96.1K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

,ناول # مسلط
ازقلم# بنت اسلم
قسط نمبر #؛26
دہلیز پر میرے دل کی جو رکھے ہیں تو نے قدم ۔۔۔۔
تیرے نام پے میری زندگی لکھ دی میرے ہمدم۔۔۔۔۔۔۔
نہ سیکھا کبھی جینا جینا کیسے جینا ۔
امبر اور لائبہ زور زور سے عاطف اسلم کا ساتھ دیں رہی تھی گانے میں جیسے اسنے آدھے پیسے انھیں دینے تھے جوجو اور زی زی کانوں میں انگلیاں دے کر کھڑے تھے۔۔۔۔
آرہا ہوں میں زندگی آرہا ہوں میں ۔۔
کر لے مجھ سے دوستی زندگی آرہا ہوں میں ۔۔۔۔
ان دونوں نے کھینچ کر انھیں سیٹ پر بٹھایا جس پر انھوں نے گھور کر انھیں دیکھا تو وہ مسکرانے لگے ” تم دونوں کتنا اچھا گاتی ہو تم دونوں کو ٹی وی میں آنا چاہیے !! ذی ذی کی بات پر وہ دونوں ہنس دی تھیں ” شچی!!!
“ ہاں ایٹلیسٹ وہاں چینل بدلنے کی آپشن تو ہوتی ہے یہاں تو لائیو جیان جیسی آواز سنی پڑ رہی ہے !!”
امبر اور لائبہ دونوں نے گھور کر ان دونوں کو دیکھا جو کھسیانی ہنسی ہنس رہے تھے جب وہ دونوں پھر بولیں ” چوٹے !!” وہ دونوں کنفیوز انھیں دیکھنے لگے اب وہ ہنسنے لگی .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨……………
“ او تو یہ ہیں وہ تمام ڈیلرز جو آپ سے ڈرگز کی ڈیلنگ کرتے ہیں ۔” نعمان لیپ ٹاپ کہ سکرین پر مسٹر میتھیو کے ساتھ میٹنگ کررہا تھا اور باقی تمام ڈیلرز بھی جنہوں نے نعمان کے ڈریم ویلا میں انویسٹ کرنا تھا ۔” جی اور اب سے تم بھی ہمارے پارٹنر ہو ایم این اے نعمان شیرازی ؟
“ او تو مسٹر انور گیلانی صاحب بھی یہی ہیں وہاں ٹی وی پر تو نشے کے خلاف مہم چلا دی تھی اور یہاں خریدنے کے لیے پیسہ لگ رہا ہے ۔”
“ اب کیا کریں نعمان اب ان تنخواہوں سے پوری تھوڑی پڑتی کچھ اوپر کالا نیلا کرنا پڑتا ہے ۔”
“ تو آپ لوگ ڈریم ویلا انویسٹ کرنے جارہے ہیں اور مجھے پورا یقین ہے کہ ہمیں بہت منافع دے گا اتنا کہ جتنا کبھی کسی نے نہیں دیا ہوگا ڈریم ویلا ایک کلب ایک ہوٹل سب کا کام دے گا جہاں مسٹر میتھیو کی کمپنی کی ڈرگز ہوں گی اور وہ ایسا نشہ ہوگا جو ایک بارے کھانے کے بعد موت تک ساتھ نہیں چھوڑے گا لوگ جتنا ہوٹل میں کھائیں پئیں گے اتنی انھیں ڈرگز کی لت لگی گی یعنی وہ نشہ سلو پوئزن کی طرح رگوں میں اترے گا جو ایڈیکٹ کو سکون دے گا چیزوں کی ڈیمانڈ ہوگی اور ہم کوڑوں میں کھیلنے لگے اور نئی نسل تباہ ہوجائے گی اور ملک تباہی کے دہانے پر حکومت کے کرپٹ باشندے ملک کو دوسرے ممالک کا قرض دار کرتے رہیں گے ہم قرضے میں ڈوبتے جائیں گے اور پھر وہ ممالک ہم پر مسلط ہو جائیں گے کیونکہ اب اس ملک کی تباہ نسل تو اسکی ترقی کے لیے کچھ کر نہیں پائے گے اور ہم ان پر راج کریں گے ۔” نعمان کی شیطانی سوچ پر سب ہنس دیے تھے ۔بس ایک بار یہ ڈریم ویلا سٹارٹ ہو جائے !!” لیپ ٹاپ آف کرنے کے بعد اسنے علیم کو بلایا ” علیم یہ ڈریم ویلا پورا پرو جیکٹ ہے اس میں تمام انسویٹرز کے نام ہوٹل کے بلو پرنٹس سب کچھ ہے اور یہ فائل ان تمام ڈیلنگز کی ہے جو ہم نے کی ہیں انھیں سنبھال کر رکھنا کسی کے ہاتھ مت لگنے دینا ورنہ یہ پولیس پھر سر کھائے گی ۔”
علیم نے فائل پکڑی اور روم سے نکل گیا وہ اس فائل کو سب سے بچا نا چاہتا تھا مگر یہ فائل اسکی جان داؤ پر لگا دے گی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ یار تم دونوں کو دیکھ دیکھ کر میرا بھی دل کررہا ہے شیروانی پہن کر بیٹھ جاؤں تم دونوں کے ساتھ !! مرزا انگوری اور مہتاب بلیک کلر کی شیروانی میں صوفے پر بیٹھے تھے پورا مال گولڈن فلاور اور لائٹس سے سجا تھا جھنگ سیال کے تین باشندے ہیر کی قسمت دیکھنے آئے تھے چاچی اب بھی حقارت سے ہی سب دیکھ رہی تھی فاطمہ بی اور فہد خوش تھے کیونکہ فری انھیں ہنس کر ملی تھی اور ہیر بھی خوش تھی مگر حقیقت تو صرف جوڑے ہی جانتے تھے کہ خوشیاں کتنی نقلی ہیں . دائم نے آنے سے انکار کردیا تھا اسلیے امل بھی نہیں آئی تھی امبر اور لائبہ کے اکیڈمی میں ٹیسٹ سیشن تھا وہ بھی نہیں آئیں تھیں منال کا فوکس فلحال علیم تھا اسلیے وہ بھی نہیں آئی تھی ۔دانیال کریم کلر کے تھری پیس میں ملبوس انسے گلِے کر رہا تھا جب مرزا نے اسے کھینچ کر اپنے درمیان میں بیٹھایا “تو ایسے بیٹھ جا تو جو ہم اپنی بیویوں کے ساتھ کرناچاہتے ہیں تیرے ساتھ کرتے ہیں !مہتاب نے اسکے کمر میں ہاتھ ڈال لیا تھا اور مرزا اسکا ہاتھ پکڑے اسکی انگلیاں سہلا رہا تھا دانیال دونوں کو پیار سے دیکھ رہا تھا ” ہائے مرزا بڑا اچھا لگ رہا ہے ایسے !! مرزا کبھی اسکے گال چھو رہا تھا کبھی انگلیاں اور دانیال شرما رہا تھا جب سامنے نظر پڑی فری منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی اور پھر اسے دیکھتی وہاں سے چلی گئی ۔” فرحین ایسا کچھ نہیں ہے جیسا تم سوچ رہی ہو روکو!!! مرزا کے ہاتھ سے ہاتھ کھینچتا وہ فرحین کے پیچھے بھاگا تھا ۔وہ دونوں پیچھے لوٹ پوٹ ہوگئے تھے مرزا کی فیملی اسکا صدقہ اتارتی نہیں تھک رہی تھی ۔لیکن اندر دلہنوں کے زہن شل ہوئے پڑے تھے ہیر انگوری لہنگے میں بالوں کی بریڈ کو موتیوں سے سجائے میک اپ جیولری سی لدی بیٹھی تھی اور دماغ سے جنگ کررہی تھی ” یہ تو نے اچھا نہیں کیا ہیر کل بابو تیرے قریب آئے تو نے منع کردیا ہاں تو میری بھی عزت نفس تھی اور وہ کونسا مجھ سے پیار کرتے ہیں مگر پیار تو فکر ہوتی ہے نہ چاچی جلاتی تھیں مگر بابو زخم پر مرہم بھی رکھتے ہیں اور اس دن کتنا پریشان ہوگئے تھے جب میرا ہاتھ جلا تھا جب صوفے سے گری تھی جب کانچ لگا تھا جب کمر درد کا بتایا تھا تو دوائی بھی تو دی تھی گیس والا چولہا بھی لاکر دیا ٹی وی بھی نیا لگا لیا مجھے کچھ نہیں کہا اور دائم کے نکاح کی بعد کتنے اچھے بھی تو بن گئے تھے ہاں تو وہ میرے قریب صرف اس لیے آرہے تھے کہ انھیں لگا مجھے اسکی خواہش ہے یہ تو میری بے عزتی ہے نہ مگر شوہر کے قریب آنے پر کیسی بے عزتی وہ تو جسم و جان کا مالک ہوتا ہے میں ہوتی کون ہوں انھیں دور کرنے والی اور تو کتنا پیار کرتے ہے ان سے اب جب وہ کرنا چاہتے ہیں تو دور کر رہی ہے بس !!! آج بابو قریب آئے تو دور نہیں کرنا ۔”
نوشین افسردہ سا سراپا لیے آئینے کے سامنے بیٹھی تھی اور اسکے سرہانے آفتاب کی ماں بیٹھی تھی مہتاب کے والد نہیں تھے ایک والدہ تھیں ایک چھوٹا بھائی اور ایک چھوٹی بہن جنہوں نے نوشین کو تین سال بعد دیکھ کر خوش آمدید کہا تھا نوشین کی پوری کہانی مہتاب کی والدہ کو پتہ تھی مگر مہتاب کی خوشی کے لیے انھوں نے اسے قبول کرلیا تھا مگر نوشین ڈر رہی تھی ” خالہ تم مہتاب کو مناؤ نہ مجھے چھوڑ دے میں اچھی نہیں ہوں مجھے نہیں کرنی یہ شادی میں اسکے قابل نہیں ہوں پلیز خالہ !”
“ نہیں نوشین تین سال بعد میں نے مہتاب کو کھل کر ہنستے دیکھا ہے اسکی ہنسی میں نہیں چھین سکتی تمہیں یہ نکاح کرنا ہی ہوگا بس !!! اپنی بات کہہ کر وہ چلیں گئی پیچھے وہ پھر سوگواریت کا نشان بن گئی تھی .
سٹیج پر دولہے اپنی دلہنوں کا انتظار کر رہے تھے نوشین مہتاب کا نکاح ہوچکا تھا اسنے تو جیسے دنیا پا لی تھی اڑتا پھر رہا تھا اور مرزا آج ناجانے کیوں ہیر کو دیکھنے کے لیے مرا جارہا تھا ۔ وہ کیسی لگ رہی ہوگی اچھی ہی ہوگی اینجل تو اچھی ہی لگتی ہے اور جس لڑکی نے مجھے میری فیملی واپس کی ہو وہ اینجل کے علاوہ کچھ ہو ہی نہیں سکتی ! اسنے اشتیاق سے ایک ٹیبل پر بیٹھی ہیر اور اپنی فیملی کو دیکھا اسکا باپ آج بہت خوش تھا ۔کہ اچانک شور اٹھا ۔۔۔۔۔
کردوں خالی راستے ۔۔۔۔۔۔
کہ میرا محبوب قیامت بنا آرہا ہے ۔۔۔۔
نوشین نے گولڈن بلیک کلر کی میکسی پہنی تھی اور ہیر تو اپنے ہمسفر کے ہم رنگ تھی ہیر کو دیکھ مرزا کے دل کا جیسے بھول گیا تھا اسکا کام کیا ہے رُکے اسی دیکھنے میں مصروف تھے معصومیت کو حسن کا لبادہ پہنا کر اسکے پہلو میں لاکر بیٹھا دیا گیا تھا کسی کی بھی پرواہ کئے بغیر وہ اسے گھوری جارہا تھا اور وہ سر سرجھکائے بیٹھی تھی جب شاہدہ بی نے آواز لگائی ” مرزا !!”
“ دادی اینجل لگ رہی ہے !” پورا ہال اسکی بات پر ہنس دیا ۔اور وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا سر جھکا گیا ۔
نوشین اب بھی سوگ منا رہی تھی جب اسے اپنی کمر میں مہتاب کا ہاتھ محسوس ہوا جو اسکے کان کے قریب جھکا ” نوشین نکاح مبارک !”مگر نوشین نے بے دردی سے اسکا ہاتھ ہٹا دیا اور وہ اسے دیکھتا رہ گیا جو پیروں کو گھورے جارہی تھی ۔
مرزا ہیر کو جا بجا دیکھ رہا تھا ولیمے کی تمام رسم ہوچکی تھی مہمان اپنی خوش گپیوں میں تھے فری دانیال کے لیے جوس لینے آئی تھی جب چند عورتیں باتیں کرتی ملیں ” یہ تو وہیں لڑکی ہے نہ جسکا ریپ ہوا تھا میں نے نیوز میں دیکھا تھا اسکے کپڑے پھٹے ہوئے تھے ۔کیسے کھلے عام پھر رہی ہے اسے شرم نہیں آتی کہ عزت کھو چکی ہے اس سے شادی کون کرسکتا ہے ۔۔۔۔” انکی باتیں ناقابل برداشت تھیں جوس کا گلاس تھامے وہ ایک کونے میں جاکر اپنا غم۔غلط کرنے لگی ۔دانیال کافی دیر سے اسکا انتظار کررہا تھا آخر اسے تلاش کرنے لگا ایک کونے میں وہ دیوار کے ساتھ لگی اکیلی رو رہی تھی” فرحین کیا ہوا ؟”
” میری عزت سے چلی گئی اس سے برا کیا ہوسکتا میں لوگوں کے لیے موضوع گفتگو بن گئی اس سے برا کیا ہوسکتا ہے لوگوں کی نظر میں میرا یو اپنے گھر میں گھومنا بے شرمی ہوگیا اس سے برا کیا ہوسکتا ہے سب کچھ آپکی وجہ سے ۔۔”دانیال اسکی باتوں سے حیران رہ گیا تھا اسنے اسکا روتا چہرا ہاتھوں میں تھاما ” کسی نے کچھ کہا بتاؤ مجھے کس نے کہا؟”
“ سب کہہ رہے ہیں کتنوں کے منہ بن کروائیں گے سب کی نظر میں ہم جیسی لڑکیوں کی عزت ایک بار جاتی ہے تو کبھی واپس نہیں آتی ہم کبھی بھی اس دوغلے معاشرے میں سٹیبل لائف نہیں گزار سکتی کیوں کہ انکے اپنے اصول ہیں اپنے قائدے کسی کی تکلیف سے انھیں فرق نہیں پڑتا انھیں بس باتیں کرنی آتی ہیں !!” اسکے سینے سے لگ کر اسکی رونے کی رفتار اور تیز ہوگئی تھی ۔ دانیال کو اپنی دل کی دھڑکن کے ساتھ اسکی سسکیاں بھی سنائی دے رہی تھیں اسنے اسے خود سے دور کیا اور ہاتھ پکڑ کر سٹیج پر دونوں جوڑوں کے سامنے کھڑا ہوگیا اسنے ایک طائرانہ نظر مہمانوں پر ڈالی ” یہ فرحین ہے !! اسنے فری کو سب کے سامنے اپنے ساتھ لگایا تھا ” اور یہ وہی لڑکی ہے جسکا ریپ ہوا تھا یہ وہی لڑکی جسکی عزت آپ لوگوں نے چسکوں کے لیے ٹی وی پر نیلام کی ہے اور اب یہ فرحین دانیال آفتاب ہے انسپیکٹر دانیال آفتاب کی بیوی اور اگر اسے کسی نے بھی کچھ کہا یا کوئی بھی قیاس آرائی کی تو میں بھول جاؤ گا میں آپ لوگوں کا محافظ ہوں جس معاشرے میں میرے رشتوں میری بیوی کی اہمیت نہیں ایسے گھٹیا معاشرے سے مجھے سروکار نہیں دف ہے تم لوگوں کی پڑھی لکھی سوچ پر جو ایک حادثے کو کرید کرید کر ناسور بناتے ہیں دف ہے ہماری سوشل میڈیا پر جو ایک لڑکی کی عزت رکھنا نہیں جانتا صرف مزے لینے ہیں اسکے کپڑے کیسے پھٹے تھے وہ کہاں سے بے لباس تھی اسنے کہاں کہاں ہاتھ لگایا سب مزے لینے کے لیے جانا ہے تم لوگوں کو ایک ریپسٹ ایک بار زیادتی کرتا ہے اور ہمارا معاشرا اسے وہ سب یاد دلا کر ہر روز ریپ کرتا ہے اسکا اور ان میں سب سے زیادہ تعداد عورتوں کی ہوتی ہے ” فری نے افسوس کی نظر سے ان عورتوں کو دیکھا جو شرمندگی سے سر جھکا گئی تھیں ” شرم آتی ہے مجھے ان عورتوں کو عورت کہتے اپنی جنس کا درد نہیں سمجھتی تو مرد اسے کیا سمجھے گا جب تک ہمارے معاشرے میں عورت کمزور سمجھنے پیر کی جوتی سمجھنے کی سوچ مسلط رہے گی ریپ ہوتے رہیں گھریلو تشدد ہوتا رہے ہر لڑکی ان پڑھ رہے گی ۔۔۔۔۔۔لیکن اب اگر میری بیوی پر انگلی اٹھائی میں ہاتھ کاٹ دوں گا ۔” تمام مہمان اپنی ہی سوچ پر شرمسار ہوگئے تھے اسلیے کھسکنے لگے تھے مگر انکے جانے کا افسوس کسی کو بھی نہیں تھا دانیال نے مہتاب اور مرزا کو دیکھا ہو خود سنجیدہ تھے” سوری یار تم لوگوں کی تقریب خراب ہوگئی .”
“ انھیں شرمسار کرنا ضروری تھا ہمیں کوئی افسوس نہیں !!” ان سب کے درمیان سے وہ فری کو لے گیا تھا اسکے والدین بھی سر بلند کیے اسکے پیچھے چلے گئے تھے ۔ چاچا چاچی اور فاطمہ بی رات وہیں رک گئے تھے ہیر کو کمرے میں پہنچا دیا گیا تھا ۔وہ آج بھی سجی سنوری بیڈ پر بیٹھی دانیال کی باتوں سے اپنے ماضی میں کھوئی تھی جب وہ پہلی دفعہ سکول گئی تھی ا انگور آ سے آم ابھی تو یہی پڑھا تھا اور ماں باپ چلے گئے اور پھر جائیداد کی وارث ہیر کو چاچی نے ظلم کرکے اسکا منہ بند کر وا کر ان پڑھ رہنے دیا کہ کہیں وہ پڑھ لکھ گئی تو حق مانگنا اجائے گا اسے ہمارے معاشرے میں اکثر یتیم بچے کم تعلیم یافتہ اس وجہ سے بھی رہ جاتے ہیں کہ کہیں انھیں حق مانگنا نہ اجائے ۔۔وہ انھی سوچوں میں مبتلا تھی جب مرزا کمرے میں آیا وہ ایکدم ڈر گئی اور بیڈ سے اتر گئی آج پھر اسکی چوڑیاں کمرے کی خاموشی توڑ رہی تھیں ” ہیر وہ…”
“ اتارنے لگی ہوں چوڑیاں !!!! اسنے ڈرتے ڈرتے کہا اور تیزی سے آئینے کے سامنے چوڑیاں اتارنے لگی مرزا کو شادی کی پہلی رات اور شرمندگی نے ان گھیرا تھا اسے دانیال کی بات یاد آئی ” جب عورتیں اپنی ہم جنس کا درد نہیں سمجھتی تو مرد کیا سمجھیں گے چاچی نے کبھی اسکی تکلیف نہیں سمجھی تو میں نے شوہر ہوکر !!” اسنے نرمی سے اسکا ہاتھ تھاما ” ہیر !! اسکا رخ اپنی جانب کیا
” ایم سوری مطلب مجھے معاف کردو میں بہت شرمندہ ہوں میں سمجھ نہیں پایا کہ تمہیں کتنی تکلیف ہوتی ہو گی میرے روایے سے میں نے کبھی جاننے کی کوشش ہی نہیں کہ تم ان پڑھ کیوں رہ گئی کیا ہوا کیا نہیں ائم سوری !!” اور حیرت سے بس اسے دیکھ رہی تھی آج وہ کتنی نرمی سے بات کررہا تھا اس سے ” کیا تم مجھے معاف کردو گی میں نے تمہیں اتنی تکلیف دی سزائیں دیں اور تم نے پلٹ کر جواب نہیں دیا میری ہر بات مانی اسکے لیے شکریہ مجھے میرے گھر والے میری دادی میری امی ابو میری بہن سب واپس دینے کے لیے تھینک یو ! اسنے ایک دم اسے سینے سے لگا لیا تھا ہیر کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھی مرزا اسکا بابو اتنے پیار سے پیش آرہا تھا اس سے اسے اپنی دادی کی بات یاد آئی ” تیرا شہزادہ لاکھوں میں ایک ہوگا وہ تجھے ان سب سے دور لے جائے گا تجھے بہت پیار دے گا !” تو کیا شہزادہ آگیا تھا اسی سوچ کے تحت اسنے اسکی پشت پر ہاتھ باندھ لیے تھے سب ٹھیک ہوگیا تھا۔کافی دیر اسی طرح گزر گئے تھے پھر آرام سے اس سے الگ ہوا ” تم نے مجھے معاف کردیا نہ ؟” جس پر اسنے اثبات میں سر ہلایا مرزا گہرا سانس لیکر اس سے دور ہوگیا اسکے دل سے بوجھ اتر گیا اسنے ہیر سے اپنے کیے کی معافی مانگ لی تھی ۔الماری سے کپڑے نکالے اور واشروم میں چلا گیا تو وہ ابھی بھی اپنے زیورات اتار رہی تھی لیپ ٹاپ پکڑتا وہ پھر سے کام میں بزی ہوگیا تھا جب وہ کپڑے بدل کر باہر آئی سادہ سے حلیے میں وہ زیادہ اچھی لگتی تھی ۔مرزا نے ایک نظر پھر اسے دیکھا جسکے چہرے پر آج چمک تھی مسکان تھی خوشی تھی اسنے دوبارہ لیپ ٹاپ پر سر جھکا لیا جب ایک خیال دل میں آیا ہیر کی بات یاد آئی ” چاچی سہی کہتی تھی میں کسی کی محبت کے لائق ہی نہیں ہوں مجھ سے کبھی کوئی محبت نہیں کرتا ۔”اسنے ایک نظر ہیر کی جانب دیکھا کتنی تکلیفیں دیں تھیں اسے کیا اسکا محبت پر کوئی حق نہیں کیا اسکا مجھ پر کوئی حق نہیں !! اسنے لیٹ ٹاپ شٹ ڈاؤن کیا اور اسکی جانب چل دیا ۔ ہیر کو اچانک اپنی کمر کے گرد کچھ محسوس ہوا اسنے آئنے میں دیکھا تو وہ اسکی گردن سے بال پیچھے ہٹاتا اسکی گردن پر جھکتا جارہا تھا ۔وہ جانتی تھی وہ کیا چاہتے ہیں اسے اپنی بات یاد تھی ” آج بابو قریب آئے تو دور نہیں کرنا بس !!” اپنی گردن پر اسکا لمس پاکر وہ اس میں ہی سمٹ سی گئی تھی مگر ایک مسکراہٹ ہونٹوں کو چھوئے جارہی تھی ۔اسکا سفر گردن سے ہوتا بازو سے گزرتا ہاتھوں تک گیا تھا اسکی ہاتھوں کی انگلیوں میں انگلیاں پھنسائے ان پر اپنا لمس چھوڑ رہا تھا ۔ ہیر نے چہرا اسکی جانب اٹھایا تو وہ جزبات سے لبریز آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا جسے دیکھ کر وہ نظریں جھکا گئی مرزا اسکی اس ادا پر مسکرا دیا تھا اسکا چہرا ہاتھوں میں تھاما کر اوپر اٹھایا ” تم بہت کیوٹ ہو کیوٹ یعنی بہت پیاری ! اسکے ماتھے کو محبت سے چھوا ایک جھٹکے سے اسے باہوں میں اٹھا لیا ” ہیر تم بہت اچھی ہو بہت زیادہ اتنی کے جتنی کوئی پڑھہ لکھی نہیں ہوسکتی تمہیں تمہارا ہر حق ملے گا تمہارے حصے کی محبت ضرور ملے گی ۔” اسے بیڈ پر لٹائے وہ اس پر جھک گیا جب اسنے اس سے سوال کیا ” آپکو مجھ سے محبت ہوگئی؟” اس سوال پر وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر اسکے ہونٹوں پر جھک گیا ہیر نے بھی یہ سوچ کر اسکی گردن کے گرد ہاتھ باندھ لیے تھے کہ ” محبت ہوگئی ہوگی تبھی تو قریب آئے ہیں ورنہ کیوں آتے ؟” مرزا نے ہاتھ بڑھا کر لائٹ آف کردی تھی گزرتی رات کے ساتھ ہیر مرزا کی ہوتی جارہی تھی مرزا نے اس سے کہا تھا کہ وہ اسے اسکا ہر حق دے گا لیکن یہ نہیں کہا تھا کہ اس سے محبت کرتا ہے اور یہی ایک جزبہ انکی دوری کا موجد بنا تھا ۔ موسم اچانک خراب ہوگیا تھا بادل زور و شور سے گرجنے چمکنے لگے تھے تیز بارش ہوگئ تھی جسنے پورے لاہور کو لپیٹ میں لے لیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فری دانیال جب واپس آئے تھے تو امبر لائبہ ڈور لاکڈ کرکے سو چکی تھیں اسلیے آج فری اپنے ہی کمرے میں تھی وہ بیڈ پر لیٹی صوفے کو ہی گھورے جارہی تھی جہاں وہ بھی چھت کو ہی گھور رہا تھا اسے اسکی ایک ایک بات یاد تھی ” یہ فرحین ہے ۔۔یہ میری بیوی ہے
۔۔۔۔جہاں میری بیوی کی اہمیت نہیں ایسے معاشرے سے مجھے سروکار نہیں ہے ..۔۔۔ ” باہر بارش نے پانی پانی کیا ہوا تھا بادل گرج۔رہے تھے اور فری کو ڈر لگ رہا تھا اسلیے اسنے دانیال کو بلایا ” کوپ !
ہمم!! اسنے اسکی جانب کروٹ لیکر پوچھا “بب۔۔بیڈ پر آجائیں مجھے اکیلے ڈرلگ رہا ہے ۔” دانیال نے ایک نظر اسکے کمبل میں چھپے وجود کو دیکھا اور پھر موسم کو اور پھر سیدھا لیٹ گیا ” اور اگر کوپ بیڈ پر آگیا تو کوپ کو اپنے آپ سے ڈر لگے گا ” بادل پھر زور سے گرجا اسنے منہ کمبل میں دے لیا تھا ” آجائیں نہ پلیز !!” دانیال آٹھ کر بالکونی میں ہی آگیا تھا بارش بادل کا شور اور زیادہ سننے تاکہ اسے فری کی آواز نہ آئے وہ بہکنا نہیں چاہتا وہ غلطی نہیں کرنا چاہتا تھا ڈھنڈے پانی کی بوندیں اس سے ٹکرا کر زمین بوس ہوتی جارہی تھی جب اسے اپنی کمر کے گر کچھ نرم محسوس ہوا وہ اسکے ساتھ چپکی کھڑی تھی ” ائم سوری میں جانتی ہوں آپ مجھ سے ناراض ہو میں نے جو کچھ بھی کہا آپکو ہرٹ کیا کبھی شیشے سے تو کبھی فضول بکواس کی تو کبھی اس انسان کی حیوانیت بتا کر ستایا سوری آپ بہت اچھے ہیں میں غلط تھی مجھے لگتا تھا آپ صرف مجھے ہمدردی کے لیے رکھ رہے ہو آپکو مجھ سے کوئی غرض نہیں مجھے لگتا تھا دادی امی ابو نے آپکو مجھ پر زبردستی مسلط کردیا اسلیے کرتی تھی وہ۔۔۔۔سس۔۔۔سب مگر آج آپ نے سب کے سامنے مجھے قبول کیا سب ۔۔۔۔۔۔۔سب کو ٹھکرا کر آپ بہت اچھے ہیں سوری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔” بات ختم ہونے تک اسکے جسم۔میں ٹھنڈ سے کپکپی طاری ہوگئی تھی جو دانیال کو واضع محسوس ہورہی تھی۔ اسنے رخ اسکی جانب کیا جو بھیگ رہی تھی جسکے ہونٹ تک کانپ رہے تھے ” فرحین اندر جاؤ ٹھنڈ لگ جائے گی”
“ نن۔۔نہیں پہلے آپ میرے ۔۔۔۔میرے ساتھ چلیں !!! اپنے بازو گرد لپیٹے وہ وہیں ضد پر اڑ گئی تھی ” اچھا ٹھیک ہے کپڑے بدلو میں آتا ہوں !” اثبات میں سر ہلاتی وہ اندر کی جانب چلی گئی کپڑے بدلے اور بیڈ پر جاکرلیٹ گئی وہ کافی دیر اسکا انتظار کرتی رہی مگر وہ نہیں آیا ” نہیں آئے نہ مجھے پتہ تھا وہ مجھ سے پیار تھوڑی کرتے وہ تو بس فکر تھی ہمدردی تھی اور ۔۔۔۔” اچانک کمبل میں حرکت ہوئی اسنے چہرا موڑا تو وہ لیٹنے کی تیاری کر رہی تھا اچھا تو وہ کپڑے بدل رہا تھا اسکے چہرے پر مسکان اگئی تھی ” فرحین سو جائیں !! تکیے پر سر رکھے وہ آنکھیں بند کرتا اسے بھی سونے کو کہہ رہا تھا ۔اسنے رخ موڑا اور سر اسکے سینے پر رکھ لیا دانیال نے بھی اسکے گرد حصار باندھ لیا تھا ” کوپ آپ بہت اچھے ہیں ناؤ یو کین کال می فری !” آنکھیں بند کیے اسکے چہرے پر مسکان اگئی تھی ” فرحین سوجائیں !”
فری بولیں نہ فرحین نہیں !!! لیکن دانیال کے ذہن میں اسکے کہے الفاظ گونج رہے تھے ” میرا نام فرحین ہے فری مجھے میرے اپنے کہتے ہیں تو کیا میں فری کا اپنا بن گیا ؟ یہ سوال پوچھ کر وہ بیتی باتیں یاد نہیں کرنا چاہتا تھا جب اچانک اسکی انگلیاں اسے اپنے چہرے پر محسوس ہوئیں اسنے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا ” آپ بہت کیوٹ ہیں !” دانیال نے ماتھے پر مصنوعی بل لاکر اسے دیکھا ” سوجاؤ ! جس سے وہ گھبرا کر آنکھیں بند کرگئی دانیال نے نرمی سے اسکے ماتھے کو چھوا اور آنکھیں موند گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے