96.1K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

ناول # مسلط
ازقلم # بنت اسلم
قسط نمبر # 28
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج مرزا کے لیے وہ دن تھا جسکا اسے انتظار تھے جب اسنے فائل کھوئی تھی اسے لگا نعمان شیرازی گیا مگر آج اسی کا آدمی اسکے خلاف گواہی دینے کو تیار تھا اور آج وہ تینوں نعمان شیرازی کو شیرازی مینشن سے کرپشن ڈرگ سمگلنگ کے جرم میں اریسٹ کرنے جارہے تھے آج وہ پوری تیاری میں تھے ایک سیاستدان کو اسکے گھر سے اٹھانے پولیس کی گاڑیاں شیرازی مینشن کے باہر کھڑی تھیں وہ ڈرائنگ روم میں ہی بیٹھا تھا ایسے جیسے ہر چیز سے لاعلم ہو مگر ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا وہ ایم این اے تھا کوئی بات تھوڑی تھی اسکے سپوٹرز تھے عوام اسے ووٹ دیتی تھی وہ جانتا تھا کیا کرنا ہے ” یو آر انڈر اریسٹ مسٹر نعمان شیرازی ڈرگ سمگلنگ کرپشن کے کیس سے میں آپکو گرفتار کیا جاتا ہے ” دانیال نے اسکے سامنے ہتھکڑی لہرائے جسے دیکھ کر اسکے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی ” ثبوت !”اچانک ایک ریکارڈنگ اسکے کانوں میں پڑی ” وہ تمام سامان نعمان شیرازی کے نائب کلب میں جارہا تھا وہ وہاں جوسسز اور بیوریج کے ساتھ الکوحل بھی استعمال کرتے ہیں اسکے علاوہ ڈرگ سمگلنگ بھی کرتے ہیں اسکے علاوہ انکے مافیہ کے ساتھ بھی تعلقات ہیں !”اسنے نظر گھما کر مرزا کی جانب دیکھا ” کافی ہے ؟”
“ میں نہیں جانتا اسے ؟” اس بات پر مرزا ہنس دیا تھا ” کوئی بات نہیں ہم پہچان کروا لیں گے ! اسکے ہاتھوں میں ہتھکڑی باندھے وہ اسے باہر کھینچنے لگی جہاں میڈیا پہلے سے موجود ” تازہ ترین صورتحال سے آپکو آگاہ کرتے چلیں نعمان شیرازی کو سمگلنگ اور کرپشن کے الزام میں انکے گھر سے ہی گرفتار کرلیا گیا نعمان شیرازی پر اس طرح کے الزامات پہلی بار نہیں لگے ہیں پہلے بھی ثبوتوں کی وجہ سے انھیں حراست میں نہیں لیا گیا تھا لیکن آج قسمت پولیس پر مہربان تھی !!! وہ ساتھ ساتھ میڈیا کی باتیں سن رہا تھا اسنے اپنے چند آدمیوں کو دیکھا جنہوں نے اثبات میں سر ہلایا ان سب کے درمیان سے مرزا اسے لے گیا تھا ۔اسے تھانے میں لیجا کر بند کردیا گیا ” تمہارا اصلی گھر !” لاک لگاتے مرزا اس سے مخاطب ہوا ” تم سے کچھ نیجی تعلقات نہ ہوتے تو اب تک تم مرچکے ہوتے ایس پی مرزا !! مرزا نے حیرت سے اسے دیکھا ” کیا کہا تمہیں نے ؟”
“ تم مجھے زیادہ دیر یہاں نہیں رکھ پاؤ گے !! اسے کہہ کر وہ دیوار سے لگ کر کھڑا ہو گیا تھا وہ دونوں سکون سے بیٹھ گئے تھے کچھ دیر بعد کمشنر صاحب خود آئے تھے ” مرزا یہ تم نے کیا کیا ہے ؟” ان تینوں کو امید تھی کہ اسکا چمچا آتا ہی ہوگا ” سر ان پر سمگلنگ کا کیس ہے اور ہمارے پاس ثبوت بھی ہیں !”
“ کیا مطلب ثبوت ہے کوئی بھی بندہ کل کو کوئی اُٹھ کر یہ کہہ دے گا ایم این اے نے یہ کیا ہے تو تم اسے گرفتار کرلو گے کل کو وہ صدر کا نام لے لے گا تو اسے اٹھا لاؤ گے !”
“ ہاں نہ یہی تو میں کہہ رہا ہوں مگر آپ کے پولیس آفیسرز کا دماغ کچھ زیادہ ہی گرم رہتا ہے .” ان تینوں نے گھور کر اسے دیکھا جسکی مسکراہٹ انھیں اور تپا رہی ہے ” سر ایسے ہی نہیں وہ ٹرک وہ سامان سچ میں نعمان شیرازی کے کلب میں جارہا تھا ان ڈبو پر نعمان شیرازی کے کلب کی مہر لگی تھی ۔”
“ تو ہوسکتا ہے اسے بھنسایا جارہا ہو تم نے نیوز دیکھی ہے میں دیکھتا ہوں ! انھوں فون نکال کر لائیو نیوز چلا دی تھی ” اور آپکو بتاتے چلیں ایم این نعمان شیرازی کی گرفتاری پر انکے سپوٹرز بھڑک اٹھے ہیں عوام کی طرف سے شدید غم وغصہ کا اظہار کیا جارہا احتجاج کیا جارہا گاڑیاں جلائی جارہی ہے اور ابھی ابھی ہمیں خبر ملی ہے ایک سکول وین پر حملہ کردیا گیا اسکے شیشے توڑے گئے ہیں بچے سہم چکے ہیں حالات بگڑ رہیں جسکی وجہ سے بچوں نے واپسی کی راہ اختیار کرلی ہے اور اگر حالات یہی رہے تھے سکول بھی محفوظ نہیں رہیں گے عوام کا کہنا پولیس نعمان شیرازی کو آزاد کریں ورنہ وہ سب جلاکر رکھ دیں گے لاہور کے کئی علاقے ہیں جو بند کردیے گئے سپورٹرز کی بس ایک ہی ضد نعمان شیرازی کو آزاد کریں وہ عمارتیں جلا رہے ہیں توڑ پھوڑ کر رہے ہیں !!!” نیوز بلیٹن بند کردیا گیا تھا ان تینوں نے پریشانی سے ایک دوسرے کو دیکھا جب انھیں کسی کی ہنسی سنائی دی ” ہاہاہاہاہاہاہا میں نے کہا تھا نہ تم زیادہ دیر نہیں رکھ پاؤ گے ! مرزا نے غصے سے مٹھیاں بھینچ کی تھی اسنے مہتاب کی جانب دیکھا جو نفری لیکر نکل گیا تھا وہ عوام کو قابو میں کرنا چاہ رہا تھا جن میں کچھ نعمان شیرازی کے پالے غنڈے تھے کچھ وہ لوگ تھے جنہیں انتشار پھیلانا ہوتا ہے اور کچھ وہ جو تماشائی ہیں جنہوں نے ملک کے لیے کچھ کرنا تو ہوتا نہیں لیکن اسے برباد کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں ” ابھی کے ابھی آزاد کرو انھیں !”
“ لیکن سر آپ جانتے ہیں یہ سب الزامات پہلے بھی ان پر لگ چکے ہیں یہ جو انتشار پھیلا رہے ہیں اسی کے آدمی ہیں .”
“ وہ چاہے جو مرضی ہوں فلحال وہ غصے میں ہیں اور انھیں ٹھنڈا کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے نعمان شیرازی کو آزاد کرو ۔” دانیال کو مہتاب کی کال آرہی تھی ” ہیلو سر یہاں کنڈیشن خراب ہورہی ہے سر عوام کچھ سننے کو تیار نہیں ۔۔۔۔” یہ بات مرزا اور کمشنر نے بھی سنی تھی نعمان بس مزے لے رہا تھا دانیال کو اس عوام کی بےواقوفی پر غصہ آرہا تھا .” لاٹھی چارج کردو!!! کمشنر نے غصے سے دانیال کر دیکھا ” تو اب تم لوگ اپنی ضد کے لیے عوام کو مارو گے .”
“ لیکن سر اسی عوام کےلیے ہی تو ہم یہ سب کچھ کررہے ہیں جو نشہ یہ بیچ رہا ہےوہ کل انھیں کی رگوں میں زہر بن کر اترے گا .”
“ مجھے کچھ نہیں سنا ابھی کے ابھی آزاد کرو انھیں !! کمشنر انھیں پریشرائیز کررہا تھا جب علیم وکیل کے ساتھ وہاں پہنچ گیا ” سوری لیٹ سر !! اسنےکاغذات میز رکھے ” یہ رہے کورٹ کے آرڈرز ضمانت ہوچکی ہے ۔جس پر صرف وہ مٹھیاں بند کرکے رہ گیا تھا ۔مرزا خود پریشان ہوگیا تھا اسے ضمانت کیسے مل۔گئی جب علیم اس سے مخاطب ہوا ” صرف ایک ٹرک ڈرائیور کے بیان کچھ شراب کی بوتلوں اور ڈبوں پر مہروں کی وجہ سے تم ایم این اے نعمان شیرازی کو جیل نہیں کروا سکتی !! اور علیم کے لیے سب سے اچھی خبر یہ تھی کہ مہتاب وہاں نہیں تھا اسی لیے تو وہ لیٹ آیا تھا انتشار پھیلانے والے سپورٹرز کو بھڑکا کر۔۔۔۔۔۔کمشنر نے مرزا کو آرڈر دے دیا تھا اسلیے اسے نعمان شیرازی کو چھوڑنا پڑا اسنے غصے سے کمشنر صاحب کو دیکھا جسکی وجہ سے انھوں نے پہلے بھی ثبوت کھوئے تھے اور اب بھی سب کھو دیا تھا ۔ ان دونوں کی طرف تنظریہ مسکراہٹ اچھالتا وہ مرزا کی طرف آیا ” چوں چوں کہا تھا تم لوگ کچھ نہیں کر پاؤ گے تم لوگوں کے جسموں پر یہ وردی بھی ہماری وجہ سے ہے اور اگلے ہی لمحے ہم اسے کھینچ بھی سکتے ہیں ! اسنے مرزا کے کالر کو پکڑنا چاہا مگر پھر مسکرا کر پیچھے ہٹ گیا ۔اسکے جانے کے بعد وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا دانیال نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا ” سارا سسٹم بکا ہوا ہے اور عوام اس عوام کے لیے اپنے جان خطرے میں ڈال کر ان بھیڑیوں کو کچھاروں سے نکال رہے ہیں اور وہ ہمارا ہی ساتھ نہیں دے رہی سپورٹ ہی نہیں کرتی یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ ہر حکمران انکا نہیں سوچ رہا انھیں صرف اپنے سے غرض آج یہ جسکا ساتھ دے رہی ہے کل یہی انکی رگوں میں زہر چھوڑ دے گا مسئلہ یہ نہیں کہ عوام اپنے حکمران کو بچانے نہ نکلے نکلے انکا کا حق مگر اپنا گھر کیوں برباد کررہے اس ملک کو کیوں اجاڑ رہے ہیں کیا انھیں Pangs of partition بھول چکی ہیں کیا بھول گئے کتنی تکالیف سے یہ ملک لیا تھا کتنی جانیں کتنی عزتیں ہم نے کھوئی ہیں اس ملک کے لیے جسے ہم نعمان شیرازی جیسے کرپٹ سیاستدانوں کے ساتھ اپنے وفاداری دیکھانے کے لیے جلا رہے ہیں ٹھیک ہے احتجاج کرے بات کرے عمارتیں سکول کالج سڑکیں دفاتر کیوں جلا رہے ہیں جب آئے تھے تو لکھنے کے لیے ایک قلم تک نہیں تھا اور آج ہمیں اسی قلم کی قدر نہیں ہے پیٹ کاٹ کاٹ کر یہ عوام ٹیکس بھر رہی ہے جس میں سے آدھا یہ لوگ کھا رہے ہیں جو بچا کچھا ملک پر لگاتے ہیں بعد میں اپنے ہی آدمیوں کے ہاتھوں تباہ کروادیتے ہیں اور سپورٹرز انکا ساتھ دیتے ہیں یار اپنے حکمران کو بچائے ملک تو نہ جلائیں آج اگر یہ ملک ختم ہوجاتا ہے بیرونی طاقتیں ہم پر مسلط ہوجاتی ہیں تو یہ سیاست دان اپنا کالا پیسہ لیکر نکل جائیں گے ہمارے لیے کچھ نہیں کریں گے ۔اپنے بچوں کے لیے غلامی اور قرض خرید رہے ہیں ..” اور موت بھی آخری بات دانیال نے کی تھی ۔
……………..✨………………….
آج فری کا یونی ورسٹی میں پہلا دن تھا یہ یونی صرف لڑکیوں کی ہی تھی وہ فری جو کبھی صرف یونیفارم میں کالج جاتی تھی آج برقع اور حجاب کرکے آئی تھی اسنے تو فیصلہ کیا تھا وہ نقاب کیا کرے گےمگر دانیال کی باتیں اسے ایسا نہ کرنا پر مجبور کرگئی ” اگر تو نقاب اس لیے کرنا ہے کہ خدا کا حکم ماننا ہے تو ضرور کرو میں روکو گا نہیں مگر اگر صرف اس لیے کرنا ہے کہ تمہیں لوگوں کا سامنا نہیں کرنا تو نہ کرو دنیا کا سامنا کرو کیوں ڈر رہی ہو تمہارا قصور تھا نہیں نہ تو کیوں منہ چھپانا ہے تمہیں جب میں تمہارے ساتھ ہوں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے کرو ورنہ دنیا سے منہ چھپانے کی ضرورت نہیں ہے ! کتابیں ہاتھ میں پکڑے وہ گہرا سانس لیکر یونی کی اندر آئی تھی وہ سوچ کر آئی تھی اب وہ اس دنیا سے نہیں ڈرے گی دانیال ہے نہ ساتھ وہ سب ٹھیک کردے گا اسکا نام لیتے ہی وہ پر سکون محسوس کرنے لگی تھی لڑکیاں اسے غور سے دیکھنے لگی تھیں ” ارے یہ تو وہی لڑکی ہے جسکا کچھ ماہ پہلے ریپ ہوا تھا ۔”
“ یہ یونی ورسٹی میں واہ کیا ہمت ہے ورنہ ایسی لڑکیاں تو خود کشی کرلیتی ہیں !” وہ سب کی باتیں سنتی آگے بڑھتی جارہی تھی ” کیا زندگی ہے بچاری کی اب ہے ہی کیا اسکے پاس ایک لڑکی کے پاس اسکی عزت ہی تو ہوتی ہے جو اسنے کھو دی اب پڑھ کر کیا کرے گی کونسا اپنائے گا کوئی !! سب کو اگنور کرتی وہ کلاس میں جاکر بیٹھ گئی تھی سب لڑکیاں اسکے پاس سے گزرتی جارہی تھیں جب ایک لڑکی اسکے پاس بیٹھنے لگی تو دوسری چیخی ” اسکے پاس مت بیٹھو وہ اچھی نہیں ہے ریپ ویکٹم ہے !! ” وہ لڑکی اسے غور سے دیکھتی آگے بڑھ گئی تھی پوری کلاس اسے گھور گھور کر دیکھ رہی تھی جسکی وجہ سے اسکی سانسیں بھاری ہورہی تھیں مگر اسکے کانوں میں دانیال کی الفاظ گونج رہے تھے ” یہ۔میری بیوی ہے ۔۔۔۔۔میں ہوں نہ تمہارے ساتھ !!!! کلاس شروع ہوگئی تھی اسکا پورا فوکس کلاس پر تھا کلاس کے بعد وہ گراؤنڈ میں بیٹھ گئی تھی اسکی کوئی دوست نہیں بنی تھی اور اسے چاہیے بھی نہیں تھی جب چند لڑکیاں اسے اپنے قریب آتی محسوس ہوئیں ” اے سنو تم ریپ ویکٹم ہو نہ بہت افسوس ہوا ہم نے تمہیں ٹی وی میں دیکھا تھا .” اسنے ایک نظر انھیں دیکھا اور پھر سر جھکا گئی ” اچھا جب وہ تمہیں لیکر گیا تھا تم تو بہت روئی ہوگئی!! آہستہ آہستہ وہ وہاں بیٹھ ہی گئی تھیں اسنے پھر کوئی جواب نہیں دیا ” اچھا جب اسنے تمہیں چھوا مطلب غلط جگہوں پر ہاتھ لگایا تمہیں اچھا نہیں لگا ہوگا نہ !!” فری نے غصے سےمٹھی بند کرلی تھی اسکے کانوں میں پھر دانیال بول پڑا تھا ” ان سب میں زیادہ تعداد عورتوں کی ہوتی ہے جو اپنی ہم جنس ک درد نہیں سمجھتی اسکے کپڑے کہاں سے پھٹے تھے وہ کہاں سے بے لباس تھی اسے کہاں کہاں ہاتھ لگایا گیا سب جاننا ہے انھیں !!” بتاؤ نہ نہیں اچھا لگا تھا تم نے سب برداشت کرلیا تمہیں گندا فیل نہیں ہوتا مطلب ریپ کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔
“ شٹ اپ جسٹ شٹ اپ شرم آنی چاہیے تم لوگوں کو لڑکیاں ہونے پر کس طرح مزے لے رہی ہیں اتنا ہی شوق ہے نہ ریپ کا سننا کا تو کسی بھی لڑکے سے کہو او مجھے چھیڑوں شرم تو نہیں آتی اس طرح کی باتیں کرتے ہوئے اٹھا کر پھینک دو ان کتابوں کو جن کو پڑھ کر بھی تم تہذیب نہیں سیکھ پارہی کیونکہ
تہذیب سکھاتی ہے جینے کا سلیقہ
علم سے جاہل کی جہالت نہیں جاتی ۔۔
اور دوسری بات میں کوئی عام لڑکی نہیں ہوں انسپیکٹر دانیال آفتاب کی بیوی ہوں اور اگر مجھے کسی نے کچھ بھی کہا تو وہ بھول جائیں گے کہ وہ تم لوگوں کے محافظ ہیں تو اسلیے دفع ہوجاو یہاں سے ورنہ میں جاکر ڈین سے کمپلین کردوں گی کہ لڑکیاں مجھ سے اس طرح کے سوالات کررہی ہیں پھر دیتی رہنا انکے سوالوں کا جواب !!!
“ سوری یار تم تو غصہ کرگئی سوری ہاں تم ڈین سے شکایت مت کرنا ! وہ اٹھ کر جانے لگی جب وہ بولی ” اگر کسی کے ہمدرد نہیں بن سکتے تو اسکی درد کی وجہ بھی مت بنا جب تک ہم ہمارے سنیپس سٹیٹس اور سٹوری کے مزے کے لیے دوسروں کے درد کریدتے رہیں گے تب تک شاید ہمیں کسی کا درد محسوس نہیں ہوگا ہر چیز لوگوں سے بانٹنے کے لیے نہیں ہوتی کچھ درد محض محسوس کیے جاسکتے ہیں کوشش کرنا انھیں محسوس کرنے کی تو شاید چسکے لینے کے لیے سوال پوچھنے میں زبان ساتھ نہیں دے گی .” وہ اٹھ کر چلی گئی تھیں اسکے بعد نہ اسنے کسی کو دیکھا نہ کوئی اس سے ملنے آئی اسنے فون نکال کر دانیال کی تصویر دیکھی جو کل ولیمے میں اسنے چوری کھینچی تھی ایویں ہی بس ” آج صرف آپکی وجہ سے اتنی ہمت آئی ہے مجھ میں کتنا غلط سوچتی تھی کہ آپ بس مجھ پر ترس کھا رہے ہیں مگر آپ نے تو مجھے جینا سکھا دیا۔”
……………..✨…………..
شام کو جب وہ گھر واپس آیا تو سارے ٹی وی پر آج صبح کی نیوز چل رہی تھی ” نعمان شیرازی کو آج صبح کرپشن اور سمگلنگ کے الزام میں انکے گھر سے گرفتار گیا تھا جس کی وجہ سے انکے سپوٹرز میں کافی غصہ دکھائی دیا جنہوں نے آج صبح شہر میں کافی توڑ پھوڑ کی تھی جسکی وجہ انھیں چند گھنٹوں بعد ہی انکے اریسٹ وارنٹ کینسل کردیے گئے تھے ۔ ایک بار پھر سے لاہور پولیس کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ..” ہر طرف یہی خبر تھی اسی لیے وہ اکتا کر سیدھا اوپر چلا گیا تھا ہیر جو اسکے لیے پانی لینے گئی تھی اسے وہاں نہ پاکر ٹی وی کی جانب متوجہ ہوئی نیوز دیکھ کر وہ سمجھ گئی تھی اسلیے وہ بھی اسکے یچھے ہی چلی گئی جہاں وہ کنپٹیاں مسلتا صوفے پر ٹیک لگائے بیٹھا تھا ۔اسے ڈر بھی تھا کہ اگر وہ غصے میں ہوا تو پھر بھی وہ ڈرتی ڈرتی آگے بڑھ آئی ” بب بابو پانی !”اسنے نظر اٹھا کر اسے دیکھا اور چپ چاپ پانی کا گلاس پکڑ لیا وہ اچانک نیچے ہی بیٹھ گئی ” بابو مجھے۔۔۔زیادہ نہیں پتہ پر اتنا سمجھ آیا ہے آپکا کام سہی نہیں ہوا آپ پریشان نہ ہو آپ فکر نہیں کرو اللہ سے میں دعا کروں گی وہ میری مان لیتے ہیں میں ان سے کہوں گی کہ آپکی ساری مشکلیں حل کردیں !” اسنے اداس مسکراہٹ سے اسے دیکھا ” کرنا ہاں !
وہ یونیفارم چینج کرنے چلا گیا تھا اور وہ بس مسکرا کر اسے دیکھتی رہی وہ کتنا اچھا ہوگیا تھا نہ .”
…………..✨……………..
دانیال واپس آیا تو فری کمرے میں کتابیں لیے بیٹھی تھی ” اسلام علیکم!اسنے مسکرا کر اسے دیکھا ” واعلیکم اسلام خوش آمدید ! اسکے لہجے کی کھنک دیکھ کر پہلے تو وہ حیران ہوا پھر مسکرا دیا اچانک وہ اٹھ کر اسکے قریب آگئی اور پھر گلے لگ گئی وہ حیران ہورہا تھا اسکی حرکات پر ” میں جانتی ہوں آج جو کچھ بھی ہوا ہمارا سسٹم ہی ایسا ہے یہاں کوئی بڑا آدمی اندر ہوا نہیں کہ اسکے پالے کتے عوام کے جذبات کو غلط رُخ دے کر سڑکوں پر لے آتی ہے توڑ پھوڑ کرتی ہے اور اچھے ایماندار انسان پریشر میں آکر انھیں آزاد کردیتے ہیں اور وہ اپنا کالا کام جاری رکھتے ہیں لیکن کوئی بات نہیں ایک دن انھیں اپنی غلطیوں کا احساس ضرور ہوگا آپ فکر نہیں کروں میرے پاس آپکو بتانے کے لیے ایک بہت اچھی خبر ہے !” وہ اسکے گلے لگی تسلیاں دے رہی تھی اور وہ مسکرا کر سن رہا تھا ۔ اسنے نرمی سے اسے الگ کیا ” کیا !” وہ اسکا ہاتھ تھامے بیڈ تک آئی آج وہ بہت فریش لگ رہی تھی ” آج نہ یونی میں مجھے لڑکیوں نے تنگ کیا کوئی مجھ سے بات بھی نہیں کررہا تھا میرے ساتھ بھی نہیں بیٹھ رہا تھا ” دانیال کا منہ اور زیادہ اتر گیا تھا ” اس میں اچھی خبر کیا تھی ؟”
“ سنے نہ پھر کچھ لڑکیاں آکر مجھ سے عجیب عجیب سوال پوچھنے لگی پر انکا میں نے منہ توڑ دیا اور انسے کہا کہ اگر کسی نے مجھے کچھ کہا تو انسپیکٹر دانیال تمہیں چھوڑیں گے نہیں وہ میرے شوہر ہیں بلکل نہیں ڈری میں نہ روئی ۔ ” دانیال کے دل کو سکون مل گیا تھا اسے ایسے دیکھ کر ” ارے واہ میری شیرنی دل خوش کردیا اگر مجھے پتا ہوتا یونی جانے کے بعد تم اس قدر بدل جاؤ گی تو میں یہ پہلے ہی کردیتا !”
“ اور اگر مجھے پتہ ہوتا کہ آپ مجھے ایسا بنا دیں گے تو میں پہلے دن سے آپکے ساتھ ایسے ہی رہتی !! اس بات پر دانیال اسکا چہرا دیکھتا رہ گیا تھا تو وہ اسے ایک سٹیبل لائف دینے میں کامیاب ہوگیا تھا ” اچھا ایسے مت دیکھے اٹھے نہ چلیں !!! وہ اسکا ہاتھ کھینچ رہی تھی ” کہاں؟”فری نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے پیٹ پر رکھا ” یہ نہ کھالی ہے کہہ رہا ہے اس میں کھانا ٹھونسو کھانا !” اس بات پر کھلکھلا کر ہنس دیا تھا ۔” کپڑے بدل لوں یا اسے زیادہ جلدی ہے ؟” اس پر اسنے مسکرا کر سر ہلا دیا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہتاب گھر واپس آیا تو اسکی بہن اور ماں دونوں کھانا کھا رہی تھی چھوٹا بھائی کالج کا کچھ کام کر رہا تھا اسنے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو نوشین وہاں کہیں نہیں تھی ” کرن بھابھی کہاں بیٹا ؟”
“ بھائی میں گئی تھی انھیں کھانے کا کہنے انھوں نے دروازہ ہی نہیں کھولا انھوں نے دوپہر کا کھانا بھی نہیں کھایا !!”اسنے اسے پانی کا گلاس تھمایا جسے پی کر وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا ” نوشی دروازہ کھولو!” اسکی دوسری دستک پر ہی دروازہ کھول دیا گیا تھا وہ صبح کے حلیے میں ہی مرجھائی مرجھائی لگ رہی تھی اسنے دروازہ بند کیا ” کیا ہوا طبعیت ٹھیک ہے ؟”جس پر اسنے سر جھکائے ہی اثبات میں سر ہلا دیا دانیال نے اسکے گال کو چھونے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو وہ ڈر کر پیچھے ہوگئی اسکا ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہ گیا تھا وہ اسے دیکھتا رہ گیا ” سس۔۔سوری میں ڈر گئی تھی !”
“عورت نہ اس دنیا کی واحد مخلوق ہے جسے پیار سے بھی ہاتھ لگاؤ تو ڈر جاتی ہے !” اپنا ہاتھ نیچے کرتے وہ بے بس ہوگیا تھا جس پر نوشی نے اداس نظروں سے اسے دیکھا ” ہر کوئی پیار سے نہیں لگاتا نہ کوئی صرف دبوچتے ہیں اسلیے ڈر لگتا ہے !”
“ نوشی مجھ سے بھی ڈر لگتا ہے !” اسنے دبے ہوئے غصے میں کہا تو وہ اور پیچھے ہوگئی ” مرد تو مرد ہوتا غصے میں کچھ بھی کرسکتا ہے اگر میں بھی تمہاری بات نہیں مانو تو تم بھی تو مجھے مارو گے نہ جیسے فائق مارتا تھا دد۔۔دیکھو ابھی میں تمہاری بب۔۔۔بات کا جواب دیا تو تمہیں غصہ آگیا کل کو زیادہ اجائے گا اسلیے ڈر لگتا ہے اور ۔۔۔تم۔۔تم بھی سگریٹ پیتے ہو گے !”
“ میں سگریٹ نہیں پیتا !!! دیکھو نوشی تم کیوں نہیں سمجھتی میں محبت کرتا ہوں تم سے بچپن سے کرتا ہوں میری غلطی بس اتنی ہے کہ مجھے دیر ہوگئی یار ہاتھ جوڑتا ہوں میں اتنی بڑی سزا نہ دو !” نوشی نے پرنم آنکھوں سے اسے دیکھا ” بس وہ دیر نوشی کو بھی مار چکی !” اسکی بات چند لمحوں کے لیے اسے خاموش کرگئی تھی اسنے گہرا سانس لیا ” کھانا کیوں نہیں کھایا .
“ بھوک نہیں لگی تھی ! سرجھکائے بس سوالوں کے جواب دیے جارہی تھی ” اپنی حالت دیکھی جانتی ہونہ کھانا پینا کتنا ضروری ہے تمہارے لیے !”
جس پر اسنے اثبات میں سر ہلا دیا ” میں منہ ہاتھ دھو لوں پھر ایکساتھ کھاتے ہیں ! جس پر وہ پھر سر ہلانے لگی اور جانے لگی ” کہاں جارہی ہو ؟
“ تمہارا اور میرا کھانا لانے !” جس پر اسنے ماتھے پر بل لاکر اسے دیکھا ” باہر کیوں نہیں یہاں کیوں ؟”
“ ممم۔۔۔۔میں نہیں کھا پاؤں گی انکے ساتھ میں سامنا نہیں کر پاؤ گی سب کا مجھے شرمندگی ہوتی انھیں دیکھ کہ انکے کنوارے بھائی بیٹے کی زندگی میں ایک ایسی لڑکی آگئی جو ناصرف شادی شدہ ہے بلکے گھریلو تشدد زیادتی اور ناجانے کون کون سے روگوں سے جونج رہی ہے ” اسکے الفاظ کے ساتھ اسکی ہچکیاں سن کر مہتاب کے دل کو کچھ ہورہا تھا وہ درد سے بھر گیا تھا ۔” وہ اسکے جانب بڑھنے لگا اسے محبت دینے کے لیے جب منال کے الفاظ اسکے کانوں میں گونجے ” اسکی مرضی کے خلاف اسکے قریب جانے کی غلطی مت کرنا وہ پینک کرنے لگے گی وہ اس وقت احساسِ کمتری میں مبتلا ہے ڈومیسٹک وائلینس کی شکار کوئی بھی عورت اپنی اگلی زندگی جلدی شروع نہیں کر پاتی اسکے ساتھ بہت نرمی اور صبر سے پیش آنا پڑتا ہے وہ سب مردو کو ایک پیمانے میں ناپنے لگتی ہے اور اگر اس حالت میں تم اسکے قریب گئے تو وہ تمہیں اور فائق کو ایک سمجھنے لگے گی اور یہ اچھا نہیں ہوگا ۔” اسنے گہرا سانس لیا ” ٹھیک ہے لے آؤ کھانا !”جس پر وہ سرجھکائے باہر نکل گئی شکر تھا وہ پہلے سے اپنی فیملی کو ان حالات سے آگاہ کرچکا تھا۔
جاری ہے