Musalat By Binte Aslam Readelle50190 Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
وہ کمرے میں راکنگ چئیر پر ہیر کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی ۔جب اپنے پیروں پر کسی کا ہاتھ محسوس ہوا انھوں نے دیکھا تو وہ نیچے پیر پکڑے بیٹھا تھا” سوری دادی غلطی ہوگئی میں ہیر سے نکاح کرنے کے لیے تیار ہوں مگر میری ایک شرط ہے ! اسنے نظریں اس جانب اٹھائی ” نکاح اس دن ہوگا جس دن آپکی فلائٹ ہوگی اور دوسری بات آپ۔میرے اور میری بیوی کے معاملات میں نہیں بولیں گی میں اس سے محبت کروں نفرت کروں جو مرضی کروں آپ بیچ میں نہیں بولیں گی یہ میری شرط ہے آپکا حکم سر آنکھوں پر اسے سب دوں گا مگر اپنا آپ نہیں آپ تاریخ بدلنے چلی وہ ہیر ہے مگر میں رانجھا نہیں میں اسکے عشق میں پاگل نہیں ہوں میں مرزا جو کسی صاحبہ سے بھی تعلق نہیں رکھنا چاہتا تھا یہ دو کردار الگ تھے الگ رہیں گے !”اپنی بات کہہ کر انھیں بنا دیکھے چلا گیا جب وہ مخاطب ہوئیں ” بس اس بچی پر ظلم مت کرنا اور باقی تمہیں خود سے عشق کرنے پر مجبور نہ کرگئی تو میرا نام شاہدہ نہیں اگر ایک سال میں تم اس سے محبت نہیں کرنے لگے تو میں خود تم دونوں کا تعلق ختم کروں گی اور اسکے بعد ہیر سے تمہارا تعلق ختم یہ میری شرط ہے ! اسنے سرد نظروں سے انھیں دیکھا اور مسکرا دیا ” اپنی بات پر قائم رہیے گا ! انھیں حیرت کے گڑھوں میں چھوڑ کر وہ چلا گیا تھا ” ہیر اپنا بنا لینا اسے ورنہ یہ تمہیں کھو دے گا ۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(✨…..✨) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ ہیں دادی یہ آپ نے اپنی شادی پر پہنا تھا ! وہ اشتیاق سے مغلیہ طرز کے لہنگے کو دیکھ رہی تھی جو دیکھنے میں خاصا نفیس لگ رہا تھا ۔” ہاں اور یہ لہنگا اب تیرا تو پہنے گی اپنے نکاح پر !” اسکی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر اسکا شرم سے لال چہرا اوپر اٹھایا گول چہرا موٹی آنکھیں پتلے عنابی ہونٹ اور گردن سے نیچے ابھری بیوٹی بون وہ خوبصورت تو تھی مگر مرزا کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی اسلیے شاید ہی اسے فرق پڑتا اب تو جو تھا وہ ہیر کی سیرت تھی جس سے اسے مرزا کو جیتنا تھا ۔ ” اچھا سنو اسکے سامنے نہ سج سنور کر رہنا اپنا بھولا پن زیادہ مت دیکھانا اور یہ جو بالوں میں تو سرسوں کا تیل لگائی رکھتی ہے نہ اسکے سامنے مت لگانا ! انھوں نے اسکی لمبی پراندی شدہ چُوٹیا کھینچی ” آہ بی بی ؟ وہ درد سے کراہ گئی تھی ” اچھا بی بی انکی دادی نے تو کچھ نہیں مانگا جہیز میں تو انہوں مجھے طعنہ مار دیا کہ میں کچھ نہیں لائی تو” اسکے معصوم سوال پر بی بی ہنس دی ۔” اے جھلی وہ اکیلا رہتا ہے اسکے گھر پر سب کچھ ہے اسے تیرے سامان کی ضرورت نہیں !” انھوں نے اسکے سر پر تھپکی دی ” اچھا شادی کی پہلی رات جب وہ کمرے میں آئے تو تو۔۔۔۔۔۔۔” دادی کی آدھی بات سن کر وہ اچھل پڑی تھی ” بی بی ایسی باتیں نئی کریں مجھے شرم آتی ہے ! وہ شرما کر کمرے سے بھاگ گئی تھی ” لے پاگل میں تو کہہ رہی تھی کہ جب وہ کمرے میں آئے تو ایسے ڈر کے بھاگے نہ جیسے اب بھاگ گئی ہے ہاہاہا میری جھلی دھی!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(✨…….✨) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں پانچ گھنٹے کی لمبی مسافت کے بعد وہ جیپ کے ذریعے ہی جھنگ پہنچے تھے بلیک تھری پیس میں بالوں کو جیل سے سیٹ کیے چہرا پر بلا کی سنجیدگی کے ساتھ وہ حویلی کے باہر اُترا تھا آدھا گاؤں اسے دیکھ کر دیکھتا ہی رہ گیا تھا سب جانتے تھے یہ نکاح انتہائی سادگی سے کیا جانا تھا چاچی دائم فری حیرت سے ہیر کی قسمت کو دیکھ رہے تھے کیا لڑکا ہے یار !! فری کے منہ سے بے ساختہ نکلا ” امی اسکے لیے آپ میرا رشتہ نہیں پوچھ سکتی تھیں ! اسنے غصے سے اپنی ماں کو دیکھا ” چُپ یہ رشتہ بچپن سے طے ہے اگر اسے کچھ ہوجاتا تو تیری دادی ہماری جان نہ چھوڑتی اور ویسے بھی لڑکا پولیس والا ہے اور ہماری ہیر ان پڑھ کہاں اتنا لمبا چلے گا یہ رشتہ اسکا چہرا دیکھا ہے کسی مجبوری کے تحت نکاح کر رہا خوش نہیں لگ رہا ! ان تینوں نے ایک ساتھ مرزا کی جانب دیکھا تھا جو جیسے ہونٹ الفی سے چپکا کر آیا تھا وہ بلکل بھی خوش نہیں تھا ۔ ہیر کی دادی شاہدہ کے گلے لگی رو دی تھی ” مجھے تو لگا تھا اتنے سالوں بعد تو وہ وعدہ بھول گئی ہوگی اور میری بچی ایسے ہی رہ جائے گی !”
“ نہیں فاطمہ میں نے وعدہ کیا تھا کہ ہیر میری بیٹی بنے گی تو بنے گی اور دیکھو آج میں اپنی امانت لینے آگئی ہوں ! انھوں نے مسکرا کر مرزا کو دیکھا جو زبردستی مسکرا دیا تھا ۔وہ سب اندر بیٹھے تھے وہ مغرور طریقہ سے اس پر احسان کرنے کو تیار تھا اسے جلانے کی تیاری کر رہا تھا مگر گلاب کو توڑتے ہوئے کانٹے خود کو بھی اتنی ہی تکلیف دیتے ہیں جتنی گلاب کو پہنچتی ہے !! اور اس ڈرے سہمے نرم لال گلاب کو اسکے پہلو میں بیٹھایا گیا تھا جسے اسنے دیکھنا بھی گنوارا نہیں کیا تھا گھونگھٹ میں وہ اپنے ہونٹ کاٹنے میں مصروف تھی وہ ہیر رجب سے ہیر مرزا ایوب بن چکی تھی یہ جانے بغیر یہ نام اس پر کتنا بھاری پڑنے والا تھا کچھ دیر بعد رُخصتی تھی وہ آدھے گھنٹے سے بی بی کے گلے لگ کر رونے میں مصروف تھی ” دادی میں کیسے رہوں گی اکیلے ! اسکی بات پر اسنے گھونگھٹ میں کانپتے وجود کو دیکھا اور ہنس دیا ” یعنی جانتی ہے اکیلی ہی ہے ! اسنے اکتاہٹ سے گھڑی کی جانب دیکھا شاہدہ کو دیکھا ” شام ہورہی ہے پانچ گھنٹےکا سفر ہے رات کو آپکی فلائٹ بھی ہے ! اسکی بات پر اسنے گھور کر اسے دیکھا جسنے کندھے اچکا دیے تھے ” فاطمہ دیر ہورہی ہے اب رُخصتی دے دو ! بی بی نے بُجھے دل کے ساتھ ہیر کو خود سے دور کیا اور جیپ میں بیٹھا دیا فاطمہ مرزا کے قریب آئی اور ہاتھ جوڑ کر سر جھکا گئی ” آنٹی یہ کیا کر رہی ہیں ! وہ انکے تھام چکا تھا ” بیٹا میری بیٹی بہت معصوم اس سے کبھی کوئی غلطی ہوجائے تو معاف کردینا بچی سمجھ نظر انداز کردینا اسے چالاکیاں نہیں آتی ! ” وہ مسکرا کر اثبات میں سر ہلا گیا اور گاڑی ڈرائیو کر گیا تمام راستے شاہدہ اس سے سوال جواب کرتی آئی تھی جسکا جواب وہ ہوں ہاں کرتی آئی تھی .سات بجے کے قریب وہ لوگ گھر پہنچے تھے اور آٹھ بجے کی شاہدہ بی بی کی فلائٹ تھی اسکے کمرے کو گلاب کے پھولوں کی مسہری سے سجایا گیا تھا . ان کے درمیان وہ ڈری سہمی سی بیٹھی تھی ” دیکھو بیٹا کبھی بھی اس احساسِ کمتری میں مت رہنا کہ وہ اتنا پڑھا لکھا ہے پولیس والا ہے اور تم ان پڑھ ہوں جب ایک مرد کو نیک سیرت فرمابردار بیوی مل جاتی ہے تو وہ بھول جاتا ہے کہ وہ پڑھیں لکھی ہے یا نہیں اور تیرے پاس تو سیرت اور صورت دونوں ہے تجھے اسے اپنا بنانا ہے قابو میں نہیں کرنا بس اسکے ہمقدم رہنا ہے تو اسلیے اسکی پسند ناپسند اسکا ہر کام ہر بار چپ چاپ خاموشی سے سرجھکا دینا ٹھیک ہے ! انکی بات پر وہ اثبات میں سرہلا رہی تھی ” مرزا کو میٹھے میں حلوا اور کھیر دونوں بہت پسند ہیں اور سبزی میں کریلا !!! اس بات پر اسنے چونک کر انھیں دیکھا ” جی وہ تو کڑوا ہوتا ہے جی ! اسنے معصومیت سے کہا ” ہاہا ہاں پر اسے بہت پسند اسلیے اسے بنا کر کھلا دیا کرنا !” اسنےپھر اثبات میں سر ہلا دیا ” کہیں خود بھی کریلے جتنے کڑوے نہ ہوں ! “
“ اور یہاں کا جو باورچی خانے ہے نہ آسکا چولہا گیس والا نہیں ہے وہ۔۔۔۔۔۔۔۔” ابھی وہ پوری بات بتاتی مرزا آگیا ” دادی فلائٹ کا ٹائم ہوگیا !” اسکی بات سن کر ہیر کو پیار کرکے وہ باہر آگئی تمام راستے وہ خاموش ہی آئی تھیں ائیر پورٹ پہنچ کر وہ اس سے مخاطب ہوئی ” دیکھ مرزا وہ بہت معصوم ہے وہ تیری ہر بات مانے گی جو تو کہے گا اسے تنگ مت کرنا ظلم مت کرنا اس پر کہ وہ نازک جان نہایت ٹوٹ جائے اور پھر اسے سمیٹتے تیرے ہاتھ زخمی ہاتھ ہونے لگیں !!”
“ آپ نے وعدہ کیا تھا کہ میرے اور میری بیوی کے معاملات میں نہیں بولیں گی !!” دادی نے گھوری سے سے نوازا اور پھر اسکا کان پکڑ لیا ” تو اسکا مطلب یہ نہیں تو اسے ستائے اگر ایسا ہوا میں تیرا کان اُکھیڑ دوں گی !
“ آیہ دادی چھوڑیں بچہ نہیں ہوں میں ! زبردستی آپنا کان چھڑایا اور آگے دھکیل دیا بوڈنگ سٹارٹ ہوگئی تھی ۔ انھیں امریکہ بھیج کر وہ دانت نکالتا پیچھے مُڑا اپنا فون دیکھا جہاں انکی نکاح کی تصویر نکلی تھی اسکے ہونٹوں پر یک پر اسرار سی مسکراہٹ آگئی
Let’s began the TOM and JERRY show!!!!!
وہ ائیر پورٹ سے باہر اٹئیرنگ گھمایا ساتھ ساتھ کسی کو فون بھی ملا رہا تھا ” ہیلو ہاں فرخندہ !!!
“ جی صاب !! فرخندہ حیرت کا شکار ہوئی تھی ” فرخندہ تم کتنے دنوں سے کہہ رہی تھی تم میرا کام نہیں کرسکتی اور میں نے کہا تھا ڈھونڈو تو تمہیں کوئی ضرورت نہیں ڈھونڈنے کی میری شادی ہوگئی ہے میری بیوی آگئی ہے کل سے تمہیں کام پر آنے کی کوئی ضرورت نہیں جھاڑو کپڑے برتن صفائی کھانا وہ سب کرلے گی ٹھیک ہے ! دانت نکالتا وہ دوسرا نمبر ملا رہا تھا ” ہیلو دانیال کیسا ہے !”
“ میں تو ٹھیک مرزا مگر یار تونے شادی کرلی اور بلایا بھی نہیں یہ کوئی اچھی بات تو نہیں تھی !” دانیال پہلا گلہ ہی یہ کیا تھا دانیال کھانے کا بہت شوقین تھا اور شادی کا کھانا مِس کرنا تو اسکی عادت ہی نہیں تھی اب فری اسے کتنا کھلانے والی تھی یا بھوکا مرنے والا تھا خُدا ہی جانتا تھا ۔” ارے یار حالات ہی ایسے تھے اچھا سن میں نے کل تم لوگوں کی دعوت رکھی ہے کل رات کا ڈنر ساتھ کریں میرے گھر پر !”
“ ارے واہ دوست ہو تو تیرے جیسا چل ٹھیک ہے میں آجاو گا !!!”
“ آجاو گا مطلب آجائیں گے تو نہال علی اعتزاز احسن فاریہ شانزے اشمل سب انا ٹھیک ہے !” دانیال نے فون رکھ دیا ” اب آئے گا مزا مِس ہیر !!! مسکرا رائٹ ٹرن لے گیا ۔
بارا بج گئے تھے وہ ابھی تک نہیں آیا تھا بیٹھ بیٹھ کر اسکی کمر اکڑ گئی تھی اپنے سجے سنوریں روپ کے ساتھ وہ ابھی تک اسکا انتظار کر رہی تھی کہ اچانک دروازہ کھُلنے کی آواز آئی وہ الرٹ ہوکر بیٹھ گئی بوٹ زمین پر عجیب ٹھک ٹھک کی آواز پیدا کر رہے تھے الماری سے کپڑے نکالتا اسے بنا دیکھے واشروم میں چلا گیا وہ گھونگھٹ کے نیچے لب کاٹنے میں مصروف تھی ۔جب وہ اسکے قریب آیا کرسی کھینچی اور بیٹھ گیا ایک نظر اس سراپے کو دیکھا اور جیب میں سے پیسے نکال کر اسکے سامنے پھینک دیے گود میں کچھ گِرا تو ڈر گئی ” یہ ۔۔۔۔۔دس ہزار ہیں مجھے پتا نہیں تھا تمہیں کیا پسند ہے اور کیا نہیں مجھے دلچسپی بھی نہیں جاننے میں دادی نے کہا تھا منہ دکھائی جیسے کوئی رسم ہے اسکے لیے تحفہ دیتے اپنی پسند کا لے لینا فرخندہ کو بھی میں پیسا ہی دیتا تھا !” اسکی باتوں پر اسکا دل حیرت میں ڈوبتا جارہا تھا وہ رو دی تھی ” فف۔۔۔۔فرخندہ کون ہے جی ؟”
“ میری نوکرانی عید ہو یا اسے جب ضرورت میں پیسے دیتا تھا کہ اپنے لیے کچھ لے لے تمہیں بھی دے دیے !” اسکی بات پر اسکا دل مُٹھی میں آگیا تھا اتنی تزلیل نوکرانی میں اور مجھ میں کوئی فرق نہیں ہے .اسنے کانپتے ہاتھ سے پیسے اٹھائے اور اسکی طرف بڑھا دیے ” میں بازار نہیں جاتی مجھے چیزیں لینی نہیں آتی مجھے منہ دکھائی بھی نہیں چاہیے منہ تو دیکھا بھی نہیں آپ نے اسلیے آپ یہ واپس رکھ لیں بابو ! ” اسکی بات پر اسنے کڑے تیوروں سے اسے دیکھا اتنا ایٹیٹیوڈ پیسے اسکے ہاتھ سے کھینچ لیے جس سے وہ اور ڈر گئی ” سمجھتی کیا ہو خود کو تمیز سے بات کرتا اچھا نہیں لگ رہا جو یہ رنگ دکھا رہی ہو احسان مانو میرا تم جیسی ان پڑھ جاہل گنوار دیہاتی لڑکی سے نکاح کرلیا میں نے ورنہ وہیں گاؤں جانوروں میں گھُسی ہوتی تم !! اسکی باتیں اسے شرمندگی کے گڑھوں میں گراتی جارہی تھی وہ حیران تھی کہ اسنے کیا سوچا تھا اور کیا ہوگیا ۔وہ ہچکیوں کے ساتھ رونے لگی تھی وہ اور ا ُکتا گیا تھا ” ہاں یہی آتا ہے تم لوگوں کو رونا شروع کردو اور یہ پیروں پر مہندی کیوں لگائی ہے دادی کہہ رہی تھی تم تو بہت عقل مند ہو یہ عقلمندی ہے مہندی پیروں پر لگا کر گھوم رہی ہو !!! اسکے چلانے کی آواز سے وہ اور ڈر گئی تھی ” مم۔۔۔۔۔میں نے نہیں۔۔۔۔لگائی تھی ۔۔۔۔بی۔۔۔۔بی بی نے لگوا دی !!! وہ روتی ہکلاتے ہوئے جواب دے رہی تھی ۔” تو تمہاری عقل کیا گھاس چرنے گئی تھی منع نہیں کر سکتی تھی اور یہ کیا کمرے پھیلاوا بکھیرا ہوا ہے یہ پھول اور مسہری صاف کرو انھیں میں دوسرے کمرے میں جارہا ہو میرے آنے تک یہ سب صاف ہو…..وہ دیکھ سکتا تھا اسکا پورا جسم خوف سے کانپ رہا تھا مگر اسے کیا پرواہ تھی پھر چلایا ” سُنائی نہیں دیا !!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
