Musalat By Binte Aslam Readelle50190 Episode 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
قسط نمبر 1
جاواں صدقے گلے دی ہسیے۔۔۔۔۔
جھُگی پالا تے کٹھیاں وسیے ۔۔۔۔
اک پُھل موتیے دا مار کے جگا سونیے ۔۔۔۔
اک پھول موتیے دے مار کے جگا سونیے ۔۔۔۔۔
پنجاب کے گاؤں جھنگ سیال میں لہلہاتی کھیتوں کے درمیان ٹریکٹر چلاتے نوجوان نے منصور ملنگی کا وہ تاریخی گیت لگا رکھا تھا جو کبھی پنجاب کا موسٹ رومینٹک گیت بنا تھا ۔اپریل کا مہینہ تھا لوگ گندم کٹائی کرنے بیٹھ چکے تھے جس میں بیٹھا نہ تو کوئی شخص نظر آتا تھا نہ اسکی کروائی جابجا لوگ گاؤں میں گھوم رہے تھے کہیں کوئی دیہاتی کندھے پر پلی اور ہاتھوں میں درانتی لیے فیصلوں کی جانب جارہا تھا تو کوئی پھاوڑا پکڑے جانوروں کی جگہ صاف کررہا تھا سونے کی ڈالیاں سے فجر کا اُگتا سورج اور یہ سادہ معصوم مسکراتے چہرے جو ناجانے اب کے نکلے گھر کب واپس آتے تھی کچھ عورتیں ہاتھوں میں ڈول پکڑے چاٹی کی لّسی مانگنے جارہی تھی تو کوئی گدھا گاڑی جوڑے چارو لیجانے کو تیار لمبے لمبے پراندوں میں مقید چوٹیاں انچل سے نیچے کمر پر جھول رہی تھیں اس چلملاتی دھوپ میں نمبر دار فہد عرف فدی اپنے مزدوروں کے سر پر چکر کاٹ رہا تھا کھلی شلوار قمیض پورے آستین سفید پیروں میں کوہلہ پوری چپل سفید پُرنور تیکھے نین نقوش والا چہرا کو جو آدھا چادر سے چھپا رکھا تھا سر پر ٹھنڈی لسی کا گھڑا لیے وہ فیصل کے بنرے پر کھڑی آوازیں دے رہی تھی ” چاچا !!! چاچا فدی !!! نمبر دار فہد نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو گھڑا نیچے اُتار رہی تھی ” ہیر پُتر تو یہاں کیا کررہی ہے ؟”
“ چاچا گرمی بہت ہوگئی ہیں میں نہ تیرے واسطے اور واڈیوں ( گندم کاٹنے والے) کے واسطے لسی لے کر آئیں ہوں ! ” فہد اس تک پہنچ گیا تھا ” تجھے نہیں آنا چاہیے تھا بی بی کو پتہ چل گیا تو انھوں نے کہنا تو اور تیری وٹی میری یتیم پوتی سے کام لیتے ہیں ! فدی نے منہ بنا کر کسی کا گلاس منہ کو لگایا ” نہیں کہتی بی بی سو رہی تھیں انکی صحت نے بڑی خراب تھی اور چاچی انھیں دیکھ رہی تھی تو صفائی کپڑے برتن دوپہر کا کھانا پیٹیاں کھول کر بِسترے نکال کر میں جلدی جلدی ٹھنڈی لسی لیکر آگئی ! اسکی بات پر تمام مزدور حیرت سے اس معصومہ کو دیکھ رہے تھے ” یہ تو شہید رجب کی بیٹی نہیں ہے بیچاری یتیم ہوئی نہیں کے چاچا چاچی نے سارا گھر اس پر مسلط کردیا باپ شہید ہوا تو ماں بھی اسکے پیچھے چل دی اور سات سال۔کی ہیر چاچا چاچی کے رحم و کرم پر آگئی ۔ دادی ہے جو اسکا خیال کرتی ہے ورنہ ناجانے بیچاری کا کیا بنتا ؟” اور وہ اپنے دھیان اپنے چاچے سے باتیں کررہی تھی ۔” سُنا ہے منگ ہے کسی کی “
“ ہاں لاہور منگی ہے پولیس والا وہ اپنے گاؤں گا ارشاد نہیں ہوتا تھا جو لاہور چلا گیا تھا اسی کا پوتا پولیس والا ہے کیا نام تھا اسکا ہاں مرزا ۔۔۔۔۔۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(✨…..✨)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر آئی تھنک اٹس ناٹ گُڈ ہمارے پاس اس انکاونٹر کے لیے پرمیشن نہیں ہے ” دو مجرموں کو جیپ میں بیٹھائے انکے چہرے چھپائے وہ انھیں کوٹ لے جارہے تھے مگر مرزا کا ارادہ بدل گیا تھا اسکے آنکھوں کے سامنے خون سے لت پت لاش پڑی تھی جس پر چھریوں کے ہے در پے وار کیے گئے تھے دس سال کی بچی اور اسکی ماں کی چیخی جو انکی درندگی برداشت کر چکی تھیں اس بچی کی ڈیڈ باڈی اس سے انصاف مانگا رہی تھی کہ کیا اسکی تکلیف انکی پھانسی سے کم ہو جائے گی بس اتنی تکلیف اسنے گہرا سانس لیکر سب انسپکٹر کی طرف دیکھا ” انکے کے چہروں سے کپڑا ہٹاؤ !! حکم بجا لاتے اسنے اتار دیے جیپ سے اُتر کر وہ نیچے آیا ” بھاگو ! ان دونوں مجرموں نے حیرت سے اسے دیکھا ” میں نے کہا بھاگو !! یہ سُنا تھا کہ انھوں نے بھاگنا شروع کردیا مرزا کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی اسنے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی انکا پورا جسم گولیوں سے چھلنی ہوچکا تھا انکے مرنے کے بعد وہ انکے پاس گیا حولدار سب انسپیکٹر بھی ساتھ ہی تھی اسنے حولدار کی بندوق چھینی اور ٹھاہ سیدھی سب انسپیکٹر کے ٹانگ میں کردی وہ درد اور تکلیف سے مرزا کو دیکھ رہا تھا جو اب اپنی بازو پر گولی چلانے کی تیاری میں تھا اور دیکھتے دیکھتے خون کا پھوارا اسکے بازو سے نکل آیا حولدار کی بندوق مجرم کے ہاتھ میں دی اور یہ کیس بند !!! سب انسپیکٹر نے مسکرا کر اسے دیکھا ” مرزا جس سے نفرت کرتا ہے اسکے لیے وہ پتھر بن جاتا ہے ڈالوں لاشیں گاڑی میں !!! “
مسکرا کر وہ کورٹ کی جانب چل دیے کہ جانے بغیر کی مرزا کی نفرت میں کوئی نازک گلاب بھی جلنے والا تھا ۔
——–(✨—-✨)——–
وہ دبے قدموں سے گھر میں داخل ہوئی گھر کم حویلی ہی تھی جسکی ساری زمہ داری اسنے اپنے اوپر مسلط کر رکھی تھی اختیاط سے چاٹی نیچے رکھی اور برتن دیکھنے لگی دُھلے برتن کپڑے سے خشک کرنے لگی ” چاچی کو مٹی کا زرہ بھی پسند نہیں دیکھ لیا تو ڈانٹے گی !” برتن صاف کرکے وہ مُڑی تو اسکی دادی ہاتھوں میں ڈانگ پکڑے خونخوار نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی اسنے دانتوں تلے انگلی دبا لی ” ہیر تجھے میں نے کہا تھا دوپہر سر پر آ جائے تو باقی بچوں کی طرح تو بھی سو جایا کر اور تو کہاں گئی تھی !” وہ ڈرتی ڈرتی انکے قریب آئی اور اچانک انکی گال پر بھوسہ دے دیا ” پیاری بی بی وہ نہ چاچی سو گئی تھی چاچا گھر پےتھا نہیں اور اور دائم یونی وارسٹی گیا ہے واڈے پیاسے تھے اور تو ہی تو کہتی ہے رب کی نظر میں چنگا وہ ہوتا ہے جو اپنے پہلے دوسروں کا خیال رکھے !” وہ مسکرا کر دادی کو بتا رہی تھی اور وہ افسوس سے اسکی جانب دیکھا رہی تھی ” کھوتی کِسے تھاں دی !!”جتنی تو جھلی ہے نہ سارے آسانی سے بیواقوف بنا لیتے ہیں تجھے تیرے ماں باپ کے بعد تیری تعلیم چھڑوا دی اور میرا منہ تونے اپنی قسم سے بند کروا دیا مگر اب بس تجھے نوکرانی بنا کر رکھ دیا ہے یہ کام وام چھوڑ دے اب ایک ہفتے بعد نکاح ہے تیرا اور اتنا بھولا پن اور گدھی مرزا کو مت دیکھانا سمجھدار بنا وہاں ورنہ کہیں گا ” گدھی میرے پلے باندھ دی !”مرزا کے نام پر اسکے چہرے پر شرم آگئی تھی چہرا سُرخ ہوگیا تھا نظریں اُٹھانا بھی محال تھا ” دادی وہ تو اتنے پڑھے لکھے ہیں دروغہ ہیں مجھ ان پڑھ کو اپنا لیں گے جسے صرف اردو بھی سہی سے بولنی نہیں آتی سوم جماعت تک جتنی سیکھی تھی اتنی آتی ہے !” اسنے پریشانی سے دادای کو دیکھا جو خود پریشان ہوگئی تھی ۔” اسکی دادی میری بچپن کی سہیلی ہے تیرے ماں باپ کی موت پر اسنے وعدہ کیا تھا کہ وہ تجھے اپنی بیٹی بنائے گی اور شاہدہ اپنا وعدہ توڑنے والی نہیں ہے اسلیے تو فکر نہ کر ۔۔”
“ بی بی انکے سارے گھر والے ماں باپ بہن سارے باہر کے ملک رہتے ہیں تو یہ اکیلے لاہور میں کیوں رہتے ہیں؟”
“ اپنی نوکری کے لیے وہ پاکستان سے بہت محبت کرتا ہے اپنی ملک کی خدمت کا عزم کیا ہے اسنے اسلیے وہ اس ملک میں رہتا ہے اور شاہدہ بھی اسکے اکیلے پن سے چاہتی ہے کہ تیرا اور اسکا سادگی سے نکاح چاہتی ہے اسلیے ایک ہفتے بعد تیرا اور اسکا نکاح تو اسلیے چل تجھے کچھ دکھاتی ہوں ! اسکا ہاتھ تھامے وہ اسے اپنے کمرے میں لے گئی . ……………….(✨……✨)…………….. کیس بند ہوگیا تھا انھوں نے کوٹ میں بیان دیاتھا کہ ان مجرموں نے ان
ایس پی مرزا اور سب کانسٹیبل پر حملہ کردیا اور بھاگ گئے اسلیے ہمیں انکا انکاؤنٹر کرنا پڑا انھیں اپنی اصل جگہ پہنچا کر آج وہ چھُٹی منا رہا تھا ناشتے کے ٹیبل پر بیٹھا وہ من ہی من مسکرا رہا تھا شاہدہ بی بی اسے دیکھ کر حیران تھی ” مرزا کیا بات ہے ؟”
دادی آپکو پتا ہے وہ بچی جب مر .رہی تھی وہ میری طرف دیکھ رہی تھی اسکی آنکھوں میں ایک امید تھی کہ میں اسے انصاف دلاؤں گا اور میں نے دلا دیا اسکے مجرموں کو اتنی ہی تکلیف دہ موت دی جتنی وہ بچی تھی .” مسکرا تا وہ ٹوسٹ کھا رہا تھا شاہدہ بی بی نے مسکرا کر اسے دیکھا ” تمہارا اور ہیر کا نکاح اگلے ہفتے ہے ! اسکی آنکھوں میں نفرت در آئی تھی ٹوسٹ ہاتھوں میں ہی کچلا گیا تھا ” میں نے آپکو کل بھی کہا تھا کہ اس ان پڑھ جاہل گنوار کی میری زندگی میں کوئی جگہ نہیں میں یہ نکاح نہیں کروں گا ! کرسی دھکیلتا وہ اُٹھ گیا جب وہ چیخی ” میرا مرا منہ دیکھنا چاہتے مرزا ایوب ! اسنے حیرت سے پلٹ کر اسے دیکھا ” دادی ! ” تم جانتے ہو سات کی تھی وہ جب اسکا باپ تمہاری طرح وطن پرستی کرتا مر گیا اسکی ماں صدمے سے مر گئی وہ یتیم ہے ! انھوں نے بے بسی سے اسے دیکھا ” میں نہیں کی تو اسے میرے سر پر مسلط کیوں کررہی ہیں آپ !” ” میں نے پورے گاوں کے سامنے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر اپنی بیٹی بنایا تھا مرزا اگر یہ نکاح تم نے نہیں کیا تو فہد اسے سجاول سے بیاہ دے گا وہ نشئی ہے اسے مار دے گا تشدد کرے گا ہر روز وہ ایک موت مرے گی اور اسکے ساتھ مروں گی میں تم چاہتے ہو میں مر جاوں ! اسنے کڑے تیوروں سے انھیں دیکھا ” بلیک میل کر رہی ہیں میں نے تو نہیں کہا تھا یہ سب کریں میرا کیا قصور تھا دیکھیں دادی ….گھٹنوں کے بل بیٹھا وہ انکا ہاتھ پکڑ چکا تھا ” میں آج کے دور کا پڑھا لکھا ہوں مجھے لڑکی بھی اپنی پسند کی چاہیے جو مجھے سنبھال سکے میری پرابلمز کا حل نکال سکے جو ہمارے بچوں کی اچھی پرورش کرسکے!! اسکی بات بیچ میں ہی کاٹ دی گئی تھی ” وہ ویسی ہی ہے مرزا اسکی سیرت سورج کی کرنوں جیسی ہے وہ اتنی سُگھڑ ہے کہ تم دونوں کی بچوں کی پرورش مثال ہوگی وہ ہر قدم پر تمہارا ساتھ دے گی اور وہ کھا نا اتنا اچھا بناتی ہےکہ۔۔۔۔
“ فار گوڈ سیک دادی ساری عمر میں ایک کھانے بنانے والی کے ساتھ نہیں گزار سکتا اور وہ اچھا کھانا میری میڈ بھی بنا لیتے ہے ! شاہدہ بی بی نے حیرت سے اسے دیکھا ” تم ہیر اور اس نوکرانی کا موازنہ کر رہے ہو !”
“ ایک ہی بات ہے وہ بھی کام کرتی ہے وہ بھی صرف کام ہی کرے گی میرے لیے تو کبھی کچھ نہیں کرے گی تو اس میں اور نوکرانی میں کیا فرق ہوا !” اسنے تڑک کر جواب دیا ۔
“ تو کیا یہ نوکرانی تمہاری ہر ضرورت پوری کرے گی تمہیں محبت دے سکے گی تمہارا خیال رکھ سکے گی نہیں یہ سب بس ہیر کر سکتی ہے ! وہ اُکتا کر اُٹھا ” یار مجھے نہیں کرنا اس سے نکاح وہ ان پڑھ جاہل گنوار ہی رہ گئی ہے بس ! وہ جارہا تھا اور وہ پلیٹ کو گھورتے ہوئے مخاطب ہوئی ” آج کے بعد مجھے دادی مت کہنا اور ہاں آج میں ہمیشہ کے لیے جارہی ہوں تم بھول گئےمرزا جب ایوب نے تم پر پہلی بار ہاتھ اُٹھایا تھا تو میں نے ایوب کو تمہارے لیے تھپڑ مارا تھا کہ وہ ہوتا کون ہے میرے پوتے کو مارنے والا حلانکہ وہ تمہارا باپ ہے تم بھول گئے جب تم نے پولیس ڈیپارٹمنٹ جوائن کرنے کو کہا تھا تو میں تھی وہ جو پورے خاندان کے خلاف گئی تم بھول گئے تمہارے باپ نے تم سے ہر تعلق توڑ دیا تو وہ میں تھی جو تم سے ہر رشتہ جوڑ بیٹھی تم کہتے تھے میں تمہارا سب کچھ تھی اور تم میرے لیے کسی کو اپنا نام نہیں دے سکتا تھا ! اچانک فون کی رنگ ٹون پر دونوں نے اسکی جانب دیکھا شاہدہ نے فون کان پر لگایا ” میری ٹکٹ بُک کروا دو ایوب میں آج ہی واپس آرہی ہوں ! اسکے دونوں ہاتھ جیسے کٹ کے گر گئے تھے وہ حیرت سے انھیں دیکھ کر رہ گیا تھا ۔ جو اندر کی جانب چل دی اسنے تڑپ کر اسے پکارہ ” دادی ! انھوں نے ہاتھ اٹھا کر منع کر دیا ” بس مرزا دیکھ لی تمہاری محبت تم میرے قول کی لاج نہیں رکھ سکے ! چھڑی پکڑے وہ نقاہت سے کمرے میں چلی گئی ۔اور وہ پیچھے سرد آہ بھر کر رہ گیا ۔
جاری ہے ۔۔۔۔
آپکے بے حد اسرار پر پہلی قسط پوسٹ کردی گئی ہے حالانکہ ناول نامکمل ہے اب لکھو گی بھی اور پوسٹ بھی کروں گی ۔۔
