Musalat By Binte Aslam Readelle50190 Episode 25
No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
ناول # مسلط
اذ قلم # بنتِ اسلم
قسط نمبر 25
دانیال گھر واپس آیا تو اسکے ہاتھ میں چند کاغذ تھے اسکی والدہ نے حیرت سے اسے دیکھا وہ پانی پی رہا تھا اور وہ کاغذات دیکھ رہی تھیں ۔
“ دانیال یہ !! اسنے گلاس نیچے رکھا اور کاغذ پکڑ لیا ” فری کے لیے !”
“ دانیال تمہیں لگتا ہے یہ سہی فیصلہ ہے فری کے لیے تمہارے لیے !” وہ پریشانی سے اسے دیکھ رہی تھیں ۔
“ امی یہ ہم دونوں کے لیے بہتر ہے اس رشتے کے لیے بہتر کہ وہ بھول جائے کہ کبھی یہ رشتہ بنا بھی تھا اپنی زندگی میں مگن ہو جائے!!”
“ اور اگر وہ نہ مانی مطلب تم جانتے ہو اسکی کنڈیشن کہیں کچھ ۔۔۔۔۔۔۔”
“ امی فکر مت کریں میں منا لوں گا ہے کہاں !”
“ اوپر امبر اور لائبہ کے ساتھ مووی دیکھ رہی ہے !” اثبات میں سر ہلاتا وہ اوپر چلا گیا سامنے ایل سی ڈی کے سامنے فلور کشن پر وہ تینوں بیٹھی تھیں امبر اور لائبہ انجوئے کررہی تھیں اور وہ بس انھیں دیکھ کر مسکرا رہی تھی ۔فری کتنا بدل گئی تھی دانیال کی دادی سے فون پر اکثر بات ہوتی تھی فری تو وہ تھی جو ہر فلم میں گانوں پر ساتھ ساتھ ڈانس کرتی تھی ساتھ ساتھ ڈائیلاگ بولتی تھی مگر یہ تو پتہ نہیں کون بوسیدہ روح جوانی کا لبادہ اوڑھے بیٹھی تھی ۔اسنے دروازے پر دستک دی ” اہم !!! ان تینوں نے ایک ساتھ اسے دیکھا ” بھائی کم ان واچ دس !!
“ نو آئی ڈونٹ وانٹ !! فرحین کمرے میں مجھے آپ سے بات کرنی ہے ۔
فرحین خاموشی سے اٹھ گئی تھی جب پیچھے امبر اور لائبہ کی ہوٹنگ سنائی دی ” او !!!!!!!
دانیال نے کمرے میں آکر دروازہ بند کردیا تھا اسے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کرکے خود بھی بیٹھ گیا اور اسکے سامنے ایک کاغذ کیا جسے دیکھ کر فری کی آنکھوں میں تکلیف پریشانی اوبھر آئی تھی ” آپ سچ میں یہ چاہتے ہیں ؟”
“ ہاں میں یہی چاہتا ہوں اینفیکٹ یہی ٹھیک کہ تم بھول جاؤ تمہارا نکاح ہوا تو ۔۔۔”
“ نہیں مجھے نہیں کرنا آپ ایسے کیسے کر سکتے ہیں میرے ساتھ ۔۔۔۔”
“ فری تمہیں کرنا ہوگا یو ہیو تو کم آوٹ فرام دِس فیز تمہیں پڑھنا ہوگا اپنی تعلیم مکمل کرنی ہوگی اس دنیا کا سامنا کرنا ہوگا !!! فری نے ایک نظر ہاتھ میں پکڑے ایڈمیشن فارم کو دیکھا ” نہیں کوپ میں نہیں کر پاوں گی پلیز مجھے نہیں دنیا کا سامنا کرنا وہ مجھے جینے نہیں دیں گے !!” دانیال نے کندھوں سے اسے تھاما ” جینے تمہیں خاموشی اور اکیلا پن بھی نہیں دے گا تمہیں اس دنیا کا مقابلہ کرنا ہے تمہیں کل سے یونی جانا ہے تم مصنفہ شاعرا بنا چاہتی تھی تمہیں اردو ادب پڑھنا تھا تو پڑھو اپنی خواب مت مارو میں نے سنی ہے تمہاری شاعری تم بہت اچھی شاعرا بنو گی پلیز !!! اسنے بھیگی پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا اور اسکے سینے سے لگ کر رو دی ” پلیز مجھے نہیں جانا وہاں چاہے ساری لڑکیاں ہیں سب مجھے طعنے ماریں گے گندی لڑکی کہیں گے !”
“ کوئی نہیں کہے گا اور جو کہے تو اسے کہنا انسپیکٹر دانیال کی بیوی ہوں وہ چھوڑے گا نہیں تمہیں !! ” اسکے گرد گرفت مضبوط کرتے اسے دلاسہ دے رہا تھا جو آنے والے وقت سے ڈر رہی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کا اندھیرا ناگن کی طرح کنڈلی مارے بیٹھا تھی لیکن کئی نئے جزبات تھے جو سانس لینے لگے تھے مرزا ہیر کے لیے کچھ کچھ محسوس کرنے لگا تھا اسکی قربت میں بہکنے لگا تھا وہ خود پریشان تھا اس بات سے ۔۔۔۔۔۔دانیال اور فری نے اپنے رشتے کو کچھ عرصے کے لیے بھولنے کا فیصلہ کیا تھا فری کی تعلیم مکمل ہونے تک وہ امبر اور لائبہ کے کمرے میں شفٹ ہورہی تھی ۔مہتاب اور نوشین کی زندگی کا آغاز کل سے ہونے والا تھا کل مہتاب نوشین کے دُکھوں کا مداوا کرنے کے لیے اسے قبول کرنے والا تھا ۔دائم اور امل کے رشتے میں صرف نفرت کا جذبہ تھا اور اندھا دھند تھا جوجو اور زی زی معصومیت کو روندنے کا جزبہ لیے بیٹھے تھے اور امبر لائبہ انھیں پانے کا علیم منال کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا ایک خوشی اسے محسوس ہورہی تھی امل بدلے کا۔ جزبہ لیے بیٹھی تھی نوشین کا بدلہ مرزا کو زہر دینے کا بدلہ اور اسے دھوکہ دینے کا بدلہ اور نعمان منان کو سینے سے لگائے سکون کی نیند سو رہا تھا اور فریحہ اپنی خالی گود کو گھور رہی تھی منان کے لیے لی گئی چیزوں کو گھور رہی تھی اسکا دل جذبہ غم سے بھرا تھا ۔
لاہور میں کالی رات کنڈلی مارے بیٹھی تھی ہر زہن میں کوئی نہ کوئی جزبہ مسلط تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح نعمان کی بہترین صبح میں سے ایک تھیں کیونکہ آج اسکی عفت کا برتھ ڈے تھا اور ہر سال وہ اسکے لیے گفٹ خود لاتا تھا ابھی بھی وہ مال کے لیے نکلنے والا تھا ۔
“ بھابھی جلدی ناشتہ کرلیں ہمیں مال جانا ہے ولیمہ کا جوڑا لینا ہے .” فریحہ نے خود اپنا منہ آلو کے پراٹھے سے بھر رکھا اور ہیر کو بھی جلدی کھانے کا کہہ رہی تھی ۔ ” مم۔۔مگر میرا جانا کیوں ضروری ہے آپ خودی لے آنا جو اچھا لگے !”
“ آپکا جانا ضروری ہے میں نے پارلر کا اپائنٹمنٹ لیا ہے آپکا مینی کیور پیڈی کیور فیشل سب ایک دن پہلے کروانا ہے اسلیے جلدی کھائیں !!! خود وہ چائے کا کپ اندر انڈیل رہی تھی ۔مرزا کی ایک ہی جیپ تھی جسے لیکر وہ تھانے گیا تھا سو وہ ٹیکسی پر گئی تھیں نعمان بھی مینشن سے نکل گیا تھا ۔ دونوں گاڑیاں ایک ہی وقت میں لبرٹی مارکیٹ کے مال کے باہر رکی تھیں نعمان نظریں گھماتا کچھ دور فون پر بات کرنے چلا گیا تھا پیچھے وہ دونوں مال کے اندر چلی گئیں تھیں یہاں سے انھوں نے ہیر کے ولیمے کا سامان اسکی جیولری اور ڈریس لینا تھا ۔ہیر حیرت سے اتنی بڑی عمارت کو دیکھ رہی تھی جہاں لوگ ہی لوگ تھے وہ ڈر بھی رہی تھی وہ بہت بڑی برائیڈل ڈریس شاپ میں چلی گئی تھیں ” کچھ نیا اور الگ ولیمے کے لیے !! دوکاندار نے اثبات میں سر ہلایا اور ڈریس نکالنے لگا انگوری پیچ فیروزی ہلکا گلابی اسے سب دکھائے جارہے تھے اور وہ اس لیے نہ کر رہی تھی ” یہ بہت مہنگے ہونگے بابو کا بہت خرچہ ہوجانا ہے میری وری کے اتنے جوڑے پڑے ہیں جو شاپروں سے نکالے بھی نہیں ہیں ان میں سے پہن لیتی ہوں .”
“ ہائے صدقے میرے کنجوس بھائی کو بیوی بھی مکھی چوس ملی آپکے بابو نے یہ سارے پیسے قبر میں لیکر تھوڑی جانے ہیں کروانے دیں !! وہ انگوری رنگ کا کامدار دوپٹہ اس سے لگا کر دیکھ رہی تھی ” کتنے کا ہے ؟
“ پچاس ہزار !!! ہیر جو اسکی زری پر انگلیاں پھیر رہی تھی فورا پیچھے ہوگئی ” پپ۔۔پچاس ہزار اتنے پیسے اتنے پیسوں میں تو میرے پورے پنڈ نے دعوت کھا کہ رج جانا ہے مجھے نہیں لینا ! فریحہ کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا ۔
” کچھ نہیں ہوتا آپ پیک کریں ہم یہی لیں گے !! لہنگا پیک کروا کر وہ اب جیولری شاپ پر بڑا سا ہار لیے بیٹھی تھی ” میں نے انارکلی تھوڑی بنا ہے ولیمہ ہی ہے کوئی چھوٹا والا لے لیتے ہیں !” فریحہ نے دانت نکال کر اسے دیکھا پھر سیٹ بھی خرید لیا . نعمان نے عفت کے لیے برینڈ نیو فون لیا تھا جیسا اسے چاہیے تھے پیمنٹ کرتا والٹ ہاتھ میں پکڑے ہی وہ باہر آگیا جب کسی سی ٹکر ہوگئی ” معاف کردیں غلطی سے ہوگئی !! ہیر نے پریشانی سے نعمان کو دیکھا جو نیچے گرا فون اور والٹ اٹھانے لگا تھا اسکے اندر سے کارڈز اور کافی کچھ گر گیا تھا ہیر کا میک اپ کا سامان بھی پھیل گیا تھا جلدی جلدی میں چیزیں اٹھاتے ہیر نے ایک تصویر بھی اٹھا لی تھی دیکھی اور رکھ لی نعمان کوئی بات نہیں کہتا آگے بڑجا والٹ چیک کیا تو ایک کمی تھی وہ پیچھے مُڑا ” سنیے آپکے پاس کوئی تصویر چلی گئی ہے کیا”
“ جج۔۔۔جی نہیں میرے پاس تو صرف میری نند کی تصویر ہے اور تو کوئی نہیں !!٫ اثبات میں سر ہلاتا وہ مُڑ گیا ” فریحہ کی پکچر کہاں گئی ؟ وہ ادھر ادھر تلاشنے لگا ہیر فریحہ کو ڈھونڈ رہی تھی اسے اب ڈر لگنے لگا تھا جب اسکا ہاتھ کسی نے پکڑا ” شکر بھابھی کہاں چلی گئی تھیں ؟”
“ میں نے کہا جانا تھا مجھے تو پتا بھی نہیں یہاں کا ؟ اچھا چلیں چلتے ہیں !”
“ ہاں یہ لو تمہاری تصویر!!! فریحہ نے حیرت سے اپنی تصویر ہو دیکھا ” یہ کیوں لائیں تھیں ساتھ ؟” ہیر نے حیرت سے اسے دیکھا ” میں کہاں لائی تم لائی ان شاپروں سی گری ہے .”
“ ام شاپروں میرا مطلب بیگز سے کیسے گر سکتی ہیں یہ تو ہم نے یہاں آکر لیے ہیں !” ہیر کو اچانک اس آدمی کی بات یاد آئی ” سنیے آپکے پاس کوئی تصویر تو نہیں چلی گئی؟ ” تو تمہاری یہ تصویر اس آدمی کے پاس کیا کررہی تھی .”کونسے آدمی ؟” اس پر ہیر نے اپنے پیچھے اشارہ کیا جہاں نعمان ابھی بھی تصویر ڈھونڈ رہا تھا فریحہ کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی تھی ” بھابھی چلیں یہاں سے ! ہیر کا ہاتھ کھینچتی وہ باہر آگئی تھی ” فریحہ وہ کون ہے ؟” ہیر نے پریشانی سے اسے پوچھا جو ٹیکسی ڈرائیور کو چلنے کا بول رہی تھی ” بھابھی وہ ۔۔۔۔۔وہ کچھ نہیں بس ایسے ہی تنگ کرتا تھا اسلیے !”
“ تم بابو کو بتا دو وہ اسے پکڑ لیں گے !! فریحہ نے اسکے منہ کی طرف دیکھا ” جس دن بابو نے اسے پکڑ لیا اس دن ان دونوں نے رل کر مجھے پکڑ لینا ہے .”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امبر اور لائبہ آج بہت خوش تھی آج شام کو قدافی سٹیڈیم جارہی تھیں اپنی اکیڈمی فیلو اور ٹیچرز کے ساتھ یا شاید صرف جو جو زی زی کے لیے اکیڈمی آئے انھیں پندرہ منٹ ہوگئے تھے وین تیار تھی بس ان دونوں کا انتظار تھا ان دونوں نے پنک کلر کی فراکس پہنی تھیں کھُلے بال جن پر دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا چہرے پر چمک اور آنکھوں میں بس سرمہ اور میک اپ سے عاری جینز ٹائٹس شرٹ میں ملبوس لڑکیوں کو حیرت سے انھیں دیکھ رہی تھی ” انھیں پتا ہی کہ لڑکے بھی ساتھ جارہے ہیں ؟ لائبہ کہ بات پر امبر نے افسوس سے ان لڑکیوں کو دیکھا ” بھول جاتے ہیں ہماری تہذیب کیا ہے کسی کو کترینہ جیسا لُک چاہیے کیسی کو شردھا جیسا فگر تو کوئی انجلینا جولی بنا چاہتی ہے یہ مغربی طرز ہم پر حاوی کیوں ہوتی جارہی ہے ہماری تہذیب تو کھلا لباس ہے جسم سے چپکا ہوا نہیں گوسشت کے ٹکڑے بنے گھوم رہی ہیں ۔ ” تبھی جوجو اور زی زی لڑکیوں کے بھیڑ کے دل چیرتے وہاں آگئے تھے دونوں نے بلیک شلوار قمیض پہنی ہوئی بالوں کو جیل سے سیٹ کیے وہ مغرور چال چلتے انکے قریب آئے ” سوری سوری ہم تھوڑے لیٹ ہوگئے !!”امبر اور لائبہ نے ایک دوسرے کو دیکھا اور وین کی جانب چل دی جوجو زی زی نے ایک دوسرے کو دیکھا ذی ذی منہ بسور کر بیٹھ گیا تھا ” کیا جوجو اب انکے نخرے بھی برداشت کریں حد ہوگئی !! وہ واپس جانے لگا تو جو جو نے اسے کھینچ کر سامنے کیا ” ارمان ماموں کا بدلہ لینا ہے نہ تو انکے نخرے بھی اٹھانے پڑیں گے اور انھیں بھی !!”
“ نہیں جوجو اٹھانا نہیں لائبہ بہت موٹی ہے !!!” اسنے روہانسی لہجے میں کہا جس پر جوجو ہنس دیا تھا ” شٹ اپ ذی ذی !!
وہ بھی وین میں جاکر بیٹھ گئے تھے بوائز ایک طرف تھے اور گرلز ایک طرف سیٹ پر بیٹھتے ہی وہ دونوں ایک فون پر بزی ہوگئے تھے امبر اور لائبہ حیرت سے انھیں دیکھنی لگی ” ہوووو شرم تو نہیں آتی پلٹ کر پوچھا بھی نہیں کہ کیا ہوا بدتمیز !!” وہ دونوں ایک دوسرے کے قریب بیٹھی باتیں کررہی تھیں ” یہ لڑکے ہوتے ہی ایسے ہیں جوجو ہے نہ رمشا کو گھورتا رہتا ہے ہاں نہ وہ ہے ہی ایسی دوپٹہ تو لیتی نہیں اوپر اسکا افئیر نہ وحید سے ہے میں نے دیکھا ہے اسے لیٹر دیتے !!” اور لائبہ غور سے اسکی باتیں سن رہی تھیں ” اور وہ ایمن نہیں ہے اور سیکنڈ ائیر والی ہماری کلاس کا فرید اسکے پیچھے پھرتے ہے !! وہ سیکنڈ لاسٹ سیٹ پر بیٹھیں تھی آخری سیٹیں خالی تھیں مگر انھیں پتہ ہی نہ چلا کب بھر گئی ” اچھا اور حنا کا افئیر کس سے ہے ؟؟
“ ہاں بتاتے ہیں !! مردانی آواز پر تو انھوں نے اب غور کی تھی وہ دونوں کب سے انکی چغلیاں سن رہے تھے زی زی نے دانتے نکالتے پوچھا ” یار بتاؤ نہ مزا آرہا اتھا حنا کا افئیر کس سے ہے ؟”وہ دونوں شرمندہ ہوگئی تھیں ” یار تم لڑکیاں چغلیاں کرتے تھکتی نہیں ہو؟”
“ اور تم لڑکے لڑکیوں کو تاڑتے تھکتے نہیں ہو !!! امبر کی بات پر جوجو نے آنکھیں سکیڑ کر انھیں دیکھا ” مجھے تمہارے سوا کچھ نظر کب آتا ہے ہاں رمشا کی آنکھیں براؤن ہیں اسکے بال کندھوں تک کالے سیاہ ہیں ہاں اسکے ہونٹ تمہاری نسبت باریک ہیں ہاں اسکی اسکی تھوڑی کے تھوڑا پاس ایک تل ہے اسکی پلکیں مُڑی ہوئی ہیں مگر مجھے تمہارے سوا کچھ نظر کہاں آتا ہے ۔”
“واہ 4کے ایچ ڈی الڑا اندھے ہو پوری لڑکی سکین کرلی اور میرے سوا کسی کو دیکھتے نہیں ہو پھٹو !!!
“ یہاں پینڈیو کی طرح مجھے پھٹو نہ بولا کرو خود کیا ہو تم جراسک ورلڈ کی ڈئیناسور !!! ” امبر کا منہ کھل گیا تھا ” تم نے مجھے ڈائیناسور بولا تم چوٹے جیسے ہو ؟”
“ چچ۔۔۔۔چو۔۔۔۔واٹ وہ کیا ہوتا ہے !”” امبر نے حیرت سے اسے دیکھا ” چوٹا مج کا گھر والا ہوتا ہے !! جوجو کو ابھی بھی سمجھ نہیں آئی تھی اسنے کنفیوز سا ہوکر زی زی کو دیکھا مگر وہاں تو منظر ہی کچھ اور تھا ” لائبہ تمہیں پتہ تمہاری آنکھیں بہت پیاری ہے ایسے جیسے سرمئی شام ایسے جیسے ڈوبتا سورج ایسے جیسے زندگی کی بہار !!! اور لائبہ بھی ہاتھ ٹھوڑی کے نیچے رکھے سن رہی تھی جو جو اور امبر نے مسکرا کر اسے دیکھا اور دونوں کے سر پر چپت لگا دی نکمے !!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨……………
ہیر اور فریحہ شام کو گھر آگئی تھیں سارا دن کی کاروائی میں ہیر نعمان شیرازی والا واقعہ بھول گئی تھی مرزا بھی واپس آگیا تھا دانیال نے اسے بتایا تھا کہ آج اسنے ارمان شیرازی کو دھویا ہے اس بات پر وہ دونوں ہنسے بھی بہت تھے کل ان دونوں کاولیمہ تھا اور مہتاب نوشین کا نکاح تو مرزا نے فنکشن ایک ہی ہال میں رکھا تھا ۔وہ کمرے میں بیٹھا چند کیسزز سٹڈی کررہا تھا جب ہیر چند بیگز لیکر کمرے میں آئی اسنے مرزا سے کچھ کہنا چاہا پھر ڈر کر خاموش ہوگئی ۔وہ بہت تھک گئی تھی اسلیے نہانا چاہتی تھی نہا کر باہر آئی تو وہ ابھی بھی کام کر رہا تھا وہ بیڈ کی اس سائیڈ بیٹھا تھا جو ڈریسنگ کے ساتھ تھی اسنے وہ گیلا بال ہئیر ڈرائیر کے بجائے ہاتھوں سے سکھا رہی تھی کیونکہ اسے وہ چلانا نہیں آتا تھا ۔وہ پانی کی بوندیں مرزا کے چہرا پر جابجا گر رہی تھیں اسنے اکتا کر سامنے دیکھا تو دل بے ایمان ہوگیا تھا کمر پر پھیلے گیلے بال جنہوں نے کمر کے ارگرد سیلاب کر رہا تھا اسکے کلون کی مخصوص خوشبو کمرے میں چار سو پھیل گئی تھی کام میں مصروف کلائیوں میں کھنکتی چوڑیاں آئینے مین میک اپ سے عاری سادہ معصوم چہرا کنگھے سے لپٹی لمبی انگلیاں عام لڑکیوں سے کم ناخن جن پر کوئی رنگ نہیں لگا تھا کاجل آئی لائنر سے نہ آشنا سرمے سے بھری آنکھیں بالوں سی پانی اب بھی ٹپک ٹپک کر زمین پر گر رہا تھا جو اب مرزا کے پیروں کے نیچے آرہا تھا بے ساختہ ہی وہ اسکی جانب چل دیا ۔ہیر کو اچانک اپنے کندھے پر کسی کا ہاتھ محسوس ہوا مگر تب تک مرزا اسکا رخ اپنی جانب کرچکا تھا اسکے چہرے پر جھکتا جارہا تھا ہیر اسے دیکھ رہی تھی جب وہ اسکے ہونٹوں کو چھونے لگا تو اسنے چہرا پیچھے کرلیا مرزا نے چہرا پھر اسکے قریب مگر وہ پھر پیچھے ہوگئی مرزا نے ایک نظر اسے دیکھا بالوں میں ہاتھ پھنسا کر چہرا اپنے قریب کیا تو پھر پیچھے کرنے لگی ۔مرزا کو ہنسی آگئی تھی ” ہیر کیا ہے ؟”
“ آ۔۔۔۔اپ کیا کرنے لگے ہیں !!” مرزا نے حیرت سے اسے دیکھا پھر دو قدم اسکی اور قریب ہوگیا ” وہی جو زہر کھانے سے پہلے کررہا تھا ۔” اسکا ارادہ سن کر وہ نظریں جھکا گئی تھی ” میں ہیر ہوں وہی ان پڑھ جاہل گنوار جو اپنی خامی کی وجہ سے کسی کی محبت کے لائق نہیں ہے جسنے پیدا ہوتے اپنے ماں باپ کھا لیے جو زبردستی آپنا ان پڑھ وجود لیکر کسی پر مسلط ہوگئی جو صرف کام کرنے کے لیے پیدا ہوئی چاچی سہی کہتی تھیں جو تیرے پاس آئے گا ترس کھا کر آئے گا تو محبت کے لائق ہی نہیں پہلے آپ مجھ سے نفرت کرتے تھے پھر آپکو مجھ پر ترس آنے لگا اور آج آپ میرے ساتھ اچھا برتاؤ کر رہے ہیں تو صرف اس وجہ سے کہ میں آپکے والد کو منا لیا دانیال بھائی کو آپ نے یہی بتایا تھا نہ فون پر !اسنے نم آنکھیں اٹھا کر مرزا کو دیکھا جسے شام کی دانیال کی بات یاد آئی ( ہاں مرزا مبارک ہو ولیمے کی آخر انکل مان ہی گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں نہ یار ہیر کی وجہ سے اسنے ابو کو منایا ہے میں اسکا شکر گزار ہوں اس بات پر اور کچن سے نکلتی ہیر نے یہ بات سن لی تھی اور اب جب وہ اسکے قریب آیا تھا تو اسے یہی لگا تھا کہ وہ صرف اس لیے کررہا ہے کہ وہ اسکا شکر گزار ہے آپکو مجھ پر ترس کھانے کی ضرورت نہیں مجھے آپ سے کوئی حق نہیں چاہیے !” مرزا کو اسکی بات پر حیرت بھی ہوئی تھی اور شرمندگی بھی اسنے کب ہیر سے کہا کہ وہ اسے اچھی لگنے لگی ہے کب اس سے کہا اسے اسکی عادت ہوگئی ہے وہ اسکا شکر گزار ہے اور اب بھی وہ غلطی ہی کررہا تھا اسکی غلط فہمی نہ دور کرکے وہ کمرے سے چلی گئی تھی اور وہ وہیں بستر پر لیٹ گیا وہ خود حیران تھا کیوں اسے اسکی طلب ہونے لگی ہے ہاں مان لیا کہ وہ اسکا شکر گزار تھا مگر جو وہ کرنے جارہا تھا کیا وہ بغیر کسی جذبات کے ممکن تھا نہیں وہ ہیر سے محبت نہیں کرتا !! وہ نفی میں سرہلا رہا تھا مگر آنکھیں بند کرتا تو وہ نظر آتی آنکھیں کھولتا تو اسکی سادگی سیراب بن جاتی اسکی معصومیت سب یاد آرہا تھا کیوں کہ بنجر زمین پر کہیں محبت کی کلی پھوٹ چکی تھی ۔
جاری ہے
