96.1K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

ناول # مسلط
ازقلم # بنت اسلم
قسط نمبر #27
نوشین بیڈ پر بیٹھی بیٹھی ہی کانپے جارہی تھی ایسا نہیں تھا کہ اسکے لیے یہ احساس نیا تھا مگر گزرے وقت کی تلخ یادیں اسے آگے بڑھنے سے بھی روک رہی تھی ۔وہ احساسِ کمتری میں مبتلا تھی وہ خود کو مہتاب کے قابل نہیں سمجھتی تھی ایک عورت جو اپنے شوہر کی ہاتھوں ہی روندی جا چکی ہو گھریلو تشدد کا شکار رہی ہو وہ آگے کیسے بڑھے گی ۔تبھی دروازہ کُھلا وہ اندر آیا وہ تو بہت خوش تھا اسکی محبت چاہے کھو کر سہی اسنے پا لی تھی ہاتھوں میں تحفہ پکڑے وہ اسکے پاس بیٹھا جسکا کانپنا زیادہ ہوگیا تھا مہتاب نے اسکا ہاتھ پکڑا جو واضع لرز رہا تھا اسکے ہاتھ پر ہاتھ کر تھوڑا سا دبایا ” ڈر کیوں رہی ہو میں غیر تو نہیں ہوں مہتاب ہوں تمہارا” مگر لرزش میں کوئی کمی نہیں آئی تھی اسنے رِنگ کیس کھولا تو نوشین کی انکھیوں کے سامنے اپنی شادی کی پہلی رات آگئی تھی جب فائق نے اسے منہ دکھائی دی تھی اسنے بھی ایسے ہی رنگ کیس کھولا تھا مگر اس میں رنگ نہیں چھوٹا بچھو تھا جو اسنے اسکے ہاتھ پر چھوڑ دیا تھا مہتاب اسے رنگ پہنانے لگا تو وہ چیخنے لگی ہاتھ پیچھے کھینچ لیا ” نہیں اٹھاو اسے مجھے اس سے ڈر لگتا ہے !!” چیختی وہ پیچھے کھسکتی جارہی تھی ” نوشی رنگ ہے اس ۔۔اس سے ڈر کیوں لگتا ہے تمہیں انگوٹھیاں پسند تھیں !”
“ یہ۔۔۔یہ بچھو ہے انگوٹھی نہیں دور رکھو اسے مجھ سے پلیز فائق !!! ” فائق کا نام اسکے منہ سے سن کر اسے پتہ چل گیا تھا کہ ضرور اسے فائق کا کوئی ستم یاد آگیا ہوگا اسنے اسکے قریب جانے کہ کوشش کی تو وہ بیڈ سے ہی اتر گئی ہاتھ جوڑنے لگی ” پلیز فائق مت مارو مجھے میں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا پلیز !”
“ نہیں نوشی میں ہوں مہتاب فائق مر چکا ہے ! ” مگر وہ ڈر سے پسینے میں نہا گئی تھی اچانک آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا وہ کنپٹیوں پر ہاتھ رکھتی لڑکھڑانے لگی اس سے پہلے گرتی مہتاب نے اسے پکڑ لیا تھا دلہن سے سجے چہرے پر جو ایک تاثر تھا وہ محض ڈر خوف تھا فائق کا جو ان دونوں کی درمیان مسلط ہوگیا تھا گیا وقت انکی زندگی میں ٹھہر گیا تھا ۔اسے بیڈ پر لیٹانے کے بعد وہ باہر آیا اسنے منال کو فون کیا ۔وہ جو علیم کی ساتھ چیٹنگ کر رہی تھی مہتاب کا نمبر دیکھ کر حیران رہ گئی ” اسلام علیکم! مہتاب کیا ہوا نوشین ٹھیک ہے !
