96.1K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

ناول # مسلط
ازقلم # بنت اسلم
قسط نمبر # 32
Surprise ✨…
رات گئی مرزا پولیس سٹیشن سے واپس آیا تھا میڈیا کے سوالات انکے طنز سب کچھ برداشت کرکے آیا تھا دانیال کو اسنے وہاں نہیں بلایا تھا وہ اور مہتاب ہی سب سنبھال رہے تھے صوفے پر گرجانے کے انداز سے بیٹھا سر پیچھے ٹکا کر کنپٹیاں مسلنے لگا ” بابو!!” اسنے آنکھیں کھول کر دیکھا تو ہیر پانی کا گلاس اور میڈیسن باکس لیے اسکے سراہنے کھڑی تھی ” مم۔۔۔مجھے نہیں پتہ کے سر درد کی دوائی کونسی ہے ؟”اسکی معصومیت اسے مسکرانے پر مجبور کرگئی تھی اسنے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے صوفے پر بیٹھایا میڈیسن باکس کھولا ” یہ گولی سر درد نزلہ زکام سب کی ہے اسکا رنگ اچھے سے یاد رکھ لو کبھی اگر میں نہ ہوں ضرورت ہو تو کھا لینا !” جس پر اسنے اثبات میں سر ہلا دیا ” فریحہ ؟؟”
“ وہ آٹھ بجے وہاں سے آئی تھی لیبا ۔۔۔لیباٹ۔۔۔۔۔۔۔”
“ لیبارٹری !! اسکی ادھورہ بات کو مکمل کر کے آج کوفت نہیں ا چھا لگا تھا ” جی تو وہ کھانا کھا کر سو گئی !!” اسنے اثبات میں سر ہلایا یہ تو ہیر ہی جانتی تھی کہ وہ سوئی نہیں ارمان کا سن کر نعمان کے لیے پریشانی سے کمرے میں بند ہے ۔مرزا نے چند لمحے اسے سادہ سے چہرے کو دیکھا پھر صوفے پر لیٹ کر سر اسکی گود میں رکھ دیا زبردستی ہیر کا ہاتھ اپنے بالوں میں پھیرنے لگا جس پر کچھ دیر بعد وہ خودی انگلیاں چلانے لگی ” شکریہ فری کو سمجھانے کے لیے !!”
“ دانیال بھائی کے ساتھ اچھا نہیں ہوا بدلہ ہمیشہ نقصان کرتا ہے !!٫”
“ ہمم !! وہ آنکھیں موندیں سکون محسوس کررہا تھا ساتھ ساتھ ہیر کے ہاتھ کی انگلیوں سے بھی کھیل رہا تھا ” صبحا چھوڑ آئیں گے نہ آپ مجھے حویلی ؟” اسکی بات پر اسنے ایکدم آنکھیں کھولیں اسے دیکھا اور پھر اداس ہوگیا ” جانا ضروری ہے؟”
“ میری خواہش کی اگر کوئی اہمیت ہے تو ضروری ہے !اسنے ایک نظر اسے دیکھا اور اثبات میں سر ہلا دیا ” ہیر تمہاری طبعیت ٹھیک ہے تم اتنی زرد کیوں ہوتی جارہی ہوں ! اس بات پر وہ چند لمحے اسے خاموشی سے اسے دیکھتی رہی تھی ” میں اور میرا رنگ ہمیشہ سے ایسا تھا آپ ہی نے آج دیکھا ہے !” اس بات پر مرزا شرمندہ ہوگیا تھا مگر اصل میں بات کچھ اور ہی تھی جو ہیر مرزا سے چھپا۔رہی تھی اسکی گود میں سر رکھے اسے کب نیند آگئی پتہ ہی نہیں چلا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ انکل سو گئے ؟ فری کے سوال پر فلک بیگم نے اسے دیکھا ” ہمم ہائی بی پی تھا بہت اسلیے میڈیسن دے کر سلا دیا اور لائبہ؟”
“ کچھ زیادہ نہیں کھایا بس ایک ہی بریڈ کھائی ہے سلانے کی کوشش کی نہیں سوئی بس زمین کو ہی گھورے جارہی ہے .” فلک بیگم روتی چئیر پر ہی بیٹھ گئیں تھی ” امبر کے بغیر تو وہ پانی تک نہیں پیتی کچھ کیسے کھائے گی میری معصوم بچیوں کا کیا قصور تھا انھیں کیوں سزا دی گئی کیا اس ملک کی حفاظت کرنے کی اتنی بڑی سزا ملے گی میرے بیٹے کو کہ اسکی اپنی فیملی کو ٹارگٹ کیا جائے گا !! فری انھیں دلاسہ دے رہی تھی ابھی تو اوپر دانیال کو دیکھنا تھا ” اللہ بڑا مہربان ہے آنٹی وہ سب جاںتا ہے وہ انصاف کرے گا چلیں میں آپکو کمرے میں چھوڑ دوں !!انھیں کمرے میں چھوڑنے کے بعد خود وہ جب کمرے میں آئی تو وہ بھی بیڈ کروان سے ٹیک لگائے کسی غیر مرائی نقطے کو گھور رہا تھا ۔کھانا ویسے کا ویسا ہی پڑا تھا فری اسکے پاس آکر بیٹھی تو اسے کوئی فرق نہیں پڑا بلکہ خود ہی بولنے لگا ” جب سے وردی پہنی تھی قسم کھائی تھی اس ملک کی حفاظت کروں گا اور آج اگر میں نے ملک کی حفاظت کرتے ایک مجرم کو مار دیا تو کیسے یہ لوگ کہہ رہے ہیں میں نے ذاتی کھندک نکالی ہے زاتی کھندک اس ملک کی تمام لڑکیاں میری بہنیں تو کیا میری بہنیں اس ملک کی بیٹیاں نہیں تھیں میں محافظ ہوں تمام مائیں میری مائیں کیا میری ماں اس ملک کی عورت نہیں تھی اس ملک کوبچانے کے لیے ہم لوگ اپنی فیملیز داؤ پر لگا دیتے ہیں اور کس طرح آج یہ ہماری فیملیز کو ٹارگٹ کررہا ہے وہ مجرم صرف تمہارا یا امبر لائبہ کا نہیں تھا اس پر اور بہت کیسزز تھے ایکسیڈنٹ کے شراب پی کر مار پیٹ کے اپنے حقوق کا غلط فائیدہ اٹھانے کے جو مرضی آتا تھا وہ کرتا تھا اور اج اگر میں نے اسے مار دیا تو ہم لوگ غلط ہوگئے ؟؟”اسنے دانیال کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا ” بی بی کہتی ہیں جب انسان پر زیادہ زیادہ مشکلات آنے لگیں تو سمجھ جاؤ اللہ پاک امتحان لے رہا وہ امتحان ان لوگوں لیتا ہے جو انھیں بہت پیارے ہوتے تاکہ وہ انکی عاجزی دیکھ سکے وہ دیکھتا ہے میں نے خوشی دی ہے تو مجھے یاد کر رہے ہیں دکھ دینے پر مجھ سے ناراض ہوتے ہے یا نہیں تو نہیں ناراض نہیں ہونا گلہ نہیں کرنا کہ کیوں مجھے اتنا دکھ کیوں بس صبر کرنا ہے اور یہ سب کچھ آپ نے مجھے سکھایا ہے کہ صبر کرکے جیتے جانا ہے اللہ مقام خودی دلا دیتا ہے آپکو بھی مل جائے گا دل نہیں چھوڑنا میں آپکو کبھی نہیں چھوڑ کے جاؤں گی کبھی نہیں میں ہمیشہ آپکے ساتھ ہوں !!” وہ اسکے زور سے گلے لگ گئی تھی جس پر دانیال کو اپنا آپ ٹوٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا اسکی گردن میں چہرا چھپائے اسنے آنسو آزاد کردیے تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح ہیر مرزا دائم اور امل کی زندگی کی اداس ترین صبح بن کر اتری تھیں وہ رشتے جو ایک دوسرے پر مسلط ہوئے تھے الگ ہونے جارہے تھے ہیر حویلی مرزا سے دور جانے کے لیے جارہی تھی اور امل نے دائم سے الگ ہونے کا فیصلہ کرلیا تھا وہ سب ایک دوسرے کو اس ان چاہے رشتوں سے آزاد کردینا چاہتے تھے امل دائم کی زندگی سے اسلیے دور جانا چاہتی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اسنے جو گناہ کیا ہے اسے اسکی معافی کبھی نہیں ملے گی اور اب یہاں رہ کر اپنی عزت نفس کا قتل نہیں کرے گی اور ہیر مرزا سے اس لیے دور جانا چاہتی تھی کہ وہ اپنی محبت کی نظروں میں بھی قابلِ ترس وجود نہیں بنا چاہتی تھی ۔
مرزا صبح جلدی ہی اسے لے کر نکل آیا تھا اسے کیس بھی سنبھالنا تھا وہ لوگ دس بجے کے قریب حویلی پہنچے تھے جہاں سامنے کا منظر بھی عجیب تھا امل بھی حویلی سی جارہی تھی ہیر کو دیکھ کر جہاں سب کو خوشی ہوئی تھی وہاں امل کو دیکھ کر مرزا کو حیرت اسنے دائم کی جانب دیکھا جسکے چہرے پر نہ تو کوئی خوشی تھی کوئی چمک اسنے ہیر کو بھی نہیں دیکھا تھا بس سر جھکائے کھڑا تھا ” ہیر بھابھی آپ !”وہ ہیر کے گلے لگے تو ہیر دائم کو دیکھتی رہ گئی جسکی جھکی گردن سے ایک آنسوں نیچے گرا تھا ۔” امل آپ کہاں جارہی ہیں ؟ ” ہیر کے سوال پر وہ مسکرا دی ” لاہور گھر جارہی ہوں کچھ دنوں کے لیے جیسے آپ آئی ہیں !!” ہیر کی مسلسل نظر دائم پر تھی جو اب اوپر سیڑھیاں چڑھ رہا تھا اور پھر اثبات میں سر ہلا دیا آخری سیڑھی پر جاکر اسکے قدم رک گئے تھے اسنے پلٹ کر امل کو دیکھا
“ مرزا او نہ اندر!! فاطمہ بی نے مرزا کا ماتھا چوم کر اسے پیار دیا تھا جس پر اسنے انکے ہاتھوں کو چوما ” نہیں بڑی بی کچھ ضروری کام ہے جاتے ہوئے بھی وقت لگ جائے گا پھر کسی دن آؤں گا امانت چھوڑ کر جا رہا ہوں لینے آؤں گا !! اسنے اپنے ساتھ کھڑی ہیر کو محبت سے دیکھا جو سر جھکا گئی تھی ” مجھے آپ سب کو کچھ بتانا ہے ؟ امل کی بات پر سب نے حیرت سے اسے دیکھا ” اس دن دائم نے میرے ساتھ کچھ نہیں کیا انفکیٹ اسنے تو میری جان بچائی تھی میری عزت بچائی تھی مگر اپنی ضد اور انا میں نے اس پر ہی الزام لگا دیا میں معافی مانگتی ہوں آپ سب سے میں غلط تھی بہت غلط !!! مرتضٰی صاحب کا منہ کُھلا رہ گیا تھا مرزا تو شاک ہوگیا تھا اور سر جھکائے آنسو بہا رہی تھی دائم سیڑھیوں پر کھڑا سب دیکھ رہا تھا آج امل نے سب کے سامنے اپنے گناہ کا اعتراف کیا تھا جب اسکی نظر مرزا پر پڑی جو غصے سے امل کی جانب بڑھ رہا تھا وہ ڈر گئی تھی مرتضٰی صاحب تو شرمندگی سے سر جھکائے کھڑے تھے ” میری فکر کا اتنا غلط فائدا اٹھایا تم نے ایک بے گناہ کو سزا دلوائی تمہیں شرم نہیں آئی !! وہ ڈرتی پیچھے قدم لے رہی تھی ” سوری بھائی مگر مم۔۔۔میں بہت پیار کرتی ہوں اس سے !مرزا نے ہاتھ ابھی اٹھایا ہی تھا جب دائم کی آواز آئی ” رُک جاؤ مرزا ! اسنے نظر گھما کر دائم کو دیکھا جو سنجیدہ سا اسے دیکھ رہا تھا ” خبر دار جو ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی کیونکہ اس بار میں خاموش نہیں رہوں گا !!دائم کو دیکھ کر وہ شرمندہ ہوگیا تھا وہ اس سے معافی مانگنا چاہتا تھا مگر الفاظ جُتا نہیں پا رہا تھا ” ائم سوری دائم مجھے نہیں پتہ تھا کہ لڑکیاں اپنے حقوق کا غلط فائیدہ بھی اٹھاتی ہیں ائم سوری !! یہ کہ وہ پلٹ گیا
“امل نے بھی اپنا بیگ حویلی سے باہر اور ہیر نے اندر کھینچنا شروع کردیا تھا دونوں ایک ساتھ کوئی دہلیز سے باہر گئی تھی تو کوئی اندر ہیر نے پلٹ کر مرزا کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا جلدی فون کرنا جلدی آنا !! مرزا کا دل اداس تھا کیونکہ محبت کب کی ترس اور ہمدردی کے پردے چاک کرکے باہر آچکی تھی ۔
امل نے پلٹ کر دائم کو دیکھا تھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا دل میں ایک ہوک اٹھتی تھی ” کچھ سالوں بعد اگر یاد آئی تو یاد میں ایک آنسو تو بہا دینا !!” دائم نے اسکے طرف ایسے دیکھا جیسے اسے سنائے دیا تھا جو اسنے کہا ہیر کی نظر بھی ان دونوں پر ہی تھی ۔وہ تینوں نکل گئے تھے حویلی سے چاچی بھی ہیر کو بنا کچھ کہے پوچھے چلی گئی تھی وہ تو دادی تھیں جو اس سے باتیں کرنے لگی انھیں امل نے اپنی غلطی کا پہلے بتایا تھا اور آج اسنے اعتراف بھی کرلیا تھا مگر ہیر کو پھر بھی آج دائم سے گلہ تھا آخر سب سے فارغ ہوکر ہیر دائم کے کمرے میں گئی تھی ” دائم باہر آؤ !
ہیر کی آواز سن کر وہ باہر آیا آس پاس کوئی نہیں تھا وہ کمرے کے دروازے میں کھڑی اسے باہر بلا رہی تھی ” کیا بات ہے ہیر ؟”ہیر نے چند لمحے اسے دیکھا اور زور دار تھپڑ اسکے چہرے پر دے مارا ” چھوڑ ہی دیا نہ تم نے اسے !!” وہ شرمندگی سے سر جھکا گیا ” ہیر تم نہیں جانتی اسنے میرے ساتھ نکاح کیسے کیا تھا ؟”
“ الزام لگایا تھا تم لیکن دائم مجھے یہ بتاؤ کیا اسنے اس بات کی معافی نہیں مانگی تھی ڈھیٹ بن گئی تھی مجھے سچ سچ بتانا کیا کیا تم نے اسکے ساتھ ؟؟؟”
“ ہیر مجھے غصہ آتا تھا اس پر اتنی بے واقوف اسے بلکل پتہ نہیں چلتا کیا بات کس سے کرنی ہے کس سے نہیں عجیب حرکتیں کرتی تھی….”
“ لیکن محبت تو تم سے دل و جان سے کرتی تھی نہ دائم معافی کسی چیز کا نام ہوتی ہے اسنے معافی مانگی تھی جب ہم اللہ سے یہ امید رکھتے ہیں کہ ہمارے گناہ اللہ معاف کردے تو ہم اپنے گناہ کاروں کو معاف کرنے کا ظرف کیوں نہیں رکھتے یہ تو غلط ہے اللہ سے اپنے گناہ بخشوا لیے اور اسکے بندوں کو معاف کرنے بجائے انکے لیے سزائیں تکلیفیں مانگنے لگیں جو اسنے کیا اسکی سزا تمہارے رویے نے اسے دے دی تھی اتنا برداشت کرنے کے بعد بھی یہ تو حق نہیں بنتا تھا اسے نکالا جاتا ..”
“ اپنی مرضی سے گئی ہے میں نے نہیں نکالا اسے!! ” جس پر ہیر بے بسی سے مسکرا دیا تھا ۔
“ دائم ایک عورت کو اصل۔مقام اسکا شوہر دیتا ہے اور اگر اسکا رویہ اس سے بہتر نہ ہو وہ ساتھ ہوتے ہوئے بھی نہ ہو تو اسکا اس گھر سے کوئی تعلق نہیں رہ جاتا تم اسے محبت نہیں کرتے تھے اس سے بات نہیں کرتے تھے انجان بن کر رہتے تھے تکلیف دیتے تھے تو اسکا اس گھر میں وجود تھا ہی نہیں کیونکہ تمہاری نظر میں وہ کچھ نہیں تھی اسلیے چلی گئی دائم آج تم نے صرف امل کو نہیں گنوایا ایک محبت ٹھکرا دی ہے جو تم سے محبت کرتی تھی تم پر ترس نہیں کھاتی تھی ۔”اسے کھری کھری سنا کر وہ چلی گئی تھی اور پیچھے دائم نے حویلی چھوڑنی کا فیصلہ کرلیا تھا ۔” نہیں آؤں گا اب کبھی حویلی نہیں اوں گا !!”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی نکل رہی ہے ہاتھوں سے ۔۔۔۔۔۔۔
سانسیں ریت ہوجیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے میں گشت کررہی ہے یادیں تیری ۔۔۔۔۔
زرخیزی سے عاری کھیت ہو جیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھ میں میں کم تو زیادہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری روح پے تیرا تسلط ہو جیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔
قریب ہیں پھر بھی دوریاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صدیوں سے ہجر مسلط ہو جیسے ۔
آج ارمان شیرازی کی موت کو ایک ہفتہ گزر گیاتھا اور سات دن شیرازیز نے سات صدیوں کی طرح گزارے تھے ہیر کو چھوڑ کر آنے کے بعد مرزا کیس اور دانیال میں اتنا الجھ گیا تھا کہ اسے ہیر سے بات کرنے کا بھی موقع نہ مل سکا دانیال بہت زیادہ خاموش رہنے لگا تھا میڈیا میں یہ بات کچھ دن گرم رہ کر ٹھنڈی پڑنے لگی تھی کمشنر صاحب اس بات کے لیے ان پر برس بھی چکے تھے فریحہ نارکوٹکس کو سٹڈی کررہی تھی دائم حویلی سے اگلے دن ہی چلا گیا تھا نہ اسنے اپنے باپ سے رابطہ کیا تھا اور نہ ہی امل سے امل اپنی زندگی میں اداس تھی ایک ہفتے سے ایسے خاموش تھی جیسے ایک نہایت سنجیدہ انسان خاموشی طاری کرلیتا تھا اب یہ خاموشی اسلیے تھی کہ وہ دائم سے دور ہوگئی تھی یا اسلیے کہ اسے صدمہ ہی ایسا لگا تھا نعمان ڈاکٹرز کے بیچ منان کو گود میں اٹھائے کھڑا تھا اسے تین دن سے ٹائفائیڈ تھی ” کیا دوائیاں دے رہے ہیں آپ میرا بیٹا ٹھیک تو ہو نہیں رہا !!”
“ سر آپ فکر نہ کریں ہم پوری کوشش کررہے ہیں !! اسنے غصے میں آکر سب کو باہر نکال دیا تھا وہ ننھا سا وجود بخار میں تپ رہا تھا تکلیف ہوئی تو رونا شروع کردیا اب تو وہ مارگریٹ سے بھی چپ نہیں ہوتا تھا ضد کرنے لگا تھا ” مارگریٹ تم تو رضاعی ماں ہو اسکی چپ کراو اسے !!”
“ سر نہیں ہورہا میں نے بہت کوشش کی ہے سر ایک بات کہوں !!” اسنے سوالیہ نگاہوں سے مارگریٹ ک دیکھا ” سر اسکی رئیل مدر کو لے آئیں ماں جو ہوتی ہے نہ رئیل میڈیسن ہوتی ہے !!” اسنے پر سوچ نظر سے مارگریٹ کو دیکھا ۔
“ مرزا ایس پی مرزا ایوب باہر آؤ !!! کچھ دیر بعد ایم این اے نعمان شیرازی خود ایس پی مرزا کے گھر پر موجود تھا فریحہ کچن میں کچھ کام کررہی تھی جب نعمان کی آواز سن کر سر سے پیر تک کانپ گئی تھی ” نن۔۔۔نعمان یہاں کیا کرنے آئے ہیں ؟”
“ مرزا بھی حیرت سے کنگ اسے گھور رہا تھا وہ ایک دم مرزا کے برابر اسکے قریب کھڑا ہوگیا تھا دونوں کی ہی نظروں میں غصہ نفرت تھی ” کیا کرنے آئے ہو یہاں تمہاری ہمت کیسے ہوئی ہے میرے گھر آنے کی ؟”
“ جب میں نے اس کھیل کو پرسنل نہیں کیا تو تم لوگوں نے اسے پرسنل کرنے کی کوشش کیوں کیوں تمہارے آفیسرز نے میرے بھائی کا انکاؤنٹر کیا !!” ہر لفظ چبا چبا کر کہتا وہ مرزا پر رعب ڈالنے کی کوشش کررہا تھا ۔
“ اس کھیل کو پروفیشنل سے پرسنل ہم نے نہیں تم نے تمہارے بھائی نے کیا حملہ تو تم لوگ پہلے بھی گھر پر ہی کر رہے تھے لیکن گھر کے اندر گھسنے کی غلطی کیوں کی تیرا بھائی اپنے موت کا زمہ دار خود ہے عیاش تھا مجرم تھا وہ ہم نہ مارتے تو ایک دن کسی نہ کسی کے ہاتھوں مرتا وہ !!! ” لہجہ اسکا بھی ہیتک امیز تھاں” تو نے اچھا نہیں کیا مرزا میری دشمنی میں میری فیملی کو انوالو کرکے تم نے تمہاری ٹیم نے اچھا نہیں کیا بخشو گا نہیں لاہور پولیس کو گلی کا کتا نہ بنا دیا تو میرا نام بھی نعمان شیرازی نہیں !!! اسنے مرزا کا گریبان پکڑ لیا تھا اسکی آنکھوں میں اپنی وحشت دیکھنے کی چاہ میں اسکی آنکھوں میں نظریں گڑھائے بیٹھا تھا ” اور ہم نے شرازیز اور اسکے غنڈوں کو کُتے کی طرح نہیں مارا تو میرا نام بھی ایس پی مرزا ایوب نہیں!! ” اسنے اپنے کالر سے نعمان کا ہاتھ جھٹک دیا تھا ” پرسنل ہوئے ہو نہ تم لوگ تو اب میری باری ہے ضرب لگانے کی فریحہ !!! اسنے دھاڑ کر کہا تھا جس پر وہ کچن میں تھر تھر کانپ رہی تھی ” فریحہ باہر آؤ !!!”
“ تیری ہمت کیسے ہوئی ہے اپنی گندی زبان سی میری بہن کا نام لینے کی !!” مرزا نے بھی اسکا کالر پکڑ لیا تھا مگر اسنے ہنس کر چھڑا لیا ” ابھی بتاتا ہوں کیسے ہوئی ایسے فریحہ نعمان شیرازی باہر آؤ !!! پیروں کو گھسیٹتی وہ باہر آئی جہاں وہ دونوں اسے دیکھ رہے تھے ” فریحہ بتاؤ اپنے بھائی کو کہ میری ہمت کیسے ہوئی تمہیں فریحہ نعمان شیرازی کہنے کی؟”اسنے کپکپاتے ہوئے مرزا کو دیکھا جو نعمان کا گریبان پھر پکڑ چکا تھا ” تجھے کیا لگتا ہے مجھے پتہ نہیں ہے تو میری بہن کو ڈراتا ہے !!” نعمان نے تنگ آکر پھر اپنا کالر اسکے ہاتھوں سے نکالا ” شرٹ پھاڑے گا میری فریحہ بتاؤ اسے کیا ہو تم میری !!! اسنے التجایا نظروں سے نعمان کو دیکھا مگر اب تو طوفان آچکا تھا مرزا نے نعمان کو مارنا شروع کردیا تھا پہلے اسکے منہ پر تھپڑ پھر مکا پڑا تھا ” نکل بہت ہوگیا تیرا میری آنکھوں کے سامنے میری بہن کو ہراساں کر رہا ہے تو نکل !! مرزا اسے دھکا۔دے رہا تھا جب اسنے بھی پلٹ کر اسمے چہرے پر وار کیا اسکا ہونٹ ایک طرف سے پھٹ گیا تھا” بھائی !! “
مگر اب تو جنگ چھڑ چکی تھی ایک نہ ایک دن تو یہ ہونا ہی تھا سو ہوگیا مرزا نعمان کو مار رہا تھا اور نعمان فریحہ کو دوہایاں دے رہا تھا ” بتاو اسے سچ اگر آج تم نہیں بولی تو کل دنیا کے سامنے بھی تم نے مجھے اور منان کو اپنا لیا تو تمہیں نہیں اپناؤ گا مر جائے گا آج وہ !!! اسنے حیرت سے نعمان کو دیکھا منان میرا منان میرا بچہ فریحہ نہیں ایک ماں ہار گئی تھی ” رُک جائیں بھائی وہ شوہر ہے میرا !!!مرزا کا ہاتھ وہیں ساکن ہوگیا تھا اسنے پلٹ کر فریحہ کو دیکھا جو رونے میں مصروف تھی ” کیا کہا تم نے ؟؟”
“ وہ سس۔۔سچ کہہ رہا ہے وہ شوہر ہے میرا ڈیڑھ سال پہلے افریقہ کے ہوسپیٹل سے میں ایک نائٹ کلب میں گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس آگے کی پوری روداد سن کر مرزا کے قدم چند لمحوں کے لیے لڑکھڑا گئے تھے اسے لگ رہا تھا وہ کھڑا نہیں رہ پائے گا فریحہ اسکے پاس آئی اسکا ہاتھ تھاما ” بھائی پلیز سمجھنے کی کوشش کریں اسوقت وقت ہی ایسا تھا عزت جارہی تھی ڈر خوف حاوی ہوگیا تھا مجھ پر !!”
“ یہ بات تم نے مجھے تب کیوں نہیں بتائی ؟؟؟ وہ اسے دیکھ بھی نہیں رہا تھا جو فریحہ کو زیادہ ڈرا رہا تھا ” بتایا تو ڈر گئی تھی انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ آپ اور یہ دشمن ہی چھوڑ دیا تھا تبھی لیکن منان نہیں چھوڑ پا رہی میری اولاد ہے کیسے چھوڑ دیتی ایک دفعہ غلطی کی تھی چھوڑنے کی آج تک تڑپ رہی ہوں پلیز بھائی مجھے معاف کردیں !!! مرزا نے ایک دم ہاتھ اسکے ہاتھ سے چھین لیا تھا ” دفع ہوجاو !!
“ بھائی لیکن !!! ۔۔۔۔۔۔” مجھے جھوٹ سے نفرت ہے فریحہ میری بہن ہوکر تم میرے دشمن کے نکاح میں رہی اور تم نے مجھے ایک دفعہ بتانا ضروری نہیں سمجھا سوچو اگر یہ تمہارے حق میں بھی اچھا نہ ہوتا تو یہی مسئلہ ہے لڑکیوں کا جب کوئی تنگ کریں تب ڈر کر کسی کو بتانا نہیں اور جب بات حد سے زیادہ ہوجائے تو معافیاں مانگنے اجائے اپنے ماں باپ بہن بھائیوں کو بتانے میں ڈر اور شرم آتی ہے تو کس سے کھل کر بات کرنی تھی تم مجھے تب بتاتی میں تمہیں ایک لمحے کے لیے اسکے رشتے میں نہ رہنے دیتے اور آج تم مجھے تب بتا رہی ہو جب یہ میرے گھر مجھے دھمکی لگانے آیا ہے نہیں یہ بدلہ لینے آیا تھا تمہیں استمال کرلیا فریحہ اسنے مجھے نیچا دکھانے کے لیے جاؤ یہاں سے چلی جاؤ اس پہلے میرا ہاتھ اُٹھ جائے !!”
“ نن۔۔۔۔نہیں میں آپکو چھوڑ کر نہیں جاؤں گی نعمان آپ نے کہا تھا بھائی کے سامنے سچ کہہ دوں گی تو منان مجھے سونپ دیں گے مجھے میرا بیٹا دے دیں مجھے میرا بیٹا دیں اب !!!”
“ فریحہ میں ہم دونوں کو اپنانے کا کہا تھا اور ویسے بھی دنیا کا کوئی قانون نہیں روک سکتا مجھے میری بیوی کو لیجانےسے اسلیے لیٹس گو منان کی طبعیت بہت خراب ہے !!”وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچ رہا تھا جب مرزا نے نعمان کی کلائی دبوچ لی ” رخصت کی ہے جان نہیں چھڑا رہا جو زبردستی کررہے ہو اگر اسے ایک کھروچ بھی آئی تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا انتہائی گھٹیا عمل تھا اپنی بیوی نہیں مرزا کی بہن پر اٹیک کیا تم نے شرم آنی چاہیے تمہیں !!
” تم۔۔۔۔۔بھاڑ میں جاؤ !!! ” مرزا کو دھکیل کر وہ فریحہ کو لیکر چلا گیا تھا اور پیچھے مرزا سر ہاتھوں میں گرائے صوفے پر بیٹھ گیا تھا کیا کھیل کھیلا تھا قسمت نے اسکی اپنی بہن ان سب کا حصہ بن جائے گی انھیں سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کیسے یہ جنگ خودبخود پروفیشنل سے پرسنل ہوتی جارہی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے