96.1K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 36

ناول # مسلط
ازقلم # بنت اسلم
قسط نمبر #36
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دائم او ٹی کے سامنے چکر کاٹ رہا تھا اندر امل کا آپریشن شروع ہوئے آدھا گھنٹہ ہوا تھا اسکے ہاتھ پیر سب پھول رہی تھے آج اگر امل کو کچھ ہوگیا تو وہ صرف امل کو نہیں اپنا بچہ بھی کھو دے گا اور اگر وہ بچ گئی تو امل کے ساتھ بہاریں بھی آجانی تھی وہ کل سے ایڈمٹ تھی اور آج صبح چار بجے کے قریب اسے آپریشن کے لیے لایا گیا تھا وقت گزرتا جارہا تھا اور دائم کی سانسیں مزید بھاری ہوتی جارہی تھی جب فجر کی اذان کی آواز آئی اسکے وضو کیا اور نماز کی نیت باندھ لی نماز کے بعد دعا میں ہاتھ اٹھائے ” چند ماہ پہلے میری زندگی میں ایک شخص آیا تھا جو زبردستی مجھ پر مسلط ہوا تھا اسنے گناہ کیا تھا جھوٹا الزام لگایا تھا میں نے اسے سزائیں دیں اور میں محفوظ رہا یعنی میری ہاتھوں آپ نے امل کی سزا لکھی تھی لیکن جہاں میں حد سے پار کرگیا وہاں آج آپ نے میری سزا شروع کردی لیکن آج بھی وہ زیادہ تکلیف میں ہے اندر بیڈ پر اسکا دماغ کھلا پڑا ہے جس میں ایک خون کا لوتھڑا جمع ہے آپ تو اللہ تعالیٰ ہو نہ کل کائنات کے مالک آپ تو سوئی کے سوراخ سے ہاتھی گزار سکتے ہو اسکے دماغ میں سے بھی وہ کلاٹ نکال دو مجھے اسے واپس کردو ہم دنوں نے اپنی اپنی سزائیں بھگت لیں ہیں اب نہیں ہے وہ مجھ پر مسلط میں نے معاف کردیا اسے آپ بھی کردیں پلیز اسے مجھے واپس کردی اب نہیں کہوں گا کہ وہ مجھے نہیں چاہیے وہی چاہیے صرف وہی مجھے میری امل اور میرا بچہ دونوں سہی سلامت چاہیے پلیزمیری بیوی میری زندگی ہے مجھ پر مسلط نہیں ہے .” وہ سات سمندروں کو بنانے والا خدا انسان کے ایک آنسو سے بہت محبت کرتا ہے وہ آنسو ہوتا ہے شکر کا ندامت کا محبت کا دکھ کا اظہار کا جسے وہ قبول کرلیتا ہے دائم اور امل دونوں نے اپنی اپنی غلطیوں کی سزا بھگت لی تھی اب دیکھنا تھا کہ امل کو معافی کے ساتھ زندگی بھی ملی تھی یا نہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیر کی آنکھ جب کھلی تو وہ پہلے سے ہی اسے آنکھیں کھولے دیکھ رہا تھا ” صبح بخیر !!” اسنے اسکے ماتھے پر بوسہ دیا ” مجھے سے بھی پہلے اُٹھ گئے !!
“ ہاں اور اٹھو چلو نیچے مجھے بہت بھوک لگی ہے !!” اسنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر کہا ۔” جی ابھی بناتی ہوں !! ” وہ اٹھنے لگی تو مرزا نے روک لیا ” تم نہیں ہم دونوں !! ہیر اسکا منہ دیکھتی رہ گئی تھی۔
کچھ دیر بعد وہ دونوں کچن میں موجود تھے مرزا نے اسے پیچھے سے پکڑ رکھا تھا اسکے ہاتھوں کواپنے ہاتھوں میں لیے وہ کٹنگ بورڈ پر آملیٹ کے لیے پیاز کاٹ رہے تھے مرزا اسے ساتھ ساتھ تنگ بھی کر رہا تھا کبھی گردن کبھی گال کبھی کان کی لو ” بابو آپ بہت بے شرم ہیں چھوڑ دیں !!
“ کیوں میں کونسا کچھ کررہا ہوں تم کر تو رہی ہو کام !! ہیر نے حیرت سے مرزا کو دیکھا ” آپ کچھ نہیں کررہے !! اسنے معصومیت سے نفی میں سر ہلایا ” کروں گا تو اب !! یہ کہتے اسکے ہاتھ پیچھے باندھ کر اسکے ہونٹوں پر جھک گیا تھا وہ پیچھے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کررہی تھی جب اچھے سے من بھر گیا تو آزاد کردیا ” بے بو آپ نہ بہت بہت بہت بہت زیادہ والے بے شرم ہیں میں جارہی ہوں !!” وہ جانے لگی تو اسنے کھینچ کر اپنے ساتھ لگایا ” پہلے مجھے تم سے نفرت تھی پھر مجھے تم سے ہمدردی ہوئی وہ ہمدردی محبت میں بدل گئی اور کل رات کے بعد عشق بن گیا اور ابھی کچھ لمحے پہلے جنون اور جو جنون جو عشق نفرت سے شروع ہو وہ بہت جان لیوا ہوتا ہے تو کوشش بھی مت کرنا جان نکال لوں گا !! اسے مزید اپنے قریب کرتے اپنی سانسوں سے ہی وہ اسے جلا سکتا تھا اسنے ایک دم اسکا رخ موڑ کر چولہے کی جانب کیا اسکے ہاتھ کی شہادت کی انگلی پکڑی اور الیکٹریکل چولہے کا بٹن آن کرنے لگا ہیر نے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا ” خراب ہو جائے گا !!”