“ نہیں مجھے دیکھ کر وہ پینک کررہی تھی اسے اپنی اور فائق کی میرڈ لائف ڈسڑب کر رہی ہے مجھے ایکسپٹ نہیں کررہی !” اسنے نم ہوتی آنکھوں کو بامشکل روکا ” تو اسے اپنے ہونے کا احساس دلاؤ اسے اپنی محبت کا احساس دلاؤ اسے کمفرٹیبل کرو جو جو اسے پسند ہے وہ سب کرو کوئی ایسی خواہش جو وہ کرنی چاہتی تھی بہت شوق سے ؟” اسکے سوال مہتاب سوچ میں پڑ گیا تھا ” اسے ہوٹلز میں کھانا بہت اچھا لگتا ہے ۔کہتی تھی اپنی شادی پر وائٹ ویڈنگ گاؤن پہنو گی او شِٹ میں یہ کیسے بھول گیا میں نے کیوں نہیں خریدی وہ اور اسے برفانی علاقے بہت اچھے لگتے ہیں اور اپنی محبت کا احساس قریب مجھے وہ آنے نہیں دیتی ہاتھ مجھے لگانے نہیں دیتی کیسے دلاؤں ۔”
“ لیجاو جہاں وہ کہے جو کہے سب کرو غصہ مت کرنا مہتاب تم جانتے نہیں ہو کتنا صبر کرنا پڑے گا ۔ “
“ جانتا ہوں تم بتاؤ علیم کُھلا کچھ ؟” اسنے گہرا سانس لیکر چیٹ سکرین کو دیکھا جہاں اسکی بچپن کہ شرارت ریکارڈ کی گئی تھی جو وہ سننے والی تھی ” ہاں تھوڑا بہت ابھی تو اپنے بچپن کی باتیں ہی بتا رہا ہے جوانی تک بھی اجائے گا اوکے بائے !! اسنے فون رکھ دیا تھا مہتاب دوبارہ کمرے کہ جانب چلا۔گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امل چھت پر ریلنگ پر بیٹھی بھیگ رہی تھی اسے نہ چھت سے گرنے کا ڈر تھا نہ بادل کر گرجنے کا خوف وہ اپنی ہی دھن میں بیٹھی سوگ منا رہی تھی اسنے دائم کو ضد اور بے وقوفی کرکے پا تو لیا تھا لیکن کبھی بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ اتنا سخت ہو جائے گا سب اتنا ناقابلِ برداشت ہوگا دائم کی اچانک آنکھ کھولی تو وہ خالی صوفہ دیکھ کر حیران رہ گیا امل اس وقت کہاں جاسکتی ہے تجسس کی مارے وہ اسے ڈھونڈنے لگا وہ نیچے کچن میں ڈھونڈتا ڈھنوڈتا چھت پر آگیا جہاں وہ ریلنگ پر بیٹھی نظر آئی اسکی بے وقوفی پر اسے غصہ آرہا تھا اسیے ڈر نہیں لگ رہا ہے یہ گر جائے گی وہ اسکے قریب گیا ” امل !! وہ جو اپنی سوچوں میں مگن تھی اتنی اونچی آواز سن کر ڈری اور نیچے گر گئی بروقت اسکا ہاتھ دائم نے پکڑ لیا تھا وہ نیچے لٹک رہی تھی اور دائم آدھا ریلنگ پر جھکا اسے اوپر کھینچ رہا تھا ریلنگ کی جس سائیڈ دائم کا بازو لٹکتا امل کو کھینچ رہا تھا وہاں سے ریلنگ کی لکڑی ٹوٹ کر ابھری ہوئی تھی جسکی نوک اس وقت دائم کے ٹرائی سیپ میں چبھ رہی تھی ” تم پاگل ہو !” امل نے حیرت سے اسے دیکھا اور مسکرانے لگی ” میرا ہاتھ چھوڑ دیں دائم مجھے جانے دیں!” دائم کو اس وقت بھی اس سے اس بے واقوفی کی امید نہیں تھی وہ جلا دینی والی نظروں سے اسے دیکھ رہا تو جو کبھی بجلی کڑکتی تو اسکی روشنی میں امل کو نظر آتی وہ اپنی پوری طاقت لگا کر اسے اوپر کھینچ رہا تھا نوک ماس کے اندر گھستی جارہی تھی آخر جب وہ اوپر کھینچی گئی وہ نوک اسکے ماس کو ایک سیدھ میں چیرتی نکل گئی اسے اور اوپر کھینچںے کے بعد اسے وہیں پھینک کر وہ اندر چلا گیا تھا ۔ وہ کچھ لمحے تو وہیں سر گھٹنوں میں دیے روتی رہی پھر اٹھ کر اندر چلی گئی جہاں وہ شرٹ اتارے آئینے کے سامنے کھڑا بازو اوپر کیے اپنا زخم دیکھ رہا تھا اسکی ڈریسنگ کرنے میں اسے مشکل ہورہی تھی اسنے پہلے خونی شرٹ کو دیکھا پھر اسکے بازو ” دد۔۔دائم یہ کیا ہوا ہے ؟” اسنے شعلہ بار نظروں سے اسے دیکھا ” کیا ہوا مجھے جتنی بار بھی تکلیف ہوگی تو یاد رکھنا صرف تمہاری وجہ سے ملے گی !! وہ شرمندگی سے سر جھکا گئی پھر ڈھیٹ بنی اسکے قریب چلی گئی ” لائیں دائم میں کردیتی ہوں ! اسنے اسکے ہاتھ سے روئی لینی چاہیے جو اسنے پیچھے کرلی ” مہربانی !
