گرائے چئیر پر بیٹھ گیا جب مرزا اور دانیال اسکے پاس بیٹھ گئے ” تو وہ ہے نوشی !!!” وہ بے ساختہ مرزا کے گلے لگ کر رو دیا تھا ” یہ اسے کیا ہوگیا کیسے ہوگیا اسکی تو شادی ہوگئی تھی اسکی یہ حالت کیسے ہوئی !!”مرزا نے اسے خود سے الگ کیا ” جب تو اس سے وعدہ کرکے آیا تھا کہ پولیس ڈپارٹمنٹ جوائن کرنے کے بعد تو اسے اپنا لے گا تو کیوں نہیں گیا واپس اپنے گاؤں !!”
“ میں گیا تھا گیا تھا مرزا مگر وہاں جاکر پتہ چلا نوشی کے والدین بس حادثے میں مر گئے تھے گاؤں کے سر پنچ نے اسے اپنی بیٹی بنا لیا لڑکا اچھا تھا شہر میں سرکاری نوکری کرتا ہے سب کہہ رہے تھے میں نے ڈھونڈنا چاہا تو کوئی کچھ بولا ہی نہیں مجھے لگا وہ جہاں ہوگی خوش ہوگی مگر !!!! وہ سر ہاتھوں میں گرائے مرد ہو کر بچوں کی طرح رو رہا تھا آتا جاتا سٹاف اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا ” بچارا اس لڑکی کی وجہ کتنا رو رہا ہے لگتا محبت کرتا ہے اس سے !! ایک نرس نے دوسری سے کہا ۔
“ سر پیشنٹ کو ہوش آگیا ہے آپ مل سکتے ہیں !! مرزا نے مہتاب کا ہاتھ پکڑا ” نن۔۔نہیں میں اسکا سامنا نہیں کر پاؤں گا مرزا پلیز !!!
“ بکواس بند اُٹھ پوچھ اس سے !!! وہ نفی میں سر ہلا رہا تھا جب دانیال نے مرزا کو روک دیا ” جانے دے مرزا جب شرمندگی کا کیڑا کاٹتا ہے نہ تب سامنا نہیں ہوتا دو دن ہوگئے ہیں فری کو میرے نکاح میں اس سے آنکھ اٹھا کر بات نہیں کرپاتا تو اسکے والی پر تو قیامت گزری ہے تو ایک کام کر منال کو بلا وہ نفسیاتی ڈاکٹر ہے وہ ملے نوشی سے پتہ لگوا ہوا کیا ۔”
“ نہیں منال نہیں !” ان دونوں نے حیرت سے اسے دیکھا ” منال کے گھر والے منال کے لیے میرا رشتہ چاہتے اور کل ہی منال۔نے مجھ سے اظہارِ محبت کیا تھا مجھے لگا نوشی نہیں ملے گی تو ہاں کردی میں اسکا بھی سامنا نہیں کرپاو گا یا اللہ کا مصیبت میں پھنس گیا ہوں میں !”اچانک اسکا فون بجا ” ہیلو مہتاب آپ کدھر ہیں امی ابو گھر آئے ہوئیں پلیز آجائیں !” منال کا فون تھا جو سپیکر پر تھا مہتاب تو کچھ بول ہی نہیں رہا تھا دانیال نے اسکے ہاتھ سے فون لیا۔ ” ہیلو منال میں دانیال بات کررہا ہوں !
“ ہہ۔۔ہاں دانیال مہتاب کہا ہے ؟”
“ ہم سب ہوسپیٹل میں ہیں تم یہاں آسکتی ہو .” اسکی بات پر وہ پریشان ہوگئی تھی ” ہو سپیٹل مہتاب تو ٹھیک یا مرزا !