“ ارے نہیں ہوگا ایسے ہزار چولہے میری ہیر پر قربان یہ خراب ہوگیا تو نیا لائیں گے اور وہ بھی خراب ہوگیا تو اور لائیں گے اور اگر پھر بھی من نہ بھرا تو ہم دوکان پر جائیں گے جتنے ہوں گے سارے خراب کریں گے !!!” اسکی بات پر ہیر اسکا منہ دیکھتی رہ گئی ” بے عزتی ہی کردی اتنی پھوہڑ نہیں ہوں !!” اسکے پھولے پھولے گال مرز اکو پھر اکسا رہے تھے اس سے کنڑول نہیں ہورہا تھا اسنے زور سے اسے گلے لگا لیا تھا ” آئی لو یو !!”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‏کیا کہا ہجر کاٹا ہے۔۔۔؟؟
بتاو ہر لمحے میں کتنے برس ہوتےہءں
دو گھنٹے ہوگئے تھے امل کا دماغ کھولے ابھی تک کوئی خبر نہیں آئی تھی پھر کچھ دیر بعد لائٹ آف ہوئی وہ بھاگ کر ڈاکٹر کے پاس گیا ” میں نے کہا تھا بیس پرسنٹ چانس ہیں یہ آپریشن صرف اس پر نہیں اسکے بچے پر بھی موت کی تلوار لٹکا دے گا مگر آپ نے نہیں سنی مسٹر دائم آپکو آپریشن کروانا تھا رِسک لینا تھا بیس پرسنٹ میں اسی پرسنٹ دعائیں شامل کرنی تھی تو کیسے نہ بچتی وہ شی از سیف امل از سیف اور آپکا بے بی بھی کانگریچولیشن !! اسکے کندھے ہو تھپتھا کر ڈاکٹر چلی گئیں تھیں ” یا اللہ تیرا شکر ہے تیرا شکرا ہے !!”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعمان شیرازی آج ہی امریکہ پہنچا تھا اسکی مسٹر میتھیو سے میٹنگ تھی وہ کانفرنس روم میں جارہا تھا جب اسے مسٹر میتھیو کی آواز آئی ” اس نعمان شیرازی کو لگتا ہے کہ ہم اسکے پروجیکٹ میں اتنا پیسہ اسے کامیاب کرنے کے لیے لگا رہے ہیں ہاں کامیاب تو اسے کرنا ہے آفٹر آل وہ اس لکڑی کو ڈبو رہا ہے اسے لگتا جس دن وہ ملک ڈوب جائے گا ہم لوگ ان پر مسلط ہوجائیں گے تو انھیں انکا حصہ دیا جائے گا ہاہاہا نہیں ہمیں ان سے کچھ مطلب نہیں ہم نے اپنی ترقی انھیں دکھائی اچھا طرزِ زندگی دکھایا جینے کا معیار اتن بلند کردیا کہ یہ لوگ پیسوں کے لیے ہمارے پاس آنے لگے تم یقین جانو ہمارے یہاں کتنے پاکستان ہونہار لوگ موجود ہیں جو ہماری کمپنیوں کا فائیدہ کررہے ہیں یہی اگر یہ نسل اپنے ملک کے لیے کچھ کرے تو انکا ملک چٹکیوں میں ترقی کریں مگر افسوس وہاں سے تعلیم حاصل کرکے زیادہ پیسے کمانے کی چاہ میں یہاں ہماری خدمت کرتے ہیں اور ہماری غلامی برسوں پہلے دی گریٹ محمد علی جناح نے انھیں آزاد کروایا تھا غلامی سے اج یہ خود ہماری غلامی میں انا چاہتے ہیں اور یہ راہیں نعمان شیرازی انور گیلانی جیسے حکمران کرتے ہیں میرے لیے یہ سارے میرے غلام ہیں کُتے جیسی اوقات ہے نعمان شیرازی کی میری نظر میں وہ کتے جو اپنے ہی ملک کی جڑیں کاٹتے ہی ہاہاہا !!” نعمان کو یقین نہیں آرہا تھا وہ مسٹر میتھیو جو اسکے سامنے اسکی تعریف کرتے نہیں تھکتا تھے اسکی پیٹ پیچھے ایسی سوچ رکھتے ہیں ہمارے بارے میں شرم آنے چاہیے کسی تمہیں نعمان شیرازی تمہیں جو ان جیسے بھیڑوں کے تم اپنے ملک سے غداری کررہے ہو انھیں اپنے آپ پر مسلط کرنے میں مدد کررہے ہیں اور جب یہ ہم پر غالب آگئے تو میں بھی انکی غلامی میں ہوں گا نہیں آیسا نہیں ہوسکتا نہیں میرے ساتھ ایسے نہیں ہو سکتا ” وہ الٹے قدم لیتا واپس آگیا ۔اج اسے اپنے آپ سے شرم آرہی تھی اسلیے اپنے اپارٹمنٹ میں جاکر بند ہوگیا ۔اج تو علیم بھی نہیں تھا اسے ہنسانے کے لیے سنبھالنے کے لیے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہتاب سامنے نوشین کو دیکھ رہا تھا جو باہیں پھیلائے مری کے پہاڑوں کی ہوا اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کررہی تھی منال چلی گئی تھی لیکن اسکی باتیں مہتاب کو آج بھی یاد تھیں کہ نوشین کو ٹرومہ سے باہر نکالنے کے لیے اسے اسکی مرضی کی چیزیں دو اسلیے وہ جاں سے ایک ہفتے کے لیے آف لیکر مری آیا تھا وہ دس منٹ سے ان پہاڑوں کو اشتیاق سے دیکھ رہی تھی جب پر برف پڑی ہوئی تھی
یہاں آنے کے لیے نوشین نے بہت انکار کیا مگر وہ اسے لے ہی آیا وہ باہیں پھیلا کر ایک بار پھر سکون محسوس کررہی تھی جب اسے اپنی کمر کے گرد کسی کے ہاتھ محسوس ہوا وہ رخ موڑ کر دیکھنے لگی تو مہتاب نے اسے روک دیا ” دیکھو نہ یہ پیارے ہیں لیکن یہ ساکن ہے تم بھی کی کتنی پیاری ہو اور انھیں کی طرح ساکن ہو لیکن ان کی اور تم میں فرق ہے وہ سانس لیتے اور تم نہ خود سانس لیتی ہو نہ مجھے لینے دیتی یہاں تم دونوں ایک جیسے ہو دیکھو نوشین یہ پہاڑ کتنے خوبصورت لگتے لوگ دور دور سے کہیں انھیں دیکھنے آتے اور ان کی بیچارگی دیکھو یہ ہل نہیں سکتے اور خود کو دیکھو تمہیں اللہ تعالیٰ نے ایک عدد شوہر دیا ہے جو تم سے بے پناہی محبت کرتا ہے تمہاری ہر تکلیف کا مداوا کرنے کی کوشش کرتا ہے تم اتنی پتھر کیوں ہوگئی ہو جو ایک قدم نہیں بڑھا سکتی تم فائق کے لیے کی سزا مجھے دے رہو تمہں تمہیں کل اشتیاق شیرازی ہارٹ اٹیک سے مر گیا اسکی بیوی کو لقوا ہوگیا یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں انکی سزائیں دے دیں اور تمہیں صبر کی جزا سوچو ہم دوبارہ نہ ملتے تو کی آسکتا لیکن تین سال بعد ہم ملے کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے صبر کا پھل دینا چاہتے تھے اور تم ہو کے کچھ سن ہی نہیں رہی پلیز زندگی کی طرف بڑھو اسے جیو !!”
“ میں جینا چاہتی ہوں مہتاب لیکن میرے ساتھ جو ہوا وہ مجھے آگے نہیں بڑھنے دیتا اپنے آپ کو دیکھو تو کنوارے تھے خوبصورت تھے لیکن میں مجھے مکمل طور پر روندا گیا تھا میں تمہارے کسی طور قابل نہیں ہوں مجھے تمہیں دیکھ دیکھ احساسِ کمتری اور شرمندگی ہوتی ہے کہ مین تمہیں کوئی خوشی نہیں دے پاؤں گی میرا ڈر میرے دماغ پر مسلط ہوگیا غالب آگیا جسے میں نہیں نکال پارہی !” مہتاب نے ایکدم اسے اپنے قریب کیا ” تو نوچ کر پھینک دو اس ڈر ہو جب میں ساتھ ہوں اللہ تعالیٰ ساتھ ہیں انھوں نے فائق اسکی سزا دے دی ہے جہنم میں تڑپ رہا ہوگا مجھ پر نہیں خدا کی زات پر تو یقین کرو جسنے تمہیں اس شخص سے بچایا مجھ سے ملایا ہمیں ایک اسکے یقین کے بدولت اگلا۔قدم۔لو۔پلیز !!اسنے اپنا ہاتھ آگے کیا ” اگر تو تمہں یقین ہے مجھ پر مجھ سے محبت ہے تو تھام لو ورنہ آج ہی واپس چلتے ہیں ! وہ چند لمحے اسکے ہاتھ کو دیکھتی رہی کافی دیر تک جب اسکا ہاتھ نہیں آیا تو مہتاب ہاتھ نیچے گراتا اس سے دور ہوگیا ” چلو !وہ اچانک اسکے گلے لگ گئی ” مجھے نکال لیں مہتاب مجھے ڈر سے نکلنا ہے مجھے فائق سے دور جانا بہت دور جتنا وہ ہم سے ہے اتنا ہی دور اسکے ڈر جانا ہے پلیز مین آپکا ساتھ دوں گی ۔” مہتاب نے اسے خود سے الگ کیا ” تو ٹھیک ہے اب سے بس تم میں اور ۔۔۔ہماری محبت !!” جس پر وہ ہنس دی تھی ۔مہتاب نے اسکا ساتھ دیتے اسے پوری مری گھمائی تھی وہ خوش۔تھی وہ چہک چہک کر اسے سب دکھا اور بتا رہی تھی نتھیا گلی سے گزرتے نوشین کی نظر بندر پر پڑی ” مہتاب بندر ! مہتاب بندر !مہتاب نے حیرت سے اسے دیکھا کو اسکا ہاتھ کھینچ رہی تھی ” نوشی میں بندر ہوں یار جملہ ت ٹھیک کہتے ہیں مہتاب بندر دیکھیں !! نوشین نے شرمندگی سے چند لمحے اسے دیکھا پھربولی ” مہتاب بندر ہاہاہاہا !!! مہتاب بھی افسوس سے ہنس دیا تھا وہ۔لوگ قریب سے بندر کو دیکھ رہے تھے جب مہتاب پر شرارت سوجھی اسنے پتھر اٹھایا ” نوشی اینو وٹا مار کے پجیے ! نوشی نے شرارت سے اسے دیکھا اور پھر ایک ساتھ دو پتھر اس بندر کے قریب گرے وہ ڈر کر بھاگنے لگا پھر پلٹ کر گھور گھور کر ان دونوں کو دیکھنے لگا ” نوشی بھاگ !!! نوشین ہاتھ پکڑے وہ سڑک پر پاگلوں کی طرح بھاگ رہے تھے اور اگلا سانس انھوں نے چئیر لفٹ کے اندر لیا جہاں نوشی کھڑی نیچے کا منظر دیکھ رہی تھی اسے اچانک اپنی گردن پر کچھ رینگتا ہوا محسوس ہوا مہتاب اسکی گردن پر جھکتا جارہا تھا ” مم۔۔مہتاب ہم ۔۔۔۔باہرہیں !!” مہتاب نے غور سے اسے دیکھا آج اسنے بہانہ بنایا تھا منع نہیں کیا تھا اسکے لیے تو یہی بڑی خوشی کی بات تھی کہ وہ دھیرے دھیرے سیٹ ہوتی جارہی ہے ۔
آج انھیں مری میں چو تھا دن تھا یہ چار دن خوشیوں اور محبت کے نام ہوگئے تھے وہ کمرے کے باہر اسکا انتظار کر رہا تھا ۔رات کا اندھیرا ٹھنڈ کی خنکی سے لبریز تھی کالے آسمان میں ستاروں نے محفل سجا رکھی تھی بلیک ڈنر سوٹ میں کہیں جانے کے لیے تیار کھڑا تھا جب کمرے کا دروازہ کُھلا وائٹ گلوز زدہ ہاتھوں میں وائٹ گاؤن پکڑے وہ وائٹ ویڈنگ گاؤن میں اسکے لیے تیار ہوئی تھی اسے دیکھ کر مہتاب کو اس کے الفاظ یاد آرہے تھے ” مہتاب میں نے اپنی شادی پر وہ والی فراک پہنو گی جو سفید لمبی سے نہیں ہوتی !!” اسنے محبت سے آگے بڑھ پر اسکا تھاما چلیں ! اسنے اپنا کپکپاتے ہاتھ اسے تھما دیا ” آج سے کریں زندگی کی نئی شروعات سب کچھ بھلا کر دل کو سمجھا رہیں گے ساتھ جو بھی ہوں حالات !! مہتاب نے آگے بڑھ کر اسکے ماتھے پر بوسہ دیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دائم جب کمرے آیا تو بیٹھی اسے مسکرا کر دیکھ رہی تھی اسکے سر پر پڑی بندھی تھی اسکے بال کاٹ دیے گئے تھے سر کا آپریشن جو تھا لیکن پھر بھی وہ کیوٹ لگ رہی تھی ” دائم آپکو پتہ ہے مجھے لڑکیاں کہتی تھیں تمہارے بال بہت خوبصورت ہیں اتنے کہ شاید کسی کے ہوں مجھے بڑا ناز تھا غرور بھی تھا اور لڑکوں تو لڑکیوں کے لمبے اچھے لگتے ہیں نہ مجھے لگا تھا میرے باپ تمہیں بھی بہت اچھے لگیں گے میں خوبصورت ہوں تعلیم یافتہ ہوں اچھی فیملی سے بھی ہوں سگھڑ یا سمجھدار نہیں ہو تو کیا میرا حسن میرے بال بہت ہے کسی ہو دیوانہ کرنے کے لیے مگر آپ نہیں ہوئے اتنی بڑی غلطی کی میں نے آپکو پانے کے لیے ہر نظر میں قابلِ نفرت ہوں میں مگر جب ہمیں کسی کو کھونے کا ڈر ہوتا ہے نہ تب ہمیں پتا نہیں چلتا کہ ہم کیا کررہے ہیں لیکن مجھے میری غلطی کا احساس تھا اسلیے آپکی کوئی بات مجھے بری نہیں لگتی تھی اور میرے گناہ کی سزا صرف آپ نے مجھے نہیں دی اللہ نے بھی دی دیکھیں میری زندگی کے لیے مجھے میرا غرور چھوڑنا پڑا مجھے میرے بال کٹوانے پڑے میری ٹِنڈ ہوگئی ہاہا !! اسکی آخری بار پر دائم بھی پرنم آنکھوں سے ہنس دیا تھا ” تم نے بہت بڑا گناہ کیا تھا کسی نے تمہارے ساتھ نیکی تم نے اسے ہی غلط کہہ دیا تم نے اسکی سزا بھگت لی موت تک سر پر آگئی اور آخر جب گناہ گار اپنی گناہ کی معافی مانگتا ہے وہ غفور و رحیم تمہیں معاف کردیتا ہے میں نے تمہیں معاف کردیا تو اللہ نے بھی کردیا بس اب بس کرتے ہیں یہ مسلط کی کہانیاں بہت دکھ دیکھ لیے بہت کچھ کھو دیا ایک گناہ تم نے کیا ایک میں نے حساب برابر تمہارے کیسے سزا خدا تمہیں میرے ہاتھوں دلوائی سزا تم بن گئی ہماری بچے کی جان خطرے میں پڑ گئی اب بس اب کریں گے نئی شروعات!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دانیال فری کے پیچھے آئینے میں اسے دیکھ رہا تھا ” دانیال کیا دیکھ رہے ہیں !! دانیال کو توجہ ملی تو وہ کچھ زیادہ ہی پھیل گیا فوراً اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے ساتھ لگا لیا ” جب تم اتنے نرم اور ملائم طریقے سے مجھے دانیال کہتی ہو نہ دل۔کرتا ہے اس رس ملائی کو میں کھا جاؤں !! وہ اسکے ہونٹوں پر جھکنے لگا جب اسنے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ” بھول گئے آپ آپ نے کیا کہا تھا کہ جب تک میری سٹڈی کمپلیٹ نہیں ہوجاتی ہم میرڈ لائف شروع نہیں کریں گے !! دانیال نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا ” ہاں تو کِس میرڈ لائف کا سٹارٹ تھوڑی ہوتا ہے وہ تو بندا بھاگتے دوڑتے کرلیتا ہے !! وہ دوبارہ جھکا جب فری نے منہ سائیڈ کرلیا ” نو ! دانیال کو اب غصہ ہوگیا تھا اسنے اسکے ہاتھ پیچھے باندھے منہ دبوچا اسے اپنے قابو میں کرلیا پیچھے وہ اپنے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کررہی تھی کچھ دیر بعد جب وہ اس سے دور ہوا تو فری لال چہرے کے ساتھ اسے گھور رہی تھی دانیال نے اسکے کان پکڑ کر کہا ” سوری !! جس پر وہ دونوں ہنس دیے ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرزا ہیر کو باہوں میں اٹھائے اوپر جارہا تھا ہیر حیرت سے اسے دیکھ تھی جسکی نیت آج بھی ابھی نہیں لگ رہی تھی ” آپ مجھے اتار رہے ہیں یا نہیں !”
“ تہیں تو اتار دوں لیکن میرا بے بی کل مجھے خواب میں کہہ رہا تھا پاپا آپ نے مجھے گودی میں ہی اٹھائے رکھو تو اسلیے میں تمہیں نہیں اتارنے والا ۔۔۔” اسے بیڈ پر اتارنے کے بعد وہ اس پر جھک گیا تھا ” بابو آپ نے فریحہ معاف کردیا آپ کے امی ابو نے بھی !! ” وہ جو مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا اسکے ہونٹ سکڑ گئے تھے ” ہیر فریحہ ہے ساتھ جو ہوا وہ ایک حادثہ تھا لیکن شاید اسکی قسمت نعمان شیرازی ہی تھا جسنے برا ہونے کے باوجود بھی اس سے سچی محبت کی ہم اسے روک نہیں سکتے تھے ابو بھی یہی کہہ رہے تھے کہ اب بس ایک ہی دعا ہے نعمان شیرازی اپنے انجام کو پہنچ جائے یا تو وہ سدھر جائے یا مر جائے تاکہ فریحہ کو آزاد کرو سکیں ورنہ فریحہ اپنے بچے کو چھوڑ نہیں سکتی اور نعمان منان فریحہ کو لیجانے نہیں دے گا اسکے ساتھ رہنا مجبوری ہے اسکی بس دعا کرو کہ نعمان کو اسکا انجام مل جائے کیا کچھ نہیں کھویا ارمان علیم پجر بھی اس گندے کھیل کو ختم نہیں کررہا ہے سمجھ نہیں رہا کہ ارمان اور علیم کی موت اشارہ تھی کہ اسکی ظلمت کا دور ختم ہونے والا ہے مگر وہ ابھی تک ضد پر ہے اب خدا ہی اسے سزا دے گا ۔”
“ اللہ پاک فریحہ کے حق اچھا کرنا ! آمین !! ان دونوں نے ایکساتھ کہا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعمان تین دن سے اپارٹمنٹ سے باہرںہیں نکلا تھا روز سرونٹ ایش ٹرے خالی کرتے تھے روز شام تک وہ منہ ہو آجاتی تھی سگریٹ پر سگریٹ پھونک رہا تھا مگر پریشانی کا ہی نہیں رہی تھی میتھیو کے الفاظ اسکے کانوں میں گونج رہے تھے” نعمان شیرازی کی اوقات کُتے جیسے ہے !
“ ایم این اے نعمان شیرازی ہمارے کنگ ہیں !!!
“نعمان شیرازی جیسے حکمران اپنے ملک کے ڈوبنے کی راہیں ہموار کرتے ہیں ۔۔”
“ ایم این نعمان شیرازی سے ہمیں بہت امیدیں ہیں یہ ایک نوجوان نسل کے لیے اہم بات ہے کہ ان جیسے نوجوان کم عمر میں اتنا مقام حاصل کرلیں نشے پتے اور فضولیات کو چھوڑ کر وہ جوان نسل کے لیے مثال ہیں .”
“ وہ کتے جو اپنے ملک کی جڑیں کاٹتے ہیں !! ۔۔۔۔۔۔” نعمان شیرازی سے ہمیں امید ہے کہ ترقی کی راہیں کھُلیں گی !! اسکے کانوں میں میتھیو اور اسکے سپورٹرز کے الفاظ گونج رہے تھے ایک طرف اسکی ملک کے لوگ اس پر یقین کر رہے تھے اور دوسری طرف میتھیو اسے دھتکار رہا تھا تو زیادہ بہتر کون تھا یہ غیر ملکی دوست جن کی نظر میں ہماری کُتے جیسی اوقات ہے یا پھر اپنا ملک جہاں عوام ہمیں عزت دیتی ہے کتنا غلط تھا میں جس عوام نے مجھے نے مجھے جونا نسل خون نئی سوچ سمجھ کر عہدا دیا میں اسے ہی بیچ رہا تھا اسے ہی تباہ کررہا تھا ان لوگوں کے ہاتھ جو ہماری عزت تک نہیں کرتے کتنا لاچی تھا میں کتنا غلط لعنت ہے مجھ پر ۔۔۔۔۔۔وہ اپنے آپ کو ملامت کررہا تھا جب فون بجا وہ اکتا گیا تھا مسٹر میتھیو اسے کال کر رہے تھے بار بار اسنے غصے سے فون کو دیکھا فون فریحہ کا تھا ” ہاں فریحہ بولو !!
“ہہ ہیلو نعمان پلیز واپس آجائیں یہاں عفت کے ساتھ پلیز واپس اجائے !!”
“ کیا ہوا عفت کو ہیلو ہیلو فریحہ !!! مگر اسکا فون سوئچ آف ہوگیا تھا اسنے لمحے کی بھی تاخیر کیے بغیر ایمرجنسی فلائٹ کروائی تھی شیرازی مینشن پہنچ کر پتہ چلا تھا سب ہوسپیٹل میں ہیں اسکے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی تھی ” عفت ہوسپیٹل !!! وہ رش ڈرائیونگ کرتا ہوسپیٹل جارہا تھا ” نو ارمان علیم کی بعد عفت نہیں پلیز نہیں !! وہ دھڑکتے دل۔کے ساتھ پوسپیٹل پہنچا تھا جہاں فریحہ منان ہوگود میں کیے بیٹھی تھی اور حیرت والی بات تھی دانیال اور مرزا بھی آن ڈیوٹی وہاں موجود تھے فریحہ کی جب نعمان پر پڑی تھی منان کو مارگریٹ کر پکڑاتی وہ اسکے پاس آئی ” کیا ہوا ہے عفت کو !!”
“ اپ کے گناہوں کی سزا عفت آج وہاں سے ریسکیو کی گئی جہاں سے لڑکیاں دبئی بھیجی جاتی ہیں !! الفاظ تھےیا نعمان پر قیامت ٹوٹ تھی ” کیا !!”
“ عفت کڈنیپ ہوئی تھی اسکے کالج فرینڈز جن کی نا تو صحبت اچھی تھی اور نہ ہی نیت اسنے اپنی جان ایک لڑکے سے چھڑانے کے لیے عفت کے پاس بھیج دیا عفت کا کڈنیپ ہوا اور اگر اس لڑکی کو اپنی غلطی کا احساس نہ ہوتا تو آج عفت دبئی بھیج دی جاتی اگر پولیس وہاں وقت پر نہ پہنچتی تھی تو جانتے کے ساتھ کیا ہوتا آٹھ لڑکے تھے وہ سب نے ڈرگز لیں ہوئی تھیں اور سہی ڈرگز عفت کی باڈی میں بھی ملیں ہیں وہی زہر جو آپ اور آپ کے ساتھیوں نے جوان نسل کے ہاتھوں میں دیا !” نعمان اپنے پیر پر کھڑا نہیں ہوپارہا ! آج اسے اسںےتکلیف کا احساس ہورہا تھا جو کبھی اسنے دوسروں کو دیا تھا ” اور اپکو پتہ ہے صرف آپکی یہی سزا نہیں ہے میرے بچے کو بھی آپکے گناہوں کی سزا ملی ہے !! اسنے شاکی نظروں سے اسے دیکھا ” ہاں منان کو ڈاکٹر نے diabetes diagnose کردی ہے وہ آٹھ مہینے کا بچہ شوگر سے جونج رہا ہے صرف اور صرف آپکے گناہوں کی وجہ سے ” اسنے آگے بڑھ کر منان کو پکڑنا چاہا تو فریحہ نے اسے کھینچ کر اپنے سامنے کیا ” ابھی آپکے سزائیں ختم نہیں ہوئی سنیں آپکے دونوں بڑے بچے جبار اور زوار شیرازی مینشن چھوڑ کر چلیں گئے ہیں کہتے ہیں اب اس پیسوں کے محل میں نہیں رہنا جہاں روز کسی نہ کسی کی موت ہوتی ہے !! نعمان کو سانس لینا دشوار ہوتا جارہا اتھا ” آپ ایک ہفتے سے امریکہ میں گم تھے یہ سب ہوگیا اور تو اور آپکے ایک نائب کلب میں آگ لگ چکی ہے جانتے ہیں کیسے شراب فرش پر گری کسی نے سگریٹ جلا۔کرنکیچء پھینک دی ہر طرف راکھ ہی راکھ ہوگئی آپکے چند مخبروں نے مخبری کی انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ والے آئے تھے تلاشی لی سٹو روم سے بلیک منی نکلی آپ پر انکوائری بیٹھ چکی ہے آپکے سارے انکاونٹس سیل کردیے گئے ہیں یو آر فنیش !! نعمان کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں وہاں ایک بزرگ چھڑی پکڑے فریحہ کی باتیں سن رہے تھے وہ صدمے زدہ نعمان کے پاس آئے ” بیٹا پتا ہے یہ کیا ہے یہ لاٹھی !! نعمان نے انکی چھڑی کی جانب دیکھا ” ایک انسان کی لاٹھی ہوتی ہے ایک خدا کی ہوتی ہے انسان جب اس ہاتھی سے کسی پر وار کرتا ہے نہ تو آواز آتی ہے مگر جب خدا کرتا ہے کہ وہ بھنک بھی نہیں لگنے دیتا اسکی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی اور اس بچی کی باتیں سن کر لگتا ہے کہ تمہیں لاٹھی پڑ چکی ہے !!” وہ شرمندگی سے سر جھکا گیا ۔دانیال اور مرزا خاموش تھے نعمان شیرازی کا انجام دیکھ رہے تھے جس پر خدا کی لاٹھی پڑ رہی تھی وہ کمرے کی ونڈو کے اندر عفت کو دیکھنے لگا ” میری بہن !! دانیال اور مرزا نے بھی اسکی آواز سنی تھی جس میں انتہا کا درد تھا ” میری بہن واہ نعمان واہ اپنی بہن اس حالت میں ہےتو کیسے تڑپ رہے ہو تو سدھر تمہیں میں کچھ دکھاتا ہوں وہ اسکا ہاتھ پکڑے ایک کمرے میں آیا تھا کہاں چند لڑکیاں موجود تھیں ڈری ہوئی ” یہ وہ تمام لڑکیاں ہیں جو وہاں سے ریسکیو کی گئی ہیں !! اسنے شرمندگی سے انھیں دیکھا پھر ایک دوسرے وارڈ میں لے آیا جہاں چند لوگ نشے میں پڑے تھے ” یہ وہ تمام لوگ جنہیں تم نے زہر دیا نشہ دیا یہ توڑی تم نے اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی !! اسکا ہاتھ پکڑ کر وہ ایمرجنسی وارڈ میں آگیا ” یہ وہ تمام لوگ جو بم دھماکوں غنڈے گردی سے زخمی ہوئے اور مرنے والوں کا تو پوچھو مت یہ گناہ ہیں تمہارے ابھی تمہاری سزا کم ہے نعمان شیرازی !! آج نعمان کا غرور ٹوٹ گیا تھا جو آگ اسنے اس ملک میں لگائی تھی اس میں اسکے اپنے بھی جل گئے تھے جن کے لیے وہ یہ سب کچھ کررہا تھا وہ گھٹنوں کے بل۔روتا بیٹھ گیا ۔
تو نے عطا کیا ۔۔
میں نے لُٹا دیا ۔۔۔
تونے پھر سے دیا ۔۔۔
نہ شکر کیا ۔۔۔۔
تونے اور دیا ۔۔دیتا ہی گیا ۔۔۔
رخ موڑ دیے دریاؤں کے ۔۔۔۔
میں نے ہوا میں اڑنا سیکھ لیا ۔۔۔
میری اگلی نظر ستاروں پر ۔۔۔۔۔
میں پھر بھی تیرے ستاروں پر ۔
میں پھر بھی تیرے سہاروں پر ۔
تیرے رنگ تیرے رنگ ۔۔۔۔۔۔۔
آج خدا نے بھی اسے اپنے رنگ دکھائے تھے نعمان شیرازی تباہ کردیا تھا جو وہ دوسروں کے ساتھ کرتا تھا اسکے ساتھ بھی ہوگیا تھا اسنے قتل کیے تھے اسکا بھائی اسکا بھائی جیسا ورکر انکاونٹر میں مارے گئے تھے اسنے دوسرے کے جسموں میں نشہ چھوڑ تھا اسکی اپنی بہن کی رگوں میں بھی شمال ہوگیا تھا انسے دوسروں سے انکے اپنے الگ کیے تھے آج جوجو زی زی اسے چھوڑ گئےتھے اسنے عزتی داؤ پر لگائی تھیں اسکی بھی لگ گئی اسنے اس ملک کو برا چاہا تھا مگر اس سے پہلے خدا کے اسکی ٹانگیں توڑ دیں تھیں “میں نے اس ملک کو تباہ کرنے کی کوشش کی ہے نہ تو اسے سدھارنے میں مدد کروں مرزا میں کفارا کرنا چاہتا مجھے خدا کی ہر سزا لیکن میں اب اور گناہ نہیں کرنا چاہتا سب چلے گئے میں فریحہ اور منان کو کھونا نہیں چاہتا اسلیے میں تمہاری مرد کروں گا اس سسٹم میں رہ کر ہر ایک کرپٹ کو جانتا ہوں میں ان تک تمہیں میں لیکر جاوں گا مین ہیکنگ کرنا جانتا ہوں میں نے ان سب لے لیپ ٹاپ ہیک کیے ہیں اور انکی ساری کالی کرتوتے جمع کی جمع کی ہین میں تمہیں ابھی لا دوں گا !! اپنی بات سنا کر وہ ان دونوں کو حیرت زدہ چھوڑ گیا تھا . وہاں ایک ادمی ایسا بھی تھا جسنے نعمان کی باتیں سن لیں تھیں جسنے فون نکالا ” سر مین نے نعمان شیرازی کو پولیس کے ساتھ دیکھا ہے سر وہ انکے ساتھ ملکر اپ سب کو پکڑ وا دے گا !! مخالف کے ماتھے پر بل آگئے تھے اسنےاپنے خاص بندے کو فون کیا” مار دو نعمان شیرازی کو!! نعمان ہوسپیٹل سے سیدھا مینشن آیا تھا تیز رفتار سے پول سائیڈ پر جاتا اسنے کوٹ اتارا اور پانے کے اندر چھلانگ لگا دی وہاں ایک لاکر تھا جو پاس ورڈ سے کھلتا تھا” اسکا پاس ورڈ تو علیم نے رکھا تھا کیا رکھ سکتا ہے اریبہ !! پانی میں سانس روکے پاس ورڈ ملا رہا تھا جو رونگ تھا پانی سے منہ باہر نکال کر کچھ دیر سانس لیا جب کچھ یاد ایا” سر یہ کیا ہے ؟” ” یہ ہمارے لیڈرز کی فیکنس ہے ! علیم کی عادت تھی نعمان کی جو نام بھی فائل کے لیے بولتا اسکے لاکر کا وہی پاسورڈ ہوتا تھا “فیکنس ! سانس بند کرکے وہ پھر سے پانی میں گُھس گیا تھا اسنے گہرا سانس لیکر پاس ورڈ ملایا F…..A……K….E …N…..E……S…S لاکر کھل گیا تھا اسکے اندر واٹر پروف پیکٹ میں کافی سارے کاغذ پڑے تھے.انھیں پکڑے وہ اوپر کی جانب تیرنے لگا فائل پکڑے کمرے میں آیا کپڑے بدلے اور انھیں قدموں سے گاڑی میں بیٹھ گیا گاڑی کچھ دور ہی گئی تھی جب بووووم!!!!!!!!! ایک زور دار دھماکا ہوا اور گاڑی کے چتھڑے اُڑ گئے تھے ” انکی گاڑی میں بم لگا دیا گیا تھا جو پھٹ چکا ہے !! آدمی نے اگے بڑھ کر ٹی وی آن کیا ” بریکنگ نیوز یہ ہے کہ ایم این اے نعمان شیرازی بم بلاسٹ میں مارے گئے ہیں !!! انور گیلانی کے ہونٹوں پر مسکان اگئی تھی ” وہ اپنے مینشن سے گاڑی میں کہیں جانے والے تھے جب انکی گاڑی بلاسٹ ہوگئی ایم این اے نعمان شیرازی اس بم بلاسٹ میں مارے جاچکے ہیں انکا انتقال ہوگیا ہے انکی جلی ہوئی باڈی نکال لی گئی ہے ! ” انور نے تی وی بند کردیا نعمان شیرازی کی کہانی ختم خدا اسے جہنم رسید کرے ……
جاری ہے