96.1K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

قسط نمبر 5
ہاہا پڑھی لکھی میں ٹاپر ہوں ابھی ابھی سیکنڈ سمیسٹر میں میری سی جی بی 4.5 آئی ہے ! اسکی بات ہیر کے سر سے گُزری تھیں ” اگر آپکے پاس وقت ہوتو کیا مجھے کچھ سامان لکھ دیں گی ؟” ” کیوں نہیں بتائیں نہ ؟ کپ.ہیر کو تھماتے وہ سکون سے صوفے پر بیٹھ گئی ہیر بھاگ کر کاپی پنسل اور چینی کا کپ لے آئی ” لکھو چار کلو گوشت دو کلو قیمہ چاول چار کلو دودھ پانچ کلو …….اسنے ایک ایک کرکے سارا سامان لکھوا نے کے بعد اسکے چہرے پر چمک آگئی تھی جسے امل نے بڑی غور سے دیکھا ” آپ کتنی معصوم ہیں ! اس بات پر وہ مسکرا دی وہ چینی کا کپ لیکر چلی گئی تھی کچھ دیر مرزا کا بھیجا حولدار بھی آگیا تھا اسنے لسٹ اسے دی پیسے مرزا نے اسے دے دیے تھے گھر گھومتے گھومتے سٹوروم سے بڑے برتن بھی نکال لیے تھے اینٹوں کے دو اور چولہے بھی بنا لیے تھے پھر اچانک کام روک کر ہنس دی ” ہیر تیار ہوجا آج کھانا نہیں لنگر بنا نا یے بابو خوش ہوجائیں گے ! ” کمروں کی صفائی کے بعد اسکا اگلا پوائنٹ ڈرائنگ روم تھا اور اسکے لیے اسے صوفے ہٹانے تھے وہ باہر سے گارڈ کو لیکر آئی جو اسکی باپ کی عمر کا تھا ” بابا یہ صوفے ہٹانے میں میری مدد کردے گے ؟” انھوں نے شفقت سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا ” کیوں نہیں بیٹی ! گارڈ کی مدد سے اسنے صوفے ہٹائے اور درائنگ روم دھونے لگی پردے بھی اتار کر مشین میں ڈال آئی تھی ” میرے بابو کے دوست آرہے میں انکو انکے سامنے شرمندہ نہیں ہونے دوں گی ! سرف والا پانی فرش پر ڈالتے وہ خود کلامی کررہی تھی.مرزا کا کام ختم ہوگیا تھا باقی کام اسے گھر سے کرنا تھا اسلیے وہ جلدی گھر آگیا تھا دروازہ کھولتے ہی وہ سامنے وائپر لگا رہی تھی جب اسکا پیر پھسلا وہ اسکے اوپر گرنے والا تھا مگر بیک وقت وہ گھوما تو وہ اسکے اوپر گر گئی آہ!!!! وہ زمیں پر گِرا تھا اور وہ اسکے اوپر اسے غور سے دیکھ رہی تھی وہ کتنا خوبصورت لگتا تھا یونیفارم میں وہ اسے دیکھی جارہی تھی وہ سر پر ہاتھ رکھے اسے اُٹھنے کا کہہ رہا تھامگر وہ اسے دیکھے جارہی تھی پھر اسنے اسے کندھوں سے جھنجھوڑا ” لڑکی اُٹھ جاو !! وہ ایکدم اس سے الگ ہوئی کھڑی ہوئی دوپٹہ سر پر ٹھیک کیا اور رونے لگ گئی وہ کبھی کمر سہلا رہا تھا تو کبھی سر پھر اسکی جانب دیکھا جو دوپٹہ چہرے پر رکھے رو رہی تھی ” کمر میری ٹوٹی ہے سر میرا پھوٹا ہے اور رو تم رہی ہو ؟” ” وہ آپکے چوٹ لگی ہے نہ ! اسنے چہرے سے پانی رگڑتے ہوئے کہا ” مجھے لگی ہے تو تم رو رہی ہو تمہیں لگتی تو کیا کرتی ؟ اسنے سینے پر ہاتھ باندھے پوچھا ” میں نے تو بے ہوش ہی ہوجانا تھا ! ” مرزا نے اُکتا کر اسے دیکھا یہ سب تم کیوں کر رہی ہو فرخندہ کہاں ہے ؟” ” وہ جی اسکا فون آیا تھا پوچھ رہی تھی میں سچ میں نہ آو نہ تو میں نے پوچھا کیوں تت…تو کہتی آپ نے کہا تھا میری بیوی آگئی ہے سارے کام وہی کرے گی ! اسکی بات پر وہ تھوڑا شرمندہ ہوا تھا مگر ڈھیٹ بن گیا ” ہاں تو ہم دو ہی تو ہیں کونسا زیادہ کام ہوتا ہے تو پیسے ضائع کیوں کرنے ! وہ مسکرا اثبات میں سر ہلا گئی وہ اوپر اپنے کمرے میں جارہا تھاجب اسکے کانوں میں آواز آئی ” میں تو اس سے ہی بہت خوش ہوں آپ نے مجھے بیوی کہا ! موپ پھیرتی وہ مسکراتی خود کلامی کر رہی تھی وہ عجیب نظروں سے اسے دیکھتا اوپر چلا گیا سارے گھر کی صفائی اور کپڑوں کے بعد وہ کھانے کی طرف ہوگئ تھی وہ ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھی پیاز کاٹ رہی تھی شکر پیاز کڑوا نہیں تھا وہ نیچے اپنے لیے کافی بنانے آیا تھا جب نظر اس پر پڑی کمر پر ہاتھ رکھے وہ اسے سیدھا کر رہی تھی مگر درد کی وجہ سے ہونہیں رہی تھی اسنے درد سے آنکھیں بند کرلیں .اسے نظر انداز کرتا کچن میں گھُس گیا وہ اسکے پیچے پیچھے ” بابو کیا چاہیے پانی پینا ہے ؟ وہ پانی کی بوتل لیے چولہے کی جانب بڑھا گلاس میں پانی ڈالا اور پینے لگا پھر ساس پین میں پانی ڈالا ” چائے پینی ہے ! ” وہ اسکے آگے پیچھے گھوم رہی تھی ” میں بنا دیتی ہوں ! وہ چینی کا ڈبہ اسکے ہاتھ سے لینے لگی جب اسنے ہاتھ پکڑ لیا ” مجھے کافی بنانی ہے آتی ہے بنانی ؟” اسنے شرمندگی سے نفی میں سر ہلا دیا ” ہمم کبھی یہ کھانا چولہے چونکے سے دہی لسی چائے بھینسوں سے نکل کتابیں پڑھی ہوتی تو شاید بنا لیتی ! ” غصے سے ڈبا چھین کر کافی بیٹ کرنے لگا وہ کچھ دیر شرمندگی سے سرجھکایے کھڑی رہی پھر اسے دیکھنے لگی وہ ایک بھورے رنگ کے دانے تھوڑے سے پانی میں پیس رہا تھا اس نے پیکٹ کو دیکھا گہرے کلیجی رنگ کا شاپر جس پر چائے کے پاس بھورے دانے پڑے ہیں اسنے اسکا نقشہ حفظ کرلیا تھا اسنے چولیے کا ایک بٹن دبایا تو چولہے پر بنا گول دائرا سُر خ ہوگیا وہ اس پر دودھ گرم کررہا تھا وہ ایک ایک چیز غور سے دیکھ رہی تھی جب وہ متوجہ ہوا ” کیا گھور رہی ہو ؟” ” وو…وہ دیکھ رہی تھی کیسے بناتے ہیں ! ” کپ پکڑے وہاں سے چلا گیا وہ چولہے کا وہی بٹن دبانے لگی جب وہ بولا ” اسے ہاتھ مت لگانا پینڈو سی ہو خراب کردو گی ! ” اسنے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا . ……………..(✨…..