Musalat By Binte Aslam Readelle50190 Episode 23
No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
ناول # مسلط
ازقلم # بنت اسلم
قسط نمبر 23
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منال صبح صبح نوشین سے ملنے آئی تھی اور آج ایک فیصلہ کرکے آئی تھی جس پر مہتاب نہیں مان رہا تھا ۔” نہیں منال تم سمجھ نہیں رہی ہو وہ پینک کرنے لگے گی پلیز تم اسے اپنے گھر لیجاو پلیز میں تمہارے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں۔” اسنے حیرت سے روتے مہتاب کو دیکھا وہ سخت سب انسپیکٹر کو دیکھا جو کامیابیوں کی سیڑھیاں روز چڑھ رہا تھا مجرموں کو سزا دے رہا تھا اور یہاں ایک لڑکی کے لیے بچوں کی طرح رو رہا تھا ۔
“ ویسے تمہیں اس سے نکاح کرنا ہے اور اسکا سامنا تم کرنا نہیں چاہتے کیا ان حالات میں اس سے نکاح کر پاو گے ؟”
“ اسلیے تو کہہ رہا تھا اسکا برین واش کرو اسے میرے لیے ریڈی کرو پھر ڈائریکٹ نکاح کے بعد دیکھ لوں گا اسے تب اسے سنبھالنے کا ہر حق ہوگا میرے پاس ابھی نہیں ہے نہیں سنبھال پاؤں گا پلیز !! مگر وہ آج کچھ بھی سننے کو تیار نہیں تھی اسلیے اسکا ہاتھ کھینچ کر اسے اسکے کمرے کے باہر لے آئی منال کو دیکھ کر وہ خوش ہوگئی تھی ” دوست !!!
“ ہائی نوشین کیسی ہو ؟ اسنے دروازہ کے باہر کھڑے ہی اس سے پوچھا دوسری طرف دیوار کے ساتھ لگا مہتاب اپنا ہاتھ چھڑا رہا تھا التجا کر رہا تھا نفی میں سر ہلا رہا تھا ” دوست تم کل نہیں آئی مجھ سے کوئی بھی ملنے نہیں آیا سارا دن میں اکیلی تھی کھائی جارہی تھی سوئی جارہی تھے اور تمہیں پتہ پرسوں رات کو پولیس بھی آئی تھی یہاں میرے کمرے میں پھر بنا کچھ کہے چلی گئی ۔! منال نے حیرت سے مہتاب کو دیکھا جو رخ پھیر گیا ” نوشین آج تم سے کوئی بہت خاص ملنے آیا ہے اور وہ ہے !! اسنے مہتاب کو کمرے کے اندر کھینچ لیا تھا ” مہتاب حمید !!! نوشین کی دھڑکن رک گئی تھی وہ سر جھکائے سامنے کھڑا تھا تین سال بعد وہ سول میں تھا ” مم۔۔مہتاب!!!اسنے نظر اٹھا کر اسے دیکھا پہلی بار آنکھیں چار ہوئیں تھے وہ چوری نہیں اسی براہ راست دیکھ رہا تھا پورے ہوش و حواس میں .
