Musalat By Binte Aslam Readelle50190 Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
پھر چھینے کی کوشش کی مگر اسنے ہاتھ پیچھے کرلیا ” ہاہا فکر مت کرو خود کو نقصان پہچانے جیسا بے وقوف عمل میں نہیں کررہی میں تو انھیں نقصان پہنچاتی ہوں جو مجھے نقصان پہچانا چاہتے ہیں !! اسنے نرمی سے دانیال کا ہاتھ تھاما اور اسکی ہتھیلی پر وہ کانچ لگانے لگی وہ بس اسے دیکھے جارہا تھا وہ کٹس لگا رہی تھی مگر اسے تو جیسے فرق نہیں پڑ رہا تھا اسنے اپنی ہتھیلی کی جانب دیکھا وہاں ایف لکھا تھا اسنے حیرت سے اسے دیکھا ” فرحین تمہاری جان کسی صورت نہیں چھوڑے گی جو میرا ہوگیا سو ہوگیا تم مجھے چھوڑنے کی کوشش مت کرنا سمجھے مسٹر کوپ !!! میں جس سے نفرت کرو میں چاہتی اسے بھی کوئی اور نہ دیکھے !!! یہ میرے نام سے بنا زخم تمہیں تکلیف دیگا اور احساس دلاتا رہے گا کہ میری محبت کتنی تکلیف دہ ہے تمہارے لیے ! کانچ کا ٹکڑا اسکے ہاتھوں میں چھوڑ کر خود وہ کمبل میں گُھس گئی تھی اسکا پورا ہاتھ خون سے تر تھا وہ سو چکی تھی اسنے کانچ صاف کرنے کے بعد اپنے ہاتھ کی ڈریسنگ کی وہ اس پر کوئی اوئنمٹ نہیں لگانا چاہتا تھا کہ زخم بھر ناجائے اسنے مسکرا کر زخم پر ہاتھ پھیرا ” قبول ہے !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(✨….✨) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرزا نے جب دروازہ کھولا تو ہیر پریشان حال سامنے بیٹھی تھی ایکدم کھڑی ہوگئی مرزا نے گھڑی کی جانب دیکھا رات کا ایک بج رہا تھا ” شکر ہے بابو آپ آگئے میں تو ڈر ہی گئی تھی ۔”
“ تم سوئی کیوں نہیں ابھی تک ؟” وہ صوفے پر بیٹھ کر شوز اتارتا اسے پوچھ رہا تھا جو اُجلت میں کہیں جانے لگی تھی .” وہ ۔۔میں سو جاتی تو آپکو کھانا کون دیتا ؟” وہ ساتھ ساتھ اپنی انگلیاں بھی مروڑ رہی تھی ” میں کھانا کھا کر آیا ہوں نہیں کھانا ! کہہ کر سیڑھیاں چڑھ گیا جب ایک خیال آنے پر مُڑا ” تم نے کھایا ؟”اسنے نفی میں سر ہلا دیا ” دیکھو یہ روایتی بیوی والی حرکتیں مجھے پسند نہیں ہے تو اسلیے بھوک لگنے پر کھانا کھالیا کرو میرا انتظار مت کیا کرو !! ناچاہتے ہوئے بھی اسکا لہجہ روکھا ہوگیا تھا جس پر وہ رونے لگی تھی ” اب میں نے ایسا تو کچھ نہیں بول دیا جو رونا شروع کردیا ہے !”
“ جج۔۔۔جو وہ آپکا ۔۔۔۔ٹٹ۔۔ٹی وی ۔۔۔۔ٹٹ۔۔ٹوٹ گیا ہے مجھ سے ! اسکی بات سن کر اسنے سامنے دیوار پر دیکھا ایل سی ڈی وہاں نہیں تھی ” کیسے ؟ اسنے حیرت سے اسے پوچھا ” جج جی وہ۔۔۔چل۔نہیں رہا تھا تو میں ۔۔۔۔میں نے اسے ہاتھ مارا تاکہ چلنے لگے تو وہ دیوار سے نیچے گر گیا !! اسکے رونے میں روانی آگئی تھی ” کیا تم پاگل ہو ٹی وی چلا نہیں تو تم نے اسے پیٹنا شروع کردیا !! وہ اسکے سر پر کھڑا چلا رہا تھا اور وہ ڈر سے کانپنے لگی تھی ” جج۔۔جی وہ گاؤں میں تو ایسے ہوتا تھا ٹی وی خراب ہوتا تو اسے دو تھپڑ مارتے تو چلنے لگتا مگر وہ تو دیوار سے نیچے گر گیا پر فرش پر نہیں میں نے بچا لیا ۔”
“ کتنی بار کہا ہے دور رہا کرو ان چیزوں سے دیکھیں ہیں کبھی جاہل انسان ہر چیز زور زبردستی سے نہیں چلتی چلی جاؤ میری نظروں سے دور !!! “نوشین کی حالت دیکھ کر اسکے دل میں جو تھوڑی نرمی آئی تھی وہ اسکا پھوہڑ پن دیکھ کر ہوا ہوگئ تھی وہ انگلیاں مروڑتی جانے لگی جب وہ چیخا ” کھانے میں لیکر آؤ تمہارے لیے !!
“ نن۔نہیں مجھے کچھ نہیں کھانا مجھے بھوک نہیں ہے !!!فوراً سے کہہ کر اوپر بھاگ گئی ” یا اللہ کیا مصیبت ہے ! وہ سیڑھیاں چڑھنے لگا جب نوشین کی ابتر حالت اسکے سامنے آگئی ایک پل کے لیے اسے اپنا آپ اسکے شوہر جیسا لگا ” نہیں میں جانور نہیں ہوں ! کیا ہوگیا تھا مرزا ایل سی ڈی سٹینڈ سے ہی اتری تھی ٹوٹی تو نہیں تھی اب اسکو پتہ کہ وہ ٹوٹی یا اتری ہے اور تو نے اتنا ڈانٹ دیا اسے ٹھیک تیرے دل میں اسکے لیے کچھ نہیں ہے مگر ایٹلیسٹ انسانیت تو دکھا ایک بجے تک وہ بھوکی تیرا انتظار کرتی رہی ہو اور تو ۔۔۔۔” کچن میں گیا کھانا نکالا اور اوپر چلا گیا دروازہ کُھلا تھا وہ نیچے بیٹھی رونے میں مصروف تھی اسے دیکھ کر ڈر گئی اور جیسے جیسے قدم آگے بڑھا رہا تھا وہ پیچھے ہوتی جارہی تھی اسنے ٹرے بیڈ پر رکھی ” سوری مجھے زیادہ غصہ نہیں کرنا چاہیے تھا تم کھانا کھاؤ اور سو جاؤ بہت لیٹ ہو گیا ” وہ کچھ پل تو حیرت سے اسے دیکھتی رہی اسے کیا ہوا وہ پلٹ کر جانے لگا تو اسے ہوش آیا ” جج۔۔جو وہ آپکا ٹی وی بہت مہنگا تھا ؟”
“ زیادہ نہیں فُل سائز تھا یہی کوئی ساٹھ ستر ہزار !!! اتنی رقم سن کر اسکا تو منہ کھلا رہ گیا اتنا مہنگا اسے شرمندگی نے آن گھیرا تھا وہ جانے لگا جب وہ اچانک سامنے آگئی وہ ایکدم رک گیا ورنہ اسکے اوپر گِرتا ” جج۔۔۔جو وہ نہ یہ لاکٹ اور یہ چوڑیاں سونے کی ہیں دادی نے دی تھیں بیچ کر تو نیا ٹی وی لے آئیں آپکے لیے ضروری ہے نہ خبریں دیکھتے ہیں نہ ” اسنے حیرت سے پہلے اسے اور پھر اسکے ہاتھ میں زیور کو دیکھا اسکی معصومیت دیکھ اسکے چہرے پر ہلکی سے مسکان آئی تھی جسے اسنے فوراً ضبط کرلیا تھا اور افسوس سے سر جھٹک کر چلا گیا پیچھے وہ کنفیوز دیکھتی رہ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(✨……✨) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کلاس میں آئی ہی تھی جب سامنے بیٹھے دائم کو دیکھ کر اسکی روح باغ باغ ہوگئی اس سے پہلے وہ جاتی ایک لڑکا اسکے پاس جاکر بیٹھ چکا تھا کلاس کے دوران بھی اسکا سارا دھیان دائم کی طرف تھا جسکا چہرا مرجھایا سا تھا وہ جانتی تھی ایسا کیوں تھا وہ اس سے بات کرنا چاہتی تھی اسے بتانا چاہتی تھی کہ وہ اسکی ہمدرد بنا چاہتی ہے کلاس کے بعد وہ کوریڈور سے گزر رہا تھا جب اسے موقع مل گیا ” دائم !!” اپنا نام سن کر اسنے پلٹ کر اسے دیکھا ماتھے پر ناگواری آگئی تھی ” جی ؟”
“ وہ مجھے آپ سے بات کرنی ہے ۔۔۔۔وہ۔۔۔۔کہنا تھا کہ ۔۔۔۔۔” وہ بہت زیادہ اٹک رہی تھی دائم کو غصہ آرہا تھا ” جلدی کہیں میرے پاس وقت نہیں !”
“ وہ مجھے کہنا تھا بہت افسوس ہوا آپکی بہن نے ریپ کردیا !
“ واٹ !!! اسکے جملے پر وہ دنگ رہ گیا تھا اسے پتہ چلا گیا وہ غلط بول گئی ہے ” میرا مطلب بہت افسوس ہوا آپکی بہن کا ریپ ہوگیا !!! ” تمام گزرتے سٹوڈنٹس دائم کو دیکھ رہے تھے دائم کا منہ کھلا رہ گیا تھا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیا کہے اسلیے غصہ پیتا آگے بڑھ گیا ” دائم رُکیں میری بات سنیں ! دائم پلیز !! وہ اسکے پیچھے بھاگ رہی تھی جب ایک لیب کے اندر دائم نے اسے کھینچ کر دیوار سے پن کردیا اسکا سر دیوار میں لگا تھا ” آؤچ !!! “
“ تم میں عقل نام کی کوئی چیز ہے یا نہیں سرِ عام میرا اور میری بہن کا تماشہ بنا رہی ہو !” اسکے ہاتھ دیوار سے پِن کیے وہ چہرے بلکل قریب کیے بول رہا تھا اسکی سانس بھاپ بن کر امل کے گلاسسز پر جم گئی تھی اسے دھندلا نظر آرہا تھا مگر وہ اسے سن ضرور سکتی تھی ” وہ ۔۔۔میں بس آپکی ہمدرد بنا چاہتی تھی مجھے سچ میں بہت افسوس ہوا میں نے اپنے انکل سے کہہ کر وہ وڈیو ہٹوا دی تھی !! اسنے جیسے سوچا شاید یہ سن کر اسکا غصہ کم ہو جائے ” کیسے پتہ چلا ؟”
شیشے پر بھاپ جم گئی تھی وہ اسے بلکل نہیں دیکھ پارہی تھی اسلیے ہمت کرکے بول دیا ” آپکی سانسوں کی وجہ سے میری گلاسسز پر بھاپ جم گئی صاف کرلو ! اسکے بات سن کر وہ ایکدم اس سے دور ہوا اسنے فورا نیپکین نکالی اور چشمہ صاف کرکے لگا لیا جب اسکا چہرا دیکھا تو وہ سرخ ہوا پڑا تھا بے ساختہ زبان دانتوں تلی دب گئی ” آئی یہ ہوگیا !
“ وہ اس دن آپکو فون کیا تھا تو آپ نے فون پر کہا تھا فری کیسی ہے میں نے پتا کیا تھا جس لڑکی کا ریپ ارمان شیرازی نے کیا تھا اسکا نام بھی فرحین یعنی فری تھا ” وہ افسوس اور حیرت سے بس اسے دیکھے جارہا تھا کوئی اتنا بھی بے واقوف کیسے ہوسکتا ہے ” دفع ہوجاو !
“ دائم میری بات مجھے آپ سے !!!
“ آئی سیڈ گیٹ آؤٹ !! اسنے چیخ کر کہا تھا وہ ڈر کر چلی گئی ۔ وہ سر پکڑے بیٹھا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔( ✨…….✨) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماضی ۔۔
ہوسپیٹل میں ایمرجنسی لگی تھی نشے میں ڈوبے لوگ ہوسپیٹل لائے جارہے تھے ان میں زیادہ تعداد پاکستانی سٹوڈنٹس کی تھی وہ پریشانی سے انھیں دیکھ رہی تھی ” ہر روز اتنے سٹوڈنٹس نشے کی حالت میں آتے ہیں اتنے ڈرگز !!”
“ تمام افریقن امریکن گرل فرینڈز وہ انکے ساتھ مل کر نائب کلبز میں جاتے ہیں وہاں انجوئے کرنے پر شراب پیتے شوٹس مارتے ہیں اور وہ حسینائے انکا لالچ دیکھ کر ہنستی ہیں ؟” وہاں کی ایک سٹوڈنٹ فریحہ کو یہ سب بتا رہی تھی !”
“ کیا تم مجھے بتا سکتی ہو وہ نائٹ کلب وہاں مجھے جانا ہے آئی وانٹ چیک مجھے وہاں کی ڈرنکس کے سیمپل لینے ہیں !” اس سٹوڈنٹس نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
اگلے دن وہ فُل بلیک میکسی میں شولڈر تک آتے بالوں کو سڑیٹ کیے سموکی ائیز لیے کلب میں آئی تھی جہاں ہر چمڑی کا انسان تھا گورا کالا گندمی وہاں پاکستانی بھی تھے اسے افسوس ہوا تھا ان غیر ملکی حسیناؤں کی کمروں میں ہاتھ ڈالے شرابو کے گلاس تھامے کھڑے تھے ۔اسنے ڈرنکس چیک کرنے کے بہانے لیں تھیں کہ اچانک شور مچا کالے لباسوں میں چہرے چھپائے غنڈے وہاں آگئے تھے گن پوائنٹ سے اشارے کرتے وہ ایک ایک لڑکی نکال رہے تھے جن کی زد میں فریحہ بھی آگئی تھی وہ اسے بھی لے گئے تھے تمام امریکن اور افریقن تو پریشان تھیں مگر پاکستانی فریحہ زاروقطار رو رہی تھی ان سے التجا کر رہی تھی ،
Please leave me I am not that type of girl I am doctor I went there just wanted to know about drinks and alcohols!!!!
مگر وہ کالے حبشی اسے عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے اسکا رنگ گوریوں کی طرح بہت سفید نہیں تھا مگر اس سے زیادہ اسکا رونا اور معصومیت حبشیوں کو اٹریکٹ کر رہی تھی لیکن اپنے باس کے آرڈر سے پہلے وہ انھیں ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے تھے کہ اچانک بلیک تھری پیس میں ایک لڑکا وہاں آیا جسے دیکھ کر وہ تمام گارڈز الرٹ ہوگئے تھے فریحہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی جب اسنے تمام لڑکیوں کا جائز لیا اور فریحہ کے طرف دیکھ کر حیران رہ گیا ماتھے پر بل آگئے تھے وہ چپ چاپ واپس چلا گیا دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوا تو سامنے ہی وہ ٹیبل پر پیپر ویٹ گھما رہا تھا ۔” سر تمام لڑکیاں آگئی ہیں ! اسنے نظر اٹھا کر اسے دیکھ باریک ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی تھی ” ٹھیک ہے انھیں بند کردو دیکھتے ہیں انکے ساتھ کیا کیا کر سکتے ہیں !”
You want any girls sir !
علیم نے شرارت سے پوچھا تھا اسکے ماتھے پر ناگواری آگئی ” وہ ساری یا تو حد سے زیادہ سفید ہیں یا حد سے زیادہ کالی مجھے دونوں ہی پسند نہیں “
“ تم پھر کسی گندمی کے بارے میں کیا خیال ہے ؟” اسنے حیرت سے اسے دیکھا
There is one Pakistani in them and what a girl she is !!!
اسکے چہرے پر حیرت در آئی تھی ” بھیجو کمرے میں !! علیم کو حکم سنا کر وہ اندر چلا گیا تھا کچھ دیر بعد اسے زور زبردستی کے ساتھ اندر بھیج دیا گیا تھا جہاں وہ راکنگ چئیر کا منہ ونڈو کی طرف کیے سگریٹ پی رہا تھا فریحہ کی طرف اسکی پشت تھی
Sir please leave me I am doctor not call girl I went there to collects the samples of alcohol that club was using please I am begging to you !!
وہ گھٹنوں کے بل ہاتھ جوڑے بیٹھی جب اسنے پلٹ کر دیکھا اور دیکھتا رہ گیا بلیک پاؤں تک میکسی کندھوں تک آتے بال سرخ ہونٹ اور سموکی آئیز جو آنسوؤں سے بھری تھیں ۔
میرے شہر دی سب تو چنگی خوشبو ۔۔۔
تیرے کولوں سنگ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نی تو مُردے زندہ کردیں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جے قبراں کولوں لنگ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