✨)……………. رات کے ساڑھے سات بج گئے تھے جب اسنے کھیر ڈِش آؤٹ کرکے فریج میں رکھی اسکی اپنی حالت مُحلے کی ماسی جیسی ہوگئی تھی وہ کمرے میں نہانے چلی گئی جب وہ کچن میں آیا وہ بڑے دیگچوں میں اسنے کھانا دیکھا اسنے ایک ایک کر کے ڈھکن اُٹھائے پورا کچن خوشبو سے مہک اُٹھا تھا. وہ نہا کر باہر آئی تو وہ بیڈ پر بیٹھا اسکا انتظار کررہا تھا اسکے آتے ہی اسنے کسی کو آواز دی ” امل ! آنکھوں پر سن گلاسز لگائے وہ ایک ہی دن میں دوسری بار اس سے مل رہی تھی ” امل بچے انھیں ریڈی کردو ایکچولی بزی اتنا ہوگیا اور اب ٹائم نہیں انھیں پارلر لیجانے کا !! اسنے اپنی ناک پر گلاسزز ٹھیک کیے ” کیوں نہیں مرزا بھائی بھابھی جتنی پیاری ہے مجھے تو میک اپ کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑھے گی ۔” اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر خود وہ باہر چلا گیا وہ ڈریسنگ کے سامنے بیٹھ گئی تھیں امل نے الماری کھولی اسکے وری کے جوڑوں سے اسے ٹی پنک کلر کی میکسی ملی جو اسنے اسے پہنا دی وہ آئینے کے سامنے چپ چاپ بیٹھی تھی امل اسکے بالوں کے ساتھ کبھی کچھ کررہی تھی کبھی کچھ آخر آدھے گھنٹے بعد اسنے اپنے آپ کو دیکھا بالوں کی دونوں سائیڈ سے بنائی گئی فرینچ جہاں سے دو لٹیں چہرے کا اطراف سے احاطہ کررہی تھی کمر تک جھولتے کرلی بال سفید رنگت گلابی ہونٹ وہ اپسرا تو نہیں لیکن خوبصورت ضرور لگ رہی تھی ” واؤ بھابھی یو آر لکنگ سو بیوٹی فُل !! اسنے حیرت سے امل کو دیکھا ناجانے اسنے کیا کہا تھا پر پھر بھی وہ خاموش۔رہی ” اچھا امل جی ایک بات پوچھو ؟”
“ امل۔نے حیرت سے جی کو سُنا پر مسکرا دی ” جی پوچھیں جی ؟”
“ آپ کا اور انکا رشتہ بہن بھائی والا ہے یہ پتہ ہے مگر آپکے والد۔۔۔والدین جو ہیں وہ آپکو یہاں آنے دیتے ہیں مطلب مجھ سے پہلے تو اکیلے رہتے تھے نہ ؟”
“ میرے والد کو اس دنیا میں سب سے زیادہ اعتماد دار انسان ہی مرزا بھائی لگتے ہیں کیونکہ مرزا بھائی کے مجھ پر بہت احسان ہیں میں کڈنیپ ہوگئ تھی اور اگر مرزا بھائی نہیں ہوتے تو میں اور ناجانے کتنی لڑکیاں دبئی بیچی جاچکی ہوتی جہاں ہمیں رکھا گیا تھا وہ پولیٹکل لیڈر نعمان شیرازی کی اولڈ بلڈنگ تھی وہاں آپریشن کی پرمیشن نہیں ملی تھی پر بھائی اپنی جاب داؤ پر لگا کر وہاں گئے تھے اور ہمیں بچایا تھا اور اس کے لیے بھائی کو ون منتھ کے لیے سسپینڈ بھی کیا گیا تھا بٹ میرے پاپا اور کچھ لڑکیوں کے پاپا نے مل کر انھیں پھرسے جاب پر بحال کروایا تھا نعمان شیرازی اپنی اس فیکٹری سے قطع تعلق ہوگیا کہتا میں نے بیچ دی تھی مجھے نہیں پتا یہاں اب کیا ہوتا ہے تب سے بھائی نعمان شیرازی کے پیچھے پڑے انھیں سزا دلوانے کے لیے !!! اسکی آدھی باتیں اسے سمجھ آئی تھیں آدھی نہیں تبھی وہ کمرے میں آیا ایک نظر ہیر کو دیکھا جو نہریں جھکائے بیٹھی تھی ہونٹوں پر بے ساختہ ہی مسکراہٹ آگئی تھی جو وہ جلد ہی چھپا گیا ” اوکے بھائی میں چلتی مجھے پڑھنا بھی ہے !” وہ باہر جانے لگی تو مرزا نے اسکے سامنے ایک گفٹ کیا ” یہ کیا ہے بھائی”
“سکارف فار یو !! اسنے ہنس کر پیکٹ پکڑ لیا ” تھنک یو بھائی !” ہیر کو گلے مل کر وہ چلی گئی ۔وہ مضبوط قدم اٹھاتا اسکے پاس آیا وہ اُلٹے قدموں کے ساتھ پیچھے جاتی جارہی تھی وہ دیوار سے چپک گئی تھی جب وہ اس سے کچھ فاصلے پر کھڑا ہوگیا ہاتھ بڑھا کر گردن کے ساتھ لگا دوپٹہ نیچے تک کھینچ دیا جس سے اسکی بیوٹی بون چھِپ گئی ” لباس کی ترتیب پر غور کرنا سیکھو اور دوسری بات کسی کو بھی پتہ نہیں چلنا چاہیے کہ تم ان پڑھ ہو ورنہ مجھ سے برُا کوئی نہیں ہوگا !” اسنے ڈر سے حلق تر کیا اور اثبات سر ہلا دیا ” چلو نیچے !”اسے حکم دے کر وہ خود نیچے چلے گیا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(✨….✨) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمام دوست اچکے تھے جب میں پانچ لڑکیاں اور پانچ ہی لڑکے تھے اسکا بیسٹ فرینڈ دانیال تھا وہ ان سب کے گلاسوں میں جوس ڈال رہی تھی باہر سے قہقہے پر قہقہوں کی آوازیں آرہی تھیں گلاسوں سے بھری ٹرے اُٹھائے وہ باہر کی جانب چل دی ایک تو میکسی اوپر سے گلاسوں کا وزن وہ اختیاط سے قدم اُٹھا رہی تھی جب اسنے ٹرے پکڑ لی وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی ” گِر مت جانا بے عزتی ہوجائے گی ! اسکے ہاتھوں سے ٹرے پکڑے وہ آگے آیا اور وہ پیچھے پیچھے انھیں دیکھ کر لڑکوں نے ہوٹنگ سٹارٹ کردی تھی ” ارے واہ مطلب بھابھی تھوڑا سا بھی وزن نہ اٹھائیں !!”
وہ سب کو جوس دے رہا تھا وہ خاموشی سے ایک سائیڈ پر کھڑی ہوگئی تھی تمام لڑکیاں اشتیاق سے اسے دیکھ رہی تھیں جو بس مسکرائے جا رہی تھی ” ہیلو بھابھی ہاؤ آر یو !” ایک لڑکے نے اسے مخاطب کیا اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ کیا کہے اسنے مرزا کو دیکھا جو مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا ” مجھے کیا دیکھ رہی ہو تمہارے دیور نے پوچھا ہے کیسی ہو بتاؤ کیسی ہو ؟”اچھا تو انھوں نے یہ پوچھا ہے ” جی میں اچھی آپ سب کیسے ہیں اور آپکے گھر والے ؟”
“ جی بھابھی سب اچھے ہیں بھابھی آپکو پتہ بچپن میں نے یہ کہتا میں نہ پری سے شادی کروں گا اور سالے نے کر بھی لی !” دانیال کی بات پر مرزا نے گھور کر اسے دیکھا جو قہقہ لگا گیا ” گالی دینا بری بات ہے گالی نہ دیا کریں ! اسے برا لگا تھا دانیال نے اسکے با بو کو سالا کہا تھا ۔
٫” بھابھی ہم پنجابی ہیں گالی کے بغیر ہماری بات مکمل نہیں ہوتی اور عزت اسکے لیے خیر آپ کے لیے میں اسے آپکے سامنے گالی نہیں دوں گا !” شریف خوبصورت چہرے پر ہیر کے لیے عزت دار مُسکان تھی ” کیوں اپنی بھابھی کو بیچ میں کیوں لا رہا ہے تو دوست ہے میرا وہ بھائی جیسا تو ہم دونوں کے بیچ یہ کب آئی !” اسنے گھور کر ہیر کو دیکھا جس سے وہ ڈر کر سر جھکا گئی ” ٹھیک ہے نہیں لاتا بھابھی کو تو کوئی سالی لے اپنی اسے بیچ میں لے آتے ہیں !” دانیال کی بات پر ہیر کے حواس اُڑ گئے تھے مگر پورے ہال میں جاندار قہقہ گونج گیا تھا ” کھانا لگائیں ! چہرے پر سنجیدہ تاثرات لیے وہ کچن کی جانب گئی اسنے ڈائنگ ٹیبل سجا دیا تھا کچھ صوفے پر بیٹھے کھا رہے تھے ” آہ بھابھی کیا کھانا ہے کیا ڈالا ہے اس میں ؟” دانیال نے آنکھیں بند کر کے بریانی کا ذائقہ انجوئے کیا وہ مسکرا کر اسے دیکھنے لگی “یاد سچ میں کھانے تو بہت کھائے ہیں مگر اس کھانے میں ایک الگ ہی خوشبو الگ ہی ذائقہ ہے !!! شانزے نے کہا
“ اور میں گرنٹی سے کہہ سکتا ہوں یہ گیس پر نہیں بنا !! سب نے حیرت سے دانیال کو دیکھا ” یس میرا جتنا کھانے کا شوقین کون ہے میں پہچان سکتا ہوں یہ لکڑی آگ پر بنا ہے !” مرزا نے گھور کر ہیر ہو دیکھا جو کنفیوز ہوگئی ” بنایا ہے نہ کیوں ؟ شانزے نے پوچھا ” گیس چلا گیا !! چولہا خراب ہوگیا تھا !! دونوں کے منہ سے بیک وقت دو الگ الگ بہانے نکلے تھے ۔
“ گیس بھی چلا گیا گیس چیک کرتے کرتے چولہا بھی ہاتھ سے گیا اسلیے لکڑیوں پر بنانا پڑا ویسے دانیال کمال کر سینس آف ہیومر ہے تیرا !!! مرزا بات سنبھال گیا تھا کھانے کے بعد سب چائے کے طلب گار تھے وہ خوش تھی کہ سب اچھے سے ہوگیا دانیال کا آج لاہور میں آخری دن تھا اسکی پوسٹنگ جھنگ ہوگئی تھی وہاں پولیس کا چند سٹاف بھی تھا جن میں مہتاب سب کانسٹیبل نجم وغیرہ شامل تھے وہ لوگ ہنس ہنس کر ایک دوسرے کے ساتھ انگلش اُردو میں بات کررہے تھے ” کاش میں بھی پڑھیں لکھی ہوتی تو ان سب کی طرح فراٹے دار انگریزی بولتی پر مجھے تو یہ بھی پتہ یہ سب لوگ کیا کیا کام کرتے ہیں !! چائے کپس میں ڈالتی وہ خود کلامی کر رہی تھی ۔جو کچن کے دروازے میں کھڑے نجم نے سُن لیا تھا اسکی نیت تو ہیر پر پہلے ہی خراب تھی اب تو اسے موقع مل گیا تھا وہ آگے گیا اور نرمی سے اسکا ہاتھ پکڑ لیا ” یہ کیا ۔۔۔کک۔۔۔کررہے ہیں آپ ؟” وہ ہاتھ کھنچتی پیچھے ہوئی مگر وہ ہاتھ چھوڑ ہی نہیں رہا تھا ” ششش چپ اگر شور مچایا تو میں سب کو بتا دوں گا کہ مرزا کی بیوی ان پڑھ ہے اور پھر اسکا سب کے سامنے مذاق بن جائے گا !” اسنے حیرت سے اسے دیکھا ” آ۔۔۔۔اپکو کیسے پتہ چلا !!”
“ ہاہا جاناں مجھے پتہ چل گیا !٫ اسکے چہرے پر موجود لٹ کو چھوتے ہوئے کہا جسے اسنے جھٹک دیا ” حد میں رہیں میں ۔۔۔مم ۔۔۔۔بابو کو بب۔۔۔بتا دوں گی آپ میرے ساتھ بدتمیزی کر رہے تھے !!” وہ روتے ہوئے اس سے اپنا ہاتھ چھڑا رہی تھی ۔
“ ہاہا بتاؤ تو پھر مرزا کی نوکری جانے کی زمہ دار تم ہوگی !! اسنے حیرت سے اسے دیکھ ” ہاں میں اسے نوکری نکولا دوں گا ایک منٹ لگے کا مجھے پولیس میں ہوں میں بھی !!! اسکے حیرت سے جھٹکے لگ رہے تھے وہ ابھی بھی اپنا ہاتھ چھڑا رہی تھی ” بتاؤ بتاؤ گی ؟”
“ نن۔۔۔نہیں میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤ گی بس بابو کو کچھ مت کرنا !” نجم نے مسکرا کر اسکا ہاتھ چھوڑا وہ اسکے سامنے ہاتھ جوڑنے لگی تھی ” میں اپکے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں انھیں کچھ مت کرنا !” اسکے چہرے کو حوس سے چھو کر وہ باہر چلا گیا اور وہ پیچھے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی ۔کپکپاتے ہاتھوں سے وہ سب کو چائے دی رہی تھی مرزا اسکی ایک ایک حرکت کو دیکھ رہا تھا جب وہ نجم کے سامنے کپ رکھنے لگی تو اسنے پھر اسکے ہاتھ کو چھوا جس سے وہ اور ڈر گئی مگر مسکرائے جا رہا تھا مرزا دانیال سے محوِ گفتگو تھا اسنے مرزا کو دیکھا کہ شکر انھوں نے نہیں دیکھا مگر یہ اسکی غلطی فہمی تھی اسنے مسکرا کر نجم کو دیکھا اور پاس آنے کا کہا ” ارے نجم یہ تیرے چہرے پر کیا بیٹھا !! وہ اسکی گال کی طرف اشارہ کر رہا تھا رُک کیڑا ہے رُک اسے مارتے مارتے مرزا نے ایک زور دار تھپڑ نجم کے منہ پر دے مارا تھا پورا ماحول شانت ہوگیا تھا ۔” آؤ سوری زیادہ ہوگیا مگر وہ رہریلا تھا تجھے کاٹ لیتا تو !!! یہ بات اسنے سنجیدگی سے کہا ۔” اوئے چپ کوئی نہ مار دیا مرزا ہن تو بچ جوں !!! دانیال کی بات پر خوشی پھر لوٹ آئی تھی نجم نے گھور کر ہیر کو دیکھا جو ڈر کر نظریں جھکا گئی ۔کھانے کے بعد وہ تمام چلے گئے تھے نجم سب سے پہلے گیا تھا انکے جانے کے بعد وہ بھی اپنے کمرے میں چلا گیا تھا وہ صفائی کے بعد برتن دھو رہی تھی اور ساتھ ساتھ سوچ رہی تھی ” بابو نے اسے تھپڑ مار دیا اگر اسنے بابو کو کچھ کردیا تو انھیں نوکری سے نکلوا دیا تو یا پھر بابو کو اگر یہ پتا چل گیا کہ انکو پتا میں ان پڑھ ہوں تو !!! وہ انھیں سوچی میں گُم تھی جب سیڑھیوں پر اسکے چیخنے کی آواز آئی ” لڑکی اوپر آؤ !! آواز اتنی اونچی تھی کہ ڈر گئی شیشے کا گلاس اسکے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گیا وہ اسے اٹھانے لگی تو وہ اسکے ہاتھ پر لگ گیا اندر تک زخم ہوگیا تھا وہ خون روکنے کی کوشش کر رہی تھی جب وہ پھر چیخا ” ہیر!!!! ” وہ ہاتھ سنبھالتی اوپر چلی گئی جہاں وہ غصے سے آگ ہوا بیٹھا تھا اسکا یہ روپ اسے کانپنے ہر مجبور کرگیا تھا وہ غصے سے اسکی جانب بڑھا تو وہ دیوار سے جالگی غصے سے ہاتھ اسکے دائیں بائیں اٹکا لیے ” نجم کو کیسے پتا چلا کہ تم ان پڑھ ہو ؟؟” ایک ایک لفظ وہ چبا چبا کر کہا تھا وہ ڈر سے اسے دیکھنے لگی انھیں پتہ چل گیا
جاری ہے