ابھی مجھے میں کہیں۔۔۔۔
باقی تھوڑی سی ہے زندگی ۔۔۔
جگی دھڑکن نئی جانا زندہ ہوں میں تو ابھی ۔۔
یہ کیسی لگن اس لمحے میں یہ لمحہ کہاں تھامے گا۔۔۔
اب ہے سامنے اسے چھو لوں زرا مر جاؤ یا جی لو زرا۔۔۔۔۔۔۔
“ جس دن تمہارا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اس دن جوانسان تمہیں ہوسپیٹل لیکر آیا تھا وہ مہتاب ہی تھا اسکے بعد تمہارا سارا خرچ میں نے نہیں مہتاب اٹھا رہا ہے ہر روز تمہیں دیکھتا تمہارے پاس رہتا یہ پہلے دن سے تمہارے ساتھ تھا تم۔ کہتی تھی جب وہ آئے گا لو آ گیا ہمیشہ کے لیے سنبھال لو اسے ! مہتاب کر آگے دھکیل کر خود وہ باہر چلی گئی تھی ۔وہ ابھی بھی گردن جھکائے کھڑا تھا ۔
“ تین سال گزر گئے آنے میں تم جانتے ہو میں نے کتنا انتظار کیا ۔۔۔
“ ائم سوری پلیز ائم سوری !! وہ ہاتھ جوڑ کر معافیاں مانگ رہا تھا ” میں مر گئی مگر انتظار ختم نہیں ہوا میرے ماں باپ چلے گئے میں اس جانور کی مار کھاتی رہی کیونکہ تم لوٹے ہی نہیں !!
“ میں آیا تھا مگر تب تک دیر ہوگئی شہر میں آکر پڑھنا کمانا گھر بنانا بہت مشکل تھا پیچھے دیکھنے کا وقت ہی نہیں ملا .”
“ پیچھے والوں کو مار دیا تھا جو وقت نکالنے کی کوشش بھی نہیں کہ ایک دفعہ مرتے ہوئے کے منہ میں پانی ڈال آو!!
“ سوری کردوں نہ معاف میں بھی پل پل مرا ہوں میرا عشق ہو تم کبھی نہیں بھولا تھا تمہیں نوشی !”
“ تو اب بھول جاؤ میں تمہارے قابل نہیں رہی جاو کوئی اپنے جیسی لڑکی ڈھونڈو چلے جاؤ یہاں سے !!”
وہ رخ بدل گئی تھی جب وہ ایک دم اسکے پاس آیا ” نہیں نوشی مجھے خود دور مت کرو اتنی مشکل سے تو ملے ہیں .”
سمجھوملی ہی نہیں وہ تین سال پہلے ہی کہیں کھو گئی تھی .” وہ کروٹ بدل کر لیٹ گئی تھی مہتاب چند لمحے حیرت سے اسے دیکھتا رہا پھر اسکا رخ اپنی جانب کیا اسکے ہاتھ تکیے سے پن کرکے اس پر جھُک گیا ” بس بہت سن لی میں نے اور بہت کہہ لی تم نے کون ہوں میں میں وہ مہتاب ہوں جسے تم درس سے بھاگ کر ملنے آتی تھی وہ مہتاب ہوں جو تمہارے لیے کچھے امرود توڑتا دو بار درخت سے گرا تھا میں وہ مہتاب ہوں جو دھوپ میں کام کرتا تھا تو اسکے پیچھے پیر جلانے آتی تھی میں تمہارا مہتاب ہو نوشی تیاری رکھو آج گھر جائیں گے اور کل نکاح ہوگا !اسکے ہاتھ چھوڑتا وہ کمرے سے چلا گیا پیچھے وہ رو دی تھی ” میں تمہارے قابل نہیں ہوں !!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منال اسے چھوڑ کر باہر بنچ پر بیٹھ گئی تھی علیم اور نعمان پاکستان آگئے تھے اور اب وہ مینشن جارہے تھے جب اچانک۔ علیم نے گاڑی روک کر باہر دیکھا وہ آج بھی بنچ پر بیٹھی رو رہی تھی نعمان نے اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا اور اسکے سر پر ایک چپت لگا دی ” اوئے لُچے یہ کیا حرکت ہے ہاں ؟”
“ سر یہی وہ لڑکی ہے جس نے میری جان بچائی تھی مگر اسے پتہ چل گیا تھا کہ ایس پی مرزا کو زہر میں نے دیا ہے اسلیے مجھے اسے ہرٹ کرنا پڑا ۔”نعمان نے ایک نظر اسکے اداس چہرے کو دیکھا ” اسنے صورت دیکھی تھی تمہاری ؟”
“ نہیں ماسک میں تھا اور اسنے چہرے پر توجہ بھی نہیں دی زیادہ ! نعمان اٹھ کر فرنٹ سیٹ پر اگیا اسے باہر نکال دیا ” تو ٹھیک ہے جاؤ اس سے ملو میں چلا جاؤں گا !!” اسکے چہرے پر حیرت در آئی تھی ” تھینک یو سر !! وہ ڈرائیو کرتا آگے بڑھ گیا اور وہ جاکر اسکے ساتھ بیٹھ گیا ” اہم !!! گلہ گھنگار کر اسنے اسے متوجہ کرنا چاہا مگر وہ گہری سوچ میں تھی ” دل ٹوٹا ہے یا کسی کا سر پھوٹا ہے !! کسی مرد کی آواز پر اسنے چونک کر اسے دیکھا گول چہرا گندمی رنگ براؤن شیڈ آنکھیں گال پر ڈمپل اور ۔۔۔۔۔۔وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی نظروں میں مسکراہٹ آنے لگی تھی ” نہیں کسی کو کچھ نہیں ہوا دل ٹوٹا ہے !!
“ توڑنے والا کمینہ تھا یا اتنا اچھا تھا کہ بس مرجانا ہے اب !!” اسکی بات پر ہنس دی تھی وہ ” نام ؟”
“ منال کے سوال نے علیم کو حیرت میں ڈال دیا تھا ” ا۔۔۔۔۔۔ع سے علیم اور آ سے آپکا ؟
“ م سے منال !!! علیم نے دل ہی دل میں اسکے نام کو سراہا تھا ۔
“ دل کس نے توڑا !! علیم کی بات پر اسنے افسوس اور مسکراہٹ سے اسے دیکھا ” دوست تھا میں کچھ زیادہ سمجھ بیٹھی !”
“ ہممم یہی ہماری غلطی ہے ہم انسان سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کرلیتے ہیں حالانکہ وہ ہمیں کہتے بھی نہیں کچھ بھی نہیں ہوتا اور بعد میں ہم اس انسان کو غلط کہتے حالانکہ امید تو ہم نے لگائی تھی .”
“ میں امید لگا بیٹھی کیوں کہ مجھے امید دلائی گئی مگر خیر اب انجان کو کیا بتاؤ !” وہ اٹھ کر جانے لگی جب وہ بولا ” جس سے حالِ دل بیان کردیا وہ انجان کیسے دل کی بات اپنوں سے ہی کی جاتی ہے نہ ! بینچ سے ٹیک لگائے بائیں ٹانگ دائیں ٹانگ پر رکھے پیر ہلاتا وہ منال کو مسکرا کر دیکھ رہا تھا مسکان منال کے ہونٹوں پر بھی آگئی تھی ” ویسے تمہارے پیٹ کا زخم کیسا ہے اب ؟” اس بات پر علیم کی ٹانگ نیچے گر گئی تھی اسکے چہرے کا رنگ فق ہوگیا تھا ۔ ” تم نے ابھی کہا کہ جس سے دل کا حال بیان کیا گیا ہوں وہ انجان کیسے اور جس نے جان بچائی وہ اتنا اجنبی ہوگیا کہ ہوش سے بیگانہ کرکے چھوڑ آئے تب اپنی نہیں لگی تھی .”
“ دیکھیں میں بتاتا ہوں آپ میری بات سنے!!! وہ شرمندگی سے بولا مگر منال نے ہاتھ اٹھا کر منع کردیا” مجھے نہیں جانا جانتی ہوں ڈر گئے تھے فکر مت کرو میں پولیس کو نہیں بتاؤ گی پر میری ایک شرط ہے !” اسنے حیرت سے منال کر دیکھا ” تمہیں مجھ سے پیار کرنا ہوگا ؟ علیم کا منہ کھلا رہ گیا تھا ” منہ بند کرو صرف ناٹک کرنا ہے مجھے مہتاب کو دیکھانا اگر وہ آگے بڑھ سکتا ہے تو میں بھی بڑھ سکتی ہوں ! کرو گے میری مدد ؟
“ آپ مجھے استمعال کررہی ہیں ؟” علیم نے سینے پر ہاتھ باندھ کر کہا ۔
“ میں بس اپنی فیس مانگ رہی ہوں میں نے جان بچائی ہے تمہاری !!” علیم نے گہرا سانس لیکر اسے دیکھا اور اسکے نہایت قریب چلا گیا چہرا اسکے قریب کرلیا ” اور ناٹک ناٹک میں معاملہ سنجیدہ ہوگیا تو !منال نے اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر دور کیا ” تب کی تب دیکھیں بولو کرو گے ؟”
“ اہہ کرنی تو پڑے گی بھئی جان بچانے والے کی جان امانت ہوتی ہے اور میں بہت امانت دار ہوں کب کیا کیسے کرنا ہو مجھے بتا دینا ! اسے اپنا کارڈ تھما کر وہ آگے بڑھ گیا تھا منال نے ایک پراسرار مسکراہٹ سے اسے دیکھا اور پرس میں رکھتی وہاں سے چلی گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرزا کو ڈسچارج مل گیا تھا ہیر اور مہتاب دونوں اسے گھر لیکر آئے تھے گارڈ نے اسے اسکا حال پوچھا تو ” صاب اب آپ کیسے ہیں ؟”
“ میں ٹھیک ہوں ہدایت !! اس سے دعائیں لیکر وہ جیسے ہی اندر آیا تو ایک زور دار دھماکہ ہوا کروڑوں کی تعداد میں چھوٹے چھوٹے ستارے اسکے سر پر آس پاس گر رہے تھے ” ویلکم ہوم !!! ہر طرف شور مچ گیا تھا اسنے حیرت سے سب کو دیکھا فریحہ امی دادی !!! اسکے دونوں ہاتھ منہ کو آگئے تھے وہ بھاگ کر دادی کے گلے لگ گیا ” میری گرل فرینڈ!!! انھوں نے شفقت سے اسکا ماتھا چوما پھر وہ فریحہ کی جانب مڑا” سُپر کوپ !! اسے ملنے کے بعد وہ اپنی ماں کی جانب آیا تھا کافی دیر انکے گلے لگنے کہ بعد وہ نم آنکھوں سے انھیں دیکھنے لگا ” چار سال کا لمبا انتظار تمہارا باپ ناراض تھا تم نے بھی ہٹ دھرمی دکھا دی ایک بار بھی ملنے نہیں آئے !”
“ امی کیسے آتا ڈر لگتا تھا آپکو چھوڑ کر واپس نہیں آ پاؤں گا ابو ناراض ہیں آج بھی نہیں آئے نہ !! فریحہ دادی ان تینوں کے چہرے ایک ساتھ اتر گئے تھے ” مرزا اوپر کمرے میں تمہارے لیے کچھ سپیشل لائے ہیں جاؤ دیکھ کر او ! اپنے والد کو نہ دیکھ کر اسکا دل برا ہوگیا تھا ۔ ” بعد میں دیکھ لوں گا !! ہیر چپ چاپ مسکرا کر سب کو دیکھنے لگی وہ سب مرزا سے باتیں کررہے تھے مہتاب سب سے ملکر چلا گیا تھا جب مرزا کی اچانک نظر ہیر پر پڑی ” دادی اپنی بہو سے تو ملنے سگھڑ والی !! ان سب نے شرمندگی سے ہیر کو دیکھا اسے تو نظر انداز کرگئے تھے اور اب ایک ساتھ ہی اس پر لپک پڑے تھے ” ہیر میری بچی کیسی ہو ! دادی نے اسکے ماتھے پر بوسہ دیا .مرزا کی والدہ بھی اسے نہایت محبت سے ملی تھی ” تم بہت پیاری ہوں .”
“ آ۔۔۔۔۔بھابھی تھینک گاڈ میں آپ سے مل پائی ورنہ مجھے تو لگا تھا میں اکلوتی بھابھی کو دیکھ ہی نہیں پاؤں گی ۔” وہ سب ہیر سے باتیں کرنے لگے تھے مرزا اوپر کمرے میں فریش ہونے آگیا تھا جب سامنے کسی کی پشت نظر آئی ” ایس پی مرزا ایوب تھری سٹارز !
ابو !!! انھوں نے رخ موڑ کر اسے دیکھا اور مرزا کو سلیوٹ کیا ” گڈ آفٹر نون کوپ !!
“ ابو !! انکا نام لیتا وہ انکی طرف بڑھنے لگا ” مجھے بھی پولیس والا بنا اپنے ماں باپ کی جان سولی پر لٹکانی ہے ۔۔۔
“ سوری ابو !! وہ بھاگ کر انکے لگے لگ گیا تھا اتنے عرصے بعد باپ کے سینے سے لگ کر سکون مل گیا تھا ان سے جدا نہیں ہونا چاہتا تھا ۔” ابو تھینک یو سو مچ مجھے معاف کرنے کے لیے واپس آنے کے لیے !!
ایوب صاحب نے اسکی پشت پر تھپکی دی ” ریلیکس مائے بوئے یہ تھینک یو مجھے نہیں اپنی بیوی کو بولنا جو مجھے یہاں آنے کے لیے راضی کرنے میں کامیابی ہوگئی بہت سمجھدار ہے !”
“ ہہ۔۔۔ہیر اسنے کیسے ؟” اسے حیرت ہوئی تھی ” وہ شہید کی بیٹی ہے اور ایک محافظ کی اہمیت اس سے بہتر کون جان سکتا ہے اسنے مجھے احساس دلا یا کہ تم ایک جانباز سپاہی ہو اور مجھے تم پر فخر کرنا چاہیے !!” انھیں بیڈ پر بیٹھا کر خود انکی گود میں سر رکھے نیچے بیٹھ گیا ” ابو میں نے آپکو بہت یاد کیا اتنا رویا تھا جب آپ امی اور فریحہ کو لیکر امریکہ چلے گئے ۔ میں اکیلا ہوگیا مگر میں کیا کرتا آپ نے بچپن میں سکھایا تھا چاہے دنیا خلاف ہو جائے غلط کا ساتھ نہیں دینا تو میں کیسے جرم کا خاموش تماشائی بن جاتا آپکی سیکھ کو میں نے ترجیح دی مگر آپ ہی کا نافرمان بن گیا سوری !!” انھوں نے پیار سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا ” کوئی بات نہیں لیکن اب جو عزم کیا ہے اسے پورا کرنا بچا لو اس ملک کو جس حد تک بچا سکتے ہو میں تمہارے ساتھ ہوں !! وہ حیرت سے انھیں دیکھنے لگا تھا جب باقی سب بھی اوپر آگئے ” سرپرائز کیسا لگا بھائی !! انھوں نے دروازے کی جانب دیکھا فریحہ امی دادی اور سب سے پیچھے چھپی ہیر آج مرزا کی فیملی ایک ہوگئی تھی سب لوٹ آئے تھے خوشیوں نے دستک دے دی تھی . ہیر دروازے میں کھڑی ان سب کو دیکھ رہی تھی جو عرصے بعد ایک ہوئے تھے اسکا سسرال مکمل ہوا تھا مرزا نے مسکراتے اسے دیکھا اور دیکھتا رہ گیا آج اسکی وجہ سے اسکی فیملی پھر سے ایک ہوئی تھی اسنے نظروں ہی نظروں میں اسکا شکریہ ادا کیا ” ہیر !! ایوب صاحب کی آواز پر اسنے مسکرا کر انھیں دیکھا ” میری بیٹی کو پیچھے چھوڑ آئے ہو !!! ایوب صاحب خود اس تک گئےاسے اپنے سینے سے لگانے گئے تھے اسکے سر پر ہاتھ رکھا ” کیسی ہو ؟”
میں اچھی ہوں آپ کیسے ہیں ؟”
“ میں بھی آج تمہاری وجہ سے میری اور میرے بیٹے کی ناراضگی ختم ہوگئی شکریہ !! وہ مسکرا کر سر جھکا گئی تھی یہ جانے کہ بغیر کے کسی کے دل کی بنجر زمین پر بادل آنے لگے تھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دانیال اسے پولیس سٹیشن لے آیا تھا اور وہ چیخ چلا رہا تھا ” یہ تم نے اچھا نہیں کیا انسپکٹر اسکی سزا ملے گی میرے بھائی کو پتہ چلا تو ایک منٹ نہیں رہنے دے گا یہاں !!! دانیال نے کیپ اتار کر ٹیبل پر رکھی ” جانتا ہوں تمہارا وہ ایم این اے بھائی تمہیں لے جائے گا مگر اس سے پہلے میرے ہاتھ میں جو خارش ہورہی ہے اسے تو صاف کرلوں آخر تم نے مجھے تھپڑ مارا ہے !!
ارمان کے ہوش اڑ گئے تھے ” تھپڑ ابے او انسپیکٹر تو ہِل گیا ہے کیا میں نے تیرے تھپڑ کب مارا !”
“ کیوں شاہد اسنے سب کے سامنے تھپڑ مارا ہے نہ مجھے پولیس انسپیکٹر پر ہاتھ اٹھایا ہے نہ ! ” اپنی بیلٹ نکلتا اپنے کالر کے بٹن کھولتا آستین موڑتا اسکے لاکپ میں گھس گیا تھا اسکی گردن دبوچ کر دیوار سے لگا لیا ارمان اپنی پوری طاقت سے اسکا ہاتھ پیچھے کرنے کی کوشش کررہا تھا مگر وہ تو تب سے اس تیاری میں تھا جب سے اسنے اپنا ٹرانسفر لاہور کروایا تھا ۔اتنی جلدی کہاں چھوڑنے والا تھا ۔ ” بہت شوق ہے نہ معصوم جانوں پر مردانگی دیکھانے کا تیری ننھی سی جان کو میری مردانگی سے کون بچائے گا ۔” یہ کہتے اسنے اسے بیلٹوں سے مارنا شروع کردیا تھا اسے مارتے فری کے الفاظ اسکی تکلیف اسے سب یاد آرہا تھا اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسکی جان لے لے اسکے ہونٹوں کے قریب سے خون نکلنے لگا تھا اسکے چہرے پر مُکوں کے نشان تھے پھر کچھ سوچ کر اسے چھوڑ دیا وہ درد سے کراہ رہا تھا ۔اسنے اپنا فون نکالا اسکی وڈیو بنائی اور فری کو سینڈ کردی ۔وہ آنٹی کے پاس بیٹھی انکی باتیں سن رہی تھیں جب فون بیپ ہوا اسنے میسج اوپن کیا تو ارمان شیرازی کی ابتر حالت اسکے سامنے تھے اس شخص کو اس حالت میں دیکھ کر اسے بہت سکون ملا تھا اسے دانیال کی بات یاد آئی تھی ” مجھے سزا دو تاکہ میں اس شخص کو سزا دے سکوں !”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعمان مینشن آیا ہی تھا جب عفت ( انکی چھوٹی بہن ) اسکے پاس آئی ۔ ” بھائی جان ارمان کا بھائی کا فون نہیں لگ رہا صبحا یونی کے کچھ کام کے لیے گئے تھے دو گھنٹے کا بولا تھا دوپہر سر پر آگئی ہے ابھی تک واپس نہیں آئی اس دن والے حادثے کے بعد وہ پولیس کی نظروں میں ہے مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے !” عفت کی باتیں نعمان کو پریشان کرگئی تھیں منان کو اسے پکڑاتا وہ ارمان کو فون کرتا دوبارہ گاڑی میں بیٹھ گیا ۔
دانیال ٹیبل پر کسی فائل پر کام کر رہا تھا جب ارمان کا ضبط ہوا فون رنگ کرنے لگا اسنے نام دیکھا تو چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی ” لو آگیا تمہارے بھائی جان کا فون۔۔لو کرو بات !!” فون اسے پکڑاتا خود بھی وہ ادھر ہی کھڑا ہوگیا تھا ۔ ” ہہ۔۔۔ہیلو بھائی جان میں ۔۔۔۔میں لاکپ میں ہوں !”
“ واٹ لیکن کیوں ؟ اسنے گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی تھی ” یہ انسپیکٹر مجھ پر جھوٹا الزام لیکر آگیا مجھے نکالو یہاں سے !!!
“ تم فکر مت کرو میں آرہا ہوں !! راستے میں اسنے اپنے خاندانی وکیل کو گھیرا اور اسے تھانے لے آیا دانیال فائل پر جھکا تھا جب اسنے زور سے ہاتھ ٹیبل پر رکھا ” میرے بھائی کو کس جرم میں لائے ہو؟”
دانیال نے ایک کڑی نظر اسے دیکھا اور کرسی سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا منشیات کی سمگلنگ اور ایک پولیس والے پر ہاتھ اٹھانے کے جرم میں ..”
“ بھائی جھوٹ بول رہا ہے میں نے اس پر ہاتھ نہیں اٹھایا بلکہ اسنے مجھے مارا ….” نعمان نے ایک نظر ارمان کے زخمی چہرے کو دیکھا اسکا دل درد سے بھر گیا تھا منان کی طرح جوجو زی زی ارمان عفت بھی اسکے بچے تھے اسنے پالا تھا انھیں اسنے غصے سے دانیال کو دیکھا ” میں تمہاری وردی اتروا سکتا ہوں !”
“ ہاہاہاہا بس یہی کر سکتے ہو ویسے ایک بات بتادوں تمہارا بھائی زندہ بھی تب تک ہے جب تک میرے تن پر وردی ہے میں محافظ ہوں جرم کے خلا ف لیکن جس دن آزاد ہوگیا اس دن آپکے بھائی کی کھال ادھیڑ دوں گا ایم این اے نعمان شیرازی صاحب !!!
“ ہاہاہا اتار کھال تیری بیوی کے تو کپڑے اتارے تھے میں نے !!”
“؛بکواس بند رکھو اپنی ” اسنے پھر سلاخوں سے اسکی گردن دبوچ لی تھی ۔۔۔۔۔ارمان شٹ اپ یہ کیا بیہودہ بات تھی !! نعمان نے بھی اسے ڈانٹا تھا ۔” ائم سوری فار دِس بیل کے پیپر دیں !!! ” وکیل نے اسکے سامنے پیپر رکھے اتنی جلدی بیل منظور ہو بھی گئی دف ہمارے سسٹم پر غریب معصوم دھکے کھاتا اور یہ ایمر جنسی بیل بھی لے آتے ہیں ۔”دانیال نے وہ کاغذات میز پر رکھے اور حولدار کو اشارہ کردیا ارمان باہر آیا تو اسکے قریب ہوگیا ” اچھا نہیں کیا مجھ پر ہاتھ اٹھا کر ایسا زخم دوں گا تجھے اور تیرے خاندان کو ناسور بن جائے گا !!! دانیال اسکی طرف بڑھا جب نعمان اسے کھینچتا ہوا لے گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