“ائم سوری دائم میری وجہ سے ہوا ہے نہ آپ مجھے سزا دیں میری غلطی ہے مجھے تھپڑ مار لیں !! وہ اسکا ہاتھ زبردستی کھینچ کر اپنے چہرے کی جانب کر رہی تھی اور وہ چھڑانے کی کوشش کر رہا تھا ۔اخر دائم کا صبر جواب دے گیا اسنے ایکدم کھینچ کر اسے دیوار سے لگایا چوڑیاں زدہ ہاتھ دیوار سے چپکا دیے گئے تھے جسکی زر میں چوڑیاں بھی آگئی تھیں ” سزا چاہیے !” وہ اسکے ہونٹوں پر جھک گیا تھا امل کے لیے یہ بلکل ہی غیر متوقع تھا اور اسے سے بھی حیران کن تھی اسکی شدت سے جو ناقابل برداشت تھی اپنا لمس دے رہا تھا یا نوچ رہا تھا اسے تکلیف ہورہی تھی وہ مچل رہی تھی اسے دور کرنے کے لیے مگر اسنے ہاتھ تو کلائیاں توڑنے کے لیے ہی پکڑے تھے اسکی شدت اتنی زیادہ تھی کہ امل کے لیے برداشت سے باہر تھی اسکی آنکھوں سے آنسوں نکل آئے تھے جب رحم کھا کر اسے چھوڑ دیا ایک نظر اسکے ہونٹوں سے نکلتے خون کو دیکھا کلائی چھوٹی تو ٹوٹی چوڑیوں کے ٹکڑے بھی ایک ساتھ زمین پر گرے تھے ” امید کرتا ہوں آئیندہ کبھی سزا نہیں مانگو گی ورنہ اگلی اس سے بھی زیادہ بار برا پیش آؤں گا سکون سے اس گھر میں رہو میری زندگی میں شامل ہونے کی کوشش نہ کرو !!! زخم ویسے ہی چھوڑ کر وہ بستر پر لیٹ گیا اور وہ وہیں بت بنی کھڑی رہی تھی پھر نیچے ڈرائنگ روم میں آگئی ہاتھ سے ہونٹ کو چھوا تو کٹ پر ہاتھ لگنے سے تکلیف ہوئی صوفے پر سرگھٹنوں میں دیے وہ رو دی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فریحہ تڑپ رہی تھی منان سے ملنے کے لیے اسکے تصویریں دیکھ دیکھ کر اسکا من بھر گیا تھا اسے تڑپانے کے لیے نعمان روز اسکی تصاویر بھیجتا تھا کہیں وہ کھلونوں میں بیٹھا کلکاریاں بھر رہا تھا کہیں شلوار قمیض میں ہاتھ کا سہارا لیکر کھڑا تھا کہیں باتھ ٹب میں نہا رہا تھا کہیں وہ نعمان کو بابا کہہ رہا تھا ۔اسلیے آج اسنے اتنا بڑا فیصلہ کیا تھا اسنے جینز ٹائٹس پہنی اسکی اوپر ہُڈ چہرے پر ماسک اور کار کی چابی اٹھائی باہر نکل گئی کچھ دیر بعد وہ شیرازی مینشن کے باہر کھڑی تھی چھتری سر پر تانے وہ گیٹ سے اندر آئی ” یس میم کس سے ملنا ہے آپکو !! دروازے پر گارڈ نے اسے روک لیا تھا اسنے گارڈ کی جانب دیکھا آنکھوں کو لینز سے چھپا کر آئی تھی فریحہ ہونے کی ہر چیز چھپا کر آئی تھی ” مجھے ایم این اے سے ملنا ہے ” گارڈ نے اثبات میں سر ہلایا اور اسے کال ملا دی وہ جو فائل کے ساتھ ساتھ منان کے بالوں میں ہاتھ پھیر رہا تھا فون کی جانب متوجہ ہوا ” یس !