“ سب ٹھیک ہیں ایک کیس ہے ۔جلدی آجاو !” دانیال نے فون بند کردیا کچھ دیر بعد منال جب ہوسپیٹل پہنچی تو مہتاب کی حالت اسے کچھ غلط ہونے کا احساس دلا گئی ” منال اندر ایک فی میل پیشنٹ ہیں اور شاید وکٹم بھی مطلب کچھ غلط ہوا ہے اسکے ساتھ وہ کسی کی بات نہیں سن رہی بس یہی کہہ رہی ہے مجھے چھوڑ دو مجھے چھوڑ دو تم اس سے بات کرسکتی ہو ؟” دانیال کی بات سن کر اسنے مہتاب کی جانب دیکھا جسکا رو رو کر برا حال تھااسکے پاس نیچے بیٹھ گئی ” مہتاب کون ہے وہ اسنے اداس نظروں سے اسکی جانب دیکھا ” نوشی !! وہ خاموشی سے اٹھی اور اندر چلی گئی وہ جانتی تھی اب کیا کہے کسی چیز کا کوئی فائدہ ہی نہیں وہ کمرے میں داخل ہوئی تو چہرا دائیں طرف کیے غیر مرائی نقطے کو دیکھ رہی تھی جب قدموں کی چاپ سن کر اسکے کانوں نے حرکت کی منال کو دیکھ اسکی سانس تیز ہوگئی تھی وہ ڈرپس کھینچتی بھاگ جانا چاہتی ” ڈونٹ پینک میں ڈاکٹر ڈاکٹر ہوں نوشین میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گی میں تمہاری دوست ہوں !” وہ حیرت سے اسکی جانب دیکھنے لگی وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی اسکے پاس آئی اور بیٹھ گئی ” تو تمہارا کیا حال نوشین !! وہ غور سے اسکی جانب دیکھ رہی تھی اسکے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا ” میں کب تک مر جاؤں گی؟” اسکے سوال نے منال کو حیرت میں ڈال دیا تھا ” کیا مطلب کب تک مرجاؤ گی ؟”
” مطلب خودکشی نہیں کر سکتی قدرتی موت کب تک آئی گی ؟”
“ یہ اب مجھے تھوڑی نہ پتا ہے تم کیوں چاہتی ہوں مرنا مرنا آسان لگتا ہے ؟”
“ جینے سے زیادہ آسان لگتا ہے !٫ وہ گہری سوچ میں مبتلا ہوتی جارہی تھی ” کون ہو تم کیا ہوا تھا تمہارے ساتھ مجھے بتاؤ میں تو تمہاری دوست ہوں نہ اور دوستوں سے کچھ نہیں چھپاتے ؟” وہ مسکراتی اسکا ہاتھ سہلا رہی تھی جس پر اسنے اجنبی آنکھوں سے اسے دیکھا ” میں نے قتل کیا ہے ؟اسکے ہاتھوں پر موجود منال کا ہاتھ کانپ گیا تھا اور ساتھ کال پر کنیکٹ وہ تینوں بھی حیران رہ گئے تھے ۔منال نے زبردستی مسکرانے کی کوشش ” کک۔۔کیوں کیا قتل کس کا ؟”
“ آپ دوست ہو نہ ڈر کیوں رہی میں بتاتی ہوں نہ ! اسنے اسکی گال پر ہاتھ رکھا منال نے حیرت سے اسے دیکھا جو اسے دیکھ کر گال پر ہاتھ رکھے مسکرا رہی تھی ” اپنی شوہر کا وہ بہت گندا تھا جانتی وہ کیا کرتا تھا !! ساتھ ساتھ وہ منال کے بالوں کو دیکھ رہی تھی پھر اچانک انھیں کھینچ دیا ” آہ !! منال کے منہ سے چیخ نکلی جس پر وہ تینوں پریشان ہوگئے ” وہ میرے ایسے بال کھینچتا تھا ارے تم ۔۔تم ڈر گئی سوری سوری !! اب وہ اسکے بال سہلا رہی تھی ” میں کیسے بتاؤ کے وہ کیا کرتا تھا کتنا مارتا تھا مجھے کہتا تھا مجھے تم اچھی نہیں لگتی تم مسلط ہوئی ہو مجھ پر میں خود تو نہیں ہوئی تھی نہ اسکے باپ نے شادی کی تھی مجھ سے اسکی پھر میں مسلط کیسے مسلط تو وہ چیز ہوتی ہے نہ جو زبردستی کسی پر تھوپی جاتی نہ کردیتا مارتا کیوں تھا میں کسی کو بتاتی کہتے شوہر ہے اسکے ماتحت رہو وہ کچھ بھی کر سکتا ماتحت تھی پیر کی جوتی تو نہیں تھی جو گھسیٹے جارہا تھا !!! ” وہ حیرت سے اسکا منہ دیکھ رہی تھی ” روز نشہ کرتا تھا روز مارتا کبھی جوتوں سے کبھی بیلٹوں سے کبھی تھپڑ تو کبھی زیادتی کرتا تھا ہر روز ہزار موت مرتی تھی پھر ایک دن مجھے خبر ملی کے میں حاملہ ہوں !” اسنے مسکرا کر اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا منال کے آنکھیں کھارے پانی سے بھر گئی تھی اسے اپنا روم روم کانپتا محسوس ہورہا تھا ” ایک چھوٹا وجود میرے اندر سانس لے رہا تھا چاہے وہ اسکے لیے نشے میں ہوئی ایک غلطی تھی مگر میری تو اولاد تھا میں خوش ہوگئی کہ شاید وہ اب ٹھیک ہو جائے مگر ۔۔۔۔۔۔پیٹ پر گرفت مضبوط کرتے وہ رو دی تھی “ایک دن نشے میں مجھے مارتے اسنے میرے بچے کی سانس بھی توڑ دی !” مہتاب کے ساتھ ساتھ دانیال اور مرزا کی بھی آنکھیں بھر گئی تھیں وہ تینوں آٹھ کر ونڈو کے پاس گئے جہاں وہ پیٹ پر ہاتھ رکھے رو رہی تھی منال کا حال ان سے بھی برا تھا ” میں بارہویں تک پڑھیں ابا زمینداروں کی زمین پر کام کرتے تھے میری شادی ہونے والی تھی مہتاب پولیس والا بنا چاہتا تھا وہ شہر آگیا مجھ سے شادی کا وعدہ کر کے میں اسکا انتظار کرنے لگی ابا اماں خوش تھے ابا جو کماتے میرے جہیز پر لگا دیتے اس دن وہ میرے فرنیچر کا آرڈر دینے گئے تھے واپسی پر بس جس اڈے پر رُکی وہاں دھماکا ہوگیا اماں ابا مر گئے میں اکیلی رہ گئی ہر کسی کو تو جیسے دعوت مل گئی مجھے لوٹنے کی عزت بچاتی بھاگنے لگی میں مہتاب کا کچھ پتہ نہیں تھا وہ واپس ہی نہیں آیا اور سرپنچ نے مجھے اپنے نشئی بیٹے بیاہ دیا اور میں جہنم میں قید ہوگئی اسنے مجھے مارا سگریٹ سے جلایا میرا بچہ مار دیا بچے کے بعد میں اس سے چھپنے لگی اور وہ مجھے بھوکے کتے کی طرح ڈھونڈنے لگا پھر ایک دن وہ مجھے یہاں لا کر لاہور کے ایک سنسان جگہ پر بند کردیا پھر وہی سب کچھ ایک سال برداشت کیا میں نے جب پھر ایک خوشی کی نوید ملی تب سوچ لیا اس بار نہیں اس بار میں میرے بچے کچھ نہیں ہونے دوں گی مگر کھانے نہ کھانے کی وجہ کمزور تھی وہ خودی مر گیا !!! مہتاب دیورا کے ساتھ نیچے ہی بیٹھ گیا تھا منال کا دل کر رہا تھا اسکے مرے ہوئے شوہر کے ہزار ٹکڑے کردے دل تو دانیال اور مرزا کا بھی یہی تھی ” پھر غصہ آگیا ایک دن بہت غصہ آگیا وہ مجھے مارنے لگا تو ہمت کی اور ڈنڈا چھین لیا زور زور سے مارا پورے دو گھٹنے ڈنڈو سے مارا اسکی ساری ہڈیاں توڑ دی وہ کراہنے لگا وہ تڑ پنے لگا مجھے جیسے سکون ملنے لگا وہ منت کررہا تھا معافیاں مانگ رہا تھا مجھے خوشی ہورہی تھی پھر اتنا بڑا ۔۔۔۔اسنے منال کے سامنے ہاتھوں کو وسیع کھول کر کہا ” اتنا بڑا پتھر اسکے منہ پر مار دیا اسکا سر کچل دیا سانپ کا سر ہی کچل دینا چاہیے پھر میں بھاگ گئی اور پھر میری گاڑی سے ٹکڑ ہوئی پھر میں یہاں آگئی جہنم سے جان چھوٹ گئی میں اپکے گلے لگ کر رو لو !!اسنے التجایا نظروں سے اسے دیکھا منال نے بے ساختہ اسے گلے لگا وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی وہ اسکی کمر سہلا رہی تھی اسکے بالوں پر لب رکھے پھر اسکا چہرا تھاما ” تم بہت بہادر بہت سلیوٹ یو ! اسنے ماتھے پر ہاتھ رکھا تو بس دیکھتی رہی تھی ” اور جہاں تک رہی بات قتل کی تو تم نے کوئی قتل نہیں کیا دوبارہ یہ لفظ کسی سے مت کہنا ٹھیک اور میں تمہاری دوست ہوں ٹھیک ہے جب بھی تمہں مجھ سے ملنا ہو دوسری ڈاکٹر سے کہنا میری دوست کو بلا دو میں آجاو گی ابھی بتاؤ کھانا کھایا ” اسنے نفی میں سر ہلا دیا ۔
“ کیا کھاؤ گی بتاؤ مجھے ؟”
“ کچھ بھی کھلا دو تین دن سے تو کچھ نہیں کھایا کچھ بھی دے دو بہت بھوک لگی ہے .”
“ میں ابھی لاتی ہوں ! اس سے مل کر باہر آئی وارڈ بوئے کو بلایا اور پیسے دے دیے ” کیسی ہے وہ ؟”مہتاب ایک دم سے اسکے سامنے آیا ” سن تو چکے ہو کیسی ہے انسان تھا یا جانور اور اس سے زیادہ قصور وار تم ہو اسکے جو اپنا وعدہ وفا نہیں کرسکے ۔”مرزا ان دونوں کی باتیں سن رہا تھا اور دانیال فون میں مصروف تھا ” دانیال کیا خزانہ مل گی اس میں ؟”اسنے مرزا کی جانب دیکھا ” خزانہ سمجھ لے اسکے گاؤں کا سرپنچ اشتیاق اصل۔میں اشتیاق شیرازی یعنی نعمان شیرازی کا چچا !!” مرزا نے غصے سے پاؤں زمین پر مارا ” سالہ پورا کا پورا خاندان رجسٹرڈ بغیرت ہے !”
“ بٹ ڈونٹ وری اسکی گردن دبوچنے کی تیاری کرلی ہے میں نے نوشین اور فری یہ دونوں ہی ہیں جو ہماری مدد کرسکتی ہیں ہمیں انکو اتنا سڑرونگ بنانا ہے کہ کورٹ میں گواہی دے سکیں پہلے امل پھر فرحین اب نوشین ناجانے کل شکار میں کون ہوگی !”
“وہ ایک بزنس مین ایک کرپٹ پولیٹکل لیڈر ہے جو عوام کو خود تکلیف میں ڈال کر انکی مدد کا ڈھونگ رچاتا ہے عوام کو دکھانے کےلیے پروجیکٹ شروع ضرور ہوتا ہے لیکن آج تک مکمل نہیں ہو پایا بجلی کی بل اور پڑولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر انکا لہو نچوڑنا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ نہ تو گرمی میں پنکھا بند رہ سکتا ہے اور نہ آنا جانا عوام کو ہر صورت یہ کرنا پڑتا ہے ۔فلاں نمبر میسج کریں آپکو آٹا یا دال راشن مفت مل جائے گا تین روپے میں ایک میسج ہوتا ہے کروڑوں عوام میسج کرتی ہے چند دن راشن آٹا دے سالے کروڑوں کما رہے ہیں اوپر اور انکے کاریندے اپنا غنڈا راج چلا کر بیٹھے ہیں جسکا جو دل ہے وہ کررہا ہے دو کوڑے کے غنڈے پولیس کو دھمکی دے کر چلے جاتے ہیں اور ہم قانون کی زنجیر میں بندھے کچھ کر نہیں پاتی ہمارے لیڈر ہمارے سئنیرز تک بکے ہوئے ہیں دوسرے ممالک سے قرضہ ہمارے نام پر لیا جاتا ہے لیکن ہمارا غریب روز غریب سے غریب تر ہوتا جارہا ہے نشے کی لت ہماری جوان نسل کو لگا کر ہماری ریڑھ کی ہڈی توڑ رہے ہیں یہ لوگ براڈ اوپن مائنڈ کا نام دے کر ہماری جوان نسل میں غیر محرم کے ساتھ گھومنا پھرنا اسے اظہارِ محبت کرنا سکھا رہے ہیں پورن ویڈیوز بلیو فلمز دکھا کر حوس اور گندگی پھیلا رہے ہیں آج ایک چھے سال کی بچی دوکان پر چیز لینے نہیں جاسکتی کیوں کہ دوکان دار کو گرمی چڑھی ہوتی ہے ایک پل میں کیا سے کیا ہوجاتا ہے !!!!وہ منہ پر ہاتھ رکھے رو دیا تھا ۔مرزا نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا ” آدھا گھنٹہ لگا تھا مجھے پولیس سٹیشن سے ہوسپیٹل اور ہوسپیٹل سے پولیس سٹیشن فرحین ارمان شیرازی کے اپارٹمنٹ میں پہنچ گئی اسکا ریپ ہوگیا کیونکہ اسکا بھائی اقتدار میں ہے وہ ایک منٹ میں ہماری وردی اتروا سکتا ہے۔جس طرح ہم دبتے جارہے ہیں مغربی طرز کے نیچے قرضوں کے نیچے اندھے قانون کے نیچے فرق کے نیچے ایک دن ہماری سانس بھی کسی کی مرضی سے چلے گی وہ ہم پر مسلط ہوکر بیٹھ جائیں گے کیونکہ ہمارے اپنے لیڈرز تھالی میں چھید کررہے ہیں !”وہ دونوں افسوس سے بس اسے دیکھ سکتے تھے مہتاب نے ونڈو میں نوشین کو دیکھا جو خاموشی سے سینڈوچ کھا رہی تھی ” بس جتنی تکلیف برداشت کرنی تھی کرلی اب بس سکون ہے میرے ساتھ !”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(✨…..✨) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دانیال رات گئے کمرے میں آیا تھا دو دن سے وہ فری سے چھپتا پھر رہا تھا کیوں اسے خود نہیں پتا تھا آج بھی اسکے سو جانے کے بعد وہ کمرے میں آیا کپڑے چینج کیے اور لیٹ گیا وہ ابھی بھی نوشین اور مہتاب کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا کہ اچانک اسے بڑبڑانے کی آواز آئی ” چھوڑو مجھے جانے دو ! پلیز مجھے جانے دو !
وہ ایکدم آٹھ کر اسکے پاس آیا ” مجھے جانے دو پلیز نہیں کرو !!!” وہ سمجھ گیا تھا وہ خواب میں پھر وہی منظر دیکھ رہی ہے دانیال نے میڈیسن چیک کی اسنے آج میڈیسن نہیں کھائی تھی ” فرحین ! وہ بیڈ کے قریب نیچے بیٹھا اسے آوازیں دے رہا تھا اس حالت میں اسے چھونے کی غلطی وہ کرنا نہیں چاہتا تھا ” فرحین آنکھیں کھولیں فرحین !! اسنے زرا بلند آواز میں کہا تو اسنے آنکھیں کھول لیں وہ فکر مندی سے اسکا چہرا دیکھ رہا تھا وہ ایکدم آٹھ کر بیڈ کروان سے لگ گئی اسنے پانی کا گلاس اور میڈیسن اسکے سامنے کی ” آپ نے میڈیسن کیوں نہیں کھائی ! وہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی ” آپکو شرم نہیں آتی مجھ سے بات کرتے ہوئے اتنے ڈھیٹ ہیں آپکی وجہ سے میں آج اس حالت میں ہوں اور آپ اتنے ریلیکس طریقے سے مجھے میڈیسن دے رہے ہیں شرم و حیا نام کی تو چیز ہی نہیں رہی مردوں میں !”وہ خاموش نظریں جھکائے اسے سن رہا تھا ” ہوتی ہے آتی ہے شرم اسلیے دو دن آپکا سامنا نہیں کیا آگے بھی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا مگر آپ نیند میں بے چین تھیں میڈیسن نہ کھانے کی وجہ آپ کو ڈپریشن ہورہا تھا اسلیے اٹھا نا پڑا یہ کھالیں میں کمرے سے چلا جاتا ہوں !” فری نے وہ پانی کا گلاس اسکے ہاتھوں سے چھین کر فرش پر پھینک دیا شیشہ کے ساتھ دانیال کی کئیر فکر خلوص محبت سب چکنا چور کردیا گیا تھا مگر وہ پھر بھی ضبط کرگیا ” نہیں کھانی مجھے کوئی میڈیسن میں جانتی ہوں آپکو مجھ میں کوئی انٹرسٹ نہیں پہلے دکھاوے کے لیے اچھا بنا کے لیے مجھ جیسی گندی لڑکی سے نکاح کیا پھر میڈیسن دے کر پاگل قرار دے دو گے پاگل خانے بھیج کر جان چڑھا لو تو ابھی کہ ابھی طلاق دے دو اتنا خرچہ اتنا سب کچھ کیوں برداشت کرنا !” وہ اب بھی نظریں جھکائے کھڑا تھا اسکے کانوں میں اب بھی آفتاب صاحب کے الفاظ گونج رہے تھے ” دانیال صبر سے کام لینا ہوگا !! وہ چپ چاپ نیچے جھک کر کانچ اٹھانے لگا وہ چڑ رہی تھی وہ کچھ بول کیوں نہیں رہا تھا پھر بیڈ سے اتری کانچ کا ٹکڑا ہاتھ میں لیا وہ پریشانی سے اسے دیکھنے لگا
جاری ہے۔۔
