Musalat By Binte Aslam Readelle50190 Episode 34
No Download Link
Rate this Novel
Episode 34
لکھنا میرے مزار کے کتبے پر یہ حروف
مرحوم زندگی کی حراست میں مرگیا
آج علیم کی کورٹ میں پیشی تھی نعمان نے بہت کوشش کی تھی مگر قانوں حاوی ہوگیا تھا علیم کو سب سے زیادہ فکر اریبہ کی تھی اسکے بعد اسکا کیا ہوگا مرزا کے الفاظ اسکے کانوں کی گونج رہے تھے جیپ سنسان راستوں سے کورٹ جا رہی تھی جب علیم کو ایک خیال آیا ” اگر وہ بھاگ جائے تو ؟ مہتاب آگے بیٹھا تھا اسنے چند لمحے سپاہی کو دیکھا پھر اسکے پیٹ میں ٹانگ مار کر جیپ سے کود گیا ” سر مجرم بھاگ گیا !” مہتاب نے نیچے اتر کر دیکھا تو وہ سڑک پر بھاگنے کی کوشش کررہا تھا وہ بھی اسکے پیچھے بھاگا ” علیم رُک جاؤ ورنہ میں گولی چلا دوں گا !!
مگر اسے صرف بھاگنا تھا سب سے دور اپنی بہن کے لیے ” علیم رک جاؤ ! اسنے پتھر اٹھا کر مہتاب کی طرف پھینکا جس سے وہ بچ گیا ” علیم آخری بار کہہ رہا ہو رک جاؤ ورنہ گولی چلا دوں گا علیم !!! بُلٹ گن سے نکل چکی تھی سفر طے کرتی اپنی منزل تک پہنچ کر وہ علیم کی پشت کو چیرتی آگے نکل گئی تھی مگر اسے فرق نہیں پڑا کیونکہ گولی کندھے پر لگی تھی ” علیم رُک جاؤ !!
وہ نہیں سن رہا تھا جب مہتاب کے پیچھے سے ایک اور گولی چلی جو علیم کے سینے کے آر پار ہوگئی مہتاب نے پیچھے دیکھا تو کانسٹیبل موجود تھا ” سوری سر نشانہ چوک گیا !!!” سامنے علیم خون میں لت پت لمبے لمبے سانسیں لے رہا تھا جب تک مہتاب اس تک پہنچا تب تک علیم زندگی سے روٹھ گیا تھا” او نو یہ نہیں ہونا چاہیے تھے !
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
ابھی آپکو بریکنگ نیوز دیتے ہیں علیم احمد ایم این نعمان شرازی کے پرسنل اسسٹنٹ جن پر چند دن پہلے قتل کا الزام لگ تھا پولیس نے انھیں رنگے ہاتھوں پکڑا تھا انکا انکاونٹر کردیا گیا ہے جی ہاں آج صبح جب پولیس انھیں کورٹ لے جاری تھی تو انھوں نے فرار ہونے کی کوشش کی جسکے نتیجے میں انھیں شوٹ کردیا گیا پولیس ایک کے بعد ایک شیرازیز سے جڑے لوگ پولیس کے گھیرے میں آتے جارہے ہیں اور چند دن پہلے ایس پی مرزا کے بیان جنہوں میں انھوں نے کہا تھا کہ سب جانتے ہیں لاہور کی تباہی کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے اور آج پولیس کے ہاتھوں نعمان شیرازی کے پرسنل اسسٹنٹ کا انکاؤنٹر کر کے یہ بات ثابت کردی ہے کہ وہ نعمان شیرازی کو اوپن چیلنج کررہے ہیں ۔!!ٹی وی پر آتی خبر سن کر نعمان کے ہاتھوں سے فون گرگیا تھا سامنے ٹی وی پر علیم کہ ڈیڈی باڈی دکھائی جارہی تھی وہ صوفے پر گر گیا تھا ” نو!!!! “
منال بھی یہی نیوز سن رہی تھی وہ بے ہوش ہوکر گر گئی تھی ” منال ! منال !! مگر اسے ہوش نہیں آرہا تھا ” کال دی ریسکیو رافع !!!”اسے ریسکیو میں ہوسپیٹل لے جارہے تھے وہاں جا کر انھیں پتہ چلا تھا اسے نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے ۔چند گھنٹوں کے بعد اسے ہوش تو آگیا تھا مگر وہ پتھر ہوگئی تھی اسے علیم کی یاد آرہی تھی مہتاب مرزا دانیال پر غصہ آرہا تھا ” میں اریبہ سے دور نہیں جانا چاہتا اور نہ ہی تم سے …….یس منال آئی لو یو !!! ول یو میری می !!!!
وہ جان ہے میری !!! دل ٹوٹا ہے یا ہوسپٹل میں سر پھوٹا ہے ۔۔۔۔استعمال کرنا ہے میرا ۔۔۔۔۔۔۔ جنگ اگر محبت سے ہوتی ہے تو مجھے پورا یقین ہے کہ سکندر اعظم بھی ہار جاتا !! وہ چیخنے رونے لگی تھی ” نو نو !! جب اسے اپنی ضمیر کی آواز سنائی دینے لگی ” شرم آنی چاہیے تمہیں منال !!! لعنت ہے تم پر محبت جیسا پاکیزا لفظ استعمال کیا تم نے ۔۔۔تمہیں جانا چاہیے ۔۔۔۔کیا تمہیں علیم سے محبت نہیں تھی ۔۔۔۔تھی تمہیں علیم سے محبت تھی پھر بھی دھوکا دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔اس مہتاب کے لیے کیا جو تجھے چھوڑ گیا تھا محبت پر دوستی کو ترجیح دی اور محبت کا قتل کردیا !!! وہ کانوں پر ہاتھ رکھتی نہیں نہیں چلا رہی تھی جب اسے آواز آئی ” منال !!!” اسنے نظر اٹھا کر دیکھا تو بلیک تھری پیس میں ملبوس سجا سنورا اسکا روپ سامنے کھڑا تھا ” علیم !! “
“ یہ کیا کردیا محبت میں میری جان ہی لے لی !!”
“ نن نہیں علیم میں نے مہتاب کا ساتھ اسلیے دیا کیونکہ وہ لوگ نعمان شیرازی کو پکڑنا چاہتے تھے اسنے کتنے لوگوں کو ہرٹ کیا تھا دانیال فری نوشین کتنے تھے .”
“ میرا کیا قصور تھا یہی کے میں اسکے لیے کام کرتا تھا قسم ہے جو کبھی کسی لڑکی کے ساتھ غلط کیا ہو سب سر کرتے تھے اور ہم شریف باکردار لڑکیاں نہیں کڈنیپ کرتے تھے جو اپنا آپ ظاہر کرتی تھیں خود آ تی تھیں انھی کڈنیپ کرتے تھے مگر تم نے تو محبت میں مار دیا ..”
“ نن۔نہیں علیم میں نے مہتاب سے کہا تھا تمہیں کچھ نہ کریں پلیز مجھے معاف کردو !” اسنے مسکرا کر اسکا ہاتھ تھاما” معافی چاہیے تو چلو ! وہ آگے چل رہا تھا ور وہ پاگلوں دیوانوں کی طرح اسکے پیچھے اسکے ماں باپ اسے آوازیں دے رہے تھے ” منال بیٹا کہاں جارہی ہو !!
منال !!! مگر وہ اسکے پیچھے چلتی جارہی تھی اور وہ مسکرا کر کبھی پلٹ کر دیکھتا کبھی آگے چلنے لگتا وہ اسے روڑ کے بیچ وبیچ اسے لے آیا تھا منال کے سوا وہ کسی کو نظر نہیں آرہا تھا سڑک کے بیچ وہ اسکی طرف مُڑا ” کردیا معاف اب تم خدا حافظ کہہ دو اس زندگی کو میرے ساتھ چلو !! اسنے اسکے سامنے ہاتھ کیے جس اسنے بے ساختہ تھام لیا ” آئی لو یو علیم !!” وہ ہنس دیا تھا وہ اسے گھور رہی تھی جب فُل سپیڈ سے آتی گاڑی منال کو ہوا میں اچھال چکی تھی ” منال !!! اسکے والدین سڑک کنارے چلا رہے تھے خون میں لتا منال کا وجود آخری سانسیں لے رہا تھا اور آخر اسنے دم توڑ دیا علیم اسے بھی ساتھ ہی لیکر گیا تھا ۔لوگ حیرت سے اس دیوانی کو دیکھ رہے تھے جو روڑ ایکسیڈنٹ میں مر گئی تھی ۔
بیت جائیں گی یہ رُتیں بھی ۔۔۔
نہ مانوں پھر تولتے رہنا ۔۔۔
چلیں جائیں گے نہ مُڑ کر آئے گے۔۔۔۔۔۔
پھر چاہے در کھولتے رہنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رک جانا ہے سانس مُک جان ہے ۔۔۔۔
پھر مٹی پھرولتے رہنا ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منال کی موت کی خبر حیرت بن کر ان تینوں پر اتری تھی پہلے علیم کا انکاؤنٹر پھر منال کا روڑ ایکسیڈنٹ یار اتنی محبت منال نے اسکے بغیر دوسرا سانس تک نہیں لیا مہتاب کی حالت بری تھی اسکی بیسٹ فرینڈ گئ تھی وہ جانتا تھا وہ شرمندہ تھی علیم کی انکاونٹر کے بعد مرزا پر تھوڑی سے انکوائری بیٹھ گئی تھی جس پر وہ دلیلیں دے کر تھک گیا تھا کہ انکا ارادہ علیم کو مارنے کا نہیں تھا کانسٹیبل کی غلطی تھی وہ بہرحال وہ مجرم تھا جو فرار ہونے ہی کوشش کررہا تھا ۔ اکتا کر وہ دانیال کو زمہ داری سونپ۔کر گھر آگیا تھا اسے گھر کوئی گھنٹہ ہی ہوا ہوگا جب اسکا فون بجا ” اسلام علیکم!
“ واعلیکم اسلام بیٹا میں فاطمہ بی بات کررہی ہوں !! وہ ایکدم اُٹھ بیٹھا تھا ” جی دادی !”
“ بیٹا ہیر کو تین دن سے بڑا تیز بخار ہے اسنے منع کیاتجھے بتانے سے مگر آج تو صبح سے ہوش ہی نہیں آرہا اسے !!”
“ کیا مجھے کیوں نہیں بتایا ؟” وہ پریشانی سے اُٹھ بیٹھا ” ہیر کہہ رہی تھی تم پہلے بہت پریشان ہو اپنی وجہ سے اور نہیں کرنا چاہتی !!”
“ پاگل ہے وہ میں آرہا ہوں میں ابھی آرہا ہوں ! تھکا ماندہ ہی وہ جھنگ کے لیے نکل گیا تھا جھنگ پہنچتے پہنچتے اسے رات ہوگئی تھی آٹھ بجے کے قریب وہ حویلی پہنچا تو آدھا گاؤں تاریکی میں ڈوبا تھا اسنے دروازہ کھٹکھٹایا تو فاطمہ بی نے کھولا جو شاید اسی کا انتظار کررہی تھیں ” بڑی بی آپ اب تک جاگ رہی ہیں ؟؟”
“ ہاں میں نے کسی کو بتایا نہیں ہے ورنہ وہ ہیر کو بتا دیتے اور وہ مجھ سے ناراض ہوجاتی !”
“ پھر بھی اپ امل یا دائم کو کہہ دیتی ! اسے برا لگا تھا وہ اب تک جاگ رہی ہیں حالانکہ شہر میں وہ رات ایک دو بجے بھی آتا تو ہیر جاگ رہی ہوتی تھی اور ابھی تو آٹھ نو بجے تھے مگر گاؤں کی اوقات اور شہر کی اوقات میں بہت فرق ہوتا ہے ۔” امل تو اسی دن کی گئی ہے جب ہیر آئی تھی وہ بھی واپس نہیں آئی اور دائم بھی اس سے اگلے دن ہی پڑھنے چلا گیا تھا !” اسے حیرت ہوئی تھی فاطمہ بی اسکے لیے کچن سے پانی لینے گئی جو اسنے منع کردیا ” ہیر کا بخار کیسا ہے !”
“ ویسا ہی ہے اتر ہی نہیں رہا ڈاکٹر کہہ رہی تھی اس حالت میں اتنی لاپرواہی ٹھیک نہیں ہے اور تو نے بھی دھیان نہیں دیا !!” دادی کی بات وہ ٹھیک سے سمجھ ہی نہیں پایا کہ انھوں نے کہا کیا اسے بس اوپر جانے کی جلدی تھی ” آئیں بڑی بی آپکو آپکے کمرے میں چھوڑ دوں!”انھیں کمرے میں چھوڑنے کے بعد وہ اوپر ہیر کے کمرے میں آیا تھا سارا کمرا اندھیرے میں ڈوبا تھا ۔ اور وہ خود کمبل میں گٹھری بنی سو رہی تھی اسکے ساتھ بیڈ پر نیم دراز ہوئے اسنے کمبل ہٹا کر اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھ جو جل رہا تھا ” او مائی گوڈ!! مرزا نے اسکا رخ اپنی جانب کیا ” ہیر !! ہیر !! وہ دوائی ٹمپریچر کی وجہ سے اسے ہوش ہی نہیں آرہا تھا بس اونگ رہی تھی ۔وہ نیچے کچن میں آیا ٹھنڈا پانی نکالا پٹی تو اسے نہیں ملی اسلیے اپنا رومال ہی نکال اوپر آیا ” اللہ کرے تمہاری چاچی کو دل کا دورہ پڑے!! ” وہ اسکی ٹھڈنی پٹیاں کررہا تھا ” یہ تم نے اچھا نہیں کیا اتنی بیمار ہو اور مجھے بتایا بھی نہیں فون پر بات بھی نہیں کی مجھے کیوں لگتا ہے تم نے مجھے معاف نہیں کیا بس مجھے جتا رہی ہو کہ معاف ک دیا ہے تو مجھے تم سے کچھ اور بھی کہنا آج مجھے تم سے محبت ہو گئی سچی آج جب منال اور علیم کی ڈیتھ ہوئی تو احساس ہوا کسی کو کھونا کتنا تکیلف دا ہوتا ہے اور میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا مجھے تم سے نفرت تھی پھر ہمدردی ہوگئی اور وہ کب محبت میں بدل گئی پتہ ہی نہیں چلا ابھی نیو ائیر میں ایک ماہ پڑا تھا دادی سہی کہتی تھی تم محبت کرنے پر مجبور کردو گی اور اب میں دادی سے ڈنکے کی چوٹ پر کہوں گا مجھے میری بیوی چاہیے ! ہیر اسے کونسا سن پر رہی تھی جو مزے سے اپنا حالِ دل سن رہا تھا پر اسے تو سکون تھا نہ کہ وہ اسکے پاس ہے اور وہ اسکی تیمارداری کررہا ہے .اچانک ہیر نے کروٹ لی تو اسکے ساتھ جُڑ گئی اور بربڑبڑانے لگی ” بی بی !! اپنی دادی کا نام لیتی وہ اس میں سمٹتی جارہی تھی مرزا نے بھی اسکے گرد حصار باندھ لیا تھا اسکے کان کے قریب جھک گیا ” مرزا ہوں !!” وہ پھر غنودگی میں چلی گئی تھی اسنے ہاتھ بڑھا کر میڈیسن اٹھائی ” وہی گاؤں کی ڈسپنسری کی میڈیسنز ساتھ ایک ٹیسٹ رپورٹ بھی تھی جس پر لکھی میڈیسن پڑھ کر وہ حیران رہ گیا تھا اسنے ایک نظر ہیر کو دیکھا ” ہیر !! ہیر مجھے ایک بات بتاؤ !! ہیر !! اسے ہوش نہیں آرہا تھا اسنے گوگل پر کچھ سرچ کیا مل جانے پر اسنے گہرا سانس لیا” صبح سب سے پہلے ہم یہاں جائیں گے ! میڈیسن چِٹ پر لکھی میڈیسن اسے شک میں ڈال گئی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعمان سٹڈی کے صوفے پر آنکھوں پر بازو رکھےلیٹا تھا آنکھیں ضبط سے لال تھیں کبھی ارمان کی صورت سامنے آتی تو کبھی علیم کی فریحہ شام سے اسے اسی کنڈیشن میں دیکھ رہی تھی پھر ہمت کی اسکے پاس صوفے پر بیٹھ کر سر اسکے سینے پر رکھ دیا ” مجھے بھی بہت دکھ ہے علیم کے جانے کا یہ بھائی نے غلط کیا مگر اسنے مرڈر کیا تھا !نعمان نے اسکے بالوں میں انگلیاں پھنساں کر چہرا اوپر اٹھایا ” وہ سب تمہارء بھائی کا پلان تھا جانتی ہوں علیم نے کتنے مرڈر کیے تھے سولہ سولہ لوگوں کو مار چکا تھا آج تک اپنے ناخن کا ٹُکڑا تک نہیں چھوڑا پیچھے اور تمہیں لگتا ہے وہ ہتھیار اور لاش کے ساتھ پکڑا جاتا !! فریحہ کو تکلیف ہورہی تھی اسلیے اسنے روتے ہوئے نعمان کو دیکھا ” یو آر ہرٹنگ می !!” نعمان نے فوراً اسکے بال چھوڑ دیے جیب سے ایک انجیکشن نکالا ” میں مرزا کو اسکی سزا دوں گا میں اسے مار دوں گا پھر چاہے مجھے پھانسی کیوں نہ ہو جائے !! فریحہ نے خوف سے اسکی جانب دیکھا مگر اس سے پہلے ہی اسکی گردن میں کچھ چبھا تھا اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا اور پھر وہ نیند میں چلی گئی نعمان نے رُخ بدل کر اسے صوفے پر لیٹایا اسکے ماتھے کو چھوا ” بحث نہیں کرنا چاہتا تھا اور ہوش میں تم رو رو کر میرا سر کھالیتی اسلیے بے ہوش کردیا لیکن اب مرزا نہیں بچے گا !!”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔صبح جب ہیر کی آنکھ کھُلی تو اپنے آپ کو کسی کے مضبوط حصار میں پایا بلیک شرٹ اسنے نظر چہرے کی جانب کی تو وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے سو رہا تھا ” بابو !!! وہ آج پھر اسکے چنگل سے نکلنے کی انتھک کوشش کررہی تھی جو ہو نہیں رہا تھا مرزا نے جب آنکھیں کھولیں تو معصومیت سے معمور بخار سے کملایا چہرا اسے حیرت دیکھ رہا تھا اسنے فوراً اسکا ماتھا چھوا ” بخار اُترا !! ” جس پر وہ شرمندگی سے نظریں جھکا گئی انسے ادھر ادھر دیکھا اسکا دوپٹہ ناجانے کہاں تھا اسے ہوش کہاں تھی بال بھی بکھرے پڑے تھے مرزا نے پیار سے اسکے بال کانوں کے پیچھے کیا اسکی ناک ہلکی سی دبائی ” تم بہت کیوٹ لگ رہی ہو جلدی تیار ہو کر نیچے اور میں تمہاری چاچی سے ناشتہ بنوا لوں اور ہم نے جانا کہیں تمہارا چیک اپ کروانا ہے ” اسنے حیرت سے اسے دیکھا ” چیک ۔۔چیک !!
“ چیک اپ مطلب معائنہ اٹھو !!! اسے کہہ کر خود بھی آٹھ گیا تھا وہ ابھی بھی بیڈ پر بیٹھی سوچے جارہی تھی جب وہ پھر بولا ” میں واش روم میں لیکر جاوں !
“ نن نہیں میں چلی جاؤں گی !! اسے واش روم میں بھیج کر جب وہ نیچے آیا تو چاچی ساتھ میں بڑبڑا رہی تھی اور ناشتہ بنا رہی تھی ” ایک تو وہ امل وہ بھی چلی گئی اوپر سے یتیم آگئی ہے پھر سے بیمار ہوکر بیٹھ گئی ہے !! مرزا نے آنکھیں سُکیڑ کر اسے دیکھا ” میں نے نہیں کہا تھا جب آپ میرے گھر پر آکر میری فرج کھول کر کچھ بھی نکال لیتی تھیں تب وہ ہیر بڑی اچھی لگتی تھی آج جب اسکی باری آئی تو بڑی بات آرہی ہی آپکو اور ہاں پلیز اپنے ان ہاتھوں سے میرے بیوی کے لیے ناشتہ مت بنائے گا میں خودی بنا لوں گا مجھے یہ بتائیں دلیہ کہاں ہے ؟”چاچی نے حیرت سے اسے دیکھا یہ پولیس والا دلیہ بنائے گا ” تم پکا لو گے !!
“ ڈونٹ انڈرایسٹیمیٹ دی پاور آف پولیس مین !! اسنے کالر جھاڑ کر کہا تو چاچی نے ایک ڈبہ اسے تھما دیا اور خود اتراتی باہر چلی گئی ” اگر یہ خوبصورت ہوتی پھر کیا کرتی !! سر جھٹک کر دلیہ بنانے لگ گیا ہیر جب نیچے آئی تو پہلے دادی کے کمرے میں گئی جو باہر ہی آرہی تھی ان سے مل کر گلہ کردیا ” بتا ہی دیا نہ بابو کو !!”جس پر دادی نے اسکی گال پر بوسہ دیا ” میری پیاری ہیر !!چاچی کرسی پر بیٹھی تھی ہیر چپ چاپ کچن میں چلی گئی جہاں سامنے کا منظر اسے بے ہوش کردینے والا تھا شرٹ کے اپر تین بٹن کھولے کف کہنیوں تک موڑے وہ دیگچی میں چمچ ہلا رہا تھا ” بابو !!اسنے مسکرا کر اسے دیکھا وہ تیار تھی اب وہ ہیر لگ رہی تھی سادہ شلوار قمیض پراندی میں مقید بال اسکی سادہ سی ہیر شاباش اب جاکر باہر بیٹھو میں آتا ہوں ! مگر وہ رونے لگی تھی ” آپ یہ کیوں کررہے ہیں”
“ میں نہیں کروں گا تو کون کرے گا ! وہ آگے بڑھنے لگی تو اسنے منع کردیا وہ مایوس ہوتی باہر آگئی جہاں دادی ہنس اور چاچی منہ بنا کر بیٹھی تھی ” تیرا بندہ تو ڈاڈا ہے !”
اسے ناشتہ کروانے کے بعد وہ اسے باہر لیجا رہا تھا آدھے گھنٹے کے مسافت کے بعد وہ ایک کلنک کے سامنے رُکے جہاں کی تصویریں دیکھ کر وہ سمجھ گئی وہ اسے یہاں کیوں لایا وہ گاڑی سے اتر ہی نہیں رہی تھی ” ہیر اُترو!”
“ ایسا کچھ نہیں ہے جیسا آپ سوچ رہے ہیں !!” مرزا نے پوسکون ہوتے اسے نیچے کھینچا ” معائنہ کروانے میں کیا مسئلہ ہے ؟” اسے لیکر وہ اندر آیا جہاں نرسز اور لیڈی ڈاکٹرز موجود تھیں یہ جھنگ کا بیسٹ نرسنگ ہوم تھا ہیر کا ٹیسٹ ہوگیا تھا تقریباً آدھے گھنٹے بعد رپورٹ آگئی تھی وہ دونوں ڈاکٹر کے سامنے بیٹھے تھے ” ا ویسے تو سب ٹھیک ہے مگر یہ بہت ویک ہیں اور آئی تھنک انھیں کچھ دن سے بخار بھی ہے ایسی کنڈیشن میں اتنا کئیر لیس ہونا اچھا نہیں ہوتا ! مرزا کنفیوز ہورہا تھا ” کس کنڈیشن کی بات کررہی ہیں آپ ؟ ہیر کو انکی بات تو سہی سے سمجھ نہیں آرہی تھی مگر وہ گھبرا ایسے رہی تھی جیسے اسکی بات پکڑی گئی ہو ” یور وائف اذ وننتھ پریگننٹ!!” مرزا نے حیرت سے ہیر کو دیکھا جسے یہ تو بلکل سمجھ نہیں آئی تھی کہ ڈاکٹر نے کیا کہا مگر اسے یہ ضرور سمجھ آگئی تھی کہ۔مرزا کو اسکے حمل کی بات پتہ لگ گئی تھی جو ایک ماہ سے وہ اس سے چھپا رہی تھی کل رات ڈاکٹر کی پِریسکرائب کردیا میڈیسن میں اسکی دوائیاں بھی تھیں جس پر اسے شک ہوا تھا اسلیے وہ اسے یہاں لایا تھا اس سے پہلے مرزا کچھ کہتا وہ اٹھ کر باہر آگئی تھی ” تھینک یو ڈاکٹر بس کنفرم کرنا تھا !” وہ باہر آیا تو ہیر گاڑی میں بیٹھی تھی اسے بنا کچھ کہے وہ اسے حویلی واپس لے آیا تھا ” کیا کہا ڈاکٹر نے ؟”
“ کمزور ہے خیال رکھنا پڑے گا !! اسنے سیڑھیوں سے جاتی ہیر کو دیکھ کر کہا انھیں بتا کر وہ بھی اسکے پیچھے ہی اوپر آگیا تھا جہاں وہ بیڈ شیٹ مٹھیوں میں جکڑے رو رہی تھی اسنے بازو سے پکڑ کر اسے اپنے سامنے کیا ” کیوں چھپایا مجھ سے ؟”
“ کک۔۔۔کیا چھپایا ابھی پتہ چلا !!!مرزا نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا ” ابھی پتہ چلا ایک مہینہ ہوگیا گاؤں کے ڈاکٹر نے بتایا تھا تو دوائیاں لکھ کر دیں تھیں کیسے پتہ نہیں تھا !! اسکے چلانے کی آوز نیچے تک آرہی تھی چاچی اوپر جانے لگی جب دادی نے روکا ” انکا آپسی معاملہ ہے !!”
“ سس۔۔سہی سے نہیں بتایا انھوں بس دوائیاں ہی دیں تھیں !! مرزا کا پارہ ہائی ہوگیا تھا “ہو ہی نہیں سکتا بڑی بی کو معلوم نہ ہوا ہو ہو نہیں سکتا جب انھیں پتہ تھا تم تمہیں کیسے نہیں سچ بتاؤ کیوں جھوٹ بولا مجھ سے گھر پر بھی طبعیت خراب تھی کمزوری تھی میں نے پوچھا تو کہہ دیا ہمیشہ سے ایسی تھی بولو اتنی بڑی بات کیوں چھپائی مجھ سے میری اولاد کی خبر مجھ سے ہی چھپا کر رکھی تم نے !! وہ اسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ رہا تھا ۔
“ کیونکہ میں نہیں چاہتی تھی کہ جس طرح میں آپ پر مسلط ہوئی ہوں اس طرح آپ میرے بچے کو بھی خود پر مسلط سمجھے کیونکہ وہ آپکے لیے محبت نہیں صرف ترس کی نشانی ہے جو آپ نے مجھ پر کھایا تھا !!مرزا کا شک یقین میں بدل گیاتھا ” مجھے پتہ تھا مجھے لگتا تھا کہ تم نے مجھے معاف نہیں کیا کوئی خلش کوئی رنجش ابھی بھی دل میں ہے .”
“ مجھے اس ہمدردی ہے مجھے اس پر ترس آتا ہے کہ غیر تعلیم یافتہ کیوں رہ گئی مجھے ہمدردی ہے محبت بھی ہوجائے گی جب محبت نہیں تھی تو کیا آئے اتنا قریب کیوں ؟” وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی ۔” کیونکہ میں تمہیں تمہارا ہر حق دینا چاہتا تھا او مجھے تم ۔۔۔۔۔”
“ دے دیا نہ اب کچھ نہیں چاہیے نہ میرا کوئی حق نہ میرے بچے کا …” آنسوں پونچ کر وہ بیٹھ گئی تھی ” ہیر یہ میرا بھی بچہ ہے !!”
“ نہیں یہ صرف اور صرف میرا بچہ ہے صرف ہیر رجب کا !! وہ اسے تنبیہ کررہی تھی میرا نام بھی ہٹا دیا وہ بستر پر لیٹ گئی تھی اسے چکر ارہےتھے ۔مرزا چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر الماری کے اوپر سے سوٹ کیس نکالا الماری سے اسکے کپڑے نکالے ” یہ کیا کر رہے ہیں آپ ؟”
“ گھر جارہے ہیں آج ہی گھر جارہے ہیں !!! وہ اسکے کپڑے بیگ میں رکھ رہا تھا ” کیوں مجھے کہیں نہیں جانا مجھے نہیں رہنا آپکے ساتھ ہر روز ترس کھائیں گے مجھ پر میرے بچے پر !!
“ اُٹھو !!! وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچ رہا تھا مگر وہ ہل۔ہی نہیں رہی تھی ” ہیر مجھے کچھ غلط کرنے پر مجبور مت کرو !!”مگر وہ روتی اپنا ہاتھ چھڑا رہی تھی اسنے ہاتھ اسکے کان کے پیچھے کیا نبض دبائی اور ہیر بے ہوش ہوگئی تھی اسے باہوں میں اٹھایا اور نیچے چل دیا ” کیا ہوا ہیر کو !!”
“ کچھ نہیں ہوا اسے فتور چڑھ گیا الگ ہونا چاہتی ہے مجھ سے میرے بچے کو دور کر رہی ہے اور یہ میں کسی قیمت پر ہونے نہیں دوں گا !!” فاطمہ بی کے روکتے روکتے وہ اسے جیپ میں ڈال چکا تھا ” مرزا اسے رہنے دو میں سمجھاتی ہوں !”
“ رہنے دو اس گھر میں جہاں یہ عورت اس حالت میں اس سے کام کروائے تین دن سے بخار میں تھی کتنا خیال رکھا اسکا میں کافی ہوں اسکے لیے !! سوٹ کیس جیپ میں ڈالا اور دھول اڑاتا نکل گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
