96.1K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

ناول # مسلط
ازقلم # بنت اسلم
قسط نمبر 17
ارمان شیرازی اپنے کمرے میں بیٹھا تھا اس دن کے بعد سے وہ اپنی نارمل زندگی عیاشی سے کٹ کررہ گیا تھا اسکے سر پر بس ایک ہی جنون سوار تھا اور وہ تھا دانیال کی موت اسے اسکو موت کی گھاٹ اتارنا تھا اب تو وہ ڈیوٹی پر بحال بھی ہوگیا تھا نعمان نے بھی ارمان کو اسکی وجہ سے مارا تھا اسکے بڑے بھائی نے خود جو مرضی کرتا پھِرے پر جب میں کچھ کروں تو غلط نعمان بھائی نے ہمیشہ میرے ساتھ ایسا ہی کیا ہے !!! اسکی انکھوں کے سامنے پروجیکٹر پر کسی کی فیملی پکچر چل رہی تھی جو چوری بنوائی گئی تھی جوجو اور زی زی ارمان سے ملنے اسکے کمرے میں آئے کہ پروجیکٹر پر چلتی پکچر دیکھ کر رُک گئی ” سر یہ دانیال آفتاب کی فیملی ہیں یہ اسکی مدد جو نارمل ہاؤس وائف ہیں یہ اسکا باپ جو ایک بزنس مین ہے کپڑے کا کاروبار کرتا ہے یہ اسکی دو چھوٹی بہنیں ہیں جو کالج جاتی ہیں !! امبر اور لائبہ کی تصویر دیکھ کر جوجو زی زی نے ایک دوسرے کو دیکھا ” بہت گرمی ہے نہ اسکے خون میں بہت مارا تھا سالے نے مجھے اب اسکے تڑپنے کی باری اٹھا لو اسکی بہنوں کو اور چھوڑ آو کسی کوٹھے پر !!! ارمان کی بات سن کر جوجو زی زی کے دل کو کچھ ہوا تھا پر وہ نظر انداز کرگئے پھر ایک پلین ذہن میں بنایا اور جوجو ارمان سے مخاطب ہوگیا ” اور اگر ماموں یہ لڑکیاں اپنی مرضی سے یہاں آجائیں تو !” ارمان نے سگریٹ دانتوں تلے دبا کر انھیں دیکھا اور بھنویں آچکا دی ” ہم لائیں گے ہمارے ساتھ پڑھتی ہیں آپکو دانیال سے بدلہ لینا ہے ہم آپکی مدد کریں گے !!!
“ مطلب تم دونوں انھیں ٹریپ کرو گے !! جس پر انھوں نے اثبات میں سر ہلا دیا ” تو ٹھیک ہے کرو تو میں تم دونوں کو گنز گفٹ کروں گا !!! ان دونوں کی آنکھوں میں چمک اتر آئی تھی مگر بچپنے کی حد میں جوجو یہ نہیں جانتا تھا کہ سچائی پتہ لگنے پر امبر دنیا سے ہر رشتہ توڑ جائے گی اور نہ ہی زی زی کے لائبہ اپنا آپ بھول جائے گے ہائی فائیو کرتے وہ ان دونوں کو ٹریپ کرنے کے منصوبے بنانے کے لیے چلے گئے پیچھے ارمان کی چہرے پر شیطانی مسکراہٹ آگئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماضی
نعمان کو چھوڑ کر آئے اسے ایک مہینہ ہوگیا تھا اور اس ایک مہینے میں وہ اپنی طبعیت سے بہت بیزار تھی قے متلی چکر زرد رنگ وہ اپنی حالت سے ڈر رہی تھی آج بھی وہ اپنے روم میں ہی بند تھی اسکی روم میٹ اسکی مِنتیں کررہی تھی کہ وہ اسکے ساتھ مال چلے مگر وہ انکار کرتی جارہی تھی ” فریحہ پلیز یار تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں ہے صرف اس وجہ سے سارا دن کمرے میں پڑی رہتی ہو تھوڑا گھومو پھیرو مائنڈ چینج ہوجائے گا !!!” اسکی بات سن کر وہ کچھ پل اسے دیکھتی رہی پھر کچھ سوچ کر اُٹھ گئی مال میں بُجھے بُجھے دل کے ساتھ چیزیں دیکھ رہی تھی پھر روم میٹ سے نظریں بچا کر اسنے کِٹ خریدی بیگ میں چھپائی آگے بڑھنے لگی تو ایک سیلز مین کا پیچھے سے اسے دیکھا لگ گیا اس سے پہلے وہ گرتی کسرتی سینے سے جاٹکرائی اسنے نظر اٹھا کر دیکھا تو وہ خونخوار نظروں سے سیلز مین کو دیکھ رہا تھا جو ہڑبڑا رہا تھا ” سوری سر !
“ Are you blind can’t you see my wife is standing over there?
Sorry sir I didn’t see her !!!
مگر نعمان نے اسے پیٹنا شروع کردیا تھا وہ اس سے اپنی جان بخشی چاہ رہا تھا پورے مال کی توجہ کا مرکز وہ دونوں بن گئے تھے جب فریحہ نے اسے بازو سے کھینچ کر اپنی جانب کیا ” جانور ہو تم ؟ میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی ہو تم مجھے نفرت ہے تم سے خدا کرے آج یا تو میں مرجاؤ یا تم مر جاو !!!! اسے دھکا دیتی وہ وہاں سے چلی گئی تھی نعمان نے بھی اسے روکنے کی کوشش نہیں کی تھی محبت کو ثابت کرنے کے لیے وہ اس سے خود دور ضرور کر چکا تھا مگر سایے کی طرح اسکے پیچھے بھی تھا اسکی ناساز طبیعت کے بارے میں بھی وہ جانتا تھا اور من ہی من دعا کررہا تھا کہ کاش کوئی خوشی آجائے !!!
ہوسٹل واپس آکر اسنے سوالات سے بچنے کے لیے خود کو روم میں لاک کرلیا تھا کافی دیر رونے کی بعد اسے جیسے یاد آیا تو بیگ کھنگالا کِٹ نکالی اور ٹیسٹ کرنے چلی گئی وہی ہوا جسکا ڈر تھا وہ امید سے تھی نعمان کی اولاد اسکے پاس تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے خوش ہو یا افسردہ اسی پریشانی میں اسکا سر درد کرنے لگا تھا وہ بڑبڑانے لگی تھی ” بچہ !!! یہ۔۔۔۔یہ نہیں ہونا ہوسکتا میرا فیوچر میرا گول سب داؤ پر لگ جائے گا اس بچے کی وجہ سے اور ۔۔۔اور گھر پر کیسے ثابت کروں گی یہ جائز ہے اسکا باپ نعمان شیرازی ہے اسنے مانے سے انکار کردیا تو !!! اسنے فورا سے فون ڈھونڈا کانپتے ہاتھوں سے اسکا نن۔۔۔۔نمبر ملایا جو مصروف انداز سے اٹھا لیا گیا ” ہ۔۔۔ہیلو نعمان ! فریحہ کی آواز سن کر اسے جیسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا اسنے فورا نمبر دیکھا ” ہیلو فریحہ کیا ہوا اتنا ڈری ہوئی کیوں ہو !!!
“ نعمان مجھے تم سے ملنا پلیز مجھے ملنا ہے !!! اسکی تو جیسی عید ہوگئی تھی ” میں آرہا ہوں !!! فائل علیم کی منہ پر مار کر وہ بھاگ نکلا تھا “سر !!
“ فریحہ نے بلایا ہے !!! چیختا دوڑتا سیڑھیاں اتر رہا تھا پیچھے علیم مسکرا دیا تھا ۔
وہ سٹئیرنک پر انگلیاں بجا رہا تھا جب وہ اسے آتی دکھائی دی وہ ایکدم نیچے اترا گرے تھری پیس بلیک شوز جیل سے سیٹل بال اور باریک مسکراتے ہونٹ فریحہ کے دل نے ایک دھڑکن تو ضرور چھوڑی ہوگئی اسکی سائیڈ کا دروازے کھولے وہ باوقار انداز سے کھڑا تھا بنا اس پر دوسری نظر ڈالے وہ گاڑی میں بیٹھ گئی وہ گاڑی میں بیٹھا اور چہک کر اسے دیکھا” آئی نیو اِٹ تم بھی مجھ سے اتنا ہی پیار کرتی ہو جتنا میں کرتا ہو تم رہ ہی نہیں سکتی میرے بغیر تم فکر مت کرو میں مرزا کو خود منا۔۔۔۔۔۔”
“ کہیں اور چل کر باتیں کریں !!! ونڈو سے باہر دیکھتے وہ بس اتنا ہی بولی تھی نعمان کے ہونٹ سُکڑ گئے تھے ۔کچھ دیر بعد وہ کسی ریسٹورینٹ میں موجود تھے اور وہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا جسے سمجھ نے آرہی تھی کہ بات شروع کیسے کرے ” فریحہ کیا بات ہے !!!اسنے نظر اٹھا کر اسے دیکھا پھر نظر جھکا لی ” نن۔۔نعمان میں۔۔۔۔۔میں پریگننٹ ہوں !!! اسکی بات پر وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر اچانک اٹھ کر چلا گیا فریحہ نے زور سے مکا ٹیبل پر مارا ” مجھے پتہ تھا یہ کبھی ایکسیپٹ نہیں کرے گا اب آکر کہے گا ابوشن کروا دو مجھے نہیں چاہیے یہ بچہ ہاں تو مجھے بھی نہیں چاہیے میں کیوں ایک اولاد کی زمہ داری ابھی سے خود پر مسلط کرلو میرا کردار سوالیہ نشان بن جائے گا میرا فیوچر گول سب تو ٹھیک ہے نعمان شیرازی اگر تمہیں یہ بچہ نہیں چاہیے تو میں بھی اس جنجال میں نہیں پڑوں گی !!! وہ اٹھنے لگی کہ وہ دوبارہ آکر بیٹھ گیا مسکرا کر اسے دیکھا اور نظریں جھکا گیا اسکے انداز سے وہ الجھ سی گئی تھی کہ کچھ دیر بعد ریسٹورینٹ کا پورا سٹاف اسے گلاب کے پھول دینے لگا تھا آرکیسٹرا بہت ہی خوبصورت رومینٹک دُھن بجانے لگا تھا ڈھیروں غبارے اسکے ارگرد اُڑنے لگے تھے سب اسے مبارک باد دے رہے تھے نعمان اپنی کرسی سے اٹھا اسکا ہاتھ تھاما اور ریسٹورینٹ کے بیچ و بیچ لے آیا اور گھٹنوں کے بل ہوگیا ” تھینک یو تھینک سو مچ مائے لو وہ گیونگ میں دی موسٹ بیوٹی فُل نیوز آف مائی لائف دیٹ آئی ایم گوئینگ ٹو بی فادر ویری سون !!! پورے ریسٹورینٹ میں ہوٹنگ اور تالیاں بج رہی تھی مگر فریحہ خوش نہیں تھی کہ نعمان شیرازی ایک کریمنل نے اس بچے کو ایکسیپٹ کرلیا ” تم نے مجھے وہ خبر دی ہے جس سے بڑھ کر شاید اس دنیا میں کوئی خبر ہوگی میں نے سوچا بھی نہیں تھا اللہ پاک اتنی جلدی مجھ پر رحم کردیں گے مجھے اولاد جیسی نعمت سے نواز دیں گے اور یہ سب تمہادی وجہ سے ہوا ہے جب سے تم میری زندگی میں آئی ہو تب سے بس کامیابی ہی کامیابی مل رہی ہے میری ہر ڈیلنگ بغیر کسی پرابلم کے ہوتی جارہی ہے میرا بینک بیلنس انکریز ہوتا جارہا ہے اور آج میری لائف میں ایک میمبر بھی انکریز ہوگیا آئی لو یو سو مچ !!! اسکے ماتھے پر بوسہ دینے کے بعد وہ اسے زور سے گلے لگا گیا تھا مگر فریحہ کے دماغ میں طوفان آیا پڑا تھا ” نہیں نعمان مجھے یہ بچہ نہیں چاہیے یہ مجھے وہ وقت یاد دلائے گا جب تم نے میرا یقین جیت کر میرے جذبات کے ساتھ کھیلا تھا نو!! وہ آزاد ہونے کے لیے مچلنے لگی تو اسنے چھوڑ دیا باقی سب کو اپنا کام کرنے کا کہہ کر وہ خود بھی ٹیبل پر آگئے تھے جہاں بڑا سا چاکلیٹ کیک پڑا تھا اسکی پُشت کو سینے سے لگائے ایک ہاتھ اسکے گرد باندھے دوسرے ہاتھ سے اسکا ہاتھ پکڑے وہ کیک پر چُھری چلا رہا تھا کیک کھانے کے بعد وہ ٹیبل پر بیٹھ کر اسے دیکھنے لگا جسکے چہرے پر حیا کی لالی کے ساتھ پریشانی بھی تھی ” فریحہ کوئی پرابلم ہے ڈاکٹر نے کیا کہا کوئی کامپلیکیشن ہے تم نے چیک اپ کروا ابھی چلیں یا میں ڈاکٹر کو فلیٹ میں۔۔۔۔
“ نعمان مجھے بچہ نہیں چاہیے !!!فریحہ کے ہاتھوں پر نعمان کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی تھی چہکتا چہرا اُتر گیا تھا وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگا ” ائم سوری نعمان بٹ آئی ڈونٹ وانٹ دِس بے بی مجھے نہیں چاہیے ابھی میں اسکی کئیر کرنے کے لیے اسے سنبھالنے کے لیے تیار نہیں ہوں میں نہیں کرپاو گی !!!”
“ تو تم اکیلی کیوں سنبھالو گی ہم مل کر سنبھالنے گے ہم کل ہی پاکستان جائیں گے مرزا اور میرے درمیان جو ایشوز ہیں وہ میں کلئیر کرلوں گا !!
” بھائی جان لے لیں گے میری میں تو اس منحوس گھڑی کو کوس رہی ہوں جس دن میں میں اس کلب میں گئی تھی آپ سے ملی تھی نکاح کے لیے ہاں کیا تھا آپ پر۔ یقین کرکے اپنا آپ سونپ دیا تھا ۔” اسکا ایک ایک لفظ نعمان کو دل پر وار کرتا محسوس ہورہاتھا اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ کیا کہے ہاں وہ گینگسٹر تھا ہاں وہ غدار تھا ہاں اسنے کئی جانوں کا سودہ کیا تھا ہاں اسنے جوان نسل کو نشے کی لت پر لگایا تھا ہاں وہ اپنے ملک کی جڑیں کاٹ رہا تھا مگر وہ فریحہ کے معاملے میں سچا تھا وہ محبت کرتا تھا اس سے اور اب بچے کی خبر کی بعد تو فریحہ کو چھوڑنے کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کیا یہ اسکی گناہوں کی سزا تھی کہ اسکی بیوی اسکی آنے والی اولاد کو دنیا میں ہی نہیں لانا چاہتی تھی کہیں سے کسی سسکتی ماں کی آواز آئی ” مر جائیں انکی اولادیں جو ہمارے بچوں کے قاتل ہیں !! اسکا دل دہل گیا تھا” نہیں ! دیکھو شادی جن حالات میں بھی ہوئی مگر میں تو سچ میں محبت کرتا ہوں تمہیں قبول کررہا ہوں اپنے بچے کو قبول کررہا ہوں تو کیا مسئلہ ہے !”
“ مسئلہ تم ہو تمہارا کردار ہے تمہاری میرے بھائی سے دشمنی ہے تم ایک کریمنل ہو اور کریمنلز کی فیملیز نہیں ہوتی اسلیے میں ابوشن کروانے والی ہوں میں نہیں چاہتی تمہارے کردارکا سایہ اس معصوم جان پر پڑے کل کو اسے کوئی پکار کر یہ کہیے کہ تمہارا باپ مجرم تھا قاتل تھا غدار تھا !!!
“ کیسی ماں ہو تم کتنی آسانی سے تم نے اس معموم جان کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا میں باپ ہوکر یہ نہیں سوچ سکتا ٹھیک ہے تمہیں بچہ نہیں چاہیے نہ تو ایک ڈیل کرتے ہیں نو ماہ صرف اتنا وقت فریحہ نعمان شیرازی بن کر گزار لو پھر میں تمہیں آزاد کردوں گا میرے لیے میں اور میرا بچہ بہت ہونگے بولو منظور ہے !!! فریحہ نے حیرت سے اسے دیکھا ” اس کنڈیشن میں اپنی فیملی کے پاس تو میں جا نہیں سکتی تو ٹھیک صرف نو مہینے اسکے بعد سب ختم !!! اپنا فیصلہ سناتی وہ اٹھ کر چلی گئی تھی اور پیچھے وہ ٹیبل پر سر رکھے اسے جاتا دیکھا رہا تھا ۔۔۔
تو جاتا ہے تو بے ساختہ میری آنکھیں ۔۔۔
ہاتھوں کی لکیروں سے الجھ جاتی ہیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرزا گھر واپس آیا تو ہمیشہ کی طرح ہیر اسکا انتظار کررہی تھی صبح ناشتے پر بھی وہ اسکا سامنا نہیں کرپائی تھی اور اب بھی وہ شرمندہ کھڑی تھی جو کل رات ہوا تھا اس وجہ سے کیسے وہ اتنے کرخ لہجے میں بول گئی اسے دیکھ کر مرزا کے غصے کو اُبال آگیا تھا غصے سے نوچنے کے انداز سے وہ شوز اتار رہاتھا جب وہ پانی لیکر آئی جو اسنے نظر انداز کردیا مگر وہ لیے کھڑی رہی بغیر کچھ بولے پھر آخر وہ اکتا کر بولا ” لاو میرے سر پر ڈال دو جو تمہارے کزن نے میرا دماغ گرم کیا ہے ہوسکتا ٹھنڈا ہوجائے !!! وہ کہیں کا غصہ کہیں نکال رہا تھا وہ سہم کر پیچھے ہوگئی ” کک۔۔۔کون کزن !
“ ہمم کون کزن تمہارا عاشق اور کون جانتی کیا کیا اسنے امل کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی ہے !!! ہیر کے ہاتھ سے گلاس نیچے گر گیا تھا وہ شاک ہوگئی تھی ” نن۔۔۔۔نہیں ایسا نہیں ہوسکتا آپکو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے دائم ایسا نہیں کرسکتا !!!!”
“ واہ کیا جوڑی ہے نہ تم دونوں کی وہ کہتا ہیر کو کچھ مت کرنا وہ دُکھوں کی ماری ہے اور تم کہتی ہو وہ ایسا نہیں کرسکتا وہ پاکباز ہے کتنے اچھے سے جانتے ہو تم دونوں ایک دوسرے کو تو میں کیا کررہا ہوں بیچ میں !! اسکا بازو دبوچتا ایک دم وہ اسے اپنے قریب کرگیا تھا جیسے حق جتا رہا ہو کہ تم تو میری ہو اسکا نام کیوں لے رہی ہو آنسوں سے بھری شکواہ کنا اسے دیکھ رہی تھیں ” بب۔۔بابو دائم میرا چھوٹا بھائی ہے میں اسے اچھے سے جانتی ہوں مجھے نہیں پتا آپکو کیا غلط فہمی ہوئی مگر دائم نے آج تک مجھے کبھی غلط نظر سے نہیں دیکھا اور مجھے ۔۔۔۔یی۔۔۔یقین ہے وہ ایسا کبھی نہیں کرسکتا ! اسکی بات سن کر اسکا غصہ اور بڑھ گیا تھا اسنے بازو پر گرفت اور مضبوط کردی تھی ” تو ٹھیک تمہارے یقین پر یقین کرلیتے ہیں تو امل جھوٹ بول رہی ہے !!! ہیر نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا ” ہاں وہ لڑکی امل ہے وہی بنی ہے اسکی حوس کا نشانہ ! وہ اسکا چہرا دیکھتی رہ گئی تھی پھر ہمت کرے بولی ” وو۔۔وہ جھوٹ بول رہی ہے دائ۔۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے وہ اسکا نام لیتی اسنے اسکے بال پکڑ لیے تھے آہ!!!
بہت یقین ہے اپنے دائم پر تو یہاں کیا کررہی ہو وہیں چھوڑ کر آو تمہیں نکلو یہاں سے جاؤ اسکے پاس !!! وہ کھینچنے لگا تھا ” بابو ایسا کچھ مت کریں مجھے گھر سے مت نکالیں ممم۔۔۔۔۔میں دائم کا نام نہیں لوں گی !!! مگر اسے باہر نکالنے کے بعد اسنے منہ پر ہی دروازہ بند کردیا تھا ” دروازہ کھولیں بابو مجھے معاف کردیں میں اب دائم کا نام نہیں لوں دروازہ کھولیں !!! وہ وہیں نیچے بیٹھتی جارہی تھی اور وہ خود کمرے میں جاچکا تھا جب انسان کے دماغ پر غصہ سوار ہو تو اسکی تمام حسیات معطل کردیتا ہے وہ کمرے میں بھی غصے میں پھنک رہا تھا وہ باہر دوہایاں دے رہی تھی مگر وہ انگلیاں کان میں ٹھونس کر بیٹھا تھا ۔ گزرتی رات کے ساتھ ہوا میں خنکی بڑھتی جارہی تھی وہ کبھی اپنے بازو اپنے گرد لپیٹتی تو کبھی شفون کا دوپٹہ کبھی گھٹنے سینے سے لگاتی گھٹنوں میں سر دیے بچپن کا ایک منظر آنکھوں کے سامنے آگیا ” چاچی میں کچھ نہیں بتاؤ گی دادی کو مجھے وہاں مت چھوڑ کر آئیں !! سات سال کی ہیر کو رات کے گھپ اندھیرے میں اسکی چاچی فصلوں میں لے جارہی تھی ” رات تجھے گیڈر کھائیں گے تو تو چغلی لگانے کے قابل ہی نہیں رہے گی !!” کماد ( گنے کی فصل ) کے بیچ و بیچ اسے کھڑا کرنے کے بعد وہ جانے لگی جب وہ انکے پیر پکڑنے لگی ” چاچی مجھے لیجو مجھے ڈر لگ رہا ہے !! مگر وہ پاؤں چھڑا کر وہاں سے چلی گئی کماد کی کھڑی فصل میں ہیر لوگوں کی نظروں سے چھپ گئی تھی اور اکیلی بھی ہوگئی تھی نیچے بیٹھتی وہ سر گھٹنوں میں دے کر چھپنے کی کوشش کررہی تھی کہیں دور کُتے کی بھونکنے کی یا گیدڑ کے بولنے کی آواز آتی تو وہ ڈر جاتی اور اب چودہ سال بعد وہی منظر پھر ہوا تھا اب بھی سر گھٹنوں میں دیے وہ کانپ رہی تھی کچھ ٹھنڈ سے کچھ ڈر سے اور وہ غصے کے عالم میں نیند میں چلا گیا تھا یہ بھول کر کہیں کچھ رکھ بھی آیا ہے ۔
جاری ہے