Musalat By Binte Aslam Readelle50190 Episode 3
No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
“ جج۔۔۔۔جی !! وہ جلدی سے بستر سے اُتر کر واشروم جانے لگی جب وہ پھر چیخا ” وہاں کہاں جارہی ہو ؟
“ کک۔۔۔کپڑے بدلنے پھر صفائی کردیتی ہوں ! اسنے ہاتھ مروڑتے جواب دیا ” میں نے کہا بدلو میں نے تمہیں دیکھا نہیں تمہاری ماں نے سکھایا نہیں جب تک شوہر نہ کہے دلہن کپڑے نہیں بدلتی!!! اس بات پر ہیر کا دل بند ہوگیا تھا ” میرے ماں باپ نہیں ہے چھوٹی تھی تب مر گئے !” اسکی یادہانی پر مرزا کو شرمندگی ہوئی تھی مگر جہاں ضد انا غصہ نفرت غالب آجاتے وہاں عقل ہمدردی انسانیت سب ختم ہو جاتا ہے اسکا بھی ختم ہوگیا تھا ” ہا۔۔۔ہاں تو میں نے مارے ہیں تم ہی ایسے ہو گی انھیں کھا گئی جیسے میری زندگی نگلنے آئی ہو ! آخری جملہ اسنے قدرے دھیمے کہا تھا مگر وہ سُن چکی تھی وہ اندر ہی اندر ختم ہورہی تھی اسکا مرزا اتنا پتھر دل ہے وہ اپنی جگہ ساکن ہوگئی تھی وہ کمرے سے باہر چلا گیا اسکا دل کر رہا تھا وہ پھوٹ پھوٹ کر روئے اکیس سال تک چاچی کے طعنے اور اب مرزا بھی وہی سب کچھ کہہ رہا کیا سچ میں میری وجہ سے میرے ماں باپ مر گئے ! ٹوٹے دل کے ساتھ وہ کمرے میں جگہ جگہ رکھے پھول اور پنکھڑیاں سمیٹنے لگی تھی موم بتیاں بجھا کر اسنے لائٹیں ان کردی گولڈن روشنی سے پُر نور کمرا سفید نور میں نہا گیا تھا چہرا گھونگھٹ میں چھپائے وہ سارا کام کررہی تھی پتیاں اسنے سمیٹ لیں تھی اب بستر کی نوک پر چڑھی مسہری اتارنے کی کوشش کررہی تھی جب وہ کچھ فائلز اور لیپ ٹاپ لیے کمرے میں آیا اسکا پاؤں بلکل کنارے پر تھا وہ کیل سے دھاگا اتار رہی تھی دھاگہ نکلا اور اسکا پیر پھسلا اور وہ سیدھی مرزا کی گود میں گھونگھٹ تھوڑا سا اُٹھ کر ناک تک آگیا تھا اسکے کپکپاتے گلابی ہونٹ اور اُبھری بیوٹی بون اسکی شخصیت کی جو پہلی چیز مرزا کو اٹریکٹ کی تھی وہ اسکی بیوٹی بون ہی تھی وہ اسے ہی گھورے جارہا تھا جب وہ بولی ” اُ۔۔۔اتار دیں۔۔۔۔نن۔۔۔نیچے ! اسکی آواز پر وہ ہوش میں آیا اسے نیچے اتارا ” تمہارا۔دماغ تو خراب نہیں ہے کیسے اتار رہی تھی گر جاتی کچھ ہوجاتا تو زمہ داری مجھ پر آجاتی بے واقوف !! سر جھٹکا مسہری کھینچ کر نیچے پھینک چکا تھا اسنے چپ چاپ اسے اٹھایا اور اسے دیکھنے لگی ” اس۔۔۔۔اسے کک۔۔۔کہاں رکھنا ہے ؟”
“ میرے سر پر رکھ دو ! اسنے غصے سے جواب دیا تو وہ اور ڈر گئی ” باہر پھینک آو ! اسکا دل ٹوٹ گیا تھا اسنے افسوس سے موگرے اور گلاب کے پھولوں کی مسہری کو دیکھا ہوگئے خواب چکنا چور لہنگا سنبھالتی وہ باہر آئی اور اسے کچن کی ڈاسٹ بین میں پھینک کر واپس آگئی ۔جہاں وہ فائلز بیڈ پر بکھیرے لیپ ٹاپ پر بزی تھا وہ ڈرتی اس سے پوچھ بھی نہیں رہی تھی کہ وہ کپڑے بدل لے یا نہیں میرا تو چہرا بھی نہیں دیکھا ابھی تک ہاں تو ہیر تو کونسی حور پری ہے جو تجھے دیکھتے ہی وہ فدا ہوجائیں گے ۔وہ چپ چاپ صوفے پر بیٹھ کر اسے دیکھنے لگی گھونگھٹ کی جالی سے اسکا چہرا ہر منظر سُرخ دکھائی دے رہا تھا ۔درمیانی جسامت لمبا قد ہلکی داڑھی گورا رنگ وہ کتنا خوبصورت تھا اور یہ میری قسمت ہے مگر کیا یہ سچ میں میر ی قسمت ہیں کہیں صرف اپنی دادی کا وعدہ تو پورا نہیں کررہے مجھے چھوڑ تو نہیں دیں گے نہیں میں ایسا کبھی نہیں ہونے دوں گی آپ چاہے جو مرضی کرلیں میں آپ کو کبھی نہیں چھوڑو گے آپ نے مجھے چھوڑ دیا تو بی بی بھی مرجائیں گی چاچی ساری عمر طعنے ماریں گی آپ مجھے نکال دیں گے تو میں کہاں جاو گی !! یہ اسنے دل۔میں سوچا تھا وہ یک ٹک اسے دیکھے جارہی تھی جب وہ اسکی جانب متوجہ ہوا ” ادھر آؤ ! سُرخ جالی سے وہ دیکھ سکتی تھی وہ اسے پاس آنے کا کہہ رہا تھا لہنگا سنبھالتی پائل کی آواز بکھیرتی اسکی جانب چلی دی ۔
بیٹھو !! لیپ ٹاپ کی سکرین کو گھورتے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ بستر پر بیٹھی پھر اچانک رُک گئی ” کک ۔کہاں ۔۔بب۔۔۔بیٹھو بستر پر ۔۔۔۔یا۔۔۔۔ننن۔نیچے !” اسکی بات پر اسی تھوڑی سی شرمندگی بھی ہوئی اتنا ڈرا دیا ” بستر پر بیٹھ جاؤ !” وہ بیٹھی تو اسنے ہاتھ بڑھا کر اسکا گھونگھٹ اُٹھا دیا درماینی براؤن شیڈ آنکھیں کاجل سے بھری پڑی تھی گولڈن شمر کا شیڈ انھیں اور بھی خوبصورت بنا رہا تھا ریڈ لِپسٹیک زدہ ہونٹوں کا احاطہ کیے ہوئے نتھ اسنے ایک نظر اسے دیکھا اور گھونگھٹ نیچے کردیا ” ہاں اچھی لگی جاؤ کپڑے بدلو !!! وہ دوبارہ لیپ ٹاپ پر بزی ہوگیا وہ افسوس کرتی جانے لگی تو جب وہ بولا ” سُنو مجھے صبحا آٹھ بجے پولیس سٹیشن جانا ہے ٹائم سے اُٹھ کر ناشتہ بنا دینا ساتھ والا روم خالی وہاں جاکر سو جاؤ اور دوبارہ اس کمرے میں مت انا ! اسے بنا دیکھے کمرے سے نکال چکا تھا وہ چپ چاپ ایک طرف چلی گئی وہ اپنے بیگ کی زپ کھول رہی تھی اسکی چوڑیاں کھن کھن کر رہی تھیں خاموشی میں شور ہورہا تھا اسنے اُکتا کر اسے دیکھے ” اے لڑکی پہلے یہ چوڑیاں اُتارو کیا شور مچا رکھا ہے !!! ” اسنے غصے میں کہا تھا اسنے سب سے پہلے جیولری اتارنی شروع کردی وہ جِلیوں کی طرح ایک ایک چوڑی آئینے کی سامنے اتار رہی تھی کسی گہری سوچ میں غرق آدھا گھنٹہ ہو چکاتھا اور وہ ابھی صرف دو درجن چوڑیاں اتار پائی تھی وہ غصے سے اسے دیکھ رہا تھا اچانک اُٹھ کر اسکے پاس کھینچ کر اسکا رُخ اپنی جانب کیا سب سے پہلے کھینچ اسکا دوپٹہ اُتار دیا جس سے اسکی بال بھی کھِنچ گئے تھے اسے درد ہوا تھا مگر اسکا ہاتھ ہاتھ اب اسکے گلے میں موجود ہار پر تھا وہ بے دردی سے اسکا ایک ایک زیور اُتار رہا تھا ۔ ” آؤٹ! چیخ کر کہا تو وہ سر سے پیر تک ہِل گئی ۔ اپنا بیگ کھینچتی وہ کمرے سے باہر چلی گئی پیچھے دروازہ ٹھک کر کے بجا تھا ۔ وہ روتی ہوئی دوسرے کمرے میں آئی تھی لائٹ آن کی وہ کمرا بھی اس جتنا ہی بڑا تھا مگر خاموش تھا اسنے اپنا بیگ کھولا کپڑے لیے اور بدلنے چلی گئی سادہ پنک کلر کی شلوار قمیض میں وہ بالوں کو جوڑے سے آزاد کرتی سلجھانے کی کوشش کر رہی تھی سانسیں کھینچ کر بھی نہیں آرہی تھی ۔۔۔اتنی پھوٹی قسمت تھی اسکی وہ کیا سوچا کرتی تھی کہ جب مرزا سے اسکی شادی ہوجائے گی تو چاچی کے طعنوں سے اسکی جان چھوٹ جائے گی وہ ہر بات پر یہ طعنہ نہیں سُنے کو ملے گا کہ وہ اپنے ماں باپ کو نگل گئی مگر جسے وہ سکون سمجھتی تھی وہ بھی بلکل ویسا ہی نکلا برش سینے سے لگائے وہ زارو قطار روتی نیچے بیٹھتی جارہی تھی اسکی قسمت ہی یہ تھی ذلالت بے عزتی ان پڑھ جاہل گنوار کا طعنہ ۔۔
ہر سانس پے اک احسان لیا۔۔۔
میں کیا ہوں یہ جان لیا۔۔۔۔۔
تیرا ہاتھ کا لکھا مان لیا۔۔۔۔
اے خدا یہ جان لیا۔۔۔۔
ماتھے پر پڑی رنجیر ہوں میں ۔۔۔
اپنی پھوٹی تقدیر ہوں میں
تقدیریں نی تقدیریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیرے ساتھ لڑائیاں کون کرے ۔۔۔۔
رب جانتا ہے اسکے ہوتے دنیا میں خدایا کون کرے ۔۔۔۔
آنسو صاف کرکے بستر میں گھُس گئی اسکے الفاظ اسکے کانوں میں گونج رہے تھے ” شکر کروں تم جیسی ان پڑھ جاہل گنوار سے میں نے نکاح کرلیا ورنہ وہیں جانوروں میں گھُسی ہوتی تم ۔۔۔۔۔۔” ہاں میری وجہ سے تھوڑے مرے ہیں تم ہی ایسی ہوگئی جو انھیں کھا گئی جیسے میری زندگی نگلنے آئی ہو ۔۔۔۔۔۔۔” اے لڑکی یہ چوڑیاں اتارو کیا شور مچا رکھا ہے ۔۔۔۔”وہ کمبل میں منہ دیے سسک رہی تھی مگر وہ ستم گر تو اپنے کمرے میں کام میں مصروف تھا یہ جانے بغیر کہ اس معصوم کو اندھیرے سے ڈر بھی لگتا ہے ۔رات کے تین بج رہے تھے موسم اچانک بہت خراب ہوگیا تھا بادل گرجدار آواز پیدا کررہے تھے کہ اچانک لائٹ بند ہوگئی جنریٹر آن کرنے وہ جانا نہیں چاہتا تھا کیونکہ لیپ ٹاپ تو کام کررہا تھا اچانک فون بجنے لگا اسنے مسکرا کر کان سے لگایا ” اسلام علیکم امی !”
“ واعلیکم اسلام میری جان نکاح مبارک سوری میں نہیں آ پائی تیرے نکاح میں تیرے ابا اب بھی بہت ناراض ہیں تجھ سے انھوں نے نہیں آنے دیا ۔۔۔۔”
کوئی بات نہیں امی اچھا ہوا نہیں آئی آپ کیسی ہیں اور فریحہ کیسی ہے ۔
“ ہاں ٹھیک آئی ہوئی ہے کچھ دن رہے گی ؟”
“ ہیں سچ میں ان کالوں سے میرا مطلب افریقہ کے ہوسپیٹل سے چھٹی مل گئی ڈیڑھ سال بعد !”
“ تجھے پتہ تو ہے خدمتِ خلق کا کتنا شوق ہے اسے ڈیڑھ سال بعد آج چہرا دیکھا مگر ٹھیک کمزور نہیں ہوئی تم کیسے ہو کھانا کھایا ہے زیادہ تو نہیں تھک گئے ؟”
“ نہیں امی کام کررہا تھا باہر موسم بہت خراب ہوگیا ہے اچانک اوپر سے لائٹ بھی چلی گئی مجھے لائٹ چاہیے نہیں تھی اسلیے جنریٹر بھی ان نہیں کیا .” فون کان اور کندھے کے درمیان اڑیسے وہ لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلا رہا تھا باہر بجلی کڑک رہی تھی ” ہیر کیسی ہے امی سے پتا چلا ہے وہ پڑھیں لکھی نہیں ہے تو ظاہری بات معصوم بھی ہوگی تمہارے ساتھ ہے نہ کہیں ڈر نہ جائے!” اسے تو اب یاد آیا تھا کہ آج یہاں ایک لڑکی بھی موجود ہے
……… جاری ہے ۔۔۔۔۔