“ سر ایک خاتون ملنے آئی ہیں آپ سے ؟” اسے حیرت ہوئی تھی ” کون؟”
“ سر پوچھ رہے ہیں آپ ہیں کون ؟ فریحہ نے اسکے ہاتھ سے فون لیا سیپکر ہونٹوں کے پاس کیا ” غالب کی شاعری ! نعمان کے کان کھڑے ہوگئے تھے فائل وہیں چھوڑ کر وہ نیچے دوڑا اسکی محبت آج پہلی بار چل۔کر اسکے در پر آئی تھی اسنے دروازہ کھولا تو وہ انتظار کرتی پائی گئی رف سے ٹراؤزر شرٹ میں وہ کوئی ایم این اے نہیں صرف ایک لڑکا لگ رہا تھا ” خوش آمدید!! وہ نظریں جھکائے اندر بڑھ گئی نعمان نے دروازہ بند کردیا وہ اسے لیکر کمرے میں آگیا تھا جہاں بیڈ پر منان سو رہا تھا ہڈی سر سے اتر چکی تھی ماسک بھی اسنے اتار دیا تھا وہ بے ساختہ اسکے جانب بھاگی جب نعمان نے اسکا ہاتھ کھینچا وہ اسکے سینے سے ٹکرا گئی ” نعمان پلیز مجھے منان سے ملنے دیں میں اتنا بڑا رِسک لیکر مرزا بھائی کے گھر ہوتے ہوئے ملنے آئی ہوں آپ سے ایک بار منان کو گود میں اٹھا لینے دیں ! مگر وہ مسکرا رہا تھا اسکی تڑپ دیکھ کر اسنے گھما کر اسکے پشت کو اپنی ساتھ لگایا اور اسکے ہاتھ قابو میں کرلیے دوسرے ہاتھ سے اسنے بیل بجائی کچھ دیر بعد ایک یونیفارم میں نینی واہاں کھڑی تھی ” مارگریٹ منان کو لے جاؤ !” سنتے ہی وہ منان کی جانب بڑھی “نو مارگریٹ میں ماں ہوں اسکی پلیز اسے مت لیکر جاو !! وہ اپنے ہاتھ نعمان سے چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی مارگریٹ نے ایک پل کے لیے اسے دیکھا اور رک گئی اسکی آواز سے وہ بے چین ہورہا تھا ” مارگریٹ میں نے کہا رُکو ؟” اسنے دبے ہوئے غصے میں کہا تو وہ منان کو لیکر وہاں سے چلی گئی فریحہ تمام تر کوششیں چھوڑتی اسکی گرفت میں ہی رونے لگی تھی نعمان نے اسے چھوڑ دیا تھا ” پتھر ہو تم میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں کتنی نہیں معافی مانگی میں نے ” ہڈ سر پر ڈالتے وہ پلٹی جب اسے اسکی طنزیہ آواز آئی ” ہاں میں پتھر ہو اور تم چٹان جسے اسکی بچے کی رونے کی آواز نہیں توڑ سکی ہاں تم مانگتی ہو معافی لیکن جب جب تم مانگتی ہو میری آنکھوں کے سامنے وہ منظر آنے لگتا ہے جو مجھے تمہیں معاف نہیں کرنے دیتے !”
“ رو کر مانگے نہ تو اللہ پوری دنیا دے دیتا ہے کیوں کہ وہ ستر ماؤں سے زیادہ پیا کرتا ہے اور اسکے بعد تم مجھ سے سب سے زیادہ محبت کا دعویٰ کرتے ہو اور میری تکلیف تمہیں نظر نہیں آتی معاف نہیں کر سکتے !
“ بولا نہ جس دن سب کے سامنے اپنا لو گی اس دن تمہیں پورے حق سے یہاں لیکر آؤں گا !”
“ جس طرح میں تڑپ رہی ہوں اور تمہیں فرق نہیں پڑ رہا اسی طرح تمہارے اپنے بھی تکلیف میں ہوں گے اور تم کچھ نہیں کرپاو گے کچھ نہیں !!” اسے تنبیہ کرتی وہ جیسے آئی تھی اس سے بتر حالت میں وہاں سے گئی تھی اور نعمان نے اسے روکا نہیں تھا غرور جب عروج پر ہو تو دوسرے انسان چیونٹی کی طرح نظر آتے ہیں مگر وہی غرور جب نیچے گرتا ہے وہی ملبہ لوگوں کے پیروں کے نیچے آتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیر کی صبح جب آنکھ کھلی تو اسکا سر مرزا کے سینے پر تھا جو گہری نیند میں سو رہا تھا وہ یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی کل رات کے بعد وہ حیران تھی انھیں اتنی محبت کب ہوئی مجھ سے وہ اٹھنے لگی مگر اسکی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ ہیر صرف پھڑپھڑا سکتی تھی کچھ دیر کی کھینچا تانی میں مرزا کی آنکھ کھل گئی تھی تو اسکی کوشش پر نظر پڑی تو ہنسی آگئی وہ کبھی ہاتھ پیچھے کر رہی تھی تو کبھی کندھے کے نیچے سے بال اور دوپٹہ نکالنے کی کوشش کررہی تھی دوبارہ بالوں کی جانب ہاتھ بڑھایا تو مرزا کو دیکھ کر ہر عمل رک گئی اسنے بازو فولڈ کرکے سر کے نیچے رکھا ” تمہیں لگتا ہے تم ایک پولیس والے کی گرفت سے نکل سکتی ہو میں نے آج تک جسے پکڑا ہے موت تک پہنچا کر چھوڑا ہے ” ہیر حیرت سے منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی اسے اسکے لہجے سے کہیں پہلے والا مرزا لگا تھا جو اسکی سانس سکھانے کو تیار رہتا تھا ۔ ” پر چھوڑو تم برداشت نہیں کر پاؤ گی ! اسنے بازو کھول دیے تھے ہیر نے غنیمت جانی اور اُٹھ گئی وہ ابھی تک انکھیں موندیں بیڈ پر پڑا تھا فریش ہو کر وہ نیچے چلی گئی تھی تیار ہوکر جب وہ نیچے آئی تو سب اسے چند لمحوں کے لیے دیکھتے رہ گئے تھے آج وہ بہت فریش لگ رہی تھی اور عام دنوں سے زیادہ پرکشش بھی سچ کہتے ہیں عورت شاید اتنی خوبصورت نہیں ہوتی اسے نکھارتی ہمیشہ اسکے ہمسفر کی چاہت ہے ایک اچھی خوبصورت عورت کو دیکھ کر پتا لگایا جا سکتا ہے اسکا شوہر اسے کتنی محبت کرتا ہے لیکن یہاں معاملہ صرف چاہت کا تھا ہمدردی کا تھا حق کا تھا محبت کا نہیں وہ نیچے آئی چاچی اسکے روپ کو دیکھ کر جل بھن گئی تھی آتے ہی وہ سب کو سلام کرکے کچن میں گھس گئی چاچی بھی اسکے ساتھ ہی گئیں جہاں فریحہ اور اسکی والدہ پہلے سے ہی کام کررہی تھیں فریحہ چائے بنا رہی تھی اور شگفتہ آملیٹ کا سامان اسنے آٹا نکالا اور شیشے کا باؤل لیکر اس میں پانی نکالنے لگی جب وہ ہاتھ سے تھرک گیا ” آئے ہائے لڑکی دھیان سے !! ان دونوں نے پہلے چاچی کو دیکھا اور پھر ہیر کو جو شرمندہ۔ہوگئی تھی ” جی وہ کیا ہے نہ ان پڑھ بچی ہے اور بے دھیان بھی ہے گھر میں بھی کانچ کے برتن اسکے حوالے نہیں کرتی تھی اب بھی وہی کہہ رہی تھی کہ کہیں انکا برتنوں کا سیٹ نہ خراب کر دینا !” فریحہ اور شگفتہ نے حیرت سے اسے دیکھا ” یہ ا نھیں کا گھر ہے ہمارا نہیں ! فریحہ نے کہا شگفتہ بیگم نے بھی اثبات میں سر ہلا دیا ” جی میں جانتی ہوں آپ لوگ بھی صرف اپنی بڑی بی کی بات کا مان رکھ کر اسے کچھ نہیں کہتے ورنہ اس جیسی پھوہڑ لڑکی اتنے بڑے گھر کی مالکن کیسے ہوسکتی ہے ایسی زمہ داری نہ دیں اسے توڑ پھوڑ دے گی کچھ !!! فریحہ اور شگفتہ حیران رہ گئ تھی چاچی کی باتوں پر ہیر کی آنکھیں آنسوں سے بھر گئی تھی یہ باتیں کچن میں آتے مرزا نے بھی سنی تھی ” پہلی بات کہ وہ اب آپکی بھتیجی نہیں ایس پی مرزا کی بیوی ہے دوسری بات یہ صرف اس گھر کی نہیں میرا جو کچھ بھی ہے سب کی مالکن ہے اور تیسری بات وہ چاہے تو آپکو بھی اٹھا کر باہر پھینک سکتی ہے ۔” اسنے ہیر کی جانب دیکھ جو اسے ہی دیکھ رہی تھی ” ہیر اپنی چاچی کو سٹیل کے برتنوں میں کھانا دینا انھیں عادت نہیں ہے شیشے کے برتنوں میں کھانے کی سنبھالے نہیں جائیں گے ان سے !!چاچی نے غصے سے مرزا کی طرف دیکھا ” مرزا !!! اسکی ماں نے غصے سے پکارا مگر سنی ان سنی کرکے وہ چلا گیا تھا چاچی نے گلاس اٹھا کر پانی پینا چاہا ہیر نے سٹیل کا گلاس آگے کردیا ” بابو نے جو کہا ہے نہیں کیا تو غصہ کریں گے !!” شگفتہ بیگم اور فریحہ منہ نیچے کیے ہنس دی تھیں اور وہ وہاں سے نکلتی چلی گئی ۔” فریحہ نے پیچھے سے ہیر کو ہگ کیا ” لو یو بھابھی !” شگفتہ بیگم بھی اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر دوبارہ کام میں لگ گئی تھیں
فاطمہ بی چاچا چاچی سب ناشتے کے بعد چلے گئے تھے دوپہر سر پر آگئی تھی جب مرزا کا فون بجا ” یس دانیال !
“ گریٹ نیوز نعمان کے خلاف ثبوت ملا ہے جوسسز اور بیورج سے بھری گاڑی کلب جا رہی تھی چیکنگ کے دوران شراب اور ڈرگز بھی ملے ہیں ڈرائیور کو بس تھوڑا ایکسٹرا ڈوذ دینا پڑا اگل دیا کہ نعمان شیرازی کے لیے کام کرتا ہے !
“ گریٹ اسکا بیان ریکارڈ کیا اسکی سیکیورٹی ہائی کردو حفاظت پر وہ حولدار معمور کرنا جن پر بھروسہ ہو ہمارا سسٹم پتا ہے نہ بک جاتے ہیں ؟” اسکی بات سن کر دانیال نے دونوں پیر ٹیبل پر رکھے ” فکر نہ کر ساری رات یہی ہوں تو اریسٹ وارنٹ جاری کروا بس !!
“ میں کوشش کرتا ہوں !! فون بند کرنے کے بعد وہ پھر سے نعمان شیرازی کی ہسٹری کھول بیٹھا تھا جس میں اسکی تصاویر بھی تھی ہیر اسکے لیے چائے لیکر آئی تھی ” بابو چائے !! اسنے ٹیبل پر رکھنے کا اشارہ کیا چائے رکھتے اسنے نعمان کی تصویر بھی دیکھ لی تھی کچھ دن پہلے مال۔میں ٹکرایا بندہ یاد آگیا ” بابو یہ کون ہے ؟” مرزا نے کی بورڈ پر انگلیاں چلاتے اسے جواب دیا ” یہ نعمان شیرازی ہے یہ اچھا انسان نہیں ہے اسے پکڑنا ہے !”اسکی بات سن کر ہیر کو ڈر نے آن گھیرا تھا ” اس دن جب ہم کپڑے لینے بازار گئے تھے تو وہاں یہ آدمی مجھ سے ٹکرایا تھا اسکے پاس فریحہ کی تصویر تھی !! مرزا کی چلتی انگلیاں تھم گئی تھیں اسنے حیرت سے ہیر کو دیکھا ” کیا !”
“ جج۔۔جی اس دن یہ ٹکرایا تھا تو سامان گر گیا میں اٹھانے لگی تو اس میں فریحہ کی تصویر بھی تھی اسلیے میں نے اٹھا لی اسنے مجھ سے پوچھا بھی تھا کہ آپکے پاس کوئی تصویر تو نہیں گئی میں نے کہا نہیں میں نے فریحہ کو بتایا تو اسنے کہا ہمارے پاس تو کوئی تصویر نہیں تھی فریحہ نے جب اسے دیکھا تو وہ ڈر گئی اور مجھے لیکر عمارت سے باہر آئی میں نے اس سے پوچھا تو اسنے کہا یہ اسے تنگ کرتا ہے ۔” اسکے بات سن کر وہ لیپ ٹاپ بند کرتا چیخنے لگا ” فریحہ ! فریحہ ! اسکا نام لیتا وہ سیڑھیاں اترنے لگا فریحہ اپنے کمرے میں الماری سیٹ کر رہی تھی کیونکہ اسکا پلان ابھی واپس جانے کا نہیں تھا وہ حیران ہوتی باہر آئی ہیر کی اپنی سانس سوکھ گئی تھی اسنے غلطی تو نہیں کردی ” جی بھائی !”
“ نعمان شیرازی سے کیا تعلق ہے تمہارا ؟” فریحہ کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی تھی ” بتاؤ ؟”وہ پھر چیخا تو وہ ڈر گئی ” وہ۔۔۔وہ کیوں کیا ہوا ؟”
“ اسکے پاس تمہاری تصویر تھی جو ہیر کو ملی اس دن مال۔میں وہ ٹکرایا تھا تم دونوں سے تم اسے دیکھ کر ڈری تھی ہیر سے تم نے کہا وہ تمہیں تنگ کرتا ہے !” اسنے ہیر کی جانب دیکھا جو مرزا کا غصہ دیکھ کر بچوں کی طرح رونے لگی تھی ” بتاؤ فریحہ تنگ کرتا ہے ؟” مرزا کے لہجے میں اچانک نرمی آگئی تھی اسنے مرزا کو دیکھا تو نعمان کی بات یاد آگئی ” مرزا کے سامنے مجھے اور منان کو قبول کرلو منان تمہیں مل جائے گا ” اج موقع تھا منان کو پانے کا اپنے بچے کو پانے کا مرزا نے اسکے کندھوں پر ہاتھ رکھا ” بتاؤ بچے تنگ کرتا ہے ؟”
“ بب۔۔۔بھائی وہ۔۔۔۔۔۔۔میرا ۔۔۔۔۔۔۔میری اس سے ۔۔۔۔۔منان۔۔۔ہمارا ۔۔۔۔۔” فریحہ جلدی بولو وہ پھر چیخا تو پھر ڈر گئی ” جج۔۔جی تنگ کرتا ہے امریکہ سے کرتا ہے بلکے افریقہ میں ملا۔تھا وہاں سے تنگ کرتا ہے اور۔۔۔۔اور تصویر اسلیے ہوگی ۔۔۔۔۔۔آ۔۔۔۔۔ا۔۔۔۔۔۔تاکہ آپکو بلیک میل کرسکے !!! اسنے ایک ہی سانس میں جھوٹ بول دیا رونے بھی لگی تھی مرزا نے اسے شفقت سے گلے لگایا اسکے سر پر بوسہ دیا ” تو بچے پہلے بتانا تھا نہ اسے سبق سکھاتا !! اسکے گال پر ہاتھ رکھا ” تو فکر نہ کر آج ہی پکڑتا ہوں اسے !!” اسے دلاسہ دے کر وہ اوپر چلا گیا تھا فریحہ بھی روتی اپنے کمرے میں چلی گئی تھی ۔ہیر اسکے پیچھے گئی وہ بیڈ پر بیٹھی سر ہاتھوں میں گرائے رو رہی تھی ہیر اسکے پاس نیچے ہی بیٹھ گئی ” مجھے معاف کردو فریحہ مجھے نہیں پتا تھا کہ بابو کو اتنا غصہ اجائے گا میں نے اس انسان کی تصویر انکے وہ۔۔۔۔وہ لیپ ٹاپ میں دیکھی تھی تو انھوں نے کہا وہ اچھا انسان نہیں ہے اسے پکڑنا ہے میں ڈر گئی تھی کہ وہ تمہیں کچھ کر نہ دے اسلیے جلدی جلدی میں بتا دیا مجھےمعاف کردو نہ مجھے بہت شرمندگی ہورہی ہے !” فریحہ اچانک اسکے گلے سے لگ کر رونے لگی تھی ہیر حیران تھی اتنا کیوں رو رہی ہے بابو نے توکچھ کہا بھی نہیں زیادہ ” فریحہ تم ڈرو مت بابو پکڑ لیں گے اسے !”
“ بھابھی وہ میرا شوہر ہے میں پیار کرتی ہوں اس سے ؟ ہیر کا اسکے بالوں میں چلتا ہاتھ وہیں رک گیا تھا اسنے ایکدم اسے خود سے دور کیا کیا !”
“ ہاں وہ۔۔۔وہ میرا شوہر ہے میرا نکاح ہوا ہے اس سے افریقہ میں اور ہمارا ایک بیٹا بھی ہے منان !” ہیر کے دونوں ہاتھ منہ پر آگئے تھے ” وہ۔۔۔۔ایک سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک غنڈا بھی ہے اچھا انسان نہیں ہے نشہ بیچتا ہے ملک کا پیسہ کھاتا ہے لڑکیاں اٹھواتا ہے اسلیے بھائی کو اچھا نہیں لگتا ہے .” اسنے حیرت سے اسے دیکھا ” اور تم اس سے پیار کرتی ہو !”
“ وہ وقت ہی ایسا تھا زبردستی نکاح کرلیا لیکن وہ مجھ سے سچ میں پیار کرتا ہے اسے پتہ ہے میں مرزا بھائی کی بہن ہوں سچا پیار کرتا ہے تو ابھی تک انھیں کچھ نہیں کہا کچھ نہیں کیا پیار کرنے سے پہلے نہیں پتہ تھا ایسا انسان ہے پلیز بھائی کو کچھ مت بتائیے گا آپ سے یہ سب اسلیے کہا کہ تھک گئی تھی میں اس راز کو چھپاتے چھپاتے !” وہ پھر سر ہاتھوں میں گرائے رونے لگی تھی ہیر اسکے پاس سے اٹھ گئی جب اسنے اسکا ہاتھ تھاما ” بھابھی !”
“ مصیبت میں ڈال دیا ہے مجھے کیا کرو شوہر سے سچ بولو یا تمہارا ساتھ ابھی تو سب ٹھیک ہوا تھا !” نرمی سے اسکا ہاتھ چھڑا کر وہاں سے چلی گئی تھی اسے اسی حالت میں سے چھوڑ کر ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے