96.1K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

ناول # مسلط
ازقلم # بنتِ اسلم
قسط نمبر # 24
امل صبح سے ہی بجھے بجھے دل کے ساتھ کام کر رہی تھی ۔کل رات والے حادثے کے بعد سے اسے دائم سے خوف آنے لگا تھا چاچی نے اب سارا گھر امل پر مسلط کردیا تھا خود ابھی تک گھوڑے بیچ کر سو رہی تھی ابھی بھی وہ دادی کو صبح کی چائے دے کر آئی تھی اور روٹے کے لیے پیڑے بنا رہی تھی جب اسے اپنی کمر کے گرد کچھ محسوس ہوا مگر تب تک دائم اسے اپنے ساتھ لگا چکا تھا ۔” گُڈ مارننگ ! اسکی گردن میں چہرا گُم کرتے وہ سرگوشی کررہا تھا اسکی بئیرڈ اسے چبھی تھی ” دائم آپ ۔۔۔۔۔۔
“ آئی لو یو !! ” اسنے حیرت سے مُڑ کر اسے دیکھا ” کیا !”
“ ہاں سوری کل رات کے لیے ! وہ شرمندہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا اسنے اسکا چہرا اپنے ہاتھوں میں لیا ” کوئی بات نہیں مجھے برا نہیں لگتا آئی لو یو ! اسنے مسکرا کر اسے دیکھا اور اسکے ہونٹوں پر جھکنے لگا جب چیخنے کی آواز آئی” امل دھیان کہاں ہے دودھ ابل گیا سارا !!! وہ اچانک ہوش میں آئی وہ تو رف سے حلیے میں چولہا بند کررہا تھا ” اندھی ہو دھیان کہاں ہے تمہارا ؟؟” وہ صبح صبح ہی اس پر چیخنے لگا تھا وہ ایک دم ہاتھوں سے دیگچی اتارنے لگی جب اسنے اسکے ہاتھ دھکیل دیے ” گرم ہے ؟”
“ تو جلنے دیں آپکو کیا فرق پڑتا ہے !” دائم نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا جو زخمی سا مسکرا رہی تھی ۔ اسنے ایک نفرت انگیز نظر اس پر ڈالی اور جیب سے کچھ ڈھونڈنے لگا اسے لائٹر مل گیا تھا جب سے یہ سب ہوا تھا وہ سگریٹ پینے لگا تھا اسکی کلائی کھینچ لی قریب کیا اور لائٹر جلا کر اسکے چہرے کے قریب کردیا اسکی حدت اسے اپنے ہونٹوں پر محسوس ہورہی تھی ” بتاؤ جلا دوں تمہارا روم روم جیسے میں جل رہا ہوں !!! لائٹر اسکے چہرے کے قریب گھوماتے وہ ڈرا رہا تھا لیکن امل نے اسی دن ڈرنا چھوڑ دیا جس دن دائم کی زندگی میں زبردستی مسلط ہونے کا سوچا تھا ” جلا دیں کم سے کم کچھ ایک جیسا ہو جائے گا ایک دوسرے میں دونوں جلتے رہیں گے!” دائم کو اسکی بات صبر کی حدود پر لے آئی تھی اسنے اسے پھر دھکیل دیا اور غصے سے پھنکتا باہر چلا گیا اور وہ کاؤنٹر پر دونوں ہاتھ رکھتی لمبے لمبے سانس لینے لگی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جوجو تمہیں کس طرح کی لڑکیاں پسند ہیں ؟ امبر کے سوال پر جوجو نے حیرت سے اسے دیکھا وہ چاروں آج بھی اکٹھے تھے اور کل وہ پی ایس ایل کے اوپنگ میں جارہے تھے میچ وہ دیکھنے نہیں والے تھے ۔صرف عاطف اسلم کو سن کر اسنے واپس آجانا تھا ” آ۔۔۔ تمہاری جیسی ۔۔۔۔۔۔امبر کے چہرے پر مسکان آگئی ” تو بلکل بھی نہیں منہ پھٹ اتنا بک بک کرنے والی سر کھانے والی مجھے تو لڑکی چاہیے کو ہی خوبصورت ہو سادہ ہو سنجیدہ ہو معصوم ہو اور سمجھدار ہو !” امبر کا منہ اتر گیا تھا ” تو پھر کسی پُتلے سے شادی کرنا جسے تم اپنی مرضی کے کپڑے پہنا سکو وہ کچھ بولے نہ کچھ کہے نہ سنجیدہ ایک ہی پوز پھٹو !! وہ اٹھ کر جانے لگی جب جوجو نے اسے آواز دی ” یعنی تم میرے لیے اپنے آپ کو نہیں بدلو گی !” امبر نے پلٹ کر اسے دیکھا جو نیم مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا ” میں خاموش ہوگئی تو روتے رہ جاؤ گے جبار !!!”
“ ہاہاہاہا لڑکی اور کبھی خاموش یہ دنیا کا سب سے بڑا لطیفہ سنایا مجھے تم کتنی فنی ہو !”
“ اور تم کتنے ایڈیٹ ہو دوستوں سے ایسی باتیں کون کرتا ہے ! وہ دونوں لائبہ زی زی سے دور آگئے تھے ۔
“ تمہیں کس نے کہا ہم صرف دوست ہیں !” وہ ایکدم اسکے قریب آیا تو وہ ڈر کر پیچھے ہوگئی اور اسے دیکھتی رہ گئی ۔
“ لائبہ اپکو پتہ ہے اپکی آنکھیں نہ بلکل میری مما جیسی ہیں اور وہ اب ہیں نہیں !!” ذی زی کی بات پر لائبہ افسوس سے اسے دیکھنے ” او افسوس ہوا آپ اپنی مما سے بہت پیار کرتے تھے ۔”
“ بہت جوجو اور میرا جھگڑا ہوتا میں مما پاس سوؤ گا پھر ایک دن وہ اکیلی قبر میں جاکر سو گئی تب میں اور جوجو صرف چھے سال کے تھے اس کے بعد ماموں ہمیں اپنے پاس لے آئے عفت خالہ ہم سے بھی چھوٹی تھیں نانا پہلے فوت ہوگئے اور نانی بعد میں تب عفت خالہ بہت چھوٹی تھیں سب بڑی میری مما تھیں انکے بعد نعمان ماموں پھر ارمان ماموں اور پھر عفت خالہ مما اور نعمان ماموں نے سب کو پالا تھا ۔نعمان ماموں اقتدار میں آئے تو مما اور بابا کا قتل انکے دشمنوں نے کردیا ماموں کو توڑنے کے لیے اور تب ماموں ہمیں اپنے پاس لے
My Mamu is whole world to me !!
مما کی ہر چیز سے پیار ہے انکی آنکھوں سے بھی اور تمہارے آنکھیں بھی انکے جیسی ہیں مجھے ان سے بھی بہت پیار ہے !” اسکی آخری بات پر لائبہ چند لمحے اسے دیکھتی رہ گئی پھر اٹھ گئی انکفرٹیبل فیل کررہی تھی اسلیے امبر کو کھینچتی ان سے دور ہوگئی ۔زی زی اٹھ کر جوجو کے پاس آیا ” لائبہ کو ماما بابا کے مرڈر کا بڑا افسوس ہوا !”جوجو نے حیرت سے اسے دیکھا ” مرڈر وہ دونوں تو ہیضے سے فوت ہوئے تھے ۔”
“ مرڈر کا سن اسے زیادہ افسوس ہوا تھا سمپھتی برو مجھے اسکی آنکھوں سے بہت پیار ہے ہاہاہاہا ” ہنستے ہوئے ان دونوں نے ہائی فائیو کی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کی چائے پر ہیر کے سسرال میں قہقے گونج رہے تھے ۔ ” بھائی آپکو یاد ہے بچپن میں میرا ایک دانت ٹوٹ رہا تھا اور آپنے میرے منہ پر تکیہ مارا تھا میرا دانت گر گیا خون نکلنے لگ گیا اور آپ نے وہی تکیہ میرے منہ میں دے دیا تھا ۔ ہاہاہاہا ” اس بات پر ہیر نے مرزا کا منہ دیکھا جو قہقے لگا رہا تھا ” ہاں تو نے ساری رات مجھے آئسکریم پارلر کے چکر لگاوائے تو بھیں بھیں کر کے رو رہی تھی ۔ہاہاہا !” انکے ساتھ ساتھ سب ہنس رہے تھے ۔ہیر گیس والے چولہے پر جو کچھ دنوں پہلے مرزا نے اسے لاکر دیا تھا چائے بنا رہی تھی پکوڑے رکھنے کے بعد وہ واپس کچن میں آئی تو چائے ابل چکی تھی مرزا بھی اسکے پیچھے کیبن سے کیچپ۔ نکالنے آیا تھا وہ چائے ڈالنے لگی تو مرزا کو دیکھ کر چائے ہاتھ پر گر گئی ” اہ۔۔۔۔!! مرزا نے اسکی جانب دیکھا تو بھاگ کر اسکا ہاتھ پکڑا ” او گاڈ ہیر یہ کیا کرلیا !!! اسکا لال ہوتا ہاتھ اسنے فوراً سینک کے اندر کیا اور ٹوٹی چلا دی ۔ ” دھیان سے کام کیا کرو نہ اتنا ہاتھ کیسے جلا لیا !!” وہ اسکا ہاتھ ہاتھوں میں لیے پھونکے مار رہا تھا۔” سنو میں کریم لگا دو یا کوئی دیسی ٹوٹکا کرنا ہے جو جلدی ٹھیک ہو جائے میں دادی سے پوچھو !!! اور وہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی جب مرزا نے اچانک اسکے چہرے کو دیکھا اور ہاتھ چھوڑ دیا ” سوری میں تو۔۔۔۔۔ کریم لاتا ہوں !” پہلی بار مرزا ہیر کو شرمندہ کیے بغیر گیا تھا وہ دوبارہ چائے ڈالنے لگی ” بابو نے کہا نہیں اندھی جاہل گنوار کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کرتی پہلے تو کہتے تھے بابو اتنا بدل گئے !” اور یہ ساری باتیں مرزا سن رہا تھا اور شرمندہ بھی ہورہا تھا پھر اندر آگیا اسکا ہاتھ تھامے کریم لگانے لگا ” ہیر تمہیں پتا ہے انگریزی میں معافی کو کیا کہتے ہیں ؟”
“ ہاں نہ فری نے سکھایا تھا سوری !!! ” اسنے مسکرا کر اسے دیکھا ” بس وہی ہوں میں تم سے !!!” اسے حیرت کی گڑھوں میں چھوڑ کر چلا گیا تھا ۔
وہ چائے لیکر باہر آئی تو مرزا صاحب سمیت سب سنجیدہ تھا اور اسکے جواب کا انتظار کررہے تھے ” ابو دو تین ماہ ہوگئے ہیں نکاح کو اب ولیمے کا فائدہ کیا ہے .”
“ دیکھ مرزا نکاح سادگی سے اسلیے ہوا کہ ہم شامل نہیں تھے اور میرا اکلوتا بیٹا ہے میرے بھی کچھ ارمان ہے اور رشتہ دار انکا منہ بھی تو بند کرنا ہے اسلیے ہمارے واپس جانے سے پہلے ولیمہ کردیتے ہیں !” ہیر حیرت سے ان سب کو دیکھ رہی تھی مرزا نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا ” یہ لوگ کہہ رہے ہیں ہمارا ولیمہ کرنا ہے تم کیا کہتی ہو؟’
“ ہیر کو بلکل بھی توقع نہیں تھی کہ مرزا اس سے یہ سوال کرلے گا ۔ ان سب نے مسکرا کر ہیر کی جانب دیکھا ایوب صاحب ہنس دیے تھے ” لیجیے ایس پی صاحب کمشنر صاحب سے اجازت لیجیے !! چار سو ہنسی کا پھوارا پھوٹ گیا تھا مرزا خود بھی ہنس رہا تھا سوائے ہیر کے جو شرم سے لال ہوگئی تھی اور اندر بھاگ گئی مرزا کی نظروں نے اسکا دور تک تعاقب کیا تھا ۔
“ تو ٹھیک ہے کردیں پندرہ دن کے لیے آئیں ہیں تو دیکھ لیں کب رکھنا ہے ؟”
“ جمعہ اس جمعے کو ٹھیک ہے !!! فریحہ نے فورا کہا جس پر سب متفق ہوگئے تھے کیونکہ پرسوں ہی جمعہ تھا ۔” تو ٹھیک ہے کل میں اور بھابھی جاکر شاپنگ کریں گے یے۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ بچوں کی طرح خوش ہورہی تھی اگر یہاں اسے ایسے نعمان دیکھ لیتا اسنے صدقے واری جانا تھا مگر یہاں مرزا تھا جسنے اسکے کھلے منہ میں کُشن دے دیا تھا ” گدھی !”اور وہ ہنس کر اسکی پیٹ پر مکا مار چکی تھی ۔
ہیر رات گئے سب کو سلا کر کمرے میں آئی تھی فریحہ اور دادی ایک کمرے میں تھے جہاں ہیر سوتی تھی اور مسٹر اینڈ مسز ایوب گیسٹ روم میں اسنے دروازہ کھولا تو وہ بھی سو چکا تھا ۔وہ صوفے پر بیٹھ کر ولیمے کے بارے میں سوچنے لگی ” میرا ولیمہ میں پھر سے سج سنور کر سب کے سامنے جاؤ گی پھر کسی نہ کسی کو پتہ چل جائے گا میں ان پڑھ ہوں پھر بابو غصہ ہونگے مگر اس بار ممم۔۔۔نے اپنی جگہ سے ہلنا ہی نہیں منہ میں بھی کچھ نہیں بولنا پہلے بھی شاید اس آدمی کو میری خود سے باتیں کرنے پر پتہ چلا تھا منہ میں دہی جما لینا ہے میں نے ۔” وہ اپنا بستر لگانے لگی تھی جب اسے مرزا کے کھانسنے آواز آئی اسنے ٹیبل سے گلاس اٹھایا وہ نیند میں ہی کھانسی جارہا تھا ” بابو اٹھیں !!! پانی پی لیں !!! مگر وہ آنکھیں نہیں کھول رہا تھا زور زور سے کھانس رہا تھا ” منع بھی کیا تھا نہ کھائیں پکوڑے ہوگیا گلہ خشک اٹھیں !! مگر کوئی اثر نہیں آخر اسنے چیخ کر کہا ” مرزااااا!آواز اتنی بلند تھی کہ اسنے ایکدم آنکھیں کھولیں وہ شرمندگی سے پیچھے ہوگئی ” آپ اٹھ نہیں رہے پ۔۔۔پانی پی لیں !!” اسنے گلاس اسکے سامنے کیا اسنے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا ” اس دن کے بعد تم میرا نام کچھ زیادہ ہی لینے نہیں لگ گئی !”
“ وو۔۔۔وہ آپ اٹھ نہیں رہے تھے اسلیے بولا تھا !” وہ شرمندگی سے نظریں جھکا گئی ” تم بابو ہی بولا کرو مجھے اچھا لگتا ہے !” گلاس منہ کو لگاتے وہ ہیر کو حیران کر رہا تھا آج .” پانی پی کر گلاس اسے پکڑایا اور خود منہ تک کمبل لیکر لیٹ گیا وہ بھی اپنا بستر لگانے لگی جب اسنے دوبارہ کمبل نیچے کیا ” تم پھر نیچے بستر لگا رہی ہوں !”
“ صص۔۔صوفے پر مجھے سونا نہیں آتا !! وہ جمائی لیتا اٹھا اور بستر اسکے ہاتھ سے لیا اور صوفے پر چلا گیا ” وہاں سو جاؤ !! ہیر نے اس سے بستر کھینچا ” میں سوجاتی ہوں آپ سوجائیں وہاں !” مرزا نے بستر اپنی طرف کھینچ لیا ” کچھ نہیں ہوتا مجھے صوفے پر سونا آتا تم بیڈ پر سو جاؤ !! ہیر نے پھر بستر اپنی طرف کھینچ لیا ” نن۔۔نہیں بابو ایسے اچھا نہیں لگتا !! مرزا نے بستر اپنی طرف کھینچا ” یار اتنا روائتی نہ ہوا کرو سو جاؤ !!! مگر ہیر مان ہی نہیں رہی تھی آخر بستر کی کھینچا تانی میں مرزا دھڑام !!!! بستر کھینچتا گر گیا تھا ہیر کا منہ کھلا رہ گیا تھا اپنی کمر سہلاتا وہ اٹھا تو ہیر وہاں نہیں تھی اچانک اسکی نظر بیڈ پر پڑی وہ کمبل چہرے تک کھینچے کانپ رہی تھی مرزا نے حیرت سے اسے دیکھا اور پھر ہنس دیا ” پاگل بٹ نائس ون ! صوفے پرلیٹے بھی وہ ہیر کو ہی دیکھ رہا تھا جو چوری چوری کمبل نیچے ہٹا کر اسے دیکھتی پھر ڈر کر لے لیتی ” تمہیں لگتا ہے کہ مجھے نہیں پتا کہ مجھے پتہ ہے تم جاگ رہی ہو!” وہ پھر سے کانپنے لگی تھی مرزا کو مزا آنے لگا تھا وہ پھر صوفے سے اٹھ کر اسکی جانب چلا گیا ” تم بچ نہیں سکتی سزا تو مل کر رہے گی ! اسکی کپکپاہٹ اور تیز ہوگئی تھی بیڈ پر ایک سائیڈ پر بیٹھ کر اسے گھورنے لگا پھر کمبل ہٹانے کی کوشش کی جو اسنے مضبوتی سے پکڑ رکھا ” بابو غلطی ہوگئ۔۔۔۔مم۔۔۔معاف کردو!” اسنے کھینچ کر کمبل اس پر سے اتارا وہ ڈرے ڈرے چہرے کے ساتھ پہلی بار مرزا کو کیوٹ لگی تھی کیونکہ آج مرزا اسے دیکھ ہی کسی اور نگاہ سے رہا تھا اسکے گلابی ہونٹ کپکپا رہے تھے اسکے بال اسکے چہرے پر بکھرے تھے اسکی آنکھیں خوف سے لبریز تھیں اسلیے وہ اچانک اٹھ کر صوفے پر۔ جاکر لیٹ گیا ” میں بہکنے کیوں لگا ہوں ؟” اور وہ بھی حیرت سے اسے دیکھتی رہ گئی جو اسے سزا دئیے بغیر گیا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علیم سارا دن یہی سوچتا رہا تھا کہ منال نے اس سے کیا مانگ لیا تھا ناٹک محبت کا ناٹک کسی اور کے سامنے جب اسے اچانک میسج آیا ” تو تم نے کیا سوچا ؟؟” میسج پڑھ کر اسے ایک منٹ لگا تھا سمجھنے میں وہ منال ہے “
“ کیا کرنا ہے ؟” اسکے جواب پر منال کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی ” ایک ہوٹل کی لوکیشن بھیج رہی ہوں وہاں آو!! اسے حیرت ہوئی تھی پھر ایک سوال جو زہن میں تھا پوچھ لیا ” آپکو پتہ کیسے چلا میں وہی ہوں ؟”منال کی مسکراہٹ گہری ہوتی جارہی تھی ” تمہیں پتا ہے میں سائکیٹریس ہوں دماغ سے کھیلتی ہوں میں نے تو یونہی کہہ دیا تھا کہ تمہارے پیٹ کا زخم کیسا ہے تمہارے چہرے کا رنگ فک ہونا تمہارا اٹھنا ڈرنا گھبرانا کوئی اندھا بھی کہہ دیتا تم ہی ہو وہ ۔۔۔۔۔۔” جواب پڑھ کر لیٹا علیم اٹھ بیٹھا ” واٹ !!” اسنے فورا منال کو کال کی ” واٹ مطلب وہ صرف تُکا تھا۔”
“ جی جو تیر بن کر نشانے پر لگ گیا تم آرہے ہو ؟” علیم کا منہ بن گیا تھا ” آپ نے چیٹنگ کی ہے ؟”
“ میں تمہارے ساتھ گیم تو نہیں کھیل رہی تھی جو چیٹنگ کرتی وہ بس دماغ کا کھیل تھا جو تمہارے پاس نہیں ہے کچھ دیر بعد مہتاب بھی اس ہوٹل میں پہنچ رہا ہے تم بھی آو اٹس ٹائم ٹو ٹیک فسٹ سٹیپ .” یہ کہہ کر اسنے فون بند کردیا تھا ۔ تیار ہونے کے بعد وہ منال کی بھیجی گئی لوکیشن پر پہنچ گیا تھا جہاں وہ اسکا انتظار کرتی پائی گئی اسے دیکھ کر علیم کی گھنٹی کھڑک گئی تھی سمپل کرتہ پجامہ میں بھی وہ کتنی خوبصورت لگ رہی تھی دوپٹے کا حجاب کیے وہ فون پر کچھ دیکھ رہی تھی جب اس پر نظر پڑی تو اسے پاس آنے کا اشارہ کیا ۔قمیض کی آستینیں موڑتا وہ اسکی جانب آیا ” تم بہت وقت ضائع کرتے ہو !”
“ وہ اب آپ سے ملنا تھا تو تھوڑا تو تیار ہونا تھا نہ !”
“ اچھا مہتاب سے ملنے سے پہلے مجھے ایک بتاؤ تم اصل میں کون ہو مطلب تم کیا کرتے ہو تاکہ عین وقت تمہارے اور میرے جوابات مل سکیں تم فکر مت کرو میں نے مہتاب کو کچھ نہیں۔ بتایا جسٹ اتنا بتایا ہے کہ میرے لیے ایک رشتہ آیا ہے اور سچ بتانا کیونکہ مجھے بھی لگتا ہے کہ شاید ناٹک ناٹک میں معاملہ سنجیدہ نہ ہو جائے !! مہتاب کے آنے تک وہ دونوں ایک ٹیبل۔پر بیٹھ گئے تھے علیم نے ایک نظر اسے دیکھا اچھی تو وہ اسے لگتی تھی اور سب پتہ ہونے کے بعد بھی اسکا اسے پولیس میں نہ دینا اسلیے وہ اس پر یقین کرنا چاہتا تھا شاید علیم محبت پر یقین کرنا چاہتا تھا ” میں ایک اکیلا لڑکا ہوں جو ایک سیمنٹ کی فیکڑی میں مینجر ہے فیملی میں ایک چھوٹی بہن اور وہ بھی ہوسٹل میں رکھی۔”
“ تو تم نے ایس پی مرزا پر حملہ کیوں کیا تھا ؟”
اس بات پر علیم نے حیرت سے اسے دیکھا ” آپ نے کہا تھا آپ مجھ سے یہ سوال نہیں کریں گی وعدہ بھول گئی یا ڈیل میں آپکا بوئی فرینڈ بن کر آیا ہوں !” اس بات پر منال شرمندہ ہوگئی تھی ” اوکے جس دن پورا ٹرسٹ کر لو گے اس دن سب ڈسکس کرنا ابھی مہتاب آگیا ہے اس سے مل لیتے ہیں !” اسنے پلٹ کر دیکھا تو حیران رہ گیا وہ یونیفارم میں چلا رہا تھا وہ اٹھ کر بھاگنے لگا تو منال نے اسکا ہاتھ پکڑا ” بھگوڑے ہو بھاگ کیوں رہے ہو ؟”
“ آپ نے چیٹنگ تو نہیں کی میرے ساتھ ؟ ” وہ بیٹھ ہی نہیں رہا تھا مہتاب قریب آتا جارہا تھا ” اگر کی ہوتی تو اب تک جیل میں ہوتے بیٹھو !!” اسے کھینچ کر دوبارہ کرسی پر بیٹھا دیا مہتاب سنجیدہ چہرا لیے وہاں بیٹھ گیا ” اسلام علیکم!!
“ ان دونوں نے ایک ساتھ کہا واعلیکم اسلام! مہتاب ان سے ملو یہ ہے علیم یہ میرا ہونے والا منگیتر ہے !” مہتاب نے تیکھی نظروں سے علیم کو دیکھا ” تم سے بڑا نہیں ہے ؟” علیم نے حیرت سے اسے دیکھا ” نہیں ہم دونوں ایک ہی عمر کے ہیں اب تم نے نہ کردی نوشی کے ہوگئے تو مجھے تو کوئی ڈھونڈنا ہی تھا نہ اور ویسے بھی یہ سیمنٹ کی فیکڑی کا مالک ہے !!! علیم نے حیرت سے اسے دیکھا واٹ!!! مہتاب اسے گھور رہا تھا ” ہاں اور بہت اچھا ہے اسکا بنگلو بھی ہے اور یہ ہر لحاظ سے مجھے خوش رکھ سکتا ہے جو تم نہیں کر سکتے تھے !” علیم نے دیکھا تھا مہتاب کے چہرے پر تلخی آتی جارہی تھی ” اور ایک فیکڑی اور کھولنے کی کوشش کررہا ہے وہ بھی آوٹ آف کنڑری ائم سو ہیپی!! علیم کو منال پر حیرت ہورہی تھی وہ جھوٹ پر جھوٹ بولے جارہے تھی وہ سکتا کھا گیا تھا اسلیے چیخ پڑا ” جھوٹ کیوں بول رہیں ہیں آپ کو بتاتا ہوں میں ایک مڈل کلاس لڑکا ہوں جو سیمنٹ کی فیکڑی میں مینجر ہے بنگلو میرا ہے نہیں ایک تین کمرے کے مکان میں رہتا ہو ماں باپ میرے ہیں نہیں چھوٹی بہن ہے جو ہوسٹل میں پڑھتی ہے اسکے علاؤہ میں اپنے باس کا ڈرائیور بھی ہوں اپنی گاڑی میری ہے نہیں ایک بائیک ہےوہ کھڑی ہے دیکھ لیں !! ان دونوں نے ایک ساتھ ونڈو کے باہر دیکھا جہاں ایک سیون ٹی بائیک کھڑی تھی ۔منال سے میں بہت پیار کرتا ہوں اسے عزت محبت لباس چھت اور رزق سکون سے دے سکتا ہوں میں اسے ہر مہینے بیرونے ملک گھما نہیں سکتا بس یہ میں ہوں !” سانس بحال کرکے وہ کرسی سے ٹیک لگا گیا وہ دونوں حیرت سے اسے دیکھنے لگے ۔پھر ہنس دیے ” ویلڈن منال بہت اچھا لڑکا ہے !” اسنے حیرت سے منال کو دیکھا ” ویل علیم منال میری سب سے اچھی دوست ہے اور اسنے مجھے بتایا کہ تم اسے اچھے لگے ہو دو دفعہ کی ہی ملاقات میں تمہیں وہ پسند کرنے لگی ہے اسلیے آج وہ تمہیں مجھ سے ملانے لائی ہے اور یہ تمہارا امتحان تھا تم ایک کھرے انسان ہو ! نائس ٹو میٹ یو آج صبح ہی مجھے منال نے بتایا تھا تمہارے بارے میں اور یہ بھی بتایا کہ اسنے تمہیں اس سے جھوٹا پیار کا ناٹک کرنے کے لیے کہا اور تم اسکی مدد کرنے کے لیے مان بھی گئی سو نائس چوائس میں اب چلتا ہوں ! اسکے جانے کا بعد علیم نے کنفیوز نظروں سے اسے دیکھا جس پر وہ شرما کر سر جھکا گئی ” وہ سچ کہہ رہا تھا جو کچھ میں نے تم سے صبحا کہا وہ سب ایک جھوٹ تھا میں جسٹ تمہیں چیک کررہی تھی کہ تم کیسے انسان ہو اسلیے مہتاب کے سامنے تمہاری حیثیت کے بارے میں بھی جھوٹ بولا میں مانتی ہو اس دن تم نے مجھے دھوکا دیا مگر تمہاری ایک بات جو مجھے اچھی لگی وہ یہ تھی کہ تم نے میرے ساتھ کچھ غلط نہیں کیا تم ایک کلر تھے کچھ بھی کر سکتے تھے مگر نو یو آر نائس ون اور آج جب تم صبح ملے تو تمہیں دیکھ کر میں خوش ہوگئی تمہاری باتیں مجھے مسکرانے پر مجبور کرگئی دین آئی فائنڈ یو آر نائس پرسن تو اسلیے مجھے تم اچھے لگے ۔۔۔۔” اور وہ حیرت سے اسکا منہ تکتے جارہا تھا ۔علیم نے گہرا سانس لیا ” آئی تھنک یہ بہت جلدی ہورہا تو کیوں نہ ہم فرینڈشپ کریں اسکے بعد دیکھتے ہیں !” منال کا چہرا اتر گیا تھا کیا اسکے حصے میں سچی محبت نہیں تھی پھر اسنے صبر رکھ کر ہاتھ ملا لیا ۔” اوکے تو کل ملتے ہیں !” وہ تو ناجانے کیوں اب جان چھڑا رہا تھا اسلیے کہتا اٹھ کر چل دیا اسی ونڈو سے دیکھ رہی تھی کہ اسنے بائیک سٹارٹ کی اور چلا گیا اسکے جانے کے بعد اسے مہتاب کا کال آیا ” بہت چالاک ہے ؟” منال نے گہرا سانس لیکر کرسی سے ٹیک لگائی ” مگر مجھے دماغ سے کھیلنا آتا ہے ؟”
“ منال تمہیں۔ نہیں لگتا خطرناک ہے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے !”
“ کچھ بھی کرنا ہوتا تو اس دن کردیتا لیسن مہتاب تم لوگوں کو نعمان شیرازی کے خلاف ثبوت چاہیے نہ تو مجھے اسے ٹریپ کرنے دو سب اگل دے گا ۔”
“ اوکے ٹیک یور ٹائم !!” یہ کہتے اسنے فون رکھ دیا تھا بدلہ مسلط ہوچکا تھا مگر اس بدلے میں کیا صرف علیم ہی جلنے والا تھا یا کوئی اور بھی تھا جسکی روح خاک ہونی تھی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے